Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    ‏(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

    تابعین کرام میں اپ کی کیا حیثیت تھی؟اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں  کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رض پر زبان درازی کی تھی،اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں۰

    (ابن عبدالبر:الاستیعاب تحت الاصابہ ج:۳ ص:۱۳۵)

    حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جہ مشہور تابعین میں سے ہیں ،ان سے کسی نے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے:بھلا میں اس شخص کے بارےمیں کیا کہوں؟جس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں ربنا لک الحمد کہا ہو۰

    (ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج۸ ص:۱۳۹)

    انہی عبداللہ ابن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ :یہ بتلائے کہ حضرت معاویہ اور حضرت عمربن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟سوال کرنے والے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پرطرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے ،اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا  اتفاق ہے،یہ سوال سن کرعبداللہ ابن مبارک غصے میں اگئے اور فرمایا”تم ان دونوں کی اپس میں نسبت.  پوچھتےہو،خدا کی قسم! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  ہمراہ جہاد کرتے ہوئےحضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی،وہ حضرت عمر بن عبدالوزیز سے افضل ہے ”

    (حوالامذکورہ بالا)۰

    اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران رض سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک  ہوگئے اور فرمایا :بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں،انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی،بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟

    اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ حضورﷺ  نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو۰

    (ابن کثیر:البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۳۹)

    مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں ،ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ:بردبار کون ہے ؟اپ یا معاویہ ؟اپ نے فرمایا :بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا ،حضرت معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے بردباری کرتا ہوں ،لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتاہوں ؟یا ان کے  برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

    چنانچہ ایک شیعہ مورخ امیر علی لکھتے ہیں:-

    مجموعی طور پر حضرت معاویہ کی حکومت اندرون ملک بڑی خوشحال اور پرامن تھی اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سےبڑی کامیاب تھی۰

    (بحوالہ "حضرت معاویہ "مولفہ:حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی۰)

    یہاں پر اسکی ایک حوش طبوعی کی واقعہ لکھتا ہوں ،ایک بار ایک شخص اپ رض کے پاس ایا اور کہنے لگا میں ایک مکان بنا رہا ہوں ،اپ میری مدد کردیجئے اور بارہ ہزار درخت عطا کردیجئے۰

    اپ رض نےپوچھا:کہاں گھر ہے؟

    کہنے لگا:بصرہ میں !

    اپ رض نے پوچھا "لمبائی چوڑائی کتنی ہے؟”

    کہنے لگا :دو فرسخ لمبائی ہے اور دو فرسخ چوڑائی ۰:

    اپ رض نے مزاخا فرمایا :-

    :-یہ مت کہو کہ میرا گھر بصرہ میں ہے،بلکہ یوں کہو کہ بصرہ میرے گھر میں ہے۰

    (حافظ ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۴۱۰)۰

    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بہت بڑے مقام والے ہیں ۰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریفات احادیث میں ائی صحابہ کرام اجمین نے ان کی تعریفات کئے ہیں اور بڑے بڑے اکابرین امت نے ان کی تعریفات کئے ہیں انشاء اللہ ابھی علمائے حق ان کی تعریفات کرتے اور قیامت کی صبح تک کریگی 

    صحابہ تو وہ لوگ ہے جس اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہے اللہ تعالی ہم کو صحابہ کرام اجمعین کی محبت عوطا فرمائے اور ان کی گستاخی سے اللہ تعالیہم سب کو محفوظ فرمائے۰امین ثم امین۰

    ‎@Tareef1234

  • قائد اعظم کا پاکستان:-

    پاکستان 14 اگست 1947 کو ہمارے بزرگوں کی جانی مالی قربانیوں کی وجہ سے معرضِ وجود میں آیا۔ قائد اعظم کا خواب تھا کہ یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست بنے جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی اولاد کی طرح پالے، ہر کسی کی جان و مال محفوظ ہوں۔

    میرے ذہن میں کچھ سوالات آتے ہیں جن کے جوابات مجھ سمیت پوری قوم کے لئے جاننا ضروری ہیں۔

    قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ آپ کی سیاسی و مذہبی بصیرت کیا تھی؟ پاکستان کا دستور و آئین کیسا ہو گا؟

    ریاست پاکستان ایک عظیم نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی, اِس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ریاست چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے۔ جہاں آئین کی بالادستی ہو، جہاں پارلیمان آزادی اور خودمختاری سے فیصلے کر سکے، جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز انصاف میسر ہو اور وہ اپنی عبادات اور رسومات کو آزادی سے ادا کر سکے، جہاں درسگاہیں علم و دانش کا گہوارا ہوں، تعلیم، روزگار اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، جہاں عورت کی عزت و توقیر کو مقدم رکھا جائے۔

    قائداعظم نے جب پہلی بار پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو اُس میں واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا "آپ سب پاکستانی ہیں، آپ کا جو بھی مذہب اور عقیدہ ہے ریاست کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں آپ بلا خوف و خطر اپنی عبادت گاہوں میں جائیں۔

    قائد اعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران آپ نے جمہوری آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔

    قائد اعظم کی زندگی کا اہم ترین مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، جمہوری اور آئینی حقوق کی پاس داری تھا اور وہ خود بھی کبھی قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ آپ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے سب سے بڑے حامی اور مشاورت پر پختہ یقین رکھنے والے تھے۔

    لندن کے روزنامہ ورکر لندن کو ایک انٹرویو میں قائد اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا کسی بھی رنگ یا نسل سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور وہ جمہوری حکومت عوام کے تابع اور عوامی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔

    آپ نے واضع کر دیا تھا کے جمہوریت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے کیوں کہ مسلمان، انسانیت، برابری، بھائی چارے اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

    قائد اعظم پاکستان میں ایسا پارلیمانی جمہوری نظام عوام کو دینا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالادستی ہو، وہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے تھے جو صرف اور صرف  جمہوری پارلیمانی نظام حکومت سے ہی ممکن ہے۔

    یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ لیکن کیا ہم نے ان ستر سالوں میں پاکستان کو وہ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی جس کا انہوں نے اپنی مختلف تقاریر میں ذکر کیا۔

    Twitter ID:

    ‎@farazrajpootpti

  • ‏مشن نیوٹرل ایمپائر  تحریر: سیف الرحمان

    ‏مشن نیوٹرل ایمپائر تحریر: سیف الرحمان

    ملکی تاریخ میں آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے تقریبا سب میں دھاندلی اور الیکشن چوری کا الزام لگتا آ رہا ہے۔ مشرف کے مارشل لاء کے اختتام پہ جب پی پی اقتدار میں آئی تو ن لیگ سمیت باقی سب نے دھاندلی الیکشن قرار دیا۔ پھر جب ن لیگ 2013میں الیکشن جیت کر پاور میں آئی تو تحریک انصاف سمیت باقی سب سیاسی جماعتوں نے دھاندلی زدہ  الیکشن قرار دیا۔  اس دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف 

    14-08-2014 میں  عمران خان کی قیادت میں باقاعدہ تحریک شروع کی  جو لانگ مارچ کی صورت میں لاہور سے  اسلام آباد ڈی چوک روانہ ہوا۔ یہ احتجاج دھرنے کی صورت اختیار کر گیا اور تاریخ کا سب سے ذیادہ دن دیئے جانا والا پر امن سیاسی دھرنا بن گیا ۔ یہ دھرنا 126دن کا تھا۔چودہ   اگست سے  شروع ہونے والا دھرنا 17دسمبر 2014کو اختتام پزیر ہوا۔ اس دھرنے کو اے پی ایس حملہ ہونے کی وجہ اور ملکی حالات کے پیش نظر ختم کیا گیا۔ لیکن دھاندلی کے خلاف شروع کی گئی تحریک اپنی جگہ کسی نا کسی صورت چلتی رہی۔ 

    عمران خان جب 2018میں وزیر اعظم بننے تو انہوں اپنی پہلی تقریر میں ہی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر  کہا تھا کہ میں واحد بندہ تھا جس نے کرکٹ کی تاریخ میں نیوٹرل ایمپائر لائے اور میں پاکستان کی سیاسی  تاریخ میں بھی انشاءﷲ پہلا بندہ ہوں گا جو ایک ایسا سسٹم لاؤں گا جس کو الیکشن ہارنے  والا بھی مانے گا اور جیتنے والے کو بھی دھاندلی  یا رشوت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اب جب عمران خان اپنی کی ہوئی بات کو عملی جامہ پہنانے نکلے ہیں  تو راستے میں اپوزیشن  اور  الیکشن کمیشن  رکاوٹ بننے نظر آ رہے ہیں۔

    بظاہر لگ تو ایسے رہا ہے کہ اپوزیشن   عمران خان  کی مخالفت میں اس حد تک  آگےچلی گئی ہےکہ  اگر  عمران  خان کہے  سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے تو اپوزیشن شاید اس کی بھی مخالفت کر دے۔ لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان جو ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے کو حکومت کیساتھ ملکر الیکشن ریفارمز پر سہولت  کاری فراہم کرنی چاہئے۔ اپنی تجاویز اور الیکٹرانک مشین میں موجود خامیاں اور ان کا حل نکالنے کیلئے کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے الیکشن کمیشن کے اب تک کئے گئے اقدامات سے عوام کو یہی تاثر مل رہا ہے کہ شاہد الیکشن کمیشن الیکشن ریفارمز کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہی نہیں۔ 

    اس سلسلے میں   وزارت سائنس اور الیکشن کمیشن کی تکنیکی ٹیم کے درمیان  الیکٹرانک مشین پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم نے 37اعتراضات اٹھاکر اس مشین کو فلحال رد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پہ الیکشن کمیشن   کے صاف انکار پر بہت تنقید دیکھنے کو مل رہی ہے۔اسی دوران  کسی صارف نے سوشل میڈیا  پر یہ خبر شیئر کر دی کہ  الیکٹرانک مشین پر الیکشن کمیشن کے 37اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ

     "مشین کے بٹن میں ایلفی ڈال کر اسے غیر فعال کیا جا سکتا ہے” کو نا صرف آڑے ہاتھوں لیا گیا  بلکہ خوب مزاخ بھی اڑایا گیا۔ یہ خبر سچ ہے یا جھوٹ بہرحال اس کی تصدیق یا تردید الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے۔لیکن اگر دیکھا جائے تو  الیکشن کمیشن کے زیادہ تر اعتراضات واقعی "ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا”  دیکھائی  دیتے ہیں۔  مثلاً بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہیں ہوئی، قانونی ترامیم ضروری ہیں، تربیت یافتہ سٹاف کی کمی  ہے, مشین ہیک ہو سکتی ہے, مشین چوری ہو سکتی ہےوغیرہ وغیرہ۔

     اگلےجنرل الیکشن  میں ابھی  دو سال پڑے ہیں ۔ شفاف انتخابات کی   تمام ذمہ داری نا صرف الیکشن کمیشن کی ہے بلکہ  اس کی خواہش تمام سیاسی جماعتوں کی بھی  ہے۔ اگر دیکھا جائے تو   اگلے جنرل الیکشن سے پہلے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور سٹاف کی تربیت ممکن ہے اور قانونی ترامیم کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔حکومت کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریت ہے وہ ان اعتراضات کو حل کر سکتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن الیکٹرانک مشینوں پر الیکشن کروانے کے لئے ذہنی طور پہ  تیار بھی ہے یا نہیں؟

    الیکشن کمیشن کے کچھ اعتراضات جائز بھی  ہیں ۔

    مثلاالیکشن کمیشن کے مطابق ایسے  ووٹر جن کو ٹچ موبائل کااستعمال تک نہیں آتا وہ خود سے ووٹ کیسے ڈالیں گے؟

     پولنگ بوتھ پر ازخود الیکٹرانک مشین سے بیلٹ پیپر کیسے نکالیں گے؟

     ایسے ان پڑھ  ووٹر جن کو الیکٹرانک  مشین چلانی ہی نہیں آتی ان کو کسی نا کسی کی سہورت درکار ہو گی۔ اس سے ووٹر کی شناخت اور اس کی راز داری متاثر ہو سکتی ہے۔ ووٹ کی راز داری کا اہتمام اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا انتظام  کیسے کیا جائے گا؟

    مشین کی منتقلی اور اس کی حفاظت کون اور کیسے کرے گا؟

     الیکشن کمیشن کا یہ  کہنا  کہ شفافیت کی کمی کی وجہ سے جرمنی اور ہالینڈ , آئر لینڈ,اٹلی اور فن لینڈ نے مشینی ووٹنگ چھوڑ دی ہے۔ 

