Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟  ‏تحریر: محمد اکرم

    مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟ ‏تحریر: محمد اکرم

    ‏ ⁦

    ‏پاکستان ایک ایسی نظریاتی مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی اساس پر معرض وجود میں آئی ورنہ 14 اگست 1947ء سے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ملک کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ‏دو قومی نظریہ کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے جو مسلم قوم کو دیگر اقوام سے الگ تشخص عطا کرتا ہے۔ حبشہ کے بلال حبشیؓ اور روم کے صہیب رومی کو محمد ﷺ کی قوم میں شامل قرار دیتا ہے۔ محمد ﷺ کے سگے چچا عرب سردار ابولہب کو محمد ﷺ کی قوم سے خارج قرار دیتا ہے کیونکہ وہ کلمہ گو نہیں تھا۔

    ‏عربی زبان کا معروف قول ہے تعرف الاشیاء باضدادھا ترجمہ: چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ پس دو قومی نظریہ کو سمجھنے کے لیے متحدہ قومیت کے نظریہ کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ ہندوستان کبھی بھی یکجا حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ مسلم حکمران تھے جنہوں نے مختلف اکائیوں میں تقسیم راجواڑوں کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کو ایک اکائی اور وحدت کی شکل دی تھی۔

    ‏پھر انگریز نے ہندوستان پر قبضہ جما لیا۔ جب یہ قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہا تو ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کانگرس اس نظریہ کی پرچارک تھی کہ قومیت کی بنیاد وطن ہے، مذہب نہیں لہذا ہندوستان کو اسی حالت میں آزادی دے دی جائے۔ آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کو ایک جدا قوم تصور کرتی تھی جس کی تہذیب تمدن روایات تاریخ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ کانگرس اور اس کی ہمنوا جمیعت علماء ہند، مجلس احرار، سرخپوش تحریک نے وطنی قومیت کے نظریہ کا شد و مد سے پرچار شروع کر دیا۔ علامہ اقبالؒ وفات سے پہلے شدید علالت کے دور سے گزر رہے تھے جب انہوں نے قومیت پر فکری مباحث کے دوران مولانا حسین احمد مدنی کے جواب میں ایک معرکۃ الآراء مقالہ بعنوان ‘جغرافیائی حدود اور مسلمان’ تحریر کیا جو اخبار احسان میں مؤرخہ 9 مارچ 1938ء کو شائع ہوا جس میں دریا کو کوزے میں سموتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے یہ ناقابل فراموش تاریخی الفاظ رقم کیے تھے:۔

    ‏[حضور رسالت مآب ﷺ کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپؐ ابولہب یا ابوجہل یا کفار مکہ سے یہ فرماتے کہ “تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بناء پر جو ہمارے اور تمھارے درمیان موجود ہے، ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور ﷺ نعوذ باللہ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبئ آخر الزمان ﷺ کی راہ نہ ہوتی۔”]

