Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلام میں عورت کا مقام  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏اسلام میں عورت کا مقام
    اسلام ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے کہ جس نے عالم انسانیت سے ظلم کے اندھیروں اور جہالت کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف کا بول بالا کردیا اور عورت جو کہ اس دور جہالت کے وقت مظلوم طبقہ تھی اور سب سے نیچ طبقہ سمجھتے تھے اور ان کی کوئی عزت نہیں تھی. اسلام نے اسے اتنا اونچا مقام دے دیا کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہوگئی.
    تاریخ گواہ ہے کہ تمام مذہبوں میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا اور عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی کھوئی ہوئی عزت و احترام دوبارہ دلا دی.
    دوسرے مذاہب میں عورت کی ذرا برابر بھی حیثیت نہیں تھی.
    بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے جاتے تھے کہ جسے آج  کوئی سوچ بھی نہیں سکتے.
    اسلام میں عورت کی حیثیت کے حوالے سے بے شمار احادیث موجود ہے. جس میں ایک مندرجہ ذیل ہیں.
    خاتم النبیین حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ جس عورت نے پانچویں وقت کی نماز پڑھی، رمضان شریف کے روزے رکھے، اپنے نفس کو غلط کاموں سے روکا اور اپنے شوہر کی تابعداری کی وہ جنت الفردوس میں جس دروازے سے داخل ہونا چاہے اسے اجازت ہوگی.
    اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دیا اور عورت کو ماں کے روپ میں وہ مقام دیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی اور ان کے چہرے کو محبت کی نظر سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے.
    اسلام نے ماں کو باپ سے تین درجہ مقدم رکھا.
    اسلام نے عورت کو اتنی عزت دی کہ قرآن مجید میں دو سورتیں(سورۃ النساء اور سورۃ مریم) کے نام پر نازل کردی.
    حضرت محمد ص نے آخری خطبہ حجتہ الوداع میں بھی عورت کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی.
    ایک موقع پر حضور اکرمؐ نے فرمایا: ‘کی جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئی تو قیامت کے دن میں اور وہ شخص اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔
    اب عورتوں کو سوچنا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو اتنا اونچا مقام دیا مگر بدلہ میں اب عورتیں کیا دی رہی ہے.
    اسلام نے عورتوں پر باریک کپڑوں کو استعمال کرنے پر پابندی لگادی ہے مگر آج ہم اپنے بازاروں پر نظر دوڑائیں تو ہماری آنکھیں شرم سے جھک جائیگی.
    آج جو عورت ایک بار پھر سے ذلالت کی طرف جارہی ہے اور ان پر دنیا تنگ ہورہی ہے ان میں عورتوں کا بھی برابر کا قصور ہے کہ دین سے دور ہوتی جارہی ہے.
    عورت معاشرے کا ستون ہے اور ان کی تربیت سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور تباہ بھی ہوتے ہیں.
    عورت کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی. آج جو کچھ عورتیں باہر سڑکوں پر نکل کر عورتوں کو آزادی دلانے کی بات آواز اٹھا رہے ہیں اور اسلام کے قوانین کو زنجیر کہہ رہے ہیں دراصل یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے نام پر فخاشی پھیلے اور پہلے جہالت کی زمانے کی طرح عورتوں کی خرید و فروخت جاری ہوجائے.

    ٹویٹر : ‎@ZeeAkhwand10

  • ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر

    ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر


    ماه فروری پاکستان میں ادبی گہما گہمی کا مہینہ تھا کراچی اور لاہور ادبی میلے اپنے عمومی طریقے سے منعقد کیے گئے۔ ان دو ادبی تقاریب نے ملک کے ادبی منظر نامے میں شہرت حاصل کر لی ہے ۔ان اعلی پیانے کے میلوں کے درمیان مادری زبانوں کے ادبی میلے کا ایک قابل ذکر آغاز ہوا۔ یہ اپنی قسم کا پہلا میلہ تھا، وفاقی دار لحکومت میں منعقدہ اس میلے میں متفرق افراد نے ملک کے ہر کونے سے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی زبان و ثقافت سے آراستہ ومزین کیا۔

    مادری زبانوں کے میلے میں ملک بھر کے طول و عرض کی مختلف زبانوں کے مصنفین، شاعروں، گلوکاروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ایک سو پچاس سے زائد لکھاریوں نے چوبیس ادبی مزاکروں میں بارہ سے زائد زبانوں میں ہونے والے ادبی کام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مادری زبانوں کا مشاعرہ اور مختلف زبانوں کی شام موسیقی کی شاندار پرفارمنس میلے کے رنگارنگ پروگرام اور دلچسپیاں تھیں۔

    یہ میلہ انڈس کلچرل فورم نامی ایک نئی تنظیم نے پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ، لوک ورثہ اور ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کیا۔ لوک ورثہ نے میلے کے لیے اپنی پر فضا جگہ فراہم کی جہاں رنگارنگ ثقافتوں اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا گیا۔

    میلے کے ادبی سیشن اور پر فارمنس صرف بڑی زبانوں اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی بلوچی، تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں براہوی، پہاڑی، چترالی، بروشسکی، شینا،کشمیری، وخی، توروالی بلتی، گوجری، دری، ہزارگی، ہندکو اور پوٹھوہاری کو بھی خاطر خواہ شمولیت دی گئی تھی۔ متنوع ثقافوں کے اس اجتماع سے ایک سیاسی پیغام بھی واضح ہو کر سامنے آیا کہ طویل عرصے سے اگرچہ بیدخل نہیں کئے گئے تاہم نظر انداز کی گئی ملکی ثقافتیں اور زبانیں ملک کے سیاسی و ثقافتی منظر نامے میں اپنے حقوق اور جائز حصہ مانگ رہی ہیں۔

    میلے کی تقریبات اقوام متحدہ کے مادری زبانوں کے عالمی دن کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کی مادری زبانیں جن کو اکثر ” مقامی زبانوں ” کے نام سے پکار کر ان کی حیثیت کم کی جاتی ہے، اپنے اندر علم و دانش اور تخلیق کے بے بہا اور بے مثل خزانے رکھتی ہیں۔

    اپنے وجود کی سات دہائیوں کے بعد بھی ملک نے تاحال ان زبانوں کو قومی زبانیں تسلیم نہیں کیا ہے، اور اس کی وجہ ایک خود ساختہ حب الوطنی کا راگ الاپنے والے اس عمل کو قومیت کی فریبی نعرے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے سازشی نظریات پیش کرنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے اور یقین مستحکم رکھتے ہیں کہ ایک سے زائد قومی زبانیں قومی کجہتی کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ حس پر مبنی اس افسانوی بات نے لاکھوں افراد کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔

    ترقی یافتہ دنیا، ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہیں اور اس کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں اور ان کو فروغ دیتے ہیں جو متنوع معاشرے میں مختلف گروہوں کے مختلف افراد کے درمیان جڑت پہنچاتا ہے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس، یک ثقافتی اقدار کو فروغ دینا سماجی ہم آہنگی کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے

    مختلف قوموں کی فیڈریشن میں ان سب کو ایک زبان اور ثقافت کے ساتھ زبردستی جوڑ نے سے متحد نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مصنوعی قوم کی ترویج کا تجر بہ 1971 میں تباہ کن نتیجے کی شکل میں سامنے آیا۔ عمومی خیال یہی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچ 1948ءاس وقت بوۓ گئے جب نوزائیدہ مملکت میں بنگالی زبان کو قومی زبانوں کے طور پر رائج کرنے کے حق کو مسترد کر دیا گیا۔

    کچھ تنگ نظر سیاسی عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی اس لیے سرکاری حکم ناموں کے ذریعے ایک متحد قوم بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ قومیت کو ریاستی امور کے بجاۓ ذاتی معاملے کے طور پر جانچا جانے لگا۔ یہ مفروضہ بنایا گیا کہ قومیں، جن کی شناخت اور ورثہ ہزاریوں میں تشکیل پایا، ایک رات بھر اپنا تشخص پس پشت ڈال کر ایک نئی بنائی گئی شناخت اختیار کر لیں گی۔ کسی بھی سرکاری حکم نامے پر اعتراض یا اس کی تعمیل سے انکار کو غداری اور حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا گیا، یہ سب نا صرف غیر حقیقی تھا بلکہ ناجائز حد تک غیر منصفانہ بھی تھا۔ اسی باعث اس کا بھیانک نتیجہ نکلنا یقینی تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس دیوانگی کے انجام نے ہر ایک کو حیران و پریشان کر دیا۔

    حقائق سے انکار ہمارا قومی رویہ ہے جس نے ہمیشہ ہم کو تاریخ سے سکھنے سے محروم رکھا ہے۔ اور ماضی کی غلطیاں دھرانے کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ایک راس جانچ کی شدید اور فوری ضرورت ہے جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے

    ہمارے سفر کا راستہ اس کے آغاز سے ہی غلط سمت میں اختیار کیا گیا۔ ثقافتی طور پر متنوع اور سیاسی طور پر مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے اسلام اور اردو کو جڑت کے عناصر کے طور پر استعمال کیا گیا انتظام اور وجوہات سے قطع نظر سندھ اور بنگال کے لئے سکولوں عدالتوں وصول دین اور دیگر سرکاری معاملات میں دھائیوں سے رائج تھیں۔

    بنگال اور سندھ میں زبان کی نقل و حرکت کے نتیجے میں دونوں صوبوں میں قوم پرست تحریکوں کی تقسیم کے نتیجے میں۔ غیر مطلوب حکمرانی شعار اردو نے پاکستانی قوم پرستی کے ٹائل کا نشان لگایا اور اس طرح ملک میں دیگر قوموں کی دوسری زبانوں کے خلاف اسے گھیر لیا۔

    اگر چہار دو مختلف لسانی قومیتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور اپنی صلاحیت رکھتی تھی، یہ تنازعے کا مرکز اور پاکستان کے آبادی کی زیادہ تر آبادی پر عائد ثقافتی حاکمیت کی ایک علامت بنادی گئی۔ جب اقتدار کے مراکز نے اردو کو پاکستان کی وسیع آبادی پر ثقافتی یک رنگی کی علامت کے طور پر تھوپا تو اس نے پورے ملک میں اردو کے خلاف ایک غیر ضروری کے جذبے کو ہوادی اور قوم پرستی ایک رد عمل کے طور پر سامنے آئی کہ وہ ریاست میں اپنا حصہ دوبارہ لینے کے لئے ایک نقطہ نظر اپناۓ۔

    دنیا میں متعدد ممالک ہیں جہاں ایک سے زائد زبان کو قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی قومی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ کچھ ایسی مثالیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ عربی اور بربر الجزائر کی قومی زبانیں ہیں فن لینڈ میں دو قومی زبانیں ہیں۔ فینیش اور سویڈش۔ پڑوسی بھارت میں 23 قومی زبانیں ہیں۔ نائجیریا نے تین اکثریتی یا قومی زبانوں کو تسلیم کیا۔ ہوسا، اگبو، اور یوروبا۔ سنگا پور میں چار چار سرکاری زبانیں ہیں۔ انگریزی، چینی، ارٹی اور تامل۔ جنوبی افریقہ میں 11 قومی اور سرکاری زبانیں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانش سمیت چار قومی زبانیں ہیں۔ ہانگ کانگ میں انگریزی اور چینی سرکاری زبانیں ہیں۔ سری لنکا میں سنہالا اور تمل سرکاری زبانیں ہیں۔ ان ممالک میں سے پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب کوئی بھی ایک سے زیادہ قومی زبانوں کی وجہ سے سیاسی اور قومی سالمیت کو خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ ان میں سے کچھ ہم سے کہیں زیادہ مستحکم اور بہتر مر بوط ہیں۔

    تقریباً سات دہائیوں کے بعد ایک زبان کے ساتھ مخاصمت اب بھی موجود ہے اور باقی ماندہ اتحاد کے پارہ پارہ ہونے تک جاری رہے گی۔ دو سال قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے پاکستان کی زبانوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک بل کور دکر دیا۔

     پاکستان مسلم لیگ ن کی قانون ساز ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔ صرف چند مہینے قبل ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ نے ایک قرار داد منظور کی جس میں پاکستان کی 13 زبانوں کو قومی زبانوں کادرجہ دیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے کچھ شرکاء نے اس کوشش کو پاکستانی قوم کو باٹنے کی کوشش قرار دیا ان کی تخیل کی پیداوار ہے۔

    ملک کو دہشت گردی اور سیاسی انتشار کا نتیج در پیش ہے ایسے موقع پر زبانوں اور ثقافتوں کی کثرت و امتزاج کے ذریعے ہمدردی اور اتفاق رائے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی تاریخی شناخت کو تسلیم کر کے ان کے مابین رابطے بہتر بنائے جا سکتے ہیں اور اس سے عوام اور ریاست کے درمیان مستقل پل کا کام لیا جاسکتا ہے۔

