Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ثقافت کی حفاظت تحریر:  زہراء مرزا

    ثقافت کسی بھی معاشرے یا علاقے کی پہچان ہوتی ہے. وہاں کا رہن سہن طور طریقے رسوم رواج لباس و خوراک یہ تمام کی تمام چیزیں ثقافت کہلاتی ہیں.
    .
    علاقے کے لوگوں کا مذہب کوئی بھی ہو. وہ ثقافت پر اثر انداز نہیں ہوتا.
    تہذیب و تمدن پر مذہب کی چھاپ ممکن ہے مگر ثقافت پر نہیں.
    .
    کلچر کسی بھی علاقے کی فطری اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر وجود میں آتا ہے.
    .
    اس میں کسی خاص علاقے کے ماحول کا بڑا اثر شامل ہوتا ہے.
    .
    جس خطے میں ہم بستے ہیں اسے پاکستان کہتے ہیں، پاکستان میں ہر طرح کی زمین اور ماحول موجود ہے.
    یوں ہر علاقے کی اپنی مختلف ثقافت ہے.
    .
    لباس کی بات کریں تو پاکستان میں
    کہیں اجرک ثقافت ہے تو کہیں دھوتی کرتا، کہیں ٹوپی تو کہیں دستار
    .
    ہر علاقے کی عوام کا مہمان نوازی کا طریقہ مختلف ہے. مہمان نواز ہونا تہذیب ہے. اور کس علاقے میں کس طرح مہمان نوازی ہوتی ہے یہ چیز علاقے کی ثقافت کو ظاہر کرتی ہے.
    .
    تمہید مزید لمبی نہ ہو اسلیے تحریر کے مقصد کی جانب بڑھتے ہیں.
    .
    باقی خطوں کی طرح ہمارا خطہ پنجاب بھی ایک خوبصورت ثقافت رکھتا ہے.
    لیکن جوں جوں ہم ماڈن ہوتے جا رہے ہیں. اور مادی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں ہم اپنی ثقافت سے دور ہو رہے ہیں.
    ثقافت کے فروغ اور بقا کے لیے سب سے اہم آپکی زبان ہے.
    آج ہماری اکثریت اپنے بچوں کو پنجابی سکھانے سے قاصر ہے. اور بچے کو پنجابی بولنے سے روک رہی ہے.
    بات پنجابی تک نہیں رکی دور جدید میں جدت کے مارے ہوئے اردو کو ترک کر کے انگریزی بولنے اور سیکھنے پر مصر ہیں. اور اسے ہی فلاح کا واحد راستہ جانے ہوئے ہیں.
    ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر اپنے لباس سے دشمنی پال لی ہے. آج کالجز اور یونیورسٹیوں میں آپکو پنجابی لباس ذیب تن کیے نوجوان آٹے میں نمک کے برابر ملینگے.
    .
    چاینز، اٹالین، امریکن اور جاپانی کھانو کے ششکے نے ہم سے سرسوں کا ساگ،. دیسی مرغ، مکھن، لسی جیسی خوبصورت خوراک چھین لی ہے.
    آج ہم فقط ماڈرن نظر آنے کی خاطر ان تمام چیزوں کو اپنی میز سے دور کر رہے ہیں.
    .
    ہم نے اپنے صوفی و فوک میوزک کو قدیم زمانے کی بورنگ چیزیں کہہ کر موسیقی میں پاپ اور راک کو ہی اپنا اوڑھنا بچونا بنا لیا ہے.
    .
    ہمارے ڈراموں اور فلموں میں ترقی یافتہ انڈسٹریز سے متاثر ہو کر اپنی ثقافت کو دکھانے کا رواج ختم ہو چکا ہے. اور ہم عوامی کنٹینٹ تخلیق کرنے میں ناکام ہیں.
    .
     تحریر طول نہ پکڑ لے اس سے پہلے بات کو سمیٹتا ہوں. ہم نے جدت کے نام پر جن چیزوں کو مائنس کیا وہ ہماری ثقافت اور کلچر کو نگل رہی ہیں. ہم نے اخلاقی اقدار میں تنزلی کا سفر طے کر لیا ہے. اور گورا بننے کے چکر میں پنجابی بھی نہیں رہے.
    اگر ہمیں اپنی شناخت زندہ رکھنی ہے تو اپنی ثقافت سے عشق کرنا ہوگا. تاکہ ہماری نسلوں کی پہچان ممکن ہو سکے.

    شکریہ
    zaramiirza@

  • کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سندھ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لئے گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے ہر جماعت جلسے جلوسوں اور انتخابی مہم کے ذریعے عوام کو اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی حکومت اور وزارتوں کے باوجود سندھ کے کسی بھی ایک ضلع کو مثالی ضلع بتانے کی پوزیشن میں نہیں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال پورے ہوچکے اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کا صوبوں پر صرف ٹیکس لینے کی اور وفاقی ماتحت اداروں کے زریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا کام رہ گیا ہے مگر وہ کام بھی وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی ریلیف دلانے سے قاصر ہے کیونکہ وفاق کے زیرِ انتظام بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کا جس طرح جوس نکالا ہے وہ کوئی بھی پاکستانی اپکو بخوبی بتا سکتا ہے چینی سے لیکر ایل پی جی تک اور ڈالر سے لیکر ڈالڈا تک ہر چیز وفاقی حکومت کو منہ چڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وفاقی حکومت کا کہنا ہے آپ کو گھبرانا نہیں ہے 

    وفاق کی ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد صوبہ سندھ کی جانب رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر لگاتار حکومت جاری ہے بلکہ یوں کہیے کہ سندھ کی عوام پر 13 سالوں سے وہ بھٹو حکومت کررہا ہے جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن پھر بھی عوام مر گئی لیکن بھٹو آج بھی ذندہ ہے پیپلز پارٹی نے 13 سالوں میں سندھ کی وہ حالت کردی ہے کہ روشنیوں کا شہر کراچی اب موئنجودڑو کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جیسے لوگ جب پاکستان کو ٹیکس کی مد میں 65 پرسنٹ ریونیو دینے والے صوبے پر حکمرانی کریں گے تو بس پھر ملک اور قوم کا اللہ ہی مالک ہے

    ویسے ایک نہایت ہی قابل انسان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے 

    میرے آرٹیکل کا مین مدا بھی یہی ہے کہ میرا پیارا ملک بیقدروں اور نااہلوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے جس میں پورے پاکستان کی ہر جماعت حکمرانی اور اپوزیشن دونوں ہی مزے لوٹ رہی ہیں سوائے ایک جماعت کے جس کا ذکر بعد میں کرونگا فلحال سندھ کی حکمران جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پیپلز پارٹی تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ تو نکل آتا ہے ہے پولنگ بوتھ سے مگر بھٹو کسی کو نظر نہیں آتا 13 سالوں سے اقتدار میں ہے وفاق میں اپوزیشن میں بھی ہے تحریک انصاف وفاق میں حکمران اور سندھ میں اپوزیشن جماعتوں میں شامل ہے جب کہ انکے بیشتر وفاقی وزیر اور ملک صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کا عہدہ آج بھی ان کے پاس ہے لیکن وہ بھی گیارہ گیارہ سو کے ناجانے کتنے ٹیکے اپنے جلسوں میں کراچی والوں کو لگا کر جاچکے مگر وہ تو نا آئے عوام کو کورونا کا ٹیکہ لگ گیا 

