Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    ھمارے جسم میں چربی زیادہ ہو جانے سے موٹاپا ھوتا ھے جو ایک پیچیدہ بیماری ہے۔ موٹاپا ایک ایسا مسئلہ ہے جو نظر انداز کئے جانے سے کئی اور بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ جیسے کہ دل کی بیماریاں، شوگر، بلڈ پریشر میں اضافہ اور کئی قسم کے کینسر وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا کم کرنا بہت ضروری ھے۔ 

    کچھ ایسے طریقے ھیں جن سے موٹاپا کم کیا جاسکتا ھے مثلاً۔۔۔

     موٹاپے کی وجوھات؟
    روز مرہ کی سرگرمی اور ورزش میں جلنے سے زیادہ کیلوری کھانا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، یہ اضافی کیلوری وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔لیکن یہ ہمیشہ صرف زیادہ کیلوری کے کھانے سے نہیں ہوتا ہے ، یا پھر صرف کم حرکت طرز زندگی سے نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعتا موٹاپے کی وجوہات ہیں ، کچھ وجوہات ایسی بھی ھوتی ہیں جن پر آپ قابو نہیں پا سکتے ہیں۔

    موٹاپا سے نجات کا طریقہ:
    پروٹین کا استعمال:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ناشتے میں اناج سے بنی اشیا کی جگہ انڈے یا کوئی بھی پروٹین اور کیلشیم سے بھرپور غذا کھانا زیادہ فائدہ مند ھے یہ جسم میں اگلے کئی گھنٹے تک غذائی حرارے لینے کی ضرورت کو کم کردیتا ہے جسکی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی استعمال میں لا کر موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    بغیر چھنا آٹا:
    زیادہ باریک آٹا استعمال نہ کریں۔ اس کی بجائے بغیر چھنا ہوا آٹا وزن کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔

    چھوٹے برتن کا استعمال:
    چھوٹی پلیٹ کا استعمال کھانا کم کھانے کا ایک طریقہ ہے۔ اور جب کھانا تھوڑا کھایا جائے تو جسم موجود چربی استعمال ہو کر موٹاپا کم کرنے میں مدد کرتی ھے۔

    چینی کا استعمال ترک کرنا:

    کسی بھی کھانے پینے کی چیز میں اضافی مٹھاس کے لیے چینی کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔

    پانی کا استعمال:

    وزن کم کرنے کے لیے پانی کھانے سے آدھ گھنٹہ پہلے پینا موٹاپا کم کرنے کے طریقوں میں سے مؤثّر ترین طریقہ ہے اور یہ بات ایک تحقیق سے ثابت ھوئی ہے کہ کھانے سے پہلے پانی پینے والے افراد ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا وزن 44 فیصد تک زیادہ کم کر سکتے ہیں

    کافی پینا:

    کافی کے بہت سے فوائد ھیں ایک اس کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ موٹاپا کم کرتی ھے بشرطیکہ اسے بہت کم مٹھاس کے ساتھ یا اس کے بغیر لیا جائے۔

    سبز چائے:

    اس کے فوائد بھی کافی کی طرح اس میں چینی شامل نہ کی جاۓ بلکہ شہد اور لیموں کا استعمال کیا جائے۔

    کبھی فاقہ کریں:

    کچھ دنوں کے بعد دو دن روزہ رکھنا یا کسی دن تین کی بجائے صرف دو بار کھانا بھی موٹاپا دور کرنے طریقوں میں سے ایک خاصا مفید طریقہ ہے۔ 

    خوراک کے اجزأ پر نظر رکھیں:

    اپنے کھانے میں شامل اجزأ پر نظر رکھنا موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر اپنانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ یہ معلوم کر پاتے ہیں کہ آپ کے کھانے میں شامل کون سی اشیاء جسم میں چربی کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں اور کون سی کم غزائی حراروں یا کیلوریز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال سے موٹاپا کم کرنے کا کام کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے ہر کھانے کو کسی ڈائری میں لکھ لیں۔

    فائبر والی خوراک کھانا:

    زیادہ ریشوں والی خوراک کا لینا جہاں ہاضمے کے لیے مفید ہے یہ کم غذائی حراروں پر مشتمل ہوتی ہے جس وجہ سے جسم اپنی توانائی کو پورا کرنے کے لیے اپنی چربی کو استعمال کرتا ہے اور موٹاپا کم ہونے لگتا ھے

    پھل زیادہ کھانا:

    پھل اور سبزیاں صحت بخش ہونے کے علاوہ ایسے خواص کے بھی حامل ہیں جن سے موٹاپا کم ہوتا

    ڈائٹنگ نہ کریں

    بالکل کھانا چھوڑ دینا یا کھانے کے لیے ضروری اجزاء میں سے کوئی کم یا زیادہ لینا خوراک کو صحت بخش نہیں رہنے دیتا۔ اس لیے موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں لانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    @Oye_Sunoo

  • کشمیرکے الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری؟ . تحریر : چوہدری عطا محمد

    کشمیرکے الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری؟ . تحریر : چوہدری عطا محمد

    پاکستان کے زیرِانتظام کشمیرمیں 25 جولائی کو تمام جماعتیں جن میں پاکستان کی تین بڑی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اورپاکستان پیپلزپارٹی اورکچھ چھوٹی جماعتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ مبصرین کے مطابق کل کانٹے کا مقابلہ ہوگا اگر ہم پچھلے دو سے تین ادوارکی بات کریں تو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسی پارٹی کو لوگ ووٹ زیادہ دیتے ہیں جس پارٹی کی السلام آباد میں گورنمنٹ ہو یہ عام طور پر کشمیر کے ووٹر کی روایت رہی ہے اس دفع الیکشن کمپین میں نئے چہرے سامنے آۓ ن لوگ کی طرف سے الیکشن کمپین میں مریم نوازکو اتارا گیا بقول ن لیگ پارٹی لیڈرنواز شریف جو کے لندن میں بیٹھے ہوۓ ہیں انہوں نے مریم نواز کو کشمیرالیکشن کا ٹاسک دیا الیکشن کمپین میں تیزی اورجوش اس وقت آیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے باقاعدہ اس الیکشن کمپین میں عملی طور پر حصہ لیا لیکن چند مقامات پر عوامی اجتماع اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کا خون گرمانے اور اپنے امیدواران کا جوش بڑھا کر وہ خود نجی دورہ پر امریکہ چلے گے اور پیپلز پارٹی کی الیکشن کمپین کی زمہ داری نئی نوجوان قیادت آصفہ بھٹو کو بنا دیا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمپین کی زمہ داری علی امین گنڈا پور اور ان کا ساتھ دینے کے لئے موجود تھے مراد سعید وفاقی وزیز بھی ہیں جو۔ یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہہ علی امین گنڈا پور کو آخری ہفتہ کو الیکشن کمپین سے روک دیا گیا کچھ ناخوشگوار واقعات جو بقول پی ٹی آئی مسلم لیگ نواز کی طرف سے کئے گے۔ اور الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور کو کشمیر میں عوامی اجتماعات سے خطاب سے روک دیا.