    اس طرح کے اعتراضات کو حکومت دوبارہ دیکھے اور حل نکال لے تو عین ممکن ہے آنے والا الیکشن الیکٹرانک ووٹٹنگ مشین سے ہو جائیں۔

    اب دیکھنا ہے کہ  حکومت  کیسے   الیکشن کمیشن   اور سیاسی جماعتوں کومطمئن  کر تی ہے۔اگر حکومت  الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ  مشین پر آمادہ کر لیتی ہے  تو پھر سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا بھی آسان ہو  جائے گا۔  کیونکہ شفاف , آزادانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن  کرانے کی ذمہ داری  الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔

    اب یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب آنے والا وقت ہی دے پائے گا۔

    کیا وزیراعظم عمران خان اپنے دور اقتدار میں فری اینڈ فیئر الیکشن کیلئے راہ ہموار کر پائیں گے؟

    کیا وزیراعظم عمران خان   نیوٹرل ایمپائر لانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا وہی پرانا دھاندلی ذدہ سسٹم ہم پر مسلط رہے گا؟

    کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے آنے کے بعد دھاندلی جیسے الزامات ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو پائیں گے یا نہیں؟

    اور سب سے ہم سوال کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حصول کے بعد ہمارے کچھ سیاستدان جو ایک  مخصوص ایجنڈے کے تحت فوج کو بدنام کرتے  آ رہے ہیں کیا وہ سلسلہ رُک  پائے گا یا نہیں؟

    پاکستان وجود میں آئے تقریبا 74برس ہو گئے ہیں۔ اب تو  جدید ٹیکنالوجی  کا دورہے۔ ہمیں الیکشن کیلئے کم از کم ایسا سسٹم باہمی اتفاق سے مرتب کر لینا چاہئے جس سے ہارنے والا اپنی ہار مان لے اور جیتنے والے کو رشوت اور دھاندلی کی ضرورت ہیں نا پڑے۔

    دنیا چاند پہ جانے کی باتیں  کررہی ہے اور ہمارے لیڈر ابھی تک دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی جیسی نابالغ  بحث  میں  پھنسے ہوئے ہیں۔

    ‎@saif__says

  • تھکن کا علاج  تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن کا علاج تحریر حُسنِ قدرت

    "تھکن اور اسکی وجوہات” میں پہلے ایک آرٹیکل میں تفصیل سے لکھ چکی ہوں آج اسکا حصہ اس دوسرا آرٹیکل میں لکھ رہی ہوں

    جب میں اپنی توجہ کسی کام پہ مرکوز کرتے ہیں تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے کندھے جکڑے ہوئے ہوں اور ہمارے مسلز  کسی نہ کسی طرح سے حرکت میں ہوں حالانکہ ہمارے ذہنی کام سے باقی جسم کے مسلز کی حرکت کا کوئی تعلق نہیں ہے

    اب ہم تھکن سے نجات کیسے پا سکتے ہیں؟

    "اس کا ایک آسان سا حل ہے کہ اپنے کام کے دوران پر سکون  رہنا سیکھیں ” یہ اپنا مشکل بھی نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں جس طرح ٹینشن لینا ایک عادت ہے ویسے پر سکون رہنا بھی ایک عادت ہے اور اچھی عادتیں تب ہی بنتی ہیں جب بری عادتیں ہم چھوڑ دیتے ہیں 

    آپ کوئی کتاب پڑھنا شروع کریں اور جب ایک صفحہ پڑھ لیں تو اپنی آنکھیں بند کریں اور دل ہی دل میں دہرائیں "جانے دو،جانے دو،ختم کرو یہ ٹینشن اور ختم کرو اپنے ماتھے کے بل جانے دو جانے دو ساری پریشانیوں کو جانے دو” اسے ایک منٹ کےلئے آہستہ آہستہ دہرائیں  آپ محسوس کریں گے کہ چند سیکنڈز کے بعد آپکی آنکھوں کے مسلز  آپکے اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں یہ پرسکون ہونے کی سب سے بڑی تکنیک ہے ایسا ہی آپ اپنے جبڑوں کو کرسکون کرنے کےلئے کر سکتے ہیں،چہرے ،گردن اور کندھے کے مسلز بھی آپ اس تکنیک کو استعمال کرکے ریلیکس کر سکتے ہیں لیکن اسکے لیے سب سے اہم عضو آنکھ ہے  یونیورسٹی اور چیکاگو نے یہ ریسرچ کی ہے کہ اگر آپ صرف اپنی آنکھوں کے مطابق مسلز کو مکمل طور پہ ریلیکس کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ اپنی تمام تر  مشکلات بھول سکتے ہیں جسکی وجہ یہ ہے کہ آنکھیں نروس ٹینشن دور کرنے کےلئے بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ  ہمارے جسم کی پیدا کردہ نروس انرجی کا  1/4 حصہ یہ استعمال کرتی ہیں

    آپ سب سے پریشان کن لمحات میں بھی ریلکس کر سکتے ہیں خود کو پر سکون کرنے کےلئے کوئی کوشش نہ کریں کیونکہ سکون "پریشانی اور جہد مسلسل کے نہ ہونے کا نام ہے” یہ تصور کریں کہ آپکے چہرے اور آنکھوں کے مسلز ریلیکس ہیں اور "اس انرجی کو محسوس کریں کو آپکے چہرے سے اپکے کے جسم کے وسط تک حرکت کر رہی ہے اور اسی دوران وہ آپکی تمام پریشانی ختم کر رہی ہے اور آپ ایک بچے کی طرح پرسکون ہیں ”

    پرسکون رہنے کے مزید چند طریقے میں آپ لوگوں کو بتاتی ہوں 

    1۔اگر آپ واقعی میں پرسکون رہنا چاہتے ہیں تو کیا آپ نے کبھی کسی بلی ہوئے سوتے ہوئے دیکھا ہے؟ وہ کسطرح اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر ہر طرح سے پرسکون ہو کر سوتی ہے ویسے  ہی آپ بھی اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں اپنے دماغ کو خالی اور کچھ دیر کے لیے سکون سے لیٹ جائیں

    2۔اس پوزیشن میں کام کریں جس میں آپ خود کو پرسکون محسوس کر رہے ہوں کیونکہ جسم میں تناؤ سے کندھوں سے مسلز اکڑ جاتے ہیں