    تیسری اور سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے والی جماعت جو ہر حکومت میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ رہی لوکل الیکشن کے پچھلے بیس سالہ دور میں سے 15 سال انکا مئیر منتخب کروا کر دینے والے کراچی کے شہری ایک سید مصطفیٰ کمال کے دور کے علاؤہ کسی بھی وزیر میئر اور گورنر سے آج تک کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکے سوائے انکی جائیدادوں اور بینک بیلنس میں اضافے کے علاؤہ لیکن حد تو یہ ہے کہ سندھ کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں آج بھی یہ جماعت عوام کو ووٹ کے بدلے اچھے کل کی تصویر دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں سے ووٹ لیتے آرہے ہیں اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے 

    اب آتے ہیں پاک سر زمین پارٹی کی جانب جو اس بار پہلی مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اپنے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی الیکشن مہم بہت زور ؤ شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے تمام جماعتوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اب مصطفیٰ کمال کو آزمانے کے علاؤہ کوئی آپشن موجود نہیں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین کی جس بات پر عوام سب سے زیادہ متوجہ وہ یہ نعرہ ہے کے میرے نمائندوں کو ووٹ دیکر آپ اپنے گھروں میں سونا میں اور میرے نمائندے راتوں کو جاگ کر تمہارے صبح کو بہتر بناتے ہوئے نظر آئینگے 

    12 ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں سندھ سے کونسی جماعت کامیاب ہو گی اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر عوام کو اپنے ووٹ کا لازمی اور اچھے نمائندوں کو منتخب کرنے کا عمل ہی انکو انکی حالت میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ اچھے اور کام والے نمائندوں کو منتخب کروا کر اپنا اور اپنے علاقوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ووٹ ضرور دیں اور اچھے کو دیں 

  • بارش کا موسم تحریر : فرح بیگم

    بارش ایک بہت خوبصورت موسم ہے ۔جس میں دل خوش گوار ہو جاتا ہے اور آپکو اپنے نزدیک ہر چیز بڑی دلکش اور دل فریب لگ رہی ہوتی ہے ۔شعرا بارش کے موسم کو مختلف اشعاروں سے بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔کچھ کی نظر میں بارش غم اور دکھ لے کر آتی ہیں اور کچھ کے لیے بارش کا موسم ایک رومانٹک موسم کہلایا جاتا ہے ۔ بارش اور محبّت دونوں ہی بہت یادگار ہوتے ہیں پر اتنا فرق ہے کہ بارش جسم کو بھیگا دیتی ہے جب کہ محبّت میں آنسو بھیگ جاتے ہیں ۔کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ انسان کے اندر کہیں موسم ہوتے ہیں ۔اداسی ،تنہائی ،ویرانی ،خوائش ،حاصل ،لا حاصلی، دکھ ، سکھ ،خوشی ،غمی وغیرہ لیکن جب باہر کا موسم اندر کے موسم سے ملتا جلتا ہو تو کہیں لمحات جنم لیتے ہیں اور دل کی آواز بن جاتے ہیں ۔جہاں خزاں کے بے رنگ پتے اداسی اور محرومی کو بڑھاتے ہیں وہاں بارش کا موسم سنہری ، سرسبز ،تازہ اور رنگین یادیں سوچ کو نیے زاویئے میں بدل دیتے ہیں ۔اور زندگی خوشگوار سی لگنے لگ جاتی ہے ۔
    جب سورج آنکھیں دیکھا رہا ہو ،گرمی کے تھپڑ کان اور منہ پر پڑھ رہے ہو ،ہر چیز آگ سے جھلس رہی ہو ،گرمی کی وجہہ سے بچے جان سے اوازار ہوں ،گلیوں میں ہر طرف ویرانی ہو ،پانی کا بہران ہو اور اتنی شدید گرمی کے بعد اللّه بارش برسا دیتے ہیں ۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر کالے بدل چھا جاتے ہیں ، آندھی چلنے لگتی ہے ، سورج جو تاپ رہا ہوتا تھا وہ کالے بدلوں میں چھپ جاتا ہے ، ہوا میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے اور پھر بارش شروع ہو جاتی ہے ۔ بچے جو بے حال تھے خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور گلیوں میں کھیلنے لگتے ہیں ۔ بچے بارش میں نہانے اور موج مستی کرتے نظر اتے ہیں ۔باغوں میں بہار آ جاتی ہے ۔ ہر طرف خوش خالی ہی نظر آتی ہے ۔سر سبز پتے ہوا سی جھوم رہے ہوتے ہیں ۔
    بارش تھم جانے کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں سی باہر آ جاتے ہیں ۔ کوئی بارش کے موسم کو منانے کے لیے نکلتا ہے تو کوئی بازاروں میں خریدی کرنے کے لیے نکلتا ہے ۔ بارش اللّه کی نعمت ہے ہمیں اس سی فائدہ بھی پہنچتا ہے لیکن بارش اتنی ہی ہونی چاہیئے جس سے کھیتوں اور فضلوں کو کوئی نقصان نہ ہو ۔ضرورت سی زیادہ بارش نظام کو خراب اور بنجر کر دیتی ہے ۔کچھ بارشیں اپنے ساتھ تباہیاں بھی لے کر آتی ہیں ۔ یہی بارش لوگوں کے لیے زحمت بن جاتی ہیں ۔ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو جاتے ہیں ۔ گاؤں کے کچے مکانوں میں رہنے والے ںسے لے کر شہرکی بڑی عمارتوں میں رہائش پذیر لوگوں تک اور عام آدمی سے لے کر صاحب ِ حثیت لوگوں تک، سب کو بارش کی فکر رہتی ہے۔ یہی بارش لوگوں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے کوئی بجلی کی تار کی وجہہ سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو تو کوئی بل بوٹ یا کسی ملبے کے نیچے آ کر مر جاتا ہے ۔ اس لیے ہر کوئی اللّه سے خیر کی بارش منگتا ہے اور یہی دعا کرتا ہے کے انکے پیارے محفوظ رہیں۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین و دلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرے فلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ہوتا ہے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے میں کوثر نیازی لکھتے ہیں:
    باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد
    دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد
    یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!
    دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد
    مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے
    کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد
    اس خواہش میں چلا آیا ہوں بابوسر پر
    اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد
    کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ہوتے
    دل میں ابتک ہے اک حسرت وارمان کی یاد
    عشق جس رنگ میں ہو زندہ وپائندہ ہے
    دل ہر سنگ میں ہے سیف کے رومان کی یاد
    جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر
    دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

    یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ہوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ہوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ہوگیا۔کبھی نعرے بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔۔۔۔۔
    مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ہوٹل سے چائے پی اور پھر سفر شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اس سے کہیں زیادہ نکلا۔اس سمے ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ہوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔
    تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ہے اتنے ہم بھی نہیں۔
    بقول مستنصر حسین تارڑ:
    “وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیڑ بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”
    مگر اب کاغان میں ہوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ہونے والی ہے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ہوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیض سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ہوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ہاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔
    چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔
    “کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا”
    تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ہوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ہو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آیا تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ جیسے پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔
    اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ہوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ہے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ہوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چار دیواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ہوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔
    اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ہوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ہے۔ جو مزہ پیدل جانے میں ہے،وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ہوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ہوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔
    کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ہوتی جارہی ہے۔سنا ہے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ہوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔
    وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ہے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرنا چاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    @EjazulhaqUsmani

  • مقامِ دل تحریر : نعمان ارشد

    مقامِ دل تحریر : نعمان ارشد

    قرآن پاک میں مومنوں کے حق میں فرمایا

    ترجمہ

    "ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللّٰه کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کریں”

    قرآن و سنت کی روشنی میں یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ذکرِ الٰہی اور یادِ اللّٰه سے انسان کا دل پاک و صاف ہو جاتا ہے- اسی ذکر کی بدولت انسان کے دل میں بغض و حسد کا غبار مٹ جاتا ہے اور اس کے دل سے غفلت و شقاوت کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ ظلالت و گمراہی کے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں۔ فسق و فجور کی گرد اڑ جاتی ہے۔ بدی اور نافرمانی کی تاریکیاں مٹ جاتی ہیں۔ خواہشات نفسانی اور حرص و ہوا کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور جس کسی انسان کے دل سے یہ تمام عوارض گناہ و معصیت مٹ جائیں تو اس کا دل نور ایمان سے منور ہو جاتا ہے۔ اس کے سینے میں حقیقت اور معرفت کی شمع روشن ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر ایقان و عرفان کے چراغ جل اٹھتے ہیں اور پھر اس کا دل تجلیاتِ اِلٰہی کا مرکز بن جاتا ہے۔ 

    کسی انسان کے کفر و ایمان کا دارومدار بھی زبان اور دل پر ہے۔ کیوں کہ زبان اقرار کرتی ہے اور دل تصدیق کرتا ہے۔ اس لیے تو اللّٰه تعالٰی نے کافروں کے حق میں فرمایا

    "اللّٰه نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں اب کوئی حق بات ان کے دلوں میں نہیں جاتی ۔ ”

    ایمان والوں کے پاس جب اللّٰه کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دلوں پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے یعنی دل کانپ جاتے ہیں اور محبتِ اللّٰه میں تڑپ اٹھتے ہیں۔  

    ایک مقام پر اللّٰه نے فرمایا

    "جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللّٰه کے حضور حاضر ہوا سلامتی والا دل کے کر”

    قلبِ سلیم وہی دل ہے جو حسد و بغض اور حرص و ہوا، گناہ و معصیت اور لالچ اور خواہشاتِ نفسانی سے پاک ہو۔ محبتِ اللّٰه سے بھرپور اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے لبریز ہو۔ نورِ دین و ایمان سے منور ہو۔ جس دل سے اللّٰه پاک کے انوار و تجلیات کا نزول ہو وہی قلبِ سلیم کہلاتا ہے۔ 

    حضرت قاضی ثناء اللّٰه پانی پتیؒ فرماتے ہیں کہ : سلیم سانپ کے ڈسے ہوئے کو کہتے ہیں۔ جب بندے کو سانپ ڈستا ہے تو بندہ تڑپ جاتا ہے۔ اسی طرح قلبِ سلیم وہ ہوتا ہے کہ جس کے سامنے محبوب کا ذکر آئے اور وہ ڈسے ہوئے بندے کی طرح تڑپ جائے۔ قرآنِ پاک میں انسان کے دل کی مختلف کیفیات بیان کی گئی ہیں۔ یعنی کہ ایمان اور کفر کا مرکز بھی دل ہے۔ نیکی اور بدی کا سرچشمہ بھی دل ہے۔ حق و باطل کا مرکز بھی دل ہے اور عشق و محبت کا منبع بھی یہی دل ہے۔ اس لیے مولانا رومؒ نے فرمایا

    از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است

    دل گزرگاہ جلیلِ اکبر است

    ہزاروں کعبوں سے انسان کا ایک دل بہتر ہے کیوں کہ یہ جلیل کی گزرگاہ ہے۔ 

    اس کو اقبالؒ فرماتے ہیں

    در دل مسلم مقام مصطفیٰ است

    عشق کا مقام بھی دل ہے اور عقل کا مقام بھی دل ہے کیوں کہ عشق والا دل اپنے محبوب حقیقی کی ہر ادا سے پیار کر کے اس کے قدموں میں اپنا سر نیاز جھکا دیتا ہے اور عقل والا دل انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر بھی انکار کر کے اکڑ جاتا ہے۔ عشق والا دل غارِ ثور میں زہریلے سانپ سے ڈنگ پر ڈنگ کھاتا ہے اور جنبش تک نہیں کرتا کہ کہیں محبوبِ پاک ﷺ کے آرام میں خلل نہ آ جائے۔ عقل والا دل اپنی مٹھی میں کنکریوں سے کلمہ پڑھنے کی آواز سن کر بھی نہیں مانتا۔ عشقِ اللّٰه کی رضا پر اپنے بچے کو قربان کر کے خود نیزے پر چڑھ جاتا ہے اور عقل والا دل قربان ہونے والے پر تنقید کر کے دنیا و آخرت کی لعنت خرید لیتا ہے۔ 

    ‎@Official__NA

  • مسئلہ کشمیر  آج تک حل کیوں نہیں ہواتحریر محمّد عثمان

    میرا آج کا یہ پیغام پوری دنیا بلخصوص 57 مسلم ممالک کے لئے

     کشمیر کو 74 سال ہو چکے ہیں کہ وہ بہارت کے غاصیبانہ قبضے میں ہے آج تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اس مسئلہ کی وجوہات تو بہت ہیں لیکن ان میں سے دو بڑی وجہ یہ ہیں؛

    پہلی وجہ  UNO اور طاقتور ممالک کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے اور 

