Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمت مرداں مدد خدا  تحریر : طاہر ظہور غوری

    ہمت مرداں مدد خدا تحریر : طاہر ظہور غوری

    آج کی نوجوان نسل اپنے لئے اچھی نوکری تلاش کرتی نظر آتی ہے جو اچھی تعلیم حاصل کر گیا وہ بھی اور جو رہ گیا وہ بھی اسکو یاں سرکاری نوکری چاہئے یاں ایسی نوکری جس میں اس کو کوئی سخت کام نا کرنا پڑے-
    اور اگر کوئی ہمت کر کے کوئی کاروبار شروع کر بھی لیتا ہے تو پہلے ہی جھٹکے میں تھک کر بیٹھ جاتا ہے کہ شاہد یہ کام اس کیلئے ناممکن ہے کیا
    اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کامیاب انسان نے بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھا ہوتا ہے
    ناکامی دراصل کامیابی کی سیڑی ہے جو یہ سمجھ گیا اور لگن سے کوشش کرتا رہے وہی کامیاب ہوتا ہے
    چلو کچھ مثالیں دے دیتے ہیں “ہرلینڈ ڈیوڈ سیڈنر” جو کہ کے ایف سی کا مالک تھا اس کی پینسٹھ سالہ زندگی ناکامیوں سے بھری پڑی تھی اس نے ریٹائرمنٹ کہ بعد کے ایف سی شروع کیا اور آج ہم لوگ اسکو کھانا سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں جب اس شخص نے اس عمر میں بھی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود ہار نہیں مانی اور آخر کار کامیاب ہوا
    “عمران خان” پہلے ہی ٹیسٹ میچ کے بعد بری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے نکال دیا گیا پر ہمت نا ہاری اور اک دن پاکستان کی کریکٹ ٹیم کا کپتان بنا اور آج تک اس کا شمار دنیا کریکٹ کے بہترین کھلاڑی اور کپتان کے طور پر ہوتا ہے
    اب کچھ پڑھنے والے یہ کہیں گے کہ یہ تو ان لوگوں کی کہانی ہے جو زندگی میں کامیاب ہوئے تو یہاں یہی بتانا مقصد ہے کہ انلوگوں نے بھی شروع کے دنوں میں ناکامیوں کا منہ دیکھا پر اپنی لگن اور ہمت سے کامیابی حاصل کی
    مضمون کا حاصل یہی ہے کہ نوجوانوں اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جان لو ناکامیاں اور کامیابیاں زندگی کا حصہ ہیں
    کبھی کسی ناکامی یاں کامیابی کو آخری نا سمجھو اپنے حوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دو اک سنہرا کا تمہارا منتظر ہے

    @tz_ghauri

  • خواجہ سراؤں کے ساتھ ہمارے معاشرے کا رویہ   تحریر: محمد وسیم

    خواجہ سراؤں کے ساتھ ہمارے معاشرے کا رویہ تحریر: محمد وسیم

    اللہ نے انسان کے تین جنس پیدا کیا ہے جس میں ایک مرد، دوسرا عورت اور تیسرا جنس جو پیدا کیا اسے ہم خواجہ سرا کہتے ہے جنہیں مرد اور عورت دونوں جنسوں کو ملا کر پیدا کیا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جن دو جنسوں کو زیادہ تکلیف کا سامنا پڑہ رہا ہے اس میں ایک عورت ہے جب کہ دوسرا خواجہ سراہ۔
    یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو زندگی میں کئ دفعہ بے بسی کا سامنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی خواجہ سراہ جیسے بے بس انسان کوزندگی گزارنے میں اچھا محسوس نہیں ہورہا اور وہ اب یہہ تنگ آچکے ہے ایسے درندوں سے جو انہیں بندوق کی زور پہ زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں قتل کردیتے ہے۔
    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہے جہاں خواجہ سرا کے پیدا ہونے پر لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہے اور خوشی کے بجاۓ رو رو کر ماتم شروع کرتے ہے کہ اللہ نے ہمیں بیٹا، بیٹی کے بجاۓ ایک خواجہ سرا دیا ہے اور جب اس خواجہ سرا بچے کو تھوڑی سی سمجھ آجاتی ہے تو غیرت کے نام پر انہیں گھر سے نکال دیتے ہے .
    جب ایک خواجہ سرا کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو ان کی زندگی اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے ۔ ان کو ہر وقت ہر جگہ پر لوگ زیادتی کا نشانہ بناتے ہے ۔ وہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہے ۔ وہ دینی تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم ہوجاتے ہے ۔ ان کے اس طرح باہر جانے سے معاشرے میں زنا بڑھ جاتا ہے
    انہی خواجہ سراؤں کو کچھ درندے پکڑ کر انہی سے ڈانس کروا کے پیسے کماتے ہے ۔ کچھ لوگ ڈانس کے بہانے لے جا کے ادھر ان سے جسم مانگنے کی ڈیمانڈ کرتے ہے اور جب وہ انکار کرتے ہے تو انہیں وہی پر مار دیا جاتا ہے۔
    خیبر پختونخوا جہاں سب سے زیادہ پٹھان رہتے ہے جو کہ غیرت کے نام پر بہت مشہور ہے وہاں سب سے زیادہ واقعات خواجہ سراؤں کے ساتھ پیش آتے ہے ۔ جہاں بہت ہی کم عرصہ میں بہت سے بےگناہ خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔

    ہمارے معاشرے میں ایک خواجہ سراہ کو جتنی تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی اتنا اور کسی کو نہیں برداشت کرنی پڑتی۔ ہمارے حکومت نے ابھی تک ایسا کوئ بھی قانون نہیں بنایا جس سے خواجہ سراہ کو یہ حوصلہ ملا ہو کہ ہاں اب ریاست ہماری تحفظ کریگی۔ خواجہ سراؤ کے مسلؤں کی اگر بات کی جاۓ تو ان کی پوری زندگی ہی مسلۓ ہی مسلۓ ہیں لیکن چند مسلۓ جن کا میں ذکر کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔ جو مسلۓ خواجہ سراؤ کو درپیش ہے اس میی سب سے پہلے مسلۂ ہمارے معاشرے کے درندے لوگوں کے ہاتھوں ان کا ریپ ہے جو کہ بہت عام ہوچکا ہے ۔ دوسرا بڑا مسلۂ ہمارا معاشرہ خواجہ سراؤں کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے ہمارے خواجہ سراؤں کی زندگی غذاب بنی ہوئ ہے ۔ تیسرا مسلۂ جو خواجہ سراؤ کو درپیش ہے وہ ہے ان کو تعلیمی اداروں میں تحفظ نہ ملنا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے جاتے ہے جب کا وہاں بھی استاد کی شکل میں درندے بیٹھے ہوتے ہے ۔ چوتھا مسلۂ خوجہ سراؤ کو روزگار نہ دینا۔ جس طرح میں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ انہیں قبول نہیں کرتا تو وہ روزگار کیسے دیگا؟ پانچواں مسلۂ خواجہ سراؤں کیلۓ کوئ پلان حکومت نے ابھی تک نہیں بنایا۔ ابھی جب کرونا کا لہر آیا تھا تو سب سے پہلے خواجہ سراؤں کو نقصان پہنچا تھا ان کے پاس کھانے کیلۓ بھی پیسے نہیں بچے تھے۔
    اب جب ایسے حالات ہو تواس ملک میں خواجہ سراؤ کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگی۔ میں حکومت پاکستان سے اپیل کرونگا کہ خواجہ سراؤں کی تحفظ کیلۓ قانون بنایا جاۓ اور انہیں ہر ادارے میں کوٹہ دیا جاۓ تاکہ وہ بھی اس ملک میں روزگار کرکے اپنی زندگی بخوشی گزار سکے۔

