Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کرے گے کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیا فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو ذیادہ ، کسی کو ذیادہ خوبصورتی بجشی تو کسی کو اسے کم لیکن ہر چیز کو اسکی خوبیاں اور خامیاں بخشی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ اب اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے جو اس کے طریقے پر چلے اور اس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہے اسی لیے انکو اتنی ہی آزمائشوں سے گزارتا ہیں۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ انکو جنت دی گئی تو وہ بھی انکے لیے ایک آزمائش تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ وسلم کو جنت کے ذریعے آزمایا گیا اسی طرح ہر ایک پیغمبر کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اور انہی آزمائشوں پر صبر کرکے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن گے۔ اسی طرح ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کتنی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، کتنے ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اس بات کا پتہ ہمیں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے۔
    غرض ہر انسان کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں کبھی مال کی صورت میں، کبھی صحت تو کبھی کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے رہتے ہیں اسلیے نہیں کہ وہ کمزور ہوکر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگاے بلکہ اس لیے تاکہ انکا ایمان اور زیادہ مضبوط ہو اور وہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جاہیں۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں صبر اور شکر کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ بے صبری اور ناشکری کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں ناکام رہتے ہیں۔
    مشکلات، تکالیف، دکھ، درد یہ سب زندگی کا ایک حصہ ہے نہ کہ پوری زندگی۔ یہ سب چیزیں صرف وقتی ہیں ابدی نہیں۔ آج اگر مشکل ہے تو کل آسانی بھی ہوگی۔ جس طرح ہر رات کے بعد دن ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ مشکلات کے بعد آسانی بھی پیدا کرتے ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بندے کو سب کچھ اسکی وسعت کے مطابق دیتا ہے چاہے وہ خوشی ہو یا غم۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ جس طرح آسمان میں ہمیشہ بادل نہیں رہتے اسی طرح زندگی میں بھی ہمیشہ مشکلات نہیں رہتی۔
    جس طرح ہر سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ملتا ہے اسی طرح ہمارے ذہنوں میں پیدا شدہ سوالات کا جواب بھی ہمیں تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر ہمیں کسی سوال کا جواب نہ ملے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کو ہی مٹا دیا جائے سوال کو مٹانا سوال کا حل نہیں بلکہ اس کا جواب تلاش کرنا ہی اسکا حل ہیں۔ اسی طرح زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا حل تلاش کرنا چاہیے نا کہ خودکشی کر کے زندگی کو ہی ختم کرنا چاہیے خودکشی کرنا ہمارے مسائل کا ہرگز حل نہیں۔
    اگر ہم دیکھیں گے تو آج کل کے دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ خاص کر ہمارے نوجوان جو اپنے مستقبل کو لے کر اتنے فکر مند ہیں کہ اب وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے، مستقبل کا مالک کون ہے تو جو چیز ہمارے بس میں نہیں اسکے بارے میں پریشان ہونے سے کیا ملے گا۔ ہمارے مستقبل میں جو کچھ بھی ہے نہ ہم اسکو وقت سے پہلے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو بدلنے کی طاقت ہم میں ہے۔ اسکا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے بس ایک انسان کو کوشش کرنی ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے صرف مستقبل کے بارے میں پریشان ہو کر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا لیا تو کیا اسے انکا مستقبل سنور گیا نہیں بلکہ اس سے وہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں چلے گئے۔ ہو سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکے مستقبل میں کچھ ایسا لکھا ہوتا جس سے انکی پوری زندگی سنور جاتی۔ اگر ہم یہ سوچھ کر محنت کرے کہ مستقبل اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے وہ جو کریں گے بہترین کریں گے تو ہم کبھی زندگی سے ناامید نہیں ہونگے۔
    ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس پر صرف اسی کا حق ہے۔ خودکشی کر کرنے والا شرک کرتا ہے اور مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اگر خودکشی کرنے والا ایک بار یہ بات ذہن میں لاے کہ اس دنیا کی اذیتوں سے کہی گناہ زیادہ اذیت ناک اس دنیا کا عذاب ہوگا اگر وہ ایک بار عذاب قبر کو یاد کرے گا، جہنم کے عذاب کو یاد کرے گا تو وہ کبھی مرنا نہیں چاہیے گا۔ آج کل کے سماج میں خودکشی ایک کھیل سا بن گیا ہے ہر کوئی مرنا چاہتا ہے لیکن موت کے بعد اسکے ساتھ کیا ہوگا اس بات سے ہر کوئی انجان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو انسان اس دنیا کی ذرہ سی تکلیف برداشت نہیں کر سکا وہ آخر قبر کی ہولناکیوں کو کیسے برداشت کر سکے گا، جہنم کی ان چنگاریوں کو کیسے برداشت کر پاے گا۔ وہاں تو موت کا سہارا بھی نہیں ہوگا نہ کوئی بچنے کا طریقہ ہوگا تو کیسے بچے گا وہاں۔
    یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہمیں دماغ دیا سوچنے سمجھنے کے لیے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اگر ہمارا کوئی بھائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے نا کہ اسکی پریشانی کی وجہ بنے۔ آج انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا ہے اگر کسی انسان کی وجہ سے کوئی انسان اپنی زندگی ختم کرتاہے تو دوسرا بھی اسکے گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری وجہ سے دوسروں کی زندگی سنور جائے ناکہ ہم انکی موت کی وجہ بن جائے۔ ہم آے دن دیکھتے ہیں کہ ہر روز دو چار خودکشیاں ہوتی رہتی ہے اور وہ خودکشی کرنے والے کوہی انپڑ جاہل لوگ نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں آخر کیوں کس چیز کی کمی ہے ہمارے سماج میں؟ کمی ہے تو اخلاقی تعلیم کی، کمی ہے تو قرآن مجید اور سنتوں کو سمجھنے کی جن کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت میں کوئی کمی نہ رکھے تاکہ انکا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہو اور انکو خودکشی جیسے سنگین گناہ کا سہارا نہ لینا پڑے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے اور ہمارے ایمان کو بلندی بخشے اور ایمان والی عزت والی موت دیں۔ آمین

