افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، زمینی حقائق دیکھیں تو طالبان نے ایک بڑے علاقے پر اپنا قبضہ جما لیا ہے جن میں کچھ ممالک کے ساتھ افغانستان کے سرحدی علاقے بھی شامل ہیں، طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے زیر انتظام علاقہ کا اتنی تیزی سے پھیلاؤ جہاں پوری دنیا کو محو حیرت میں ڈالے ہوئے ہے اور لوگ امریکی و اتحادی افواج کی بیس سال افغانستان میں موجودگی پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں افغانستان میں موجود کٹھ پتلی حکومت اور اسکے حواری شدید اضطراب کا شکار ہیں ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت پوری دنیاکی نظریں افغانستان پر جمی ہوئی ہیں اور اس خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اس خطے کے دیگر ممالک روس، چین، پاکستان، ایران ، بھارت وغیرہ کے لیئے بھی بہت اہم ہیں ۔
سب سے پہلے اگر افغانستان کی حالیہ حکومت کی بات کی جائے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ افغانستان میں موجود حالیہ حکومت جس میں اشرف غنی اور ان کی ٹیم شامل ہے کو افغانستان کے لوگوں کی بجائے امریکہ و بھارت کی سپورٹ حاصل رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کے دوران افغانستان کے اندرونی مسائل اور لوگوں کی فلاح کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دینے اور امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کو افغانستان کی سرزمین سےہر طرح کے وسائل نکالنے میں ہر ممکن مدد کی جس کی وجہ سے افغانستان میں اس حکومت کی مقبولیت بہت کم ہے۔ اس حکومت نے افغان طالبان کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے ان کو افغانستان کے کسی بھی مسئلہ میں سٹیک ہولڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی نفی کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اب طالبان کی جانب سے ابھر کر طاقتور طریقہ سے سامنے آنے پر افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ، پہلے یہ لوگ اتحادی افواج کے انخلاء کے خلاف تھے اور اپنے ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئےاشرف غنی اور انکی ٹیم نے امریکی دربار پر حاضری بھی دی تھی جو بے سود رہی اور حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ انکل ٹام نے بھی ہاتھ اُٹھا لیئے ہیں۔
افغانستان میں حالیہ واقعات کے بعد بھارت اس وقت سب سے ذیادہ پریشان ہے کیونکہ بھارت کی اربو ں ڈالر کی انویسٹمنٹ جو اس نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے کے لیئے کی، وہ داؤ پر لگی ہوئی ہے، بھارت کو طالبان کی پیش قدمی کے ساتھ مختلف شہروں اور علاقوں سے اپنے قونصل خانے بھی اٹھانے پڑ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بھارتی "اثاثے” جوافغانستان میں موجود تھے ان کو بھی ساتھ ساتھ باہر نکالنا پڑ رہا ہے، یاد رہے کہ بھارت نے افغانستان میں ترقی کے منصوبوں کی آڑ میں ایسے منصوبے شروع کر رکھے تھے جن کی وجہ سے بھارت بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان میں بد امنی پھیلا رہا تھا۔
اب اگر تھوڑا سا زوم آؤٹ کر کے دیکھا جائے تو اس وقت طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن کے خواہشمند ممالک میں چین، روس، پاکستان، ترکی اور ایران وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری جانب افغان کٹھ پتلی حکومت اور بھارت اس وقت ایک صفحہ پہ موجود ہیں اور امریکہ اور اتحادی افواج کوبھارت اور افغانستان قائل کرنے کی کوششیں ضرورکررہے ہیں کہ افغانستان میں کسی نہ کسی طریقے سے اپنی موجودگی رکھیں لیکن پچھلے بیس سال وہ ممالک اپنے اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونکنے کے بعد فی الحال بالکل بھی اس موڈ میں نظر نہیں آ رہے کہ افغانستان میں مزید ”انویسٹمنٹ” کریں۔