    الیکشن کمپین میں اس وقت جوش بڑھ گیا جب وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان نے کشمیر میں عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اس خطاب کے بعد تمام پارٹیاں خود کے جلسے کو عوامی سمندر اور دوسروں کے جلسوں کو جلسی کہتے رہے اپوزیشن نے وفاقی حکومت پر بہت سے الزامات لگاۓ جن میں مہنگائی کی زمہ داری بروز گاری اور باقی کشمیر بیچنے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے الزامات لگاۓ گے ان سب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائیب صدر مریم نواز سب سے آگے آگے تھیں جلسوں کی حد تک تو تینوں پارٹیوں نے کافی بڑے بڑے عوامی اجتماعات کیے کچھ ٹی وی چینلز کی اینکر ز نے بھی اپنی طرف سے ہلکے پھلکے انداز میں عوام کے تاثرات جاننے کی کوشش کی کہہ کون سی پارٹی کی مقبولیت زیادہ ہے تو اس میں پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری نظرآیا.

    گزشتہ روز گیلپ پاکستان نے بھی اپنا سروے مکمل کیا جس میں بھی وزیز اعظم پاکستان جناب عمران کو سب سے مقبول شخصیت قرار دیا دوسرے اور تیسرے پر بلاول بھٹو اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف تھے جبکہ چوتھے نمبر پر مریم نواز تھیں
    اسی طرح پارٹی پوزیشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف سب سے مقبول اور دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ن اور تیسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی ہے.

    یاد رہے کہہ مسلم لیگ ن دھاندلی کی بات پہلے ہی سے کر رہی ہے کہہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن میں دھاندلی کرے گی جس کا جواب چئیرمین تحریک انصاف جناب عمران خان صاحب نے دیتے ہوۓ کہا کشمیر میں گورنمنٹ آپ کی الیکشن کمیشن اور عملہ آپ کا لگایا ہوا تو پھر تحریک انصاف کیسے دھاندلی کرے گی ابھی تک کا رزلٹ اگر دیکھا جاۓ تو عوام کا رحجان وفاق کی جماعت کی طرف ہی ہے گیلپ سروے اور مختلف ٹی وی اینکر ز کا تجزیہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے کہہ پاکستان تحریک انصاف کے ہی وزیز اعظم ہوں گے اس کی ایک وجہ یہ روایت بھی ہے کہ جو سیاسی جماعت وفاق میں حکومت بناتی ہے وہ ہی کشمیر میں بھی حکومت بناتی ہے کیونکہ خود مختار خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے۔

    جو بھی جیتے جس پارٹی سے بھی اس کا تعلق ہو بس الیکشن پر امن اور شفاف ہو اس بات کی دعا ہے اور یہ بھی دعا کرتے ہیں کہہ اللہ کرے ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیوں میں بھی ہار کھلے دل سے تسلیم کرنے کی ہمت ہو اس قسم کی روایت بھی ہو کہہ ہارنے والا جیتنے والے کو مبارک باد گلے لگاۓ بجاۓ دھاندلی کا رونا رونے کے اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو.

    @ChAttaMuhNatt

  • امت مسلمہ کی حالت زار  تحریر: تماضر خنساء

    امت مسلمہ کی حالت زار تحریر: تماضر خنساء

    آج امت زبوحالی کا شکار ہے ۔نبی آخر الزمان ص جس
    امت کو ایک تسبیح کے دانے میں پروگئے وہ ٹوٹ چکی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ۔جہاں نظر اٹھاؤ تو مسلمان مشکل میں ہیں ،کہیں کفار کی درپردہ چال بازیاں ہیں تو کہیں کفار کھلم کھلا غاصب ہے ۔یہ جنگ تو ازل سے ابد تک جاری رہے گی بدی اور نیکی کی جنگ کفار اور مسلمان کی جنگ!
    اللہ کے نبی نے تو ہمیں واضح بتادیا کہ امت تو ایک جسد واحد ہے کہ ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرا
    عضو بھی سکون نہیں لے پاتا ۔

    حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)

    مگر یہ امت کیسی امت ہے کہ جسکا ایک عضو تکلیف میں ہے اور باقی سب خاموش تماشائ ہیں، ہر ایک مصلحت کے تحت خاموش ہے، مسلمان مسلمان کی تکلیف نہیں سمجھتا آخر یہ کیسی بے حسی ہے جو اس امت پہ طاری کردی گئ ہے ۔

    حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

    لیکن آج یہ امت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ،مسلمان اپنے مسلمان بھائ کا دشمن ہے، یہود و نصاری کو اپنا دوست سمجھتے ہیں
    ایک طرف امت کا دھڑکتا دل! فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین ،وہی سرزمین جو واقعہ معراج کی شاہد ہے لہو لہان ہے، غاصب مسلط ہیں، مگر باقی دنیا کے مسلمان پھر بھی مست ہیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئے پڑے ہیں ۔جانتے نہیں کہ یہ بے حسی اس امت کو اپاہج کرسکتی ہے اور اپاہج بھلا کسی سے اپنا حق بھی لے پایا ہے کبھی؟
    فلسطین سے نظر پھیر بھی لو توامت کا بازو کشمیرہے جہاں ،نہ جانے کتنے سالوں سے ظلم کا بازار گرم ہے کرفیو لگادیا جاتا ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار کردی جاتی ہیں دن دھاڑے اس امت کے بیٹے چھین لیے جاتے ہیں، مگر ہم! ہم تو سکون سے ہیں تو ہمیں کیا غرض کہ فلسطین اور کشمیر کس کرب میں ہیں! ہمیں کیا غرض کہ ایغور کے مسلمانوں پہ کیا بیت رہی ہے! ہم تو بس اپنی زندگی میں مست ہیں فلسطین اور کشمیر کو منظر نامے سے ہٹا کر ہی دیکھ لیں تو مسلم ایٹمی قوت پاکستان ہے، جس سے ہر مسلم ملک کو امیدیں ہیں کہ کوئ محمد بن قاسم آئے گاکوئ عمر بن خطاب پیدا ہوگا مگر یہاں تو مراثی ہیں یا اداکار! جو اس زندگی کو فلم کی طرح جییے جارہے ہیں، طاقت ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں یہ کیسی بے بسی ہے جو ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے ہے اور زبانیں خاموش ہیں!
    مان لو پھر کہ ایٹمی قوت پاکستان سے زیادہ بہتر وہ لہو لہو سرزمین فلسطین ہے جہاں ظلم کے خلاف مزاحمت ہے جہاں سچ اور حق کی آواز کڑے وقت میں بھی باطل کے سر پر تازیانہ بن کر پڑتی ہے ۔جہاں کم از کم لب تو بولنے کیلیے آزاد ہیں ۔۔۔ہم تو آزادی کے نام پر غلام بنالیے گئے ہیں ذات پات رنگ و نسل ماڈرنزم کے غلام! ہمیں آزادی کا بہلاوا دے کر قید کردیا گیا ہے ۔۔
    ایک ایٹمی قوت کے ہوتے بھی امت کسمپرسی کاشکار ہے ۔۔ آخر اس زبوحالی کی وجہ کیا ہے؟
    بس یہی کہ امت تفرقے میں بٹ گئ ہے، وہ رسی تو چھوٹ ہی گئ جس میں اس امت کی کامیابی کی ضمانت پوشیدہ تھی،

