Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سیرت النبی ﷺ کا پیغام | تحریر : عدنان یوسفزئی

    سیرت النبی ﷺ کا پیغام | تحریر : عدنان یوسفزئی

    انسانیت کو جو سب سے بڑا مسئلہ آج کے زمانے میں درپیش ہے وہ بدامنی اور غیر یقینیت کا ہے۔ 

    آج کی سسکتی زندگی جو غیر یقینیت و بے چینی کی دلدل میں پھنس چکی ہے، کو ضرورت ہے کہ وہ رہنمائی کی روشنی کی طرف آجائے۔ 

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا انسانیت کے سامنے جو ایک حقیقی نظریہ پیش کیا وہ یقین دلاتا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک صرف یک تنها ایک اللہ ہے۔

    خالق کائنات نے کائنات کو توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ پیدا کیا ہے، تمام انسان حضرت آدم علیہ سلام کی اولاد ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنمایانہ اصول عدل و احسان، انصاف و مساوات اور برادری و اخوت پر مبنی ہیں۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ عالمگیر معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور ہر انسان کو برابری کی سطح پر امن و سکون حاصل ہو۔

    انسانی زندگی کو روز اول سے ہی مسائل سے واسطہ رہا ہے۔ ہر دور اور زمانے کے اپنے تقاضے رہے ہیں۔ ہم آج جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں بھی سابقہ  ادوار کی طرح ہمیں  مسائل زندگی اور مختلف معاملات کا سامنا ہے۔ اگر ایسا کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ پوری انسانیت بالعموم اور امت مسلمہ باالخصوص مسائل و تنازعات کے بھور میں پھنس چکی ہے۔ 

    حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائے گا؟

    حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا” میرے دو اْمتی اللہ تعالی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں،اللہ پاک اس ظالم سےفرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو۔ظالم جواب دیتا ہے یا رب! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں۔تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے”۔یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے ۔ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا، لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔اب اللہ پاک مظلوم سے فرمائے گا ۔نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ وہ سر اٹھائےگا , جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا: یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں. یا رب! کیا یہ کسی نبی ،کسی صدیق اور شہید کے ہیں؟

    اللہ تعالی فرمائے گا! جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں۔وہ کہے گا! یا رب! بھلا اسکی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟اللہ تعالی فرمائے گا : تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔اب وہ عرض کریگا:یا رب کس طرح؟

    اللہ ﷻ  ارشاد فرمائے گا اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ وہ کہے گا یا رب! میں نے معاف کیا۔اللہ پاک فرمائے گا، اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ۔اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالی سے ڈرو،آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مؤمنين کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے۔(صحیح بخاری) 

    انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی وقومی مسائل کے بوجھ تلے یہ دنیا دب چکی ہے۔ ہر آئے دن نئے مسائل و چلینجز نمودار ہوتے جارہے ہیں۔ جو ہمارے معاشرے کے لئے بہت خطرناک ثابت ہورہے ہیں ۔

    اب ان مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے کی بات جب ہم بحیثیت مسلمان کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا بہترین حل موجود ہے، وہ یہ کہ ہم ان مسائل کو لیکر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حیات طیبہ کی طرف رجوع کریں اور حضور اکرم صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی تعلیمات اور عملی زندگی جو اسوہ حسنہ یعنی بہترین و کامل نمونہ زندگی ہے کو سامنے رکھ کر سر اٹھائے ہوئے ان مسائل کا حل دھونڈ نکالیے۔

    آپ صلی‌الله‌علیه‌وسلم  کو کائنات اور پوری انسانیت کے لئے رہنما اور معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ مسائل کس  قدر بھی پیچیدہ ہوں، اللہ کے رسول صلی‌الله‌علیه‌وسلم کے اسوہ حسنہ اور تعلیمات میں لازمی طور ان کا بہترین  و کامل حل و جواب ملے گا۔

    رسول اکرم صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی تعلیمات سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ عالمگیر معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور ہر انسان کو برابری کی سطح پر امن و سکون حاصل ہو۔ 

    اگر معاشرہ میں امن و امان سب کے لئے یکساں نہیں ہے، کچھ انسان امن میں ہوں اور کچھ مسلسل بدامنی کے شکار ہوں تو عالمگیر امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ عالمگیر امن، بھائی چارے، مساوات اور ہم آہنگی کے لئے واحد عملی نمونہ اسلام کا آفاقی پیغام اور پیغمبر اسلام صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی سیرت طیبہ مبارکہ ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ہر معاملے میں اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سامنے رکھیں۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • تمباکو نوشی سے صحت کو لاحق خطرات تحریر: محمد انور