      دوسری وجہ ام مسلمہ کا اتحاد نہیں ہے

     آج اس دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں  اور ان  میں بھی اتحاد نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کشمیری اس آزادی کی جدوجہد میں شہید اور بہت سے   زخمی ہو چکے ہیں آج اس جنت نظیر وادی  کشمیر کے حق میں  صرف ایک مسلم ملک پاکستان 74 سالوں سے بول رہا ہے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہا ہے مسلم ممالک اور مسلمان جو اس دنیا میں ہیں وہ سب اس مسئلہ کشمیر پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں *جاگو مسلمانوں جاگو* !!!!اللہ تعالی قرآن مجید میں سورہ مائدہ آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتا ہے*("جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی”*)۔اس آیت پر ہی غور  کر لیجئےکے ایک انسان کی جان کتنی قیمتی ہے لیکن وہاں کشمیر میں تو  ہماری مائیں، بہنیں اور مسلمان بھائی موجود ہیں ان کی جان بچانا تو  ہم سب مسلمانوں پر فرض ہے اور کشمیر میں تو لاکھوں مسلمانوں کی  جانوں کو خطرہ ہے اور ہم مسلمان ہو کر بھی  مسلمانوں کی جان بچانا تو دور کی بات ہم ان کے حق میں بھی نہیں بول رہے  *جاگو ام مسلمہ جاگو*!!!!آپ مثبت سوچ رکھیں  اور مثبت پہلو سے مسئلہ کشمیر کو دیکھیں  یہ ایک حل ہونے والا مسئلہ ہے ؟؟؟؟آپ یہ مت سوچیے کہ ہم نے کشمیر کے حق میں بولا تو بھارت سے ہماری تجارت ختم ہو جائےگی    *یاد رکھیں* !!!!تجارت سے اہم انسان کی زندگی بچانا ہے .  کوئی مسئلہ نہیں آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں حق اور سچ کا ساتھ دیں یہ ہم پر لازم ہے !اور آپ یہ مت سوچیےکہ یہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا مسئلہ ہے *نہیں*!!!بلکہ یہ مسئلہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو جنگ ہو سکتی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ جنگ سے پوری دنیا کو نقصان ہوتا ہے جس طرح *جنگ عظیم اول اور دوم* ہوئی تھی اس میں پوری دنیا کو نقصان ہوا تھا اسی وجہ سے *UNO* تشکیل پایا تھا یہ جنگ *ہٹلر* نے دو تین ہفتوں کے لیے شروع کی تھی لیکن یہ پانچ سال تک چلی ۔اسی لیے میں پوری دنیا سے کہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے والا مسئلہ ہے  یہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل ہونا چاہیے اور یہ مسئلہ خصوصی مسلمانوں کا بھی مسئلہ ہے آج کشمیری ہمیں پکار رہے ہیں اگر آج ہم خاموش رہے تو آخرت میں ہم سے پوچھ گچھ ہوگی کہ *تمہارے کشمیری مسلمان بھائی مشکلات میں تھے تم نے ان کی مدد کیوں نہیں کی* ؟؟؟؟ *ان کے حق میں کیوں نہیں بولا ؟؟؟؟*پھر اللہ کے ہاں تمہاری پکڑ ہوگی !!اور رہی بات کشمیر کی تو اس کا  فائدہ پاکستان سمیت پوری دنیا بالخصوص مسلمانوں کو ہوگا کیونکہ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگیا ہوگا کہ ایک انسان کی جان کتنی قیمتی ہے اور کشمیر میں تو لاکھوں مسلمانوں کی جان کو خطرہ ہے جو آئے دن *پانچ سے چھ کشمیری* شہید کر دیے جاتے ہیں آخر کب تک کشمیریوں پر ظلم ہوتا رہے گا۔ اس وقت کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنا ہوا ہے ۔وہ اپنا موجودہ حال سہی سے نہیں گزار، سکتے وہ اپنا مستقبل روشن نہیں بنا سکتے، وہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے، وہ کچھ بول نہیں سکتے، وہ اپنی نمازیں خاص طور پر نماز جمعہ مسجد میں ادا نہیں کر سکتے، وہ عید نہیں منا سکتے، وہ قربانی نہیں کر سکتے، وہ اسکول نہیں جا سکتے ،پورے  کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے سات لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں تعینات ہیں ۔نہتے کشمیری ان فوجیوں کی گولیوں کا مقابلہ کرتے ہیں *آخر کب تک؟؟؟ *کشمیری اس قید خانہ میں رہیں گے ؟؟*کشمیریوں کا بھی کوئی مستقبل ہے۔ کیا کشمیریوں کی قسمت میں صرف قید خانہ  میں رہنا ہی لکھا ہے ؟؟؟؟*وہ بھی آزاد ملکوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ 74 سالوں سے کشمیریوں کا مقصد صرف آزادی ہے اسی لئے ان کے دل سے موت کا خوف نکل گیا ہے اور یہ نہتے کشمیری آج تک ان بھارتی فوجیوں کے ظالمانہ حملوں کا ڈٹ کر سامنا کر رہے ہیں اور ان کشمیریوں کے منہ سے ایک ہی نعرہ نکلتا ہے ہم کیا چاہتے؟؟ آزادی!!! ہم کیا چاہتے؟؟ آزادی!!!اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ہے اور بڑی کامیابیاں بڑی بڑی قربانیوں سے ہی ملتی ہے اور اللہ تعالی دیکھ رہا ہے کہ کتنےمسلمان کشمیریوں کے  حق میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ اپنے اللہ تعالی پر یقین ہوتا ہے اور ہمیں جنگ بدر بھی یاد ہے 313 مسلمانوں نے ایک ہزار کافروں کو شکست دی تھی یہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فتح تھی اور اللہ تعالی کی مدد مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے اور مسلمان بہت ہمت، بہادری اور جذبے سے لڑتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کو شہادت پر یقین ہوتا ہے اور وہ اپنے اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں یقین ہے اللہ پر کہ کشمیریوں کی محنت ،جدوجہد آزادی اور عظیم قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور وہ وقت دور نہیں کہ جلد ہی کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائے گا *کشمیر بنے گا پاکستان!!!! کشمیر بنے گا پاکستان !!!!* *انشاءاللہ!!!*

     

    Twitter ‎@Usmankbol

  • یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ  تحریر: احسان الحق

    یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ تحریر: احسان الحق

    حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح وہ بطل جلیل ہیں جن کی فراست، تدبر، سیاست اور وکالت کا برصغیر میں تو کیا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں. آپ یقیناً بیسویں صدی کے عظیم ترین اور بہترین رہنما ہیں جن کی عظمت، فراست، اخلاق اور سیاست کی تعریف کرنے پر پوری دنیا مجبور ہے. آپ نے مسلمانان برصغیر کے خلاف انگریز-ہندو گٹھ جوڑ کا بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا اور دونوں حریفوں کو اپنی فراست اور سیاست کے ذریعے زیر کیا. تقریباً 200 سالہ غلامی میں جکڑی مسلمان قوم کو بدمست اور متعصب ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی دلانا یقیناً بہترین صاحب سیاست اور صاحب فراست شخصیت کا کام ہے. بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح عالم سیاسیات میں ایک انتہائی منفرد اور غیرمعمولی شخصیت ہیں. آپ نہ صرف سیاست، وکالت، شجاعت اور حوصلے میں اعلیٰ ترین تھے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے بے لوث اور بے غرض ہو کر اجتماعی فلاح کا ایسا کارنامہ سرانجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی دشمنوں سمیت ساری دنیا معترف ہے.