    ‏اس مقالے نے وطنی قومیت کے نظریہ کی بنیاد پر برسر عمل جمیعت علماء ہند، مجلس احرار اور سرخپوش تحریک کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ کانگرس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ 1946ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ مسلمان قوم کی بلاشرکت غیرے واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔ کانگرس کو تقسیم ہند نوشتۂ دیوار نظر آئی۔ قیام پاکستان کی منزل قریب تر آ گئی۔ بالآخر قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ قائداعظمؒ نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ لیاقت علی خان وزیراعظم مقرر ہوئے۔ المیہ یہ ہوا کہ قائداعظمؒ کی وفات اور لیاقت علی خان کی ایک افغان کے ہاتھوں پراسرار شہادت کے بعد مسلم لیگ کا نظریاتی تشخص بیحد مجروح ہوا۔ وطنی قومیت کے پرچارک باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، کانگرسی مولوی حسب سابق سرگرم رہے۔ اکھنڈ بھارت کی علمبردار جمیعت علماء ہند کی باقیات نے قیام پاکستان کی حامی جمیعت علماء اسلام کو ہائی جیک کر لیا۔ یہ سب لوگ قیام پاکستان کی مخالفت کے سابقہ مؤقف پر قائم رہے۔ دو قومی نظریہ کے منکر رہے۔ قیام پاکستان کو غلط قرار دیتے رہے۔ اسی فکر و سوچ کو اپنے کارکنان کے ذریعے آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے نظریاتی لٹریچر اور سٹڈی سرکلز میں قیام پاکستان کو انگریز کی سازش قرار دیا جاتا رہا۔ بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ مسلم لیگ قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کے افکار کو اسی شد و مد سے اپنے کارکنان اور عوام تک پہنچانے میں ناکام رہی۔ جن جماعتوں کو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ نے کارنر کر دیا تھا، وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے رہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہر دور میں قائداعظمؒ کی جماعت مسلم لیگ کے نام پر مختلف دھڑے برسر عمل ضرور رہے مگر قائداعظمؒ کی فکری وراثت کو لے کر چلنے والا کوئی دھڑا موجود نہ رہا۔ تاریخ کا عظیم ترین المیہ ہے کہ قائداعظمؒ مزارقائدؒ میں دفن ہیں مگر ان دھڑوں نے ان کی فکری وراثت کے لاشے کو بے گور وکفن پھینک دیا ہے۔ اپنے باباؒ جان کی فکری وراثت کو لاوارث بے گور و کفن دیکھ قائداعظمؒ کے بیٹے بیٹیاں خون کے آنسو روتے ہیں۔ وہ شدید کرب سے دوچار ہیں۔ بابائے قوم کی روح بھی شدید ذیت میں مبتلا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی روح بھی مزار اقبالؒ میں بےچین و بیقرار ہیں۔ اگر کوئی سکون چین قرار کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ بابائے قوم کی نشانی مسلم لیگ کے نام پر قائم مختلف دھڑوں کی قیادتیں ہیں جنہوں نے قائداعظمؒ کی فکری وراثت کے لاشے کو لاوارث کی طرح بےگور و کفن چھوڑ دیا ہے جسے ان کے نظریاتی مخالفین گدھ کی طرح بیدردی سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یہ نظریاتی مخالفین قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کی فکری وراثت کے لاشے کی روز بیحرمتی کرتے ہیں مگر بابائے قوم کی فکری بیحرمتی پر بےحمیتی بےشرمی کی چادر اوڑھے خوابِ غفلت کی گہری نیند سونے والی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کی قیادتوں کی سوئی ہوئی غیرت جاگ ہی نہیں رہی۔ کیا ان قیادتوں کو صورِ اسرافیل کے علاوہ کوئی چیز جگا سکتی ہے؟

  • طلباء میں منشیات کی لت    تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    طلباء میں منشیات کی لت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول کے طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ طلباء زیادہ تر نجی اسکولوں کے ہیں جہنیں ان کے اہل خانہ نے خراب کیا ہے اور ایسے طلبا اپنے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں ۔طلباء میں منشیات کی لت ایک تشویش ناک صورتحال ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے اور جلد از جلد اس سے نمٹا جانا چاہئے۔

    دیہی اسکولوں کے مقابلے شہری علاقوں کے اسکولوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اسکول کے بچوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ منشیات کے متحمل ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ جیب رقم رکھتے ہیں۔ ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اسلام آباد کے مشہور نجی اسکولوں کے 53٪ طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے کیونکہ اس سے ملک کے دارالحکومت میں اسکول جانے والی نصف سے زیادہ آبادی بن جاتی ہے۔لاہور کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں اسکول جانے والے کل طلبا میں 57٪ کم از کم ایک نشہ استعمال کررہے تھے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہر 10 میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی تھا اور ایلیٹ تعلیمی اداروں کے تقریبا 50 50٪ طلبا منشیات کے عادی تھے

    توجہ فرمائیں!