    ایک کثیر ثقافتی اور لسانی معاشرے کو ثقافتی طور پر حساس پالیسی کے ماحول کی ضرورت ہے۔ قوم کی تعمیر ایک نامیاتی عمل ہے جو سرکاری اعلامیے کے ذریعے تیز نہیں کیا جاسکتا اور باقی سب زبانوں اور ثقافتوں کے بدلے ایک زبان اور ثقافت کی ترویج میں کرنا ممکن ہے۔ ایک مذہب اور ایک زبان کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر کا غلط نسخہ بالاخر مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے اردو زبان جو اتحاد کا عنصر ہو سکتی تھی کسی طرح نفاق کی وجہ بن گئے تمام زبانوں کو ختم کیے جانے کی کوشش کے مقابلے میں ان کا احترام اور تسلیم کیے جانے کے سیاسی اثرات کہیں بہتر نتائج دیں گے

    سات دہائیوں سے یک قومی یکجہتی پر مبنی مصنوعی عقیدے نے ملک کو انتہاپسندی کی دلدل میں و تھکیل دیا ہے۔ ایک زبان اور ایک قوم کے نعروں نے لوگوں کے درمیان نہ صرف نفاق پیدا کیا ہے بلکہ ہر قسم کی نفرت بھی پروان چڑھی ہے۔ ثقافتوں کے تنوع کا جشن منانا اور ان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک متبادل بیانیے کے طور پر اپنایا جاسکتا ہے۔

    قدیم زبانوں کے لوک ادب، امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغامات سے بھرپور ہیں۔ انسانیت ان ثقافتوں کی بنیاد ہے، عوامی ثقافتوں کی بحالی اور ترویج ہماری آئینی اور پالیسی سازی کی مشینری کو معاشرے کے ثقافتی تنوع کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ کر کے درست سمت میں سفر کیا جاسکتا ہے۔

    ٹوئٹر اکاؤنٹ ‎@GoBalochistan

  • ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام  کی بحالی ناگزیرہے   تحریر:  خرم جمال شاہد

    ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیرہے تحریر: خرم جمال شاہد

    ‎@KhurramAJK
    جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گاجب عوام کوبااختیار کرکے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ بااثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔ اب تک ملک عزیز میں عام آدمی بلخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیئے صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔ بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ فعال اور موثربلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اوروہ ممالک زوال پذیر ہیں۔

    بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔ اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی (مقامی) سطح پرمنتقلی کے زریعے عوام کا بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثروبیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فندز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پرمختص کیا جا نا ضروری ہے۔ اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیئے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیئے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔ اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلمینٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی طرقی کے لیئے بروئے کار لاسکتا ہے۔

    موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکہ، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی سکیمیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی زمہ داری "ملکی امور، قانون سازری و آئینی ترامیم، ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثرنفاذ ” کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکہ، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکمیوں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

    بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔ اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے زریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیئے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔ جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

    بلدیاتی نظام کیا ہے۔اس کی ابتدا کب ہوئی۔اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔اس نظام کے آنے سے عام عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے زاتی مفاد یا سیاسی اکابرین / راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے)۔یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریزدور 1846سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔1947میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھاا س کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے،ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود،صحت،پانی،صفائی و دیگر بنادی انفراسٹکچر و غیرہ شامل تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظا م کا خاتمہ کر دیا۔ اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کومذید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔ 2001میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈینس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیااور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

    پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیئے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔ 1960میں جنرل ایوب اور پھر 1982میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ دوبارہ1986اور1991میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لیکر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

    بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔ ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی،نلکہ اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے،اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیاا ور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیئے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کررہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہونگے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے زریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اوروکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    جنگ احد ‏تحریر سکندر کھوسہ

    ۔
     یہ مقام ، شمالی مدینہ میں ہے ، جہاں احد کی جنگ 3 ہجری (624 عیسوی) میں ہوئی۔  یہ مسلمانوں اور کافر مککین افواج کے مابین دوسری جنگ تھی۔  ابتدائی فتح مسلمانوں کے لیے شکست میں بدل گئی جب کچھ جنگجوؤں نے اپنی پوزیشن چھوڑ دی ، غلطی سے یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔
     ایک سال قبل بدر کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ، مکہ کے قریش نے مسلمانوں سے دوبارہ لڑنے اور انتقام لینے کے لیے ایک عظیم فوج جمع کرنے کی تیاری کی۔  انہوں نے 300 اونٹوں ، 200 گھوڑوں اور 700 کوٹ ڈاک کے ساتھ 3000 سپاہیوں کی فوج جمع کی۔  بدر میں مقتول سرداروں کی بیویاں اور بیٹیاں فوج کے ہمراہ قاتلوں کے مارے جانے کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتی تھیں۔  ابو سفیان مکہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا اور اس کی بیوی ہند نے خواتین کے سیکشن کی کمان کی۔  دونوں اس وقت غیر مسلم تھے اور اسلام کے سخت دشمن تھے۔  بائیں اور دائیں طرف کا حکم بالترتیب عکرمہ ابن ابی جہل اور خالد بن ولید نے دیا۔  عمرو بن العاص کو گھڑ سوار کا کمانڈر نامزد کیا گیا اور ان کا کام گھڑ سوار پروں کے درمیان حملے کو مربوط کرنا تھا۔  (تینوں بعد میں مسلمان ہوئے اور اسلام کے عظیم جرنیل بن گئے)
     نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 700 مسلمانوں کی فوج کے ساتھ کوہ احد کی وادی کے لیے مدینہ چھوڑا اور اپنی فوج کو جنگ کے لیے کھینچ لیا۔  جنگ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 50 تیراندازوں کو عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ماتحت رکھا تھا۔  اس نے (ﷺ) انہیں سختی سے حکم دیا کہ اگلے احکامات تک وہیں رہیں ، جو بھی شرط ہو۔  اگر وہ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کریں تو وہ دشمن کو روکیں گے۔
     دونوں لشکر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک شدید جنگ شروع ہوئی۔  مسلمان سپاہیوں نے اپنے حملے کو کافروں کے گیارہ معیاری علمبرداروں پر مرکوز رکھا یہاں تک کہ وہ سب ختم ہو گئے۔  جیسے ہی دشمن کا معیار زمین پر گرتا گیا ، مسلمان سپاہیوں نے اپنے آپ کو دشمن کے خلاف پھینک دیا۔  ابو دجانہ (رضي اللہ عنه) اور حمزہ (رضي الله عنه) نے بڑی بے خوفی کے ساتھ جنگ ​​کی اور میدان جنگ میں ان کی بہادری کے کارنامے مسلم فوجی تاریخ میں افسانوی بننے والے تھے۔
     حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے نقصان کے باوجود ، مسلمان ان کافروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے جنہیں ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ، بھاگنے لگے۔  کافر عورتیں بھی بکھر گئیں جب کچھ مسلمان فوجیوں نے پیچھا کیا۔
     یہ سمجھی ہوئی فتح کے اس مقام پر تھا کہ واقعات نے بے نقاب ہونا شروع کیا۔  تیر اندازوں کو جنہیں اپنے بھائیوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پیغمبر کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اپنے اسٹیشنوں کو چھوڑ دیا۔  چالیس پچھلے پہاڑ پہاڑ سے اترے اور مسلمانوں کو دشمن کے جوابی حملے کا شکار کر دیا۔
     خالد بن ولید نے دیکھا کہ اچانک خلاء پیچھے کے محافظ کے غائب ہونے سے پیدا ہوا اور اس کے گھڑسواروں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کیا ، اس عمل میں بہت سے لوگ مارے گئے۔  جب مسلمانوں نے اپنے آپ کو گھرا ہوا دیکھا تو وہ گھبراہٹ اور انتشار سے دوچار ہو گئے اور ایک مربوط منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔
     دشمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اپنا راستہ لڑا جسے پتھر سے مارا گیا اور آپ کے پہلو میں گر گیا۔  اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک کاٹا گیا ، اس کا نچلا ہونٹ کاٹا گیا ، اور اس کا ہیلمٹ خراب ہو گیا۔  جب دشمن کے ایک سپاہی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار پھینکی تو اس نے اپنی ہڈی کو آنکھ کے نیچے اور دو کو پکڑ لیا۔
    Twitter Account ‎@SikandrKhosa