اب اگر مختصرا افغانستان کے مستقبل کی بات کی جائے تو ایسا نظر آ رہا ہے کہ طالبان کو کسی بھی قسم کی ذیادہ مشکلات کے بغیر پورے افغانستان کا کنٹرول مل جائے گا لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے حالیہ انٹرویو دیکھیں جس میں وہ بارہا اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ طالبان افغانستان میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کام کے لیئے انہوں نے واحدشرط رکھی ہے کہ اشرٖ ف غنی مستعفی ہو اور اس کے بعد طالبان اورافغانستان کی سیاسی جماعتیں بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے، یاد رہے کہ اشرف غنی کے استعفیٰ کا مطلب بھارت کے آخری مہروں میں سے ایک اور کی چھٹی ہے اور اشرف غنی کی کابینہ میں اس وقت بہت سے لوگ موجود ہیں جو بھارت سے ذیادہ بھارت کی زبان بو ل رہے ہے۔
اگر بات کی جائے افغانستان حکومت اور بھارت کی تو وہ اس وقت پاکستان میں بد امنی کی سازشوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طاقتوں سے رابطے کر کے اس بات کی یقین دہانی کروانا چاہ رہے ہیں کہ اشرف غنی اوراس کی کابینہ افغانستان کےپر امن مستقبل کا واحد حل ہے جو کہ بالکل غلط اور من گھڑی کہانی ہے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضرور بنتا ہے کہ افغاستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نےلندن میں ایک ملاقات کی ہے، اس افغان عہدیدار کے بارے میں بتاتے چلیں کہ اس سے پاکستان اپنے سفاررتی تعلقات منقطع کر چکا ہے کیونکہ اس نے چند ماہ پہلے پاکستان کے بارے میں ایک غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی جگہ سے تشبیہ دی تھی جہاں سے عموما شریف لوگوں کا گزر نہیں ہوتا۔ اس رویہ کے بعد پاکستان اس افغان عہدیدار سے سفارتی مراسم ختم کر چکا ہے۔ حمد اللہ محب نے پاکستان کے سزایافتہ وزیر اعظم جس کو اب عدلیہ اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے سے لندن میں ملاقات کی ہے،اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ہو گی؟ بھارتی ”اثاثے” مل بیٹھ کر کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ عمران خان کی قیادت اور پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کے مستقبل کے فیصلوں سے ملک دشمن عناصر کو کیا کیا تکالیف ہیں اور مستقبل قریب میں پاکستان کے خلاف کون کونسے نئے محاذ کھلنے والے ہیں ۔ ان تمام باتوں کا ذکر ابھی قبل از وقت سہی لیکن ایسا نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش بنی جا رہی ہے اور حالیہ ملاقاتیں اور بیانات بشمول افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں۔
Author: Baaghi TV

افغانستان کیا ہونے جا رہا ہے تحریر: انعم شیخ

انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال
ایک ایسی دنیا سماعت و بصارت کے روبرو ہے جہاں نت نئے انداز سے ایک ہی کام دہرایا جاتا ہے اور ایک ہی بات کی پریکٹس کی جاتی ہے، وہ ہے دھوکہ.
(میں اپنے قارئین پر ایک بات واضح کرتا جاؤں کہ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل و برائیوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٪100 لوگ ان برائیوں میں ملوث ہیں. بہت سے اللّٰہ کے نیک بندے خوف خدا اور انسانیت کے جذبے سے سرشار، اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں.)
اکثر اوقات کچھ سوانح نظر سے گزرتے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. اور جن کی بنیاد پر انسان کا نکتہ نظر تبدیل ہو کہ رہ جاتا ہے. کچھ ایسی باتیں انسان کے ذہن میں نقش ہو کر رہ جاتی ہیں جو تا حیات انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر اثرانداز رہتی ہیں.
کاروبار یا ملازمت دو طریقہ ہائے زندگی ہیں جو انسان اپنی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے اپناتا ہے. ملازمت پر کسی دوسرے کالم میں لکھوں گا.
کاروبار سے منسلک چند احباب نے شاید سمجھ ہی یہی لیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے ہی اچھی آمدن اکھٹی کی جا سکتی ہے. کچھ آپ بیتیاں پیشِ خدمت ہیں.
ایک گارمنٹس شاپ پر جانا ہوا. اور دکان پر کھڑے سیلز مین کی ہوشیاری پر بعد میں دل ہی دل داد دیتا رہا. اور افسوس بھی ہوتا رہا. چہ جائے کہ یہ اسکے ہاتھ کی صفائی تھی مگر انفرادیت کی غلط سوچ اجتماعیت کے مکمل نقصان کی ضامن تھی.