    Waseem khan
    @Waseemk370

  • جیسی قوم ویسے حکمران  تحریر: سیدہ بنت زینب

    جیسی قوم ویسے حکمران تحریر: سیدہ بنت زینب

    کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے لوگوں پر ہوتا ہے. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنے اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے، پوری لگن سے کریں تو اس ملک کا دنیا میں بول بالا ہو گا. لیکن اگر اسی ملک کے لوگ اپنی جگہ بے ایمانی، کرپشن، زخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو یقیناً اس ملک کو ترقی پذیر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی جگہ کرپٹ ہے، جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے کرپشن کرتا ہے. فریج والے سے لے کر موٹر والے تک، میکینک سے لے کر دکاندار تک، ایک چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے شخص تک ہر کوئی کرپشن جیسی بیماری میں مبتلا ہے. یہ بات اس بات سے بھی ثابت کی جا سکتی ہے کہ "اسکول میں پرنسپل نے ٹیچر کو کہا کہ بچوں سے دس روپے فارم کے لینے ہیں، ٹیچر نے کلاس میں آ کر بچوں کو کہا کہ صبح بیس روپے اسکول فارم کے لیے لے آنا، بچے نے گھر جا کر اپنی والدہ کو یہی رقم بیس کی بجائے پچاس بتائی اور اسکی والدہ نے یہی رقم بچے کے والد کو آگے سو بتا کر لی.” افسوس بحیثت قوم ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں.
    عوام ہمیشہ حکمرانوں پر ہی الزام لگاتی ہے کہ حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اب ذرا عوام کی بات کریں تو کیا عوام بھی اسی تھالی سے نہیں کھا رہی جس میں سے سیاستدان کھا رہے ہیں؟
    جب بھی پاکستان کی ترقی پذیر ممالک میں ہونے کی بات آتی ہے تو ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر سارا ملبہ ملک کے سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹیکس کے پیسے کھائے ہیں، کروڑوں کی کرپشن کی ہے مگر دوسروں پر بات کرنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود اپنی جگہ کتنے کرپٹ ہو چکے ہیں…!
    تو پھر ہم کس منہ سے حکمرانوں کو کچھ کہہ سکتے ہیں جب ہم خود ہی کرپٹ ہوں؟
    اپنے وزیروں، اداروں اور افسروں کو گالی دینے سے پہلے ایک بار ذرا خود سے پوچھیں کہ آپ نے کتنی ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کیا ہے؟ آپ نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
    حکمرانوں کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کے اعمال ہوتے ہیں اللّٰہ تعالی ان کے مطابق حکمرانوں کے دل کردیتا ہے، یعنی اگر عوام کے اعمال اچھے ہوں گے تو حکمران ان کے لیۓ اچھے ثابت ہوں گے اور اگر ان کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے تو حکمران عوام کے لۓ برے ثابت ہوں گے.
    یہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "جیسی قوم ویسے حکمران”. اگر حکمران ایمانداری ہو اور عوام بے ایمان، تب بھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ایک اکیلا شخص سارے معاشرے کی برائی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کچھ اچھا کام کرے بھی تو لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور وہ اس اچھے انسان کے پاؤں کھینچ کر اسے اپنے سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں. ہمیں ہر چیز سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا. جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی.”
    ‏‎بس ہم سب سے ہمارے حصے کا ہی سوال پوچھا جائے گا. ہم دوسروں کی فکر کرنے سے سے پہلے اپنے حصے کا دیا جلانے کی فکر کر لیں تو پاکستان روشن تر ہو جائے گا.
    اگر ہم سب سید اقرار الحسن کی طرح اپنے حصے کا کام پوری لگن، پوری ایمانداری سے کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے بلند ہو گا.
    جیسا کہ سید اقرار الحسن کہتے ہیں کہ "آپ سب پاکستان کے ذمہ دار محب وطن شہری کی طرح اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتے رہیں. بغیر کسی مفاد کے، بغیر کسی لالچ کے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے رہیں.مجھے یقین ہے کہ پھر وہ وقت دور نہیں ہو گا جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا انشاء اللہ”
    پاکستان زندہ باد!