    تمباکو نوشی سے صحت کو لاحق خطرات تحریر: محمد انور

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن منانے مقصد انسانی صحت کو لاحق خطرات اور اس کے مضر اثرات کے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔31 مئی کے دن دنیابھر کی طرح پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی محکمہ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کیخلاف سیمینارز،واکس اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں مقررین تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔ عالمی ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا بھرکی ایک ارب سے زائدآبادی سگریٹ و تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے ، ا س طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن میں سے تقریباً چھ لاکھ سے زیادہ افراد ایسے ہوتے ہیں جو خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکونوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے خطرناک دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سگریٹ و تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

    سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھناتمام تر عادات انتہائی خطرناک ہیں۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین انسان کے اعصاب پراس طرح سوار ہوتی ہے کہ وہ سگریٹ پئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ تی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے۔ تمباکو نوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات کا علم ہی نہیں ہوپاتا، اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے ،جن میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں شدید دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے، اس طرح دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا باعث بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج سٹروک ( Stroke Hemorrhagic ) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ آپ جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اسی طرح سگریٹ و تمباکو نوشی منہ ،گلا، خوراک کی نالی کے کینسر، معدہ ، جگر ،مثانہ ،لبلبہ اور گردے کا کینسرکا باعث بنتا ہے۔ سگریٹ نوش کی طرح اس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے ان بیماریوں کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

    اگر سگریٹ نوش کی بات کی جائے تو یہ فقط اپنی زندگی کے لیے خطرہ نہیں بنتا بلکہ اس کی وجہ سے دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پا کستان میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، حکومت کی جانب سے 17 سال سے سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون نافذہے، اور حکومت نے انسداد تمباکو نوشی کے لئے سگریٹ کے پیکیٹ پر رنگین تصویری تنبیہی پیغامات بھی پرنٹ کروا دیئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تمباکو و سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، انسداد تمباکو و سگریٹ نوشی کے لئے مذید سخت اقدامات اور قوانین پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جبکہ مضمرات سے آگاہی کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے مثلاً وکلاء ، ڈاکٹرز، صحافی ، پولیس افسران و انجینئرز جیسے پیشوں سے وابستہ افراد کی ہے، جو مزید افراد کو سگریٹ نوش بنانے کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔ تمباکو سے بننے والا سگریٹ انسان کے اپنے ہاتھوں بنا ایسا زہر قاتل ہے جو انسان کی تمام ترقوتوں اور صلاحیتوں کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ جبکہ انسان کس قدر قیمتی ہے ، اس کی قدر و قیمت کا خود اسے اندازہ ہی نہیں ۔ تمباکو نوشی کیخلاف عالمی دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ سگریٹ و تمباکو نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے ، اور سگریٹ نوش افراد سکریٹ و تمباکو نوشی کو عادت کو ترک کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں گے۔

    @AK_Anwar_Khan

  • رنگیلاالیکشن کمیشن  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    لگتا ہے الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات ،نئی انتخابی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حق راۓ دہی کے خلاف دم ٹھونک کے میدان میں آگیا ہے۔

    الیکٹرونک ووٹننگ مشین کے خلاف قائمہ کمیٹی میں پیش کئے 37 اعتراضات ،اعتراضات کم اور لطیفے زیادہ لگتے ہیں۔

    خاص طور پر یہ اعتراض تو تاریخی پزیرائ کا باعث بن چُکا ہے۔جس میں الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی دور کی کوڑی لاتے ہوۓ کہا کہ اس مشین کو ایلفی ڈال کر جام کیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض پر تو اگرارسطو بھی زندہ ہوتا تو شائد خود کُشی کو ترجیح دیتا۔

    کل سے اس ایلفی والی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کی جو دُرگت سوشل میڈیا پر بن رہی ہے،وہ شائد اس کمیشن خور کمیشن کے لئے کافی ہو۔

    ایلفی کی بحیثیت ایک پراڈکٹ کے،جتنی مشہوری کمیشن والوں نے کروادی ہے،اتنی شائد وہ کروڑوں کے اشتہارات چھپوا کر بھی نہ کر پاتے۔