ایک جیکٹ پسند آنے کہ چکروں میں تھی. تو سیلز مین نظروں میں ہی بھانپ گیا. اور لپک کر آیا اور کہا سر یہ تو ڈپلیکیٹ جیکٹ پڑی ہے جو آپکے "شایانِ شان” نہیں. اسی میں اوریجنل جیکٹ پڑی ہے وہ اصلی ہے. میں آپکا خیرخواہ ہوں اس لیے بتا رہا ہوں، مالک کو نا بتائیے گا.
اس ساری گیم کا تب جا کر اندازہ ہوا جب گھر جا کر مکمل تسلی سے چیک کی. تب پتہ چلا کہ "اصلی” کے چکروں میں وہی پہلے والی چند ہزار مہنگی مجھے چپکا دی گئی ہے.
ایک پھلوں والے بازار میں جانا ہوا. انواع و اقسام کے پھل سجا کر رکھے ہوئے تھے. ان دنوں آم کا سیزن چل رہا ہے. ایک طرف سے آواز کانوں میں پڑی جو انسانی فطرت کے عین مطابق گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی. ایک صاحب فرما رہے تھے کھٹے ہوں تو دوگنا پیسے واپس. میں اس دوکان پر پہنچا تو اتفاقاً آذان بھی شروع ہو گئی.
میں اکثر یہ واقعہ سوچنے یا بیان کرنے سے ڈرتا ہوں کہ اس وجہ سے ملتِ اسلامیہ اور امتِ محمدیہ کا دوسرے لوگوں پر کیا تاثر جائے گا.
خیر دکان دار کے کلمہ پڑھ کر آذان کی طرف متوجہ کر کے تسلی نے مجھے وہاں سے خریدنے پر مجبور کیا. خراماں خراماں رہائش پر پہنچا. مبالغہ آرائی سے خدا بچائے، مگر ان کلو دو کلو میں سے ایک بھی کھانے قابل آم برامد نہ ہو سکا.
مزید سنیے، کپڑوں کی دکان پر ایک اچھی کوالٹی کا سوٹ خریدنے پر بھی اسی طرح کی چرب زبانی اور ملے جلے قسموں وعدوں کے عوض چند ہزار کا چونا لگوانے کے بعد جب پہلی بار کپڑے دُھل کر سامنے آئے تو کپڑوں اور میرا دونوں کا رنگ اُڑ چکا تھا.
اور سنیں، موٹر-سائیکل مکینک پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنا موٹر-سائیکل مرمت کے لیے چھوڑ کر اپنے کسی اور کام کو مکمل کرنے کے لیے دوسری مارکیٹ چلا گیا. ارادہ تھا کہ واپسی تک موٹر-سائیکل مرمت ہو چکا ہو گا. اس بات کا اندازہ چند دن بعد ہوا جب کہیں جاتے ہوئے موٹر-سائیکل پنکچر ہوا اور پنکچر والے نے میرے سامنے ٹائر کھول کر نسبتاً طنزیہ انداز میں کہا "بادشاہو، اور کتنا ظلم کرنا ہے اس پر، اب نئے ٹیوب ڈلوا لیں”. جبکہ ابھی چند دن پہلے ٹائر اور ٹیوب نیا ڈلوایا جا چکا تھا.
مجھے یہ سمجھنے میں ذرا سی ہی دیر لگی چند دن پہلے مرمت کے دوران سامان نکالا جا چکا ہے.
ایسے کئی اور مواقع انسان کی زندگی میں آتے ہیں جن سے گزرنے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ شاید ہم کرونا سے بھی کسی بڑی وبا کے انتظار میں ہیں. اور اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا چند ایک ایماندار لوگوں کی وجہ سے قائم ہے. ورنہ ہم نے کوئی کثر نہیں چھوڑی.
ضرورت اس امر کی کے انفرادی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی طور پر سوچا جائے. ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے. اور اپنے امیج سے زیادہ اس بات کو سوچا جائے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارا دین و مذہب بشمول ملک و قوم بدنام نہ ہو.
