پاکستان کا تعلیمی معیار۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔جہاں ہونا تو ایک نظام تعلیم تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے تباہ کیا گیا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ۔سرکاری اسکولوں کا معیار 1988 سے پہلے بہترین تھا۔داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔موجودہ حکومت کا منشور تھا ایک نظام تعلیم لیکن فلحال ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔33 سالہ بگاڑ ب ہرحال تین سال میں بہتر ممکن نہیں لیکن امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنا یہ وعدہ آئندہ نسل کی بہتری کے لئے ضرور پورا کریں گے انشاللہ ٹائٹل: پاکستان کا تعلیمی معیار Noman Khan @dtnoorkhan
Author: Baaghi TV
-

شعور ہمارا مفادات،دولت اور شہرت تحریر: راجہ ارشد
یہ دنیا بڑی ظالم ہے
دنیا کا اصول ہے یہاں جو بولتا ہے اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
زور بازو کے ذریعے اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے حق پر ڈٹ جانے والے یا تو مار دیئے جاتے ہیں یا پھر ان کو قید کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہی آواز زیادہ گونجتی اور اثر رکھتی ہے جو آواز مظلوم طبقے کے لئے ظالم کے خلاف بلند کی جاتی ہے۔اس سماج میں رہنے والا ہر طاقتور جب اپنی رعایا پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے تو ہمیشہ اس کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے لیکن میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں آواز بلند کرنے کی جرات نہیں ہے بولنے والا ہو یا پھر لکھنے والا مفادات کے سامنے اپنے ضمیر اپنے قلم اور الفاظ کا سوداگر بن جاتا ہے تاریخ کے اوراق میں جتنے بھی ظالم کو للکارنے والے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے
ان کی زندگیوں کو موت سے بھی مشکل بنا دیا گیا تھا دور حاضر میں شاید یہ جرات کسی کی نہیں لکھنے والے ہاتھ کانپتے ہیں تو بولنے والی زبان لڑکھڑا جاتی ہے لیکن یہ جہاد ہے کہ آپ اپنے قلم کی طاقت سے جب وقت کے خدائوں کو للکارتے ہیں تو ان کے محلات کی دیواریں بھی کانپ جاتی ہیں۔
لیکن یاد رکھیں اس طاقت سے آپ کسی بھی معاشرے کے اندر انقلاب برپا نہیں کر سکتے میری قوم کی سوچ کو نہیں بدل سکتے کیونکہ ہماری ترجیحات میں نظام کی تبدیلی اور اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کا شعور ہی نہیں ہے ہمیں اپنے مفادات دولت اور شہرت کے لالچ سے فرصت نہیں ہے ہم خود پرسکون رہنا چاہتے ہیں اپنے ارد گرد سے بے خبر ہو کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
جب ظلم کی دیواروں کو گرانے کے لئے کوئی آواز کہیں دور سے گونجتی ہے تو بجائے ہم اس آواز کو روشنی کی پہلی کرن سمجھیں اسے اندھیروں میں ہی ڈبو دینے کے لیے ہر طاقتور کا بازو بن جاتے ہیں
او آج ہم عہد کریں ہمیں ہر ظلم کا جواب اپنی بھرپور طاقت سے دینا ہے کیونکہ ہم آزاد ہیں کسی حاکم کے غلام نہیں ہیں ہم آزاد قوم ہیں دنیا کی کسی سپرپاور کے سامنے بے بس اور مجبور نہیں ہیں
اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں ۔ آمین
@RajaArshad56
-

تاریکی میں ڈوبا بگرام فضائی اڈہ تحریر: محمد اسعد لعل
افغانستان میں بیس برس سے امریکہ کی زیرصدارت افواج کی افغان طالبان سے جنگ جاری تھی ، حال ہی میں طالبان نے افغانستان کے بیشتر سرحدی اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں طالبان کا پلڑا بھاری ہے ۔طالبان نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیس برس بعد امریکی فوجی بجلی بند کر کے رات کی تاریکی میں بگرام فضائی اڈے کو چھوڑ گئے اور ایسا بگرام فضائی اڈے کے نئے افغان کمانڈر کو بتائے بغیر کیا گیا۔’ایک رات میں انھوں نے افعان فوج کے ساتھ20 سالوں کا اچھا تعلق ختم کر دیا اور جو افغان فوجی اس عمارت کے باہر کھڑے اس کی حفاظت کر رہے تھے انھیں بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا۔