  • زندگی میں ہمیں وہی ملتا ہے جو ہم مانگتے ہیں۔ تحریر:محمد اسحاق بیگ 

     اب آپ ضرور سوچیں گے کہ یہ سچ نہیں ہے۔  آپ کہتے ہیں کہ آپ  اپنے لیے آزادی اور خوشی مانگتے ہیں  پر آپ کو جو کچھ ملا وہ اس کے بر عکس ہے  اور آپ اسے برا محسوس کر رہے ہوتے ہیں اپنے آپ کے لیے ۔

     آئیے اس پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہ تخلیق کیسے کام کرتی ہے اور ہمارا لاشعوری ذہن کیسے کام کرتا ہے۔  کیونکہ یہ ایک ہی ہے۔

     ہر چیز جو موجود ہے کسی کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔  ہر چیز ایک سوچ سے شروع ہوتی ہے۔  سوچ ایک توانائی ہے۔  توانائی خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہے۔  ایک ہی سمت میں بہت سارے خیالات ، یہ یقینی طور پر ، حقیقی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ایسا ہی چلتا رہے گا ۔

     یہ تخلیق کا عمل ہے۔

     ہم اسی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔  ہم تخلیق کے اس عمل کو ہر وقت استعمال کرتے ہیں ،

     اسے جانے بغیر

     جب ہم ہوش میں نہیں ہوتے ، تب ہم زیادہ تر لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس طاقت کو منفی زندگی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔   جب ہم منفی سوچ رکھتے ہیں  تو منفی نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اتنا تو ہر ذی شعور انسان بہت اچھے سے جانتا ہے ۔

     ایک بار جب ہم مثبت خیالات سوچنا سیکھ لیں گے تو ہم اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کریں گے۔

     کس طرح آیا؟  ہمارا لاشعور۔۔۔۔۔۔

     

      دماغ زمین کی طرح ہے۔  جو ہم بوتے ہیں اس میں مداخلت نہیں کرتا۔  زمین یہ نہیں کہتی: ” میرے پاس ان گاجروں کی کافی مقدار ہے ، یہ ہر بار  ہم جب بھی گاجر لگایئں گے زمین گاجر ہی دے گی  یہ ایک ہی چیز ہے ، میں اس کے آلو بناؤں گا!”  زمین یہ نہیں کہتی: ” مجھے سرخ پھول پسند نہیں ، میں ان گلابوں کے لیے سرخ کو نیلے رنگ میں بدل دوں گا!”  زمین مداخلت نہیں کرتی۔  زمین صبر کرتی ہے ، خاموشی سے کام کرتی ہے اور ہمیں وہی دیتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔  اور ہم یہ جانتے ہیں! 

      ہم جانتے ہیں کہ ہمیں وہی ملے گا جو ہم زمین میں ڈالتے ہیں۔  جب ہم اس میں پیلے رنگ کے پھول ڈالتے ہیں ، ہم توقع نہیں کرتے کہ جب وہ کھلیں گے تو وہ سرخ ہوں گے۔  جب ہم باغ میں گلاب بوتے ہیں تو ہم توقع نہیں کرتے کہ موسم بہار میں پیاز نکل آئے گا!

     اور پھر بھی ہم حقیقی زندگی میں اسی طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔  ہم پیاز بوتے ہیں اور گلاب کی توقع کرتے ہیں۔  ہم اپنے ذہن (پیاز) میں منفی خیالات بوتے ہیں اور اچھی چیزیں (گلاب) نکلنے کی توقع رکھتے ہیں!  

     ہم خود کو بیوقوف بناتے ہیں!  اور ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔  ہم تلاش کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کا قصور کون ہو سکتا ہے (عام طور پر ہم والدین یا شوہر/بیوی کو ہماری زندگی میں جو غلط ہو رہا ہے اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں)۔  اور پھر ہم روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی قسمت نہیں ہے۔  ہم پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے باغ میں گلاب ہیں ، اور ہم حیران ہیں کہ ہم نے اپنے باغ میں صرف پیاز کے مستحق ہونے کے لیے دنیا کے ساتھ کیا کیا!