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: فیضان مشتاق

    جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ہللا تعالی اس کے ہاں فرشتے بیچتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں
    اے گھر والوں !تم پر سالمتی ہو "وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس”
    کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو
    اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی
    کون کہتا ہے اسالم نے عورت کو قید کر رکھا ہے
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو وہ مقام نہیں دیا
    کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو آزادی نہیں دی
    جی اسالم نے عورت کو گھر کی زینت بنایا ہے
    گھر کی عزت بنایا ہے
    گھر کی رانی بنایا ہے
    جب اسالم آیا حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم تشریف الئے تو آپ نے عورت کو ذلت اور پستی کی
    گہرائیوں سے اٹھایا اور اسے عظمت و رفعت کے بلند مقام پر فائز کیا کر دیا اور فرمایا کہ ہللا نے
    تین چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈال دی خوشبو عورت اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
    اسالم کے عالوہ اور کوئی مذہب نہیں
    جس نے اچھی بیوی کو آدھا ایمان قرار دیا ہو جس نے بیواؤں کو عزت کی مسند پر بٹھایا ہو جس
    نے عورت کے حسن و جمال کو نہیں اس کے عورت ہونے پر قابل فخر ٹھہرایا ہو
    عورت کی نمایاں شخصیتیں چار ہیں
    بیٹی ہونے کی حیثیت
    ماں ہونے کی حیثیت
    بیوی ہونے کی حیثیت
    بہن ہونے کی حیثیت
    ان 4 حیثیت کے اعتبار سے جو عزت و عظمت محبت اسالم نے عورت کو دی ہے دنیا کسی جدید و
    قدیم قانون اور مذہب نے نہیں دی
    اسالم نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے
    جب بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کے دروازے کھولتی ہے
    بہن :حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ان
    کے ساتھ اچھا سلوک .کرے تو وہ جنت میں جائے گا
    بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دن مکمل کرتی ہے
    اور جب ماں کا درجہ پر فائز ہوتی ہے تو تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے
    حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں اور وہ ان کے ساتھ حسن
    سلوک کرے اور ان کی
    پرورش کرے تو وہ دو لڑکیاں اس کو جنت میں لے کر جائے گی
    پچھلی صدیوں میں مختلف معاشروں کے مطابق خواتین کا مطلب کچھ بھی نہیں وہ ان کا احترام
    بھی نہیں کرتے تھے اور یہاں تک کہ ان کو بطور انسان کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا لیکن اسالم
    میں خواتین کا احترام اور مساوات دونوں ہیں
    یونین کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے
    سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کے نہیں
    یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جال دیا گیا تھا
    دور جہالت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا
    ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
    لیکن محسن انسانیت رحمۃاللعالمین حضرت محمد صلی ہللا علیہ وسلم کے عورت کے بارے میں
    ارشادات مالخطہ فرمائے
    قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے
    پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے وہ کہے گی میں ایک بیوہ
    عورت ہوں میرے چند یتیم بچے ہیں .جس نے اپنے رب کی ہدایت اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر
    کی خوبیاں بیان کرتی ہے
    اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو اور جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک
    درجہ ہوگا
    جو اور ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنےیتیم بچوں کی تربیت کی خاطر نکاح نہ
    کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہیں
    عورت پر مرد کے فضیلت
    مرد عورت سے چند وجوہات کی بنیاد پر بہت افضل ہے
    مرد پر جہاد فرض ہے عورت پر سوائے سخت ضرورت کے فرض نہیں
    مرد کی ذمہ داری عورت کا سارا خرچہ ہے عورت کی ذمہ مرد کا خرچ نہیں
    مرد کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر نہیں جاسکتی مرد پر یہ پابندی نہیں
    اسالم سے پہلے عورت بحیثیت ماں یا بہن
    اسالم سے پہلے ایک فرقہ کافروں کا وہ تھا جو مجوسی کہالتا تھا تمام محرمات سے ان کے نزدیک
    نکاح جائز ہوتا تھا یہاں تک کہ وہ ماں اور بہن سے نکاح کرنے کو بھی جائز قرار دیتے تھے
    اسالم سے قبل سوتیلی ماں کی قدر و منزلت کچھ نہ تھے عرب میں یہ طریقہ سے صدیوں سے
    رائج تھا کہ خاوند مرنے کے بعد اس کا لڑکا اپنے باپ کی جائیداد کی طرح اس کی بیوی اپنی
    سوتیلی ماں کا بھی وارث ہوتا
    مدینہ منورہ میں اسواد ابن خلف نے اپنے باپ خلف کی بیوی اور صفوان ابن امیہ ابن خلف نے اپنے
    باپ امیہ کی بیوی فاختہ بنت اسواد ابن مطلب اور منظور ابن ریان نے اپنے باپ ریان کی بیوی ملکہ
    بنت خارجہ سے ان کی موت کے بعد نکاح کر لیے