اللّٰہ ہمارا حامی و ناصر ہو.Twitter : @Q_Asi07
qaisarabbas00@gmail.com

عید اور ہماری قربانی تحریر: حسیب احمد
عید قربان ابھی چند روز پہلے ہی گزری اس سے پہلے شہر میں اتنا رش۔ عید کے پہلے دن عمومی طور پر سب قربانی کرلیتے ہیں اور قربانی کے جانوروں کی غیر ضروری چیزیں باہر کچرے میں یا سڑکوں پر پھینک دیا کرتے ہیں اور پھر اس عمل کے سبب مختلف بیماریاں اور بدبو جنم لیتی ہیں۔ اور پھر آپ کا شہر کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے اور پھر عوام اپنا غصہ سیاستدانوں یا حکمرانوں پر نکلتی ہے۔ لیکن کبھی سوچا ہے اس کے ذمہ دار زیادہ تر ہم لوگ ہی ہیں نا ہم پھینکتے نا یہ ہوتا نا ہم بیمار ہوتے۔ اور ان سارے عمل سے دنیا میں پاکستان کا منفی اثر جاتا اور دنیا پھر پاکستان کو علمی گندگی والے شہروں میں ڈال دیتی ہے کسی ایک انسان کی غلطی پاکستان کو دنیا بھر میں شرمندہ کراسکتی ہے۔ اس لیے آپ شہر کو ان چیزوں سے پاک رکھیں، دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور اچھے شہری اور مسلمان ہونے کا فرض ادا کریں اور آنے والی نسلوں کو سکھائیں کے "صفائی نصف ایمان ہے” اور مسلمان ہونے کا فرض اس لحاظ سے بھی ادا کریں کہ کسی مستحق کو وہ قربانی والا گوشت دیں اور اللہ کی راہ میں سرخرو ہوجائیں اس سے بڑی نیکی اور ثواب کا موقع شاید ہی کوئی ہو۔ اس سے آپ اللہ کو بھی راضی کریں گے اور اپنی آخرت کو بھی اس نیکی سے روشن کریں گے۔
قربانی کا ہرگز مقصد یہ نہیں کے دوسروں کو کچھ نا دیں اور سارا گوشت خود رکھ لیں اللہ پاک نے ہر مستحق کا حصہ ہماری قربانی میں رکھا ہے اس سے ہمیں اللہ پاک مل کر رہنے کا درس دیتے ہیں۔ قربانی اللہ نے صرف اس پر واجب کی ہے جو اس کے اخراجات برداشت کرسکتا ہے اگر کوئی نہیں کرسکتا قربانی تو اس کو اس کا اجر اللہ دے دے گا کیوں کہ اللہ دلوں کے حال جنتا ہے اور اپنے بندے کی مجبوری سے آگاہ ہے۔ عید قربان پر اللہ نے حکم دیا ہے کہ اپنی کسی قیمتی چیز میری راہ میں قربان کرو اور بندہ بکرے، گائے، بھینس کو قربان کرتا ہے کیوں وہ اس کو اتنی پیار اور لاڈ سے پالتا ہے کیوں وہ جانور اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس اور یہ درس ہمیں اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے واقعہ سے دیا گیا ہے۔ قربانی کریں ضرور کریں ہم پر فرض ہے جو صاحب حیثیت ہیں ان پر لیکن دوسرے لوگوں کا بھی خیال کریں کہ دوسرے کو تکلیف نا ہو اس سے اور جو لوگ پورا سال اس عید پر گوشت کا انتظار کرتے ہیں براہ مہربانی پلیز ان کو مایوس نا کیا کریں ان کو دیا کریں اس سے نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوگا۔
اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہماری قربانی اور نیکی دونوں قبول فرمائے اور انجانے میں کسی کو تکلیف ہوئی ہماری اور سے تو قبول فرمائے آمین۔
میرے نمونے دوست تحریر ماہ رخ اعظم
دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے اور حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں کام آٸے جو آپ کے دکھ و سکھ کا ساتھی ہو آپ پہ کوٸی بھی مصیبت آٸے تو وہ آپ کے ساتھ ہو ۔۔
دنیا میں کہنے کو دوستی فقط ایک انسانی رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دوستی ہی ایسا رشتہ ہے جیسے پتہ چلتا ہے کہ کون آپ کا اپنا ہے
لوگ کہتے دوست انسان کو خراب کردیتے ہیں ہمارے مستبقل کو برباد کرتے ہیں میں کہتی ہوں اگر کوٸی نبھانے والا ہو تو دنیا سلام کرتی ہے
میرے اردگرد بےشمار دوست ہیں جو کہتے میں ان کی دوست ہو مگر وہ صرف کہتے ہیں مگر جو میرے حقیقی دوست ہیں وہ میرا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں ہنستے ہیں مصیبت میں کام آتے ہیں مطلب میرے لیے اپنی جان تک حاضر کردیتے ہیں
میں اپنے تمام دوستوں کو سلام عرض کرتی ہو جو ہر وقت میرا ساتھ دیتے ہیں چاہے وقت اچھا ہو یا برا وہ کبھی یہ نہیں کہتے ہیں یار!! ہمارے پاس وقت نہیں ہے اپنے مساٸل خود حل کرو میرے دوست تو کوہ نور ہیرے جیسے ہیں جب بھی مدد کے لیے بلاٶ فورا حاضر ہوجاتے ہیں ہم دوست ساتھ میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ساتھ ہی میں ایک دوسرے پہ جان وارتے ہیں
آخر میں بس اتنی کہنا چاہو گی اگر آپکی زندگی نمونے دوست ہیں تو انہیں سنبھال کر رکھے کیونکہ ان جیسے لوگ پھر نہیں ملتے ہیں انہیں عزت دیں ، ان کا خیال رکھے کیونکہ یہ نمونے اصل میں زندگی کو رنگوں میں بدل دیتے ہیں
اللہ میرے پیارے نمونے دوستوں کو سلامت رکھے اور مجھے انہیں ستانے کی توفیق عطا فرماٸے آمین!!

اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور
اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.
ارشاد باری تعالیٰ ہے
’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔
اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.
ارشاد ربانی ہے :
لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO
’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘
اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…
غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی
@TaqwaNoorPTI

سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق
جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شئر کر رہے اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے
قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12 حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(سورۃ الانفطار10،11،12)
ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ
وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28
اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )
اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا
وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49ۧ
اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )
ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے اپنی اپنی بات رکھیں اختلاف رائے کریں مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں گالم گلاچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں
ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے ، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا ، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31
اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(سورۃ النساء31)
اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیے ۔آمین یا رب العالمینجدہ – سعودیہ

اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر
قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟
اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے
قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
خواتین کے حقوق کا تحفظ
610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔بحیثیت مسلمان ہمارا فرض
قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
@MAkhter_۔
حسنِ اخلاق اور ہم لوگ تحریر: عامر سہیل
جب ہم یہ لفظ اخلاق سنتے ہیں تو ایک چیز ذہن میں آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اخلاق مطلب ہے میٹھا بولنا مسکرانا۔ حسنِ اخلاق میں محض میٹھا بولنا ہی نہیں حسن اخلاق سچ بولنا بھی ہے۔ اچھا گمان رکھنا بھی حسن اخلاق ہے۔ لیکن ہم لوگ میٹھا بول رہے ہوتے ہیں اور دل میں نقصان پہنچانے کے ارادے کر رہے ہوتے ہیں۔
حسنِ اخلاق کسی کو نفع دینا ہے۔ اخلاق وفادار رہنا ہے جس دوست، ہم منصب کے ساتھ آپ ساتھ چل رہے ہوں آپ کو اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے یہ بھی حسن اخلاق میں ہے۔ اخلاق کردار کے سنوارنے کو کہتے ہیں جب ہمارا کردار پاک ہو ہم کسی کو دھوکا نہ دیں مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہم کسی کو دھوکہ دے کر اچھے اخلاق کے مالک بن سکتے ہیں بلکل بھی نہیں ہمارا دین ہمیں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ کو دھوکہ دے کر تکلیف ہوتی ہے کسی کو آسانی دے کر آپ کو سکون ملتا ہے آپ مطمئن ہوتے ہیں تو آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اس کو اپنے اندر ڈھونڈ کر اپنی زندگی کو آسان بنانے۔
غصے کو دبا لینا اور ضبط کر جانا بھی بہت اعلٰی صفت ہے جو آسانی سے نہیں آتی۔ غصے کے بارے تنبیہ کرنا اس کے فضائل بیان کرنا آسان ہے لیکن اس پر قابو اتنا ہی مشکل ہوتا۔ اگر آپ غصے کے وقت خود پر کنٹرول رکھیں تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے۔
غلط بات کو غلط رویہ کو برداشت کرنا اخلاق ہے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ صحیح بات کو برداشت نہیں قبول کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلام نے اس چیز ہر بہت زور دیا ہے کہ آپس میں حسنِ سلوک رکھو بھلے وہ تم سے کم طاقت میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ امیر کے سامنے تو جھک جاتے ہیں اور غریب کو دباتے ہیں.
