سائنسی جدت کے اس دور میں جہاں ممالک چاند سے بھی آگے نکل کر دیگر سیاروں پر اپنی آماجگاہ بنانے کی سوچ رہے ہیں وہاں پاکستان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جو انہی ممالک کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل بائیو ڈیٹا ان ممالک کے پاس ہے جنکی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور وہ جب چائیں جیسے چائیں اس کو استعمال کر سکتے ہیں
بین الاقوامی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق رواں سال میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر پیگا سس کے ذریعے کی گئی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام پیگاسس کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت 10 ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر وزیر اعظم عمران خان کےخلاف استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہیکنگ کا معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا، جہاں ہوشربا انکشاف کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف بھی استعمال ہوا ہے، نوازشریف کی حکومت میں سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف استعمال ہوا۔
یہ سافٹ ویئراس وقت استعمال ہواتب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مختلف نمبرز میں ایک نمبر وزیراعظم عمران خان کے زیراستعمال تھا، اس کے علاوہ نواز حکومت میں یہی سافٹ ویئر حساس اداروں اور سیاست دانوں کےخلاف استعمال ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف نے مولانا اجمل قادری کوخفیہ اورخصوصی دورے پراسرائیل بھیجا تھا ،اس دورے پر جانے والے وفد کے سربراہ مولانا اجمل قادری نے اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے نوازشریف نے خصوصی پیغام دے کربھیجا تھا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جب کہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔
اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئر سے دنیا کے کم سے کم50 ہزار شخصیات کے فون نمبرز ہیک کیے گئے۔ ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔
ان تمام معاملات کے انکشافات ہونے کے بعد اور حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام اداروں کے ملازمین اور اعلی شخصیات کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی بنائی ہوئی ایک واٹس ایپ کی طرز کی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل ایپلیکیشن بننےکے ساتھ ہی یہ ایپلیکیشن استعمال میں لائی جائے گی۔ خصوصی ایپلیکیشن پبلک استعمال کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اعلی قیادت اور حساس اداروں کے ملازمین کمیونیکیشن کے لیے استعمال کریں گے۔
پاکستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان میں پہلے اس کام کی طرف اُس طرح توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب جب معاملات کے انکشافات ہونے لگ گئے تو آنکھ کُھلنا شروع ہوگِی۔پاکستان کے سکیورٹی ادراے پہلے ہی ان معاملات سے باخبر تھی جس کی بنا پر کئی ایسے اقدامات بھی کیے گئے جس سے پاکستان کی اہم معاملات کو لیک ہونے سے بچایا جا سکے ۔پاکستان کے اداروں کی ویب سائٹس تک کو ہیک کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہیں مگر سائبر سکیورٹی کے معاملات میں باقی ادارون کی نسبت قدرے بہتر رہے۔ پاکستان کو اس چیز کے مدنظر رکھتے ہوئے خاصے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔ اس معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اور دوست چائینہ سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اپنے ملک میں اپنی ہی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہیں۔
چین سائبر ٹیکنالوجی سے اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اور اس لیے پاکستان اسکی مدد سے بہت ساری چیزیں جو اپنے ملک کے لیےبنا سکتے ہیں تا کہ پاکستان کی عوام دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں اور یہ خطرہ ہی پیدا نہ ہو۔
Author: Baaghi TV

اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس تحریر : ملک علی رضا

بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار تحریر: صائمہ مسعود
ماں کے پاؤں تلے جنت ہے
