Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • خواتین کے انڈرویئر چوری کرنے پر ایک شخص گرفتار

    خواتین کے انڈرویئر چوری کرنے پر ایک شخص گرفتار

    جاپان کے شہر ہیٹینا میں پولیس نے ایک بوڑھے شخص کو پکڑ لیا جو لانڈری سے انڈرویئر چوری کر رہا تھا۔ پتہ چلا کہ ایک یا دو نہیں ، اس آدمی نے 700 سے زائد انڈرویئر چوری کیے۔ ایک بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جاپان میں پیش آیا۔ Tetsuo لانڈری سے انڈرویئر کے چھ جوڑے چوری کرنے گئے تھے۔ جب پولیس نے ٹیٹسو کو پکڑا تو انہوں نے اس کے گھر کی تلاشی لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کی حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے گھر میں انڈرویئر کے مزید 630 ٹکڑے چھپے ہوئے تھے۔

    بعد میں ، مقامی پولیس نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں میں فرش پر پڑے انڈرویئر کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے کبھی انڈرویئر چوری کے اتنے واقعات سامنے نہیں آئے۔ یہ واقعہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔ لوگ اس شخص کا ایسا شوق دیکھ کر حیران بھی ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے اس شخص کی حرکتوں کی مذمت کی ہے۔ کچھ نے اس کے بارے میں مذاق بھی کیا ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایسی عجیب بات ہوئی ہو۔ دو سال پہلے ، ایک 65 سالہ شخص 100 کلومیٹر پیدل انڈرویئر چوری کرنے گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ نارتھ اوٹاگو کا رہائشی اسٹیفن گراہم گارڈنر مہینو سے ڈونیڈن گیا تھا تاکہ خواتین کے انڈرویئر کے آٹھ جوڑے چوری کرے۔ تاہم ، وہ اس عجیب شوق کو آگے بڑھاتے ہوئے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ جب اسے ڈونیڈن ڈسٹرکٹ کورٹ لے جایا گیا تو اس نے کہا کہ وہ کسی مجرمانہ ارادے کے ساتھ شہر نہیں گیا۔ اس کے وکیل نے بتایا کہ اس کا موکل موانا پول پر صرف سپا کرنے آیا تھا۔ لیکن تالاب میں نہاتے ہوئے اسے اچانک اپنا انڈرویئر چوری کرنے کا احساس ہوا۔ لیکن وکیل کا کوئی بھی دلائل دھویا نہیں گیا۔ جج نے ان کی تمام درخواستیں خارج کر دیں۔ ان کے مطابق ، بوڑھے آدمی نے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کا انڈرویئر چرا لیا۔

  • چھ ماہ کے مولود بچے کا فیصلہ تحریر: احسان الحق

    مدینے میں ایک عورت کے ہاں شادی کے محض 6 ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی حالانکہ عموماً شادی کے 9 ماہ بعد یا کم سے کم 7 ماہ بعد خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں. بچے کی پیدائش کا سن کر لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ 6 ماہ کے حمل کے بعد بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے. اسی وجہ سے لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورت حقوق زوجیت میں خیانت کی مرتکب ہوئی ہے. لوگوں نے الزامات لگانا شروع کر دئیے کہ یہ بچہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ یہ بچہ شادی سے پہلے کا ہے.

    امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس اس عورت کا مقدمہ پہنچا تو آپ نے ملزمہ کو طلب فرماتے ہوئے اس پر مقدمہ چلانے کے بعد رجم کرنے کی سزا کا حکم صادر فرمایا. دربار خلافت میں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی موجود تھے. آپ حضرت علیؓ خلیفہ ثانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے قاضی کے عہدے پر تھے. آپ نے امیرالمؤمنین کے عورت کو رجم کرنے کے فیصلے سے مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ

    "یہ عورت قابل سرزنش نہیں ہے. اس کے خلاف رجم کی سزا درست نہیں. اگر تم لوگ صرف اس لئے عورت کو گناہ گار سمجھ رہے ہو کہ بچہ شادی کے 6 ماہ بعد پیدا ہوا ہے تو اس وجہ سے عورت قابل سزا نہیں اور نہ ہی اس عورت پر یہ الزام عائد ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حق میں مخلص نہیں ہے. یہ بچہ عورت کے شوہر کا ہے”

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا جواب سن کر لوگ تعجب کا شکار ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیسے؟

    آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے  سورہ "احقاف” کی آیت نمبر 15 کی تلاوت کرتے ہوئے لوگوں بتایا کہ

    "عورت کے حمل کا اور بچے کو دودھ چھڑانے کا عمل 30 ماہ کا ہے” (الاحقاف15)

    مطلب حمل اور رضاعت کی پوری مدت 30 ماہ یعنی 2 سال اور 6 ماہ ہے.

    اسی طرح سے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    "مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں” (البقرہ 233)

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی 24 مہینے ہے اور حمل اور رضاعت کی کل مدت 30 ماہ ہے. ان 30 مہینوں میں سے 24 مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے ہیں. لہذٰا اگر کوئی عورت 6 ماہ میں بچے کو جنم دے تو یہ بچہ اس کے شوہر کا ہوگا اور وہ عورت قابل سرزنش نہیں ہوگی.