    ایلفی والے ماوراۓ عقل اعتراض کے علاوہ دیگر اعتراضات بی اسی طرح چُوں چُوں کا مُربہ ہی ہیں۔

    ان اعتراضات کو تو اعتراض براۓ اعتراض کہنا بھی مناسب نہیں لگتا۔

    کسی ایک اعتراض میں بھی عقل و شعور کی ہلکی سی رمق بھی نہیں ہے۔

    بس لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کے اشارے پر کھیل تماشا کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن میں بیٹھی کٹھ پُتلیوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں،

    سب کو پتہ ہے۔یہ گٹھ جوڑ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

    اس گٹھ جوڑ کو خونی لبرلز کی حمایت سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

    الیکشن کمیشن اپنی پوری توانائیاں اس بات پہ صرف کر رہا ہے کہ کسی طرح آئندہ انتخابات کو شفاف انعقاد سے روک کر اسی دقیانوسی طریقے سے منعقد کروایا جاۓ،

    جس میں مُردے بھی ووٹ ڈالنے آجاتے ہیں۔

    پرانے سسٹم میں جعلی ووٹوں کا اندراج اب کوئ راز والی بات نہیں۔

    پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی امیدواران بیس سے پچیس ہزار بوگس ووٹوں کا تحفہ لیکر گھر سے نکلتے ہیں،

    جس کے بعد انہیں مدمقابل امیدوار تو ہرانے کی پوزیشن میں آہی نہیں سکتا،

    ہاں اگر بدقسمتی آڑے آجاۓ تو الگ بات۔

    کمیشن نے صرف الیکٹرونک ووٹننگ مشین میں ٹانگ نہیں اڑائ ہوئ بلکہ انتخابی اصلاحات کی شدید مخالفت کا بیڑہ بھی اُٹھارکھا ہے۔

    کمیشن اس وقت ن لیگ ،پی پی اور فضل الرحمن کی جماعت کی طرح پی ڈی ایم کا باقاعدہ حصہ نظر آتا ہے۔

    انوکھے لاڈلے کمیشن کی ایک اور ضد یہ بھی ہے کہ حکومتی کوششوں کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بھی حق راۓ دہی سے محروم رکھا جاۓ۔

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کا اثاثہ کہتے نہیں تھکتے،

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،

    جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ کے باعث ملک معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے۔

    جبکہ کمیشن والے ان سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے پر تُلے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو تو بس اتنا کسی نے بتا دیا ہے کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جاۓ تو پی ٹی آئ کو فائدہ ہوگا،

    کیونکہ بعض تجزیوں کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے وژن کی حامی ہے۔

    اسی ایک مفروضے کی بدولت کمیشن والے سر دھڑ کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں کہ کسی طرح بھی،

    اوورسیز پاکستانیوں کو اس حق سے محروم رکھ کر ن لیگ اور پی پی کو اس سیاسی نقصان سے بچایا جاۓ۔

    الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات میں نہ تو کوئ ٹھوس دلیل ہے اور نہ ہی کوئ ایسی وجہ،

    جو الیکٹرونک ووٹننگ مشین کی افادیت کو کم کر سکے۔

    پاکستان میں روایت بن چکی ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والا نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی آئندہ پانچ سال وہ جیتنے والے کو دلجمعی سے کام کرنے دیتا ہے۔

    دھاندلی کا رونا روتے روتے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پھر نئے رونے دھونے کی بنیاد رکھنے کے لئے نئے بوگس،غیر شفاف اور ایک اور متنازعہ انتخابات کا انعقاد کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ سارا گورکھ دھندا الیکشن کمیشن کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے۔

    پھر بھی وہ دھاندلی زدہ الیکشن کروانے پر بضد ہے۔

    سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی وہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔

    وہ بے قرار ہو کر پیچ وتاب کھاۓ جا رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی اُن کے آقاؤوں کی خواہش کے عین مطابق کرواۓ جا سکیں،

    اتنی بے قراری ظاہر ہے،

    بے سبب تو نہیں ہوتی،

    جاننے والے اس بے قراری کا سبب جانتے بھی ہیں اور اس سبب کو دور کرنےکی تدبیر کرنا بھی جانتے ہیں۔

    اس تدبیر کا استعمال الیکشن کمیشن کے مکمل ایکسپوز ہونے کے بعد یقینا” کیا بھی جاۓ گا،