    حضرت قائداعظمؒ ایک بہترین سیاستدان اور مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ دور اندیش بھی تھے. برصغیر کے مسلمانوں کے متعلق آپ نے جتنے خدشات کا اظہار کیا وہ سارے خدشات وقت کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوئے. دہلی میں منعقدہ مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس میں آپ نے فرمایا تھا.

    "مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیوں کہ انہیں برائیوں نے مسلمانوں کو 200 سال سے کمزور اور محکوم بنا رکھا ہے”. اسی طرح آپ نے کشمیر کے متعلق جو فرمایا تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” ہمیں اب احساس ہوا کہ کہ کشمیر کیسے اور کس طرح پاکستان کی شہ رگ ہے. ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف آپ نے جو کچھ فرمایا تھا آج وقت نے ٹھیک اسی طرح ثابت کر دیا ہے. ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق ہندوؤں کی سوچ کا آپ 100 سال پہلے بتا چکے تھے جو آج ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں.

    بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظمؒ بیماری کی حالت میں بھی پاکستان کا سوچ رہے تھے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ "قائداعظمؒ کے آخری لمحات” میں لکھتے ہیں کہ، 

    قائداعظمؒ کو کریون اے کے سگریٹ پسند تھے اور اکثر یہی سگریٹ نوش فرماتے تھے. ایک دن کریون اے کے سگریٹ ختم ہو گئے اور پورے کویٹہ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے. لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ میں نے ایک دوکان پر یہ سگریٹ دیکھے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں جا کر یہ سگریٹ لے آتا ہوں. جاتے جاتے کرنل الٰہی بخش کہنے لگے کہ اگر ہم پاکستان میں سگریٹ بنانے کی فیکٹری بنائیں اور اچھی قسم کا تمباکو امریکہ سے منگوا کر اپنے ہی ملک میں سگریٹ بنانا شروع کر دیں تو یہ کتنا اچھا ہوگا. یہ سن کر حضرت محمد علی جناحؒ کی آنکھیں جوش سے لال ہو گئیں اور فرمانے لگے "پاکستان میں دنیا کا سب سے اچھا تمباکو ملتا ہے، تمباکو کے لئے ہم امریکہ کے محتاج نہیں ہو سکتے. ہم اپنے ملک میں بہترین تمباکو پیدا کر کے سیگریٹ بنا کر دوسرے ملکوں کو بھی بیچ سکتے ہیں”

    ایک روز حضرت قائداعظمؒ باتوں باتوں میں فرمانے لگے کہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے، ایک ایسی حقیقت جس کا دوست، دشمن، اپنے اور پرائے سب اعتراف کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان بن چکا ہے. پاکستان کا مستقل درخشندہ ہے. میری روح کو تسکین میسر ہے کیوں کہ برصغیر کے مسلمان اب ہندوؤں یا انگریزوں کے غلام نہیں رہے بلکہ آزاد ریاست کے مالک ہیں. مزید فرماتے ہیں کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری قوم آج ایک آزاد اور خود مختار قوم بن چکی ہے تو فخر سے میرا سر عجز و نیاز کے جذبات سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کو جھک جاتا ہے.

    ان دنوں معالجین کی زیر نگرانی آپ حضرت قائداعظمؒ کوئٹہ زیارت میں تھے. آپ کی طبیعت قدرے سنبھل گئی تھی مگر بعد میں آپکی طبیعت روز بروز مضمحل ہوتی چلی گئی اور کمزوری میں اضافہ ہوتا گیا. 8 یا 9 ستمبر کو قائداعظمؒ نے اپنی طبی ٹیم سے فرمایا کہ مجھے کراچی لے چلو.

    11 ستمبر کو کوئیٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. آپکے ذاتی معالجین، مادر ملت فاطمہ جناح اور کرنل الٰہی بخش ہمراہ تھے. دوران سفر آپ سکون سے رہے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ

    "ہم 11 ستمبر کو کوئٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. راستہ میں مکمل پرسکون رہے اور ادھر ادھر کی باتیں بھی کرتے رہے. سفر کے دوران کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف محسوس نہیں کی”

    فاطمہ جناح کے کہنے پر کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور ڈاکٹر ریاض علی شاہ ہوٹل چلے گئے. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ 9 بجے کے قریب فاطمہ جناح کا ہمیں فون آیا اور کہتی ہیں کہ کمزوری میں اضافہ ہو گیا ہے اور طبیعت میں بے قراری بڑھتی جا رہی ہیں، پریشانی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح نے یہ سب فون پر ڈاکٹروں کو بتایا. معالجین اور کرنل الٰہی بخش فوراً گورنمنٹ ہاؤس کراچی پہنچے. حضرت قائداعظمؒ پر بے ہوشی طاری تھی اور کمزوری انتہا کو پہنچ چکی تھی. آپکی نبض میں بگاڑ آ گیا تھا اور آنکھیں پتھرا رہی تھیں. طبی ٹیم نے باہم مشورے سے آپکو کئی ٹیکے لگائے گئے جس سے آپکی طبیعت میں کسی حد تک بہتری پیدا ہوئی. مگر کچھ دیر بعد آپ کا دل ڈوبنے لگا اور آپکی نبض بھی غیرمتوازن طریقے سے چلنے لگی، آنکھیں بند ہونے لگیں اور سانس بھی رک رک کر چلنے لگی. اس بے ہوشی کے عالم میں آپ نے کچھ کہا.

    ساتھ کھڑے معالجین اور قریبی لوگوں کے بقول کہ حضرت قائداعظمؒ کا آخری فقرہ مکمل طور پر ہمیں سمجھ نہیں آیا صرف "اللہ” اور "پاکستان”سمجھ آیا. مطلب آخری لمحات میں آخری الفاظ بھی اللہ اور پاکستان کے متعلق تھے. 11 ستمبر 1948 کو 71 سال کی عمر میں پاکستان اور مسلمانوں کا سوچتے سوچتے 10 بج کر 25 منٹوں پر صدی کے عظیم ترین رہنما، مسلمانان برصغیر کے مسیحا، باکردار، بابائے قوم اور بانی پاکستان ہمیشہ کی نیند سو گئے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    بانی پاکستان حضرت محمد علی جناحؒ کے انتقال کی خبر پورے کراچی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی. کراچی سمیت پورا پاکستان حزن و ملال میں ڈوب گیا. تمام رات لاکھوں پاکستانیوں سمیت دنیا کے تمام مسلمان اپنے عظیم رہنما اور مسیحا کی رحلت پر ماتم میں سوگوار اور اشک بار رہے. صبح ہوتے ہی پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا. 12 ستمبر کو عظیم قائد کے عظیم جنازے کو اس کی شایانِ شان کے مطابق فوجی اور ریاستی اعزاز سے اٹھایا گیا. اپنے عظیم قائد کو الوداع کہنے کے لئے لاکھوں لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی. صدی کے عظیم ترین رہنما اور مسیحا کو دفن کر دیا گیا.