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے علم اور آپکی ذہانت کی وجہ سے ایک عورت رجم ہوتے ہوتے بچ گئی.

    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے مزکورہ دونوں آیات سے اور سورہ لقمان کی آیت 14 سے یہ استدلال کیا ہے کہ وضع حمل کی کم سے کم مدت 6 ماہ ہے. 6 ماہ کے حمل کے بعد بچے کی پیدائش پر عورت کی سرزنش نہیں کی جاسکتی. حضرت علیؓ کا استنباط صحیح اور قوی ہے. اس دلیل اور رائے سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور دیگر اصحابِ رسولﷺ نے اتفاق کیا ہے.

    سلف صالحین کا یہ دستور تھا کہ نوعیت مسئلہ سمجھنے کے بعد اجتہاد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے. اگر ان کے فیصلے کے خلاف قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث پیش کی جاتی تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلے کو ترجیح دینے میں بالکل پس و پیش نہیں کرتے تھے. مذکورہ بالا واقعہ اس حوالے سے بہترین مثال ہے.

    @mian_ihsaan

  • درختوں سے دوستی تحریر:فاروق زمان

    درختوں سے دوستی تحریر:فاروق زمان

    درخت ماحول دوست ہوتے ہیں, لیکن سب سے زیادہ، سب سے پہلے مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔ بہت گہرے دوست۔ درختوں کی اہمیت سے زیادہ میں ان کی دوستی کا قائل ہوں۔ ہم بہت بار یہ سنتے ہیں کہ درخت لگائیں یہ فائدہ مند ہیں۔ ماحول کے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا سنا کہ آئیں درختوں کو دوست بنائیں۔ درخت لگانا، لگانے کی ترغیب دینا اور درختوں کو دوست بنانے میں بہت فرق ہے۔ درخت لگا دینے سے ہمارا کام پورا نہیں ہوتا، صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ درختوں کی مکمل نگہداشت ضروری ہے۔ ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ان جو وقت دینے کی ضرورت ہے۔
    جب میں چھوٹا تھا تو ایک دفعہ ہمارے سکول کے پرنسپل صاحب نے ہمیں اکھٹا کیا اور ہمیں پودے دیئے۔ ہم سب کو اپنے حصے کے پودے لگانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے ایسا ہی کیا ۔جب پودے لگ گیے تو پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس جس بچے نے جو جو پودا لگایا ہے وہ اس کو (own) کر لے اور اس کو دوست بنا لے۔ یہ سب پودے آپ کے دوست ہیں، آپ کو دوستوں کی طرح ہی انہیں وقت دینا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ انہیں پانی دینا ہوگا۔ ان کی گوڈی وغیرہ اور دیکھ بھال کرنی ہو گی۔ ہم سب بچوں کے لئے یہ بات نئی تھی۔ لیکن ہم سب پرجوش ہو گئے۔ ہم نے پودوں کو اپنا دوست مان لیا۔ اور ہم ویسے ہی کرنے لگے جیسے پرنسپل صاحب نے ہمیں کہا تھا۔ میں ہر روز سکول جاتے ہی اپنے لگائے ہوئے پودے کے پاس جاتا۔ پانی وغیرہ دیتا، اس سے باتیں کرتا رہتا اور اس کا خیال رکھتا، یہ ایسی ہی بات نہیں ہے۔ پودا توجہ اور روزانہ کی بنیاد پر خیال رکھے جانے سے نکھرتا چلا گیا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اس پر پھول اور پھل لگے گیں۔ پھل میٹھے اور سایہ ٹھنڈا ہو گا۔
    بچپن سے میرے اندر یہی بات بیٹھ گئی کہ درخت اور پودے ہمارے دوست ہیں۔ عام لوگوں کی طرح میں ان کے ساتھ بے جانوں والا سلوک نہیں کرتا تھا۔ لوگوں کی طرح مجھے پودوں سے پھول توڑتے ہوئے بہت زیادہ دکھ ہوتا اور میں ان سے بلاوجہ پھول نہ توڑتا اور مجھے ہمیشہ سے یہی دکھ ہوتا ہے کہ درختوں اور پودوں کے ساتھ جانداروں والا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا بڑی تعداد میں جنگل کے جنگل کاٹ دیے جاتے، میرے دوستوں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہو گی جب مختلف اوزار سے ان کو کاٹا جاتا ہو گا۔  ضرورت کے لئے اگر کاٹنے پڑتے ہیں تو ان کی جگہ نئے درخت اور پودے بھی تو لگانے چاہیے۔
    پرندے، انسان اور جانور سب کی زندگی پودوں اور درختوں سے جڑی جڑی ہوئ ہے۔ درختوں پر پرندوں نے اتنے پیارے گھونسلے بنائے ہوتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں اور چڑیوں کے آنے سے بہت رونق ہوتی ہے ۔
    ہمارے دوست ہمارے لئے بہت کچھ کرتے ہیں۔ پودے اور درجہ حرارت کم کرتے ہیں۔ فضا سے گیسوں کو جذب کرتے ہیں اور فضا کو صاف اور تروتازہ رکھتے ہیں۔ آلودگی کو دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برداشت کرتے ہیں۔گرمی کی حدت  اور سورج کی تپش برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل دیتے ہیں۔