امریکی افواج نے بگرام کے فوجی اڈے کو صبح تین بجے چھوڑا اور افغان فوج کو اس بارے میں کئی گھنٹوں بعد خبر ہوئی اور آخرکار صبح سات بجے تصدیق کر سکے کہ انھوں نے بگرام کو واقعی چھوڑ دیا ہے۔ اچانک ہونے والا اندھیرا مقامی لٹیروں کے لیے ایک اشارے کی مانند تھا۔ وہ اڈے کے شمال سے داخل ہوئے اور وہاں موجود رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے انھوں نے عمارتوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔افغان فوج کی جانب سے فضائی اڈے کا انتظام سنبھالنے سے قبل یہ اڈہ ڈاکؤوں کی چھوٹی سی فوج کے رحم و کرم پر تھا۔ جس کے بعد بالآخر انھیں یہاں سے بیدخل کیا گیا۔
امریکی افواج کی زیر استعمال چیزیں اب بگرام کےقریبی بازاروںمیں فروخت ہو رہی ہیں۔پیر کو امریکی فوجیوں کے اڈہ چھوڑنے کے تین روز بعد بھی افغان فوجی ان کی جانب سے چھوڑا گیا کچرا صاف کرتےرہے ہیں جس میں پانی کی بوتلیں، کینز اور انرجی ڈرنکس کی خالی بوتلیں شامل تھیں۔
بگرام امریکی فوج کا ہیڈکواٹر بھی مانا جاتا تھا جو کہ امریکہ کی طالبان کو شکست دینے کی جنگ اور 9/11 کے حملوں میں ملوث القاعدہ کے عہدیداروں کوپکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا اب مکمل طور پر سنسان اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کابل سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود یہ فضائی اڈہ دارالحکومت کی سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور یہ ملک کے شمالی علاقوں کے لیے بھی بہترین کور فراہم کرتا تھا جہاں طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائیاں کی گئی ہیں۔ یہ فوجی اڈہ ایک وسیع علاقے پر قائم ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں ایک چھوٹا سا شہر آباد تھا جو صرف امریکی اور نیٹو فورسز کے زیرِ انتظام تھا۔
اس کی وسعت دیکھنے کے قابل ہے اور یہاں موجود سڑکیں بیرکس سے ہوتی ہوئی عمارتوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں دو رن وے موجود ہیں اور طیاروں کے لیے پارکنگ کی 100 جگہیں بھی موجود ہیں۔ یہاں ایک مسافروں کے بیٹھنے کے لیے لاؤنج بھی موجود ہے، ایک 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال اور ہینگرز کے حجم کے ٹینٹ بھی موجود ہیں جن میں فرنیچر بھی پڑا ہوا۔امریکہ کی جانب سے چھوٹا اسلحہ بھی چھوڑا گیا ہے اور اس کے ساتھ گولیاں بھی موجود ہیں لیکن جانے والے فوجی بھاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس اسلحے کی ایمیونیشن کو امریکی فوجیوں کی جانب سے آگ لگا دی گئی تھی۔
اس فضائی اڈے میں پانچ ہزار قیدیوں کی ایک جیل بھی موجود ہے جس میں اکثر طالبان موجود ہیں۔امریکی فوجیوں کی جانب سے بغیر بتائے اڈہ چھوڑنے کے بعد افغان فوجیوں پر یہاں قید ہزاروں طالبان قیدیوں اور ممکنہ طور پر طالبان کی جانب سے ہونے والے حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہے۔ امریکہ افواج کے جانے کے بعد سکیورٹی میں آنے والا یہ خلا افغان فوجیوں کو پر کرنا ہے۔جبکہ میرا ماننا ہے کہ افغان فورسز اتنی ‘طاقتور’ نہیں ہیں جتنےامریکی ہیں،افعان افواج کا امیریکی افواج سے موازنہ کریں تو دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر طالبان اپنی کاروائیاں تیز کرتے ہیں تو افغان حکومت کا بھارت سے مدد طلب کر نے کا امکان ہے ۔