     جب آپ کے خیالات کا مرکزی دھارا منفی ہے ، تو آپ جتنی بھی کوشش کر لیں جب تک آپ اپنے ذہن سے منفی سوچ کو نکال باہر نہیں کر لیتے تب تک  نتیجہ منفی  ہی ہوگا۔  

     

     آپ کے خیالات آپ کے لاشعوری ذہن میں آتے ہیں ، جو آپ اس میں ڈالتے ہیں۔  یہ زمین کی طرح ہے۔  یہ کمپیوٹر کی طرح ہے۔  جب آپ اپنے کمپیوٹر میں ٹائپ کرتے ہیں: "میں بیوقوف ہوں ، میں موٹا ہوں ، میں بدصورت ہوں ، کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا” ، کیا آپ اپنے پرنٹر سے ناراض ہیں جب کاغذ باہر آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ

      "میں بیوقوف ہوں ،

       میں موٹا ہوں ،

       میں بدصورت ہوں”

        کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا”؟

        کیا آپ اپنے کمپیوٹر پر جوتا پھینکتے ہیں اور کیا آپ اس پر چیختے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کا قصور ہے جو غلط ہو رہی ہے؟  نہیں ، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اس معلومات کو اس میں ڈال دیا ہے اور آپ کا کمپیوٹر مداخلت نہیں کرتا ہے۔  آؤٹ پٹ بالکل ان پٹ سے مماثل ہے۔

     یہ ہمارے لاشعوری ذہن پر کام کرتا ہے۔  اگر آپ کو آؤٹ پٹ پسند نہیں ہے تو ، ان پٹ کو تبدیل کریں۔  آپ کو وہی ملتا ہے جو آپ مانگتے ہیں 

     جو آپ پورے دن کے بارے میں سوچتے ہیں۔  اپنی زندگی سے ناراض نہ ہوں۔  آپ پیاز سے ناراض تو نہیں ہیں؟  کیا آپ اپنے کمپیوٹر سے ناراض نہیں ہیں؟  ناراض ہونے کے بجائے ، یہ سیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کرنا سیکھیں۔  مثبت سوچ سوچنا شروع کریں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ حقیقی زندگی میں ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ سچ بننا چاہتے ہیں۔  اور تھوڑی دیر انتظار کرو ، صبر کرو۔  ایک دن آپ اپنی سلائی کی فصل کاٹ لیں گے ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین آپ کو وہ چیز واپس دے گی جو آپ نے اس میں ڈالی ہے۔  یہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

       بس انتظار کرو اور دیکھو.

    آپ سب کی محبتوں کا شکریہ جو آپ میری تحریر کو پڑھتے ہیں ۔آپ سب سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں

     

    @Ishaqbaig___

  • سوشل میڈیا اور اسکا  استعمال: تحریر نعمان سرور 

    سوشل میڈیا اور اسکا  استعمال: تحریر نعمان سرور 

    آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے ہر دوسرا بندہ سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ  اٹھا کر دیکھ لیں آج تک میڈیا کو ایسی آزادی نہیں ملی جو موجودہ دور میں ہے۔ ہر شخص سمجتا ہے کہ وہ آزاد ہے اپنی بات دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے۔”آزادی رائے” کے نام پر جس کا جو دل چاہتا ہے وہ کہتا ہے۔

    بزرگوں اور استادوں سے سنتے آئے ہیں کہ الفاظ ہماری شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ آپ کے بولنے سے آپ کی شخصیت تربیت اور اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات سولہ آنے سچ ہے۔

    سوشل میڈیا کا استعمال چھوٹا ہو یا بڑا خواتین ہو یا مرد ہر کوئی کر رہا ہوتا ہے یہ ایک ایسی لت کہہ لیں پڑ جاۓ تو اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اسکے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اگر آپ اسکا درست استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ میں وسعت پیدا کرتا ہے آپ کی شخصیت کو مزید اُبھارتا ہے-

    مگر بد قسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا مثبت کم ہاں مگر منفی استعمال زور و شور سے کیا جاتا ہے دیکھا جاۓ تو اس منفی استعمال سے ہمارا مذہبی، معاشرتی اخلاقی اور خاندانی نظام  کھوکھلا ہو کر رہ گیا ہے رہی سہی کسر ہمارے میڈیا نے پوری کر دی ہے.

    سوشل میڈیا پر مجھے  بہت حیرت ہوتی ہے چھوٹے بچوں کو دانشور بنے دیکھ کر جس عمر میں ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے ہمارے بچے موبائل ہاتھ میں لے فلسفہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں لوگوں کی کردار کشی ٹرولنگ کرنے میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں اس کام میں اگر میں کہوں کہ بس ہمارے لڑکے شامل ہیں تو غلط ہو گا لڑکیاں بھی پیچھے نہیں ہمارا معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے اور ہماری نوجوان نسل وہ تو اخلاقیات سے عاری ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ ہم سب کے لئے  انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

    اظہار رائے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انتہائی موثر ذریعہ ہے ایک عام آدمی اپنی بات دنیا کے ہر کونے میں باآسانی پہنچا سکتا ہے مگر آج ہمارے بچوں کے پاس شاہد دلیل کی شدید کمی ہے اسی لئے گالم گلوج کو ترجیح دیتے ہیں  تاکہ اکثریت کو اپنی بات کے لیے قائل کر سکیں۔

    سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ سیٹ ہے ہر سیاسی جماعت نے  نوجوانوں کو اپنے فائدے کے لئے رکھا ہوا ہے اور  منافقت کا  یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنی سیاسی جماعت کی برائی کو پس پشت ڈال کر دوسری جماعتوں کی خرابیوں کو ڈسکس کرتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں آجکل کا  نوجوان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں اتنا مگن ہو گیا ہے کہ یہ تک بھول چکا ہے کہ اللّٰہ نے اسے بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں ایک سوچنے والا دماغ ہے جو تفکر و تدبر اور عقل و شعور کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان مسلط شخصیات نے نوجوانوں کی تنظیمی طاقت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اُنہیں ایک دوسرے کے مقابلے لا کھڑا کیا ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا انکا مشن بنا دیا ہے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میڈیا سیل کے تابع کر کے نوجوان کی اپنی شخصیت تباہ کر دی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کا نوجوان ان لٹیروں اور مافیاز سے کہیں زیادہ عزت والا ہے۔

