Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بچے تو باغ کے پھول ہیں   تحریر:  مدثر حسن

    بچے تو باغ کے پھول ہیں تحریر: مدثر حسن

    آج میرا دل خون کے آنسوں رو رہا ہے میرے سے لکھا نہیں جارہا ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے میں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت بتانے جارہاہوں مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میرے تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں پر کبھی سات سالہ بچی تو کبھی پانچ سالہ بچی کو اگواہ کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے قتل کر دیا جاتا ہے

    میں پوچھتا ہوں ان پھول جیسے بچوں کا آخر قصور کیا ہے کیوں ان سے جینے کا حق لیا جاتا ہے کیوں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں کیا یہی قصور ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں کمزور ہیں اپنی حفاظت نہیں کرسکتی، ان درندوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔

    جو لوگ ان پھول جیسی بچوں کے ساتھ زیادتی کر تے ہیں ان درندوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی دین یہ لوگ انسانوں کے روپ میں بھیڑیا ہیں ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں اور یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔۔۔۔۔

    کیونکہ ہمارا دین اسلام تو بچوں کے ساتھ پیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔بچوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے

    بچے تو باغ کے پھول ہیں ان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یہ درندے جن کے گناہ فرشتے بھی نہیں لکھتے ان معصوم بچوں کی جانیں لیتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پیار کرنے کا حکم دیتے ہیں

    میں پوچھتا ہوں ان درندوں سے قیامت والے دن اللہ اور رسول ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گئے کس منہ سے سامنا کرو گئے تم لوگ واجب القتل ہو تم لوگوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے تاکہ لوگوں کو خوف ہو جائے اور ایسا کرنے کا سوچے نہ دوبارا۔۔۔

    تم لوگ کافروں سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ساری زندگی جہنم کی آگ میں جلتے رہو گئے۔۔۔۔۔

    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو ان جیسے حیوانی درندوں سے محفوظ رکھے آمین!!!!!

    @MudasirWrittes

  • چاچڑاں شریف بے یارومددگار  تحریر : نواب فیصل اعوان

    چاچڑاں شریف بے یارومددگار تحریر : نواب فیصل اعوان

    چاچڑاں شریف جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے شہر ظاہرپیر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہے ..
    چاچڑاں شریف ایک تاریخی شہر ہے جس کی وجہ شہرت یہاں کے صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فریدؒ ہیں کیونکہ خواجہ صاحب اسی شہر میں پیدا ہوۓ
    اس شہر کو خواجہ کی نگری بھی کہا جاتا ہے ..
    بعض جگہ پہ آیا ہے کہ اس کی بنیاد ماضی میں چچ نامی ایک بادشاہ گزرا ہے جس نے رائے خاندان کی حکومت ختم کر کے سیت پور داجل اور اروڑسندھ میں اپنی حکومت کی بنیاد رکھی تھی اس قصبے کا نام اسی چچ نامی بادشاہ کی مناسبت سے چاچڑاں رائج ہو گیا بعض روایات کے مطابق اس قصبہ کی بنیاد چاچڑ قوم کے ایک فرد نے رکھی تبھی یہ چاچڑاں کہلایا .
    یاد رہے کہ چاچڑاں میں تاریخی عمارات بھی موجود ہیں جن میں فرید محل جو کہ نواب آف بہاولپور نے اپنے پیرومرشد خواجہ غلام فرید کو 1896 میں بنوا کے دیا جسکی تعمیر میں دوسال لگے ۔
    جامعیہ فریدیہ بھی تاریخی عمارتوں میں شامل ہے ۔
    چاچڑاں شہر اتنا تاریخی پس منظر رکھنے کے باوجود بھی بے یارو مددگار ہے خواجہ کی نگری میں سہولیات کا فقدان بہت زیادہ ہے ۔
    دو اضلاع رحیم یار خان اور راجن پور کو ملانے والا بے نظیر برج بھی چاچڑاں شریف میں واقع ہے ۔
    چاچڑاں جہاں اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے وہیں چاچڑاں میں حکومتی کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    کچھ شہریوں سے چاچڑاں کے مساٸل کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے چند مطالبات رکھے جو ذیل ہیں
    انکا کہنا تھا کہ
    چاچڑاں میں جدید سرکاری ہسپتال کی ضرورت ہے جہاں ایمرجنسی وارڈ کا قیام کیا جاۓ بے نظیر روڈ پہ ہونے والے ایکسیڈنٹ میں زخمیوں کے فوری علاج کیلۓ بنایا جاۓ ۔
    چاچڑاں شریف میں سیوریج کا سرے سے کوٸ نشان بھی نہیں ہے سیوریج کا مسلہ حل کیا جاۓ تاکہ خواجہ کی نگری میں گلی کوچوں میں پانی کھڑا نہ رہے ۔
    چاچڑاں شریف میں ایک ڈگری کالج کی فوری طور پہ بنیاد رکھی جاۓ تاکہ چاچڑاں کے شہری جن کو تعلیم کیلۓ رحیمیار خان یا بہاولپور جانا پڑتا ان کو یہیں پہ بہتر سہولیات میسر ہوں ۔
    چاچڑاں شریف میں ایک جدید پارک کی تعمیر کی جاۓ تاکہ چاچڑاں کی عوام کو بہترتفریحی مواقع مل سکیں ۔
    چاچڑاں شریف میں دریاۓ سندھ پہ باڑ لگا دی جاۓ تاکہ یہاں پہ نہانے آنے والوں کو روک کے قیمتی جانوں کے نقصان کو روکا جا سکے کیونکہ یہاں سال بھر میں دریاۓ سندھ کی خونی موجیں نہانے آنے والوں کو بہا کے لے جاتی ہیں تاکہ کسی کے گھر کا چراغ گل ہونے سے بچ سکے ۔
    چاچڑاں شریف میں ریسکیو 1122 کا دفتر بنایا جاۓ تاکہ سنگل بے نظیر روڈ پہ ہونے والے حادثات کے زخمیوں کو فوری طور پہ ہسپتال منتقل کیا جاۓ کیونکہ ریسکیو کی گاڑیاں تحصیل سے آتی ہیں جن کو آتے ہوۓ تاخیر ہو جاتی ہے اور قیمتی جانیں ضاٸع ہو جاتی ہیں ۔
    چاچڑاں کی تاریخی عمارتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاۓ جو نشیٸیوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں ۔
    چاچڑاں شریف میں روڈ کی تعمیر کو ممکن بنایا جاۓ ۔
    چاچڑاں شریف بے نظیر برج سے پہلے موجود ٹول پلازے کو ختم کر کے پل کی دوسری جانب لگایا جاۓ کیونکہ پل سے پہلے ہونے کی وجہ سے گھومنے آنے والے افراد ٹول ٹیکس سے بچ سکیں ۔
    چاچڑاں شریف میں صفاٸ کے انتظام کو بہتر بنایا جاۓ ۔
    چاچڑاں شریف جہاں خواجہ فریدؒ کا مسکن رہا ہے وہیں آج چاچڑاں حکومت پنجاب کو پکار رہا ہے خدارا چاچڑاں کی حالت زار پہ توجہ دی جاۓ ..