    بلوغت کے زمانے سے جب نوعمر نوجوان نئی چیزوں کی کھوج شروع کرتے ہیں تو ، اسکول جانے والے طلباء منشیات کی لت میں مبتلا ہوجانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ محض تفریح ​​کے لئے پارٹیوں اور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شروع ہوتا ہے لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو مہاماری کی طرف گہرائی میں پائے جاتے ہیں

    اسکول جانے والے طلباء کو دوسرے طلباء کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بالائی اور اشرافیہ طبقے کے بگڑے ہوئے خطوط کو اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ، وہ بچہ جس کو سب کے سامنے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے ،ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، وہ بچے بہت سے ذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ جن طلباء کو ہراساں کیا جاتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے جب ان کا دماغ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتا ہے تو وہ منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں اس کے برعکس ، وہ لوگ جو جارحانہ اور عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو ان طلباء کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں ابتدائی طور پر منشیات میں شامل ہونا شروع کردیتے ہیں۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں بہت سے لطف اندوزیاں ، تقریبات اور پارٹیاں ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اسکولوں کو بھاری فیسوں کے عوض وہ ان سے بھی زیادہ آرام اور تفریحی وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کو منشیات کے جان لیوا مرض سے جان چھڑاونے کے لیے منشیات پہ پابندی لگائیں جائیں اور اسکی روک تھام پر توجہ دی جاٸیں اور منشيات سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزاٸیں دی جاٸیں!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • متنازعہ انتخابات، جمہورکااستحصال  تحریر: انوارالحق

