Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تحریر : شفقت سجاد دشتی

    وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تھی، میں فیس بک کی تانکا جھانکی میں لگا ہوا تھا کہ میری نظر سے کسی خاتون کی ایک تحریر گزری، میں شاید سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا، لیکن تحریر کے عنوان نے میرے قدم باندھ دیے، ”وہ کون تھا“ ان کی شاید وہ پہلی نثری تحریر تھی جس کے بیانیے نے مجھے متاثر کیا، نجانے مجھے کیوں اس تحریر میں صاحبہِ تحریر کا عکس نظر آیا کہ جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی گوشہ حوالہ قرطاس کیا ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تحریریں پڑھنا شروع کر دیں، ہر تحریر مجھے خونِ دل سے سینچی ہوئی لگی، میرا بہت دل چاہا کہ میں ان تحاریر کی خالق سے بات کروں لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی، ان کی تحریروں اور تصویروں نے ان کی شخصیت کا ایسا رعب جما تھا کہ میں کئی دن تک بس ان کی تصویر دیکھ کر اور تحریر پڑھ کر خوش ہو لیتا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے ان سے بات کر لی، انہوں نے خوش دِلی سے میری اس جسارت کو قبول کر لیا۔۔۔۔ ان کی کہانیوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ کچھ عرصے بات بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ جس دن میری ان سے بات نہ ہو میرا وقت بے چینی میں گزرتا ہے، میں اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ عمروں کی تفاوت کے باوجود وہ مجھے اچھی لگتی تھیں۔
    کسی وجہ سے چند دن میری ان سے بات نہیں ہو سکی۔ میں اکثر سوچتا تھا ان کے بارے میں کہ حال میں وہ اتنی من موہنی اور باوقار ہیں تو عین عالم شباب میں کیسی ہوں گی۔؟
    اس کا جواب مجھے ایک رات خواب کی صورت میں ملا
    میں نے خواب میں انہیں دیکھا کہ میں خوابگاہ کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں، کھلی چاندنی میں ایک لڑکی وہاں کھڑی ہے۔ میں خوابگاہ سے باہر نکل گیا۔ مجھے دیکھ کر میں نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا وہ دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے کسی ملکہ کی طرح تمکنت کے ساتھ خاموش کھڑی ہے۔ وہ مجھے دیکھی دیکھی سی لگی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے؟ میں نے پھر بھی اس سے پوچھ لیا ’’کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتھیلی کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ میں نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ میں مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا میں نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ میں نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے، کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘۔؟ اس نے تحیر سے بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ میں سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمبیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ میں واپس خوابگاہ میں آ کر مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ میں برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ میں پھر اٹھا اور اس جگہ پہنچ گیا، جہاں رات وہ کھڑی تھی۔ میں نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ ہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    رات کا خواب فلم کی طرح پردہ بصارت پر اتر آیا۔ اچانک روشنی کا جھماکا سا ہوا، اوہ یہ تو وہی افسانہ نگارخاتون ہیں جنہیں میں ملکہ کہتا ہوں جو دوشیزہ بن کر میرے خواب میں آئی تھیں۔
    میری کفیات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہیں اس سے قطع نظر بطور افسانہ نگار میں ان کے حوالے سے بس اتنا کہوں گا کہ ملکہ۔۔۔۔۔۔۔! بہت عمدہ لکھتی ہیں، واقعی ان کے ہاتھ میں قلم روشنی بن جاتا ہے، کہیں طلسم تو کہیں خوشبو بن جاتا ہے ، کہیں فراق تو کہیں نغمہ، کہیں راگ تو کہیں تصویر بن جاتا ہے ، کہیں پربت تو کہیں جھرنا، کہیں شیشے کا خواب نگر بن جاتا ہے، ان کے لفظ ایسے ایسے منظر تراشتے ہیں کہ ، بصارت و بصیرت، شمس و قمر کے مقابل آ جاتے ہیں، ایک با وقار ہستی کی با وقار سی تحریریں جگنو بن کر میرے دل میں روشنی کرتی ہیں
    جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوئے اور ان کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔

    @balouch_shafqat

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI

  • افغانستان کیا ہونے جا رہا ہے تحریر:  انعم شیخ

    افغانستان کیا ہونے جا رہا ہے تحریر: انعم شیخ

    افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، زمینی حقائق دیکھیں تو طالبان نے ایک بڑے علاقے پر اپنا قبضہ جما لیا ہے جن میں کچھ ممالک کے ساتھ افغانستان کے سرحدی علاقے بھی شامل ہیں، طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے زیر انتظام علاقہ کا اتنی تیزی سے پھیلاؤ جہاں پوری دنیا کو محو حیرت میں ڈالے ہوئے ہے اور لوگ امریکی و اتحادی افواج کی بیس سال افغانستان میں موجودگی پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں افغانستان میں موجود کٹھ پتلی حکومت اور اسکے حواری شدید اضطراب کا شکار ہیں ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت پوری دنیاکی نظریں افغانستان پر جمی ہوئی ہیں اور اس خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اس خطے کے دیگر ممالک روس، چین، پاکستان، ایران ، بھارت وغیرہ کے لیئے بھی بہت اہم ہیں ۔
    سب سے پہلے اگر افغانستان کی حالیہ حکومت کی بات کی جائے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ افغانستان میں موجود حالیہ حکومت جس میں اشرف غنی اور ان کی ٹیم شامل ہے کو افغانستان کے لوگوں کی بجائے امریکہ و بھارت کی سپورٹ حاصل رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے اپنے اقتدار کے دوران افغانستان کے اندرونی مسائل اور لوگوں کی فلاح کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دینے اور امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کو افغانستان کی سرزمین سےہر طرح کے وسائل نکالنے میں ہر ممکن مدد کی جس کی وجہ سے افغانستان میں اس حکومت کی مقبولیت بہت کم ہے۔ اس حکومت نے افغان طالبان کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے ان کو افغانستان کے کسی بھی مسئلہ میں سٹیک ہولڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی نفی کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اب طالبان کی جانب سے ابھر کر طاقتور طریقہ سے سامنے آنے پر افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ، پہلے یہ لوگ اتحادی افواج کے انخلاء کے خلاف تھے اور اپنے ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئےاشرف غنی اور انکی ٹیم نے امریکی دربار پر حاضری بھی دی تھی جو بے سود رہی اور حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ انکل ٹام نے بھی ہاتھ اُٹھا لیئے ہیں۔
    افغانستان میں حالیہ واقعات کے بعد بھارت اس وقت سب سے ذیادہ پریشان ہے کیونکہ بھارت کی اربو ں ڈالر کی انویسٹمنٹ جو اس نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے کے لیئے کی، وہ داؤ پر لگی ہوئی ہے، بھارت کو طالبان کی پیش قدمی کے ساتھ مختلف شہروں اور علاقوں سے اپنے قونصل خانے بھی اٹھانے پڑ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بھارتی "اثاثے” جوافغانستان میں موجود تھے ان کو بھی ساتھ ساتھ باہر نکالنا پڑ رہا ہے، یاد رہے کہ بھارت نے افغانستان میں ترقی کے منصوبوں کی آڑ میں ایسے منصوبے شروع کر رکھے تھے جن کی وجہ سے بھارت بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان میں بد امنی پھیلا رہا تھا۔