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل   تحریر: جام محمد ماجد

    ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل تحریر: جام محمد ماجد

    حصول علم میں ہوتا ہے بہت جاں کا ضیاع
    منزلیں یونہی سر راہ ملا نہیں کرتیں

    یہ امر مسلمہ ہے کہ تعلیم کا بہتر نظام کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قوم کے بہتر کردار کا سر چشمہ ہوتا ہے اس حقیقت کے تحت ہر ملک وقوم کے افراد بہتر نظام تعلیم کے متقاضی ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تعلیم ایک متحرک عمل ہے جو زمانے کے تغیرات اور تبدیلیوں کے تحت جاری و ساری رہتا ہے ۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے مروجہ نظام تعلیم کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم سے کیا حاصل کیا اور کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ۔
    ہمیں جب نیا اور آزاد پاکستان نصیب ہوا تو بد قسمتی سے ہمیں غلامانہ اور فرسودہ برطانوی نظام تعلیم ملا جو کہ ہماری روایات اور فلسفہ حیات سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہ تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس نومبر 1948 کو کراچی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد ہمارے نظام تعلیم میں نہ صرف بہتری لانا تھا بلکہ ایسا تعلیمی نظام مرتب کرنا تھا جو کہ اسلامی نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جس کے تحت فرد کی شخصیت کی مکمل نشوونما کی جائے اور اسے معاشرے کا بہترین رکن بنایا جائے ۔
    لیکن افسوس صد افسوس کہ آج 71 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا نظام تعلیم اس قابل نہیں ہو سکا۔ ہم نے وہی غلامانہ روش اختیار کیے رکھی ہے اور انگریزی کو اپنا معیار تعلیم بنا رکھا ہے جبکہ انگریزی صرف اور صرف ایک زبان ہے۔
    اگر ہم اپنے نظام تعلیم کا تجزیہ کریں تو کیا ہم نے وہ عمومی مقاصد حاصل کیے جس کے تحت یہ نظام تعلیم مرتب کیا گیا تھا اور کیا تعلیم جو کہ بذات خود ایک متحرک عمل ہے کے تحت اس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں؟ یقینا نہیں ••••
    اور جہاں تک بات ہے اس نظام کو درپیش مسائل کی تو وہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں قابل ذکر منصوبہ بندی کی کمی ۔ بجٹ کی کمی ۔ غیر تسلی بخش اور غیر متحرک نصاب ۔ پست معیار تعلیم ۔ بد عنوانی ۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ ۔ ناقص امتحانات کا نظام ۔ نفسیاتی مسائل ۔ نا مناسب نظم ونسق ہیں ۔
    میں اپنی بات کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا
    اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
    ایک سازش ہےفقط دین وثروت کےخلاف
    @Majidjampti

  • محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    قدرت کے قوانین کے مطابق کائنات کی ھر شئے اپنی معتدل اور تسکین والی حالت کے لئے ارتقاء میں رھتا ھے۔ اور جب جس وقت انکی ارتقاء جمود ھو جاتا ھے، تو وہ قدرت کے قہر کے زد میں آکر زوال پذیر ھو جاتا ھے۔ یہ دنیا اور اس میں رھنے والے مخلوقات بھی مسلسل ارتقائی حالت سے گزرتے رھتے ھیں۔ ان میں 1 مخلوق نسل انسانی ھے، جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مل جل کے سماج کی شکل میں رھتے ھیں۔ اور اس سماج میں ھر انسان کی بنیادی ضروریات، ان کی محنت اور وسائل کی تقسیم ایک جیسی ھوتی ھے۔ اور جب ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم ھوتی ھے تو سماج مختلف طبقات میں تقسیم ھو کے بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگتا ھے۔ موجود عہد میں ذرائع پیداوار کی اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے نسل انسانی کا بیشتر حصہ ناانصافی کا شکار ھے اور اپنی محنت بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں۔
    اس عہد میں جہاں رجائیت پر مبنی سوچیں مقید ھوں اور جہاں سماج بدلنے کی گفتگو عام فہم میں تضحیک کا نشانہ بنتی ھو وہاں محنت کش طبقے کی بات کرنا، عمومی سوچ، سیاست اور انقلابات کی لئے جرآت اور دلیل سے کھڑے ھونا مضحکہ خیز بنا دیا جاتا ہے۔
    ھر عہد ھر دور میں محنت کش طبقہ اپنی استحصالی کے خلاف تحریکیں چلاتی ھیں۔ 1917 کا بالشویک انقلاب دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے باعث تقویت بنا۔ لیکن 1991 میں روڈ میں ‘سوشلزم کا انہدام’ عمومی طور پر نہایت ھی منفی اثرات مرتب کرنے کا موجب بنا۔ اسی طرح پاکستان میں 1968 اور افغانستان میں 1978 کاسال محنت کشوں کے لیے باعث نجات بن سکتا تھا، مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو پھر سے اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔
    آج دنیا بھر میں ایک نیا ھیجان، عدم استحکام اور سماجی تحریکیں پھر سے سر اٹھانے لگی ھیں ان گلے سڑے اور فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جن کی ناکامی کا ذندہ مثال موجودہ کورونا کے خلاف گھٹنے ٹیکنا ھے۔
    چین، لاطینی امریکہ، برطانیہ، ایکواڈور سے ہانگ کانگ اور لبنان سے ایران تک ھر جگہ محنت کشوں کی تحریکیں ابھر ابھر کے سامنے آرھی ھیں۔ غربت، بےروزگاری، محرومی، ذلت اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ٹوٹ اور بن رھے ھیں۔
    مفلوج زدہ اور گلاسڑا ناتواں نظام انکی سرکشی کے ھر قسم کا ہربہ آزمانے سے ھچکچاتے نہیں۔ کبھی مذھب پرستی تو کبھی وطن پرستی جیسے کھوکھلے پروپیگنڈوں سے ان تحریکوں کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رھی ھیں۔
    اس نظام میں ٹیکنالوجی سے لیکر صنعت تک، سیاست سے لیکر اقتصادی نظام تک سبھی حکمران طبقاتِ کی مختلف تراکیب ھیں، جن سے محنت اور انسانیت کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔ لیکن محنت کش اب مزید استحصال کے شکار رھنے والے نہیں۔ صرف مسئلہ اس جرآت ہمت اور اس عزم کا ھے جس کی اس انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے ضرورت ھے۔ محنت کش عوام نے صبر کی انتہا کی ھے، اب انکے تحمل اور برداشت کی انتہا ھورھی ھے۔ اب انہوں یک جان یک قالب ھو کے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنا ھوگا۔
    کیوں کہ
    *محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں اور پانے کے لیے سارا جہاں پڑا ھے۔*