اس بات سے ماں کی عظمت اور درجے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
اسلام نے عورت کو جو روپ دیئے ان میں سب سے زیادہ افضل ماں کا روپ ہے
جب ایک بچہ دنیا میں انکھ کھولتا ہے اسکی پہلی درسگاہ اسکی ماں کی گود ہے
ماں بجے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ا سکی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیے
بچہ مکتب جانے سے پہلے بہت ساری باتیں ماں سے سیکھتا ہے
کھانا کھانے کے اداب
بڑوں کی عزت کرنا
بات چیت کرنے کے طور طریقے
اہم ہیں
اسکے بعد جب عملی طور پر بچہ گھر سے باہر کے ماحول سے آشنا ہوتا وہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے
اور جوں جوں وقت گزرتا ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے
اج کل کے دور میں جہاں زمانہ تبدیلیوں کی جانب رواں دواں ہے وہا معاشرے کے رویوں کو بھی سمجھنا لازم ہو چکا
ایسے میں تعلیم یافتہ ماں بچے کو ایک ذمہ دار انسان بناتی
بچے کو احساس ہو کہ وہ مستقبل کا معمار ہے اور معاشرے میں ایک اہم ستون ہے ۔۔
ماں ہی وہ عظیم ہستی ہوتی جو بچوں کی ہر ذمہ داری باپ کے شانہ بشانہ نبھاتی
اوربچوں کے بہتر مستقبل کا سوچتی
بچوں کی مثبت شخصیت بنانے میں ماں کا کردار اہم ہوتا ہے
اسی لئے ماں خصوصاً جب اسکی بیٹیاں ہوں تو وہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کے امور بھی بچیوں کو سکھاتی ہے
دنیا بھر میں خواتین خصوصاً وہ جو بچوں کو تن تنہا پالتیں
ان کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے
بچے یا بچی کے لئے ماں آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے
ماں کو دکھ نہیں دینے چاہیں
کیونکہ ماں اپنے بچوں کو ہر طرح کے حالات میں تنہا نہیں چھوڑثی
اور اولاد کے لئے کسی قسم کے حالات ہوں ڈھال اور بہترین پناہ گاہ ہےاسی لئے کہتے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
ماں گھر کو روشن رکھتی اور ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا
ماں بچوں کو تہذیب سے روشناس کراتی
اج کل کے تیزی سے بدلتے رجحانات میں ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے بچوں کے لباس سے لے کر دور جدید کی تمام سہولیات کو ماں کے سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہی بچوں کی بہتر نگرانی کر سکتی کہ بچوں کے دوست کیسے
موبائل کا استعمال کہیں پڑھائ میں روکاوٹ تو نہیں
ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ہمیں سادگی اور پاکیزگی کا درس دیتا
بچوں کو دین سے محبت میں ماں کا کردار ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا
کیونکہ بچے کی اول درسگاہ ماں کی گود اور تربیت ہے
اولاد کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں نماز کی سکھانا اور راغب کرنا بھی ماں کی اولین ذمہ داری ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کریں تاکہ مستقبل میں وطن کے لئے فعال اور اچھے شہری بن سکیں@simsimsim1930

تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان: اسلام اور عورت
بلاشبہ حضرت انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب عنایت کرنا رب العرش العظیم کی بے پناہ عنایت ہے
اور اسے بھی دوسری دنیاوی مخلوقات کی طرح جوڑے کی شکل میں پیدا فرمایا
لیکن ہر صنف کو الگ صفات سے نوازا
اگر مرد کو طاقت و جرات عنایت فرمائی
تو عورت کو مرد کے لیے بے مثال بنا کر دنیا میں رونمائی دی
اگر مرد کو زیب وزینت کی کمی ملی تو
عورت کو صنف نازک کہا گیا
اسی صنف نازک کی کمی کا مرد نے ہر دور میں فاہدہ اٹھایا
اسلام سے قبل عورت کو مرد کے مقابلے میں اشرف المخلوقات سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیا گیا
جس کی مثال ایسے ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا
میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نزول کے مقاصد میں عورت کو مقام دلانا بھی شامل تھا۔
اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید فرقان حمید اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کی بقاء کے لیے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں کبھی حکم فرمایا تو کبھی ترغیب دی
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)
جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
اور دین حق نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کو دنیا کے مختلف امور پر فائز کر کے عورت کی اہمیتِ کو اجاگر کیا
صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، فاطمہ بنت آقا دوجہاں، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔
لیکن دور حاضر میں مرد نے دور جہالت کا وطیرہ اپناتے ہوئے ایک بار پھر عورت کو پردے سے نکال کر دنیاوی رونق اور مرد کے لیے عیش و عشرت کا سامان بنا کر پیش کیا۔
بد قسمتی سے اس سارے معاملے میں عورت نے ہی عورت کے استحصال کے لیے
اہم کردار ادا کیا
اور دنیاوی خواہشات کے لیے اپنی ہی جنس کی عزت و آبرو کو پاؤں تلے روندنے کے لیے مواقع فراہم کیے
میرے خیال سے جسے ہم دور جدید کا نام دیتے ہیں
وہ دور جہالت کی ہی ایک قسم ہے
دین سے دوری نے حضرت انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا
متفق ہونا ضروری نہیں
@HabibAlRehmnkhn
انا پرستی،معاشرے کا ناسور تحریر حمزہ احمد صدیقی
"اَنا پرستی” ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ اَنا پرستی ہی کی وجہ سے انسان منافق، جھوٹا اور غیر شفاف ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
اَنا اُس زہر كی مانند ہے، جو انسان كو تباہ وبرباد كر دیتا ہے، جب تک انسان میں اَنا نہیں ہوتی وه سكون سے رہتا ہے، لیكن جیسے ہی اس میں اَنا آجاتی ہے، اس كا سكون محال ہو جاتا ہے، اَنا پرست لوگ اپنی "میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس اَنا پستی کے مرض کا کمینگی کی حد تک اسیر ہو چکا ہے، یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔ ہم نے اپنی اقدار اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں جو کہ زیادہ ہولناک ہے۔
لفظ” مَیں” اور” اَنا "ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازمکوئی شرط نہیں۔سب ” میں ” اور "اَنا” کے مرض میں مبتلا ہیں۔
ہم سب نے ایک زعم پال رکھا ہے کہ کرہ ارض پر مجھ سے بہتر عقل و دانش کا پیکر کوئی دوسرا نہیں۔ ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور حقیر جانتے ہیں اور ہم خود کو علم و فضل اور لیاقت کا ہمالیہ سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمارے نزدیک دوسروں کی اہمیت محض اجڈ، گنوار، کوڑھ مغز اور زمیں پر رینگنے والے حشرات کے برابر ہے۔ اَنا پرستی کے زیر سایہ ہم اس قدر تعصب پسند اور تنگ نظر ہو چکے ہیں، کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا-
معاشرے کو اَناٶں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی اَنا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے، جس دن انسان اپنی اَنا پرستی کو شکست دے گا، اس کے اندر اور باہر کی دنیا میں تازگی اور کشادگی نازل ہو جائے گی۔ رسوم، رواج اور دستور کچھ نہیں، یہ انسانوں کی اَناؤں کی مدد کرتے ہیں اور انسان کو اپنا قیدی بناتے ہیں۔
قارئين اکرام! ہم عہد کرتے ہیں اس عید پہ اپنی” اَنا” کو ذبح کردوں، جو بات بات پر میں میں کرتی ہے۔ہمارا
معاشرہ میں” اَنا” و” میں” کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے اس لیے اس عید پر اس” اَنا” کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے ۔”اَنا” کو شکست دو اور سچ کو پالو یہی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقی دلکشی ہے۔۔!!اللہ پاکﷻ ہمیں ہدایت دے- آمین یارب العالمین!!
@HamxaSiddiqi

آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز
جب بھی الیکشن کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا موسم بڑا گرم ہو جاتا ہے جہاں الیکشن ہو رہے ہوتے ہیں،سیاسی پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔
ساری سیاسی پارٹیاں بڑے جوش اور جذبے سے الیکشن کے دنگل میں اترتی ہیں، کارکنان سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک سارے ہی لوگ الیکشن مہم کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنی تیاری مکمل کر کے میدان میں اترتے ہیں.سب سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے کیوں کہ حلقہ، شہر اور صوبے کے لوگ اس پارٹی کو جتواتے ہیں جس پارٹی نے وہاں کے لوگوں کے لیے کام کیا ہوتا ہے۔ اب عوام بھی اتنی بیوقوف نہیں رہی، پہلے کام پھر ووٹ.
25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے ہیں الیکشن اور ساری سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں ڈال لیے ہیں ڈیرے۔جلسے جلوس بڑے جوش و جذبے سے ہو رہے ہیں.
اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو اس کی قیادت کر رہی ہیں مریم صفدر ،دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔لیکن مریم صفدر کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے وہاں کسی اور جماعت کی حکومت ہے، تقریر میں وہی پرانے نعرے بازی، وہی پرانے وعدے جو کبھی وفا ہی نہیں ہوئے۔ جہاں پر آپ کی پہلے سے حکومت ہے وہاں آپ نے پہلے ہی کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ آزاد کشمیر کے وزیراعلیٰ راجہ فاروق حیدر سے ہی پوچھ لیں انہوں نے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟ نا تو وہاں کوئی سڑک پکی ہوئی ہے،نا کوئی ایسا ہسپتال بنایا ہے جہاں غریب عوام کا مفت علاج ہو سکے اور نا ہی لوگوں کو صاف پانی پینے کو ملتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں وہاں لوگ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے کوئی کام نہیں کیا۔ سب سے بڑی چیز کشمیر کی عوام پوچھتی ہے مسلم لیگ ن نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لڑا؟ کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ سب سے بڑی چیز جب نریندرا مودی میاں نواز شریف کی دعوتوں میں آتا تھا تو نواز شریف نے مودی سے مسئلہ کشمیر پر کیوں بات نہیں کی؟
میرے خیال میں کشمیر کے لوگ باشعور ہیں انہیں پتا ہے انہیں کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔
اگر ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو شاید اس جماعت کو آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ چیئرمین بلاول زرداری آزاد کشمیر کے الیکشن کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ زرداری نے سنبھالی ہوئی ہے.آصفہ زرداری جس کے بارے میں لوگوں کو لگتا ہے جیسے دوسری بینظیر بھٹو ہو۔لیکن میرے خیال میں کشمیر کے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے سامنے بینظیر کی بیٹی ہے یا خود بینظیر ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھیں گے کہ سامنے والی جماعت نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔اور جس جماعت کا چیئرمین خود امریکہ میں بیٹھا ہو اور بہن کو سیاسی مہم کے لیے بھیج دے میرے خیال میں کشمیر کی عوام اتنی بیوقوف نہیں.
اور اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کو دیکھیں جس نے 2018 میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔کشمیر کے لوگوں کے لیے اس سے بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ،وہاں کے لوگوں کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کیا گیا۔حکومتی جماعت نے باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہر چیز میں شامل کیا. یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن بوکھلاہٹ کا شکار ہے کبھی جیت کے دعوے کر رہی ہے تو کبھی دھاندلی کا رونا شروع ہے ابھی سے۔مسلم لیگ ن کو بھی پتا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ مسلم لیگ ن کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔
بہرحال کوئی بھی جیتے لیکن الیکشن کمیشن کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کی الیکشن شفاف ہو ۔
میرا تو ساری سیاسی جماعتوں کو مشورہ ہے کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے آپ لوگوں نے الیکشن کمیشن کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔جیتنے اور ہارنے والا ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک اچھے سیاستدان اور اچھے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت دے۔کیوں کہ کوئی بھی جیتے آخرکار ہم ہیں تو سب ہی پاکستانی.
@sadianaz123
ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم
دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔
لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔
گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔
ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔
ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔
حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔
اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

تحریر ماریہ بلوچ عنوان: ناشکرے ہم
بحثیت انسان مسلمان قوم و امت ہم ناشکرے لوگ ہیں ۔ ہم میسر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور الٹا جو ہمیں حکمت الہی سے دیا نہیں گیا اسکی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں جب ہم بھوکے ہوتے ہیں ہم خواہش کرتے ہیں بس کہیں سے کچھ بھی کھانے کو مل جائے اور کھانے کے بعد شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کاش ہمیں کچھ اچھا کھانے کو مل جاتا۔ اور یہی حال ہم تمام نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
مجھے ذاتی طور پر اسکی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے ہمیں لگتا ہے جو ہمیں دیا گیا ہے ہم اس سے بہتر کے حقدار تھے۔ نادانستہ ہم اللہ کی حکمت کے منکر ہو رہے ہوتے ہیں۔ قرآن کی ایک مختصر سی آیت میں اللہ نے بہت جامعیت سے بتایا کہ
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر تم نے کفر کرو گے تو عذاب شدید ہے”
مطلب اگر شکر نہیں تو پھر وہاں کفر ہے ۔۔ کفر کس چیز کا؟؟ کفر اللہ کی نعمتوں کس انکار ہے جو اس نے دی ہیں اور پھر ایسے کفر پر عذاب بھی شدیدکہا۔۔
بہت حیرت کی بات ہے ہمارے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کفر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہمیں اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
کل 100 روپیہ کمانے والا آج 1000 کما رہا ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد لگثریز کا عادی ہو رہا ہے اور زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کیا کریں اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ اگر ہم قوم ہیں تو بھی ہمارا یہی حال ہے ہم اپنے ملک میں آذادی سے رہتے ہیں ہمارے جان مال و عزت کو وہ تحفظ اجتماعی طور پر حاصل ہے جس کے لیے ہم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا لیکن اب ہم اس پر بھی شاکر نہیں ہمیں ہمارے ہی ملک میں نقائص نظر آتے ہیں ہماری نظریں یورپ کے بظاہر ترقی یافتہ مگر اخلاقی اقدار میں پست ممالک پر ہیں۔اور ہم ان جیسا ہونا چاہتے ہیں ۔
ہمیں اپنا ملک اپنا نظام دیا گیا مگر ہم اسکو نہیں اپنانا چاہتے ناشکرے پن ہی میں ہم اللہ کے نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں۔۔
اب بھی وقت ہے ہمارے لیے شکر کو اپنانے کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں یہی ہمارے لیے راہ نجات و وسیلہ کامیابی ہےTwitter handle: @ShezM__

بزدار سرکار تحریر: بختاور گیلانی
پی ٹی آئی نے جب الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کی
تو ہر شخص اس سوچ و بچار میں تھا تخت لاہور کا وارث کون بنے گا؟
آیا کہ پہلی حکومتوں کی طرح اشرافیہ نام نہاد وزیراعلی کی طرح اپنا ہی کوئی رشتہ دار یا دوست اسکا مستحق ٹھرے گا
یا کوئی عام ورکر?