    ہر چیز کے نقصانات  کے ساتھ اسکے فائدے بھی ہوتے ہیں اگر ہمیں اس بات کا شعور ہو جاۓ تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی ایشو کو موثر انداز میں سوشل میڈیا پر اٹھایا جاۓ تو انتظامیہ اس پر ضرور نوٹس لیتی ہے اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے سوشل میڈیا کا درست سمت میں استعمال کیا جائے اس میں کوئی شک نہیں یہ بہت بڑی طاقت ہے. مگر اس کا چیک اینڈ بیلنس ہونا بھی بے حد ضروری ہے اسکا استعمال کریں بھر پور کریں مگر اپنے بچوں کو مانیٹر کریں اسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کریں. لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں اور مشکلات میں ان کا ساتھ دیں اور اس بات کا خیال رکھیں کے آپ کا وقت سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے دفاع میں ہو آجکل ہمارے ملک کے خلاف کئی ممالک محاذ کھول چکے ہیں ایسے میں ہماری زمہ داری بحثیت شہری اور بڑھ جاتی ہے کے ہم اپنے وطن کا دفاع کریں اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بنیں سچے پاکستانی بنیں اور ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیں جو سب کے لئے راحت اور سکون میسر کرے یقین جانیں یہ صدقہ جاریہ ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    ٹوئٹر اکاونٹ @Nomysahir

  • ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں تحریر:ہارون خان جدون

    ربیع الاول کی فضیلت اور ہماری کچھ ذمدارياں
    عربی زبان میں ربیع کے معنی بہار کے ہیں اور اول کے معنی پہلا ہے بہار ہے

    یعنی ربیع اول کا مہینہ اسلامی کلینڈر کے حساب سے تیسرا مہینہ ہے اس مہینے کی مسلمانوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے کیوں کے اس مہینے میں 12 ربیع الاول کے دن آقا نامدار حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تشریف لائے.

     حضرت محمّد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت العالمین ہیں اور وہ اللہ  کے آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آے گا مسلمان ہر سال میں اس مہینے کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں خوشی کا اظہار کرتے ہیں اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور ہر طرف چراغاں کیا جاتا ہے گھروں اور مساجد میں عیدمیلادالنبی کی محفلیں کا انقاد کیا جاتا ہے ہمیں بلکل اسی طرح ہے سال اس دن کو خوشی کے ساتھ منانا چاہیے اور اپنے والدین سے پوچھنا چاہیے کے ہم اس دن کو کیوں مناتے ہیں اور والدین کو اس دن کی اہمیت اپنے بچوں کو بتانی چاہیے اور ہم سبکو حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے اور انکے بتاۓ ہوے طریقوں پر چل کر اپنی زندگی گزارنی چاہیے کیوں اللّه کے رسول ﷺ کے آنے سے جہالت کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا سرور کائنات دنیا میں تشریف نا لاتے تو ابھی تک دنیا میں اندھیرا ہی ہوتا اور دنیا آج تک اندھیرے میں ہی ہوتی انکے آنے سے دنیا میں اجالا ہوا اور حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہمیں سیدھا رستہ دکھایا آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے

     آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر اللہ پاک ہر وقت رحمتیں نازل فرماتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم پر فرشتے ہر وقت درود بھیجتے ہیں

    آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے آگے بڑھنے کی اہل ایمان کو اجازت نہیں ہے

    آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت میں جنت ہے اور دنیا اور آخرت کی بہتری ہے

    جہاں اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہی ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سے محبت بھی لازم ہے

    اللہ پاک نے ہمیں آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے کیوں کے دنیا میں انکی پیروی سے ہی نجات ہے

    پوری کائنات کا وجود انکی نسبت سے ہے اگر آپ دنیا میں نا آتے تو دنیا میں کچھ نا ہوتا میرے اور آپ کے نبی حضرت محمد  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے یہی ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے اسی عقیدے کی نسبت سے اللہ پاک کل روز محشر ہمارے لئے آسانی کرے گا کیوں ہم تو خطاکار ہیں گناہگار ہیں بس یہی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی شفاعت کا واحد آسرا ہے ہمارے پاس، ہمیں چاہیے کے ہم کثرت سے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم درود و سلام بھیجیں.

     ارشاد باری تعالی ہے جس نے میرے محبوب محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔۔

    رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ اور شفاف زندگی کو سیکھ کر اور اس پر عمل کر کے ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اپنی ساری زندگی کو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سیرت کے سانچے میں ڈال دینا ہی اصل محبت ہے

    اگر اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے سچی محبت کے دعوےدار ہیں تو پھر اپنی اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق گزاریں، اچھے اعمال کریں، صلح رحمی اختیار کریں، یتیموں کا خیال رکھیں، حقوق العباد کا خیال رکھیں اپنے ارد گرد لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر انکی مدد کریں، کسی کی حق تلفی نا کریں، کسی کو تکلیف نا دیں، اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاو کریں اور لوگوں تک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کا دین پنچاہیں کیوں کے اب امت میں دین کا کام ہم امتیوں پر فرض ہے

    اگر ہم یہ کام کریں گے تو ہماری اپنی دنیا اور آخرت سنورے گی اور ساتھ ساتھ دوسروں دین سے بٹکے ہوے لوگوں کا بھی بلا ہوگا

    اللہ پاک آپکو اور مجھے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی اطاعت اور پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور مرتے وقت كلمہ نصیب کرے ۔۔۔آمین

    @ItzJadoon

  • سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ  تحریر۔ نعیم الزمان

    سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ تحریر۔ نعیم الزمان

    8 اکتوبر 2005 کا دن ایک المناک دن تھا۔ تین رمضان المبارک بروز ہفتہ  کی  صبح 8 بج کر 52 منٹ پر  آزاد کشمیر سمت پاکستان کے مختلف علاقوں پر ہولناک زلزلہ آیا ۔ جس نے چند ہی منٹ میں بہت سارے شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہ دن قیامت صغریٰ کا مناظر پیش کر رہا تھا۔ جس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تباہی مچائی ۔اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب تھا۔جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کیا گیا۔