    Aziz Ul Haq

    @azizbuneri58

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • اسلام کیسے پھیلا ؟  تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام کیسے پھیلا ؟ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسلام کی شروعات کئی جنگوں سے ہوئی جن میں سب سے مشہور جنگ ہے جنگ بدر یا غزوہ بدر ۔
    بدر کی اس لڑائی میں 313 مسلمانوں کا مقابلہ ایک 1000 کی فوج سے تھا ۔ اور اس لڑائی میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ۔ ابو جہل کی قیادت میں ایک 1000 کی فوج کا مقابلہ 313 مسلمانوں سے تھا ۔ اور پھر بھی مسلمانوں کی جیت ہوئی کیونکہ اللّه نے اپنے نبی کے لئے اس جنگ میں آسمان سے 1000 فرشتوں کی فوج اتار دی تھی ۔ کیا سچ میں اللّه نے بدر کی جنگ میں اپنے نبی اور امّت کا ساتھ دیا تھا ؟ کیا بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے واقعی 1000 فرشتے بھی کفار کے ساتھ لڑے تھے ۔ اس پوسٹ میں ہم اسی بات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    تاریخ میں ایسی بوہت سی جنگیں ہو چکیں ہیں جن میں کم تعداد والی فوج نے اپنی بہادری سے اپنے سے بڑی تعداد والی فوج کو ہرایا ہو ۔ چمکور کی جنگ کو ہی دیکھ لیں محض چالیس بہادر سکھوں نے لاکھوں کی مغل فوج کو دھول چٹا دی تھی جن لوگوں کو اس جنگ بارے نہیں پتا وہ گوگل کی مدد حاصل کر لیں ۔پتا بھی کیسے ہو کیوں کہ ہمارے ہاں تو صرف مسلمان فاتحین کے ہی قصے سنائے جاتے ہیں ۔ مٹھی بھر انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے کروڑوں ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا یا آج کے دور کو ہی دیکھ لیں لاکھوں یہودی کروڑوں مسلمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں ۔ کوئی بھی فوج جیت کے لئے اپنی تعداد پے کم اور بہتر قیادت بہتر حکمت عملی بہتر ہتھیار اور اپنے حریف فوج کی جنگی چالوں کے بارے پہلے سے معلومات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے ۔ جو کہ اپنے جاسوس بھیج کر حاصل کیں جاتیں تھیں ۔ بدر کی جنگ بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ 313 مسلمانوں کا مقابلہ مکہ کی بڑی فوج سے تھا اور آخر مسلمانوں کی جیت بھی ہوئی ۔ اس جیت کو اللّه کی طرف سے بھیجے گئے 1000 فرشتوں کی مدد سے جوڑ کر میدان جنگ میں لڑنے والے بہادر 313 مسلمانوں کی بہادی کی دھجیاں اڑا دی گیں ہیں ۔ کیا سچ میں غزوہ بدر میں اللّه نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی مدد کے لئے 1000 فرشتوں کی فوج اتاری تھی ؟ اس کہانی کو اگر زمینی حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ کہانی بلکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک من گھڑت کہانی ہے ۔ ایک فرضی کہانی ہے ۔ کیسے ؟ آیئں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر غزوہ بدر میں اللّه کی طرف سے بھیجی گئی 1000 فرشتوں کی فوج والی بات کو سچ مان لیا جاۓ تو پھر مسلمان فوج کی تعداد محض 313 نہیں بلکہ بڑھ کر 1313 ہو جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف 1000 کی فوج ۔ یعنی 1000 کی فوج کا مقابلہ 1313 کی فوج سے تھا ۔ مسلمانوں کی طرف سے 313 عام انسان اور 1000 فرشتے ۔ اور دوسری طرف صرف 1000 عام انسان ۔ اگر یہ بات سچ ہے تو جنگ یقیناً یک طرفہ ہی ہونی چاہیے تھی ۔ کیوں کہ ایک طرف عام انسان اور دوسری طرف اللّه کے فرشتے تھے جنھیں لڑنے کا طریقہ بھی اللّه نے بتایا تھا کہ تمہاری تلوار کا وار ان کی گردن پر ہونا چاہیے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فرشتوں کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی ۔ اور وہ ایک ہی پل میں دشمن فوج کی دھجیاں اڑا دیتے ۔ دشمن فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچتا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں ۔
    گھنٹوں چلنے والی اس جنگ میں دشمن فوج کے صرف 70 سپاہی مارے گئے ۔ اور میدان جنگ میں اللّه کے فرشتے موجود ہونے کے باوجود 14 مسلمان بھی مارے گئے ۔ وہ فرشتے جنھیں اللّه نے خود لڑنے کا طریقہ بھی سمجھایا تھا کہ دشمن کو کیسے مارنا ہے ۔ پھر بھی فرشتے اس جنگ میں بلکل خاموش رہے ۔ یہاں ایک بات اور سمجھ سے باہر ہے ۔ کہ قرآن میں ایک طرف تو اللّه خود کو سب سے بڑا کہتا ہے اور جو وہ صرف کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو بیچارے فرشتوں کو کیوں پریشان کیا ۔ آسمان سے اتر کر انھیں عرب کے تپتے ریگستانوں کی خاک چھاننا پڑی ۔ اللّه صرف کہہ دیتے اے دشمن برباد ہو جا وہ ویسے ہی برباد ہو جاتے ۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ نہ اللّه نے دکھایا اور نہ ہی اس کے فرشتوں نے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر دیکھیں تو بدر کی جنگ دوسری جنگوں کی طرح ایک عام جنگ تھی ۔ اس جنگ میں اللّه کے فرشتوں کی شمولیت والی بات ایک من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسی سبھی کہانیاں جنھیں معجزات سے جوڑا گیا ہے ۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف ضرورت ہے تو ہمیں انھیں اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر پڑھنے کی ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    ‏جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں اِس اشرف المخلوقات حضرتِ انسان نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت ساری ایجادات کی ہیں۔ اُنہی میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں استعمال ہونے والے سمارٹ سسٹم موبائلز فون بھی ہیں۔

    ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں ہم نے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد اپنی زندگیوں میں استعمال کے ساتھ بہت ساری آسانیاں اور بے شمار فوائد بھی حاصل کئے ہیں۔ وہیں یہ موبائل فونز ہماری زندگیوں میں سے ہماری بہت ساری پرانی استعمال کی جانے والی چیزیں، یادیں، ہمارے ارد گرد کی دوستیاں اور بہت کچھ اپنے اندر نِگل بھی گیا ہے۔

    ‏چونکہ! میں اپنی اس تحریر میں سمارٹ سسٹم موبائلز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سمارٹ فونز کے آنے کے بعد ہمیں صرف نقصانات ہی ہوئے ہیں۔ ( بلاشبہ اِن کے بے شمار فائدے بھی ہوئے ہیں جن کا ذکر میں اپنی اسی سلسلے کی دوسری قسط میں کروں گا)۔ تو آج اس تحریر کے زریعے میں اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ اِن سمارٹ فونز کے ہر طرف عام ہونے کے بعد ہماری زندگیوں پہ اس کے جو بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اُن سب کا مکمل احاطہ کر سکوں۔

    ‏1 . پڑوس کی دوستیاں، آپسی میل جول و محبت اور ہمارے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی نگل گیا ہے۔

    ‏مثال کے طور پر اگر آپ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے عام ہونے سے پہلے تک اپنی روز مرّہ کی زندگیوں پہ نظر دوڑائیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ اپنے محلے داروں، اڑوس پڑوس کے لوگوں، رشتہ داروں اور یہاں تک کہ اِن محلے داروں ، گاوں یا قصبے کے لوگوں کے علاوہ دوسرے محلوں، گاوں یا قصبوں میں رہنے والوں سے بھی ہماری کتنی قریبی اور گہری دوستیاں ہوا کرتی تھیں۔

    ‏پھر اسی طرح ہمارا آپس کا میل جول اور ایک دوسرے سے پیار و محبت اور عزت سے پیش آنا، کتنا ہی زبردست اور چاہت سے بھرپور دور ہوا کرتا تھا۔ کہ ایک دوسرے کو ملنے، ایک ساتھ اکٹھے ہو کر بیٹھنے اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے کسی معاملے پہ بحث و تکرار کے لیے بھی کتنا وافر وقت ہوا کرتا تھا اور پھر ہمارا کتنی کتنی دیر تک آپس میں ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کا کرنا، گپیں ہانکنا اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کو اپنا دُکھ سُکھ سمجھ کر اس میں ہر وقت شامل بھی رہنا، ایک بہترین احساس تھا۔

    ‏اور پھر ہر اچھے و بُرے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہنا، پھر اگر کبھی آپس میں کسی دوست کی ناراضگی ہو جایا کرتی تھی، تو سب محلے کے دوستوں نے مل کے اُن کی آپس میں صلح بھی کروایا کرنی اور ایسے معاملات میں بعض اوقات تو کئی کئی گھنٹوں اور پھر کبھی تو رات گئے تک آپس میں بات چیت کرتے ہی وقت گُزر جایا کرتا تھا کیونکہ تب کسی کے پاس بھی وقت کی کوئی کمی نہیں ہوا کرتی تھی اور ایک دوسرے سے پیار اور دوستیاں بھی سچی ہوا کرتی تھیں۔

    ‏اور پھر یہی آپسی میل جول ایک دوسرے کی عزت اور آپسی پیار میں بھی بے شمار اضافے کا باعث بنا کرتا تھا تو پیار و محبت کی اِسی پُر ستائش فضا کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی بے شمار سکون اور اطمینان ہوا کرتا تھا۔

    ‏لیکن پھر اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سب کچھ بکھرتا چلا گیا اور ہر کوئی اپنے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز تک محدود ہو کے رہ گیا ہے اور پھر اب ہر کوئی اپنا زیادہ تر وقت اِن سمارٹ سسٹم موبائلز پہ موجود سوشل میڈیا کے ذریعے (جن میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ، لنکڈ اِن، سنیپ چیٹ، ٹِک ٹاک اور دوسری بہت ساری ایپلیکیشنز شامل ہیں) اب ہم بہت سارے انجان، دور دراز اور اَن دیکھے لوگوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو نہ ہم کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی ہماری ملنے کی امید ہی ہوتی ہے۔ اور اسی لئے اب ہماری دوستیاں بھی اِن موبائلز تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ہیں۔