    @BinteZainab33

  • مریدکے کیلئے دعا ہی کرلیں تحریر:  نوید بھٹی

    مریدکے کیلئے دعا ہی کرلیں تحریر: نوید بھٹی

    ؛کسی دوست نے کچھ روز کیا خوب کہا تھا کہ مریدکے کے پانی میں ایسی عجیب تاثیر ہے کہ کوئی ولی طبیعت کا بندا بھی یہاں کا ایڈمنسٹریٹر یا انتظامی سربراہ بن کر آجائے، کچھ ماہ بعد فرعون بن جائے گا۔ اب تک مریدکے میں جتنے بھی ایڈمنسٹریٹرز آئے سب نے آتے ہی انتہائی چابکدستی سے اپنے ماتحتوں کو کام پر لگایا مگر دھیرے دھیرے یا تو وہ مقامی سیاسی قیادت کے اشاروں پر چل کر "کمپرومائز” کرگئے یا پھر یہ سوچتے ہوئے کہ سنہری موقع ہے اکاؤنٹ بھرنے کا، تاجروں سے یاریاں نبھانے لگے۔
    اسسٹنٹ کمشنر اظہارالحق ایک نوجوان ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ان کو آئے گرچہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن ان کی کارکردگی اب تک کے تقریباً تمام ایڈمنسٹریٹرز کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ ان سے قبل سرمد تیمور اور طارق بھٹی صاحب آئے اور انہوں نے بازاروں میں تمام ناجائز تجاوزات کو نا صرف گرایا بلکہ شہریوں نے یہاں تک کہنا شروع کردیا تھا کہ اب نظر آیا نیا پاکستان۔
    قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے آنے والے بیشتر بزرگ تاجروں نے بھی گرچہ تھڑوں اور شٹروں کے گرانے کے عمل کو پسند نہیں کیا تھا لیکن ایک بات جسے وہ بار بار دہراتے رہے وہ یہ تھی کہ مرنے سے پہلے 70 سال بعد وہی والا بازار دیکھنے کو مل گیا جسے بچپن میں دیکھا کرتے تھے۔ ساٹھ فٹ چوڑا بازار جہاں سے آپ دو ٹرک آرام سے گذار سکتے ہیں آج ایک بار پھر اس قابل نہیں رہا کہ وہاں سے محض ایک بائیک پر کسی کو بٹھا کر گذرا جاسکے۔
    اسسٹنٹ کمشنر اظہارالحق کو ذاتی طور پر کئی بار ریکوئسٹ کی ہے کہ اس سلسے میں کوئی ایکشن لیں تو وہ رپلائی کے طور پر Noted لکھ کر یا تو مجھے تسلی و تشفی پر رکھے ہوئے ہیں یا پھر بہت سارے دوسروں کی طرح مجھے بھی "ٹرخالوجی” کا پہلا چیپٹر یاد کروا رہے ہیں۔
    ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان سے اس لئے نہیں کہا کہ میں خود ذاتی طور پر اداروں کے کاموں میں سیاسی مداخلت کیخلاف ہوں اور مجھے سو فیصد یہ بھی یقین ہے کہ ہمارے ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان بھی اسی فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے عمران خان کی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہوں گے۔
    آج سوشل میڈیا کہ ذریعے اپنے اسسٹنٹ کمشنر اظہارالحق صاحب سے التماس کروں گا کہ خدارا اس سے پہلے کہ آپ بھی روایتی سیاسی دباؤ کا شکار ہوں، ایک بار پھر ایگزیکویٹر منگوائیں، بندے لگائیں، تھڑے اور شٹرز گرائیں اور جو مزاحمت کرے اُسے کار سرکار میں مداخلت پر حوالات بھجوائیں۔
    اظہارالحق صاحب! آپ کے متعلق ایک بات کا تو مجھے یقین ہے کہ فی الحال آپ کسی کمپرومائز کا شکار نہیں ہوئے ہوں گے۔اور اگر ہو بھی گئے ہیں تو پھر آئیں ایک بار آپ بھی مریدکے کے دردمند شہریوں کے ساتھ مل کر دعا کرلیں:

    اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون

    @NaveedBhattiMM

  • ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے؟ بلا شبہ یہ بات مسلّم اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اس کرہء ارض پر ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر لوگ خوشی سے محروم ہوتے ہیں۔
    اب اس کی وجہ کیا ہے؟ در اصل ہم ان چیزوں میں خوشی ڈھوڈنتے ہیں جن سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا‛ جن سے ہمیں خوشی مل ہی نہیں سکتی۔

    مثلاََ ہم میں سے ہر آدمی سمجھتا ہے کہ ڈھیر سارا پیسہ حاصل کر کے وہ خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرے گا لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں اکثر وہ لوگ زیادہ پریشان اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں جو اچھے خاصے پیسے والے ہوتے ہیں۔

    آخرکیا وجہ ہے کہ اچھا خاصا پیسہ رکھنے والے‛ ہر قسم کی عیّاشی کرنے اور اپنی من پسند کی زندگی گزارنے والے لوگ قلبی سکون سے محرومی کے باعث زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔

    ایک طرف ایک مالدار شخص اپنی حویلی کے ایک مخصوص شبستاں میں جہاں ان کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہوتی ہیں اپنے ایک قیمتی پلنگ پر بچھائے مخملی بستر میں ڈپریشن کی گولیاں کھا کر ساری رات نیند سے محرومی کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا ہے‛ تو دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں یا کہیں سرِ راہ خالص زمین کی فرش پر کسی اینٹ یا پتھر کو تکیہ بنا کر گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دولت سے ہم خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔

    لہٰذا خوش رہنے کے لئے قناعت پسند ہونا ضروری ہے۔
    جو نعمتیں ﷲ تعالٰی نے ہمیں عطا کی ہیں اُن نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے‛ اور ہر وقت ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے‛ جو چیز ہمیں میسر نہیں اسے مشیّتِ الٰہی سمجھ کر صبر و قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔

    اس کے علاوہ دنیا میں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں یا بظاہر ہم سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہماری زندگی بھی ان کی طرح ہوتی۔
    ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنے کی بجائے ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو ہم سے زیادہ غریب ‛ تنگ دست اور لاچار ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھ کر اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ ﷲ تعالٰی نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے جن سے یہ لوگ محروم ہیں اور اس بات پر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

    اسلام بھی ہمیںں یہی بتا تا ہے کی دنیاوی اعتبار سے ہمیں خود سے نیچے لوگوں دیکھ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دینی اعتبار سے ہمیں خود سے زیادہ دیندار لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور ان سے سبقت لینے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔

    اس کے علاوہ ﷲ تعالٰی کو اپنا محبوب و مقصود بنا لینا دونوں جہانوں کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ﷲ تعالٰی کو جب محبوب بنائیں گے تو پھر محبوب کی خوشی میں عاشق کی خوشی ہوتی ہے اور محبوب جس حال میں رکھے گا عاشق کو تسلی اور سکون ملے گا۔

    بقولِ فراز:۔
    یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز!
    ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

    ‎@EKohee

  • طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس اقدام کیلئے دل خون کے آنسو روتا ہے اُس بیٹی پر کیا گزرے گی جو اس عذاب سے گزر رہی ہوگی ۔ بعض اوقات طلاق میں نا غلط عورت ہوتی ہے نا مرد.
    مرد اپنی حثیت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اکثر اوقات عورت کی نظر میں اُس کی تمام فرمائش پوری نہیں ہوتیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنی عزت بناکے رکھتا ہے اُس کو میکے جانے سے بھی نہیں روکتا لیکن جب وہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے اُس کی والدہ اسے کپڑے بناکے دیتی ہے وہاں سے تیسرے شخص کی مداخلت رشتوں میں آجاتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے ہنستا مسکراتا گھر اجڑ جاتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے موبائل عام ہوا ہے اُس وقت سے میاں بیوی کے رشتے میں تیسرے شخص کی مداخلت زیادہ ہوگی ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو مثلاً کوئی ہمسائ ، ساس، سالی وغیرہ وغیرہ یا اور فرد کی شکل میں رشتوں کو توڑنے میں شیطان کا کام کرتی ہیں.

    وہ عورت ہمیشہ اپنا گھر بنا لیتی ہے جسے اپنی شوہر کی حثیت کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے شوہر کا بازو بننا ہے وہ شوہر کے دل میں گھر بنا لیتی ہے جو عورت دوسروں کی باتوں کو ترجیح دے وہ اپنا ہنستا بستا ہوا گھر برباد کرلیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔

    اکثر معملات میں اولاد کی نعمت سے محرومی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی دَین ہے خداراہ ایسی باتوں کو ترجیح نا دے کے گھر آباد رکھیں اور لوگوں کی باتوں کو توجہ نا دیں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اُس رشتے کی قدر کریں اور مل کے رہیں اگر میں تحریر پڑھ کے کسی بھی عزیز کا دل دُکھا یا دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں میں نے وہی بیان کیا ہے جو وقت نے دیکھایا ہے.