امریکی افواج کا آخری د ستہ جو کہ ابھی بھی افغانستان میں موجود ہے امکان ہے اسے بھی بہت جلد واپس بلوا لیا جائے گا۔نیٹو فورسز اور دوسرے ممالک کی افواج بھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں۔ اس سب کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مکمل طور پرناکام ہو چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی کا سہرا کس کے سر باندھتا ہے۔twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal -

کامیابی کا راز تحریر: کاوش لطیف
یہ کہانی ہے ایک نوجوان لڑکے کی جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتا تھا وہ کامیابی کی تلاش میں تھا اور کامیابی کا راز جاننا چاہتا تھا ایک دن وہ اپنے گاؤں کے بوڑھے آدمی کے پاس آیا بوڑھا آدمی بڑا ہی عقلمند تھا اس نے دنیا دیکھی ہوئی تھی نوجوان لڑکے نے بوڑھے آدمی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ کامیاب ہونے کے لئے اس کو کیا کرنا پڑے گا کامیابی کا آخر کیا راز ہے بوڑھے آدمی نے اس کی بات کو غور سے سنیں اور کہا کہ تم کل صبح دریا کے کنارے آ جاؤ تمہارے سوال کا جواب تمہیں مل جائے گا اگلی صبح وہ لڑکا دریا کے کنارے پہنچا
تو بوڑھا آدمی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا بوڑھا آدمی اس لڑکے کو لے کر دریا میں اتر گیا اور گہرے پانی کی طرف چلنا شروع کر دیا جب وہ اتنی گہرائی تک پہنچ گئے کہ پانی لڑکے کی ناک تک آگیا تو بوڑھا آدمی رک گیا اور پھر اچانک ہی اس نے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پانی کے اندر ڈبو دیا لڑکا بوڑھے آدمی کی اس حرکت پر حیران رہ گیا پانی کے اندر اس کا سانس روک کر رہا تھا اور اسے شدید تکلیف ہو رہی تھی تھوڑی دیر کے بعد جب تکلیف اس کے برداشت سے باہر ہو گئی تو اس نے باہر نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا لیکن جیسے جیسے وہ باہر نکلنے کے لیے زور لگاتا بوڑھا آدمی اور زور سے پانی کے اندر دبا دیتا
لڑکے کی تو جان پر بن گئی تھی وہ اپنی پوری قوت سے ذور لگا رہا تھا آخر لڑکے نے اپنی پوری طاقت سے بوڑھے آدمی کو دھکا دیا اور اپنا سر پانی سے باہر نکال لیا اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ اچانک اتنی طاقت اس کے اندر کہاں سے آگئی سر باہر نکال تے ہی لڑکے نے تیز تیز سانس لینا شروع کر دیا بوڑھا آدمی اسے سہارا دے کر کنارے پر لے آیا جب تم پانی کے اندر تھے تو اتنا زور کیوں لگا رہے تھے
لڑکے نے غصے سے بوڑھے آدمی کو دیکھا مجھے سانس نہیں آ رہی تھی اور میں سانس لینے کے لئے زور لگا رہا تھا آپ تو مجھے یہاں کامیابی کا راز بتانے لائے تھے اور آپ نے مجھے پانی کے اندر ڈبونا شروع کر دیا بوڑھے آدمی نے کہا کہ یہی کامیابی کا راز ہے کامیابی بھی پانی کے اندر سانس لینے کی طرح ہے جب پانی کے اندر تمہارا دم گھٹ رہا تھا تمہیں سانس نہیں آرہا تھا کہ تمہاری صرف ایک ھی خواھش تھی کہ کسی طریقے سے تم سانس لے سکوں باقی تم دنیا کی ہر چیز بھول چکے تھے اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تو کامیابی کی بھی تمہیں ایسی ہی خواہش کرنی پڑے گی
جب کامیابی کی تمہاری خواہش اتنی شدید ہوگئی جتنی ہوا ہے تمہاری پانی سے باہر نکلنے سانس لینے تک کی تھی تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی جب تم پانی کے اندر تھے تمہیں سانس نہیں آ رہی تھی تم تڑپ رہے تھے اپنا پورا زور لگا رہے تھے باہر نکلنے کی پوری کوشش کر رہے تھے میں تمہیں نیچے دبا رہا تھا لیکن تم ہار نہیں مان رہے تھے تم جنونی بنے ہوئے تھے تمہیں ہر صورت باہر نکلنا ہی نکلنا تھا تم اپنی پوری جان سے پوری طاقت سے زور لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جب تم کامیابی حاصل کرنے کے لیے اتنا ہی زور لگاو گے اتنے ہی جنون کا مظاہرہ کرو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی
چاہے دنیا تمہیں کتنا ہی دبائے تمہارے راستے میں کتنی ہی رکاوٹ ڈالیں تم ہار نہیں مانوں گے تم کوشش کرتے رہو گے تو کامیابی تمہیں ضرور ملے گی اور یہی کامیابی کا راز ہے