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
الحدیث۔
سنن الترمذي:1162 ابواب البر والصلة
ترجمہ:
سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
حسنِ اخلاق کو عملی طور پر نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عمل کر کے دیکھایا ہے۔معاشرے میں اس چیز کی بہت کمی ہے انسان ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے آئی ہے ہماری نجات ہماری ترقی اسی راہ میں ہے جو راہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھایا ہے۔ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں خود احتسابی کریں۔
کیا آپ نے لوگوں کی قدر کی؟
کیا آپ اپنے والدین، اپنی بیوی کے ساتھ خوش اخلاق ہیں۔ کیا وہ آپ کو اپنی زندگی میں پا کر خوش ہیں اگر نہیں خوش تو آپ خود پر توجہ دینی چاہیئے آپ کہاں ہیں۔آپ خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کسی کے سامنے اس چیز کا جوابدہ صرف اللہ کو ہیں
اس دنیا سے ہزاروں لوگ چلے جا چکے ہیں کیا اُن کے جانے سے دنیا کو فرق پڑا؟
بلکل بھی نہیں تو آپ کے جانے سے بھی نہیں فرق نہیں پڑے گا اللہ پاک نے اگر آپ کو موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں توبہ کریں.اور اپنے حقیقی خالق و مالک کو پہچانیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر لوٹ آئیں۔ اور حقیقی مقصد کے لئے کوشش کریں.صنعت کو نظرانداز کرکےگیس کی فراہمی بجلی کے شعبے کی طرف موڑ دی گئی تحریر: سید ماجد حسین شاہ
۔
بیشک پیٹرولیم ڈویژن گھریلو صارفین اور برآمدات ، کھاد اور سیمنٹ کے شعبوں کو بجلی کی فراہمی کے تحفظ کے لئے یہ اقدام اٹھانے کے سوا کسی کے پابند نہیں ہیں۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے عید الاضحٰی سے قبل مختلف اشیا کی پیداوار اور فراہمی کو نظرانداز کرتے ہوے بجلی سپلائی گھروں کو موڑنے کے لئے ہفتہ کی دوپہر سے عام صنعت کو گیس کی فراہمی معطل کر دی ہے۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کو چھٹی پر بھیج کر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو شٹر ڈاؤن پر مجبور کردیا گیا
گیس کو اچانک معطل کرنا وہ بھی زبانی احکامات پر اچانک سپلائی بند کرنا اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بالخصوص صنعت کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے،وہ بھی خاص طور پر وہ لوگ جو کھانے سے متعلق کاروبار میں شامل ہیں
اگر ایس این جی پی ایل نے پہلےسے ہی سب کو بتایا ہوتا تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور ہر کوئی اپنا بندوبست کر لیتا لیکن انہوں نے جس طرح سے یہ کیا اس نے واقعی اس کاروبار میں شامل لوگوں کو پریشان کردیا کیونکہ تعطیلات کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے کے لئے تیل میسر نہیں ہوتا شاید صنعتیں پیر (عید سے قبل آخری کاروباری دن) کے انتظامات کرنے سے بھی قاصر ہوں گی۔ چونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی فرنس آئل کی قلت ہے،لہذا دودھ کی پروسیسنگ میں مصروف کمپنیوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔اس کے علاوہ،شیشے کی دو سب سے بڑی صنعتیں بجلی کے بغیر کام نہیں کرسکتیں
اس لئے فائننگ انڈسٹری میں گیس کو فوری بحال کیا جانا چاہیے
گیس کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے صنعت بہت بڑی پریشانی کے باوجود تھوڑا بہت چل رہی ہیے کچھ دن پہلے بھی تقریبا ایک ہفتہ کے لئے گیس کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے صنعتیں مشکل حالات سے دوچار رہیں،