    @JingoAlpha

  • ووٹر کو عزت دو تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    ووٹر کو عزت دو تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم الیکشن کی گرما گرمی میں جہاں عوامی نمائندے دھن کی بازی لگا رہے ہوتے ہیں
    وہیں انکے ووٹر تن من کی بازی لگاتے نظر آتے ہیں.
    الیکشن کے دنوں میں کیمپئنز کے نام پہ ہر جائز و ناجائز کر کے صرف اپنی پارٹی کے لیے ووٹ بٹورے جاتے ہیں.
    اس دوران نمائندے ایسے ایسے دعوے ایسے ایسے وعدے ایسی خوش خبریاں دیتے ہیں کہ مبادہ. انکی جیت کے بعد آسمان سے من و سلوی اترا کرے گا اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا.
    گاڑیوں اور دفتروں میں بیٹھے نمائندوں کے مزید نمائندے گلی گلی مزید نمائندے جمع کرتے ہیں پیسا لگائیں یا برادری کا حوالہ دیں بہر صورت ہر پارٹی کے پاس مطلوبہ ہجوم جمع ہو ہی جاتا ہے.
    جو اس وقت اس نمائندے کے لیے سر کاٹنے کٹوانے کے لیے آمادہ ہوتا ہے.اسی کا نتیجہ ہے کہ ہر الیکشن کے دوران لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت ہوتی ہے.
    الیکشن کے دوران کے سارے ایکشن اگر یہ سیاستدان یاد رکھیں تو ان جیالوں شیروں اور ٹائگروں کے احسان مند رہتے ہوئے انکے لیے انکی ترقی کے لیے دل و جان سے کام کریں.
    مگر الیکشن جیتنے کے ساتھ ہی یہ عوامی نمائندے یوں غائب ہوتے جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
    وہ ووٹر جو سوشل میڈیا سے لے کے محلوں تک ان نمائندوں اور پارٹی کے لیے ذاتی دشمنیاں تک مول لے لیتے ہیں جیت کر بھی پسپا نظر آتے ہیں.
    وہی سیاسی نمائندے جو دس سال قبل وفات پانے والی دادی کی بھی فاتحہ خوانی کرنے آجاتے ووٹ کے لیے وہ ووٹر کے لیے اے سی گاڑی سے باہر نہیں نکلتے.
    جو یونین کونسلز سے باپ دادا تک کے پتے جاننے کے بعد ڈور ٹو ڈور جاتے اور گھر جیسی واقفیت کا احساس دلاتے ہیں
    جیتنے کے بعد انکے دروازے کے باہر وہی ووٹر خود سوزی کر لے تو بھی دروازے نہیں کھلتے.
    وعدے اور دعوے تو جیت کے جشن کے دوران ہی ہوا ہو جاتے اور ووٹرز کے علاقوں کے مسائل جوں کے توں رہتے.
    ایک کام ہمارے سیاسی نمائندے بہت عمدہ کرتے ہیں.الیکشنز سے چند ماہ قبل سڑکیں یا نالیاں پختہ کروا دیتے اور وہ بھی اتنی پختہ کہ اگلے الیکشن سے پہلے پھر ٹوٹ چکی ہوں تاکہ ووٹ کے لیے دوبارہ بنوائی جا سکیں.
    بریانی کی پلیٹوں پہ جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑنے والے ووٹرز کا ایک مسئلہ بھوک ہے جسکو یہ سیاستدان بخوبی جانتے ہیں.
    دانہ ڈالتے جاتے بھوکا مرغ دانہ چننے کے لیے پیچھے پیچھے رہتا اور یہ اس دوران اس مرغ کے پر نوچتے جاتے دانہ ڈالتے جاتے ہیں.
    اپنی زندگی میں آج تک ترقیاتی کاموں کے نام پہ صرف گلیاں نالیاں سڑکیں بنتی دیکھی ہیں.ہر سڑک اگلے الیکشن تک پھر ٹوٹ چکی ہوتی.
    یہ اس لیے ہوتا ہے کہ سیاستدان عوام کو مہرہ سمجھتے آنے لیے عوام یہ ووٹر صرف طاقت کے حصول کا ذریعہ ہیں طاقت کا مرکز نہیں.
    وہ ووٹر جو ووٹ کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں وہی دراصل اپنی طاقت اپنے ہاتھوں بے حس لوگوں کو دے رہے ہوتے.
    ان تمام سیاست دانوں سے ایک مطالبہ ہے ووٹ کو نہیں ووٹر کو عزت دو ہجوم سازی تم نے بہت کر لی دھڑے بازی بھی بہت ہو گئی اب قوم سازی کر لیں.قوم بنے گی تو ملک سنورے گا.
    ورنہ انکی نوراں کشتی میں قرض کے عوض اپنی خودی گروی رکھنا پڑ جائے گی.
    ووٹر آپ کا حاکم ہے آپ خادم ہیں.
    ووٹر کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو چنا ہے .
    اسکو عزت دیں.