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ

    اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن)

    محمد مصطفی تو سکھا گئے کہ تفرقے میں نہ پڑنا ورنہ جھاگ کی طرح کی حیثیت میں رہ جاؤگے سمندر ہو کر بھی طوفان نہیں بن سکوگے .
    مگر ہم تفرقے میں بٹ گئے، امت بکھر گئ آج مسلمان تو ہیں مگر انکا وہ دبدہ نہیں رہا، کوئ شیعہ ہے تو کوئ سنی ،کوئ وہابی تو کوئ اہل حدیث ہے ،
    کہیں نسلی و علاقائ تعصب کی آگ ہے جس میں
    اپنا ہی اپنے کو دھکیل رہا ہے، ہر ایک خود کو دوسرے سے افضل سمجھتا ہے اور اس جنگ میں اپنوں کا ہی خون کیے جاتے ہیں.،جانتے نہیں کہ چاہے شیعہ ہو یا سنی، وہابی ہو یا دیوبندی کفار کیلیے سب مسلمان ہیں سب انکے دشمن ہیں۔جو چیز آج ہمیں اپنانی تھی وہ کفار آزماتے ہیں اور ہم ماڈرنزم اور مغرب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ذہنی غلام ہیں۔
    ۔کسی کو انگریزی بولتا دیکھ کر مرعوب ہوجانے والے یہاں ایک عالم سے زیادہ عزت ایک مراثی کو دی جاتی ہے جہاں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے والا تو بے روزگار ہے مگر رشوت خور مزے میں ہے، جہاں ایماندار کو پاگل کہا جاتا ہے اور بے ایمان کو بولڈ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بے حیائ کی مانگ ہے اور حیادار کیلیے زندگی مشکل، ایسی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں ہم!

    مگر یہ غلامی ہماری چنی ہوئ ہے ہم آزاد ہو کر بھی غلام ہیں تسلط آج بھی مغربی ذہنیت کو حاصل ہے! بٹی ہوئ امت آخر زوال کا شکار کیونکر نہ ہوگی ؟ ذرا سوچیے کہ آخر کب تک اس بے حسی کی چادر کو تھامے ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے محض ایسی دنیا کیلیے جو فانی ہے!
    آخر روز آخرت ہم اپنے ہادی ص سے نظریں کیسے ملا پائیں گے ہمیں تو وہ امتی بننا تھا کہ جس امت کیلیے وہ ہستی روز محشر بھی شفاعت کی طلبگار ہوگی کہ یا ربی میری امت یا اللہ مری امت! اور ہم اس قابل بھی نہ ہونگے؟ آخر تفرقے کی اور مغربی غلامی کی اس جنگ سے ہم کب باہر آئیں گے؟
    ہمیں بے حسی کی اس چادر کو اتار پھینکنا ہوگا اور ایک امت بننا ہوگا جس پہ نبی آخر الزمان فخر کرسکیں
    وگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں!

    Twitter Handle:
    @timazer_K

  • ‏ہمارا بلوچستان . تحریر :  سید غازی علی زیدی

    ‏ہمارا بلوچستان . تحریر : سید غازی علی زیدی

    جیو سٹریٹیجک مقام، پاکستان کا دوام، وسطی ایشیا کا در، دشمنوں کیلئے ڈر، معدنی وسائل سے مالامال، یہی خصائص جان کا وبال، پاکستان کی جان ہمارا بلوچستان

    سکندر اعظم سے نادرشاہ تک اورمنگولوں سے انگریزوں تک، بلوچستان کی تاریخ قدیم بھی ہے اورجنگجویانہ بھی ممتازتاریخ دان ہرزفیلڈ کے مطابق لفظ بلوچ کے معنی "بلند چیخ” کے ہیں۔ جبکہ کچھ تاریخی کتب میں بلوچ کے معنی "اعلیٰ طاقتور” بیان کئے گئے ہیں۔ تہذیب وثقافت ہو یاطرز بودوباش، لباس ہو یا اقدار، بلوچوں کی روایات سب سے منفرد اور مختلف ہیں۔

    رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ بلوچستان، اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، ہمیشہ سے اپنے اور پرائے کی آنکھوں میں یکساں کھٹکتا، دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ ارض وسط ایشیا کا دروازہ بھی ہے اور گرم پانیوں تک رسائی کا ذریعہ بھی۔ طویل ساحل اور بیش بہا قدرتی وسائل کی بنیادپر ایشیا سے لیکر یورپ تک ہرعالمی طاقت نے اس پر تسلط کے خواب دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی گریٹر بلوچستان تو کبھی آزاد بلوچستان کے نام پر عالمی طاقتیں اس کو اپنے زیر نگیں لانا چاہتی ہیں۔

    گوادر پورٹ ہو یا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ؛ بلوچستان، جہاں ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا وہیں پر امن و امان اور روشن مستقبل کو سبوتاژ کرنے کیلئےدہشتگرد اورعلیحدگی پسند قوتوں کی جارحیت کا بھی مسلسل نشانہ بنا رہاہے۔

    لیکن اب موجودہ حالات میں بلوچستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پرکھڑا ہے۔ دشمنوں اپنے ناپاک عزائم سمیت پورے طور پرآشکارہوچکےہیں۔ کبھی کلبھوشن یادیو کی صورت میں ازلی دشمن کا مہرہ اپنی چالوں سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوششیں کرتا تو کبھی بظاہر دوست بنے آستین کے سانپ فرقہ ورانہ فسادات کی آڑ میں امن و سکون کی دھجیاں بکھیر دیتے۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بلوچ سر کٹ تو سکتا مگر جھک نہیں سکتا۔