    درختوں سے سبزہ اور ہریالی ہوتی ہے۔ جو آنکھوں کو بہت بھلی محسوس ہوتی ہے، درختوں کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں عجیب سا سکون ملتا ہے، جیسے دوست نے دوست کو گلے سے لگا لیا ہو۔ درخت اور پودے خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول بوٹے اور درخت بہت خوشنما لگتے ہیں، پھولوں کی خوشبو بہت دلفریب ہوتی ہے۔ درختوں اور پودوں سے حاصل کردہ پھول ہم اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں۔ مگر جن پودوں اور درختوں سے پھول حاصل کرتے ہیں ان کو ہم بے جان سمجھتے ہیں، ان کے لیے ہمارے دل میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے ہم ان سے جانداروں والا سلوک  نہیں رکھتے،اور نہ ہی انھیں دوست سمجھتے ہیں۔
    ہم سوچتے ہیں درختوں کی آنکھیں نہیں ہیں، دماغ نہیں ہیں۔ اعضاء نہیں ہیں وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ شاید یہی سوچ ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو اندھا دھند کاٹتے ہیں۔ ہم ان کا خیال رکھنے کی بجائے فیکٹریوں کا فضلہ، گھروں اور دفاتر کا گند وغیرہ درختوں کے پاس پھینک دیتے ہیں تو وہ خود سانس نہیں لے سکتے،  ہوا کو کیسے سے صاف کریں گے۔ ہم ماحول اور درختوں کے دشمن خود ہیں۔ ہم درخت کاٹتے ہیں۔ پرندوں کے آشیانے تباہ کر دیتے ہیں۔
    ہمیں ماحول اور اپنے دوستوں کو بچانا ہو گا۔ ماحول اور انسان  دوست درختوں کو اپنا دوست مانا ہوگا ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ نہیں کہ بہت سے درخت لگانے کی مہمیں شروع کی جاتی ہیں لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی صحیح نگہداشت نہیں کی جاتی اور خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ پانی وغیرہ نہیں دیا جاتا اور دیکھ بھال نہیں کی جاتی، نتیجتا وہ دھوپ کی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور مرجھا جاتے۔ گل سڑ جاتے ہیں اگر ان کو دوست سمجھا جائے ان کا خیال رکھا جاتا تو یقیناً ایسا نہ ہو۔
    اس کے علاوہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے کے شوق کوجنون بنانا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، ان سے محبت کا ثبوت دینا ہو گا۔ تاکہ ہمارے دوست ہمیں ہر طرف نظر آئیں۔ ہر طرف شادابی ہو۔ گھروں میں باغبانی کریں۔ شہر، محلے کی خالی جگہوں، پارکس وغیرہ میں پودے لگائیں۔
    ہمیں درخت اور پودے اگانے کے لیے شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔بچوں کو بھی شروع سے ماحول سے، درختوں سے محبت کرنا سکھائیں گے تو وہ ان کو دوست بنائیں گے۔  ہمیں انسانوں کے لیے درختوں کی محبت و اہمیت اور ماحول کے لئے ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔ درخت اور پودے لگا کر درختوں سے دوستی
    درخت ماحول دوست ہوتے ہیں, لیکن سب سے زیادہ، سب سے پہلے مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔ بہت گہرے دوست۔ درختوں کی اہمیت سے زیادہ میں ان کی دوستی کا قائل ہوں۔ ہم بہت بار یہ سنتے ہیں کہ درخت لگائیں یہ فائدہ مند ہیں۔ ماحول کے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا سنا کہ آئیں درختوں کو دوست بنائیں۔ درخت لگانا، لگانے کی ترغیب دینا اور درختوں کو دوست بنانے میں بہت فرق ہے۔ درخت لگا دینے سے ہمارا کام پورا نہیں ہوتا، صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ درختوں کی مکمل نگہداشت ضروری ہے۔ ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ان جو وقت دینے کی ضرورت ہے۔
    جب میں چھوٹا تھا تو ایک دفعہ ہمارے سکول کے پرنسپل صاحب نے ہمیں اکھٹا کیا اور ہمیں پودے دیئے۔ ہم سب کو اپنے حصے کے پودے لگانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے ایسا ہی کیا ۔جب پودے لگ گیے تو پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس جس بچے نے جو جو پودا لگایا ہے وہ اس کو (own) کر لے اور اس کو دوست بنا لے۔ یہ سب پودے آپ کے دوست ہیں، آپ کو دوستوں کی طرح ہی انہیں وقت دینا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ انہیں پانی دینا ہوگا۔ ان کی گوڈی وغیرہ اور دیکھ بھال کرنی ہو گی۔ ہم سب بچوں کے لئے یہ بات نئی تھی۔ لیکن ہم سب پرجوش ہو گئے۔ ہم نے پودوں کو اپنا دوست مان لیا۔ اور ہم ویسے ہی کرنے لگے جیسے پرنسپل صاحب نے ہمیں کہا تھا۔ میں ہر روز سکول جاتے ہی اپنے لگائے ہوئے پودے کے پاس جاتا۔ پانی وغیرہ دیتا، اس سے باتیں کرتا رہتا اور اس کا خیال رکھتا، یہ ایسی ہی بات نہیں ہے۔ پودا توجہ اور روزانہ کی بنیاد پر خیال رکھے جانے سے نکھرتا چلا گیا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اس پر پھول اور پھل لگے گیں۔ پھل میٹھے اور سایہ ٹھنڈا ہو گا۔