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.

    اللہ تعالیٰ حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائیں اور درجات بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کریں۔ آمین

    ‎@mian_ihsaan

  • تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    آجکل تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے کیلئےاساتذہ کا انتخاب کرتے ہوئے قابلیت سے زیادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جا رہی ہے نئی نئی تعلیم سے فارغ ہوئی لڑکیوں کو بناء کسی تدریسی تجربے یا کسی تدریسی تربیت کے کم تنخواہوں پر اسکولوں میں بطور استاد رکھ لیا جاتا ہے جن کی تعلیمی قابلیت میٹرک ، انٹر اور بہت زیادہ ہو تو گریجویشن ہوتی ہے لیکن کوئی پروفیشنل سرٹیفیکٹ یا ڈگری نہیں ہوتی۔
    انہیں اسکول مالکان پیسہ بچانے کیلئے ہائر کرتے ہیں اور ایک ،دو گھنٹوں کی ورک شاپ کروا کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھانے کے لیئے اچھی طرح ٹیچر کی تربیت کر دی ہے جبکہ ہوتا سب کچھ اسکے برعکس ہی ہے ۔

    ان لڑکیوں کے پڑھانے کے طریقوں میں تو جو غلطیاں ہوں سو ہوں مگر جو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ ہے پسندیدگی یا جانبداری ۔ ان ٹیچرز کو تمام بچوں میں جو بچہ یا بچی زیادہ پیارے لگتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے چاہے وہ گود میں بیٹھا کے کلر کروانا ہو یا اپنے ہاتھ سے لنچ بریک میں کھانا کھلانا ہو ۔ اب اگر یہی رویہ باقی تمام بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تو قابلِ تعریف امر ہوتا مگر المیہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیتی عملہ دراصل معصوم ذہنوں میں تعصب ، جلن اور حسد جیسے جذبات( جن کے نام سے بھی یہ معصوم ذہن ناواقف ہیں ) بھر رہا ہے جب ایک ٹیچر جو کے تمام بچوں کو یکساں تعلیم اور شفقت دینے پرمعمور کی گئی ہے بچوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھے گی تو دوسرے کمسن ذہنوں پہ کتنا منفی اثر پڑے گا باقی بچے اس مخصوص بچے سے گھلنے ملنے سے کترائیں گے ایک طرح سے اس بچے کا کلاس میں سوشل بائیکاٹ ہو جائے گا جس معاملے میں اس بچے کا قصور بھی نہیں ہوگا اسکی سزا باقی بچوں کی طرف سے اسکو دی جائے گی

    دوسرے بچے اپنا احساس محرومی مٹانے کیلئے اسکو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے اور یہ سب کوئی بھی بچہ جانتے بوجھتے نہیں کرتا لیکن یہ ان سے ہوتا چلا جاتا ہے اور وجہ ہوتی ہیں کم تعلیم یافتہ ، کم تنخواہوں پہ نوکریاں کرتی غیر تربیت یافتہ اساتذہ

    یہ مسئلہ صرف چھوٹی کلاسز تک محدود نہیں رہتا بلکہ جیسے جیسے بچوں کی کلاس بڑھتی جاتی ہے بچوں میں مختلف طرح کے رویے جنم لیتے ہیں کچھ بچے اسی امتیازی سلوک کے بناء پہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگتے ہیں ، کچھ اساتذہ کی خوشامد کرکے آگے بڑھنے کو ذریعہ بنا لیتے ہیں

    ایک چیز اور جو تعلیمی اداروں میں دیکھی جارہی ہے وہ والدہ یا کسی قریبی رشتہ دار کا اسی ادارے میں ٹیچر ہونا ہے جہاں انکے گھر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں پھر وہاں جانبداری کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے اساتذہ آپس میں دوستاں کر لیتی ہیں اور پھر اس دوستی کا شکار لائق اور قابل بچے ہوتے ہیں

    ان طور طریقوں سے ہم اچھے ذہنوں کا زیاں کردیتے ہیں وہ بچے جو روشن مستقبل کے ضامن تھے انکی آئندہ کی زندگی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہے وہ پڑھائی اور اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں لعن طعن کی وجہ سے انکا دل تعلیمی اداروں سے اچاٹ ہوجاتا ہے اور اگر غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائیں تو پوری طرح برباد ہوجاتے ہیں

    اس کے علاوہ کم عمر اور غیرپیشہ ورانہ ٹیچرز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آگے داخلے کیلئے سال کے بیچ میں اسکول چھوڑ کے چلی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معصوم بچے جو ان اساتذہ کے عادی ہوجاتے ہیں ذہنی طور پہ پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی تعلیمی کارکردگی پہ یہ تبدیلی بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

    چھوٹے علاقوں میں یا نچلی سطح پہ کھولے گئے اسکول صرف اپنی طلبہ کی گنتی بڑھانے کی خاطر بگڑے ہوئے ، فیلیئرز اور بڑی عمر کے بچوں کو بھی کبھی سفازش ، کبھی اثر رسوخ اور کبھی لالچ کی بناء پہ باآسانی داخلہ دے دیتے ہیں جنکی وجہ سے کم عمر طلبہ کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ وقت سے پہلے ان معلومات کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں جس سے انکے کمسن ذہن سخت اثرانداز ہوتے ہیں انکا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجاتا ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ عملہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے تحاشہ کوتاہیاں کرتا نظر آتا ہے ان کا خود کا مشاہدہ کم ہوتا ہے تو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے بجائے یہ ٹیچرز ان کو کبھی ڈانٹ کر کبھی غلط جواب دیکر گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ان ٹیچرز کو امتحانی پرچہ (کوئسچن پیپر) بھی سیٹ کرنا نہیں آتا اکثر ہی غلط مارکنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں مثلاً دو لائن کے سوال کے نمبر ۴، ۶ نمبر ہونگے اور بڑے سوال یا مضمون کے کم نمبر سیٹ کیئے ہوتے ہیں

    پڑھے لکھے والدین سے یہ اساتذہ ایسے خوف کھاتے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ان سے اگر میٹنگ رکھی جائے تو عموماً آپ کو والدین اساتذہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور یہ اساتذہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے بچے کو ہی نالائق ، نااہل،نکما ثابت کرنے کے درپہ نظر آتے ہیں