    فی الوقت بلوچستان دو مختلف ادوار سے ایک ساتھ گزر رہا ایک طرف جا بہ جا بکھرے، چشم انسانی سے پوشیدہ، جلوے بکھیرتے قدرتی نظارے: اسرار میں ڈوبی جھیلیں، رنگ رنگ کے پہاڑ، بیش قیمت پتھروجواہرات، رسیلے تازہ پھل، دل موہ لیتی آبشاریں، گنگناتے چشمے، جھھومتے جھرنے ہیں، جبکہ دوسری طرف پسماندگی، غربت، جہالت، بےروزگاری،احساس محرومی، ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری، قبیلوں و قومیتوں میں بٹے، نسلوں سے نوابوں اور سرداروں کی غلامی کرتے بلوچ عوام، اور اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کا شکار معصوم جوان۔ وسائل اور مسائل کے درمیان حائل گہری خلیج نے برسوں سے اس خطے کو شرپسندوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔
    بلاشبہ ماضی میں یہ صوبہ غیر مربوط منصوبہ بندی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بدحالی اور پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے بلوچستان کیطرف معاندانہ رویے بھی بلوچ جوانوں میں بغاوت کی ایک بہت بڑی وجہ بنے ہیں حکومت اور عوام کا ٹکراؤ ہمیشہ غیر ضروری پیچیدگیوں کو جنم دیتا۔ نظریاتی سوچ کا چورن بیچتے قوم پرست سردار، غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی سے، چند نوجوانوں کو ورغلا کر اپنی ہی ریاست کیخلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں۔

    اس حقیقت کو فراموش کئے کہ غدار کی نہ تو کوئی عزت ہوتی نا وقار۔ بھٹکے ہوئے بلوچ نوجوان نواب، میر، سردار کے گرد گھومتی سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ تاریخی دوراہے پر کھڑا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ترقی کی دہلیز پر ہے۔ خوشحال بلوچستان کا صدیوں پرانا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔ لیکن یہ تعمیر و ترقی دشمنان وطن کو کیسے ہضم ہوسکتی؟ مشرقی بارڈر سے لیکر مغربی بارڈر تک، دشمن حسد و جلن کی آگ میں جل رہے اور ان کی پوری کوشش کہ اس آگ کی لپٹیں خاکم بدہن بلوچستان کو جلا کر راکھ کر دیں۔ لیکن انشاء اللہ العزیز وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ دشمن کے راستے کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار وہ غیور بلوچ سردار و جوان ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے جو مر تو سکتے مگر مادر وطن سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہی بات باقی صوبوں کے عوام کی تو وہ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ غیرت مند بلوچ نہ تو کبھی پاکستان کا دشمن ہو سکتا نہ کبھی دشمن کا آلہ کار بن سکتا۔

    بقول اقبال
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    پاکستان زندہ باد

    @once_says

  • جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور سائنس نئی نئی ایجادات کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے ہم دینِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔آج کل کچھ لوگ موڈرنزم یعنی جدیدیت کا ٹھپہ لگوا کر کہتے ہیں ہماری سوچ تو ایڈوانس ہے ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں جو چاہیں کریں ۔ان لوگوں کو میں بتا دینا چاہتی ہوں یہ جدیدیت نہیں ہے یہ بغیرتی ہے۔ جس میں آج کل کے مسلمان دینِ اسلام کو بھول کر یہودی و أنصاریٰ کے نقشے قدم پر چلنا شروع ہوگے ہیں۔
    جس میں پردہ والی خواتین, داڑھی والے مرد اور سنت نبویﷺ پر چلنے والے مسلمان مرد و خواتین کو پتھر کے زمانے کا کہا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی لڑکی یا مرد آدھے کپڑے پہن لے یا مرد خواتین اور خواتین مرد کے کپڑے پہن لیں تو اس کو فیشن ایبل کہا جاتا ہے اس کی واہ واہ کی جاتی ہے ۔ایک ناچنے والے کنجر مرد و خواتین کو مختلف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلا کر ان کی تعریفوں کے امبار لگاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ایک حافظ قران ایک عالم کو کبھی مدعو کر کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن میں معذرت کے ساس بہو سسر ،بھابی دیور کے افیئرز تو دیکھاۓ جاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھایا جاتا کہ ہمارا دین اسلام گھریلو نظام پر کیا تعلیمات دیتا ہے ۔ آج کل کی کچھ نام نہاد عورتوں کو آزادی چاہیے آزادی کس سے چاہیے مذہب سے چاہیے یا بھائی شوہر باپ خاوند سے! عورت کو اسلام سے بڑھ کر عزت اور آزادی اور کون دے گا جس اسلام سے پہلے جب بیٹی پیدا ہوا کرتی تھی تو عورت کو زندہ دفن کر دیا جاتا اسی اسلام نے عورت کو عزت دی زندگی بخشی اور عورت کو اللّٰہ کی رحمت کہا۔

    اب بات کی جاۓ عورت کے حقوق کی تو عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔ایک عورت کا حق ہے اس کا شوہر اس کا مکمل خیال رکھے اس بنیادی ضروریات اوراسکی خوشی اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں رسول اللّٰہ ﷺ بھی اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج کروایا کرتے تھے۔ یہ بیغیرتی نہیں تو اور کیا جب میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگتے ہیں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ سرِعام خواتین کچھ طلاق یافتہ عورتین خاندانی نظام کی دھجیاں اڑاتی پھرتی ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جو جسم جو جان ہمارے پاس اللّٰہ تعالی کی امانت ہے ہم ایک ایک سانس تک اللّٰہ تعالی کے مہتاج ہیں اس پر ہماری مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔قران و حدیث میں زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط اور مکمل رہنمائی موجود ہے لیکن افسوس ہمارے قران تو الماریوں میں پڑے پڑے ان پر دھول اور مٹی چڑھ چکی ہے ہم کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ ہم نے قران پاک کو کب ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔

    آج کل الیکٹرانک میڈیا پر صرف فحاشی دیکھائی جاتی نوجوان نسل کے زہنوں کو گندہ اور زنگ آلود کیا جارہا ہے ۔ایسے ڈرامے بناۓ جا رہے ہیں جو ایک عزت دار بندہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔ اب تو اتنی بیغیرتی بڑھ گئی کے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم پستی کی کس انتہا کو پہنچ گے ہیں کہ یورپ کی طرح اب یہاں بھی مرد کی مرد کے ساتھ شادی کی باتیں ہونے لگی ۔مطلب کہاں گیا ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ان کو کوئی روکنے والا نہیں ! کیا ان پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ! کیا کوئی اسلامی قانون چلے گا ہمارے ملک میں !