    متنازعہ انتخابات، جمہورکااستحصال تحریر: انوارالحق

    آج آزاد کشمیر کی 33اور جموں وکشمیر کی پاکستان میں موجود 12 سیٹوں پرگیارہویں عام انتخابات کا دن ہے، انتخابی امیدواروں کی کل تعداد 724 ہے جن میں سے 579 آزاد کشمیرکی 33سیٹوں کے لئے میدان میں اتریں گے جبکہ پاکستان میں موجود 12سیٹوں پر 145 امیدوار میدان میں ہیں۔ کرونا کی صورتحال کے پیش نظروفاقی ادارہ( این سی اوسی) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے جس کے سربراہ اسد عمر ہیں نے 2ماہ قبل انتخابات ملتوی کرنے کرنے کا مشورہ دیا تھا جسے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے رد کرکے الیکشنزکا نگاڑہ بجانے کو ترجیح دی ۔ اس سلسلے میں عوامی دھما چوکڑی، جوش و ولولہ، عزم واستقامت اور سیاسی سوجھ بوجھ اپنی جگہ لیکن دکھ اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ یہ الیکشنز بھی پاکستان میں ہونے والے تمام الیکشنز کی طرح غیر متنازعہ نہیں ہونگے۔ پاکستان میں کبھی کوئی انتخابات ایسے نہیں ہوئے جس پر سب نے آمین کہا ہو ہر ہر ہارنے والا دھاندلی کے الزامات لگاتاہے اور کہتاہے کہ میرے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے لیکن پانی پلوں سے بہہ جانے کے بعد یعنی بعد از انتخابات کہیں کوئی کسی کی نہیں سنتا۔ اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ یہیں رکنے والا نہیں ہے۔قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی ، بلدیاتی انتخابات، عام انتخابات ، ضمنی انتخابات ، سینیٹ کے انتخابات حتی کہ یونین کونسلوں تک کے انتخابات کی شفافیت مشکوک ٹھہرتی ہے۔ تاریخی حوالے دیکر یا واقعاتی شہادتیں دیکر اس کالم کو ذہنی مشق نہیں بناتا اور یہ ویسے بھی ایک ایسا تسلیم شدہ امر ہے کہ جس سے کسی کو انکار نہیں کہ پاکستان میں انتخابات غیر متنازعہ نہیں ہوتے۔
    یہاں جو امر زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ ہے کہ جس جمہوریت کا راگ تمام سیاسی پارٹیاں دن رات الاپتی ہیں وہ بنیادہ طور پر جمہور یعنی عوام کا حق رائے دہی ہے یعنی عوام جسے چاہیں اقتدارسونپیں اور جسے چاہیں اقتدار سے محروم کردیں۔ اکثریتی ووٹ حاصل کرنیوالا حکومت بنائے اور اپنے انتخابی منشور کو عملی طور پر نافذ کرکے عوام الناس کی زندگیوں میں تبدیلیاں پیدا کرے، ان کی فلاح و بہبود کے کام کرے ان کے زندگیاں آسان کرے ، روزگار، صحت، تحفظ،تعلیم و تربیت کا انتظام کرے اور رہائشی سہولتیں پیدا کرے۔ عام انسان تک عدل انصاف کی سستی اور فوری فراہمی بھی ایک حکمران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ الغرض ، جمہوریت کا حسن جمہور کی رائے دہی اور حق انتخاب سے منسلک ہے ۔ لیکن آج تک عوام کو وہ انتخابات سننا یا دکھنا نصیب نہیں ہونے جن میں ان کو احساس ہوا ہو کہ ان کے ووٹ کی طاقت کی کوئی اہمیت ہے۔ہر الیکشن یا تو سلیکشن کہلایا گیا یا انجیرڈ ، ہر جیتنے والا جیت کر بھی متنازعہ رہا اور ہارنے والے نے کبھی ہار تسلیم ہی نہیں کی۔
    انتخابات کے متواتر غیر متنازعہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ شائید یہ ہے کہ وطن عزیز کے سیاسی عمائدین نے خود کبھی چاہا ہی نہیں کہ کوئی ایسا نظام وضح کیا جائے کہ انتخابات کی شفافیت پر کوئی حرف نہ آسکے ۔ اگر بھارت جیسا غربت کا ماراہوا ملک ایک ایسا نظام وضح کرسکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ بھارت کا سیاسی ماحول بھی کم وبیش ایسا ہی ہے جیسا کہ پاکستان کا ہے۔ یہاں وہاں دونوں جگہ جمہوریت نظام حکومت ہے اور جنتا جناردن ووٹ ڈال کر حکمران منتخب کرتی ہے ۔ سن1990کے اوائل میں انڈیا نے الیکٹرانک ووٹنگ کا آغاز کرکے اس مسلے کو کافی حد تک حل کرلیا ہے۔اسی طرح یورپ، امریکہ اور دیگر کئی ممالک نے انتخابات کے عمل شفاف بنا لیا ہے ، اب سیاسی مخالف بیان بازیاں تو چلتی رہتی ہیں لیکن مجموعی طورپر انتخابات سب کے لئے قابل قبول ہوتے ہیں۔ الزامات تو ان نظاموں پر بھی لگتے ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں ہار کر لگائے اور تھوڑی بہت ہاو ہو کانگریس نے بھی انڈیا میں الیکشنز ہار کرکی لیکن عام عوام اور سسٹم کی جڑیں اس پراسس کے شفافیت پر اتنی مضبوطی سے یقین رکھ چکی ہیں کہ اس پر لگنے والے الزامات کو محض ٹھٹھ مخول یا ہوئی فائرنگ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ میڈیا میں اس سوچ کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جو ہار جاتاہے اور لازمی طور پر جیتنے والے کو ٹوٹے دل سے ہی سہی لیکن مبارکباد کا پیغام ضرور دیتا ہے جبکہ ہمارے یہاں ایسا کوئی رواج ہی نہیں ہے۔ سسٹم کا استحصال کرنیوالوں نے پاکستان میں کبھی کوئی انتخابی سسٹم مضبوط ہونے ہی نہیں دیا اور اس تباہی میں سب شامل ہیں چاہے وہ سیاسی لیڈر شپ ہو، فوج ہو، عدلیہ ہو ، الیکشن کمیشن ہو اس بوسیدہ اور ناقابل یقین نظام انتخابات کے قیام اور عملداری میں سب شامل ہیں۔اور یہ سلسلہ مستقبل قریب میں رکتا نظر بھی نہیں آرہا۔ متازعہ انتخابات بہرصورت جمہور کے حق رائے دہی کا استحصال ہے اور یہ استحصال جانے کب تک جاری رہے گا۔
    25-7_2021

  • کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    :

    جتنی پرانی تاریخ پاکستان کی ہے اس سے زیادہ پرانی تاریخ کشمیر کی ہے۔
    موجودہ آزاد کشمیر 1948 کی جنگ آزادی میں آزاد ہوا۔
    اس جنگ کی ابتداء ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے نواح نیلا بٹ کے مقام سے ہوئی۔
    سردار عبدالقیوم خان نے دشمن کے خلاف پہلا فائر کیا اور مجاھد اول کا لقب پایا۔
    اس مجاھد اول نے آزاد کشمیر میں 60سال سے زیادہ حکومت کی
    مجاھد اول کی سیرت کے پہلو پہ تحریر ایک الگ موضوع ہے۔
    جنگ آزادی بھی الگ موضوع ہے
    میں یہاں صرف مختصراً
    کشمیر کی موجودہ صورتحال پہ چند باتیں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔
    جیسا کہ لکھا جا چکا ہیکہ سردار عبد القیوم خان مجاھد اول کی جماعت "مسلم کانفرنس” نے 60 سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی
    لیکن جب یہ حکومت مجاھد اول کے بیٹے سردار عتیق خان کے سپرد ہوئی تو آہستہ آہستہ مخالفت بھی دم بھرنے لگی
    اور بالآخر مسلم کانفرنس کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا
    اسکی ایک اہم وجہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کے الیکشن میں حصہ لینا ہے۔
    اسی آزاد کشمیر میں پاکستان کی دو سیاسی پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں اور آج کے الیکشن میں تیسری پاکستان کی سیاسی پارٹی کی حکومت بننے کا چانس 60فیصد سے زیادہ ہیں۔
    تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ کشمیر کے الیکشن میں ایک چوتھی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی تحریک۔ لبیک۔ پاکستان نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
    تحریک۔ لبیک۔ پاکستان
    پاکستان میں 2018کے الیکشن میں بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرچکی ہے۔
    پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پہ سامنے آئی
    لیکن شروع دن سے اس پارٹی کے ساتھ جو سلوک ہوتا آیا ہے وہ انتہائی زیادہ قابل مذمت ہے۔
    آج کے الیکشن میں کئی جگہوں پہ ٹی ایل پی کے کیمپس اکھاڑ کے کیمپ میں موجود کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    ہم اسے ریاستی دہشت گردی سمجھیں یا موجودہ حکومت کی غنڈہ گردی
    یا پھر جمہوریت کے نام پہ ایک زوردار تھپڑ۔
    ان واقعات کے پیش نظر یہ کہنا کہ کشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ مکمل طورپہ سیلکشن ہورہی ہے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔
    اس کے علاوہ کشمیر کا یہ پہلا الیکشن ہے جس میں علی وزیر گنڈا پور پہ پابندی کے باوجود اسلحہ کے زور پہ علی وزیر نے الیکشن کمپین کی
    کیا یہ بھی حکومتی غنڈہ گردی نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

    @KHT_786

  • ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر :  مدثر حسین

    ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر : مدثر حسین

    50 ہزار سے زائد سیاست دان اور صحافی حضرات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف۔
    اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کی مدد سے دنیا بھر کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف ہوا یے جس کا زکر مغربی اخبارات میں کیا گیا تھا ، اعلی پاکسانی شخصیات کے فون ٹیپ ہونے میں مودی حکومت کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ جس کے بعد پاکسان کی اعلی عسکری قیادت نے اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے. جن اہم شخصیات کے فون ہیک کئے گئے ان کی تعداد پجاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عمران خان اور انکے قریبی ساتھیوں سمیت کشمیر کی اعلی قیادت اور انڈیا کے راہول گاندھی کے بھی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف ہوا ، ایک اسرائیلی اخیار میں بتایا گیا کہ پیگاسس سوفٹ وئیر کے زریعے دو مرتبہ راہول گاندھی کا فون ٹٰئپ کرن کی کوشش کی گئی۔ جب کہ ہیکنگ کا شکار ہونے والے پچاس ہزار افراد میں سے ایک ہزار کا تعلق انڈیا سے ہے جن میں زیادہ تت صحافی حضرات ہیں.