@k__Latif
-

اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل تحریر ارشاد حسین
افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تحریریں یا تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں دیکھنا اور پڑھنا بھی شرم آتی ہے ۔سوشل میڈیا عمومی تاثر یہ ہے کہ بس خود کو پوشیدہ رکھنا ہی کافی ہے۔۔ شخصیت کی پردہ داری بہت ہے۔۔اسکے بعد کھلی چھٹی ھے جو مرضی کہیں اور جیسی مرضی چاہیں پوسٹس لگائیں۔۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے ہاں حیا کا بہت عام اور سطحی پیمانہ صرف پردے اور ساتر لباس سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے جبکہ ” حیا” کے لغوی معنی وقار ، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔۔ حیا صرف اپنی شخصیت کو پردے میں ملفوف کرنے کا نام نہیں ہے۔۔ یہ گفتار میں بھی نظر آنی چاھیئے اور تحریر میں بھی اور اپنی پبلک پوسٹوں میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے اکثر وبیشتر کتنی ہی ایسی پوسٹس نظر سے گزرتی ہیں جس میں نوعمر بچیاں جوکہ بظاہر خود کو پردہ دار اور باحجاب کہتی ہیں اپنی تحاریر میں اپنے مستقبل ، اپنی شادی اور اپنے ہونے والے شوہر سے متعلق اپنے بہت ہی ذاتی خیالات اور خواہشات بلاجھجھک شئیر کر دیتی ہیں ۔۔۔ سپنے دیکھنا غلط نہیں ہے لیکن ان سپنوں کی اپنی وال پہ اور خصوصاً پبلک پوسٹس میں یوں تشہیر ضرور معیوب ہے ۔۔ اور اس سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ایسی پوسٹس پر دین کی علمبردار اور بہت سی سمجھدار خواتین بھی دعائیہ ، تعریفی اور ستائشی کمنٹس پاس کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ کیوں نہیں اس خاتون یا بچی کی مناسب انداز میں اصلاح کی جاتی کہ آپ کے لیے حیا کے تقاضے پورے کرنا تحریر میں بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کے لباس میں ۔۔ یہ نجی نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔۔ ایسی پبلک پوسٹس لگا کر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کرنا بہت نامناسب اور خطرناک عمل ہے ۔۔بلاوجہ کیوں لوگوں کی آتشِ شوق بھڑکائی جائے کبھی کوئی باحجاب خاتون اپنی پوسٹس میں اپنے "گمنام فالورز” کی جانب سے ملنے والے تحائف کی فخریہ تشہیر کر دیتیں ہیں۔۔یوں باقی فالورز کو بھی اس ‘نیکی’ کی ترغیب دلاتی ہیں کوئی سیر سپاٹوں پہ جانے کے لیے اپنے محرم کی تلاش میں دعائیں کر کر ہلکان ہیں پھر بہت سی باپردہ خواتین ایسی بھی ہیں کہ مختلف بولڈ موضوعات پہ انکے بے محابا کمنٹس حیران ہی کر دیتے ہیں۔۔۔ مرد حضرات کی وال پہ اگر کوئی گرما گرم موضوع ، سوشل ایشو چھڑا ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہاں آستینیں چڑھا کر بے دھڑک کوئی بھی بیان جاری کرنے پہنچ جائیں۔۔۔بس کہیں بھی کچھ بھی کھل کے کہہ دو کہ کونسا ہم پہچان لی جائیں گی۔۔ کیونکہ بھئی نہ تو ہم یہاں دیگر خواتین کی طرح اپنی شکل دکھانے کی بےحیائی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم یہاں اپنے اصل نام سے موجود ہیں۔۔ لہذا پردہ داری کی آڑ میں سب کہہ دو ۔۔ دھیان رکھیئے کہ یہ ” پاپا کی پرنسس ، بنت ، ام ، اخت ، اہلیہ ، مسز ، زوجہ ، سونو ، مونو اور دیگر سوشل میڈیا ناموں کی آئی ڈیز ہیں ” یہ سب بھی صنف نازک ہونے کے حوالے ہی ہیں ۔۔۔اور آپ یہاں بہرحال ایک خاتون کی حیثیت سے ہی موجود ہیں ان سب باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہماری خواتین اپنی صنف کی نمائندگی ہی نہ کریں سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہوں۔۔۔ پتھر کے دور میں چلی جائیں اور اپنی شخصیت کو گمنام کرلیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور اپنی موجودگی یا اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا۔۔ اور اس طاقتور پلیٹ فارم سے مثبت چیزیں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ضرور جاری رکھنا چاھیئے لیکن ہر قدم پہ احتیاط پسندی ، نپا تلا اور باوقار انداز اولین ترجیح ہونا چاھیئے ۔۔۔ خصوصاً پبلک پوسٹ سے کیسا پیغام جا رہا ہے یہ لحاظ رکھنا اور اپنی حدود متعین کرنا بہت ضروری ہے سارا قصور مردوں ہی پر نہ ڈالیئے۔۔کچھ تو خود بھی احتیاط کیجیئے۔۔ ورنہ پھر یہ رونے بھی مت رویئے کہ لوگ فضول سے کمنٹس کر دیتے ہیں ، انباکس اپروچ کرتے ہیں ، ہمیں پریشان کرتے ہیں۔۔