    کیونکہ ملک کی تقدیر زیادہ دیر ان کمیشنوں کی نظر نہیں کی جا سکتی۔

    پہلے ہی بہت دیر ہو چُکی،

    مُلک کا ہر ادارہ تباہ کیا جا چُکا۔

    اگر مُلک کو چلانا ہے تو ان کمیشنوں کو ہر صورت راہ راست پہ لانا ہو گا۔

    ان سے بغیر کمیشنوں کے فرائض سرانجام دلوانا ہوں گے۔

    انکی مادر پدر آزادی نے ان کے پیٹ تو بھر دئے ہیں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلا کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی زور زبردستیوں،

    من مانیوں اور بدمعاشیوں سے لگتا ہے کہ ملک ان جیسے اداروں کا ماتحت ہے نا کہ یہ ادارے اس ملک کے ماتحت۔

    ہر بار متنازعہ انتخابات کی شرمناک تاریخ رکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    بے شمار اور بے حساب لعن طعن کے باوجود کمیشن اپنا قبلہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    مگر اب یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

    اس قسم کے جانبدار کمیشنوں اور مافیاز کو مزید اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اب ان اداروں کو قانون کے تابع لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہی وہ وقت ہے،

    جب ان بگڑوں تگڑوں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔اداروں کا اس وقت ایک پیج پر ہونا اس ملک کی خوش قسمتی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس ملک کو بنانا سٹیٹ بنانے والوں کو نتھ ڈالنی چاہیے۔

    عمران خان اللہ کے بعد اس ملک کے محب وطن عوام کی آخری امید ہے۔

    اگر عمران خان کے دور میں یہ بوسیدہ نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا،

    خدانخواستہ بالخصوص اگر ن لیگ یا پی پی برسر اقتدار آگئیں تو اس بوسیدہ نظام کے ٹھیک ہونے کی اُمید ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گی،

    پھر یہ نظام سدھرنے کے بجاۓ مزید اُجڑے گا،

    کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بذات خود اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کی معمار ہیں۔

    یہ کمیشن نما مافیاز انہیں کے لگاۓ ہوۓ ہوۓ بُوٹے ہیں۔

    ان پارٹیوں نے خود انہیں حرام کھلا کھلا کے ایسے کمیشنوں کی آبیاری کر رکھی ہے۔

    اپنے ہاتھوں سے لگاۓ گئے پودے کون اپنے ہاتھوں سے تلف کرتا ہے؟

    خاص طور پر کرپشن کے وہ پودے،

    جو ان کی کرپشن پر شجر سایہ دار کی طرح چھاؤں بنا کے رکھتے ہوں #

    تحریر ۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • خواہشات کی تکمیل میں سکون کی تلاش تحریر:- محمد دانش

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے  میرے ارمان لیکن پھر بھی کم  نکلے ۔

    انسان ازل سے سکون قلب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے اور اس کو یہ ہی لگتا ہے کہ خواہشات کی تکمیل اس کو سکون قلب دے گی اور وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے انتھک محنت کرتا ہے جب وہ اپنا مقصد اور اپنی خواہش کو پورا کر لیتا ہے تو وہ اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس نے سکون حاصل کر لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا وہ کچھ وقت تو خوش اور مطمئن ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ پھر بے چین ہوجاتا ہے کیونکہ خواہشات کی تکمیل میں سکون نہیں ہے۔جیسا کہ
    بچپن سے ہمیں لگتا تھا کہ ہم بڑے ہو جائیں گے تو زندگی سب سے زیادہ پرسکون ہوگی پھر جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ بچپن کی زندگی ہی تو سب سے زیادہ پرسکون زندگی تھی جس میں نہ کوئی ٹینشن، نہ کوئی پروبلم ، نہ کوئی زمہ داریاں ۔
    میری اپنی زندگی میں ایسا کئی بار ہوا ہے میں شدت سے خواہش کرتا تھا کہ میرا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوجائے اس خواہش اور مقصد کو پورا کرنے کے لئے میں نے دن رات محنت کی رشتے داروں سے لا تعلق رہا اور نہ کسی خوشی غمی میں شامل ہو سکا صرف اور صرف میڈکل کالج میں داخلے کی خواہش کو اہم جانا بالاآخر وہ دن میری زندگی میں آہی گیا جس کے کئے میں نے زندگی کے بارہ سال محنت کی اور ہر چیز کو فراموش کر دیا ۔
    وہ میری زندگی کا انتہائی بہترین دن تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوگیا ہے میں بےحد خوش تھا اتنا کہ جیسے میں نے دنیا فتح کر لی لیکن جب میں نے کالج جانا شروع کیا تو وہ خوشی جس کو پانے کے لئے میں نے سب کچھ فراموش کر دیا تھا، تھوڑے ہی وقت میں مدھم پڑنے لگی تھی اور پھر میرے اندر کچھ نئی خواہشات نے جنم لیااور میرے دل کا سکون ختم ہونے لگا حالانکہ یہ میری بچپن کی خواہش تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وقتی سکون تھا اصل سکون تو اس میں تھا ہی نہیں۔
    انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے گزار دیتا ہے جوانی میں اچھامقام پانے کے لئے صحت گنوا دیتا ہے اور بڑھاپے میں صحت مند ہونے کی خواہش میں پیسہ گنواتا ہے ان سب میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سکون قلب تو اللّہ کی یاد اور ذکر میں ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللّہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں

    اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
    یاد رکھو اللّہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
    (سورہ الرعد آیت نمبر 28)
    اللّہ نے اپنے ذکر میں سکون اور اطمینان رکھا اور انسان اس اپنی خواہشات میں ڈھونڈتا ہے
    اس سے میں نے اپنی زندگی میں یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے خواہش کرنا اور اسکی تکمیل کے لئے کوشش کرنا کوئی غلط بات نہی ہے لیکن ان خواہشات کی تکمیل سے سکون قلب کی توقع رکھنا غلط بات ہے کیونکہ دائمی سکون صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی اللّہ پاک اور اسکے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارینگے تو ہمیں چاہیے ہم اس آخرت کی فکر کریں جو حقیقی زندگی ہے جس کا کوئی اختتام نہی ہے اور اپنے آپکو اس عارضی دنیا کے جنجال سے نکالیں کیونکہ یہ دنیا صرف ایک امتحان گاہ ہے
    اللّہ پاک ہمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @iEngrDani

  • والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
    آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
    کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
    محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
    آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

    Twittet ID: @iam_farha

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا،  تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  • بدلنا تو پڑے گا ہی”  تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    بدلنا تو پڑے گا ہی” تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    اس وقت اگر دیکھا جائے تو ہمارے چھوٹے سے چھوٹے بچے کے ذہن میں بھی یہ بات بٹھا کر رکھ دی گئی ہے کہ مغربی اقوام خصوصاً ان کے لیڈرز جو کہ خود کو دنیا پر مزید اوپر کرنے اور مسلمانوں کو دن بدن نیچا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہمارے سخت مخالف ہیں اور روز بروز سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ خدانخواستہ میں اس بات کا انکاری نہیں ہوں اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ ٹھیک کر رہے ہیں۔

    اس وقت بات اس انداز سے بچوں کے آگے پیش کرنی چاہیے کہ دیکھو! جب تک ہمارے پاس طاقت و اقتدار، علم اور مستقبل کی بہترین پلاننگ رہی تب تک تو ہم نے بھی کھل کر ان لوگوں کی دھلائی کی۔ اس بات میں شک نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ادوار کے علاوہ بھی چند ادوار میں بہترین انداز سے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا مگر بات زیادہ تر بادشاہوں کے ادوار پر ہو رہی ہے۔ جس بادشاہ کا جتنا بس چلا اس نے اتنا ہی خود کا یعنی مسلمانوں کا اور غیر مسلموں کا نقصان کیا۔ خود خزانے سمیٹے اور غریبوں کو دن بدن قریب تر کر دیا گیا۔ تمام آسائشیں خود کے لیے حاصل کی اگر عوام کو دیا بھی تو ناتلافی نقصان۔ خیراس بات کا خلاصہ میں چند انہی جملوں میں کرنا چاہوں گا کہ جب حقیقی اسلام جو کہ خدا اور اس کے رسول کا تھا درباری اسلام میں تبدیل ہوا تب ہی ایسےمسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے ہم دن بدن بستی میں چلے گئے۔