    @FAIZAN_BHATTI42

  • ڈپریشن اور خودکشی تحریر: تنزیلہ اشرف

    ڈپریشن اور خودکشی تحریر: تنزیلہ اشرف

    دنیا میں بہت سی بیماریاں ہیں لیکن ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی وجود کو گھن کی طرح کھا رہی ہے ۔۔ہم آئے روز
    اخبارات میں،اپنے اردگرد بہت سے ایسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں۔۔
    "کبھی کوئی بچہ امتحان میں ناکامی پر موت کو گلے لگا رہا ہے تو کبھی کوئی نام نہاد عشق میں ناکامی پر آہ بھر کر زندگی کو
    ناکام سمجھ کر موت کی آغوش میں جا سوتا ہے”۔۔
    ” کیا زندگی اتنی سستی ہے” ؟ ۔۔
    ہمیں سوچنا ہے اور جاگنا ہے اس غفلت کی نیند سے جس میں ہم ڈوبے ہوئے ہیں اور ہماری نئی نسل تباہی کے دہانے پر جا
    پہنچی ہے۔
    خود کشی کے بڑھتے واقعات ہمیں توجہ دال رہے ہیں کہ ہم اپنی نئی نسل کی تربیت کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔۔
    ہمارے بچے حتی کی اب نوجوان طبقہ بھی ڈپریشن کی زد میں آکر ایک ہی راستہ چنتا ہے اور وہ ہے موت۔۔
    ایسا کیوں ہے کیا ہمارے معاشرتی رویے اس طرح کے ہیں؟۔۔کیوں خودکشی کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟۔۔
    ڈپریشن کی بیماری عام ہے۔۔
    "آج ہم ان وجوہات پر غور کریں گے جو ڈپریشن کی وجہ بنتی ہیں اور نتیجہ موت کی صورت نکلتا ہے۔۔۔
    بچوں کو ڈپریشن سے محفوظ رکھنے کا طریقہ انھیں تعلیم کے ساتھ کھیل کود اور صحت مند سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے اس
    کے عالوہ وقتاً فوقتاً شرتی تربیت بھی کرنی چاہیے۔۔انھیں وقت کی گردش میں موجود خم دار رستوں پر چل ان کی اخالقی و معا
    کر منزل کی تالش سکھانی چاہیے”۔
    "ہمیں ضرورت ہے ہم اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کی نام نہاد سرگرمیوں سے دور رکھیں ۔۔ان کی تربیت اس طرح کریں کہ ان کو
    کوئی مشکل ،مشکل نہ لگے اور وہ کامیابی سے اپنے رستے کی طرف بڑھ جائیں”۔۔۔
    انھیں بتانا چاہیئے وہ کسی ناکامی کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں بلکہ مشکل سے رستہ نکال کر آگے بڑھ جائیں۔۔
    ڈپریشن کی ایک اور وجہ نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی بھی ہے ۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے بے
    حد استعمال نے ہماری زندگیوں کو جھگڑ دیا ہے۔بعض لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے اتنے زیادہ اپنی راہ سے ہٹ کر بے راہ
    روی کی طرف بڑھ جاتے ہیں کہ نتیجہ موت کی صورت نکلتا ہے۔۔
    "ڈپریشن کی ایک اور وجہ زندگی کا جمود ہے کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحے موجود ہوتے ہیں جو بلکل اس پانی کی طرح
    ہوتے ہیں جو ساکن ہوتا ہے اور پھر اس کو کائی لگ جاتی ہے اس طرح اگر انسانی زندگی بھی جمود کا شکار ہو تو اس کو بھی
    کائی لگ جاتی ہے اور یہ کائی انسانی وجود کو کھا جاتی ہے اور بعض اوقات نتیجہ خودکشی کی صورت نکلتا ہے”۔۔۔
    "زندگی ایک بہتے ہوئے پانی کی طرح ہونی چاہیئے کیونکہ ٹھہرے ہوئے لمحے اور منجمد پانی موت کی عالمت ہے اگر زندہ
    رہنا ہے تو چلتے رہنا ہے ۔۔چھوٹے چھوٹے قدم ہی سہی لیکن قدم اٹھاتے رہنا ہے اسی میں انسانی وجود کی بقا ہے”۔۔
    "ہمیشہ ایک بات کا یاد رکھیں اگر کوئی رشتہ آپ سے چھن گیا یا دور ہو گیا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آپ ایک بہتر
    رشتے کے حقدار ہیں۔۔۔اس لئے خود کو اذیت مت دیں”۔۔
    آپ کو ہمیشہ وہ ہی ملتا ہے جس کے آپ حقدار ہوتے ہیں۔۔۔۔اس لئے خودفریبی سے بچیں۔۔۔
    خودکشی کی ایک اور وجہ نوجوان نسل کا چاہتوں اور محبتوں کی ڈور میں الجھنا بھی ہے ۔۔
    "ہمیں یاد رکھنا کہ محرم رشتوں کی محبت کبھی نامحرم رشتوں کی محبت پر حاوی نہیں ہوتی وہ محبت نہیں ایک دھوکا •
    ہوتا ہے جو ہم خود کو خود ہی دے رہے ہوتے ہیں۔۔محبت وہ ہے جو آسمانوں میں حیا کے نور سے لکھ کر عزت کی
    چادر میں لپیٹ کر ہمیں ایسے سونپی جاتی ہے جو ہمیں معتبر کر دیتی ہے اس لئے جھوٹی اور فریبی محبتوں سے خود
    کو بچائیں”
    کوشش کریں اپنے اردگرد موجود الجھے لوگوں کو خود سے جوڑ کر حرام موت سے بچائیں اسی میں بقا ہے, اسی میں زندگی۔

  • سگریٹ نوشی سے چھٹکارے کے پانچ مفید نکات حریر جہانتاب احمد صدیقی

    سگریٹ نوشی سے چھٹکارے کے پانچ مفید نکات حریر جہانتاب احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی ایک بد ترین لت ہے جو سرطان ، فالج، اور امراض قلب کا سبب ہوتی ہے، اس لت سے پیچھا چھڑانا مضبوط ترین قوت ارادی کے مالک افراد کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی۔ مگرسگریٹ نوشی کے نقصانات کم کرنے کیلٸے کچھ عادتیں اپنا کر خود کو اس لت سے آزاد کرواسکتے ہیں ۔