پی ٹی آئی میں بڑے بڑے نام تھے
جو وزیراعلی بننے کی دوڑ میں شامل تھے
برسوں سے پنجاب میں حکومت کے سنہری خواب دیکھ رکھے تھے
آخر کار کپتان نے سب کے سپنوں کو چکنا چور کرتے ہوئے قرعہ ایک نہایت پسماندہ علاقہ کے سادہ ترین شخص کا نکلا
جسے لوگ سردار عثمان بزدار کے نام سے جانتے ہیں
جیسے ہی یہ فیصلہ ہوا
بڑے بڑے برج اوندھے منہ گر گئے
آخر خان نے کیا فیصلہ کیا ہے؟
بس حلف اٹھانے سے پہلے ہی اندرونی بیرونی حاسدین نے بزدار سرکار کو آڑے ہاتھوں لے رکھا تھا
کوئی موقعہ تنقید کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے
آخر بزدار نے آہستہ آہستہ بیٹننگ شروع کی پھر آہستہ آہستہ کوئی اچھا سٹروک کھیلتا
بزدار سرکار نے آہستہ آہستہ پچ کی کیفیت کو سمجھنا شروع کیا
پھر بلا زور سے چلنا شروع ہوا
چھکے چوکے لگانا شروع کئیے
آہستہ آہستہ ناقدین کے منہ بند ہونا شروع ہو گئے
آب بزدار اس پوزیشن پہ کھڑا ہے
ہر گیند کو کریز سے باہر نکل کے کھیلتا ہے
اور گیند بائونڈری سے باہر جا کر گرتی ہے
بزدار سرکار نے وہ تاریخی کام پنجاب میں شروع کئیے
جو پنجاب کی تہتر سالہ تاریخ میں کوئی نہ کر سکا
آئیے چند آہم کاموں پہ روشنی ڈالتے ہیں۔۔۔
پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں NADRA کے ذریعے "ڈیجیٹل وراثتی سرٹیفیکیٹس” کا اجراء شروع کر دیا گیا ہےاب وراثت کےقانونی حقدار عدالتوں سے رجوع کیے بغیر نادرا سے 15 دن میں بآسانی سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکیں گے اور عدالتی نظام پر یہ غیر ضروری بوجھ کم ہو گا!