    ‏مگر اپنے اُن قریبی دوستوں، عزیز رشتہ داروں، محلے داروں اور دوسرے گِرد و نواح کے لوگوں کو ہم بالکل ہی بھول کر رہ گئے ہیں اور کبھی کبھار ہم انہیں، وہ بھی کسی خوشی یا غمی کے موقع پہ یا تو صرف میسج ہی بھیج کر کام چلا لیتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ دو چار منٹ کے لیے کال کر کے ان سے بات کر لیتے ہیں۔ اور میرے مطابق اِن سب قریبی لوگوں سے دوریوں کا باعث صرف اور صرف اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا ہی ہے۔

    ‏اور پھر کیونکہ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے سے پہلے تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں بے دھڑک ہو کے بات چیت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہوا کرتا تھا تو اِن موبائلز کے عام ہو جانے کے بعد بہت سے انجان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی آپس میں دوستیوں اور پھر اس سے بھی بڑھ کے ملاقاتوں تک کے ہونے کے بعد معاشرے میں بہت ساری برائیوں نے بھی جنم لے لیا ہے، جن کے بارے میں بھی ہمیں آئے روز خبریں اور حتٰی کہ ویڈیوز تک بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور میرے مطابق ہمارے اِن نوجوانوں میں پھیلنے والی زیادہ تر برائیوں کا باعث اور دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا بھی ہے۔

    ‏اور اب آخر میں! میں اپنے ملک پاکستان کے نوجوانوں کو ایک پیغام بھی دینا چاہوں گا کہ اگر تو آپ اپنی زندگیوں کو سکون و اطمینان سے گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے خاندان کے افراد، قریبی دوستوں، محلہ داروں، عزیز اور رشتہ داروں اور ظاہری طور پر موجود اپنے قریبی لوگوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت بھی دیا کریں۔

    ‏اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو بھی مضبوط بنائیں اور کیونکہ اب یہ سمارٹ سسٹم موبائلز بھی ہماری مجبوری بن چکے ہیں تو جہاں تک ہو سکے سوشل میڈیا کے ذریعے انجان لوگوں سے ہونے والی دوستیوں کو اپنی نجی زندگیوں پہ اثرانداز نہ ہونے دیا کریں۔ (بلاشبہ! سوشل میڈیا پہ بھی ہمیں سب لوگ ایک جیسے نہیں ملتے ہیں اور ہمیں بہت سارے اچھے، پڑھے لکھے، سُلجھے ہوئے اور قابلِ احترام دوست بھی ملتے رہتے ہیں، جن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور اُن سے ملنے والے علمی تجربات سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ہم اپنی عملی زندگیوں کو مزید بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں)۔

    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
    ‏ Twitter Handle: ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • جمہورکاپیغام تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    جمہوری پارٹیاں اگر خود کو جمہوری سمجھتی ہیں اور واقعئی اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مخلص ہیں تو سب سے پہلے ہر پارٹی اپنے اندر جمہوریت پیدا کرے اپناجمہوری ڈھانچہ ترتیب دیں
    موروثیت کا خاتمہ کریں
    میرٹ کو سامنے رکھیں
    اک دوسرے پر گند بازی کے بجائے، اپنی خدمات کی بنا پر سیاسی جدو جہد کریں
    بلاول عہد کرے کہ میں وزیراعظم نہیں بنوں گا اور مستقبل کے لیے پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے غریب کارکنوں کےچند پڑھے لکھے نوجوان تیار کرے ان کی میڈیا مہم چلائے ان کے علاقوں میں ان کا ورک کرے
    انہیں لوگوں سے میل جول رابطے میں سرگرم رکھے فلاحی کاموں میں ان کی مدد کرے

    مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے بھائیوں کو بھلے سیاست میں لائے مگر اعلیٰ عہدوں پر کارکنوں کو آگے لائے ان کی تربیت کرے اور اپنی پارٹی سے موروثیت ختم کرے

    شریف برادران اگر ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے سنجیدہ ہیں تو الیکشن کمیشن کے ادارے کو بہتر بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں
    ایسی قانون سازی کریں کہ ملکی ادارے مل مالکان کے حق میں غلط استعمال نہ ہوں

    شریف برادران بھی اپنی بیٹی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کی پڑھی لکھی بیٹیوں کی الیکشن مہم چلائیں انہیں اپنے علاقوں اور عوام میں متعارف کروائیں