    ان سب سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ جو آجکل درپیش ہے وہ ہے پرائیوٹ ٹیوشن کا۔ پہلے اگر کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا تھا تو اس کے لیئے ٹیوشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن آج کل ٹیوشن کے معانی ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں اساتذہ اپنے ہی اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور امتحان سے پہلے ہی امتحانی سوالات بچوں کو رٹّا دیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچے اعلٰی نمبر حاصل کرکے اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں اور جن طالبعلموں نے محنت کرکے تمام سلیبس سے تیاری کی ہوتی ہے انکے نمبر کم آجاتے ہیں ۔

    یہ جانبداری اور اجارہ داری کا سلسلہ دراصل ایک پوری نسل کی ذہنی تباہی کا موجب بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے انکی جانبداری اور اس ٹیوشن گردی کے نظام کے خاتمے پہ بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
    ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو بہت زور و شور سے کرتے ہیں کہ ملک کے تمام طبقوں میں تعلیمی نصاب اور نظام یکساں ہونا چاہئیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں ، انکی اہلیت ، قابلیت اور تربیت کی بھی پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپنی چاہئے ۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں اگر وہی بہترین نہیں ہونگے تو وہ ایک شاندار قوم کی تیاری میں کیسے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ سوچیئے گا ضرور!
    Twitter handle : @HaayaSays

  • پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان    تحریر : علی خان

    پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان   تحریر : علی خان

    چوہدری نثار پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہے پر اس کے ساتھ یہ وہ پھوپھی ہے جو کسی سے خوش نہیں چاہیے وہ نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو ذرداری یاں عمران خان ۔ 

    ہم دیسی لوگوں میں  کیونکہ رشتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لیے زندگی کے ہر  سنجیدہ و تفریحی شعبے میں  معروف شخصیات سے مختلف رشتے منسوب کردئیے جاتے ہیں۔ چاچائے کرکٹ۔۔ بابائے قوم۔۔۔ مادر ملت۔۔۔ برادران  ملت۔۔۔ دختر مشرق وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی رشتوں میں بہن ،بھائی، بیٹا بیٹی وغیرہ تو ہم سب نے ہی سن رکھے ہیں۔۔۔  سیاسی اتحاد بنتے ہی مختلف نسبی رشتے بھی وجود میں آجاتے ہیں۔۔۔ کچھ سیاستدانوں  میں یہ نام کے رشتے بعد میں باقاعدہ رشتہ داریوں میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں

    روزمرہ زندگی میں بھی والد کے دوستوں کو چاچا  اور والدہ کی دوستوں کو خالہ کہنا عام سی بات ہے لیکن  سگی پھوپھو کے علاوہ کسی کو پھوپھو بنانے کی ریت شاید ہی کسی نے سنی ہو۔ پھوپھی کا رشتہ سب  رشتوں سے منفرد ہوتا ہے۔   سب سے زیادہ خیال بھی پھوپھو رکھتی ہے اور ناراض بھی رہتی ہے۔ ناراض ہوتے ہوئے بھی سب کی خبر رکھنا پھوپھو کا ہی کمال ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھوپھی کسی رشتے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے تو  غلط نہ ہوگا۔ پھوپھو کے ناراض ہونے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ گھر میں کوئی  بھی خوشی ہو سب سے پہلے پھوپھو کو دعوت دی جاتی لیکن پھر بھی  ناراضی کا سامنا ہوتا کہ دعوت دینے آگئے ہم کوئی غیر تھے۔ ہم سے کوئی صلاح ہی لے لیتے۔ اگر صلاح لے لی جائے تو یہ گلہ کہ مشورہ دینے کا کیا فائدہ کرتے تو تم لوگ اپنی ہی مرضی ہو وغیرہ وغیرہ 

    پاکستانی سیاست میں بھی ایک ایسے کردار ہیں جن پر آج کل پھوپھی والی کیفیت طاری ہے۔ ماضی میں ایک ہی جماعت سے طویل تر وابستگی کے باوجود بھی ہر معاملے میں اپنی علیحدہ رائے رکھی اور اپنی بات مانے نہ جانے پر پارٹی قیادت سے نالاں بھی  رہے۔  اپنی علیحدہ رائے کو انقلابی سمجھا یہ اور بات کہ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر کسی سے ناراض ہوئے تو یوں ہوئے کہ سالوں بات کرنے سے بھی گئے۔ اپنی سنیارٹی کا زعم اتنا کہ پارٹی سربراہ کو جونیئر ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ اپنی جماعت سے طویل عرصہ ناراضی پر دوسری جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو گومگو کی کیفیت سے نہ نکلے اور وزارت اعلیٰ کا ممکنہ منصب گنوا بیٹھے۔ الیکشن میں ضد کے باعث قومی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکے تو خودساختہ ناراضی سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف تک نہ لیا اور گھر بیٹھ رہے۔ عرصہ اڑھائی سال بعد اچانک خود ہی سے خیال آیا تو اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھا لیا۔ اس بات پر اس بڑھیا کی یاد آئی  بار بار لڑائی کرکہ گھر سے نکل جاتیں  اور سامنے میدان میں بیٹھ کر نخروں سے مانتیں۔ اب روز نکلیں تو بار بار کی لڑائی سے تنگ آئے گھر والے منانے نہ آئے۔ بھوک کی ماری خاتون  کو اور کچھ سمجھ نہ آیا تو چراگاہ سے واپس آئے بچھڑے کی پونچھ پکڑی اور یہ کہتی گھر میں داخل ہوئیں کہ "مینوں چھڈ میں نئیں جانا گھر نوں”۔

      پاکستانی سیاست کی یہ پھوپھو آج کل تحریک انصاف پر بہت نثار ہیں اور تحریک انصاف والے بھی  سینئر سیاست دان  سے پینگیں بڑھنے پر نہال ہیں۔ اللہ کرے یہ پیا ر محبت بڑھتا رہے اور   سب شیر و شکر رہیں لیکن پھوپھی والی کیفیت کچھ بھی کروا سکتی ہے۔  ایسی ہی ایک پھوپھی کو مشکل سے منا کر بھتیجے کی شادی کے لیے لایا گیا۔ پھوپھی صاحبہ کو  کچھ دیر میں پرانی رنجش یاد آئی لیکن لڑائی کا بہانہ نہ سمجھ آیا تو چھت پر جاچڑھیں اور کچھ کھٹر پٹر کی۔ اہل خانہ نے بچوں کا شور سمجھ کر پوچھا ” کون اے چھت تے” موقعے کی منتظر پھوپھی نے نیچے اتر فوری بچے سنبھالے اور شادی چھوڑ روانہ ہوگئیں کہ "ہن اسی کون ہوگئے؟؟؟”