    3۔خود کا دن میں 3 سے 4 دفعہ محاسبہ کریں اور سوچیں کہ کہیں آپ اپنے کام کو اس سے زیادہ مشکل تو نہیں بنا رہے جتنا کہ وہ حقیقت میں نہیں ہے دیکھیں کہ کیا آپ اپنے مسلز کا بلاوجہ استعمال کرکے اپنے لیے تھکن پیدا تو نہیں کر رہے؟ اگر ایسا ہے تو اسے ٹھیک کریں

    4۔دن کے اختتام پہ دربارہ اپنا محاسبہ کریں  اور خود سے پوچھیں کہ آپ کتنے تھکے ہیں؟اگر آپ تھکے ہیں تو  آپ اپنے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ خود پہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے تھکے ہیں اور آپکا اس کام کو سر انجام دینے کا طریقہ غلط تھا اس وجہ سے بھی آپ تھکے ہیں

    ان چند باتوں پہ عمل کرکے آپ نہ صرف ہائپر ٹینشن سے بچ سکتے ہیں بلکہ  ٹنشن ،نروس بریک ڈاؤن سے بھی بچ سکتے ہیں

    ‎@HusnHere

  • اسلامی فلاحی ریاست اور جمہوریت تحریر: زبیر احمد

    اسلامی فلاحی ریاست اور جمہوریت تحریر: زبیر احمد

    ‏اسلامی فلاحی ریاست اور جمہوریت

    ایک ایسا نظام جس میں عوام براہ راست اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کے معاملات میں شرکت کرسکتی ہے، اس نظام حکومت کو ہم جمہوریت کہتے ہیں۔جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتی ہے یعنی عوام کے پاس وہ طاقت ہے جس سے وہ جب چاہے اپنی منتخب حکومت کو گرا بھی سکتی ہے اور اس سے بنا بھی سکتی ہے یعنی پوری پوری طاقت عوام کی ہی ہے۔ جمہوریت کو سادہ الفاظ میں عوامی حکومت سے کہا جاتا ہے اور جمہوری نظام میں اس بات کا دعوٰی کیا جاتا ہے کہ اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔ آج کل ہر انسان کی زبان پر یہ لفظ گردش کرتا نظر آتا ہے کہ اگر ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اگر ملک کو ترقی کے زینے پہ استوار کرنا ہے تو پھر جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا، ملک میں جمہوریت کے نظام کو قائم کرنا ہوگا۔ جمہوریت دراصل ایک آزاد سوچ کی بنیاد ہے جہاں ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ رازداری کے ساتھ اپنی مرضی سے  جس کو چاہے ووٹ کے ذریعے کرسکے۔
    جمہوریت کے نظام کی ابتداء اسلام کے دور حکومت سے ہوئی تھی۔ آج بھی برطانیہ کی پارلیمنٹ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ٹیکس اور عدل و انصاف کے نظام کی پیروی کی جاتی ہے۔ جمہوریت اس ملک میں عائد ہوسکتی ہے جہاں حق اور سچ کی بات کی جاسکے۔ جس ملک میں جمہوریت ہو اس میں وقفے وقفے سے انتخابات ہوتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی پہلی نشانی ہوتی ہے، اور جمہوریت کی دوسری نشانی یہ ہے کہ اس میں حکومت صرف پانچ سال کی ہوتی ہے اور پانچ سال گزرنے کے بعد حکومت کا بدلنا لازمی ہوتا ہے۔ حکومت کا بدلنا یعنی پھر سے نئی حکومت کا آنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کی تیسری نشانی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں یعنی جس ملک میں جمہوریت ہوتی ہے اس ملک میں سیاسی جماعتیں کثیر تعداد میں ہوتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار جمہوریت پر ہوتا ہے کیونکہ جب ایک حکمران بذات خود غریب کا بیٹا ہو تو اس سے احساس ہوگا کہ ہمارے ملک میں غریب کی ضروریات کیا ہیں، سڑکوں کیبجائے صحت، روزگار، تعلیم کی ذیادہ ضرورت ہے اور اگر بادشاہ کے بیٹے کو حکمرانی کا تاج پہنا دیا جائے تو وہ غریب کی غریبی مٹانے کیبجائے اپنی عیاشی کے سازوسامان پر توجہ دے گا۔ہمارے ملک کے نظام میں 74 سال سے یہی روش نظر آرہی ہے۔ ہمارے ملک میں غریب کا پارٹی بنانا تو دور کی بات ہے وہ ایک ممبر کی سیٹ بھی حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ جمہوریت دولت کی محتاج ہے۔ ہماری سوچ بھی ایسی ہے کہ پیسوں والے حکمرانوں کی تو قدر کرتے ہیں لیکن تعمیری سوچ اور تعمیری کام کرنے والے لوگوں کو ہم موقع نہیں دیتے۔ ہمارے ملک کی جمہوریت پیسہ، غنڈہ گردی، جھوٹ اور دھونس پر مبنی ہے کیونکہ جب ہمیں کسی تھانے کچہری یا کوئی غیر قانونی کام کی ضرورت پیش آئے تو یہی جمہوری حکمران ہمارے کام کو انجام دینے میں مدد کرتے ہیں اس لئے ہم ان کی چاپلوسی بھی کرتے ہیں۔ ہماری جمہوریت سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے گھر کی لونڈی ہے۔ یہ جمہوریت اور آئین کا ماڈل ہمیں مغرب نے دیا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اسلام طرز کی جمہوریت استوار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ آمریت اور بادشاہت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں کیونکہ اس میں ہی ان کو فائدہ ہے
    اصل میں مسلمانوں کو جمہوریت سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی اور اس سازش میں سب سے نمایاں کردار مسلمان حکمرانوں نے ادا کیا جو عوام کی آزادی کو اپنے لیے شدید خطرہ سمجھتے ہیں، ورنہ حقیقت میں اسلام نے جمہوری نظام حکومت کا بہترین ماڈل پیش کیا ہے جس کی بنیادیں انسانی آزادی، مساوات، جان و مال کا تحفظ اور فلاحی ریاست مقرر کی گئی ہیں۔ مسلمان اسلام کی بنیاد پر جمہوریت کا اپنا ماڈل بنا سکتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے حکمران عوام کو جمہوری نظام دے کر انہیں سوچنے اور سمجھنے کی آزادی دینا چاہتے ہیں۔ اسلام نے انفرادیت کے مقابلے میں اجتماعیت پر زور دیا ہے تاکہ متفقہ رائے سے معاشرے کی نمائندگی اور مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ قرآن میں بار بار اس کا ذکر ہے کہ اللہ کو انصاف سے لگاؤ ہے اور انصاف کرنے والوں پر اس کی عنایت ہے جس کی بدولت انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے۔
    اگر ہم پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بدلنا ہوگا خود کی سوچ کو بدلنا ہوگا تب جاکر اس ملک کا حکمران بدلے گا اور صحیح حکمران آئے گا اور تب جاکر ہمارا ملک ترقی کرے گا۔