    قانون سازی کے لیے حکومت پردباو ڈالیں کہ الیکشن کمشن قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے کورس متعارف کروائے جسے پاس کر نے کے بعد ہی کوئی میمبر کسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اھل ہو

    اگر انہوں نے یہی گھوڑے گدھے خرید کر سیاست کرنا ہے تو ایسی جمہوریت سے یہ قوم لنڈوری بھلی

    چند خاندانوں کو مضبوط کرکے آپ نے قوم کو ان کا غلام بنا دیا
    آپ اگر قومی خدمت میں واقعی سنجیدہ ہیں اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیں
    جھوٹ اور بہتان بازی سے آپ نے اپنا وقار کھودیا
    اقتدار کی خاطر آپ نے اک دوسرے کے خلاف جو جھوٹ گھڑے یا تو ان کے سچ ہونے کا یقین دلائیں یا پھر اگر وہ جھوٹ تھے تو قوم سے معافی مانگیں

    ہر شخص تو فریب نہیں دیتا
    مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا

    قوم سے اس بات پر معافی مانگیں کہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے کر آپ نے مافیاز جنم دیے، جنہوں نے ہر حکومت سے اپنا لاڈ منوایا ہے
    ہردور میں سارے عوام خصوصاً کسانوں نے مافیاز کے ہاتھوں ذلالت اٹھائی
    کسانوں نے ریٹ نہ ملنے پر اپنی کپاس جلائی، کبھی گنے کے کھیت جلائے
    جمہوری حکومتوں کی عین ناک تلےگندم کا باردانہ گم ہوتا رہا، کسان دربدر رہا
    چاول کا ریٹ تب اچھا بنا جب کسان کے ہاتھ سے نکل گیا
    ہر دور میں لیبر کے ساتھ نا انصافی
    جمہوری حکومتوں میں جمہور بھوک سے مرتی رہی
    مگر
    بڑے بڑے تاجروں کےکروڑوں کے قرضے معاف کردیے جاتے رہے
    آپ نے ہر ادارہ جاگیردار سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ؟
    انہوں نےہر ادارے ہر شہر میں اپنے بندے بھرتی کرادیے
    یوں غریب لوگ قطاروں میں دھکے کھاتے رہے
    مگر؟
    سیاسی خط یاچٹھی والے لوگوں کو خصوصی پروٹوکول ملنے لگا
    کسی بھی ادارے کی سیاست میں مداخلت جائز نہیں
    اگر
    اس جواز کو غلط بنانا ہےتو؟
    آپ کو تاجر کے بجائے لیڈر بننا پڑےگا

    تو؟؟؟
    گھرسے قربانیوں کا سلسلہ شروع کریں
    یہ قوم بڑی سخی ہے یہ آپ کو معاف کردے گی
    آپ کے اخلاص پرپھرسے مر مٹے گی
    اس قوم نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں بہت مرلیا
    اب کوئی تو ہو جو اس کی خاطر مرے

    ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
    وہ اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

    Doctor Rahii

  • اسلامی یورپ کا خوف  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی یورپ کا خوف تحریر: محمد ذیشان

    مغرب اسلام سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف کے دو رخ ہیں۔ ایک پہلو مسلمانوں کی نسلی خودکشی اور یوروپی اقوام کی نسلی خودکشی ہے۔ دوسرا پہلو اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے۔ خوف کے دونوں رنگ مغرب کے چہرے پر صاف نظر آتے ہیں.
    معروف اسرائیلی اخبار اروت شیوا کے ایک اطالوی کالم نویس گلیئو میوٹی نے ایک تفصیل میں اسلام کو خوفزدہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: "مسلمان اور اسلام پسند ایک ایسے براعظم پر جمع ہورہے ہیں جس کی مقامی آبادی اور تہذیب ختم ہو رہا ہے۔ یوروپ کو ہتھیار ڈالنا نہیں چاہئے ، ورنہ طویل عرصے تک یورپ میں اسلامی خلافت کا بنیادی خواب پورا ہوگا۔ یورپ میں صدیوں سے تعمیر ہونے والی تہذیب سیکولرائزیشن کے ہاتھوں گرتی جارہی ہے۔ گرجا گھر ویران ہیں ، برسلز ، میلان ، لندن ، ایمسٹرڈم ، اسٹاک ہوم اور برلن سبھی متاثر ہیں۔ یہاں تک کہ پوپ فرانسس نے یوروپ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ہے ، گویا وہ یورپ سے مایوس ہے۔ لوگوں کو جنسی خوشی ، جسمانی نگہداشت اور مادی آسائشوں کے لئے افیون دی گئی ہے۔ 2015 تک عرب دنیا میں مسلم آبادی 37.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ صرف افریقہ میں ، مسلمان سن 2050 تک 95 ملین کو عبور کر لیں گے۔ یورپ میں پیدائش پر قابو پانے اور قدرتی آفات سے آبادی کو دسیوں لاکھوں کی کمی واقع ہوگی۔ بحیرہ روم کے اطراف ، یوروپ کو پھر سے للکار رہے ہیں۔ ہم اسلام کے خلاف سنجیدہ جنگ نہیں لڑ رہے ، ہم اپنے لوگوں کو اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی (اسلام) کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ یقینا. ، یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے ، اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ ”