    اب اگر تھوڑا سا زوم آؤٹ کر کے دیکھا جائے تو اس وقت طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن کے خواہشمند ممالک میں چین، روس، پاکستان، ترکی اور ایران وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری جانب افغان کٹھ پتلی حکومت اور بھارت اس وقت ایک صفحہ پہ موجود ہیں اور امریکہ اور اتحادی افواج کوبھارت اور افغانستان قائل کرنے کی کوششیں ضرورکررہے ہیں کہ افغانستان میں کسی نہ کسی طریقے سے اپنی موجودگی رکھیں لیکن پچھلے بیس سال وہ ممالک اپنے اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونکنے کے بعد فی الحال بالکل بھی اس موڈ میں نظر نہیں آ رہے کہ افغانستان میں مزید ”انویسٹمنٹ” کریں۔
    اب اگر مختصرا افغانستان کے مستقبل کی بات کی جائے تو ایسا نظر آ رہا ہے کہ طالبان کو کسی بھی قسم کی ذیادہ مشکلات کے بغیر پورے افغانستان کا کنٹرول مل جائے گا لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے حالیہ انٹرویو دیکھیں جس میں وہ بارہا اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ طالبان افغانستان میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کام کے لیئے انہوں نے واحدشرط رکھی ہے کہ اشرٖ ف غنی مستعفی ہو اور اس کے بعد طالبان اورافغانستان کی سیاسی جماعتیں بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے، یاد رہے کہ اشرف غنی کے استعفیٰ کا مطلب بھارت کے آخری مہروں میں سے ایک اور کی چھٹی ہے اور اشرف غنی کی کابینہ میں اس وقت بہت سے لوگ موجود ہیں جو بھارت سے ذیادہ بھارت کی زبان بو ل رہے ہے۔
    اگر بات کی جائے افغانستان حکومت اور بھارت کی تو وہ اس وقت پاکستان میں بد امنی کی سازشوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طاقتوں سے رابطے کر کے اس بات کی یقین دہانی کروانا چاہ رہے ہیں کہ اشرف غنی اوراس کی کابینہ افغانستان کےپر امن مستقبل کا واحد حل ہے جو کہ بالکل غلط اور من گھڑی کہانی ہے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ ضرور بنتا ہے کہ افغاستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نےلندن میں ایک ملاقات کی ہے، اس افغان عہدیدار کے بارے میں بتاتے چلیں کہ اس سے پاکستان اپنے سفاررتی تعلقات منقطع کر چکا ہے کیونکہ اس نے چند ماہ پہلے پاکستان کے بارے میں ایک غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی جگہ سے تشبیہ دی تھی جہاں سے عموما شریف لوگوں کا گزر نہیں ہوتا۔ اس رویہ کے بعد پاکستان اس افغان عہدیدار سے سفارتی مراسم ختم کر چکا ہے۔ حمد اللہ محب نے پاکستان کے سزایافتہ وزیر اعظم جس کو اب عدلیہ اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے سے لندن میں ملاقات کی ہے،اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ہو گی؟ بھارتی ”اثاثے” مل بیٹھ کر کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ عمران خان کی قیادت اور پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کے مستقبل کے فیصلوں سے ملک دشمن عناصر کو کیا کیا تکالیف ہیں اور مستقبل قریب میں پاکستان کے خلاف کون کونسے نئے محاذ کھلنے والے ہیں ۔ ان تمام باتوں کا ذکر ابھی قبل از وقت سہی لیکن ایسا نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش بنی جا رہی ہے اور حالیہ ملاقاتیں اور بیانات بشمول افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں۔

  • انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    ایک ایسی دنیا سماعت و بصارت کے روبرو ہے جہاں نت نئے انداز سے ایک ہی کام دہرایا جاتا ہے اور ایک ہی بات کی پریکٹس کی جاتی ہے، وہ ہے دھوکہ.
    (میں اپنے قارئین پر ایک بات واضح کرتا جاؤں کہ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل و برائیوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٪100 لوگ ان برائیوں میں ملوث ہیں. بہت سے اللّٰہ کے نیک بندے خوف خدا اور انسانیت کے جذبے سے سرشار، اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں.)
    اکثر اوقات کچھ سوانح نظر سے گزرتے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. اور جن کی بنیاد پر انسان کا نکتہ نظر تبدیل ہو کہ رہ جاتا ہے. کچھ ایسی باتیں انسان کے ذہن میں نقش ہو کر رہ جاتی ہیں جو تا حیات انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر اثرانداز رہتی ہیں.
    کاروبار یا ملازمت دو طریقہ ہائے زندگی ہیں جو انسان اپنی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے اپناتا ہے. ملازمت پر کسی دوسرے کالم میں لکھوں گا.
    کاروبار سے منسلک چند احباب نے شاید سمجھ ہی یہی لیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے ہی اچھی آمدن اکھٹی کی جا سکتی ہے. کچھ آپ بیتیاں پیشِ خدمت ہیں.
    ایک گارمنٹس شاپ پر جانا ہوا. اور دکان پر کھڑے سیلز مین کی ہوشیاری پر بعد میں دل ہی دل داد دیتا رہا. اور افسوس بھی ہوتا رہا. چہ جائے کہ یہ اسکے ہاتھ کی صفائی تھی مگر انفرادیت کی غلط سوچ اجتماعیت کے مکمل نقصان کی ضامن تھی.
    ایک جیکٹ پسند آنے کہ چکروں میں تھی. تو سیلز مین نظروں میں ہی بھانپ گیا. اور لپک کر آیا اور کہا سر یہ تو ڈپلیکیٹ جیکٹ پڑی ہے جو آپکے "شایانِ شان” نہیں. اسی میں اوریجنل جیکٹ پڑی ہے وہ اصلی ہے. میں آپکا خیرخواہ ہوں اس لیے بتا رہا ہوں، مالک کو نا بتائیے گا.
    اس ساری گیم کا تب جا کر اندازہ ہوا جب گھر جا کر مکمل تسلی سے چیک کی. تب پتہ چلا کہ "اصلی” کے چکروں میں وہی پہلے والی چند ہزار مہنگی مجھے چپکا دی گئی ہے.
    ایک پھلوں والے بازار میں جانا ہوا. انواع و اقسام کے پھل سجا کر رکھے ہوئے تھے. ان دنوں آم کا سیزن چل رہا ہے. ایک طرف سے آواز کانوں میں پڑی جو انسانی فطرت کے عین مطابق گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی. ایک صاحب فرما رہے تھے کھٹے ہوں تو دوگنا پیسے واپس. میں اس دوکان پر پہنچا تو اتفاقاً آذان بھی شروع ہو گئی.
    میں اکثر یہ واقعہ سوچنے یا بیان کرنے سے ڈرتا ہوں کہ اس وجہ سے ملتِ اسلامیہ اور امتِ محمدیہ کا دوسرے لوگوں پر کیا تاثر جائے گا.
    خیر دکان دار کے کلمہ پڑھ کر آذان کی طرف متوجہ کر کے تسلی نے مجھے وہاں سے خریدنے پر مجبور کیا. خراماں خراماں رہائش پر پہنچا. مبالغہ آرائی سے خدا بچائے، مگر ان کلو دو کلو میں سے ایک بھی کھانے قابل آم برامد نہ ہو سکا.
    مزید سنیے، کپڑوں کی دکان پر ایک اچھی کوالٹی کا سوٹ خریدنے پر بھی اسی طرح کی چرب زبانی اور ملے جلے قسموں وعدوں کے عوض چند ہزار کا چونا لگوانے کے بعد جب پہلی بار کپڑے دُھل کر سامنے آئے تو کپڑوں اور میرا دونوں کا رنگ اُڑ چکا تھا.
    اور سنیں، موٹر-سائیکل مکینک پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنا موٹر-سائیکل مرمت کے لیے چھوڑ کر اپنے کسی اور کام کو مکمل کرنے کے لیے دوسری مارکیٹ چلا گیا. ارادہ تھا کہ واپسی تک موٹر-سائیکل مرمت ہو چکا ہو گا. اس بات کا اندازہ چند دن بعد ہوا جب کہیں جاتے ہوئے موٹر-سائیکل پنکچر ہوا اور پنکچر والے نے میرے سامنے ٹائر کھول کر نسبتاً طنزیہ انداز میں کہا "بادشاہو، اور کتنا ظلم کرنا ہے اس پر، اب نئے ٹیوب ڈلوا لیں”. جبکہ ابھی چند دن پہلے ٹائر اور ٹیوب نیا ڈلوایا جا چکا تھا.
    مجھے یہ سمجھنے میں ذرا سی ہی دیر لگی چند دن پہلے مرمت کے دوران سامان نکالا جا چکا ہے.
    ایسے کئی اور مواقع انسان کی زندگی میں آتے ہیں جن سے گزرنے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ شاید ہم کرونا سے بھی کسی بڑی وبا کے انتظار میں ہیں. اور اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا چند ایک ایماندار لوگوں کی وجہ سے قائم ہے. ورنہ ہم نے کوئی کثر نہیں چھوڑی.
    ضرورت اس امر کی کے انفرادی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی طور پر سوچا جائے. ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے. اور اپنے امیج سے زیادہ اس بات کو سوچا جائے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارا دین و مذہب بشمول ملک و قوم بدنام نہ ہو.
    اللّٰہ ہمارا حامی و ناصر ہو.