    بچپن سے میرے اندر یہی بات بیٹھ گئی کہ درخت اور پودے ہمارے دوست ہیں۔ عام لوگوں کی طرح میں ان کے ساتھ بے جانوں والا سلوک نہیں کرتا تھا۔ لوگوں کی طرح مجھے پودوں سے پھول توڑتے ہوئے بہت زیادہ دکھ ہوتا اور میں ان سے بلاوجہ پھول نہ توڑتا اور مجھے ہمیشہ سے یہی دکھ ہوتا ہے کہ درختوں اور پودوں کے ساتھ جانداروں والا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا بڑی تعداد میں جنگل کے جنگل کاٹ دیے جاتے، میرے دوستوں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہو گی جب مختلف اوزار سے ان کو کاٹا جاتا ہو گا۔  ضرورت کے لئے اگر کاٹنے پڑتے ہیں تو ان کی جگہ نئے درخت اور پودے بھی تو لگانے چاہیے۔
    پرندے، انسان اور جانور سب کی زندگی پودوں اور درختوں سے جڑی جڑی ہوئ ہے۔ درختوں پر پرندوں نے اتنے پیارے گھونسلے بنائے ہوتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں اور چڑیوں کے آنے سے بہت رونق ہوتی ہے ۔
    ہمارے دوست ہمارے لئے بہت کچھ کرتے ہیں۔ پودے اور درجہ حرارت کم کرتے ہیں۔ فضا سے گیسوں کو جذب کرتے ہیں اور فضا کو صاف اور تروتازہ رکھتے ہیں۔ آلودگی کو دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برداشت کرتے ہیں۔گرمی کی حدت  اور سورج کی تپش برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل دیتے ہیں۔
    درختوں سے سبزہ اور ہریالی ہوتی ہے۔ جو آنکھوں کو بہت بھلی محسوس ہوتی ہے، درختوں کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں عجیب سا سکون ملتا ہے، جیسے دوست نے دوست کو گلے سے لگا لیا ہو۔ درخت اور پودے خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول بوٹے اور درخت بہت خوشنما لگتے ہیں، پھولوں کی خوشبو بہت دلفریب ہوتی ہے۔ درختوں اور پودوں سے حاصل کردہ پھول ہم اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں۔ مگر جن پودوں اور درختوں سے پھول حاصل کرتے ہیں ان کو ہم بے جان سمجھتے ہیں، ان کے لیے ہمارے دل میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے ہم ان سے جانداروں والا سلوک  نہیں رکھتے،اور نہ ہی انھیں دوست سمجھتے ہیں۔
    ہم سوچتے ہیں درختوں کی آنکھیں نہیں ہیں، دماغ نہیں ہیں۔ اعضاء نہیں ہیں وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ شاید یہی سوچ ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو اندھا دھند کاٹتے ہیں۔ ہم ان کا خیال رکھنے کی بجائے فیکٹریوں کا فضلہ، گھروں اور دفاتر کا گند وغیرہ درختوں کے پاس پھینک دیتے ہیں تو وہ خود سانس نہیں لے سکتے،  ہوا کو کیسے سے صاف کریں گے۔ ہم ماحول اور درختوں کے دشمن خود ہیں۔ ہم درخت کاٹتے ہیں۔ پرندوں کے آشیانے تباہ کر دیتے ہیں۔
    ہمیں ماحول اور اپنے دوستوں کو بچانا ہو گا۔ ماحول اور انسان  دوست درختوں کو اپنا دوست مانا ہوگا ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ نہیں کہ بہت سے درخت لگانے کی مہمیں شروع کی جاتی ہیں لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی صحیح نگہداشت نہیں کی جاتی اور خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ پانی وغیرہ نہیں دیا جاتا اور دیکھ بھال نہیں کی جاتی، نتیجتا وہ دھوپ کی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور مرجھا جاتے۔ گل سڑ جاتے ہیں اگر ان کو دوست سمجھا جائے ان کا خیال رکھا جاتا تو یقیناً ایسا نہ ہو۔
    اس کے علاوہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے کے شوق کوجنون بنانا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، ان سے محبت کا ثبوت دینا ہو گا۔ تاکہ ہمارے دوست ہمیں ہر طرف نظر آئیں۔ ہر طرف شادابی ہو۔ گھروں میں باغبانی کریں۔ شہر، محلے کی خالی جگہوں، پارکس وغیرہ میں پودے لگائیں۔
    ہمیں درخت اور پودے اگانے کے لیے شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔بچوں کو بھی شروع سے ماحول سے، درختوں سے محبت کرنا سکھائیں گے تو وہ ان کو دوست بنائیں گے۔  ہمیں انسانوں کے لیے درختوں کی محبت و اہمیت اور ماحول کے لئے ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔ درخت اور پودے لگا کر ان کی بہتر نگہداشت کرنی چاہیے۔ ان کا خیال رکھ کر سب سے بڑھ کر ان کو دوست بنا کر ہم انسان دوست ماحول میں سانس لے سکیں گے۔ان کی بہتر نگہداشت کرنی چاہیے۔ ان کا خیال رکھ کر سب سے بڑھ کر ان کو دوست بنا کر ہم انسان دوست ماحول میں سانس لے سکیں گے۔