    @hsbuddy18

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • سی ایس ایس اور ڈپریشن تحریر: محسن ریاض


    ‎گزشتہ دنوں لاہور میں ایک لڑکی نے سی ایس ایس میں ناکامی پر خودکشی کر لی ہے اور ایک خط چھوڑا ہے جس میں اپنی ناکامی اور بوجھ کا ذکر کیا ہے اور اس حوالے سے لکھا ہے کہ میں اپنے والد کو مس کروں گی-اس خبر کو اتنے دن گزر چکے ہیں مگر میں ابھی تک صدمے میں ہوں کیونکہ میں خود سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہوں -یہ موضوع ہی اتنا حساس ہے کیونکہ لاکھوں طلبا کا مستقبل اس سے جڑا ہے ہر سال میری طرح کے کئی بچے آنکھوں میں سی ایس ایس کا خواب لیے شہر لاہور کا رخ کرتے ہیں اور یہ شہر اتنے بڑے دل کا مالک ہے کہ ہر ایک کو اپنے سینے پر جگہ دیتا ہےمگر جب آہستہ آہستہ اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں تو ذہن مفلوج ہو جاتا ہے اور انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتاہے -یقین مانیں اس وقت آپ ایک ایسی پوزیشن میں ہوتے ہیں جہاں اکثر طلبا یہی سمجھتے ہیں کہ اب میری زندگی ختم ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس کے لیے وقف کر دیا ہوتا ہے اور کوئی سکلز ان کے پاس ہوتی نہیں ہیں جن سے وہ اپنا مستقبل سنوار سکیں -اس لیے اس سٹیج پر زندگی ان کے لیے بہت کٹھن اور دشوار ہو جاتی ہے اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ سی ایس ایس اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے کما سکیں اور اپنا رعب و دبدبہ قائم کر سکیں -آپ مجھے ایک ایسا سی ایس پی آفیسر دیکھا دیں جس نے ایمانداری سے کام کیا ہو اور ارب پتی ہو میں آپ کو کئی ایسے بزنس مین دیکھا سکتاہوں جنھوں نے ایمانداری سے کام کیا ہو اور ارب پتی ہوں -ہماری نسل بہت قابل ہے ہم اچھے وکیل بن سکتے ہیں اچھے استاد بن سکتے ہیں مگر ہمیں نیلی بتی اور پاور لسٹ کے چکر میں پھنسا دیا گیا ہے جو کام ہم سیاسی رعب سے نہیں نکلوا سکتے ہماری خواہش ہوتی ہے کہ سی ایس پی آفیسر بننے کے بعد ان کو نکلوایا جائے خواہ وہ جائز ہوں یا ناجائز -ہمیں پرکھا ہی اسی کسوٹی پر جاتا ہے کہ ہم کتنے بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہیں – اسی پیمانے پر پورا اترنے کے لیے ہم زندگی میں محدود ہو رہے ہیں مثال کے طور آپ ایک مچھلی کی قابلیت کا اندازہ اگر اس بات پر لگائیں کہ وہ درخت پر چڑھ سکتی ہے کہ نہیں تو یقیناً آپ غلط ہیں اسی طرح ہر بچے کا ذہین ،عادات و اطور دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی لیے اگر آپ اس کو اسی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو یہ بچے کے ساتھ نا انصافی ہو گی اور اس امتحان کا کوئی ایسا پیمانہ بھی نہیں کہ آپ اس پر پورا اتر گئے تو آپ کامیاب ہو جائیں گے ہو سکتا ہے آپ ایک سال انگریزی کا امتحان پاس کر لیں تو یہ آپشن بھی موجود ہے کہ آپ کو اگلے سال فیل کر دیا جائے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی ایسی سکلز ضرور سیکھیں جس سے آپ مستقبل میں بہتر انداز میں زندگی گزارنے کے لیے استعمال کر سکیں -زندگی بہت خوبصورت اور حسین ہے اگر آپ ناکام ہوتے ہیں تو خدارا اسے ضائع مت کریں-اس سے ایک صرف آپ اپنی زندگی ہی ختم نہیں کرتے بلکہ آپ کے والدین کی زندگی بھی تباہ برباد ہو کر رہ جاتی ہے انہوں نے آپ کو اس لیے پروان چڑھا کر اتنا بڑا کیا ہوتا ہے کہ آپ ایک پر آسائش زندگی بسر کر سکیں اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکیں خدارا اس طرح کا قدم اٹھاتے وقت آپ اپنے بارے میں نہیں سوچتے تو نہ سوچیں مگر بوڑھے والدین کے بارے میں ایک بار ضرور سوچ لیا کریں-شائد آپ اس طرح کا قدم اٹھانے سے باز آ جائیں
    @mohsenwrites

  • سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر .  تحریر: زاہد کبدانی

    سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر . تحریر: زاہد کبدانی

    رواں دواں: نوجوان لوگوں پر ٹک ٹوک کا اثر حالیہ ماضی میں لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا استعمال بڑھتا رہا ہے۔ نوجوان نسل کی مقبولیت کے استعمال کے لئے سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں۔ ٹِک ٹوک سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز میں شامل ہے ، جو نوعمروں اور نوجوانوں کی جانب سے شہرت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات غضب سے چھٹکارا پاتا ہے۔ ایپ کو بنیادی طور پر استعمال کنندہ کے مابین شیئر امیجز اور ویڈیوز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امیج اور ویڈیو پر مبنی ایپس کے اثر سے متعلق حالیہ مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ صارفین کو ذہنی طور پر صحت سے متعلق دشواریوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کھانے کے عارضے اور آنکھوں کے مسائل۔ اس مطالعے نے نوجوانوں پر ٹک ٹوک کے تاثرات کی جانچ پڑتال میں عملی نقطہ نظر پر توجہ دی ہے۔ مشمولات کا تجزیہ صارفین کے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد تاثرات کے بقیہ نظریات اور تبصروں سے لیا گیا ہے۔ اس کاغذ کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک کے صارفین کے ساتھ فوکس گروپ انٹرویو بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے امور دریافت کیے جانے والے سوچاوں کے مسائل اور ایپ کے بارے میں بنیادی حقائق دریافت کیے جارہے ہیں۔ اس مطالعے میں صارفین کے نقطہ نظر اور ایپ کی فعالیت کو بہتر بنانے کی بنیاد پر مزید تحقیق کے لئے علاقوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی سوال کا بیان – ٹک ٹوک کی تیز رفتار ترقی اور نوجوان لوگوں کے ذریعہ اس کے استعمال ، اس سے دونوں پر اثر پڑے گا طویل مدت میں مثبت اور منفی. اس میں تین عوامل ہیں جو نوجوان نسل پر اس کے اثرات پر غور کرنے کے لئے ہیں۔ ، اس منڈی کا استعمال جس کا مارکیٹ کے سامعین نوجوان ہیں۔ ٹک ٹوک کے سامعین 18-25 سال کی عمر کے نوجوان ہیں ، ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دوم ، ٹِک ٹاک میں موجود مواد مختصر ویڈیوز ہیں جن کی ویڈیو کی اصلیت پر مرکزی دھیان ہے جو بدلے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ تیسرا ، ویڈیو کو بانٹنے میں ٹک ٹوک کی انفرادیت یہ آہستہ آہستہ ہر نوجوان کی ضرورت بن گیا ہے ، اور وہ اس ایپ کو استعمال کرنے میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اس وقت کو کسی ہنر کو سیکھنے ، یا علم یا کوئی اور چیز حاصل کرکے استعمال کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کی مدد کرسکے۔ وہ اپنا وقت کسی کی مدد کرنے یا کھیل کھیلنے میں بھی گزار سکتے تھے ، جس سے ان کا دماغ اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ اپنی زندگیوں پر توجہ دینے ، اور اپنے کیریئر اور مطالعے کو ترجیح دینے کے بجائے ، وہ ان ایپس کے عادی ہو رہے ہیں جو ان کے سوچنے کے عمل میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔

    @Z_Kubdani