ایک اور زبردست منصوبہ بزدار سرکار کا۔۔۔۔
2019 کے آخر میں 32 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے منصوبے جلالپور کینال سسٹم کی تعمیر کے پہلے پیکج پر تیزی سے کام جاری ہے۔
کون کیا چاہتا ہے ؟ تحریر : فرید خان
افغان مسلے پر بار بار لکھ چکا لیکن پھر بھی لکھنے کا سلسلہ نہیں رکتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی پشرفت اجاتی۔ وسطی ایشیا میں اس وقت افغانستان کی جنگ اور مسلہ زور پکڑ رہا۔ امریکہ نے مسلے سے تقریبا جان چھڑانا شروع کیا لیکن سرزمین کے ہمسایوں میں بڑی حد تک تشویش پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان بطور مرکزی کردار اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا گزشتہ دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی وزیر اعظم عمران خان سے فون پر رابطہ بھی ہوا اور افغان مسلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماوں نے مسلے پر پاکستان کے دارلحکومت میں کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔ کانفرنس عید سے پہلے ہونا تھا لیکن تاشقند میں وزیراعظم اور افغان صدر کی ملاقات میں اشرف غنی نے وقت مانگ لیا اس لیے اب یہ کانفرنس عید کے بعد منعقد کی جائے گی۔ دوسری طرف افغان حکومت مسلے پر مسلسل کشمکش کا شکار ہے۔ کبھی مزاکراتی عمل میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے اس سنگین صورت حال میں بجائے معاملات کو سنجیدہ لے افغان حکومت غیر ذمہ دارانہ طور پر کبھی ایک الزام پاکستان پر لگاتا کبھی دوسرا۔ گزشتہ روز افغان نائب صدر نے پاکستان فضائیہ پر بے بنیاد الزام لگایا گیا جس کی تردید اور وضاحت دفتر خارجہ نے کی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام کیوں غیر ضروری ہے یہ الزام اس لیے غیر ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان مسلسل علاقوں پر قبضہ کررہے اور افغان حکومت اور فورسسز بے بسی کا شکار ہے تو پاکستان کو اس طرح کے معاملوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے عین اس وقت جب پاکستان اس وقت مرکزی کردار ہے اور افغان مسلے کی سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششوں میں ہیں۔ گزشتہ روز تاشقند میں کانفرنس کے دوران مسلے پر مثبت گفتگو کے بجائے افغان صدر نے پاکستان پر الزامات لگائے اور اسی دوران پھر وزیر اعظم پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کیا چاہتی ؟ کیوں مسلے پر غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ؟ اگر وہ واقعی وطن میں امن چاہتا تو کیوں بجائے مسلے پر بات کرنے وہ غیر ضروری الزامات لگا رہے؟ اگر وہ ملک میں امن چاہتے تو کیوں پاکستان کی کردار کی تائید نہیں کرتے ؟ کیوں مسلے کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا نہیں کررہے ۔ اس وقت طالبان علاقے قبضہ کررہے پوری دنیا دیکھ رہی کہ طالبان فتوحات کررہی ، امریکہ اور افغان حکومت بے بسی کا شکار ہے پھر بھی پاکستان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کررہا اور مسلے کے سیاسی حل کے لیے کوششوں میں ہیں . بار بار پاکستان وضاحت کررہا کہ پاکستان کا اس جنگ میں کوئی فیورٹ نہیں ، پاکستان امن چاہتا کیونکہ پاکستان کی امن بھی افغانستان کی امن سے جڑی ہے ۔افغانستان حکومت کو اس پر سنجیدگی سگ غور کرنا پڑے گا یہ مسلہ سنگین ہوتا جارہا۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت چاہے جتنے بھی الزامات لگائے جس وقت تک لگاتا ہے انہیں اخر میں پاکستان کی تائید کرناپڑے گا کیونکہ اس مسلے کا حل ایسا نہیں ہے جو اشرف غنی چاہتا۔ اس سے پہلے کہ طالبان بزور طاقت حکومت قائم کرے اشرف غنی کو ابھی سے اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مسلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس مسلے کا حل طالبان بھی چاہتا پاکستان بھی چاہتا ہمسایہ ممالک بھی چاہتا اور خود افغانستان کی عوام بھی دہائیوں کی جنگ سے بے زار ہیں اور جنگ کا سیاسی حل چاہتے لیکن اس مسلے کا حل اگر نہیں چاہتا تو وہ ایک اشرف غنی ہی اور دوسرا ہندوستان ۔ دہائیوں کی خان ریزی اب بند ہونا پڑے گا ، اشرف غنی اپنی دوستیاں نبائے یا اپنی سیاسی مفاد کو سامنے رکھیں بلاخر ان کو بھی جنگ سے بے زار ہوکر ان کرداروں کا ساتھ دینا پڑے گا جو مسلے کی سیاسی حل چاہتی وہ حل جس میں افغانی عوام ، طالبان اور حکومت مطمئن ہو ۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد اگر امن چاہیے تو سب کو اپنی مفاد بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر انا پڑے گا ۔ اللہ دب العزت سے دعا ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور اسی کی بدولت پاکستان میں امن اجائے۔ امین
Twitter @Faridkhhn

تحریر: تصوّر جٹ جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث
بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا، بے حیائی ہے۔
ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔
جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔
اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ
“جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیںکبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔
ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔
@T_jutt17