    @FarooqZPTI

  • اقتدار کے تین سال  تحریر : سیف الرحمان

    اقتدار کے تین سال تحریر : سیف الرحمان

    وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے تقریباتین سال مکمل ہو چکے۔   ان تین سالوں میں بہت سے امتحانات سے بھی گزرنا پڑا۔ بقول عمران خان سب سے مشکل مرحلہ آئی ایم ایف کے پاس قرض مانگنے جانے کا تھا کیونکہ اقتدار میں آنے سے پہلے خان صاحب نے قوم سے کہاتھا کہ وہ مر جائیں گے لیکن کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔لیکن سابقہ نااہل حکمرانوں نے جاتے جاتے جو بارودی سرنگیں نئی حکومت کیلئے بچھائی اس کا اندازہ خود وزیراعظم عمران خان کو بھی نہیں تھا۔ ن لیگ نے خزانہ خالی کر کے  ملک ڈیفالٹر ہونے کے قریب  چھوڑ دیا تھا۔ وہ تو اﷲ بھلا کرے دوست ممالک کا جنہوں نے بطور آکسیجن پاکستان کو پیسے اور آئل فراہم کیا۔ پھر آئی ایم ایف کی امداد بھی آ گئی۔ یوں زندگی کا پہیہ ایک بار پھر رواں ہوا۔

    اس وقت ملک میں یہ  تاثر  بھی ہے کہ عمران خان  ملک کے نظام میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں لاسکے۔ یہ بات اس تناظر میں  ٹھیک ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آکر اپنے اختیارات کا  ناجائز استعمال کرتے ہوئے دولت نہیں بنائی۔ نہ نیا بنگلہ بنایا۔ نہ کوئی شوگر مل  لگائی۔ نہ بیرون ملک کوئی جائیدادخریدی۔نہ ہی رشتداروں کو اعلی حکومتی عہدوں پر بیٹھایا۔ نہ اپنے بیٹوں کو بیرون ملک پیسہ ٹرانسفر کیا اور نہ ہی کسی عربی سے اقامہ لے کر تنخواہ لی ۔ انکے قریبی ساتھی  اسد عمر، حماد اظہر  فواد چوہدری شاہ محمود قریشی   اور مراد سعید وغیرہ پر بھی اس قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔

    عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے  پاکستان کا شمار  ایسے ممالک میں کیا جاتا تھا  جہاں  اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن فرض سمجھی جاتی تھی۔ قوم نے بھی کرپشن کو ذہنی طور پر تسلیم کر لیا تھا بلکہ بعض لوگ تو نعرے مارتے تھے کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے۔اب ایسے ماحول میں کسی ایسے شخص کا حکمران  بن جانا  جوذاتی طور پر نہ تو کرپٹ ہے اور نہ ہی  اس پر کسی قسم کا کوئی کرپشن کا چارج ہے ۔جس کو  ملک کی اعلی عدالتوں نے  صادق اور امین کہا ہے۔بعض لوگوں کیلئے حیرانگی اور  بعض کیلئےپریشانی تو بننے گی۔

     اگر دیکھا جائے تو یہ  بات اپنی جگہ  درست ہے کہ  سرکاری دفاتر میں  رشوت خوری میں  اس طرح کمی نہیں آسکی جس کا وعدہ خود عمران خان صاحب نے کیا تھا۔  عام آدمی اب بھی بیشتر کام بغیر رشوت  نہیں کروا سکتا۔تحریک انصاف کا منشور کرپشن فری پاکستان کی تکمیل عملی طور پر ابھی تک دیکھنے کو نہیں مل سکی۔ نیب  نے  ان تین برسوں میں سوا پانچ سو ارب روپے سے زیادہ کرپٹ افراد سے برآمد کئے اور قومی خزانہ میں جمع کروائے ۔آپ کو یاد ہو گاجب عمران خان نے حکومت بنائی تو بیوروکریسی نے  ایک سال تک عدم تعاون کا روّیہ اختیار کئے رکھا۔ وہ فائلوں  پر دستخط نہیں کرتے تھے۔ تمام کام التوا  اور سست روی کا شکار ہو رہے تھے۔ بیوروکریسی کا موقف تھا کہ وہ کوئی فیصلہ کریں گے تو  نیب انکو کرپشن کے الزام میں دَھر لے گا۔  پھرحکومت نے نیب قانون مین تبدیلی کی اورجس سرکاری افسر پر کوئی الزام ہواس کے خلاف پہلے صوبہ کا چیف سیکرٹری کاروائی کرے گا۔ اسکی منظوری کے بعد نیب اس پر ہاتھ ڈال سکے گا۔