    Twitter : @Q_Asi07

    qaisarabbas00@gmail.com

  • عید اور ہماری قربانی  تحریر: حسیب احمد

    عید اور ہماری قربانی تحریر: حسیب احمد

    عید قربان ابھی چند روز پہلے ہی گزری اس سے پہلے شہر میں اتنا رش۔ عید کے پہلے دن عمومی طور پر سب قربانی کرلیتے ہیں اور قربانی کے جانوروں کی غیر ضروری چیزیں باہر کچرے میں یا سڑکوں پر پھینک دیا کرتے ہیں اور پھر اس عمل کے سبب مختلف بیماریاں اور بدبو جنم لیتی ہیں۔ اور پھر آپ کا شہر کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے اور پھر عوام اپنا غصہ سیاستدانوں یا حکمرانوں پر نکلتی ہے۔ لیکن کبھی سوچا ہے اس کے ذمہ دار زیادہ تر ہم لوگ ہی ہیں نا ہم پھینکتے نا یہ ہوتا نا ہم بیمار ہوتے۔ اور ان سارے عمل سے دنیا میں پاکستان کا منفی اثر جاتا اور دنیا پھر پاکستان کو علمی گندگی والے شہروں میں ڈال دیتی ہے کسی ایک انسان کی غلطی پاکستان کو دنیا بھر میں شرمندہ کراسکتی ہے۔ اس لیے آپ شہر کو ان چیزوں سے پاک رکھیں، دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور اچھے شہری اور مسلمان ہونے کا فرض ادا کریں اور آنے والی نسلوں کو سکھائیں کے "صفائی نصف ایمان ہے” اور مسلمان ہونے کا فرض اس لحاظ سے بھی ادا کریں کہ کسی مستحق کو وہ قربانی والا گوشت دیں اور اللہ کی راہ میں سرخرو ہوجائیں اس سے بڑی نیکی اور ثواب کا موقع شاید ہی کوئی ہو۔ اس سے آپ اللہ کو بھی راضی کریں گے اور اپنی آخرت کو بھی اس نیکی سے روشن کریں گے۔
    قربانی کا ہرگز مقصد یہ نہیں کے دوسروں کو کچھ نا دیں اور سارا گوشت خود رکھ لیں اللہ پاک نے ہر مستحق کا حصہ ہماری قربانی میں رکھا ہے اس سے ہمیں اللہ پاک مل کر رہنے کا درس دیتے ہیں۔ قربانی اللہ نے صرف اس پر واجب کی ہے جو اس کے اخراجات برداشت کرسکتا ہے اگر کوئی نہیں کرسکتا قربانی تو اس کو اس کا اجر اللہ دے دے گا کیوں کہ اللہ دلوں کے حال جنتا ہے اور اپنے بندے کی مجبوری سے آگاہ ہے۔ عید قربان پر اللہ نے حکم دیا ہے کہ اپنی کسی قیمتی چیز میری راہ میں قربان کرو اور بندہ بکرے، گائے، بھینس کو قربان کرتا ہے کیوں وہ اس کو اتنی پیار اور لاڈ سے پالتا ہے کیوں وہ جانور اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس اور یہ درس ہمیں اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے واقعہ سے دیا گیا ہے۔ قربانی کریں ضرور کریں ہم پر فرض ہے جو صاحب حیثیت ہیں ان پر لیکن دوسرے لوگوں کا بھی خیال کریں کہ دوسرے کو تکلیف نا ہو اس سے اور جو لوگ پورا سال اس عید پر گوشت کا انتظار کرتے ہیں براہ مہربانی پلیز ان کو مایوس نا کیا کریں ان کو دیا کریں اس سے نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوگا۔
    اللہ پاک اپنی بارگاہ میں ہماری قربانی اور نیکی دونوں قبول فرمائے اور انجانے میں کسی کو تکلیف ہوئی ہماری اور سے تو قبول فرمائے آمین۔