    آج کل بہت سے ممالک اَن گنت ڈالر صرف اس پر خرچ رہے ہیں کہ ایک مسلمان لڑکی اپنا پردہ اتار دے نقاب نا پہنے آج کل مختلف کیمپئن کے نام پر پردہ کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے میں یہاں اپنی بہنوں کو بتا دینا چاہتی ہوں آپ کی عزت نقاب اور پردہ میں ہے۔ جب دنیا کی سب سے عزت دار عورت جو جنت میں عورت کی سردار ہیں حضرت فاطمہ ؓ ان پر پردہ فرض تھا تو آپ اور میں کیا ان سے پاک دامن آگئی ہیں !! آج جب پردہ کی بات کی جاۓ تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے ہمارا زہن صاف ہے کیا آپ کا زہن حضرت فاطمہ ؓ سے صاف ہے ! کیا آپ ان سے بھی پاک ہیں ! اگر نہیں تو جب انہوں نے ساری زندگی پردے میں گزاری تو آپ اور میں کیوں نہیں !
    پرسوں ایک محترمہ نے کہا عید الضحی پر جانور قربان کرنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ سب کو عید مبارک ۔۔میں اس محترمہ کو بتاتی چلوں آپ رکھیں اپنی مبارکباد اپنے پاس ہمیں تو قران سے یہ درس ملتا آپ کی عید الضحی اس وقت ہوگی جب آپ جانور قربان کریں گے ۔تو آپ نام نہاد کون ہوتی ہیں مسلمانوں اور عید الضحی پر تنقید اور طنز کرنے والی !
    جب کے ایف سی اور میکڈونلڈ روزانہ ملین کے حساب سے مرغیاں زبح کرتے ہیں اور آپ شوق سے کھاتی ہیں تب آپ جانوروں کے حقوق کےلیے کیوں نہیں بولتی ہیں ! جب سپین میں ایک تہوار میں لاکھوں بیلوں کو چھریوں سے کاٹ دیا جاتا ہے تب آپ کی جانوروں سے ہمدردی کہاں جاتی ہے !

    ایک اندازے کے مطابق برازیل نے صرف سال 2021 ایک اعشاریہ آٹھ ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے اسی طرح امریکہ اور انڈیا نے بھی ایک اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے تب آپ کیوں نہیں بولی ! سب سے بڑھ کر جب فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جانوروں سے بھی درد ناک طریقے سے شہید کیا جاتا ہے آپ تب کیوں نہیں بولتی ہیں؟
    یہ جانوروں سے ہمدری آپ کو صرف عید الضحی پر یاد آتی ہے جب ان غریبوں اور مستحق افراد میں گوشت تقسم کیا جاتا ہے جو سارا سال گوشت کھانے کےلیے صرف عید الضحی کا انتظار کرتے ہیں ! میں تمام مسلمان خواتین بہن بھائیوں سے التجاء کروں گی قربانی کی ہڈیا ضائع نا کریں بلکہ اس جیسے جدت پسند بیغرتوں کو ڈالیں ۔

    آخرمیں میری جسم میری مرضی اور تمام ان جدت پسند اور اسلام کو بھول کر یورپ اور یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے والے مرد و خواتین کو بتا دوں کامیابی جدیدت میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے جا کر ہم سب کے پیارے رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات ان کی سنت اور قران مجید کی پیروی کرنے سے آۓ گی ۔ اللّٰہ پاک سب کو ہدایت دے.

    @iitx_hadii

  • ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر:  سیدہ ام حبیبہ

    ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تعلیم و تعلم کی اہمیت و افادیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اور تدریسی مواد یہ طے کرتا ہے کہ اس ملک کے باشندوں کو کیا پڑھنا ہے اور کیوں پڑھنا ہے.
    کیا پڑھنا ہے اسکو کریکولم کہتے ہیں اور کیوں پڑھنا ہے اس کی بنیاد کسی بھی ملک کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی خدوخال دیکھ کر طے کی جا سکتی ہے.
    وطن عزیز کا کریکولم بھی ماہرین تعلیم کی جانب سے نظریاتی بنیادوں اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ڈیزائن کیا گیا.واضح طور پہ طے کیا جاتا ہے کس عمر کے افراد کو انکی ذہنی استعداد کے مطابق کیا پڑھایا جائے.
    مگر قربان جائیے اپنے تعلیمی نظام کے کہ کریکولم کے تحت تیار شدہ نصاب سالوں پرانا اور نئی نسل کے رحجانات سے. اس قدر غیر مسابقت رکھتا ہے کہ طلباء کی دلچسپی اور آمادگی تقریبا ناممکن ہو جاتی ہے.
    رہی سہی دشمنی ہمارے نظام امتحان نے نکال لی.
    اس امتحانی نظام نے تعلیم کو صرف نمبر حاصل کرنے کی حد تک ضروری رکھا.باقی رہے نام اللہ کا.
    کسی بھی کہانی کے نصاب میں ہونے کے مقاصد کو یکسر نظر انداز کر کے اس کہانی کے اہم حصوں اور سوالات کا رٹا لگوایا جاتا ہے.تاکہ نمبر اچھے آئیں.
    اس میں قصور بلاشبہ میرٹ سسٹم کا ہے کہ جتنے زیادہ نمبر اتنے ذیادہ اچھی نوکری کے چانس.
    اس دوڑ میں ایسی نسل پروان چڑھی ہے جسکو تعلیم و تربیت کی بجائے رٹا و نوکری کی خوراک سے پالا گیا ہے.تدریسی مقاصد کے ساتھ ہی اخلاقی تربیت تو گھاس چر ہی رہی ہے ساتھ ایک ناقابل تلافی نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سب کے سب نوکریوں کے منتظر بیٹھے ہیں.
    نوکریاں بھی سرکاری.
    اب ایک ڈی اے ای ڈپلومہ ہولڈر
    دبئی کسی کمپنی میں گیٹ کیپر ہے تو اس میں قصور کس کا ہے؟
    اگر کوئی ماسٹرز ڈگری لے کر مستری ہے تو کس کا قصور ہے؟
    سراسر ہمارا تعلیمی نظام جس میں ہنر مند بنانے کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ووکیشنل سنٹرز بنائے گئے لیکن انکا پریشان کن حال آئندہ کسی تحریر میں بیان کروں گی.
    قارئین اکرام کیا ہمیں شعبہ تعلیم میں ہماری نسلوں کے ساتھ ہمارے ساتھ کی گئی دشمنی کا حساب نہیں لینا چاہیے ہمیں تعلیمی انقلاب کے لیے کمر بستہ نہیں ہونا چاہیے.
    ہمیں اسوقت ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں طلباء کے رحجانات و صلاحیتوں کے مطابق تدریس کے ساتھ انکو ہنر سکھایا جائے.وہ حصول تعلیم کے دوران ہی حصول رزق کے قابل ہو جائیں.
    سوٹ بوٹ پہنا کر روبوٹس بنانے کی بجائے جھاڑو پوچا کھانا بنانا سلائی دھلائی جیسے سب بنیادی امور سکھائے جائیں.
    اور جتنی سائنس کی تعلیم دی جائے اسکے پریکٹیکل کو لازمی بنایا جائے نہ کہ کاپیاں بنوا کر نمبر لگوا دیے جائیں.
    ہمارا کریکولم اور نصاب غلط نہیں ہمارا امتحانی اور تدریسی نظام نادرست ہے.