    جس جگہ سگریٹ نوشی کا اشتہار دیا گیا ہوتا ہے وہیں اس سے بچنے کیلٸے طریقے بھی بتائيں جاتے ہیں جسے بری طرح سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، سگریٹ نوشی چھوڑنا ممکن نہیں مگر منصوبہ بندی کے تحت اس لت سے جان چھڑانا ناممکن بھی نہیں ہے ، ہر آنے والے دن کے ساتھ سگریٹ کی تعداد کم کر کے اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ ایک بار ایسا کرنے کی کوشش کریں اور پھر دیکھیں آپ کی صحت پر کس حد تک مثبت اثرات مرتکب ہوتے ہیں

    تو پھر کیا سگریٹ نوشی کی لت سے چھٹکارا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ چند مفید نکات اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔

    ١- تمباکو نوشی چھوڑنے کا منصوبہ بنائيں اور سگریٹ چھوڑنے کی تاریخ طے کریں۔. اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک تاریخ کا انتخاب کریں ، لہذا آپ کے پاس چھوڑنے کی ترغیب کھوئے بغیر تیاری کرنے کے لئے کافی وقت ہے۔. اگر آپ بنیادی طور پر کام پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو ، ہفتے کے آخر میں چھوڑ دیں ، لہذا آپ کے پاس تبدیلی کے مطابق کچھ دن باقی ہیں۔.

    ٢- کنبہ ، دوستوں ، اور ساتھی کارکنوں سے کہو کہ آپ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو تمباکو نوشی چھوڑنے اور ان سے یہ بتانے کے اپنے منصوبے پر عمل کرنے دیں کہ آپ کو ان کے تعاون اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔. ایک ایسے دوست دوست کی تلاش کریں جو تمباکو نوشی کو بھی روکنا چاہتا ہو۔. آپ ایک دوسرے کو مشکل وقت سے گزرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔.

    ٣-ان چیلنجوں کا اندازہ لگائیں اور ان کا منصوبہ بنائیں جن کو چھوڑتے وقت آپ کو سامنا کرنا پڑے گا۔.زیادہ تر لوگ جو دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں وہ پہلے تین مہینوں میں ایسا کرتے ہیں۔. آپ عام چیلنجوں ، جیسے نیکوٹین کی واپسی اور سگریٹ کی خواہشوں کے لئے آگے کی تیاری کرکے اپنے آپ کو اس میں مدد کرسکتے ہیں۔.

    ٤- سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کو اپنے گھر ، کار اور کام سے ہٹا دیں۔.اپنے تمام سگریٹ ، لائٹر ، اشٹری اور میچ پھینک دیں۔. اپنے کپڑے دھوئے اور کسی بھی ایسی چیز کو تازہ کریں جس سے دھواں کی طرح بو آ رہی ہو۔. اپنی کار کو شیمپو کریں ، اپنے دالیں اور قالین صاف کریں ، اور اپنے فرنیچر کو بھاپیں۔.

    ٥-سگریٹ چھوڑنے میں مدد حاصل کرنے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔آپ کا ڈاکٹر انخلا کی علامات میں مدد کے لیے دوائیں لکھ سکتا ہے۔. اگر آپ ڈاکٹر کو نہیں دیکھ سکتے ہیں تو ، آپ اپنی مقامی فارمیسی میں کاؤنٹر پر بہت ساری مصنوعات حاصل کرسکتے ہیں ، بشمول نیکوٹین پیچ ، اور لوزینجز وغیرہ

  • پاکستان کی پہچان پاکستانی ٹرک آرٹ تحریر: محمد جمیل

    پاکستان کی پہچان پاکستانی ٹرک آرٹ تحریر: محمد جمیل

    آرٹ میں ہمیشہ پاکستان کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے. اپنے فن کے جوہر دکھا کر بہت سے فنکاروں نے اپنا اور ملک پاکستان کا نام روشن کیا یے "پاکستانی ٹرک آرٹ” ایسا ہی ایک آرٹ جس نے پاکستان کو شہرت اور ایک الگ پہچان دی ہے. پاکستان نے اس آرٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے.
    رنگ برنگے اور خوبصورت ڈیزائنز سے تیار کردہ پاکستانی ٹرک آرٹ جب لمبے سفر اور سرحدوں پر جاتے ہیں تو ان کا آرٹ دیکھ کر انہیں باآسانی پہچانا جا سکتا ہے. پاکستان میں ٹرک ڈرائیوروں کے من پسند ڈیزائن بھی تیار کئے جاتے ہیں اس میں قدرتی مناظر, قومی ہیروز کی تصاویر, شاعری اور رنگ برنگے پھول پتیاں وغیرہ شامل ہیں.
    ٹرک آرٹ میں صرف رنگوں کا ہی کھیل شامل نہیں ہے کیوں کہ رنگوں والے آرٹ تو صرف دن میں ہی دکھائی دیتے ہیں اس لیِے آرٹسٹوں نے نئے طریقے استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک اور کاغذ سے بنے مختلف اشکال چھوٹے بڑے ٹکڑوں کو ٹرک کی باڈی پر خاص ترکیب سے لگائے جاتے ہیں جن پر رات کے وقت روشنی پڑنے سے یہ ڈیزائنز اور تصاویر چمک اٹھتے ہیں. کچھ ڈیزائن صوبائی لحاظ سے بھی ہوتے ہین جن میں آزاد کشمیر, سندھ, پنجاب اور بلوچستان کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں. بعض ٹرکوں پر ایسی تصاریر بھی ہوتی ہیں جو کہ جزبہ حب الوطنی کے مظہر ہوتی ہے.
    پاکستان میں ٹرک آرٹ کا کام 1960 میں شروع ہوا تھا جب بیرون ملک سے ٹرک پاکستان آتے تھے. اس سے قبل یہ آرٹ صرف بیل گاڑیوں یا گھوڑا گاڑی پر ہوتا تھا.
    اب یہ ٹرک آرٹ صرف ٹرک کی حد تک کی محدود نہیں رہا بلکہ گھریلوں استعمال کی اشیاء پر بھی اب یہ آرٹ کئے جاتے ہیں. کچھ لوگ اپنی کار, بائی سائیکل پر بھی ٹرک آرٹ کرواتے ہیں.
    پاکستانی ٹرک آرٹ اب آسمانوں پر بھی پہنچ چکا ہے ایک فلائینگ اکیڈمی نے اپنے دو سیٹوں والے طیاروں کو اس ٹرک آرٹ میں مزیں کروایا ہے.
    اسی طرح سابقہ جرمن ایمبیسڈر مارٹن کوبلر نے اپنی بائی سائیکل پر ٹرک کروایا جسے وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے ساتھ واپس جرمنی لے گئے. پاکستان کے لئے یہ ٹرک آرٹ چند برسوں میں بہترین ثقافتی ورثہ بن کر سامنے آیا ہے.
    بہت سے ٹرک آرٹسٹ یہ شکائیت کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں کوئی بھی تعریفی سند یا لیٹر آف ایپریسی ایشن نہیں دیا گیا جبکہ بیرون ممالک میں انہیں اس منفرد کام کے باعث کئی سرٹیفیکیٹس, اعزازات مل چکے ہیں. کچھ آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ ٹرک مالک آرٹ دیکھ کر واہ واہ تو کرتے ہیں لیکن انکے دام دینے پر بلکل تیار نہیں ہیں اسی وجہ سے آرٹسٹ اب اس فن سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں کیوں کہ اس مہنگائی اور معاشی مسائل کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا نہیں چلتا.
    یہ ٹرک آرٹس کی ہی محنت ہے کہ پرانے ٹرک کو
    بھی ایسے سجایا جاتا ہے جیسے بلکل نیا ہو.