صرف باپردہ ہونا ہی عفت مآب ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔۔اور حیاداری صرف چہرے کا پردہ کرنے سے ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے کمنٹس اور ہماری پوسٹس بھی انکی عکاس ہوتی ہیں۔۔
تحریر ارشاد حسین
twitter.com/ir_Pti
@ir_Pti -

عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک
اپنے اردگرد رہنے والے مسلمانوں بھائیوں کا خیال رکھیں۔اپنے اندر خلوصِ محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
کیونکہ عید قرباں کا مقصد ہی یہی ہے۔جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے قیمتی چیز کو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا کا فیصلہ کیا۔اور آزمائش پر پورا پورا اترے۔
اس طرح ہم بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات پر عمل کر کے اپنے رب تعالٰی کی رضاوقرب حاصل کر سکتے ہیں۔جس طرح حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اللّٰہ تعالٰی کے حکم کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔
اسی طرح ہمیں بھظ چاہیئے کہ اپنے بچوں کو بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی پابندی کرنے کی تاکید کرتے رہے
انہیں معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک ہمدردی اور پیار سے پیش آنے کا درس دیں۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے اور ان کی خاطر اپنے جل کو قربان کرنے کا سبق دیاجائے
جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ حکام الہی اور شرعیت کو پورا کیا جائے اپنی نفسانی اور دنیاوی خواہشات کو قربان کیا جائے اپنی سہولیات کو نظر انداز کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھا جائے۔ اپنی ذات کو تقوی اورایثار کا پیکر بنایا جائے۔
قربانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس مقصد کیلئے قربانی ہو رہی ہو وہ مقصد ضرور پورا ہو اس مینث کسی بھی قسم کا ریاکاری یا دکھاوا نہ خا لص اللہ تعالٰی کی رضا کیلئے قربانی کی جائے
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ترجمہ: "جس نے خوش دلی کے ساتھ طالب ثواب ہو کر قربانی کی اس کیلئے وہ قربانی آتش جہنم کئیلے حجاب بن جائے گی”نماز عید کی دعا میں کفار کے ظلم وبربریت کا شکار فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آزادی کیلئے دعا کریں اللّٰہ تعالٰی ان کی عزت و ابرو کی حفاظت فرمائے اور ان کے مسائل کو خیر برکت کے ساتھ فرمائے آمین
کیونکہ قربانی کا ایک اہم مقصد یہی ہے اور یہی اسکا تقاضا ہے@Malik_Fahad333
-

ددھیال ننھیال اور ماں کا کردار تحریر : سیدہ ام حبیبہ
قارئین محترم آج میرا موضوع بہت حساس ہے. تنقید اور اصلاح کی گنجائش رکھتے ہوئے لکھوں گی.
ہمارے معاشرے میں ماں کا کردار ناقابل فراموش ہے وہیں پہ. ددھیالی رشتوں کی سازشیں ، دشمنیاں، اور انتقام بھی زبان زد عام رہتے ہیں.
اپنی زندگی کی سیکھ کے مطابق ایک مشاہدہ آپ سب کے سامنے رکھوں گی پھر فیصلہ آپ کا
میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کو ایک بھرے خاندان میں رسم و رواج سے بیاہ کے لایا گیا پہلی بہو کے چاؤ لاڈ کے ساتھ ہی اس سے گھر کی ذمہ داریوں میں تعاون کی امید بھی رکھی گئی.