    امید ہے اس تحریر سے تحریک اٹھے گی
    ہمارا نام بھی انقلابیوں میں آئے گا

    @hsbuddy18

  • بیٹی  ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    بیٹی ایک خوبصورت احساس تحریر: صائمہ مسعود

    جب کوئ عورت ماں بننے والی ہوتی تو انے والے نئے مہمان کے لئے تجسّس میں ہوتی کہ خدا کس نعمت سے نوازیں گےاور دل ہی دل میں خداسے دعا کرتے کہ جو بھی ہو بس مکمل صحت مند ہواور ساتھ خیریت کے ہو
    خاص کر جب وہ پہلی بار ماں بنتی۔اس پر سب کی نظر ہوتی اسکے ارام اور خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا
    اور جوں جوں وقت قریب اتا جاتا وہ تجسس بڑھتا چلا جاتا اور بالآخر وہ دن اتا جب ایک نومولود دنیا میں وارد ہوتا اور عورت ایک تکلیف دہ عمل سے گزر کر ماں کے عظیم رتبے پر فائز ہوتی ۔بہت سے لوگوں کی اولاد کے لئے الگ الگ خواہش پوتی
    کہ بیٹا ہو ۔بیٹی ہو
    اور زیادہ تر لوگ بیٹے کی خواہش رکھتے
    لیکن بیٹی کی پیدائش پر بھی لوگ اتنے ہی خوش ہوتے
    اور اسکو خدا کی رحمت سمجھتے اور خوشی خوشی اسکا استقبال کرتے۔بیٹی اپنے وجود سے سب کو پیاری پوتی
    اور اج کل کے دور میں بیٹی بھی بیٹے کے جیسی اہم ہوتی ہے ۔بیٹی سے ماں لے ساتھ ساتھ باپ کو بھی پیاری ہوتی ہے اور دونوں کی نگاہ کا مرکز بن جاتی
    بیٹی اپنی خوبصورت باتوں سے سب کا دل موہ لیتی۔ماں بھی بیٹی کے لیے رنگ برنگے کپڑے بناتی اسکو سنوارتی
    اسلام سے قبل جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں مست و غرق تھی اور عورت کو جانوروں کی سی حیثیت دی جاتی تھی
    کوئ بھی حق نہیں دیا جاتا تھا ہر طرح کا ظلم ڈھایا جاتا تھا
    بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا
    اور جب اسلام کا سورج دنیا پر ابھرا تو گویا انسانیت کی فلاح کا راستہ کھل گیا
    اور عورت کے حقوق کے حوالے سے زور دیا گیا اور انہیں برابری کا درجہ دیا
    بیٹی کی پیدائش کو رحمت کہا گیا اور انکی سچھی پرورش پر زور دیا گیا
    بیٹی ایک خوبصورت احساس کانام
    بیٹیاں جوں جوں بڑی ہوتی جاتی گھر کے امور میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور باپ کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتیں
    اور پھر جب بیٹی کی تعلیم وتربیت کا وقت اتا تو وہ ماں باپ کو مایوس نہیں کرتیں اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرتیں۔شعبہ ہائے زندگی میں مرد کے شانہ بشانہ ہوتیں
    بیٹی کے وجود کا احساس تب زیادہ ہوتا جب اپ اسکی شادی کا سوچتے اور انے والے اچھے نصیب کی دعا کرتے اور انکو ہر طرح سے آسودہ رکھنے کی کوشش کرتے
    بیٹی کی پرورش ایک اہم جز ہے کسی بھی معاشرے اور گھرانے میں
    اور اج کل کے دور میں جسطرح سے نفسا نفسی ہے تو وہ بیٹی ہی ہوتی جو اپنے والدین کا سہارا بنتی اور انکو سنبھالتی سسرال سے اکر بھی اپنے ماں باپ کی دکھ درد کو بانٹتی
    بھت سی بیٹیاں گھروں سے باہر نکل کر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا فرض انجام دیتیں۔اور معاشرتی مسائل کو حل کرنےمیں بھی مدد گار ثابت ہوتیں
    بیٹی کی قدر کریں اور اسکی اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ اسکی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دیں اور جدید دور کی اہمیت سے روشناس کروائیں

    @simsimsim1930

  • ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    ایک عام آدمی کا پیغام اپنے حکمرانوں کے نام . تحریر : عام آدمی

    عام آدمی پریشان حال، گرمیوں کے سخت دن، گھر کے حالات، بجلی کی بندش، بچوں کی پڑھائی،بیٹیوں کی شادی، یہ بچوں کو نوکری نا ملنا، کہیں طرح کے مسائل میں گھرا ہوا، شیر کو بھی دیکھ چکا، تیر سے بھی زخم کھائے، مہاجروں نے جو امیدیں توڑی، نیا پاکستان کا خواب لیے چلا، لیکن کیا پایا؟؟

    وہی مسائل وہی پریشانیاں، وہی نظام، وہی عدالتوں کے دھکے، اب تو روز مرہ کی اشیاء سے بھی گیا، جمہوریت کا حسن دیکھ رہا ہے، مارشل لاء بھی آزماچکا، کہیں قومیں کہا سے کہا چلی گئی، اور ہم جہاں تھے وہاں سے بھی کہیں پیچھے، تنگ آ کر کوشش کرتا ملک چھوڑ کے کسی دوسرے ملک چلا جاؤں، پردیس چلا جاؤں، وہاں جا کے کماؤ کے گھر کا خرچ چل سکے، کیوں اُسے یہ سوچنا پڑتا؟ یہ سوال کا جواب ہم سب جانتے ہیں، ایسا نظام نہیں ہے کہ خوش خالی ہو، وہی بندے جو پہلے پچھلی حکومت میں تھے اب نئی حکومت میں آ جاتے، ہر ادارہ اپنے کام میں ناکام نظر آ رہا، سوائے چند ایک کے، کیا ہم کم تر انسان ہیں؟ یا ہم میں عقل کم ہے؟ یا یہ ملک صرف اشرافیہ کے لیے ہی ہے، لیکن کب تک؟