    ایک بات  جس کا ذکر لازمی ہے وہ یہ کہ تبدیلی کے خلاف مزاحمت صرف سرکاری افسروں تک محدود نہیں  بلکہ وہ تمام گروہ  بھی شامل ہیں جنکے مفادات سابقہ نظام سے وابستہ ہیں۔ اگر آپ عدالتی ریفارمز کی طرف جائیں تو وکلاء اور ججز سامنے آ جاتے ہیں۔ عدالتی بائیکاٹ اور احتجاج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی جج کے احتساب کی بات کی جائے تو بینچ اور بار ڈھال بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  تحریک انصاف اب تک عدالتی اور قانونی نظام میں کوئی خاص تبدیلی  نہیں کی۔حالانکہ  مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف اور اسکے اتحادیوں کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ میں سادہ اکثریت ہے۔ حکومت چاہے تو کوئی  بھی قانون پارلیمان سے منظور کرواسکتی ہے۔ اگر سینٹ میں مزاحمت ہو تو یہ قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکرقانون سازی کرسکتی ہے۔جب تک قانون کی بالا دستی نہیں ہو گی ملک ترقی  نہیں کر سکتا۔  تحریک انصاف کو چاہئے جوڈیشل سسٹم میں جلد از جلد ریفارمز لے کر آئے۔ عوام کو فوی ااور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے نئی قانون سازی کی جائے۔ سالوں سال کیس چلنے کی بجائے 2-3ماہ میں کیس کے فیصلےکا وقت مقرر کیا جائے۔  اسی طرح پولیس ریفارمز بھی کی جائیں۔ ایف آئی آر سے لے کر تفتیش تک اور پھر جزا سزا تک تمام مراحل کی حد مقرر کی جائے۔ ایسے تمام پولیس آفیسر جو پیسے لے کر جھوٹی تفتیش کریں انکو بھی سزا کا قانون بنایا جائے۔  ایسے پولیس والے جو بغیر رشوت کام نہیں کرتے ان کیلئے جبری ریٹائر منٹ بطور سزا پنشن ضبط قانون لایا جائے۔جس دن پولیس اور عدلیہ سہی کام کرنا شروع ہو گئی آدھے مسئلے تو خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔

    اگر  معیشت پہ بات کی جائے تو اس کا حال فلحال اتنا تسلی بخش نہیں جتنا عوام امید لگائے بیٹھی تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ ہمارے ملک میں  خوشحال طبقہ ریاست کو پُورا ٹیکس نہیں دیتا۔ بڑے بڑے زمیندار جو کروڑ پتی، ارب پتی ہیں وہ ٹیکس نیٹ سے ہی باہر ہیں۔   ایک اندازے کے مطابق ساٹھ لاکھ سے زیادہ پرچون دُکاندار ہیں جو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ اگر ان   سب سے ٹیکس لینے کی بات کی جائے  تو یہ ہڑتالیں کرنے لگتے ہیں۔ حکومت  کے پاس سوائے گھٹنے ٹیکنے کوئی آپشن ہیں نہیں بچتا جبکہ حکومت کا نظام پہلے ہی قرضوں پر چل رہا ہے۔   اگر معیشت سہی کرنی ہے تو ٹیکس کے نظام میں بہتری لانا ہوگی۔ ایسے تمام لوگوں سے ٹیکس لیا جائے جو اس نیٹ ورک سے باہر ہیں یا ٹیکس چور ہیں۔ غریب کیلئے  بلواسطہ یا بلاواسطہ جتنا ممکن ہو کم سے کم ٹیکس رکھا جائے۔ 

     اگر وزیراعظم عمران خان واقعی نظام کی اصلاح چاہتے ہیں تو  انکو اپنے سیاسی مفادات  سے  بُلند ہوکر  جلد از جلد بولڈ اور دور اندیش فیصلے کرنا ہوں گے۔امیر لوگوں پر مضبوطی سے ہاتھ ڈالا کر ٹیکس وصول کیا جائے۔ غریب کے اوپر بلواسطہ یا بلاواسطہ  مذیدٹیکس نا لگائے جائیں۔ 

    اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو ان تین سالوں میں پچاس سے ڈیڑھ سو فیصد تک مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں۔  بعض اشیاء کرونا کی وجہ مہنگی ہوئی جبکہ بعض اشیاء ملک میں موجود مافیاء کی ملی بھگت سے مہنگی ہوئی پڑی ہیں۔  اگر دیکھا جائے تو ان میں چینی گھی اور آٹا سر فہرست ہیں۔ چینی اس وقت 100روپے گھی 340روپے اور آٹا 60روپے کلو فروخت ہو رہا ہے  ۔  بجلی اور گیس کے بلوں کی بات کی جائے تو ان میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔   مہنگائی کنٹرول  نہ ہونے پہ  ہر ضلع کے ڈی سی کو پوچھا جائے۔ ناجائز منافع خوروں  کوسخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ ہر شاپ پر ریٹ لسٹ آویزا کی جائے۔ سرکاری نرخ نامے پہ اشیاء کی خریدو فروخت یقینی بنایا جائے۔ 