پہلی اولاد کے پیدا ہوتے ہی ہر رشتے کو ایک نیا نام ملا، دادا دادی نانا نانی چچا پھوپھو خالہ
ہر رشتے نے بڑھ چڑھ کے پیار جتایا.
یہاں تک سب درست بات بگڑتی ہے ماں کے کردار سے اب اس کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے.
وہ بچے کو سہلاتی بہلاتی ہی رشتوں میں بھید بھاؤ شروع کر دیتی ہے
چندہ ماموں کی ہی مثال لے لیجیے
خالہ جان اور پھوپھو پہ لطیفے ..
جہاں تک میرا مشاہدہ ہے میں نے پھوپھو سے ذیادہ مخلص اور بے لوث محبت نہیں دیکھی بے وجہ …
ایسا کیا ہوتا ہے کہ دھدھیالی رشتے بچوں کو سمجھدار ہوتے ہی کھلنے لگتے ہیں؟
ماں کی دادی سے مڈبھیڑ ہوئی ہے مگر وہ اس کا اور ساس کا معاملہ ہے بچوں کو کیوں فریق بنایا گیا؟
کیا انجانے میں بچوں سے بے لوث محبتیں چھیننے والی اپنی ماں ہی نہیں؟
ایک جملہ اکثر مائیں کہتی ہیں تمہارے باپ نے مجھے دیا ہی کیا ہے …
جواب اگر حقیقی ہو تو جوانی کے بہترین سال مشقت کر کے رازق بنا رہا سایہ بنا رہا اور کیا دیتا..
ماں چاہے تو بچوں کو پھوپھو پہ لطیفے بنانے کی نوبت نہ آئے
بلکہ بچوں کے پاس ہر مشکل میں صدقے واری جانے والی پھوپھو میسر آ سکتی ہے .
مائیں جس طرح خالہ اور ماموں اور نانا نانی سی بچوں کی محبت اور قربت بنانے کے لیے کوشش کرتی ہیں اس کا آدھا بھی ددھیالی رشتوں کو وقت دیں تو ہر گھر سے قہقہے اور خوشیاں جھلکیں.
دوسری طرف ددھیالی رشتے جتنی محبت جتنا مان اپنی بیٹی پہ لٹاتے وہی بہو پہ بھی لٹائیں، جہاں بیٹی بی چاری لگتی وہیں بہو کو سوچیں تو بعید نہیں کہ گھر جنت بننے لگیں.
مگر سو باتوں کی ایک بات ماں کا کردار
ماں چاہے تو دونوں طرف توازن پیدا کر سکتی سازشیں یہ اتنے خوبصورت رشتوں کی تذلیل رک سکتی ہےاگر ماں چاہے تو بچوں کو فریق بنانے کی بجائے انکو رشتوں کا ادب احترام سکھائے .
بچے جب فریق بنتے ہیں تو وہ باپ کو بھی دشمن سمجھنے لگتے ہیں.
ماؤں سے التجا ہے. اپنے رشتوں سے لڑائیوں کو بچوں میں منتقل نہ کریں.انکو ان کی محبتوں سے محروم نہ کریں.
سیدہ ام حبیبہ
Hspurwa198@gmail.com
@hsbuddy18 -

تحریر : حلیمہ اعجاز ملک وقت کی قدر کیجئے
وقت کی قدر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ہر کوئی اس کی اہمیت کو جانتا ہے
جو شخص اپنی زندگی کے انمول لمحات کو بے مقصد کاموں میں برباد کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللّٰه نے دنیا میں کوئی بھی حقیر سی شے خواہ وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو بے مقصد پیدا نہیں کیا تو انسان کو بھی بے مقصد پیدا کیا ہوگا
وقت کی برباد کرنا چھوڑ کر اپنا مقصد جانیے اور اس کو مکمل کرنے کے لیے کوشش کریں
جو لوگ دنیا میں اپنے وقت کی قدر کرتے ہیں اور منزلِ حقیقی تک پہنچنے کے لیے وافر مقدار میں زادِ راہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو اس جہانِ فانی سے کوچ کرتے وقت انہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ تو بخوشی آگے بڑھ کر موت کو بھی اس لیے گلے سے لگاتے ہیں کہ فانی لذتوں سے جان چھڑا کر ابدی نعمتوں کے سائے میں جلد از جلد جا پہنچیں
لہٰذا آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہوں یہ بات بخوبی جان لیں کہ جس مقصد کے تحت آپ نے یہ شعبہ اختیار کیا ہے وہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب آپ اپنے اوقاتِ کار کا درست استعمال کرتے ہوئے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ کوشاں رہیں گے
اس لیے کہ جو اپنے مقصد کو جس قدر زیادہ اہمیت دے گا اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرے گا اس کے کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے اور جو اس کے برعکس اپنے اوقات کو فضولیات میں برباد کرے گا ناکامی اور نامرادی اس کا مقدر ٹھہرے گی
@H___Malik
-

تحریر : تہران الحسن خان عنوان : عشق مجازی اور عشق حقیقی میں واضح فرق کیا ہے۔
عشقِ حقیقی:-
اللہ تعالیٰ سے کی جانے والی محبت
عشق مجازی :-
محبوب سے کی جانے والی محبتاِنسان جب اپنی ذات و پات بھول کر کسی کی چاہت کرنے لگتا ہے تو اسے عشق مجازی کہا جاتا ہے
آگے بڑھتے ہیں اس بات کو صحیح معنوں میں سمجھانے کے لیے ایک درویش کی بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں.
ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ”
ﺩﺭﻭﯾﺶ: ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ فرق ہے. ﺩﻭﻧﻮﮞ عشق ہی تو ہیں
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ؟
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﮍﮮ
ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ بھر ﮐﺮ ﺗﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ لگا :
ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ
میں واضح فرق ہے اگر ہم سمجھنا چاہیں تو.
ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ یہ ہے کہ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ۔اسکو کسی اور کا دیکھنا اس سے محبت کرنا تمہیں برا لگتا ہےاس کی داستان گو سے نفرت کرنے لگتے ہو۔
پس عشق مجازی رقیب سے نفرت سکھانے لگتا ہے اور یہ ایسی نفرت ہوتی ہے جو انسان کو معاشرتی طور پر بہت ہلکا کر دیتی ہے. حقیقی عشق نفرت مٹانا سکھاتا ہے بڑھانا بالکل نہیں.
عشق مجازی کی منزل میں بےبہا ذلت اور رُسوائی کے سِوا کُچھ بھی نہیں. انسانی عِشق ایک ایسا دھوکا ہے جس کی منزل صِرف ذلت و رسوائی ہے انسان جب اپنے رب کی ذات سے بڑھ کر کسی اور سے عشق کا دعویٰ کرنے لگتا ہےتو اُسکا وہ دعویٰ صِرف وقتی ہی ہوتا ہے اور حقیقت میں تو اُسے کُچھ بھی حاصِل نہیں ہوسکتا
عشق ہے قلندری عشق ہے مجازی
عشق کے کئی رنگ ہیں سہانے، عشق سخی بھی ہےعشق داتا
بھی ہے عشق ولی بھی عشق زلیخا بھی ہےعشق اے یوسف
بھی ہے تاریخ کے اوراق میں عشق صحرا کاسفر، سمندر کی لہریں بھی گنواتا ہے.
عشق مجازی، عشق حقیقی،عشق فقیری
عشق جنوں تک کاسفر بھی ہے..
عشق کی راہ میں سارا پانی ہےرب تعالیٰ نے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے عشق کیا تو کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے لیے مختص کی اور اس کے برعکس جس نے کروڑوں برس الله کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس کو تو نے مٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین نےسجدہ نا کیاہو اور نہ کوئی ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر میں آگ ہوں سجدہ کیوں کروں۔
بس اسی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب ذوالجلال نے اسے رہتی دنیا تک کے لیے ملعون قرار دے دیا کہ وہ روز محشر تک ملعون رہے گا ۔
یہ ہے عشقِ حقیقی کی اصل اور خوبصورت حقیقت..جب ہمارے سامنے دو منزلیں پیش ہوں تو ہم خود اپنے لئے بہتر منزل کا انتخاب کر سکتے ہیں.
کُچھ فیصلے مُقدر پر چھوڑ دیے جائیں زیادہ بہتر ہے.
شکریہ۔
Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
To find more about him check Twitter @kaptaanniazi
Follow @Twitter Tehran ul Hassan Khan -

ہمارے نوجوانوں کا مغربی طرز معاشرت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تحریر ۔مدثر حسین ادلکہ
جہاں ہماری روزمرہ زندگی کے استعمال کی بہت سی چیزوں میں جدت آئی ہے، وہاں ہمارے رویوں اور رہن سہن کے طریقوں میں بھی کافی بدلاؤ آ چکا ہے. ہمارے ہاں اب مغربی تہواروں کو بھی خاص اہمیت دی جانے لگی ہے. اور انہیں مغربی طور طریقوں سے منانے کا عمل ہمارے ہاں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے زیر استعمال چیزوں میں ایک طویل فہرست ان مصنوعات کی ہے جو مغربی دنیا کی پیداوار ہیں. ہماری تفریح سے جڑی بہت سی چیزیں مغربی پیداوار کا حصہ ہیں جن میں مغربی فلمیں اور ڈرامے قابل زکر ہیں.