ایک اور مسئلہ لیسکو کے ذریعہ جبری بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ یہ بات بھی قابل رحم ہے۔
بہر حال دوسری طرف پیٹرولیم ڈویژن کے پاس بھی عیدالاضحیٰ کے موقع پر گھریلو صارفین کی ضرورت کوپورا کرنے کے لئے اس کی فراہمی کو موڑنے کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
بجلی کی پیداوار سے متعلق کچھ مسائل ہیں جن کی وجہ سے پیداواری صلاحیت کم ہو رہی ہے۔ جبکہ گرم موسم کی وجہ سے طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے گیس سے چلنے والے پلانٹوں کو گیس کی سپلائی 650 ملی میٹر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 800 ملی میٹر فی گھنٹہ کردی گئی ہے۔ امید ہےصورتحال جلد ہی بہتر ہوجائے گی۔
بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹوں میں شٹ ڈاؤن کی وجہ سے شارٹ فال میں اضافہ ہوا ہے اور جب یہ یونٹ جنریشن ٹریک پر واپس آجائیں گے تو صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
تحریر@SHAHKK14

مشرقی لڑکی اور ہمارا معاشرہ تحریر: از عمرہ خان
آج کل دیکھا جائے تو عورتیں ہر محاذ پر مردوں کے زمانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو ایک عورت جتنی ترقی کرلے وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گی کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔۔ بے شک ایک عورت پائلٹ ضرور بن سکتی ہے مگر 40 اور پچاس کلو وزن اٹھانا؟؟؟ یہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تو خود ایک آبگینہ کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اور آبگینہ کیا ہوتا ہے؟ نازک آبگینہ یعنی کانچ کا ٹکڑا جو ذرا سی کھرونچ سے اپنی خوبصورت کھو دیتا ہے ۔۔۔۔گر جائے یا ٹکرا جائے تو پاش پاش ہوجاتاہے ۔۔۔۔ عورت تو وہ نازک آبگینہ ہے ۔۔۔۔۔
اونٹ اپنی رفتار سے چلائے جارہے ہیں کہ اونٹ بان کو حکم ہوتا ہے
رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
(بخاری:6211)
"انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
یہ آبگینے کون تھے ؟؟ یہ وہ عورتیں تھیں جو ان اونٹوں پر سوار تھیں۔ اور یہ کہنے والی ہستی ؟؟ یہ وہ ہستی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھی کے جسکے لئے کائنات کو وجود بخشا گیا ۔۔۔۔۔
آج جب ایک عورت آزادی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے خلاف خلاف آواز اٹھاتی ہے
اور صرف یہی نہیں پھر مردوں کے بیچ وہ رہتی ہے۔ہر قسم کی باتیں اس ماحول میں کرتی ہے تو بھی وہ اپنی نسوانیت کھو رہی ہوتی ہے
پھر وہ لڑکی ان مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے ہنسی مذاق اور بات چیت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے پاس تربیت کے علاؤہ کوئی مانع نہیں ہوتا کہ وہ یہ ہنسی مذاقفضول گوئی نہ کرے ۔۔۔۔ اب ان باتوں پر بہت سے لوگ آئینگے کہ جنھیں یہ باتیں کنجسٹڈ سوچ اور دقیانوسیت لگے گی ۔۔۔۔۔مگر ہم چودہ صدی پیچھے جائیں تو دیکھتے ہیں امت مسلمہ کی رول ماڈلز کو حکم ہوا ہے کہ
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال وابستہ کر لے اور قاعدہ کے مطابق گفتگو کرو۔‘‘