    یہ بات تاریخ کے اوراق میں قلم بند ہے کہ جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کے چمٹے سے تشبیہ دی جاتی تھیں اور انہیں بدروحوں کو نکالنے کے لیے سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی۔ اس وقت عراق میں مسلمان جدید کیمسٹری اور ادویات کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ جہاں ابن سینا ایسی کتاب لکھ رہا تھا جسے اکیسویں صدی میں پڑھا جانا تھا۔ دوسری جانب جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے آگے چل کر "بائبل” کا خطاب ملنا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان درباری بادشاہوں کے اسلام کی وجہ سے جس میں صرف اور صرف ظلم و ستم کو آگے کر کے دکھایا گیا ساتھ ہی ان ادوار میں وہ بکے ہوئے مولوی جنہوں نے اسلام اور بادشاہت کے نظام کو باہم ملا کر رکھ دیا دن بدن مسلمانوں کے زوال کا باعث بنے۔ ایک بات میں اکثر سوچتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارک جو کہ ظاہری طور پر صرف 63 برس تھی اس میں بھی صرف 23 سال کے عرصے میں اسلام بےحد پھیلا وہ بھی عمل اور اخلاق سے۔ مگر اس وقت سے اب تک اگر اسلام پھیلا بھی ہے تو کس ratio سے؟

    ​ خیر اگر ہم اپنے بچوں کو بغیر کسی کی پرواہ کیے یہی بتا دیں بیٹا جب تک ہمارے پاس قوت و طاقت علم کی بدولت تھی ہم نے ترقی کی اور دوسری اقوام کو اسلام کی جانب اخلاقی طور پر دعوت دینے کی بجائے ہم نے ڈنڈے کے زور پر کام کیا۔ یہاں میں بادشاہوں کے اسلام کے بات کر رہا ہوں نہ کہ اولیائے کرام کے پھیلائے گئے اسلام کی۔ مگر جب ہم سے یہی سب چیزیں ختم ہوئی جب ہم نے بھی بو علی سینا اور جابر بن حیان کے دور کے یورپی لوگوں کے جیسے کام شروع کر دیے یعنی مختلف بیماریوں کو ہم نے تعویذ و جادو اور دم و درود پر رکھ لیا بنا ان کا علاج کیے اور وہ ہمارے بزرگوں والا کام( یعنی سائنس کی مدد سے علاج) کرنے لگے تو انہوں نے مزید دریافتیں کی اور سائنس کو ترقی دی۔ تب انہوں نے نہ ہی دن دیکھا نہ رات، نہ ہی عراق و شام اور نہ ہی افغانستان و پاکستان انہوں نے ہمیں ہر لحاظ سے پستی کی جانب دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی اور کیا کہنے ہم نے بھی جانب پستی ہی جانا پسند فرمایا۔ اس لیے ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا کوئی حال نہیں ہے ہم ظاہری طور پر بدلنا چاہتے ہیں مگر اندرونی طور پر پستی کو پسند کیے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنا تو دور کی بات ہم نکلنے کا سوچتے تک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم مار کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔ ہماری دنیا میں کہیں عزت نہیں ہو گی چاہے وہ ہمیں اپنے مقاصد کی خاطر کھلائیں یا پھر دہشت گرد کہ کر مار دیں ان کی مرضی ہے۔ اس میں ہم بےبس ہیں۔ اس لیے جب تک ہم نہیں بدلیں گے جب تک تعلیمی میدان میں آگے نہیں چلے جاتے تب تک ہر ملک، شہر اور گلی میں مسلمان ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    @Haider_Arbaz_01

  • زندگی ایک مختصر سفر تحریر:ثمرہ مصطفی

    زندگی کیا ہے؟یہ زندگی ایک کتاب کی طرح ہوتی ھے، بالکل ایک بند کتاب کی طرح، جسے جب پڑھنے کے لئے کھولا جائے تو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کس صفحے میں ہنسی اور خوشی ملنے والی ھے اور کہاں غم اور آنسو…. لیکن دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں اور ہاں کسی کے چہرے پر مت جائیں کیونکہ ہر انسان ایک بند کتاب کی مانند ھے جس کے سرورق پر کچھ اور جبکہ اندرونی صفحات پر کچھ اور تحریر ہوتا ھے۔ زندگی ایک سفر ہے جسکی منزل موت ہے۔ہر انسان کا اپنا مقصد ہوتا ہے لیکن کسی کو اپنا مقصد یاد نہیں شاید اسی وجہ سے ہر کوٸی الجھن کا شکارہے۔ہر کوٸی محنت کررہا ہے لیکن اچھے مسقبل کیلے نہیں بلکہ دوسرے  کو نیچا دکھانے کیلے اسی لیےتو محنت کرنے کا باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی۔اور پھر ساری زندگی اپنے رب سے شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے متاثر ہوتے ہیں ان جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن ان جیسی محنت نہیں کرتے کیونکہ ہم ظاہر دیکھتے ہیں باطن نہیں۔ہم اس بات کو سوچنا ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ جس شخص کی زندگی سے ہم متاثر ہورہے ہیں اسنے کتنی محنت کی ہوگی۔ہرانسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔جو دوسرا ہے وہ اپ کبھی نہیں بن سکتے اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کا مقصد پہچانیں۔  زندگی نے دنیا میں کسی سے وفا نہیں کی،ساری دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے چکی ہےاور کیا پتہ زندگی کی کس راہ پر ہماری زندگی آہستہ ہوجاۓاور موت ہمیں آن لے۔ایسی زندگی کا کیا بھروسہ جو طوفانوں میں چراغ کی طرح جلے اور موت کا انتظارکیوں نہ کریں جو آندھی کی طرح ہمارے پیچھے ہے۔رسولﷺنے فرمایا جب شیطان مردود ہوا تو اسنے کہااے پاک پروردگار تیری عزت کی قسم تیرے بندوں کو ہمیشہ بہکاتا رہوں گا جب تک  انکے جسموں میں انکی روحیں رہیں گی، اللہ پاک  نے  فرمایا مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلیٰ رتبے کی جب تک وہ مجھ سے توبہ کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔زندگی انسان کا سب سے طویل سفراور سب سے مختصر سفر ہے یزندگی ایک خواب ہے جو خوبصورت بھی ہوسکتا ہے اور بھیانک بھی ۔زندگی ایک خوشی بھی ہے اور اذیت بھی ۔زندگی کہ کئی روپ ہیں یہ کبھی سراب ہے کبھی گلاب ہے تو کبھی عذاب ہے زندگی-اس زندگی سے انسان کو ہر طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ اس کی تلاش میں یہ بھول جاتا ہے کہ یہ زندگی ایک پھول کی مانند ہے جواپنی شاخ سے جدا ہوکر مرجھاجاۓ گی۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت جانتے تو ہیں لیکن جان بوجھ کر حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں اور  زندگی کی حقیقت کو ماننے  سے انکار کر دیتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے جب سامنے آتی ہے تو پھر ہم انسان ہی حیران و پریشان اور ہراساں  ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے اندر حقیقت کو جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا ظرف بھی پیدا کر لیں اور زندگی کی حقیقت سے نظریں نہ چرائیں تو پھر ہر قسم کے حقائق کا بڑی بہادری و جرات مندی سے سامنا کر سکتے ہیں بجائے یہ کہ حقیقت کو سامنے پا کر  حیرانی و پریشانی کا مظاہرہ کرنے کی بجاۓ  زندگی کی حقیقت پر غور  کریں تو اس حیرانی و پریشانی کی کیفیت سے آزاد ہو سکتے ہیں-میری دعا ہے کہ خداوند تعالٰی ہماری زندگیوں میں سکون  اور  خوشیاں عطا فرمائے۔ غموں اور دکھوں سے محفوظ رکھے۔ ہماری جاٸز دلی خواہشات کو پورا فرمائے۔

    @Samra_Mustafa_

  • یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل  تحریر: علی خان

    یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل تحریر: علی خان

     

    قصہ پرمزاح ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی مزاج کا عکاس بھی ہے کہ کسی صاحب نظر کی محفل میں مجھ سے ایک بے صبرے صاحب جاپہنچے اور چار کتابوں کا ذکر کرکہ بولے حضرت مجھے مبارک دیں کہ یہ کتابیں پڑھ کر میں ابدال ہوگیا ہوں۔ صاحب محفل بولے مبارکباد کا نہیں بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ گوشت پوست کا انسان اب دال ہوگیا ہے۔ ان طالب حق کا یہ جواب سن کر کیا حال ہوا معلوم نہیں مگر ایسے شارٹ کٹ چاہے و دنیا کے لیے ہوں یا دین کے لیے تلاش کرنا گویا ہماری سرشت بن چکی ہے۔ 2 مہینوں میں میٹرک اور انٹر پاس کرنے کے دعوے تو پرانے ہوئے کہ اب رکشوں کے پیچھے 3 مہینے میں ڈاکٹر بنانے کے اشتہارات بھی عام سی بات لگنے لگی ہے۔ ایسا لالچ دینے والوں کا دھندا ہم جیسوں سے ہی چلتا ہے کہ ہمیں ہر کام میں ماہر بننا پسند ہے چاہے ہمارا اس سے تعلق ہو یا نا ہو۔ چار سو پھیلے ویب ٹی وی اور ان کے اینکرز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ زبان سے کوئی تعلق لگاؤ ہو یا نا ہو۔ معلومات بے شک ساتھ کے محلے بارے بھی نہ ہو لیکن افغان جنگ اور عالمی حالات پر تبصرے میں یہ ماہرین کوئی کسر نہیں چھوڑتے.

    مریض کی عیادت کرنے جانے والا ہر شخص ایسے ایسے طبی مشوروں سے نوازتا ہے کہ بیمار انہیں سن کر مزید بیمار پڑ جاتا ہے۔ کسی کو قانونی کام پڑ جائے تو ہر آتا جاتا تعلق دار اسے دو چار قانون مشوروں سے ضرور نوازتا ہے اور ان میں اکثر مشورے طبی لحاظ سے ضرررساں اور قانونی حوالے سے قریب قریب جرائم  میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی کے پکے کھانے میں نقص نکالنا اور اس بارے اپنے تئیں مفید مشورے دینا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ بچوں کی اچھی پرورش کے طریقے وہ خاتون بتاتی ہیں جن کی اپنی شادی نہیں ہوئی ہوتی۔   کسی کی شادی کا تمبو لگ رہا ہو یا قل خوانی کاکھانا طے کیا جارہا ہو۔ مفت کے مشورے دینے  والے کہیں موقع نہیں جانے دیتے۔ کسی کے بچے کا نام رکھنا ہو، مشورہ حاضر، سڑک پر جاتے اسٹینڈ اٹھانے کی دہائیاں دیتے، دوپٹہ سنبھالنے کی آوازیں لگاتے ہمارے ہی بھائی بندو ہوتے ہیں۔  کسی بھی موقعے پر خاموش رہنا شاید جرم سمجھا جاتا ہے۔ معاملہ  مزید خراب تب ہوتا ہے جب ایسے جعلی ماہر میدان عمل میں بھی آن پہنچتے ہیں اور اچھے خاصے کام کا بیڑا غرق کردیتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ مثالیں  ہر مرتبہ عید الاضحیٰ  پر ہمیں نظر آتی ہیں جب موسمی قصائی  کئی  افراد کی قربانی ہی ضائع کردیتے ہیں

    دیکھا دیکھی کے کاموں کا انجام تو یوں سا ہی ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں ایک اماں بی گلہڑ کے مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ تکلیف کے مارے دہائی دی تو راستے سے گزرتا اتائی آیا اور علاج کا یقین دلایا۔ اماں نے حامی بھری تو اتائی نے گردن پر کپڑا باندھ کر اوپر ہتھوڑا دے مارا۔ بوڑھی مریضہ جان سے گئیں تو دیہاتیوں نے جعلی طبیب کو جاپکڑا ۔ مار کھا کر طبیعت درست ہوئی تو بولا ساتھ کے گاؤں میں یہ ترکیب اونٹ کے گلے میں پھنسا تربوز نکالنے کو استعمال کی جاتی۔ وہاں سے مار کھا روانہ ہوا ۔ اگلی بستی میں ایک  شخص کو کھجور کے درخت پر پھنسے دیکھا کہ وہ اوپر تو جاپہنچا تھا لیکن  واپسی کی سمجھ نہ تھی۔ دانائی کا بھوت اتائی پر پھر سوار ہوااور آگے بڑھ مشورہ دیا کے اوپر رسی پھینکو  جو اوپر پھنسا شخص کمر میں باندھ لے۔ پھر مل کر دوسرے سرے پر زور لگاؤ۔  دیہاتیوں نے عمل کیا اور درخت پر پھنسا آدمی نیچے گر ا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اتائی نے پھر مار کھائی اور  وجہ یوں بتائی کہ ایک بار کسی جگہ ڈوبنے والے کو ایسے ہی بچایا گیا تھا۔ تو ایسے مشورے دینے اور لینے سے بچیں کہ جان لیوا ہوسکتے ہیں  ورنہ یوں ہی چلتا رہا تو  قصہ اپنا بھی عدم کی راہوں میں  لکھا جائےگا

    تحریر ؛ علی خان 

    @hidesidewithak

  • اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    ✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
    قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
    ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
    اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
    اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
    علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
    مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
    شمسہ بتول
    @sbwords7