    Tweets ‎@KharnalZ

  • پردہ تحریر:نازش فرید

    پردہ تحریر:نازش فرید

     گھر عورت کی محفوظ ترین پناہ گاہ ہے کیونکہ یہاں وہ نا محرم کی نظروں سے محفوظ ہوتی ہے۔آج ہم اتنے پڑھے لکھے بن گۓ کہ احکام شریعہ کو ہی بدل رہے ہیں اور پھر کیا ہی کمال مہارت سے جسٹیفائی کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اب پردہ صرف نظر کا ہو کر رہ گیا ہے۔ جب کائنات کی پاک عورتوں نے پاک اور صالح مردوں سے پردہ کیا تو ہم کس بنیاد پر صرف نظر کی حفاظت تک پردے کو محدود کیے ہوۓ ہیں۔۔۔کیا  معاذاللہ امہات المومنین کی نظروں میں حیا نہیں تھی یا ان پاک مردوں کی نظروں میں فتور تھا معاذاللہ معاذاللہ۔۔۔بلاشبہ آنکھوں میں حیا ایمان کا تقاضا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کریم نے عورت کو اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے کا حکم دیا۔قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا۔

    قرار رکھو اپنے گھروں میں اور زمانہ جاہلیت کی طرح بے حجابانہ مت پھرو۔(الحزاب : 33)

    اسلام نے عورت کے تمام حقوق واضح کیے۔اگر تھوڑا سوچنے اور سمجھنے کی کوشسش کی جاۓ تو یہ بات اتنی مشکل نہیں کہ پردہ عورت پر فرض ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا حق بھی ہے ۔ یہ حرمت و ناموس کی حفاظت ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی اور اس عزت کی حفاظت عورت پر فرض ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے (یعنی اس پر پردہ فرض ہے) ۔

    اب اپنی زینت کو نمایاں کرتی عورتیں مرد کی نظروں میں حیا تلاش کریں تو اس سے بڑھ کر کوئی احمقانہ فعل نہیں ہو سکتا۔

    اگر مرد کی نظروں میں فتور ہے تو عورت کے دماغ میں بھی فتور ہے اگر ایسا نہیں تو وہ اپنے آپ کو کبھی نا محرم کے سامنے ظاہر نہ کرے۔

     جب لبرل عورتیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگائیں گی تو لبرل مرد نہیں پیدا ہوں گے کیا؟ وہ بھی ہماری آنکھیں ہماری سوچ ہماری مرضی کے نظریے کے ساتھ آئیں گے۔ ایسے مرد اسی سوچ کی عورتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ

     خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔(النور آیت 26) اس کے بعد تو کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    المیہ تو یہ ہے کہ یہی لبرل ازم کا راگ الاپتی عورتوں کو کوئی سانحہ ہونے پر اسلام کے دیے گۓ حقوق یاد آ جاتے ہیں ۔ سب سے اہم بات کہ اللہ تعالیٰ نے پردے کے ذریعے مسلمان عورت کو شناخت دی۔ باپردہ عورت مومنہ پہچانی جاتی ہے سورۃ الاحزاب میں فرمانِ الٰہی ہے

    اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے (جب وہ راستے میں نکلیں تو) اپنی چادروں کے گھونگٹ اپنے اوپر ڈال لیا کریں، اس سے امید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

        عورت اپنے جائز حقوق و فرائض سے خود محروم ہو گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا اور آج کی عورت بس مرد کی نگاہ کو نیچا رکھنا اپنا پردہ خیال کرتی ہے اور مطالبہ بھی یہی ہے۔ وہ آیات جو اللہ پاک نے عورت کے پردے کے بارے میں نازل کیں ان سے یکسر پہلو تہی کیے ہوۓ ہے ۔ یاد رکھیں فرائض کی ادائیگی کیے بغیر حقوق نہیں ملا کرتے۔

    ………………………………………………..!!!!!

    ‎@_NAZ08_

  • بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان

    بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان


     

    اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ہم میں فرق کرے تو ایک پل میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ملا دے ہم اپنی اخلاقی و دینی روایات کھوچکے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پہ رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے دنیاوی لحاظ سے تو ہم خود کو ماڈرن کہہ لیں گے مگردینی لحاظ سے بدترین لوگوں میں شمار ہوں گے اور عذاب الٰہی کو دعوت دیے رہے ہیں

    پاکستان ایک مسلم مملکت ہے اور اسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے مگر اسلام دشمن ایجنڈوں نے مسلم قوم کو ذہنی عیاشی اور عورت کی حوس کے اسباب پیداکر دیے ہیں جو بظاہر تو کچھ بھی نہیں مگر ان کے درپردہ خطرناک حد تک منصوبہ بندی کی گئی ہے.