    تحریر ؛ علی خان    

    @hidesidewithak

  • فرقہ واریت تحریر:سارا طاہر

    فرقہ واریت تحریر:سارا طاہر

    ازل سے دشمنان اسلام مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کرتے آئے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہود و ہنود نے نہ کبھی سامنے سے وار کیا اور نہ کرنے کی ہمت رکھتا یے۔ اس لئے دشمنان اسلام کا ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے کہ وہ پہلے تو شیطانی سازشیں کرکے مسلمانوں کو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہیں اور پھر بھرپور زور سے ان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اور ان سازشوں کا شکار ہو جانے کی اصل وجہ مسلمانوں کی مذہبی کمزوری ہے۔
    دین اسلام کے دشمن، مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہچانے اور ہمارے عقیدے کو کمزور کرنے کیلئے جعلی علماء کو چند پیسوں کے عوض خرید کر عام مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اور ان میں دوریاں پیدا کرنے کے لیے ان کے دلوں میں دوسرے فرقوں کیلئے زہر بھرتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے متنفر کرتے ہیں۔
    آج اسی فرقہ وارانہ نفرت کی وجہ سے مسلمان ایک دوسرے سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ دوسرے فرقوں کے خلاف یہود و ہنود کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے لگے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر کافر ہونے کا فتوی لگاتے ہوئے بالکل نہیں سوچتے۔
    میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کون ہوتے ہیں؟ اس بات کا فیصلہ کرنے والے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر؟ مجھے قرآن کی کوئی ایک آیت دیکھا دیں جس میں اللہ تعالٰی نے کسی انسان کو یہ اختیار دیا ہو کہ وہ فیصلہ کر سکے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر یا کس کا فرقہ درست ہے اور کس کا غلط؟ اللہ تعالٰی نے یہ فیصلہ انسانوں کے ہاتھ میں دینا ہوتا تو وہ کبھی میدان حشر اور قیامت کا وعدہ نہ کرتا جہاں صرف وہی فیصلہ کرے گا کہ کون مومن تھا اور کون کافر؟ کون صحیح راہ پر تھا اور کون غلط؟ ہمیں خدا نے دوسروں پر فتوی لگانے یا کافر یا مومن کا فیصلہ کرکے پروپیگنڈہ کرنے کیلئے نہیں بھیجا۔ اس نے ہمیں اپنی اطاعت اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے بھیجا ہے۔ ہماری قبر میں ہم سے ہماری زندگی اور اس میں کئے گئے اعمال کے بارے میں پوچھا جائےگا وہاں کیا جواب دیں گے؟ یہ کہ میں نے نماز تو کبھی نہیں پڑھی لیکن دوسروں پر کافر ہونے کے فتوے خوب لگائے یا یہ کہ میں نے آپ کے احکامات کو تو کبھی نہیں مانا پر دوسروں کی نیتوں اور عبادتوں پر انگلیاں اٹھائیں؟ فیصلہ کرنے والی ذات بس اسی کی ہے وہی جانتا ہے کہ کون دکھاوے کے سجدے کرتا یے اور کون عاجزی کے۔
    اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم   سبھی  کچھ   ہو،  بتاو  تو مسلمان بھی ہو!
    دور حاضر میں شیطان صفت لوگ سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈی بنا کر خود کو مسلمان ظاہر کرکے ایسے بغیر سر پیر کے سوالات اٹھاتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں لاعلمی میں ان کی سازش کا شکار ہو کر مسلمان ایک لاحاصل بحث شروع کر دیتے ہیں۔ جو شعیہ، سنی، دیوبندی، بریلوی جیسے فرقوں کو گالم گلوچ کرکے اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ یوں کفار ہمیں اپنی چالبازیوں سے ایک دوست سے متفر اور تباہ و برباد کرتا چلا جاتا یے۔
    مسلکی اختلافات کی ترجیح نے ہمارا مزاج ایسا بنا دیا ہی کہ ہمیں جہاں نہیں لڑنا چاہیے وہاں لڑتے ہیں اور جہاں لڑنا چاہیے وہاں چپ سادھے کھڑے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر مستحب ترک کرنے پر یا کراہت تنزیہی کے ارتکاب پر بھی مناظرے ہوجاتے ہیں، جیسے دعا بعد نماز جنازہ۔ یہاں کراہت یا استحباب پر تو خوب بحث و مباحثے ہوتے ہیں مگر سودخور  سے کوئی نہیں لڑتا  کی تم سود کیوں کھاتے ہو۔ کسی کا حق مارنے والے سے تو کوئی سوال نہیں کرتا کی تم نے دوسرے کا حق کیوں مارا، حالانکہ ان منکرات کے خلاف پوری شدت سے مزاحمت کرنے کا حکم(شریعت نے دیا) ہے۔ مسلکی اور فرقہ وارانہ فسادات اور اختلافات اس قدر غالب آ گئے ہیں کہ محرکات کا ارتکاب کرنے والے سے کوئی نہیں الجھتا۔
    اگر آج ہم دیکھیں تو ہمارے ارد گرد چاروں طرف دشمنان اسلام ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ہم مسلمانوں  کو توڑنے اور ہمارے اس پیارے وطن پاکستان پر قبضہ کرنے اور ہم مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کیلئے ہر طرح سے حملہ آور ہو چکے ہیں۔ قوم پرستی، فرقہ واریت لبرلز، اور سیاست کی صورت میں ہمارے درمیان دوریاں اور نفرتیں پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
    دشمنان اسلام ہمیں اپنوں کی صورت میں مارنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی مسلکی اختلافات، سیاسی اختلافات اور ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کرکے اتحاد اور اتفاق کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ بھائی چارے اور اخوت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دشمنان اسلام کو اسی کے طریقے سے شکست دیں۔
    قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال برداشت نہ کیا جائے ہمارا نام مسلمان ہے، ہمارا نام دیوبندی بریلوی اہل سنت  شعیہ سنی نہیں ہے
    ارشاد باری تعالٰی ہے: کہ "اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اور تفرقے میں نہ پڑو”۔ (آل _عمران_103)
    اگر ہمیں فرقہ واریت کی اس دیوار کو توڑنا ہے تو ہمیں اپنے جماعتی تعصب اور آباںٔی تقلید سے ذرا بلند ہوکر اپنی عقل خداداد سے کام لینا ہوگا جو ہمارے سامنے اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالٰی کا پیام قرآن پاک کی صورت میں لائے، اس کے سوا کوئی نظام خدا تعالٰی کے نزدیک مقبول نہیں اسی کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالٰی نے لیا ہے اور یہی لائحہ عمل ہے جو ہم مسلمانوں کو فرقوں میں بٹ کر بکھرنے سے بچا سکتا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہو کر ہم دشمنان اسلام کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہم سب مسلمانوں کو دشمنان اسلام کی سازشوں سے بچائے اور متحد ہوکر ایک امت بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    آمین یا رب العالمین