    اندرون و بیرون ملک سیاسی حریفوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے اور خفیہ معلومات تک رسائی کے لئے ہیکنگ کا استعمال بہت بڑھتا جا رہا ہے. جس سے سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرارت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں.

    پاکستانی اور انڈین قیادت نے ہیکرز کی غیر اخلاقی حرکت پہ سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ راہول گاندھی نے اس کی مکمل چھان بین کرانے کی پرزور اپیل بھی کی۔۔ جبکہ دوسری طرف مودی حکومت کے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے فون ٹیپ کرنے کا انکشاف انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کے فون ٹیب ہونے کا بھی انکشاف ہوا. پیگاسس پروجیکٹ انوسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر کے 180 سے زائد صحافیوں کے فون کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کل 12 لوگوں نے این ایس او کی خدمات حاصل کیں، تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کے زیر استعمال ایک فون نمبر بھارتی فہرست میں کم از کم ایک دفعہ ضرور رہ چکا ہے ۔ پاکستان کی اعلی عسکری قیادت نے اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستانی کو سائبر وار میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ فواد چودری اور شیری مزاری کی طرف سے بھی ایسے شرمناک اقدامات کی پرزور مزمت کی گئی ہے اور اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

    ‎@MudassirAdlaka

  • عنوان: مونسون بارشیں کراچی کے لئے رحمت یا زحمت

    عنوان: مونسون بارشیں کراچی کے لئے رحمت یا زحمت

    سندھ کا دارالخلافہ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا آج اندھیروں اور مسائل میں گھڑا نظر آتا ہے۔ بارش جو کہ اللہ کی رحمت ہوتی ہے اداروں کی نااہلی کی وجہ سے کراچی کے لئے ہمیشہ زحمت بن جاتی ہے۔ شہر میں سب سے زیادہ بارشیں مونسون سیزن کے دوران ہوتی ہیں جو جون سے شروع ہو کر ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں۔

    یہ بارشیں شہر کے موسم کو متوازن رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ اگر یہ بارشیں نہ ہوں تو شہر میں پانی کی شدید قلت کا اندیشہ ہے جس کے سبب شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہ بارشیں جہاں انتہائی ضروری ہیں وہیں انتظامیہ کی نا اہلی اسے زحمت بنا دیتی ہے اور ہر سال قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اول تو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی کے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام بیٹھ جاتا ہے اور سیکڑوں فیڈر ٹرپ ہونے سے شہری گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں پھیلی بے ہنگم بجلی کی تاریں اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب ہر سال کرنٹ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں جس کے سبب قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔

    کے الیکٹرک کے کارنامے الگ لیکن موثر بلدیاتی نظام نہ ہونے کے سبب بارشوں میں شہر قائد کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ضروری کاموں سے باہر نکلنے والے گھنٹوں ٹریفک میں بے یار و مددگار پھنسے رہتے ہیں اور اعلی حکام کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔

    شہر کی اس ابتر صورتحال پر شہری بس اداروں اور حکمرانوں کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارے یہ مسائل کون حل کرے گا؟ اس ابر رحمت کو زحمت بنانے کے زمہ داروں کو کون سزا دے گا؟ کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو کون انصاف فراہم کرے گا؟

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کا واحد حل بلدیاتی انتخابات ہیں۔ بااختیار مئیر ہی شہر کی حالت کو بہتر بنا سکتا ہے ورنہ عوام سندھ حکومت اور اس نظام سے مکمل مایوس ہو چکے ہیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تحریر : شفقت سجاد دشتی

    وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تھی، میں فیس بک کی تانکا جھانکی میں لگا ہوا تھا کہ میری نظر سے کسی خاتون کی ایک تحریر گزری، میں شاید سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا، لیکن تحریر کے عنوان نے میرے قدم باندھ دیے، ”وہ کون تھا“ ان کی شاید وہ پہلی نثری تحریر تھی جس کے بیانیے نے مجھے متاثر کیا، نجانے مجھے کیوں اس تحریر میں صاحبہِ تحریر کا عکس نظر آیا کہ جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی گوشہ حوالہ قرطاس کیا ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تحریریں پڑھنا شروع کر دیں، ہر تحریر مجھے خونِ دل سے سینچی ہوئی لگی، میرا بہت دل چاہا کہ میں ان تحاریر کی خالق سے بات کروں لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی، ان کی تحریروں اور تصویروں نے ان کی شخصیت کا ایسا رعب جما تھا کہ میں کئی دن تک بس ان کی تصویر دیکھ کر اور تحریر پڑھ کر خوش ہو لیتا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے ان سے بات کر لی، انہوں نے خوش دِلی سے میری اس جسارت کو قبول کر لیا۔۔۔۔ ان کی کہانیوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ کچھ عرصے بات بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ جس دن میری ان سے بات نہ ہو میرا وقت بے چینی میں گزرتا ہے، میں اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ عمروں کی تفاوت کے باوجود وہ مجھے اچھی لگتی تھیں۔
    کسی وجہ سے چند دن میری ان سے بات نہیں ہو سکی۔ میں اکثر سوچتا تھا ان کے بارے میں کہ حال میں وہ اتنی من موہنی اور باوقار ہیں تو عین عالم شباب میں کیسی ہوں گی۔؟
    اس کا جواب مجھے ایک رات خواب کی صورت میں ملا
    میں نے خواب میں انہیں دیکھا کہ میں خوابگاہ کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں، کھلی چاندنی میں ایک لڑکی وہاں کھڑی ہے۔ میں خوابگاہ سے باہر نکل گیا۔ مجھے دیکھ کر میں نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا وہ دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے کسی ملکہ کی طرح تمکنت کے ساتھ خاموش کھڑی ہے۔ وہ مجھے دیکھی دیکھی سی لگی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے؟ میں نے پھر بھی اس سے پوچھ لیا ’’کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتھیلی کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ میں نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ میں مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا میں نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ میں نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے، کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘۔؟ اس نے تحیر سے بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ میں سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمبیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ میں واپس خوابگاہ میں آ کر مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ میں برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ میں پھر اٹھا اور اس جگہ پہنچ گیا، جہاں رات وہ کھڑی تھی۔ میں نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ ہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    رات کا خواب فلم کی طرح پردہ بصارت پر اتر آیا۔ اچانک روشنی کا جھماکا سا ہوا، اوہ یہ تو وہی افسانہ نگارخاتون ہیں جنہیں میں ملکہ کہتا ہوں جو دوشیزہ بن کر میرے خواب میں آئی تھیں۔
    میری کفیات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہیں اس سے قطع نظر بطور افسانہ نگار میں ان کے حوالے سے بس اتنا کہوں گا کہ ملکہ۔۔۔۔۔۔۔! بہت عمدہ لکھتی ہیں، واقعی ان کے ہاتھ میں قلم روشنی بن جاتا ہے، کہیں طلسم تو کہیں خوشبو بن جاتا ہے ، کہیں فراق تو کہیں نغمہ، کہیں راگ تو کہیں تصویر بن جاتا ہے ، کہیں پربت تو کہیں جھرنا، کہیں شیشے کا خواب نگر بن جاتا ہے، ان کے لفظ ایسے ایسے منظر تراشتے ہیں کہ ، بصارت و بصیرت، شمس و قمر کے مقابل آ جاتے ہیں، ایک با وقار ہستی کی با وقار سی تحریریں جگنو بن کر میرے دل میں روشنی کرتی ہیں
    جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوئے اور ان کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔

    @balouch_shafqat

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI