Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاک بھارت جنگ کے پاکستان پر اثرات اور نتائج تحریر: احسان الحق

    کسی بھی ملک پر جنگ کے اثرات اچھے مرتب نہیں ہوتے مگر میرے خیال میں 1965 کی پاک بھارت جنگ کے اثرات پاکستان پر اقتصادی شعبے کے علاوہ باقی تمام شعبوں پر مثبت مرتب ہوئے. 1965ء کی جنگ سے پاکستان پر مجموعی طور پر خوشگوار اور اچھے اثرات مرتب ہوئے اور جنگ کے بہترین نتائج ملے. سب سے برا اثر پاکستان کی اقتصادی اور معاشی حالت پر پڑا. جنگ کا آغاز ہوتے ہی امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد بند کر دی. جس کی وجہ سے پاکستان کو دفاعی اور جنگی سازوسامان کی خریداری کے لئے کافی پیسہ خرچ کرنا پڑا اور دفاعی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا. امریکی اور غیرملکی امداد کی بندش کی وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر پر بہت برا اثر پڑا جس سے ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ آ گیا. اچانک اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا.

    میرے خیال میں اقتصادی حالت بگڑنے کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں بہتر اور مثبت اثرات مرتب ہوئے. جنگ کی وجہ سے جموں وکشمیر کے حقائق دنیا کے سامنے آئے اور دنیا کو مسئلہ کشمیر سمجھنے اور سمجھانے میں مدد ملی. دنیا بھر کے ممالک نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا. مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا اور اقوام عالم نے تسلیم کیا کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا فیصلہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کی روشنی میں حل طلب ہے. حالانکہ اس سے پہلے مسئلہ کشمیر منجمد ہو چکا تھا اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں داخل دفتر ہو چکا تھا.

    جنگ کی وجہ سے پاکستانی قوم میں جذبہ اتفاق و اتحاد پیدا ہوا. سیاسی جماعتوں کا اتحاد اور جنگ میں کردار قابل دید تھا. کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، نظام اسلامی پارٹی، عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی نے تمام سیاسی اختلافات بھلا کر پاکستان کے دفاع میں آگئیں حالانکہ سیاسی نظریات میں ایک دوسرے کے مخالف تھیں. پوری قوم نے سیاسی، مذہبی اور حکومتی اختلافات بھلا کر یک جان اور یک قوم ہونے کا ثبوت دیا حالانکہ اس سے پہلے خاص طور پر صدر مملکت ایوب خان کے "ایبڈو” قانون کی وجہ سے پاکستانی سیاست انتشار کا شکار تھی. ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے اپنے تئیں بخوبی اپنا اپنا کردار ادا کیا.

    علمائے کرام نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہوئے عوام میں جذبہ حب الوطنی اور جذبہ جہاد پیدا کیا. لوگوں کو فوج اور پولیس کی مدد کرنے کے لئے تیار کیا. لوگوں نے اپنے گھروں، ہوٹلوں اور دوکانوں سے کھانے بنوا کر اور کھانے پینے کی اشیاء خرید کر میدان جنگ میں جوانوں تک پہنچائیں. سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں کٹوتی کرواتے ہوئے قومی خزانے میں رقوم جمع کروائیں. ادیبوں، شاعروں اور گلوکاروں نے اپنے فن اور طریقے سے جوانوں کی ڈھارس بندھوائی اور انکی خدمات اور بہادری و شجاعت کی تحسین کی.

    اچھے نتائج اور اثرات مرتب ہونے کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ مشکل کی گھڑی میں دوستوں کی پہنچان ہو گئی. برادر اسلامی اور دوست ممالک نے دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کی ہر طرح سے مدد کی. 8 ستمبر کو سری لنکا اور ایران نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے تعاون کی پیش کش کی. چین نے پاکستان کے لئے بھارت کو دھمکی دی. 9 ستمبر کو انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی پرزور پیشکش کی اور انڈونیشیا کی عوام نے بھارتی سفارت خانے کو آگ لگا دی. ترکی نے اسلحہ کی فراہمی میں مدد کی. الجزائر، سعودی عرب، اردن سمیت بہت سارے اسلامی ممالک نے جنگ کے دوران مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے.

    جنگ کے مثبت اثرات کے بعد بہترین نتائج بھی برآمد ہوئے، الحمدللہ، الحمدللہ رب العالمین.

    جنگی اعدادوشمار کے مطابق 6 ستمبر 1965 سے لیکر 23 ستمبر 1965 تک، 17 روزہ جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان ہوا. پاکستان نے دشمن کے 1617 مربع میل علاقے پر قبضہ کیا اور اس کے برعکس پاکستان کو 446 مربع میل سے ہاتھ دھونا پڑا. پاکستان نے جن بھارتی علاقوں پر قبضہ کیا ان کی تفصیل یہ ہے.

    اکھنور سیکٹر میں 430 مربع میل،

    لاہور سیکٹر میں 1 مربع میل، 

    کھیم کرن علاقہ میں 36 مربع میل،

    سلیمانکی فاضل کا 40 مربع میل،

    راجھستان میرپورخاص 1200 مربع میل.

    بھارت نے کارگل، ٹیٹوال، پونچھ، لاہور سیالکوٹ، میرپور راجھستان میں پیش قدمی کی اور مجموعی طور پر 446 مربع میل پر قبضہ کیا.

    بھارت کے 8200 کے قریب فوجی ہلاک ہوئے جبکہ پاک فوج کے 830 جوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا. فضائی جنگ یک طرفہ ثابت ہوئی. پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے 113 یا 115 طیاروں کو مار گرایا یا تباہ کیا. دوسری طرف پاکستان کو محض 14 طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا.

    2 فروری 1966 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی قیدیوں اور زخمیوں کا تبادلہ ہوا. حسینی والا ہیڈ روکس کے مقام پر دونوں ممالک نے فوجی دستوں کا تبادلہ کیا. بھارت نے پاکستان کے کل 694 افراد کو پاکستان کے حوالے کیا جن میں 155 افسر، 14 جونیئر آفیسر کمیشنڈ اور 525 جوان شامل تھے. پاکستان نے بھارت کے کل 683 قیدیوں کو بھارت کے حوالے کیا جن میں 122 افسر، 541 جوان اور 20 جونئیر کمیشنڈ آفیسر شامل تھے. پاکستان نے 12 زخمی اور بیمار لوگوں کو بھی بھارت کے حوالے کیا جب کہ پاکستان نے 19 زخمی پاکستانی وصول کئے.

    1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہمیں احساس ہوا کہ اسلحے میں خود کفیل ہونا ناگزیر ہو چکا ہے کیوں کہ جب تک اہم اسلحے اور دفاع میں خودکفیل نہیں ہو جاتے اس وقت تک بھارت سے ہمیں مسلسل خطرہ لاحق رہے گا. پاکستان سیٹو اور سنٹو کا رکن تھا مگر اس کے باوجود رکن ممالک نے پاکستان کی کسی قسم کی مدد نہ کی. آج الحمدالله پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور دفاع میں بھی جدت کے ساتھ خودکفیل ہے. میرے خیال میں اس دفاع اور اسلحے کی پیداوار میں خودکفالت 1965 جنگ کی وجہ سے ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی  کیا ہے ؟ اس کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے جس پہ تمام لوگوں کو جمع کیا جاسکے۔ ہر جگہ ہرسماج اور ہربرادری میں اس تعریف الگ الگ ہے۔

     انسان اپنے معیار پہ زندہ رہنے کی کوشش کرے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جب انسان اپنے قائم کردہ معیار کو اپنے لئے لازم اور فرض ٹھہرالیتا ہے یا پھر دوسروں کے معیار زندگی کو اپنانے میں سماجی براربری یا برتری سمجھنے لگتا ہے تو یہ چیز کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوجاتی ہے۔

    سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اس مسئلہ کا شافی حل رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھا کرتے تھے کہ آنے والا شخص کنفیوژ ہوکر پوچھتا تھا کہ تم میں محمد کون ہے؟ کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اٹھنا بیٹھنا ،سونا جاگنا سارا کچھ سادگی سے بھرا تھا اور بے جا تکلف سے پاک و صاف تھا۔آپ ص کی پسند بھی ایسی نہ تھی کہ جسے عام آدمی اگر اپنانا چاہے تو نہ اپنا سکے۔

    اہل مدینہ کو گوہ یعنی سانڈا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان کھایا بھی گیا مگر آپ کو پسند نہ آیا تو آپ نے کبھی نہیں کھایا،مگر کسی کو منع بھی نہیں کیا۔

    من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کوئی کسی قوم کی نقالی کرے وہ اسی میں سے ہے) میں ایک نحیف اشارہ یہ ہیکہ مذہبی طور پہ کوئی مسلمان کسی کی نقالی نہ کرے۔ مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا کلچر سارے عالم میں بہترین کلچرہے۔

    کبھی کبھار جب باہر سے کوئی امیر ملنے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یمنی جبہ زیب تن فرماتے اور ملنے جاتے اور اس کا جواب یہ دیتے کہ انہیں ایسا نہ لگے کہ مسلمانوں کا امیر بالکل ہی کنگال ہے۔

    صحابہ کرام کوطواف کعبہ  کے پہلے تین چکر میں دلکی چال چلنے کو کہا تاکہ اہل مکہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان لاغر نہیں ہوئے۔

    انسان اپنے لئے کوئی معیار اور اسٹنڈرڈ نہ بنائے کہ اس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا مثلا ہفتہ میں ایک دن یا دو دن گوشت کھانا،بغیر جوتے کے باہر نہ نکلنا ،تہبند پہن کر باہر جانے کو معیوب سمجھنا،بغیر گوشت کے دعوت نہ کرنا،ادھار کی چیز پہ مہمانوں کی ضیافت کرنا،اپنے مسائل کو بلاوجہ چھپانے کی کوشش کرنا،لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ بڑا امیر انسان ہے جبکہ قرضوں میں مبتلا ہونا۔بغیر تحفہ و تحائف کے کسی کے گھر ملنے نہ جانا۔لوگوں کو قیمتی گفٹ دینا۔شان وشوکت کی مہمان نوازی کرنا۔۔۔۔۔۔

    المھم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان عیوب سے بالکل پاک تھی لہذا انہیں کوئی فکر اور ٹینشن نہیں تھا۔اپنے لئے چونکے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لہذا ہمیشہ اوروں کیلئے سوچتے تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پہ پھٹے کپڑے ہوتے تھے جسےسب دیکھتے تھے،فاقہ سے پیٹ پہ پتھر بندھے تھے اسے سبھوں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے سب کو پتہ تھا،اپنی پیاری بیٹی کو باندی نہ دی اور نصیحت کی کہ بیٹا تسبیح پڑھ لیا کرو اس سے تمہاری تکان دور ہوجایا کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ کبھی زکوٰۃ ادا کرپاتے،سونے کیلئے نرم بستر بھی میسرنہ تھا پیٹھ پہ چٹائی کا نشان دیکھ کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

    دراصل ہماری شان شوکت ہماری ایمانداری ، امانت داری اورعدہ پورا کرنے ،قرض سے دور بھاگنے اور اچھے معاملات برتنے میں ہے جسے ہم نے یکسر نظر انداز کردیا ہے اور اس کی جگہ ہم نے مصنوعی چیزوں کو اپنی پہچان بنانا شروع کر دیا ہے ۔

    یاد رکھیں کہ پیتل پہ سونے کی پرت خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو مگر قیمتی سونا ہی ہوتا ہے پیتل نہیں ۔

    اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر 

    آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے.

    ‎@ImTaimurKhan

  • مخالفت حکومت کی یا ریاست پاکستان کی ؟؟؟ تحریر: محمد مبین اشرف

    جہاں جمہوری حکومتیں ہوتی ہیں وہاں اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ جمہوریت کے نظام حکومت میں اپوزیشن کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اپوزیشن ہی اصل میں حکومت پر ایک دباؤ ہوتا ہے جو حکومت کو صحیح فیصلے لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن سوالات کرتی ہے اور حکومت جواب دیتی ہے۔ پاکستان میں ہر جمہوری حکومت کو اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا کچھ حکومتوں کو کمزور اپوزیشن اور کچھ حکومتوں کو مضبوط اپوزیشن کا سامنا رہا ۔یاد رہے اپوزیشن کے بغیر جمہوری نظام کسی قابل نہیں ہوتا۔ 

    اب بات کرتے ہیں موجودہ پاکستانی اپوزیشن کی کیا یہ اپوزیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ؟؟

    جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت بنی پہلے ہی دن سے اپوزیشن نے شور مچانا شروع کردیا اور انتخابات میں دھاندلی کا بھی الزام لگا دیا جبکہ ثبوت نہیں پیش کیے ۔پہلے سال تو اپوزیشن کا سارا زور حکومت کو کمزور کرنے پر لگا ۔کبھی حکومت کے اتحادیوں سے ملاقاتیں کرکے کبھی جلسے جلوس کرکے مگر حکومت یہ سارا کچھ برداشت کرگئ ۔

    پھر کیا ہوا ؟؟

     ہاں یہ میں ضرور کہوں گا کہیں نا کہیں حکومت نے بھی سمجھوتا کیا جیسے نواز شریف کا بیرون ملک جانا اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ۔

     جیسے ہی نواز شریف بیرون ملک گیا اور شہباز شریف واپس آئے پھر شروع ہوئی وہ مخالفت جو حکومت کے خلاف نہیں ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف تھی ۔جمیعت علماء اسلام کے اہتمام پر ایک پی ڈی ایم بھی تشکیل دی گئی ۔جس کی کہانی آپ سب جانتے ہیں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہوں گا کہ پی ڈی ایم کا کیا بنا ۔

     جیسے ہی ن لیگ کی قیادت مریم نواز کے پاس آئی شہباز شریف سے نکل کر تو ن لیگ مکمل مزاحمت کے موڈ میں آگئی اور باپ بیٹا دونوں نے پوری طرح سے ریاستی اداروں پر دباؤ دیا ۔یہاں تک کہ موجودہ آرمی چیف اور ڈی جی آئ ایس آئی پر براہ راست الزامات لگائے گئے ۔

     جس سے پاکستان کا امیج انٹرنیشنل لیول پر خراب ہوا ۔مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ن لیگ ہو پیپلز پارٹی ہویا جمیعت علماء اسلام ہو یہ تمام پارٹیاں عوام میں تو ریاستی اداروں پر الزامات بھی لگاتے ہیں مگر جب بھی ان کی ملاقات ہوتی ہے ان ریاستی اداروں کے سربراہوں سے تو یہ وہاں بالکل معصوم اور مہذب بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور ایک اعلی قسم کی خوشامد کرتے ہیں ریاستی اداروں کے سربراہان کی ۔تو یہ بھی ایک دو رویہ طریقہ کار ہے اپوزیشن کا ۔

    اب بات کرتے ہیں حالیہ حالات کی جب مریم نواز نے آزاد کشمیر کی الیکشن کمپین میں ریاست پر شدید ترین الزامات لگائے ۔افغان سفیر کی بیٹی کے معاملے پر بھی ریاست پاکستان سے مطالبہ کردیا معافی مانگنے کا ۔ جو کہ بہت مضحکہ خیز بات تھی عوام کیلے ۔اس سے قبل کارگل معاملے پر نواز شریف بھی عسکری اداروں پہ بلاجواز تنقید کر چکے ہیں جو بھی حالات ہوں ریاست کی تعظیم کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے مگر ہماری اپوزیشن تو ریاست پاکستان کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    مجھے لگتا ہے مریم نواز صاحبہ بھول گئی ہیں کہ اپوزیشن حکومت کی کرنی تھی ریاست کی نہیں ۔

    مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب انہی کی باتوں کو انٹر نیشنل لیول پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کیلے استعمال کیا جاتا ۔

    چاہے کھلبوشن یادیو معاملہ ہو یا کوئی اور ریاستی معاملات ہوں مریم نواز ہمیشہ ریاست پر الزامات لگاتی ہیں ۔

    موجودہ اپوزیشن ریاست کی مخالفت میں تو بہت اچھی جارہی ہے مگر اپنی اصل ذمہ داریاں نہیں نبھا پا رہی ان کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ چل رہا ہے کہ ہمارے کیسز ختم کریں تب ہم کوئی عوامی مفادات کی بات کریں گے۔ مزے کی بات یہ مقدمات ذیادہ تر ان دو بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے پر بنائے تھے اب مطالبہ عمران خان سے یہ دونوں (پی پی پی اور ن لیگ) مل کر کرہے ہیں کہ ہمارے مقدمات ختم کریں جوکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے ۔

    عوام اپوزیشن سے بھرپور اپیل کرتی ہے کہ اپنا حقیقی کردار ادا کریں اور حکومت کو صحیح فیصلے لینے اور مہنگائی کم کرنے اور بےروزگاری ختم کرنے میں مدد کریں ۔آپ سب پاکستانی ہیں کیا ہوا اگر اقتدار آپ کے پاس سے چلا گیا ۔

    کیا آپ صرف اس وقت ہی پاکستان کی خدمت کریں گے جب آپ اقتدار میں ہوں گے ؟؟

    سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کی مخالفت کریں ریاست پاکستان کی نہیں آپ سب نے چلے جانا ہے ریاست پاکستان نے انشااللہ قائم رہنا ہے ۔

    شکریہ

    @MubeenAshraf26 

  • تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔ایک امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے لڑکوں کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ابتداء میں پینے والے کے رگ و ریشہ میں ایک خمار سا محسوس ہوتا ہے اس کے بعد ان میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ اکثر طلباء کو بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ان کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے۔ سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا جیسی تمام عادات خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان ہوجاتا ہے۔ تمباکونوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کردیتی ہے اور ایک فرد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات واضح نہیں ہوپاتے اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں سے چھ کیمیکل بینزین (پٹرولیم کی پروڈکٹ)، امونیا (ڈرائی کلیننگ اور واش رومز میں استعمال)، فارمل ڈی ہائیڈ (مُردوں کو محفوظ کرنے کا کیمیکل)اور تارکول شامل ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث ہوتا ہے۔ سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھیپھڑوں کا نمونیہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کے سٹروک (Isechemic Stroke) جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج (Hemorrhagic Stroke) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کے دیگر نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ہڈیوں کا کمزور ہوکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا، معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑجانا۔ تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی منہ گلا خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کا کینسر، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ،مثانہ کا کینسر،لبلبہ اور گردے کا کینسرکا باعث بھی بنتا ہے۔ دل کی بیس فیصد بیماریاں سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ دماغ کی کچھ نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کا تعلق بھی تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ تمباکونوش وقت سے پہلے مرجاتے ہیں، جس سے جہاں ان کے خاندان اپنوں کی قربت سے محروم ہوجاتے ہیں وہیں وہ ان کی آمدنی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح تمباکونوش افراد کے خاندان کے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکی طور پر بھی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تمباکو کے دھوئیں سے تمباکونوش کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوش کی طرح اُس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے اُن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ بچوں کی صحت تمباکو کے دھوئیں سے شدید متاثر ہوتی ہے اور ان میں دمہ، سائی نیس انفیکشن، برونکائٹس اور دماغی معذوری کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

    مذکورہ بالا تمام منفی وجوہات کے سبب ایک فرد کو یہ سوچنا چاہئے کہ تمباکونوشی کی عادت سے نہ صرف اُس کی اپنی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُس کے ساتھ رہنے والے بھی اُتنا ہی متاثر ہورہے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ فوری طور پر تمباکونوشی کو ترک کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ اس کے لئے فزیشن سے مدد لی جاسکتی ہے جو مختلف ادویات اور کونسلنگ سے نکوٹین کی عادت سے مرحلہ وار آزادی دلاسکتا ہے۔ اگر کوئی تمباکو نوشی ترک کرنا چاہ رہا ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی کوشش کرنا چاہئے کہ وہ اُس کی اخلاقی مدد کریں اور اُس کا حوصلہ بڑھاتے رہیں کہ وہ تمباکونوشی ترک کرسکتا ہے۔جس تمباکو نوش کو اس کے نقصانات سے آگاہی ہو جائے اُس کی یہ عادت ترک کرنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔ اس طرح ہمارے ملک میں شہری، مختلف سماجی اور حکومتی ادارے سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلا کر ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمباکونوشی کی شرح کم کرسکتے ہیں۔
    حکومتی اعداد وشمار کے مطابق حکومت جتنا ٹیکس تمباکو کی مصنوعات سے حاصل کرتی ہے اُتنا ہی اُس کے نقصانات کی وجہ سے صحت کی ضروریات پر خرچ کردیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو کے نقصانات کے حوالے سے زیادہ آگہی موجود نہیں ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم کو جارحانہ طور پر چلایا جائے جس میں حکومت، عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول کالج یونیورسٹی کے طلباء بھرپور حصہ لیں۔ سکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے حوالے سے مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ یہ بچے بچپن سے ہی ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کریں۔ اس طرح یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے میں اہم صحتمندانہ تبدیلی لانے کا باعث بھی بن جائیں گے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہری مقامات پر تمباکونوشی کے قانون کو سختی سے نافذ کروائے، تمباکونوشی کی مصنوعات پر مزید ٹیکس لگائے اور تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے اداروں کا قیام عمل میں لائے ۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف رکھنے کے لئے بہت سے نئے صحتمندانہ منصوبے شروع کرنا ہونگے تاکہ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر کام میں لائیں جس سے نہ صرف اُن کی صحت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ یہ ملکی ترقی کا باعث بھی ہوگا۔
    @SaadSabriPTI

  • ہمارے ایتھلیٹس ہمارا فخر تحریر: عتیق الرحن

    ہمارے ایتھلیٹس ہمارا فخر تحریر: عتیق الرحن

    حیدر علی کو تاریخ بنانے کی عادت ہے۔  پہلے ہی پیرالمپکس میں پاکستان کا واحد سونے کا تمغہ جیتانے  والا ، اس نے جمعہ کو ٹوکیو میں ملک کا پہلا طلائی تمغہ جیتا۔  انہوں نے یہ کارنامہ ڈسک تھرو میں سرانجام دیا

    36 سالہ حیدر ، جو دماغی فالج کا شکار ہے ، نے محدود وسائل کے باوجود اپنے آپ کو سرفہرست رکھا ہے۔  یہ حوصلہ اور عزم کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔  سونے کا میڈل جیتنے کے لیے یہ ایک غیر متزلزل جستجو بالآخر پوری ہو گئی۔  یہ پہلی بار تھا جب وہ پیرالمپکس میں ڈسکس ایونٹ میں حصہ لے رہا تھا ، حالانکہ اس نے اسی ایونٹ میں ایشین پیرا ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2018 میں جیتا تھا۔  2008 اور 2016 کے پیرالمپک گیمز میں ہونے والے ایونٹس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ مرنے کے باوجود ، یہ کامیاب کھلاڑی جو اپنے معذور ہم وطنوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے ، اگر یہ پنجاب کے کھیلوں کے وزیر کی مداخلت نہ ہوتی تو وہ ٹوکیو نہ پہنچ پاتا ، جس نے پرواز کا انتظام کیا تو یہاں وزیر کھیل پنجاب بھی خراج تحسین کے حقدار ہیں۔  پاکستان کے پیرالمپک دستے کے ٹکٹ  یہ ایک ایسا عمل تھا جس نے نہ صرف حیدر کو قومی ہیرو بنایا بلکہ اس نے پاکستان کا جھنڈا بلند کرتے دیکھا اور قومی ترانہ ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم کے گرد گونجتا رہا۔  آخری منٹ کے فلائٹ ٹکٹ ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی کھیلوں کی ترجیحات کہاں ہیں اور قومی کھلاڑیوں کو عین وقت پر بھی یقین نہیں ہوتا کہ وہ ایونٹ میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔  افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے پیرا ایتھلیٹس فہرست سے بہت نیچے ہیں اور اس بار تو ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے صرف پانچ ایتھلیٹ شامل ہوسکے تھے۔ تمام ممالک کے لیے اولمپکس اور پیرالمپک گیمز بڑے عزت و وقار کا معاملہ ہوتا ہے اور وہ تمام ممالک کھیلوں کو اپنے سافٹ پاور اور ملک کے اچھے امیج کو بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  یہ ایونٹس چار سالہ سائیکل پر چلتے ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ کامیابیوں میں بے پناہ وسعت ہے۔  حیدر کا کارنامہ ذہنیت میں تبدیلی کا باعث بننا چاہیے۔  ایک ایسے ملک میں جہاں معذور افراد کو ان کی قسمت پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، کھیلوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی جائے ، یہ ایک اہم لمحہ ہونا چاہیے۔  اسے حکومت کو مجبور کرنا چاہیے کہ وہ ان کے لیے سہولیات فراہم کرے اور ان کی ضروریات پر توجہ مرکوز کرے جس میں انہیں خصوصی کوچز بھی شامل ہوں۔  حیدر نے کہا کہ وہ صرف پاکستانی پیرالمپک گولڈ میڈلسٹ نہیں رہنا چاہتے۔  اس کا خواب تب ہی پورا ہوگا جب سب سے اوپر والے سمجھ جائیں کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس ٹیلنٹ کو نکھارنے اور آگے لانے کی ضرورت ہے

    حال ہی میں پاکستان نے بیچ گیمز میں ریسلنگ ایونٹ میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹس بیشک تعداد میں کم تھے لیکن سب نے ملک کا وقار بڑھایا اور غیر معمولی کارگردگی سرانجام دی۔ پانچوں ایتھلیٹس نے وسائل کی کمی کے باوجود اپنے زور بازو محنت کرکے ملک کا نام اور ترانہ پوری دنیا میں روشن کرنے کی کوشش کی جسکے لئے سب خراج تحسین کے حقدار ہیں۔ کوئی بھی ملک پہلی ہی بار میں میڈلز تو نہیں جتتا لیکن یہ ایک مسلسل کوشش کا نام ہے۔ یوسین بولٹ جو اپنی پہلی دوڑ میں ناکام رہے لیکن پھر انہوں نے دُنیا کے تیز ترین انسان ہونے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اور آج بھی انکی ریٹائرمنٹ کے بعد انہی کے نام ہے

    @AtiqPTI_1

  • دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں ہر ایک کے لیے زندگی اور موت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ موت و حیات کا یہ کارخانہ بنایا ہی اسی لیے گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما سکیں ۔جس وقت کوئی عزیر دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے، یہ صدمہ پہنچنا بھی فطری عمل ہے اس لیے فطری اظہار پر دین میں کوئی پابندی نہیں، لیکن اس کو حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ حدود آپﷺ نے مختلف موقعوں پر واضح فرما دیے ہیں۔ نوحہ نہ کیا جائے، چیخ وپکار نہ کی جائے اور اس طرح کی آوازیں بلند نہ کی جائیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا اظہار ہو۔