    اگر عمران خان صاحب مہنگائی پر قابو پا جاتے ہیں تو اگلے الیکشن میں تحریک انصاف  کو کوئی بھی دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روک پائے گا۔ خان صاحب نے جس طرح خارجہ امور میں  اپنا لوہا منوایا جس طرح بھارت کو عالمی سطح پر ایکسپوز کیا۔ جس طرح کشمیر کا مقدمہ لڑاامید کی جا سکتی ہے کہ اگلے دو سالوں میں  مہنگائی کے چیلنج  سے بھی نمٹ کر عوام کو  ریلیف دیں گے اور 2023کے  الیکشن میں بھرپور واپسی کریں گے۔ انشاءﷲ

    @saif__says

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟  تحریر:آصف گوہر

    ڈاکٹر اور انجینئر ہی کیوں۔۔۔؟ تحریر:آصف گوہر

    عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ°

    "جس (اللہ) نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا.”

    سورة علق 5

    ہر وہ معلومات جس سے انسان واقف نہ ہو وہ علم کے زمرے میں آتی ہے ۔

    تخلیق آدم علیہ السلام پر جب فرشتوں نے اللہ سبحان و تعالی سے سوال کیا تو آدم علیہ السلام نے اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے سیکھائے ہوئے چیزوں کےنام فرشتوں کے سامنے بتائے یوں انسان کی فضیلت قدر ومنزلت علم ہی کی بدولت ثابت ہوئی اور یہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق انسان کی سب سے بڑی وجہ علم کا حصول ہی ہے۔۔

    دینی دنیاوی علم و فنون کی لا تعداد اقسام اور جہتیں ہیں انسان اپنے میلان اور رجحان کے مطابق جیسا علم اور ہنر چاہے سیکھ سکتا ہے 

    ہمارے ہاں جب اللہ سبحان و تعالی کسی کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے تو ابھی بچہ ماں کی گود میں ہی ہوتا ہے کہ والدین اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی بڑی ہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔اس سے آگے دیگر پیشوں کا نا تو والدین نام لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے ۔بچے کے سکول جانے کے پہلے روز سے میٹرک تک ڈاکٹر اور انجینئر بنے گا کی گردان جاری رہتی ہے ۔

    میٹرک امتحان کے نتائج آتے ہی کالج میں انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم کے لئے کالجز میں  داخلےکے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ میں سے والدین ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔اور اپنی بساط کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم پر خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کارفرما مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا ۔

    انٹرمیڈیٹ کا لاکھوں طلباء امتحان دیتے اور لاکھوں کی تعداد میں اے گریڈ لے کر اعلی نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہر کسی کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ میڈیکل کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے ۔امتحان میں نمایاں درجے کامیابی کے بعد بھی طلباء کا امتحان اور والدین کی آزمائش ختم نہیں ہوتی میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلے کے لئے پرائیویٹ اکیڈمیز میں بھاری فیسیں ادا کرکے انٹرمیڈیٹ میں پڑھے گئے سلیبس کو دوبارہ پڑھنا پڑھتا ہے ۔

    حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نتائج پر میرٹ بنتا اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میں داخلہ مہیا کیا جاتا لیکن والدین کی کثیر تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر 

     ۔بنانے کی خواہش نے وہ چن چڑھا دیا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہی نہیں جتنے طلباء ہر سال ان میں داخلے کی جدوجہد کرکے انٹرمیڈیٹ میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس صورتحال کا سابقہ پنجاب حکومت نے یہ حل نکالا کہ انٹری ٹیسٹ کا نظام وضع کیا جس سے لاکھوں طلباء کو میرٹ کے نام پر انٹری ٹیسٹ کی چھری سے ذبح کیا جاتا ہے۔

    انٹری ٹیسٹ میں بہت سارے طلباء مطلوبہ نمبرز حاصل نہیں کرپاتے کیوں کہ نشستوں کی کمی کی وجہ سے مقابلہ اور میرٹ بہت سخت بنایا جاتا ہے ایک ایک آدھے آدھے نمبر بلکہ پوائنٹس پر فیصلہ ہوتا ہے۔

    خوش قسمت طلباء کو پنجاب کے بھر کی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جاتا ہے اور مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کر سکنے والے طلباء کو ذہنی طور پرشدید صدمہ اور جھٹکا لگتا ہے طلباء اور والدین سوچتے ہیں کہ ہمارے پچھلے تعلیم کے لئے لگائے گئے 12 سال اور مالی وسائل ضائع گئے ۔پھر کچھ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی خواہش جو کہ ضد کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے اس کو ملی جامہ پہنانے کے لئے   

     لاکھوں روپے سالانہ پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کو  ادا کرتے ہیں اور کچھ والدین دل پر پتھر رکھ کر بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے لئے چائنہ ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھیج دیتے ہیں اس کے لئے چاہئے کوئی قیمتی اثاثہ بیچنا پڑے یا کسی سے قرض لینا پڑے ۔