    اکثر و پیشتر واقعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے دین اسلام اور پاکستان کی بدنامی عالمی سطح پر ہوئی اور اسلام مخالف لوگوں کو اسلام پہ بھونکنے کا موقع مل گیا جہاں پر سوشل میڈیا کا فائدہ ہے اس سے زیادہاس کے نقصانات ہیں 

    مسلم قوم کو عریانی و بے حیائی کا دلدادہ کرنے کیلیے چند ایک موبائل ایپلیکشنز متعارف کروائی گئی ہیں جہاں مرد و عورت بنا کسی لحاظ کے ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں, ٹک ٹاک, سنیک ویڈیو, اور لائیکی جیسی ایپلیکیشنز قابلِ ذکر ہیں نوجوان نسل کو سستی شہرت اور چند پیسے دینے کے عوض ان کا کردار خراب کیا جا رہا ہے ان میں سے تو اکثرایسے لوگ ہیں جن کے گھر والے بھی ان کو اس قبیح فعل سے بعض نہیں رکھتے بلکہ ان کے ساتھ ملکر ویڈیوز بناتے ہیں اور ساتھ سپورٹ کرتے ہیں اس ناسور کا شکار ناکہ نوجوان نسل بلکہ ان کے والدین بھی ہیں 

    اور یہی وجوہات معاشرے میں بدفعلی, بد امنی, اور زنا کا باعث بنتی ہیں اور اسلام بدنامی کا سبب بنتی ہیں 

    ہر طرف مسلم دشمن مسلم قوم کے کردار پہ وار کرتے نظر آتے ہیں بے حیائی کا بڑا ثبوت ہمارے معاشرے میں گردش کرنے والے فلمیں, ڈرامے ,اشتہارات اور فحش ٹاک شوز اور مارننگ شوز ہیں جن میں سرعام بے حیائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے 

    یہ سچ ہے کہ اخلاقی اقدار کی کمی مردوں میں بے حیائی کا باعث بنتی ہے مگر جہاں مرد قصور وار ہیں وہیں عورتیں بھی قصور وار ہیں اسی لیے اسلام مرد ہو یا عورت دونوں کو حیا کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے 

    قرآن مجید میں سورۃ النور کی آیت نمبر 19 میں بے حیائی پھیلانے والوں کیلیے کھلی وعید سنائی گئی ہے

    اِنَّ الَّـذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (19)

    ترجمہ :

    "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”

    اسی طرح حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

    "حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں پہنچاتا ہے جبکہ بے حیائی و بدکلامی سنگدلی ہے اور سنگدلی جہنم میں پہنچاتی ہے”

    فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رح کا مشہور قول ہے کہ 

    "اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو، اُس قوم کے جوانوں میں بے حیائی پھیلا دو۔۔!!”

    حاکمِ وقت کو ان تمام برائیوں پہ کنٹرول ہونا چاہیے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے سارے اشتہارات, ڈرامے, فلمیں, اور مارننگ شو بند کریں جو اسلام مخالف ایجنڈے کی مدد کر رہے ہیں یعنی بے حیائی پھیلا رہے ہیں 

    اللّہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا کرے آمین ثم آمین

    Twitter name : alpha_zairo

  • عدم برداشت تحریر؛ لائبہ طارق

    عدم برداشت تحریر؛ لائبہ طارق

    آج کے معاشرے پر نظر دوڑائی جائے ایسے لگتا ہے کہ انسان معاشرے کے وہ خوبصورت ادب و آداب سے بلکل ناواقف ہوگیا ہے جو ایک خوبصورت معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔ کیوں کہ ایک معاشرے کی خوبصورتی اس معاشرے میں رہنے والوں لوگوں کی آداب ہے۔ اگر کسی معاشرے میں اس کی کمی ہوگی تو پھر اس معاشرے میں عدم برداشت جیسے برائیاں جنم لیں گی۔ عدم برداشت جیسی برائی نا صرف ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ معاشرے کی خوبصورتی کو چھین رہی ہے۔

    آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ تقریباً ہر روز کوئی نا کوئی خبر ضرور آتی ہے کہ بیٹے نے اپنے والدین کو قتل کیا یا بھائی نے اپنی بہن کو قتل کیا یا شاگرد نے اٹھ کر اپنے استاد کو قتل کیا جسکو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔ تو کہی سے یہ خبر آ رہی ہوتی ہے کہ مخالفین نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔ ہماری سیاست پر بھی اگر نظر دوڑائی جائے تو کردار کشی سے لے کر ماں بہن کی گالیاں تک کی نوبت آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمانوں کی بات کی جائے تو یہاں یہ حال ہے کہ اپنے رب کیطرف سے امتحان میں صبر کرنے کی بجائے اُلٹا اس رب سے شکوہ کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنے شکووں اور شکایتوں کی ایک طویل فہرست باندھ دیتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم تحمل اور شکر سے کام لے۔ اس ہی عدم برداشت کی نتیجے میں ہم اپنے دین کے احکامات تک بھول چکے ہیں۔

    پہلے معاشرے میں خوشحالی کی وجہ ہی یہی تھی لوگوں میں برداشت تھا سب برداشت سے کام لیتے تھے لیکن آج برداشت کی بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یعنی اس کی ایک وجہ جاہلیت بھی ہے۔ معاشرے میں برداشت کی بہت کمی آنے سے بہت ساری برائیاں جنم لے رہی ہیں جو معاشرے خوبصورتی کی تباہی کا باعث ہے۔

    عدم برداشت آجکل مسلمانوں کے معاشرے کی خوبصورتی کو بھی نگل گیا ہے حالانکہ ہم اس نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں جن پر طائف کے لوگوں پتھر برسائے۔ جس سے آپ ﷺ لہولہان ہو گئے تھے ۔ لیکن برداشت کا یہ عالم تھا آپ ﷺ نے کبھی ان کیلئے بد دُعا تک کیلئے بھی ہاتھ نہیں اٹھائے بلکہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ اللہ انکو ہدایت کا راستہ نصیب فرمائے۔ ہم اس نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں جہنوں نے فتح مکہ پر اعلان کرکے سب دشمنوں کو طاقت رکھنے کی باوجود بھی معاف فرمایا۔ ہم اس نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں جنہوں نے اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل کو معاف فرمایا لیکن اس کے باوجود بھی ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت مبارک ، اللہ کے احکامات کو بھول گئے ہیں۔

    آج ہمارے پیارے وطن پاکستان میں بدعنوانی سے لے کر قتل تک جتنے بھی جرائم ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ عدم برداشت ہے۔ اپنی لائن میں کھڑے ہو کر انتظار کرنے کی بجائے رشوت دے کر کام کروا دیتے ہیں جیسے کئی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ کسی کو معاف کرنے کی بجائے بڑھ چڑھ کر اسکو گالیاں دیتے ہیں جو لڑائی سے لے بات قتل تک چلی جاتی ہے ان سب برائیوں کی جڑ ایک ہی ہے اور وہ عدم برداشت ہے۔

    ہم اپنے نظریات سے لے کر اپنے عقائد تک دوسروں پر ذبردستی سے مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ہمارا رب خود فرماتا ہے کہ ہدایت کا راستہ نصیب کرنے کا اختیار صرف اس ہی کے پاس ہے