ہمارے میڈیا پہ چلائے جانے والی مغربی مصنوعات کے اشتہارات عوام الناس کو ان کو استعمال کرنے کی جانب مبذول کر رہے ہیں.
اپنے قومی، ثقافتی تشخص کی جس قدر پامالی آج کے دور میں دیکھی جا رہی ہے ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی.
مغربی معاشرے کے اپنائے جانے کا یہ رجحان ہماری نسل میں اپنے آبائی کلچر سے محرومی کا باعث تو بن ہی رہا ہے ساتھ ساتھ یہ مغربی نظام معاشرت کی خصلتوں کو بھی ہماری نسل میں پروان چڑھا رہا ہے. نوجوانوں کے رہن سہن کے طریقوں میں معربی فلموں میں دکھائے گئے ہیرو جیسے اوصاف دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے بیشتر اسلام کے اصولوں کے منافی ہیں.
کھانے پینے سے لیکر اوڑھنے بچھونے تک اپنی مصنوعات کو ترک کیا جانے لگا ہے اور انکی جگہ ہمارے میڈیا پہ دکھائے جانے والی مغربی مصنوعات کو فوقیت دی جا رہی ہے. جس سے معاشی طور پہ نقصان کے ساتھ ساتھ خالص حلال کھانوں کے میسر ہونے کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے.
اس وقت ملک میں کرونا وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں ملک کے بیشتر نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں آن لائن درس و تدریس کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں. انٹرنیٹ کی دستیابی اور والدین کی عدم دلچسپی کے باعث طلباء فارغ اوقات میں بھی انٹرنیٹ سے جڑے رہتے ہیں اور اس وقت انٹرنیٹ پہ موجود زیادہ تر ویب سائٹ کا تعلق معربی دنیا سے ہے جس پہ ان کی دلچسپی کے اشتہارات چلتے دکھائی دیتے ہیں ہماری نوجوان نسل ان اشتہارات کے باعث ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کی وجہ سے تشویش ناک حد تک عادی ہوتی جا رہی ہے.
خواتین میں مغربی طرز کا لباس پہننے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے. اکثر دفعہ قابل اعتراض اور اسلام کے اصولوں کے برعکس لباس زیب تن کئے کئ ڈرامہ ایکٹرز کو ٹی وی کی سکرین پہ دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے فلمی اداکاراؤں کا یہ رویہ ہماری نسل کو انتہائی سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہا ہے. ملک کے چند بڑے شہروں میں انہی لباس میں ملبوس خواتین کو دیکھا جا رہا ہے جیسے لباس کو اشتہارات میں ایکٹرز کو پہنایا جاتا ہے.
جہاں نوجوان نسل جنسی دلچسپی کی چیزوں کے باعث گمراہی کا شکار ہو رہی ہے وہاں بچوں کے دیکھنے کے پروگراموں میں بھی بچوں کو شرمناک حد تک مختصر لباس پہنا کر مختلف سرگرمیاں کرتے دکھایا جا رہا ہے.
ہمیں اپنی نوجوان نسل اور اپنی ثقافتی اقدار کو بچانے کے لئے فوری طور پہ اقدامات کرنے ہوں گے. پاکستان اسلام کے نام پہ معرض وجود میں آیا لیکن یہاں اسلام مکمل طور پہ کبھی رائج نہیں ہو سکا. ہمیں اپنی مصنوعات سے لیکر میڈیا پہ دکھائے جانے والے پروگراموں تک اصلاحات کرنا ہوں گی تا کہ ہمارا قومی تشخص قائم رہ سکے. جس قوم کے ہاتھ سے اس کا نظریہ چھن جائے وہ قوم بہت جلد تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے.
ہمیں اپنی مصنوعات کا معیار بہتر بنا کر انکے استعمال کے فروغ کے لئے میڈیا اور علاقائی سطح پہ کوششیں کرنا ہوں گی تا کہ ملک کو معاشی طور پہ مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام میں اپنے ملک کی ترقی کا احساس اجاگر کیا جا سکے.
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو@MudassirAdlaka