    حکومت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اُسے عام آدمی کے مسائل مہنگائی پریشانی دکھ سب نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن جب وہی حکومت میں آتے ہیں تو سب غائب ہو جاتا ہے، خود بھی وہی کر رہے ہوتے ہیں جو گزر جانے والی حکومت کر رہی تھی، گزشتہ حکومت کو قصور ور ٹھہرا رہے ہوتے ہیں، لیکن ایسا کب تک چلے گا؟
    پھر وہی کام حکومت کر رہی ہوتی ہے جس پے پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا، کس پے یقین کرے؟ کون بدلے گا یہ نظام، کہیں مدینہ کی ریاست کی شنوائی، تو کہیں روشن پاکستان ، کہیں روٹی کپڑا مکان ،
    اِن میں سے کتنا ملا کتنا چھینا، یہ عام آدمی سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تو پھر کیا کرے؟ ہر حکومتی نظام کو جو دیکھ چکا ہے، دن بھر دن حالت بہتر ہونے کے بجائے اُسے خراب نظر آ رہے ہیں، کس در پے جائے؟؟

    تقریباً ہرادارے میں بہتری کی گنجائش بہت زیادہ ہے، جب تک ادارے اپنا کام نہیں کرے گے ایمانداری کے ساتھ، نظام بہترنہیں ہوگا، کام لینا اداروں سے حکومت کا کام ہے، اور حکومت میں بیٹھے لوگ جب تک مخلص نہیں ہوں گے، کچھ بھی بدلے گا نہیں، ریلوے کا نظام، ماحولیات کا نظام، صفائی کا نظام، ٹرافک کا نظام، ارسال کا نظام، پانی کا محکمہ، بجلی, گیس کا محکمہ، سیکیورٹی، عدالتوں کا نظام، کاروبار کا نظام،تعلیم کا نظام، ہاؤسنگ سوسائٹی کا نظام، اس طرح سے ہر ادارہ کو اپڈیٹ کرنے کی ایمرجنسی ضرورت ہے،
    جب تک سوچ نہیں بدلے گی، سیاست کو حقیقی معنی میں خدمت نہیں سمجھا جائے گا، بلکے کاروبار سمجھا جّائے گا، اور افسر شاہی والا نظام نہیں بدلہ جائے گا، عام آدمی ہی پسے گا، سب سے کمزور طبقہ ہے، مہنگائی کا بوجھ ڈال کے ٹیکس وصول کر کے، اُسے دبا کے سب عیاشی کر تو رہے ہیں،؟ لیکن کب تک؟

    نہیں رہے گا یہ باغبان، جس کے مالی ہی پھولوں کے چور اور چہکتے پرندوں کے شکاری ہے، ایک دن تو اُن کی نسلیں بھی تباہ ہو گی، پر کہیں دیر نا ہو جائے عام آدمی کی پریشانی کہیں، ان کی نسلوں کو بھی تباہ نا کردے تو اس بات کو سمجھو اور سینسر ہو جاؤ خود کے ساتھ اپنی نسلوں کے ساتھ.

    @kazAli16

  • گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت مشکل ہے تو آپ کے ٹو جتنی غلط فہمی کا شکارہیں۔ کبھی ان بیچاروں سے حال احوال پوچھیں جو ریسرچ کے رولر کوسٹرسے گزرکرآئے ہوں۔ آپ کو یقیناً کافی اشتیاق ہوگا کہ یہ سفرکیسا ہوتا ہے۔ تو کچھ سیر ہم آپ کو اس گہرے سمندر، صحرائے بنجر اورخطرناک جنگل کی کراتے ہیں۔

    اس سفر کا آغاز پڑھائی لگاتار اور مسلسل پڑھائی سے ہوتا ہے۔ یہ عمل آپ کو تین چار دن تک کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ لیپ ٹاپ کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگے۔ اس بےشمار پڑھائی کے بعد آپ کا ٹاپک فائنل ہوجائے تو وہاں سے آپ کی خواری کی نہ رکنے والی اننگز کو آغاز ہوجاتا ہے۔
    بیس بیس اور کبھی اس سے زائذ صفحات کے آرٹیکلز پڑھ کر اس میں سے بس ایک لائن اٹھانی ہوسوچ سکتے ہیں کتنی اذیت ہوتی ہے؟ دنیا جہاں میں اگرکسی نے ریسرچ کے نام پرلطیفہ بھی لکھا ہو، اس تک پڑھنا لازم و ملزوم ہوتا ہے کہ کہیں اسکا لطیفہ ہم دوبارہ سے نہ لکھ دیں۔ اسکے بعد جب دن رات جاگ کر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی آنکھیں دکھنے لگیں، آپ کی کمر آپ کو احساس دلائے کہ آپ بچپن سے سیدھے بڑھاپے اور وہ بھی شدید علیل بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ تب آپ کے دل میں بس ایک دعا ہوتی ہے کہ سپروائزر آپ کے بھاری بھرکم الفاط اور لکھنے کے انداز سے متاثر ہو جائیں۔

    لیکن جب آپ امیدوں کے پُلوں پر چل کر سپروائزر کے کمرے میں جائیں اور وہ بے نیازی سے پڑھ کر تیکھے چتنوں سے دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ
    "کہاں سے کاپی کیا ہے؟ ”
    دل پرسیدھی، الٹی، تیز، زنگ آلود ہر طرح کی چھری پھرتی ہے۔ پُل ٹوٹ کر ڈھڑام سے گر جاتے ہیں اور پھر ہم لٹکے منہ کے ساتھ لٹکتے لٹکتے واپس آ جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو لگے کہ یہ مبالغہ آرائی ہے تو آپ ہم بیچاروں کی سوجی، کالے دائروں سے بھری آنکھیں دیکھ سکتے ہیں۔ جن میں بس غموں کے آنسو ہیں۔

    اگلا مرحلہ پھر ڈیٹا کلیکشن کا آتا ہے۔ اور آپ ریسرچ سٹوڈنٹ سے ایک دم فریادی بن جاتے ہیں۔ موبائل میں جتنے نمبر موجود ہوتے ہیں، سب کو منتوں بھرا میسج کرنا پڑتا ہے کہ خدارا سوالنامہ حل کر دو۔ اور یہ سن کر لوگ سمجھتے ہیں جیسے انکی جائیداد میں سے حصہ مانگ لیا ہو۔ یا پھر انکا امتحان لیا جا رہا ہو۔ ساتھ سیکالوجی کا نام پڑھ کر انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ہمارے دماغ کے خیالات کو جانچا جائے گا۔ ارے نہیں بھئی! بس چند سوالوں پر ٹِک لگانے سے آپکی شخصیت کا جائزہ نہیں لے سکتے ہم۔ اور اگر فرض کریں کہ لینے کی کوشش بھی کریں تو دو تین سو لوگوں کا لیں گے؟ نہیں ہم پاگل ہیں؟ ہاں، آپ سمجھتے ہیں تو الگ بات ہے، لیکن ہیں تو نہیں نا!
    اور پاکستانی قوم ماشاء اللہ اتنی بےغرض ہے کہ آپ اگر کسی راہ چلتے شخص سے گردہ مانگ لیں تو وہ کبھی انکار نہ کرے۔ لیکن questionnaires کا سن کا یوں انکار بھاگ کر آتا ہے جیسے فِل کرنے پر جنگ چھڑ جاتی۔ پر خیر خدا کے چند ( دو اڑھائی سو) رحمدل بندے اور بندیاںسوالنامہ حل کرتے ہیں۔ کچھ آدھا چھوڑ دیتے ہیں، کچھ ایسے خوبصورت ڈیزائن بنا کر واپس کرتے ہیں جیسے آرٹ گیلری میں رکھنا ہو۔خیر اس مرحلے کو پار کرتے ہی آپ ایسے جزیرے پر قدم رکھتے ہیں جہاں کی بولی ” ون، ٹو، تھری، ون، نہیں!فور فور۔۔ ہوتی ہے۔ ” ہر جگہ سے یہی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس آئی لینڈ کا نام ڈیٹا انٹری ہوتا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھے، کھاتے ہوئے اور سوتے ہوئے بھی ” ون، ٹو، ون، ٹو ” چل رہا ہوتا ہے۔