    اگر ہم کسی پر زبردستی اپنی رائے یا اپنے نظریات مسلط کرنا چاہیں گے تو رد عمل بھی ہماری مرضی کا نہیں آئے گا بلکہ وہ بھی رد عمل میں عدم برداشت سے ہی کام لے گا

    اسلئے ہمشیہ ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کیلئے برداشت سے کام لیا جائے اور اپنے رب اللہ کے بتائے ہوئے احکامات کی پیروی کرے جو ہمارے تک ہمارے پیارے نبی ﷺ  کی سنت کی شکل میں پہنچے ہیں ۔ معاف کرنے والوں میں بن جائیں ۔ ایک دوسرے کا احترام کرنے والے بن جائیں ۔ ایک دوسرے کی بات سننے والے بن جائیں تب ہی ہمارے معاشرے کی خوبصورتی لوٹ آئے گی اور اس معاشرے سے تمام برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔

    Twitter; ‎@LaaybaTariq

  • استاد کیا بِگڑا پورا معاشرہ ہی بِگڑ گیا! تحریر فہد علی

    استاد کیا بِگڑا پورا معاشرہ ہی بِگڑ گیا! تحریر فہد علی

    14 اگست

    کو گریٹر اقبال پارک میں پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوشل میڈیا سے معلوم پڑا جس نے نا صرف مجھے بلکہ ہر اس شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو سینے میں اس قوم و ملت کا درد رکھتا ہے

    اور اس ملک کو مہذب اقوام کی فہرست میں سب سے اوپر دیکھنا چاہتا ہے اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا کرتا ہے کہ نا صرف اس ملک کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے بلکہ بھائیوں اور بیٹوں کو بھی نیک اور صالح بنا دے

    سب کو اسلام کی حقیقت نصیب فرما دے

    اس سانحے کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے

    اول یہ کہ ہمارے ہاں بہت سے ہیرے بھی پائے جاتے ہیں جو اخلاص و اخلاق کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہیں

    لیکن ایسے درندوں اور ناعاقبت اندیشوں کی بھی بھر مار ہوتی چلی جا رہی ہے

    جن کی وجہ سے آئے دن سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور اخلاقی پستی کی دگرگوں حالت کو دیکھ کر دل کڑھتا بھی ہے

    کچھ لوگوں کو سنتے پایا گیا کہ شکر ہے اللہ نے بیٹی نہیں دی کچھ نے تو یہ دعائیں بھی مانگیں کہ یا اللہ کبھی بیٹی نا دینا

    کیسی احمقانہ سوچ اور اپروچ ہے

    ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے کیا اب میں پچھتاؤں کہ اے اللہ مجھے بیٹی کیوں دی

    ہر گز نہیں!

    بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں اور رحمت کے حصول پر کبھی نادم و نالاں نہیں ہوا جاتا

    ہاں مگر میں اور آپ، ہم سب، جو مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ ہمیں اس کی اصلاح ، تزکیہ و تطہیر کی ضرورت ہے

    ہم سب کو مل کر ذمہ داری لینی ہو گی

    لیکن سب سے بڑی ذمہ داری اور حق اساتذہ کا ہے

    نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا استاد صرف معلم رہ گیا

    مربی نا رہا

    تعلیم کا پیشہ ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے

    لیکن یہ ہر گز معلوم نا تھا کہ کیسے کیسے بگڑے لوگ استاد بنے بیٹھے ہیں

    جنہیں بس اپنی دنیا کی فکر لاحق ہے، جن کے لیے صرف اور صرف اپنے مفادات معنی رکھتے ہیں اور دوسرے ان کے لیے صرف عوام ہیں۔ لاہور بورڈ کے جاری پیپرز نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہر طرف ایسا عملہ لگایا گیا جو پورے کا پورا

    سینٹربیچتے رہے۔ تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے

    یہ لوگ کیسے تربیت کریں گے؟

    استاد سکول میں بیٹھ کر بھی نہیں پڑھاتے ۔ یہ خود اتنا بگڑ چکے کہ انہیں خود اصلاح کی ضرورت ہے، یہ کیا اصلاح کریں گے؟

    1993, 1997

    میں

    ایک کاغذ کا ٹکڑا ، جسے ڈگری کہا جاتا ہے

     کے بل بوتے پر آگے آنے والے یہ سفاک لوگ، جو اکثر و بیشتر جعلی طور پر بھرتی ہوئے انہیں اس قوم کی تربیت سے کیا غرض ہو سکتا تھا

    جو دوسروں کا حق سلب کر کے آگے آئے ہوں ان کے سینوں میں اس قوم کی فکر کیوں کر ہو گی؟

    رہی سہی کسر ہیڈ ماسٹر صاحبان پوری کر دیتے ہیں، اساتذہ کو وہ اپنا ذاتی ملازم سمجھتے ہیں اور اگر کوئی اچھا استاد ، ا چھا کام کرنے والے، پڑھانے والے ہوں تو انہیں اپنے ذاتی کاموں یا محکمے کے دیگر فضول کاموں میں الجھا دیا جاتا ہے 

    اس زوال کا جتنا ذمہ دار اساتذہ ہیں اتنا ہی یہ محکمہ تعلیم بھی ہے جس کے لا ابالی تشخص اور اس کے نااہل کرتا دھرتا ، وزیرِ تعلیم سے لے کر سیکرٹری، ان سے سی ای اوز اور ان سے لے کر نچلے درجے کے تمام تعلیمی افسران شامل ہیں جو پالیسی سازی کے وقت حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں اور محض تصوراتی پالیسیاں بنا کر تعلمی نظام کا مزید بیڑا غرق کرتے چلے جا رہے ہیں

    خدارا اس قوم پر رحم کیجیے اور اپنے تمام تر فیصلوں پر نظر ثانی کیجیے

    اساتذہ کو ذمہ داری خوش اسلوبی اور اپنے مقام پر آزادی سے کام کرنے دیجئے

    سکولوں میں نظم و ضبط کا معیار بلند کروائیے اور کتابوں سے ہٹ کر تربیت پر زور دیجئے

    معاشی زبوں حالی تو دور ہو ہی جاتی ہے مگر اخلاقی پستی جاتے جاتے جاتی ہے

    والدین ، بھی اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی کرتے رہیں کہ ہم سب مل کر ہی ان خرافات سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور قوم و ملت کی فکر ہمارے سینوں میں بیدار کرے کیونکہ بہتری یقیناً آسکتی ہے، اگر تمام متعلقہ فریقین اپنا قبلہ درست کر لیں