    اس موقعے پر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار کرنا چاہیے، خود موت کو یاد کرنا چاہیے، اگر انسان صدمے کی کیفیت میں ہو تو خاموشی کو ترجیح دیں، اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں، نیکی اور خیر کی باتیں کریں اور سنیں۔انسان کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن صدمہ پہنچا ہے تو فطری طور پر کچھ وقت لگتا ہے جس کے بعد انسان سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین دن بہت ہیں۔ یعنی اگر آپ تین دن لوگوں کے لیے تعزیت کے لیے بیٹھ گئے ہو، اپنا کام کاج چھوڑا ہوا ہے یا اس صدمے کی کیفیت میں بسر کر رہے ہیں تو بس یہ تین دن بہت ہیں۔ اس کے بعد خود کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    یہ دنیا کیوں کہ دارالعمل ہے تو آپ موت ہی کے ساتھ وابستہ ہو کر تو نہیں رہ سکتے۔ لوگ اس دنیا میں آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس دنیا سے رخصت بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے عزیز دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اولاد سے بڑھ کر کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔لیکن آپﷺ کو اپنے آغوش میں بیٹھے ہوئے بچوں کو رخصت کرنا پڑا ہے۔ اس میں نہ پیغمبروں کو استثناء حاصل ہے نہ ہی بڑے اور نیک لوگوں کو استثناء ہے۔ اس کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے ہی زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

    ہمارے دین نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقعوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کی اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی جزا بیان کی ہے۔ یعنی وہ صبر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی خوشنودگی حاصل ہوتی ہے، صبر ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ملتی ہیں، اور صبر ہی ہے جس کا صلح اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جنت ہے۔

    جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تعزیت کے لیے تین دن بہت ہیں، اسکے بعد آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہو جائیے۔ اگر آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہوں گے تو صدمے کی کیفیت میں بھی کمی ہو گی، آدمی کا دماغ پلٹتا ہے، خیالات میں تبدیلی آتی ہے ورنہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ صدمہ کی کیفیت میں بیٹھے رہیں گے تو وہ چیز زیادہ اثر انداز ہو گی۔ بعض لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، تو کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکل جانا چاہیے۔

    میت کے لیے ایصالِ ثواب تو  ہر وقت، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے اور اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد جمع ہوں اور دعوت کے بغیر ہی اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی دین میں اجازت ہے۔ اس کے بعد یہ جو رسومات ہمارے ہاں بنا لی گئی ہیں مثال کے طور پر قل، چالیسواں، جمعرات، برسی وغیرہ یہ ہندوستان کی چیزیں ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان میں کوئی دینی چیز شامل کی جائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے بدعت قرار دیا جائے گا۔ اور بدعت سے ہر حال میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ 

    اللہ تعالی ہم سب کو دین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • گناہ اور ان کی سزا تحریر:ثمینہ محمدیہ

    گناہ اور ان کی سزا تحریر:ثمینہ محمدیہ

    گناہ اور ان کی سزا انسان زمین پر اللہ کا ناٸب ہے ۔ جسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا یےاور بہترین صورت پر پیدا کیا ہے ۔ اللہ نے انسان کو بنایا اور اسے فرشتوں سے سجدہ کروایا ۔ انسان کو سب سےاعلی مخلوق بنایا ۔ اسے سیدھا رستہ دیکھانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا و رسل بھیجے ۔ حق اور براٸی کے راستے واضح کر دٸیے اور انسان کو اختیار دے دیا کہ چاہےتو وہ اچھاٸی کے راستے پر چلے اور چاہے تو براٸی کے راستے پر چل کر گمراہوں میں سے ہو جاٸے ۔اللہ تعالی نے انسان کو سمجھانے کی خاطر اپنے نیک بندوں کو دنیا میں بھی جزا دی اور آخرت میں بھی جزا کا وعدہ کیا ہے ۔ اسی طرح اللہ نے برے انسانوں کو دنیا میں بھی نشان عبرت بنایا اور آخرت میں بھی انہیں طرح طرح کی سزاٸیں دینے کے لیے جہنم کے احوال بیان کیے تا کہ انسان گمراہی سے بچ سکے ۔ لیکن انسان نے حق اور باطل کی پہچان ہونے کے بعد بھی خود کو نہ پہچانا ، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو نہ پہچانا اور مسلسل گناہوں کے رستے پر چلتا رہا اور حق سے دور ہوتا گیا ۔ کبھی دنیاوی لالچ میں رشوت لی ، کبھی کسی کا حق مارا ، کبھی اعلی عہدے کے لیے سفارشوں کا سہارا لیا ، کبھی کسی کی زمین ہتھیا لی ، کبھی کسی کو نا حق قتل کر دیا ۔ کبھی کسی سے حسد کی بنیاد پر اسے دنیا والوں کی نظروں میں گرانے میں لگا رہا ، کبھی اپنے دلی سکون کی خاطر غیبت اور چغلیوں میں مشغول رہا ، اپنے گناہوں میں ایسا غرق ہوا کہ مسجد سے حی علی الفلاح کی صداٸیں بلند ہوتی رہی لیکن انسان نے اپنے رب کی طرف چند قدم چل کر کامیابی تک جانا گوارا ہی نہیں کیا ۔ اللہ نے انسان کو معاف کرنے کے لیے انسان کے مرنے تک توبہ کا درواہ کھلا رکھا ۔ اللہ اپنے بندے کی توبہ کا منتظر رہا کہ بندہ کسی طرح اللہ کی طرف آجاٸے ، توبہ کر لے ، معافی مانگ لے ، لیکن انسان آج کل ، آج کل کرتا اپنی دنیاوی ترقی کے پیچھے گناہوں کی دلدل میں گرتا چلا گیا ۔ یہاں تک کہ اسے توبہ کا خیال ہی نہ آیا ۔ توبہ کا خیال آتا بھی تو کیسے ؟ انسان تو گناہوں میں اتنا غرق ہو گیا کہ اسے گناہ کا احساس تک نہ رہا ، اسے اپنا گناہ ، گناہ ہی نہ لگا ۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ گناہ کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ انسان کو گناہ ، گناہ ہی نہیں لگتا ۔ اگر انسان کو گناہ کا احساس ہو تو وہ کبھ نہ کبھی توبہ ضرور کر لیتا ہے ،کبھی نہ کبھی اپنے گناہ پر شرمندہ ضرور ہو جاتا ہے ، کبھی نہ کبھی ڈر کر اللہ سے خوف زدہ ہوکر اپنے گناہ پر توبہ کر لیتا ہے ۔ لیکن جب گناہ ، گناہ ہی نہیں لگتا تو پھر توبہ کیسی ؟ جب گناہ کا احساس ہی نہ رہا تو توبہ کیوں کرتا ، جب گناہ پر فخر محسوس ہونے لگا تو پھر توبہ کا سوال ہی کیسے پیدا ہو ؟ گناہ ہر ایک سے ہوتے ہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے ۔ اگر گناہ نہ ہوتے تو اللہ توبہ کا بھی کبھی حکم نہ دیتا ۔ توبہ کا رستہ بھی نہ دیکھاتا ۔ انسان کو چاہیے کہ گناہ ہو جاٸے تو اس پر فخر کرنے کی بجاٸے اللہ سے معافی مانگ لے بیشک اللہ اپنے بندے کی توبہ کا انتظار کرتا رہتا ہے کہ کب اس کا بندہ توبہ کرے اور اللہ اسے فورا معاف کر دے ۔ اللہ ہم سب کو اپنے گناہوں کو گناہ سمجھنے کی توفیق دے اور جو گناہ ہو چکے ان پر توبہ کی توفیق دے ۔ آمین تحریر : @ch__samina

  • تنہا رہا جائے یا احباب میں؟  تحریر: محمد وقاص

    تنہا رہا جائے یا احباب میں؟ تحریر: محمد وقاص

    یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب زیادہ تر لوگ بیرونی عوامل یا رجحانات کو دیکھ کر دیتے ہیں۔ شوشل میڈیا پر آپ کہیں بھی سیر کر آئیں تقریبا تمام لوگ دوسروں کی آراء کو ہوبہو فروغ دیتے دکھائی دیں گے یا لوگوں کے رویوں پر مکمل منحصر ہو کر رد عمل دیں گے۔ نتیجے کے طور پر وہ دونوں انتہائی اقدام میں سے ایک کو اپنا لیتے ہیں۔ یا تو بالکل اکیلے رہنا یا ہر وقت دوست احباب میں۔ معاشرے میں موجود تمام لوگ جن سے آپ لین دین رکھتے ہوں سب کے حقوق ہیں جن کے تحت وہ اہمیت اور توجہ کے مستحق ہیں۔ دوست احباب کے علاوہ آپ کا اپنا کنبہ ہے جسکو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  ان تمام تر صورتحال میں آپکو ایک سوچ کے تحت معاملات کو دیکھنا چاہیے۔

    میری رائے میں اس سوال کا جواب کسی بیرونی رجحان یا عوامل کا براہ راست محتاج نہیں۔

    اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور یہ اعزاز اسکو عقل وشعور کی بدولت حاصل ہے جس کے زریعے وہ صحیح اور غلط میں فرق جان سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو مختلف جزبات بھی عطا کیے ہیں جسکا اظہار اسکے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان جزبات کی کیفیات تھوڑے سے وقت میں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔ بالکل پرندے کےاس پر کی مانند جو ہوا کی لہروں کے ساتھ الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ایک لمحے انسان کچھ سوچتا ہے اور اسکے اگلے ہی لمحے انسان کا مزاج کسی اور نقطہءنظر کا حامی ہو جاتا ہے۔ انسان کو جو چیز جانوروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکا اپنے جزبات پر ضبط اور انکو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ صلاحیت اسکو عقل عطا کرتی ہے۔ کسی بھی پریشانی یا مصیبت میں جب انسان تزبزب کا شکار ہوتا ہے تو اپنی عقل کی توانائیوں کو بروئے کار لاتا ہے اور اس کا سدباب تلاش کرتا ہے۔ جو سوال میں نے شروع میں پوچھا اس کے جواب کا اشارہ تو مل ہی چکا ہو گا اب تک۔

    کوئی بھی انتہائی قدم کسی صورت آپکو زیب نہیں دے گا کہ ساری زندگی اسی کو اپنائے معاشرے میں رہ سکیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ معاشرے میں موجود تمام افراد سے اسکا کسی نہ کسی صورت تعلق واسطہ ضرور ہوتا ہے۔ ان سب سے انسان اپنے آپ کو لاتعلق نہیں کہہ سکتا۔ کوئی آپ کا رشتہ دار، کوئی دوست یا کوئی ہمسایہ ہو گا۔ سب کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی شریعت نے آپ پر لاگو کی ہے۔ معاشرے سے کٹ کر انسان اپنی بقا بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ تمام بدلتے رجحانات اور جدید تقاضوں پر نظر رکھنا ایک ناگزیر امر بن چکا ہے۔ دنیا حیرت انگیز تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس انقلابی ترقی کے فوائد اور نقصانات سے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ان چیزوں کے برے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہزا معاشرے کیساتھ جڑے رہنا چاہیے۔ 

    کچھ لوگوں کے بارے میں چیزیں بالکل واضح ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے گھر والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے سوائے اس کے کہ انکا کوئی حکم احکام الہی سے متصادم ۔ اسی طرح برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے آپ کو منع کیا گیا ہے۔ 

    ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا۔ ان لوگوں کی ذہنی کیفیت پر تعجب ہوتا ہے جو خواہ مخواہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ دنیا کی مشقت اور وحشت کو اپنے زہن واعصاب پر اس قدر حاوی کر لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب کچھ ناممکن ہو جاتا ہے۔ مایوسی کو اپنی دھن سمجھ کر اسمیں رہتے ہیں۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں ان حضرات کی جو افسانوی دنیا کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ حقیقت کو اپنانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ جو فلموں، ڈراموں یا افسانوی تحاریر میں دیکھتے پڑھتے ہیں اسکو اپنی حقیقی زندگی سے تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ محض خیالی پلاؤ ہوتے ہیں جنکی رنگینیوں اور چاشت کا سہارا وہ سست اور کمزور لوگ لیتے ہیں جو مشقت کرنے سے کتراتے ہیں۔ کوئی بھی چیز بغیر محنت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ناکام لوگ بجائے محنت کرنے کے دنیا سے گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ساری دنیا بے وفا اور ظالم ہے۔ اس قسم کی تنہائی بھی سراسر بے وقوفی ہے۔

    غوروفکر کرنے کیلیے تنہائی بہترین ہے۔ البتہ ایک مخصوص وقت اور مقصد کا تعین لازمی ہے۔ قرآن پاک میں سورتہ الحدید کی ستائیسویں آیت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو خود سے ایسی چیزیں ایجاد کرکے اپنے آپ کو مشقت اور قید و تنہائی کی اذیت میں ڈال دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے ان پر فرض ہی نہیں کی تھیں۔ اس قسم کی تنہائی بھی بلاجواز کہلائے گی جسکا حاصل محض معاشرے سے دوری کے سوا کچھ نہ گا۔

    کچھ لوگ وہ ہیں جو ہر وقت دوست احباب کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اسی رفاقت میں اپنے والدین اور گھر والوں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اپنے دسترخوان کو دوستوں کی محفل سے بارونق رکھنا لمبی عمر پانے کا راز ہے۔ مگر دوسری طرف آپ کو خیال رکھنا ہو گا کہ آپ اپنے گھر والوں اور دوسرے وابستہ لوگوں کے حقوق سلب نہیں کر رہے۔ سب کے حقوق ہیں جنکی ادائیگی آپ پر فرض ہے۔ 

    دونوں انتہائی اقدام لمبے عرصے کے لیے کارگر ثابت نہ ہوں گے۔ نہ تو آپ کے لیے ہمیشہ تنہا رہنا کارگر ثابت ہوگا اور نہ ہی ہر وقت دوستوں میں رہنا درست ہو۔ لمبے عرصے کے لیے آپ کو ان دونوں انتہائی اقدام میں اعتدال لانا ہوگا۔ چیزوں کو سمجھ بوجھ کر انکی اہمیت کے مطابق وقت دیں۔ بلاشبہ عقل آپ کو استعمال کرنے کیلیے عطا کی گئ ہے۔ المختصر تنہائی اور رفاقت میں توازن کیساتھ چلنا بہترین انتخاب ہوگا۔

  • پیغام حسینیت اور ہمارا اتباع تحریر:محمد طیب ریاض۔

    "اسلام زندہ ہوتا ہے، ہر کربلا کے بعد”۔ یہ فقرہ ہم بچپن سے سنتے آئے اور انشاءاللہ ہمیشہ سنتے رہیں گے، یعنی اگر حسین رضی اللہ عنہ تب قربانی دیکر اسلام کو نہ بچاتے تو آج اسلام زندہ نہ ہوتا۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اسکا مفہوم اسکا مطلب سمجھنے کی کوشش کی کہ "کیسے”؟

    ہم سب آج تک سنتے آئے کہ حضرت نوح علیہ السلام آدم ثانی ہیں اور انسانوں کو نشاط ثانی ملی۔ مگر یہ ہوا کیسے تھا، کیوں ایسا کہا جاتا؟

    وہ اس لئے کہ جب طوفان نوح آیا تو ساری زمین اوپر نیچے سے پانی برسنے اور ابلنے کی وجہ سے زیر آب آگئی اور جتنی بنی نوع اس دنیا پر موجود تھی سب غرق ہوگئی ماسوائے ان مخصوص جنس کے جوڑوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی پر سوار ہوکر بچ رہے پھر انہی سے آگے دوبارہ زندگی کا ارتقاء ہوا اور نسل انسانی کی نشاط ثانیہ ہوئی۔

    اسی طرح کربلا میں اسلام کی نشاط ثانیہ ہوئی۔ یعنی نعوزبااللہ اسلام کربلا سے پہلے مردہ نہیں تھا مگر دوبارہ زندہ اسطرح ہوا کہ اگر حسین ابن علی رضی اللہ عنہ یزید کے جبر اور ہوس اقتدار کے آگے سر جھکا دیتے، نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہوئے اس بدبخت کی سب خلاف اسلام عادات و حرکات پر چشم پوشی فرمالیتے تو کون رہتا اٹھنے والا۔ چونکہ تب سب سے قابل احترام و باعث تقلید شخصیت آپ تھے تو ہرکوئی جواز بناتا کہ جب نواسہ رسول کو اعتراض نہیں تو تم میں کون ہوتے یزید کی بیعت سے انکاری ہونیوالے۔

    جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نصیحت فرمائی کہ اے فاطمہ یہ نہ سمجھنے کہ اس نسبت سے آخرت میں فلاح پاجاؤ گی کہ نبی کی بیٹی مگر اپنے اعمال کے بل بوتے نجات ملیگی۔ اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بلند مرتبہ کے پیچھے وجہ نواسہ رسول کی نسبت ہی نہیں بلکہ انکی قربانی بھی اس درجہ بلند پایا تھی۔

    انکو پتہ تھا کہ اب اسلام کی بقاء کا دارومدار میرے فیصلہ پر ہے تو انہوں نے اسلام کی بقاء کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

    اگر یہ قربانی نہ ہوتی تو آج ظلم کیخلاف حق کیلئے کھڑے ہونیکا کا کوئی رواج نہ ہوتا۔ سب کہتے نواسہ رسول کمپرومائز کرسکتا نعوزبااللہ جو جنت کے سردار ہیں تو ہمیں کیا مسئلہ۔ یہ وہ ناقابل تردید حقیقت ہے جس پر اسلام کی حیات ثانیہ کی بنیاد ہے۔

    اور یہی پیغام حسینیت ہے کہ سر کٹوانا آسان لگے، گھر لٹانا آسان لگے مگر باطل کے سامنے ہتھیار ڈالنا، سرنگوں ہونا یا مصلحت پسندی کا شکار ہونا ناممکن لگے۔ حق کیلئے باطل کے سامنے ڈٹ جانا، نماز نہ چھوڑنا چاہے سر تیغ دشمن کے نیچے ہو اور مصلح میدان جنگ ہی کیوں نہ ہو، سجدہ کرنا اس خدائے واحد کے سامنے، جھکنا تو اسی کے سامنے چاہے سر ہی کٹ رہا ہو، قرآن کو زبان سے الگ نہ کرنا چاہے سر نیزے پر ہی کیوں نہ ہو۔

    تو کیا آج ہم پیغام حسینیت کی اتباع کررہے؟ انہوں نے بھوک پیاس سہی حق کیلئے مگر ہم ان دنوں میں دنیا کی ہر نعمت کا ذائقہ چکھتے، انہوں نے میدان جنگ میں نماز نہ چھوڑی اور ہم پھولوں کی سیج پر بھی نہیں پڑھتے۔ انہوں نے نیزے پر قرآن پڑھا ہم نے غلاف میں بند کردیا، انہوں نے صرف اللہ تبارک کے حضور سرنگوں ہوکر سجدہ کیا اور ہم کس کس در پر ماتھا ٹیکتے۔

    کیا اسلام میں تشبیہات ممنوع نئیں یا وہ دی گئی قربانی اس مقصد کی حامل تھی؟ 

    لہذا آئیے اصل پیغام حسینیت کی طرف چلیں۔ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے صراط مستقیم کی۔ آمین

    TwitterID: @tayyabriaz764 

  • ۔سگریٹ نوشی دل کا سکون نہیں زہر قاتل ہے  تحریر: فرزانہ شریف.

    ۔سگریٹ نوشی دل کا سکون نہیں زہر قاتل ہے تحریر: فرزانہ شریف.

    کہتے ہیں بری عادت پڑ جائے تو وہ چھوٹتی بہت مشکل سے ہے چاہے وہ سگریٹ نوشی کی عادت ہو یا پھرآوارہ گردی کی جھوٹ فریب کی ۔۔یہ سب ہی بری عادتیں جو انسان کوشش کرے تو کیسے نہیں چھوڑ سکتا سگریٹ ایک خطرناک حد تک انسانی ذہین کو متاثر کرتا ہے اس سے ہونٹوں کا کینسر ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جس سے دل کے پھٹوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور انسان برین ہیمبرج کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ۔سگریٹ پینے والے انسان کے اندربہت سلو انداز میں کینسر کے اثرات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں وقتی طور پر سیگریٹ نوش کو محسوس نہیں ہورہا ہوتا بس وہ اسی نشے میں خوش رہتا ہے کہ بس سکون مل گیا اسے یہ نہیں پتہ ہوتا انجانے میں اس نے اپنی تباہی کا سامان بنالیا ہے جو اس کے اندر کے سسٹم کو مکمل ناکارہ بنارہا ہے سگریٹ نوش انسان کو ایک دفعہ پتہ چل جائے یہ انسان کی ذہنی صلاحیت کو کیسے ختم کردیتا ہے پھر شائد کوئی بھول کر بھی اس زہر قاتل کو ہاتھ بھی نہ لگائے لیکن ہم انسان ایسے ہوتے ہیں جب تک ہم پر گزر نہیں جاتی کسی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے نہ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم انجانے میں اپنے پیاروں کو کس قدر تکلیف میں مبتلا کرنے جارہے ہوتے ہیں اندھیرے راہوں کے مسافر بن کر ۔ظاہر ہے جب آپ سگریٹ نوشی کریں گے آپ کو کینسر جیسی جان لیوا بیماری پکڑ لے گی تو پھر آپ کے پیارے کچھ نہیں کرسکیں گے سوائے آپ کی ازلی جدائی کا درد برداشت کرنے کے ۔
    دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جو ناممکن ہو ہر کام ممکن ہے بس ہمت جذبہ سلامت ہونا چاہئیے جو لوگ چاہتے ہیں اس لعنت سے چھٹکارا پانا وہ بس کچھ دن یا کچھ ہفتے سختی سے اس پر عمل کریں آپ کی عادت چھوٹ جائے گی اس زیر قاتل سے کرنا آپ نے کیا ہے خود کو حد درجے مصروف کرلیں ۔گھر کا ماحول پرسکون رکھنے کی کوشش کریں گھر کا ماحول جتنا پر سکون ہوگا اتنا اپ کا سگریٹ کی طرف خیال نہیں جائے گا ۔اگر ذیادہ ہی دل کرے تو باہر نکل جائیں اپنی پسندیدہ جگہ پر جائیں جو چیز آپکو سکون دیتی ہے وہ کریں شاپنگ کریں ہلکی پھلکی سی یا پھر اپنی فیملی کے ساتھ باہر کھانا کھانے چلے جائیں یقین کیجیئے جتنا آپ اس زہر قاتل سے بچ سکتے ہیں بچنے کی کوشش کریں جتنا وقت آپ سگریٹ سے دور ہوتے جائیں گے اتنے گھنٹے دن آپکو اس لعنت سے چھٹکارہ ملنے میں مدد دیں گے اگر آپکو اپنے پیاروں سے پیار ہے اپنی ذندگی جو اللہ کا بہترین تحفہ آپکو ملا ہوا ہے اس سے پیار ہے تو اس زہر کی طرف دیکھیں بھی نہ
    یہ زہر نسلیں خراب کردیتا ہے
    یورپ میں اس کی رفتار اس حد تک زور پکڑ چکی ہے 14۔15سال کی لڑکیاں لڑکے سگریٹ نوشی کررہے ہوتے ہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہوتا والدین نے کھلی آزادی دی ہوتی ہے تو پھر وہی بچے اس سگریٹ نوشی کرتے کرتے دوسرا نشہ شروع کر دیتے ہیں ہیروئن لینی شروع کردیتے ہیں تو ایک دن نشہ نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور والدین کو نہ ختم ہونے والا درد دے جاتے ہیں۔۔یہ تعداد ذیادہ گورے بچوں کی ہوتی ہے جن کے والدین اپنی ذندگی میں گم رہتے ہیں بچوں پر خاص توجہ نہیں دے پاتے یوں بچہ پہلے سگریٹ نوشی پھر شیشہ پھر نشے کی مختلف قسمیں خود پر ٹرائی کرتے کرتے ایک دن ہیروئن نہ ملنے پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔
    اس لیے والدین سے درخواست کروں گی خدارا اپنے بچوں کو اس زیر قاتل سے بچا لیں ان پر کڑی نظر رکھیں ۔”سونے کا نوالا کھلائیں لیکن دیکھیں شیر کی نظر سے ۔یہ بچے مسقبل کے معمار ہیں اگر ان کو گھن لگ گیا تو ملک کی باگ دوڑ کون سنبھالے گا ان کی پروش ہی اس طریقے سے کریں کہ یہ ہر بات آپ سے شئیر کریں اگر کوئی باہر سے انھیں سگریٹ پینے کی یا کوئی اور نشہ والی چیز کی آفر کرے یہ نہ صرف وہ آفر ٹھکرا دیں بلکہ گھر آکر سب سے پہلے آپکو اس بارے میں بتائیں سسٹم اوپر سے نہیں سسٹم نیچے سے درست کرنا شروع کریں اپنے بچوں کو معاشرے میں سر اٹھا کر چلنا سکھائیں ملک اور قوم کے لیے ان کو معاشرے کا مفید شہری بنائیں ۔۔آپ کی توجہ کے چند سال بچے کی پوری ذندگی سنوارنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔۔۔!!
    سگریٹ نوشی سے خود بھی بچیں اپنے بچوں کو بھی بچائیں ۔اگر ایک باپ خود سگریٹ نوشی کررہا ہے وہ اپنے بچے کو سگریٹ نوشی سے کس منہ سے منہ کرسکتا ہے پہلے خود اپنی اولاد کے لیے مثال بنیں پھر وہی بچہ بڑا ہوکر آپکا نام بھی روشن کرے گا اسی ترتیب سے ایک اور کامیاب سلجھی ہوئی اگلی نسل کا ضامن بھی بن جائے گا ۔۔۔
    سگریٹ نوشی پر میری یہ چھوٹی سی کوشش باغی ٹی وی والوں کی حوصلہ افزائی سے عمل میں آئی ان کی اس مہم میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں باغی ٹی وی معاشرے میں بگاڑ کو ٹھیک کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہے باقی ٹی وی چینلز کو بھی باغی ٹی وی کی آواز میں اپنی آواز ملا کر ان کے مشن کو کامیاب بنانا چاہئیے ۔۔!!
    باغی ٹی وی ۔۔۔مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر اعوان اور ان کی ٹیم کی دن رات کوششوں سے عوام آگاہی مہم کامیاب ہوگی ہے لوگوں کو شعور آنا شروع ہوچکا ہے اور اب وہ وقت دور نہیں جب اس زہر قاتل کے نام سے بھی لوگ دور بھاگیں گے کیونکہ وہ جان چکے ہوں گے یہ سکون نہیں دیتا بلکہ آپکو نشے کی طرف لے جانے والا پہلا سٹیپ ہے ۔۔!!
    اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے دن رات ترقی عطا فرمائے دنیا میں اس کا نام روشن ہو ۔پاکستان ہے تو ہم ہیں اللہ اس پر اپنی خاص کرم نوازی فرمائے اور باغی ٹی وی کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین ثمہ آمین