    اس ہولناک زلزلے میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اربوں روپوں کا املاک کو نقصان پہنچا۔ لاکھوں کی تعداد میں  بوڑھے، جوان ،بچے زخمی ہوئے۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ  معذور ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ ہر امیر  اور غریب اس سانحے کا شکار ہوا۔ مال مویشی  گھر سکول کالج ہسپتال تمام سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔کھانے اور پینے کو کچھ نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لمحے کے لیے پانی خشک ہو گے تھے۔اگر کہیں تھوڑی مقدار میں پانی موجود بھی ہوتا تو اس کو نکالنے اور پینے کے لیے برتن موجود نہیں تھا۔ ختہ کے لوگوں نے جوتوں میں پانی پیئا۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزواقارب کی تلاش میں لگا ہوا تھا۔ کوئی اپنے عزیزوں کی میتں نکالنے میں مصروف تھا ۔ اور کوئی اپنی مدد اپنے تحت ہزاروں من ملبے تلے دھبے  زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ والدین اپنے بچوں کو سکولز اور کالجز میں ڈھونڈ رہے تھے۔بچےکسی کو زخمی حالت میں ملتے اور کسی کو معذوری کی حالت میں اور کوئی بد قسمت والدین جو اپنے دل کے ٹکڑوں کی میت اٹھائے واپس آئے۔اور اتنا خوفناک منظر تھا کہ کسی کو دوبارہ زندگی کی بہتری کی کوئی امید نہیں تھی۔ کوئی پتہ نہیں تھا کب پھر خوفناک زلزلہ دوبارہ آئے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ زلزلے کے جٹکے وقفے وقفے سے جاری تھے۔ ہر طرف سے چیخو پکارا کی  کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔ کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی تھی۔ اوپر سے شام کے وقت انتہائی شدت سے بارش برسی۔ کسی کے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مشکل سے میتوں اور زخمیوں کے اوپر کچھ پٹے پرانے کپڑے  جو گھروں سے باہر پڑے ہوئے تھے وہ گھاس اور لکڑیاں وغیرہ رکھ کر ان کو بھیگنے سے بچایا ۔ مشکلات سے پہلی رات گزاری۔ سردی کی انتہا تھی کیونکہ کے کپڑوں کی قلت تھی  کپڑے مکانون تلے دبے ہوئے تھے۔آگ جلانے کیلے لائیٹر ماچس تک نہیں تھے۔ دوسرے دن  سے امدادی کارروائیاں شروع ہوئی۔  میتوں کی اجتماعی تدفین  کی گئی۔زخمیوں کو امدادی سنٹر تک لایا گیا۔جو زیادہ زخمی تھے انہیں ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جو انہوں اسلام آباد اور مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دو سے تین دن تک ایک جیسی صورت حال کا سامنا رہا۔ اس کے بعد پاک فوج نے تقریباً ہر علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ متاثرین  کو  امداد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی تھے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک امدادی سامان پہنچنا شروع ہو ا۔ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گی۔متاثرین کے لیے اجتماعی کیمپ تیار کیے گئے۔  بعد ازاں بیرونی امداد پہنچنے پر ہر فیملی میں خیمے اور گرم کپڑے وغیرہ تقسیم کیے گئے۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔آئے دن متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھے۔لیکن افواج پاکستان، عالمی اداروں نے  جس میں سرفہرست ڈبلیو ایف پی، ریڈ کریسنٹ، اسلامک ریلیف، یو این ، یونیسیف اور بہت ساری  مختلف ممالک کی امدادی تنظیموں نے قلیل وقت میں ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری رکھی۔ متاثرین کو ممکنہ ریلیف فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے تمام ممالک نے امدادی فراہم کی۔آہستہ آہستہ تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔پہلے مرحلے میں شیلٹر ہوم اور گھریلو سامان اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے  مکانات کیلئے نقد  امدادی رقم فراہم کی گی۔ سکولز اور کالجز اور دیگر سرکاری عمارات کے لیے بھی شیلٹر ہوم فراہم کیے گئے۔ تقریباً چھے سات ماہ کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔  بچوں نے دوبارہ سکولوں کا روخ کیا۔متاثرہ علاقوں کی از سر نو تعمیر کا آغاز ہوا۔جو بد قسمتی سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ایرا اور بہت سارے سرکاری اداروں کے گپلے کی وجہ سے بہت ساری سرکاری عمارات ابھی تک تعمیر نہ ہو سکی۔  زندگی کو معمول پر آنے میں دو سے تین سال لگے۔زندگی ایک بار پھر مسکرائی۔ 8 اکتوبر 2005 کو  آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرواتے ہیں۔ قرآن خوانی  کرواتے ہیں۔ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں۔ان کے زخم پھر سے ترو تازہ ہوتےہیں۔  میں آج بھی وہ لمحے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔کیونکہ یہ سارے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اور اس سانحے میں متاثرہ لوگوں نے قیامت سے پہلے ایک قیامت دیکھی ہے۔ اللہ پاک نے مجھے اس سانحے میں  نئی زندگی بخشی ہے۔میں اس بےبرحم زلزلے کی وجہ سے اپنے گھر کے نیچے کہیں گھنٹوں تک دھبا رہا۔ خوش قسمت رہا کہ کسی بڑی انجری سے بھی اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ الحمدللہ ہم گھر والے سارے محفوظ رہے۔  مگر ہماری فیملی میں تقریباً 40  افراد جن میں چھوٹے بڑے مرد  خواتین اور بچے شامل تھے ان کا جانی نقصان ہوا۔ وہ ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کا خلا کبھی پورا نہیں ہو گاجو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

    اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے 

    اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنا خصوصی فضل فرمائے۔ یقین جانیے وہ لمحے یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسوں روتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپن پناہ میں رکھے اور سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    @786Rajanaeem

  • پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ارضِ پاک کو وجود میں آۓ 74 سال کا عرصہ بیت چکا مگر ہم آج بھی ان ممالک سے ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہیں جو ہمارے وطن عزیز کے بعد وجود میں آۓ۔ اس کی ذمہ دار صرف کوٸی ایک فرد یا سیاسی پارٹی نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ لاتعداد قربانیوں کے بعد جو وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم آج تک ان کا حق ادا نہیں کر سکے ہمارے آباٶاجداد نے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ہم غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کھلی فضا میں سانس لیں سکیں ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دی جاۓ تا کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر افسوس کہ بظاہر تو ہم نے انگریز  کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی مگر آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں خواہشات کے ضرورتوں کے غلام ہیں ہم خود غرض قوم ہیں جسے وطن عزیز کی سالمیت یا اسکی فلاح سے کوٸی واسطہ نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد اپنی انا کی پڑی ہے۔ 