  • ‏میرے نمونے دوست    تحریر ماہ رخ اعظم

    ‏میرے نمونے دوست تحریر ماہ رخ اعظم

    دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے اور حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں کام آٸے جو آپ کے دکھ و سکھ کا ساتھی ہو آپ پہ کوٸی بھی مصیبت آٸے تو وہ آپ کے ساتھ ہو ۔۔

    دنیا میں کہنے کو دوستی فقط ایک انسانی رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دوستی ہی ایسا رشتہ ہے جیسے پتہ چلتا ہے کہ کون آپ کا اپنا ہے

    لوگ کہتے دوست انسان کو خراب کردیتے ہیں ہمارے مستبقل کو برباد کرتے ہیں میں کہتی ہوں اگر کوٸی نبھانے والا ہو تو دنیا سلام کرتی ہے

    میرے اردگرد بےشمار دوست ہیں جو کہتے میں ان کی دوست ہو مگر وہ صرف کہتے ہیں مگر جو میرے حقیقی دوست ہیں وہ میرا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں ہنستے ہیں مصیبت میں کام آتے ہیں مطلب میرے لیے اپنی جان تک حاضر کردیتے ہیں

    میں اپنے تمام دوستوں کو سلام عرض کرتی ہو جو ہر وقت میرا ساتھ دیتے ہیں چاہے وقت اچھا ہو یا برا وہ کبھی یہ نہیں کہتے ہیں یار!! ہمارے پاس وقت نہیں ہے اپنے مساٸل خود حل کرو میرے دوست تو کوہ نور ہیرے جیسے ہیں جب بھی مدد کے لیے بلاٶ فورا حاضر ہوجاتے ہیں ہم دوست ساتھ میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ساتھ ہی میں ایک دوسرے پہ جان وارتے ہیں

    آخر میں بس اتنی کہنا چاہو گی اگر آپکی زندگی نمونے دوست ہیں تو انہیں سنبھال کر رکھے کیونکہ ان جیسے لوگ پھر نہیں ملتے ہیں انہیں عزت دیں ، ان کا خیال رکھے کیونکہ یہ نمونے اصل میں زندگی کو رنگوں میں بدل دیتے ہیں

    اللہ میرے پیارے نمونے دوستوں کو سلامت رکھے اور مجھے انہیں ستانے کی توفیق عطا فرماٸے آمین!!

     

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شئر کر رہے اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے
    قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10۝ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11۝ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12؀ حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(سورۃ الانفطار10،11،12)
    ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ
    وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀
    اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )
    اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا
    وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49؀ۧ
    اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )
    ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے اپنی اپنی بات رکھیں اختلاف رائے کریں مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں گالم گلاچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں
    ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے ، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا ، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ
    اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
    اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(سورۃ النساء31)
    اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیے ۔آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ

  • اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض  تحریر: محمد اختر

    اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟

    اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے

    قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
    خواتین کے حقوق کا تحفظ
    610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔

    بحیثیت مسلمان ہمارا فرض

    قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
    @MAkhter_۔