پھر وہ تو پاکیزہ لوگوں کا دور تھا آج جہاں فتنہ و فساد برپا ہے جہاں 2 اور تین سالہ بچی نہیں بخشی جاتی وہاں ایک لڑکی مردوں سے بے تکلف ہوتی ہے ہنسی مذاق اور فضول گوئی کرتی ہے اور آج تو دل کے روگ کا اور بھی شبہ ہے ۔۔۔۔۔ کیا اچھا نہ ہو کہ عورت اپنی حدود میں رہ کر معرکہ سر کرے ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت عورتیں باہر نہیں نکلتی تھیں ؟ کیا اس دور میں عورت گھر کی قیدی تھی؟؟۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ عنھما وہ مدینے کے اطراف میں کھجور کی گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔حضرت خولہ بنت ازور اس وقت اسلامی لشکر میں آگے آگے تھیں جب وہ لشکر انکے بھائی کو کفار سے چھڑانے کفار کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ امت ماں ۔۔۔ رضی اللّٰہ عنھا انسے بے شمار صحابہ نے بے شمار احادیث نقل فرمائیں۔ مگر ان سب عظیم عورتوں نے یہ سب اللّٰہ کی قائم کردہ حدودوں میں رہ کر کیا ۔۔۔۔۔۔
صرف یہی نہیں دین اسلام کی پہلی شہید بھی ایک عورت تھیں حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنھا
دین کی نشرو اشاعت سے لیکر روز مرہ کے کام کاج تک سبھی تو کرتی تھیں عورتیں چودہ سال پہلے بھی ۔۔۔۔۔اور پھر آزادی ؟؟؟ کیا ہمیں آزادی 1400 سال پہلے نہیں مل گئی؟؟ جب بچیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔۔۔جب عورت دنیا کی حقیر ترین شئے تھی !!! اسلام آیا اور وہی عورت عظیم ترین ہوگئی ماں ہے تو قدموں تلے جنت بیٹی ہے تو رحمت ۔۔۔۔کیا یہ آزادی ملنا نہیں تھا؟ پھر یہ آزادی جو آج عورت چاہتی ہے کیا ہے؟ اب جو رہا ہے وہ مردوں کے برابر آ کھڑا ہونا ہے اور یہ تو قدرت ہی کہ قانون کے خلاف ہوجائے ۔۔۔۔ کیونکہ عورت تو اللّٰہ تعالٰی کی بڑی نفاست اور لچک سے بنی مخلوق پھر وہ کیسے ایک مرد کے برابر ہوسکتی ہے۔۔
پھر دنیاوی کام کاج وہ تو آج سے چودہ سال پہلے بھی عورتوں نے نہیں چھوڑے تھے دین کے نام پر ۔۔۔۔۔بس آپ ایک بہن ایک بیٹی ایک ماں بن کر اللّٰہ کے حدود کی پاسداری کریںتو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔ ترقی آج بھی عورت کر رہی ہے مگر یہ سوچ کہ ترقی کیلئے چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ ضروری ہے تو یہ سوچ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس سوچ کو آج کل بڑی سوچ کہا جارہا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ذہن کا فتور ہے عورت پردے میں رہ کر بھی وہ سب کرسکتی ہے جو کچھ آ ج چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ کے نام پر گھٹیا سوچ بناکر کر رہی ہے۔۔۔۔کسی کو یہ باتیں چھوٹی سوچ کی عکاسی لگتی ہیں تو لگیں ۔۔۔عورت ایک آبگینہ ہے جو جتنا زیادہ چھپا کر اور حفاظت سے رکھا جائے اتنا ہی اپنی خوبصورتی برقرار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے معاشرے اور دین اسلام کی ان حدود سے کسی عورت کو شکایت ہے تو وہ مغربی ممالک کی عورت کو دیکھے امید ہے کہ شکایت میں کمی واقع ہوگی یوں بھی نسل عورت سے بنتی ہے آج کل جب سب کچھ الٹ چل رہا نسل نو پستی کا شکار ہے تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں عورت کا ہاتھ ہے کیونکہ اس نسل کو اپنی پہلی درس گاہ سے ہی اچھا سبق نہ مل سکا تو دنیا میں فتوحات کیسے ہوں
مشہور سپہ سالار نیپولین بوناپارٹ کا ایک قول ہے کہ
” مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا ”
اس بات کو تو مغرب بھی تسلیم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو بری طرح مسخ کرنے کے درپے ہے تو آج تو عورت کو اور زیادہ دامن بچا بچا کر اور ثابت قدمی سے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔
Twitter handle: @Amk_20k