    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

    Twitter Handle: ‎@amfahadali1

  • گرمیوں کی چھٹیاں(افسانہ)   تحریر:محمد وقاص شریف

    گرمیوں کی چھٹیاں(افسانہ)  تحریر:محمد وقاص شریف

    جون 1994 گرمیوں کی چھٹیاں یکم جون کو کر دی گئی اور ہمیں آٹھویں کلاس کا ہوم ورک بہت زیادہ ملا، جسے دیکھ کر سر ہی چکرا گیا، گھر سے پیسے لئے اور سندھیلیانوالی میں اس وقت دو مشہور جنرل سٹور تھے، سرور کتاب گھر اور نسیم کتاب گھر وہاں سے ہوم ورک لکھنے کے لئے دستے خریدے، ونگ سینگ پین، مارکر اور دیگر سامان خرید کر گھر کی راہ لی، دوسرے دن صبح ہوم ورک لکھنے کے لئے ناشتے کے فوراً بعد ہی گھر میں موجود پیپل کے درخت کے نیچے زبردست پانی کا چھڑکاؤ کیا، میز کرسی لگا کر ہوم ورک لکھنا شروع کر دیا، اور دو ہفتوں کے اندر سارا ہوم ورک لکھ کر سائیڈ پر مارا، اسی دوران ایک دوست جسنے آفر دی میرا کام بھی لکھ دو اور معقول پیسوں کی آفر دی، جسکو آدھا کام لکھ دیا، دیکھا دیکھی میں دو دوست اور بھی آ پہنچے، انکو بھی تھوڑا بہت لکھ دیا، 

    اس دن جون کی پچیس تاریخ گرم دوپہر تھی، پیپل کے نیچے بیٹھ کر دوست کا ہوم ورک لکھ رہا تھا، اس دن لو کافی زیادہ تھی، پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بہت سکون تھا، میرا ہاتھ ہوم ورک لکھنے کے لئے بجلی کی تیزی سے چل رہا تھا، اور اپنے آپ کو کوس رہا تھا، اپنا کام لکھ کر کیوں کسی دوسرے کی حامی بھری، یہی خیالات آتے ٹیوب ویل پر نہانا نمک مرچ لگا کر کچے آم کھانا، شام کو کرکٹ کھیلنا لیکن دوستوں کی پھٹیک نکال رہا تھا، 

    اسی دوران ایک چھوٹا بچہ معصوم سا چہرہ لئے میرے پاس آیا، میری طرف دیکھا اور کاغذ کا ٹکرا پھنک کر بھاگ کھڑا ہوا، رول کئے ہوئے کاغذ کو کھول کر پڑھا تو آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا سمجھا شاید کسی دوست نے مذاق کروایا ہے، لکھا تھا دوپہر دو بجے لمبے کھالے پر انتظار کروں گی لازمی آنا، دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کیساتھ ہم نے جانے کا فیصلہ کیا، لیکن ابھی دو گھنٹے رہتے تھے، اور ایک ایک لمحہ گِن کر گزار رہا تھا، لش پش بھی کر لی، دو تین بار آئینہ دیکھا مسکرا دیا، پہلی دفعہ کسی کو ملنے جانا تھا، اور وہ بھی خط بھیج کر بلایا گیا، جسکے بارے میں سوچ کر ہی من میں خوشی کے نگارے بج رہے تھے، سیکو فائیو کی ٹو ٹو والی گھڑی ہاتھ میں باندھ کر وقت دیکھ رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے آج وقت کی نبض ہی روک گئی ہو، 

    جون کی تپتی دوپہر اور جھلسا دینے والی لُو میں ہم گھر سے نکلے باہر گرمی کی وجہ سے ہو کا عالم تھا، گلی میں دو دوست ملے جنکو دور جانے کا بہانہ بنا کر چلتا کیا، گاؤں سے باہر نکل کر کھیتوں میں آ چکا تھا، کسانوں نے کھیتوں میں دھان کی پنیری کاشت کر لی تھی، اور ابھی سارے کھیت خالی تھے جن میں مہینہ بعد دھان کی پنیری کاشت ہونی تھی، کھیتوں کے کنارے لگے درختوں کے نیچے چرند پرند گرمی کی وجہ سے منہ کھولے سستا رہے تھے، دور دیکھنے سے ایسے لگتا تھا جیسے زمین سے بھاپ نکل رہی ہو، 

    لمبے کھالے پر ہم پہنچنے والے ہی تھے، ایسے لگتا تھا جیسے دل بیٹھ رہا ہو، لیکن خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی، 

    لیکن کسی اور کے آ جانے کا ڈر بھی ستائے جا رہا تھا، ہم لمبے کھالے کی پگڈنڈی پر چڑھ چکے تھے، مطلوبہ جگہ پہنچنے کا سفر شروع ہو چکا تھا، طائرانہ نگاہ ہر طرف دیکھ رہا تھا، اور اپنی خوش قسمتی پر شاداں بھی تھا، مگر مجھے حیرانگی یہ ہوئی ماہ جیبیں میرے سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی، اور مجھے آتا دیکھ رہی تھی، اسکی تیز نگاہوں سے ایسا لگا جیسے ہم پگڈنڈی سے گرنے لگے ہوں، اپنا سفر جاری رکھا اسکے پاس پہنچ گئے، ماہ جبیں جو سر تا پا حسن کا شاہکار تھی ہمیں دیکھ کر مسکرا دی، ہم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو بولی آپکو زحمت دی مجھے افسوس ہے، لیکن کیا کروں آپکی شہریت سنی کہ آپ گرمیوں کی چھٹیوں کا کام لکھ کر دے رہے ہو، تو پلیز میرا کام بھی لکھ دیں بھائی، ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا بُت بنا اسے دیکھ رہا تھا، کوئی چار کلو وزنی کاغذات کا پلندہ میرے ہاتھوں میں رکھ کر بولی میرا کام خوش خط لکھنا آپکو شکریہ کا خط بھی لکھوں گی اور چلتی بنی

    پھر کیا ہم تھے چار کلو وزن تھا، تیز لُو اور گرم دوپہر میں واپسی کا سفر، اور گرمیوں کی چھٹیوں کا کام.

    @joinwharif