    اقتباس لمبا ہے ، لیکن بہت اہم ہے۔ اسلامی مفکر سید مودودی نے اپنی بے مثال ریسرچ ‘اسلام اینڈ برتھ کنٹرول’ میں ، اس وقت مغرب کے مستقبل کا ایک معنی خیز مشاہدہ کیا تھا جب یوروپ عروج پر تھا۔ سید صاحب یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ پیدائشی کنٹرول خاموشی سے مغربی تہذیب کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ صورتحال کی وضاحت کرتا ہے۔ مذہب اور فطرت نے وقت کے ساتھ ہی یورپ کو واپس لایا ہے۔

    ایک اور مثال خوف کا دوسرا رنگ ہے۔ "یہ الفاظ کا بہت محتاط انتخاب تھا ،” مشہور جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نیشنل ریویو کے ایک پالیسی سینئر ، اینڈریو میککارتی نے کہا۔ اس کے بارے میں سوچو ، لوئیس نے یہ نہیں کہا کہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہوگی۔ نہیں ، پروفیسر لیوس نے کہا کہ یورپ اسلامی ہو جائے گا۔ ہم یہاں مسلمانوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم اسلام کی بات کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر ، بہت سارے مسلمان امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلام کامل تسلط چاہتا ہے … لہذا ، اب جب ایک اور جہادی کا قتل کیا گیا ہے تو ، لندن اس کا نشانہ بن گیا ہے۔ خالد مسعود ، جو واضح آسمانی احکامات پر غیر مسلموں سے لڑ رہا تھا ، ویسٹ منسٹر پل میں راہگیروں کی طرف سے گزر رہی تیز رفتار کار میں چلا گیا۔ تقریبا پچاس افراد زخمی ہوئے ، چار ہلاک ہوگئے۔ باسٹھ سالہ ویٹ لفٹر مسعود کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور اسے خنجر کے کئی حملوں میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ مسعود برمنگھم میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے ، یہ شہر جہاں اسلامی قانون بہت سے علاقوں کو تیزی سے گھیر رہا ہے ، جو غیر مسلموں کے لئے نو گو زون بن چکے ہیں۔ جب ہم اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ، یہ صرف مذہبی رسومات کا نظام نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل تہذیب ہے ، جو اسلام کی آفاقی شناخت سے وابستہ ہے۔ اس کی اپنی ایک تاریخ ، قواعد ، اقدار اور قوانین ہیں۔ یہ غیر مغربی نہیں بلکہ مغرب مخالف ہے۔ منہاج الاسلام ، بطور اخوان المسلمون کے بانی ، حسن البنا ، کہا کرتے تھے ، وہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے غالب ہے۔ مغرب (اسلامی تسلط) کے سیاسی اور اشرافیہ حقیقت پر نگاہ ڈالتے رہے۔ ان کے ذہن میں ، مسلم سماجی گروہ دوسرے سماجی گروہوں کی طرح ہیں۔ نہیں ، اسلام مکمل خودمختاری چاہتا ہے۔ یہ آج کے معاشروں میں شریعت نافذ کرتا ہے ، اور کل کے جہادی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک مہم جوئی ویسٹ منسٹر برج پر دیکھنے کو ملی۔ "(لندن میں اسلام اور جہاد از اینڈریو سی میکارتھی)۔ یہ بیان خوف کا ایک اور رنگ ہے۔ اس ریاست کی حالت ارتقائی ہے ، اسے ترقی یافتہ نہیں کہا جانا چاہئے۔ یہ روایتی طور پر جوش و خروش کا ایک مرکب ہے۔
    معروف مورخ برنارڈ لیوس کا قول 100٪ درست ہے ، لیکن یہ خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ مشہور یوروپی مصنف جارج برنارڈ شا نے سن 1936 میں اسلامی یورپ کی پیش گوئی کی تھی۔اس سے پہلے ہی علامہ محمد اقبال اور سید ابواللہ مودودی مغرب میں اسلام کے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے تھے۔ یورپ کا اسلامی تسلط نظریاتی ، ثقافتی ، سائنسی ، نظریاتی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ یورپ میں سائنس کی پہلی عظیم پیشرفت کے پیچھے بھی اسلام ایک محرک قوت رہا ہے۔
    تو ، یہ سچ ہے۔ یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے۔ یہ خوف بلا وجہ نہیں ہے۔بہت سارا دین فطرت کا تقاضا ہے۔

    By.
    Muhammad Zeeshan
    @Zeeshanvfp