    آگے کے مرحلے اس سے بھی زیادہ تلخ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے لیپ ٹاپ کو آگ لگا دیں، ڈگری چھوڑ دیں۔ بار بار ڈاکومنٹ سرخ ہو کر لوٹ آتا ہے جیسے سپروائزر کے پاس چیکنگ بجائے پولیس انسپکٹر کے پاس تفسیش کے لیے گیا ہو۔ یہ سفر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ چلنے سے رینگنے اور پھر رینگنے سے خود کو گھسیٹنے پر آ جاتے ہیں۔ دماغ معافیاں مانگنے لگتا ہے، جسم دہائیاں دیتا ہے۔ زندگی واپس بلاتی ہے لیکن ہم دلدل ہم پھنس چکے ہوتے ہیں۔ گھر والے بھی کرایہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کھانے اور سونے آنا ہے تو کرایہ دینا شروع کر دو۔ پھر جب viva کا دن آتا ہے۔ اس دن تو آپ حال نہ پوچھیں۔ گوگل اور کتابوں کے اندر سے سارا علم نچوڑ کر اپنے اندر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب ہم تفتیشی کمرے میں داخل ہونے لگتے ہیں تو جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے،آپ سن کر غمِ دانش بھول جائیں گے۔ ہم اپنے چیرمئین کو دیکھ کر معصومیت سے کہتے ہیں
    ” میرا یہ بھرم تھا، میرے پاس تم ہو۔ ”
    اور وہ آگے سے کہہ دیں
    ” میں تم لوگوں کو نہیں جانتی! ”

    مطلب کیسے؟ سر ہم وہی ہیں جو آپکی راہ میں بھٹکتے رہے ہیں۔ انہی گلیوں میں پھرے ہیں ہم! آپ کیسے بھول سکتی ہیں؟
    لیکن یہ غم دل میں لیے ہم جب اندر جاتے ہیں تو علم کا سمندر ہمارے اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ ہم سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں کہ مارو سوالات کے راکٹ لانچر ہم تیار ہیں۔ وہ سامنے بیٹھے ٹیچرز خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بس یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے اس ریسرچ سے کیا سیکھا؟ وہاں تو پھر سقراط اور اقبال کے جانشینوں کی طرح جواب دینے پڑتے ہیں۔
    لیکن جب گھر آ کر اس سوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو ہمیں خواری لگ رہی تھی، وہ تو ہماری تراش تھی۔ ہمیں جو رگڑا لگ رہا تھا، وہ تو ہمیں سنوارا جا رہا تھا۔ ہم نے اس ریسرچ سے صبر، محنت کے علاوہ ریسرچ کرنا اور ٹھیک انداز میں کرنا سیکھا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور انکی اصلاح کی ہلکی ہلکی خراشوں نے ہمیں ہیرہ بنایا۔ چار ماہ میں جتنا غصہ آتا تھا، اب اتنا ہی فخر ہوتا ہے کہ ہمارے استاد ہمیں بیکار کوئلے سے چمکدار ہیرہ بنا دیا ہے۔ یہ سب ہمارے اپنے فائدے کے لیے تھا۔ سونے کو پگھلانے اور بہترین شکل میں ڈھالنے کے لیے تپش دینی پڑتی ہے۔ پر جو جلنے سے انکار کر دے، وہ عام دھات ہی رہتا ہے اور جو جلنے پر آمادہ ہو جائے، وہ کندن بن جانا ہے۔ ہم اپنے اساتذہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں کندن بنایا۔ کامیابی کی سند پر یقیناً ہمارا نام ہو گا لیکن سند، ہمارے اساتذہ کے نام ہو گی۔

    ( وہ جو ہم نے بل گیٹس بننے کا سنہری موقع گنوایا ہے، وہ یقیناً ہمیں مستقبلِ قریب میں واپس ملنے والا ہے )

  • کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    کرونا اور لاک ڈاؤن . تحریر : عزیز الحق

    ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور ساری دنیا کرونا وبا کی چوتھی لہر اور متعدد قسم کے بیماریوں کے لپیٹ میں ہے، بھارت سے نمودار ہونے والا ویرینٹ ڈیلٹا بہت ممالک کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے اور انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے اب ہمارے پاکستان کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے، 2019 میں یہ وبا ظاہر ہونے کے بعد 2020 میں یہ وبا کئی لاک ڈاؤن متعارف کرواچکے ہیں جیسے اسمارٹ لاک ڈاؤن، مائیکرو لاک ڈاؤن اور مکمل لاک ڈاؤن سے پہچانے جاتے ہیں، عید ہو یا کوئی اور تہوار، خوشی کی سبھی مواقع چھین لیا ہے، لوگ پریشان ہیں مزدور ہو یا بزنسمین کاروبار کو تھالے لگے ہوئے ہیں، کبھی کبار تو یہ بیماری اتنی شدید پھیلتی جا رہی ہیں کہ عوام میں ایک خوف پیدا ہوجاتا ہے وہ یہی سوچتا ہے کہ شاید یہ وباء اب ختم ہونے کا نام نہیں لے گا، لیکن ہمیں بحیثیت ایک قوم اس وباء سے لڑنے کی اشد ضرورت ہے اور ہر بندے کو اختیاطی تدابیر پہ عمل کرنا اپنی اور دوسری انسانوں کی جان بچانے میں پوری کردار ادا کرنا چاہئیے.

    دنیا کی ہرحکومت خاص کر ہمارے سائینس دان طبقہ جس طرح اس مرض سے نپٹنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے، ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہونا چاہئیے اللہ پہ بھروسہ کرنا چاہئیے اورجو وقت کے مطابق ایس او پیسز ہیں اس پہ عمل کرنا چاہئیے، اللہ ساری دنیا سے کرونا جیسے ہر وباء کو انسان محفوظ رکھے. آمین.

    @azizbuneri58