    ایک ٹرک کو تیار کرنے میں لاکھوں روپے لگائے جاتے ہیں جبکہ ایک مکمل ٹرک کہ ییاری میں ایک سے زائد ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جس میں چھ سے آٹھ مزدور کام کرتے ہیں.

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    2 سال کی بچی گود می لیے شوہر کے بے دریغ ظلم کے بعد سسکیاں لیتے ہوئے آج بھی اماں ابا کی رخصتی کے وقت کی گئ نصیحتیں یاد کرتے ہوۓ درد کو دبانے کی نا کام کوشش کر رہی ہے. اماں نے کہاں تھا بیٹی تمہیں ہر حال میں شوہر کا حکم بجا لانا ہے کچھ بھی ہو برداشت کرنا ہے اور ابا کا کہنا تھا اس گھر سے ڈولی اٹھ رہی ہے شوہر کے گھر سے میت ہی اٹھے گی.
    انہیں لفظوں کی مالا کو سینے سے لگائے پچھلے 10 سالوں سے وہ شوہر کی ہر ناانصافی کو برداشت کر رہی ہے. اور ہر بار کی طرح ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو صبر کی تھپکی سے سلا دیتی ہے. کیونکہ جانتی ہے طلاق کے دھبے کے ساتھ معاشرہ اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا.
    مردوں کے اس معاشرے میں سارے قصور اور سزائیں عورت کے لیے ہی تو ہیں.
    شوہر بیوی کی عزت نہ کرے تو قصور اسکا
    بیٹیاں پیدا ہو تو بھی قصوروار عورت
    کسی سے نکاح کی خواہش ظاہر کرنے پر سزا اسکا مقدر
    عورت کو بلیک میل کرکے اسے بداخلاقی پر مجبور کیا جائے تو بھی قصور اسکا
    شوہر پسند کی شادی نہ ہونے پر طلاق دے دے تو بھی قصور اسکا
    عورت کی عصمت دری کی جائے تو بھی قصوروار وہی
    وہ بھائی جو کسی لڑکی کے ساتھ محض وقت گزاری کے لیے ہوٹلوں اور پارکوں کی زینت بنا رہتا ہے بہن کی پسند کی شادی کی ضد پر اسے غیرت کے نام پر قتل کرنے پر ذرا عار محسوس نہیں کرتا. ستم ظریفی یہ کہ اسکا قتل کرنا بھی کسی کو قابل سزا نہیں لگتا.
    بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مانا مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے.بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مطالبہ تو یہ ہے کہ گناہ کی سزا اگر عورت کے لیے ہے تو مرد کیوں بری الذمہ ہے. دنیا میں کہی بھی سزا اور جزا کے قانون میں کیا مرد اور عورت کی تفریق ہے.
    مانا دین اسلام میں مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے. انہیں ایسا مرد بناۓ تو معاشرے میں بگاڑ کا سبب نہیں بلکہ بہتری کا امین ہو.
    @MudasraMobeen

  • بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہے؟     تحریر: ایمان ملک 

    بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہے؟     تحریر: ایمان ملک 

     
    علاقائی سلامتی کی صورت حال پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے قریبی پڑوس میں ، اور خاص طور پر افغانستان کے اگلے دروازے پر موجود  تخریبی عناصر کو بھی زیرِ نظر رکھنا چاہیے جو فی الوقت ہمارے ملک میں علاقائی صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور امن و امان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے مضافات میں کوئٹہ مستونگ روڈ پر اتوار کو ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم از کم چار فرنٹیئر کور کے جوانوں کی شہادت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمارا ملک ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی طور پر کسی کی بھی جانب سے اپنے محافظوں کو نیچا دکھانے کی روش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان ابھی بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ 
    کالعدم ٹی ٹی پی نے مذکورہ بالا دہشت گردی کی کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے خاص طور پر خودکش حملوں میں۔ مثال کے طور پر پچھلے مہینے ، کم از کم دو بچے گوادر کے ایسٹ بے ایکسپریس وے کے علاقے میں شہید ہوئے تھے جبکہ دہشت گردوں کا نشانہ چینی شہریوں کو لے جانے والی موٹر کار تھی علاوہ ازیں، کراچی میں بھی چینی افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعات کالعدم بلوچ علیحدگی پسندوں نے انجام دیے ہیں۔ مزید برآں جولائی کا داسو واقعہ ( جس میں متعدد چینی شہری مارے گئے تھے) اور اس جیسے حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے دیگر افسوسناک واقعات پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ دشمنان پاکستان کا ہدف بظاہر چینی شہری اور بلوچستان کی سرزمین ہے مگر درحقیقت انکا مقصد سی پیک جیسے اسٹراٹیجک منصوبے کو رکوانا اور ناکام بنانا ہے۔  
    اگرچہ پاکستان بیرون ملک سیکورٹی خطرات پر قابو پانے کے لیے بہت کم کام کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، لیکن پھر بھی وہ اپنے تمام تر سیکیورٹی اپریٹس کو متحرک کر سکتا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کی یہاں سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے نیز انہیں بروقت روکا جاسکے ۔ بلاشبہ اس وقت افغانستان ایک تشویشناک علاقہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ پاکستان  کے افغان طالبان کے ساتھ منفی تعلقات نہیں ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کابل کے حقیقی حکمرانوں بالخصوص افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا فقدان ہے ، جبکہ خود ساختہ داعش کے خراسان باب جیسے گروپ ، ٹی ٹی پی اور بلوچ باغی اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان سیکورٹی خطرات کے خلاف کارروائی کرے ، جبکہ داخلی کوششیں بھی تیز کی جائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان میں دشمنوں کی طرف سے کوئی چھوٹی یا بڑی دراندازی / دہشتگردی نہ ہو سکے جسکا حساس ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ 
    دریں اثناء ، انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کو بھی مقامی طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے ، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ، جہاں سیکیورٹی کی صورتحال ماضی میں خاص طور پر نازک رہی ہے۔ مزید یہ کہ کچھ علاقائی ریاستیں جو پاکستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتی وہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کو بطور ہتھیار ہمارے ملک کے خلاف استعمال کر سکتی ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو ان کی کوششوں کا مقابلہ اور بروقت تداراک کرنا چاہیے۔ آخر میں ، افغانستان میں جتنی جلدی بھی ایک جامع حکومت بنتی ہے ، نہ صرف یہ اس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہوگا۔ طالبان کے ساتھ ساتھ ان کے افغان مخالفین کو بھی اس مقصد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک نئی خانہ جنگی کو مذکورہ بالا عسکریت پسند گروہ خود کو خطے میں دوبارہ منظم کرنے اور پورے علاقے میں تباہی پھیلانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ 
    ایمان ملک 

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی ہمیشہ اپنے دوست احبابو سے لگتی ہے۔ ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے پڑتا ہے لکھتا ہے بڑا ہوتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے اور زندگی میں اسکو کچھ ایسے دوست ملتے ہیں جو نشہ تو کرتے ہیں سب دوستوں کو بھی کہتے ہیں کہ آپ بھی کریں اور ان لوگوں کا اپنے دوستوں کو نشے پر لگانے کا بڑا ہی کوئی ایک میرا طریقہ ہوتا ہے یہ اپنے دوست کو ایسے سگریٹ نوشی اور دیگر نشو  میں پھنساتے ہیں جیسے یہ کوئی بہت ہی اچھا کام ہو شروع شروع میں وہ دوست اپنے نئے دوست کو سگریٹ بھی دیتے ہیں اور نشہ بھی دیتے ہیں آہستہ آہستہ جب اس کو اس چیز کی لت لگ جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں اپنے لیے بھی لے اور ہمارے لیے بھی لے آؤ کیونکہ ان کا کام صرف نشہ پینا ہوتا ہے بے شک وہ اپنے پیسوں سے پیا یا کسی اور کے پیسوں سے اب وہ لڑکا بھی مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کو نشے کی لت لگ چکی ہوتی ہے تو اپنے لیے بھی لے کر آتا ہے اور دوستوں کے لیے بھی لے کر آتا ہے آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کے گھر والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سگریٹ نوشی کرتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے والدین بچے کو ہمارے بھی صحیح روکے بھی صحیح تو لیکن وہ بچہ نہیں روک سکتا کیونکہ اس کو اس چیز کی لت لگ چکی ہوتی ہے جب والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے تو اس وقت ان کو اس چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لیے یہ بات صحیح ہے کیونکہ ان کو صرف اس لعت کو پورا کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے دوستوں نے اس کو ایسا جال میں پھنسایا ہوتا ہے وہ سگریٹ نوشی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے کاش کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو آج کل بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے آج کل کے نوجوان کھانا کھائیں کیا نہ کھائیں سگریٹ ضرور پیتے ہیں کیونکہ وہ اس لت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ اگر وہ سگریٹ نہ پینے ہیں تو وہ کھانا بھی نہیں کھاسکتے لیکن یہں سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے اس کا ایک بہترین حل ہے والدین سیگریٹ نوشی سے خود دور رہیں جب بچے دیکھیں گے کہ ہمارے والدین سگریٹ نوشی سے دور رہتے ہیں تو وہ بھی اس چیز کے نزدیک نہیں جائیں گے کیونکہ ان کو بچپن سے ہی اس چیز کی عادت نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ان پر نظر رکھیں کہ ان کے کوئی ایسے دوست نہ ہو جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اپنے بچوں کا خاص کر پندرہ سال سے لے کر بیس سال کی عمر تک خیال رکھیں اس کے بعد بچہ ہر بات کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور اگر بیس سال تک وہ بچہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو آگے بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نہیں کرے گا لیکن اس معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں کو ولگر آتے ہیں کہ پریشانی میں سگریٹ نوشی کرنی چاہیے اس سے پریشانی کم ہوتی ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے اس بات کو میں اس اس بات سے جھوٹ کہوں گا کیا ہمارے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن پر زندگی کی بہت سی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے کبھی اللہ کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگی پریشان ہونا تو دور کی بات ہے کیونکہ ان کو پتا تھا جو کرنا ہے میرے پیارے رب نے کرنا ہے اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا لیکن آج کا مسلمان پتہ نہیں کس بات پر یقین کرتا ہے اور سگریٹ نوشی پر اتر آتا ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں تاکہ بچے سگریٹ نوشی سے دور رہیں اور اللہ نہ کرے اگر آپ کی وجہ سے سگریٹ نوشی میں منسلک ہے تو براہ کرم اس کا علاج کریں اور سگریٹ نوشی سے اس کو دور کریں سگریٹ نوشی کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں سب سے بڑی بیماری کینسر ہے آج ہم اپنے بچوں کا خیال رکھیں گے تو کل ان کا مستقبل اچھا ہوگا اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچائے رکھے
    Twitter: ‎@usamajahnzaib