    پاکستان کے معرض وجود سے لے کر اب تک ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا ہم نے اپنے آباٶاجداد کی قربانیوں کو علامہ اقبال اور قاٸداظم کے فرمان کو نظریہ پاکستان کو بھلا دیا ۔ آج ہم مساٸل کا رونا روتے ہیں مگر ان مساٸل کو پیدا کرنے والے اور انکی افزاٸش کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ ہمارے سامنے بحیثیت لیڈر محمد صلى الله عليه واله وسلم ، صحابہ کرامؓ اور تاریخ کے بڑے بڑے عظیم مسلمان حکمرانوں اور قاٸداعظم کی مثالیں موجود تھی مگر پھر بھی ہم نے ایک بار نہیں بلکہ بہت بار کرپٹ، بے ایمان حکمرانوں کو چنا۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی ووٹ کاسٹ کیا صرف روٹی، کپڑے، مکان کے نا پہ کیا کبھی بھی پاکستان کے مستقبل یا اسکی فلاح کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یا تو جیالا بن کے یا ن لیگی بن کے یا کپتان کے ٹاٸیگرز بن کے ووٹ ڈالا ہم نے کبھی بھی بحیثیت پاکستانی بن کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا کیونکہ ہم چند لوگوں کے ہاتھوں ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔ 

     ہم نے آج تک کبھی نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی ہم نے کبھی بھی اس نظریہ کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا جو علامہ اقبال اور قاٸداعظم نے ہمیں دیا تھا اور جس پہ پاکستان بنا تھا یہی وجہ ہے ہم ابھی تک ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہم نے ذاتیات کی بنیاد پہ ووٹ ڈالا اور ڈاکو چوروں کو منتخب کر لیا ۔ غلطی تو ایک بار کی جاتی دوسری بار بھی وہی کرنا بے وقوفی کہلاتا یا جہالت

    ہم اگر پاکستانی بن کر سوچتے اور پاکستان کی خاطر اس کے نظریے کی خاطر ووٹ کاسٹ کرتے تو شاید آج اس موڑ پہ نہ کھڑے ہوتے۔ پانامہ کیس ، شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ ، فارن فنڈنگ کیس غرض ان تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں پہ کرپشن کیسیز اور بدعنوانیوں کے کیسیز چل رہے لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کا احتساب کرنے کی بجاۓ کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا رہا پوچھنے کی بجاۓ ہم پھر بھی انکے ساتھ کھڑے ہیں محض زات اور علاقے اور برادری کی وجہ سے کیا یہ سب وطن عزیز سے منافقت اور بے وفاٸی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا اس وطن کو لوٹنے والے قرض میں ڈبونے والے اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنی جاٸیدادیں بنانے والے کیا اس قابل ہیں کہ ہم انہیں اس وطن عزیز پہ مسلط کر دیں۔

    سیاستدان باہر رہتے باہر جاٸیدادیں بناتے علاج کے لیے اور چھٹیاں منانے کے لیے باہر جاتے اور پھر آ کر کہتے کہ ہمیں منتخب کریں جس کا سب کچھ باہر ہو وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتا۔ ہمیں نچلے طبقے کو اوپر لانا ہو گا  جو غریب عوام کے مساٸل کو سمجھ سکے۔ جیسے ایک مثال ہے کہ اے سی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سورج تلے شدید گرمی میں کھڑے شخص کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا اسی طرح باہر رہنے والے یا اونچے اونچے محلوں میں بنگلوں میں رہنے والے حکمران کبھی بھی جھونپڑی میں رہنے والی عوام کے مساٸل نہیں سمجھ سکتے۔ ووٹ ایک قوم کے پاس اس کے وطن کی امانت ہوتی مگر ہم نے ہمیشہ اس وطن عزیز کی امنت میں خیانت کی کبھی اپنے روٹی کپڑے کے نام پہ تو کبھی فیورٹیزم کے نام پہ تو کبھی برادری کے نام پہ ووٹ ڈال کے۔ اب ہمیں خود میں شعور اجاگر کرنا ہو گا بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لیے انہیں چننا ہو گا جو واقع ہی وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوں۔ ذات پات ، برادری ، فرقہ پسندی وغیرہ کی رسومات کو توڑ کر نظریہ پاکستان کی خاطر اپنے ووٹ کو ڈالنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ اب ہمیں ایک دوسرے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ایک پاکستانی بن کر حقیقی معنوں میں فقط پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے🌟

    @sbwords7

  • نماز کی اہمیت  تحریر مدثر خورشید

    نماز کی اہمیت تحریر مدثر خورشید

    نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے، نماز کو دین کا ستون بھی کہا گیا، نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے، نماز کا قرآن میں سینکڑوں جگہ اور احادیث میں تو ہزاروں بار ذکر آیا ہے،

    چند آیات اور احادیث پیش خدمت ہیں،

    جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے ( اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں ) خرچ کرتے ہیں، بقرہ 3

    نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

    بقرہ 43

    اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے ، مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع ( یعنی دھیان اور عاجزی ) سے پڑھتے ہیں، بقرہ 45

    اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور ( یاد رکھو کہ ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ بقرہ 110

    اور تم جہاں سے بھی ( سفر کے لیے ) نکلو ، اپنا منہ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف کرو ۔ اور یقینا یہی بات حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے ۔ ( ٩٨ ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے ۔ بقرہ 149

    اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بقرہ 153

    یہ تو چند آیات تھیں اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں اب چند مشہور احادیث ملاحظہ فرمائیں،

    آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔ صحیح بخاری 553

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ، مسلم 247

    سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:  میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے،

    مسند احمد 2468

    تمام آیات اور احادیث کو لکھنا ناممکن ہے لیکن آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی سخت وعید ہے نماز چھوڑنے پہ لہذا ہمیں کسی بھی حالت میں نماز نہیں چھوڑنی چاہیئے، یہ سب شیطان کا بہکاوے ہیں کہ کل سے شروع کروں گا لیکن کل کل کرتے سالوں بیت جاتے ہیں،

    اگر ہم بستر سے اٹھ کر نماز کے لیئے مسجد نہیں جا سکتے تو ہم کیسے امید لگا سکتے ہیں کہ ہم مر کے سیدھے جنت میں جائیں گے؟ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی سے نماز شروع کریں اور اس کا آسان حل مجھے یہ نظر آیا آپ بھی آزمائیں ان شاء اللہ آپ بھی نمازی بن جائیں گے میرا آزمودہ عمل ہے کہ جب بھی اذان کی آواز سنیں اسی وقت سب کام چھوڑ کر صرف وضو کر لیں، جب آپ کی یہ عادت بن جائے گی تو یقین کیجیئے نماز آسان ہو جائے گی لیکن کرنا یہ ہے کہ اذان سنتے ہی موبائل فون رکھ دیں سارے کام چھوڑ دیں اور وضو بنا لیں بس

    کیپ ٹاؤن ساوتھ افریقہ

    @Mudasir_SA