  • عورت اور معاشرہ؟   تحریر فیضان علی

    عورت اور معاشرہ؟  تحریر فیضان علی

    ‏:

    معاشرے میں عورت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیا عورت کو ہمارے معاشرے کی لعنت سمجھا جاتا ہے کیوں؟ اس جدید دور میں احمقانہ سلوک کیا جا رہا ہے؟ کیوں ہم لوگوں نے اپنی آخرت کی فکر چھوڑ دی ہے؟ کیوں ہم لوگ جاہلوں سے بھی بد تر ہوتے جا رہے ہیں کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ 

    اگر عورت پہ فحاشی کا دبہ لگا کر معاشرہ کو بدنام کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کے عورت معاشرے کو خراب کر رہی ہے؟ صرف عورت ہی اس معاشرے کی زمہ دار نہیں ہے اس معاشرے میں مرد بھی رہتے ہیں جن کو با اخلاق ہونا لازمی ہے معاشرے کی زمہ داری کسی ایک فرد پہ نہیں ہے اس کے لیے مرد اور خواتین دونوں کو با کردار ،با اخلاق ہونا ضروری ہے، 

    عورت کو کوئی ترجی نہیں دیتا کسی کی ماں، بہن، بیٹی ،بیوی کیا انکو معاشرے میں عزت سے زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے؟ اگر ہم کسی کی عورت کے بارے میں الٹے خیالات سوچ سکتے ہیں تو یہ بات بھی سوچ لینی چاہیے کے کوئی ہمارے گھر کی عورتوں کے لیے بھی غلط خیالات تصور کر سکتا ہے

    اس معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس کے زمہ دار کون لوگ ہیں کن لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خراب اور بد کردار ہوتا جا رہا ہے، 

    آئیے اب آپ کو بتاتا ہوں کے اس معاشرے میں انسانیت کس حد تک گیر چکی ہے اور درندگی کس حد تک پھیل گئی ہے کے لوگوں میں خوف خدا بلکل ختم ہو چکہ ہے، 

     عورت کے لباس سے شروع کرتا ہوں کے عورت نے اگر ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہےدوپٹے کے بغیر ہےپوری آستینیں پہنی ہیں,آدھی آستینیں ہیں برقعہ پہنا ہے یا ٹانگیں ننگی ہے چاہے جس بھی طرح کے لباس میں ہو اس کا ریپ ہو جاتا ہے

    عورت چاہے 3 سال کی بچی ہے,4 سال کی سکول جانے والی ,8 سال کی قرآن پاک پڑھنے جانے والی,14 سال کی بلوغت میں قدم رکھنے والی, 20 سال کی جوان,40 سال کی ,50 سال می بزرگ,70 سال کی برگزیدہ یا پھر قبر میں لیٹی ہو ریپ کر دی جاتی ہے

    عورت کا مذہب اسلام ہو. سکھ ہو ,عیسائیت ہو,یہودیت ہو,جین مت ہو,بدھ ہو ,چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو مسلک سے ہو فرقے سے ہو یا وہ ان سب سے نا تعلق رکھتی ہو اس کو ریپ کر دیاجاتا ہے

    کالی ہو ,گوری ہو,سانولی ہو,موٹی ہو,پتلی ہو,چھوٹی ہو,یا لمبی ہو اپاہج ہو اس کا ریپ ہونے کی خبریں آتی ہیں

    ہمارے مزہب نے عورت کو بہت عزت دی ہے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے کہیں ماں کے قدموں تلے جنت کا رتبہ کہیں بیٹی جیسی نعمت عطاء کر کے اللہ رب العزت رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اللہ رب العزت بیٹی عطاء کر کے فرماتا ہے اے میرے بندے میں خود تیرے ساتھ ہوں اتنا بڑا رتبہ عورت زات کو میں نے یا اپ نے نہیں دیا؟ نہیں یہ رتبہ عورت کو اللہ پاک نے دیا ہے پھر ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کے ہمیں بھی کسی عورت نے جنا ہے ہم بھی کیسی عورت سے پیدا ہوئے ہیں اگر اپ مرد پیدا کیے گئے ہو تو کیا اس کا مطلب اپ عورت کی عزت کرنا چھوڑ دوگے؟ اے انسان تیری کیا اوقات ہے تجھے اس بات کا اندازہ بھی ہے توں کس سے پیدا کیا گیا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، 

    قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے کے”اے انسان ہم نے تمہیں ایک گندے پانی کی بوند س پیدا کیا ہے” اس کے بعد اب انسان کی کیا اوقات رہ جاتی ہے کے پلیت پانی سے انسان کی پیدائش ہوئی انسان کی اوقات کچھ بھی نہیں رہتی مگر یہی انسان بڑا ہو کر خود کو بہت خوبصورت سمجھنے لگ جاتا پیسہ کیا پاس اجاتا ہے وہ انسانیت ہی بھولا دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے اور حیوانیت سر چڑھ کر بولنے لگتی ہے مسئلہ اگر لباس,عمر مذہب,رنگ,سائز کا نہیں تو پھر مسئلہ ہے کیا مسئلہ ہے ہوس ,ہوس زدہ ذہنوں کا مسئلہ ہے درندگی کا مسئلہ ہے بھوک کا اور مسئلہ ہے "انسانیت” سے گرنے کا، جب انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے تو پیچھے صرف ایک چیز حیوانیت بچتی ہے جس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہی کیوں کے اگر انسانیت ہے تو انسان اشرف المخلوق ہے ورنہ انسانیت کے بغیر انسان باقی نہیں رہتا اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں کے مجھے اور آپ سب کو با کردار اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بنائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں انسانیت اور اخلاقیات کو سئ معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🙏

    اپ مجھے ٹویٹر پہ بھی فالو کر سکتے ہیں

     "فیضان علی”

    ‎@Faizan_Ali92

  • اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    کسی عاقل و بالغ شخص کا جان بوجھ کر کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم کہلاتا ھے۔موجودہ دور میں جرائم کسی بھی معاشرے کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔جرم تو جرم ہی ہوتا ھے خواہ وہ اخلاقی جرم ہو یا جنسی طور۔جرم ہمارے معاشروں میں اس قدر سرایت کرچکا ھے کہ اس نے نہ کسی شخص انفرادی زندگی محفوظ ھے اور نہ ہی اجتماعی، ہر خاص و عام اس کی زد میں آچکا ھے۔ہمارے معاشرے میں اب جو جرائم کے حالات ہیں یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں ھے ایسے لگتا ھے جیسے پورا معاشرہ ہی جرائم کی لپیٹ میں آچکا ھے۔آج بڑے بڑے دانشور اور مہذب تعلیم یافتہ افراد بھی اپنے زاویے کے مطابق اس کے اصل محرکات اور اسباب پر اپنا نکتہ نظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی ان جرائم کو بیروزگاری قرار دیتا ھے تو کوئی حکومت کی ناقص پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتا ھے۔
    ترقی یافتہ ممالک بھی جرائم سے محفوظ نظر نہیں آتے،بلکہ ترقی پذیر ممالک کی نسبت ان ممالک میں مجرمان نت نئے طریقوں سے جرائم کرتے نظر آتے ہیں۔ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کے مطابق وہاں کے لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں،اور اپنے روز مرہ زندگی کے معاملات ان ہی اصولوں کے تحت سرانجام دیتے ہیں۔ اگر کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالا دستی قائم نہ ہوسکے تو وہ معاشرے کی تباہی کا باعث بنتا ھے اور جرائم کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ھے۔اس سے عوام بدحالی اور ناانصافی کا شکار ہوجاتی ھے، جس کی وجہ سے معاشرہ زلت و رسوائی کا شکار ہوجاتا ھے۔
    پاکستان میں اخلاقی جرائم میں کثرت سے اضافہ ہوا ھے اس وقت پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں بداخلاقی اور بےحیائی کے اڈے قائم ہیں سب سے ذیادہ تشویشناک اور تکلیف دہ بات یہ ھے کہ ان اڈوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مکمل قانونی تفظ دیا جاتا ھے اور ان اڈوں پر کام کرنے والی طوائفوں کو کھلے عام چھٹی دے دی گئ ھے ملک پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے کبھی بھی قحبہ گری کو روکنے کے لئے کبھی ازخود نوٹس لینے کی جسارت نہیں کی، اگر پنجاب کی بات کی جائے تو لاہور کی سب سے بڑی اور تاریخی بادشاہی مسجد کے سائے تلے موجود برائے کے ان اڈوں کے تدارک کے لئے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک پولیس اعلیٰ حکام کے حکم نامے کی منتظر ھے۔اگر ہم ماضی پر نگاہ ڈالیں تو لال مسجد کے خطیب اور طالب علموں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسلام میں موجود مساج سنٹر کو بند کروانے کے لئے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کررہے تھے جبکہ میڈم شمیم نامی خاتون ہے کاروبار میں بے جا مداخلت کررہے تھے، لال مسجد کی انتظامیہ کا یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ھے کہ انہوں نے برائی کو ازخود ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟ مولانا عبد العزیز کا یہ اقدام اگر خلاف قانون تھا تو ملک میں موجود بے حیائی کے یہ اڈے اور مساج سنٹرز کس قانون کے تحت چلائے جارہے ہیں؟ کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں ھے یہاں؟
    پاکستان کے دنیا میں نقشے پر ابھرنے کے ساتھ ہی یہ ملک مختلف جرائم میں دھنستا چلا گیا، اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی شراب کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ھے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھلے عام شراب دستیاب ہے، اس کے علاوہ بے شمار ایسے جرائم میں اضافہ ہوا ھے۔

    اخلاقی جرائم کے حوالے سے اس وقت عوامی رائے دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ھے، ایک طرف جہاں یہ کہا جاتا ھے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرمان کو قرار واقعی ہی سزا دینی چاہیے وہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ ہر فرد کا انفرادی عمل ھے ہمیں کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے میرے خیال سے زاتی عمل کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ھے کہ آپ خلاف قانون ہر عمل کرتے پھریں۔یہاں یہ بات قابلِ غور ھے کہ اگر اسلام میں شخصی آزادی کا تصور ہوتا تو زانی، شرابی کبھی بھی سزا کے مرتکب قرار نہ پاتے۔ ایک اسلامی ریاست میں صرف مالی بدعنوانیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرائم کی بھی بیخ کنی لازمی ھے جب تک حکومت مالی جرائم کے ساتھ اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی اس وقت یقیناً حکومت اپنی آئینی اور مذہبی ذمہ داریوں سے ہر گز عہدہ برآں نہیں ہوسکتی

    ۔۔Written by

     : Khalid
     Imran Khan
    :‎@KhalidImranK۔