    پنجاب میں مسلم لیگ ن کا عرصہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے لیکن انہوں نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کا جھال بچھانے کی بجائے سیاسی فائدہ کے لئے لاہوراور دیگر چند بڑے شہروں میں سڑکیں اور پل بنائے اور مسلسل حکومتی امداد پر چلنےاور ملکی خزانے پر بوجھ بننے والے میٹرو بس سروس اور اورنج لائن ٹرین جیسے ناکام اور سفید ہاتھی کھڑے کرنے کے علاوہ صوبہ میں ایک بھی نیا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی۔

    اب اس گرداب سے نکلنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد والے فیصلے پہلے کر لیں اور ڈاکٹر انجینئر بننےوالی  محدود سوچ کو تبدیل کریں سکولنگ کی عمر میں نہ خود خواب دیکھیں اور نہ اپنے خوابوں کو بچوں پر مسلط کریں ۔بچے کی تعلیمی نتائج اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے اساتذہ سے مشاورت اور طلباء کی اپنی دلچسپی پوچھ کر ان کی اعلی تعلیم کے شعبے کا انتخاب کریں۔ 

     ٹیچنگ باییو انجینئرنگ سول ملٹری سروسز ای کامرس ویب ڈویلپینگ کونٹینٹ رائٹینگ فوٹو گرافی ایگری ٹیکنالوجسٹ بزنس ایڈمنسٹریشن الغرص ان گننت شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور

    صرف ڈاکٹر اور انجینئر کی رٹ لگانا چھوڑ کر مسلسل اذیت میں مبتلا ربنے سے خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے بچوں کو بھی نجات دلائیں ۔

    @EducarePak

  • تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    آپ نے کس عمر میں (اب عمر کا سن کے بھاگ نہ جانا میرا مکمل آرٹیکل پڑھ کے جانا پلیز۔۔!!)
    سیانے کہتے ہیں اپنی عمر کا ہر دور انجوائے کرنا چاہئیے ہم اتنے ناشکرے ہوتے ہیں بچپن میں بڑے ہونے کا شوق اور بڑے ہوکر چھوٹے کہلانے کا جنون.اس خواہش میں عورت اور مرد دونوں ہی مبتلا ہیں.
    پاکستان میں تو عام رواج ہے مرد اپنے سے ایک سال بڑی خاتون کو آنٹی کہنے سے بھی ہچکچاتے نہیں اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کو انکل بول دے تو اس کی جان پر بن آتی ہے اور اگر اپ کی کوئی کزن عمر چور ہے آپ سے ڈیڑھ دو برس چھوٹی بھی ہے تو اس کا بس نہیں چلتا آپکو آنٹی انکل کہنا شروع کردے چاہے بچپن سے بڑے ہونے تک وہی کزن آپکو آپکے نام سے ہی کیوں نہ مخاطب کرتی رہی ہو یہ بھی عمومآ پاکستان میں ہی ہوتا ہے باہر ممالک میں یہ سب نہیں چلتا چاہے آپ 18 سال کے ہو 22 سال کے ہوں پچاس سال کے ہوں سو سال کے ہوں آپکو محترم اور محترمہ کرکے بلایا جائے گا اور بہین بھائی کزنز دوست وغیرہ نام سے بلائیں گے چاہے بہین بھائیوں میں دس سال کا ہی فرق کیوں نہ ہو ۔۔۔!!!
    عمومآ ایسا ہوتا ہے لڑکی 30 سال کی عمر کے بعد اگر اپنی ڈائٹ کا خیال نہ رکھے تو اس کا فگر خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔۔پھر تھوڑا تھوڑا مل کر دریا مطلب ڈبر” بننے والا جیسا معاملہ ہوجاتا ہے اگر احتیاط نہ کی جائے تو اور لڑکیاں تو اپنا فگر برقرار رکھنے کے لیے بھوکی پیاسی رہ کراپنے "مقصد” میں کامیاب ہوجاتی ہیں جو بےچاری نہیں ہوسکتی اس میں کامیاب ۔اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ گھر میں خوشحالی اور مرغن کھانے کھانا اور خاص طور پر باہر سے ذیادہ ہیوی کھانا لیکر کھانے سے ڈائٹ کاسارا پلان فیل ہوجاتا ہے پھر ان خواتین کواپنے سے ڈیڑھ دوسال چھوٹے لوگوں کی باجی آنٹی بننا پڑتا ہے یا تو اپنی ڈائٹ پر کنٹرول رکھیں یا پھر یہ سب برداشت کرنے کی اپنے اندر قوت پیدا کریں ۔۔
    بعض لوگ عمر چور ہوتے ہیں جو مرضی ہے کھائیں پئیں کسی ایکسرسائز کی ضرورت ہی نہیں سلم سمارٹ ایسے لوگ میری نظر میں خوش قسمت ترین انسان ہیں جو بنا محنت کے پھل کھا رہے ہوتے ہیں ان کو اپنے سے ایک دو سال بڑے لوگ باجی آنٹی کی شکل میں نظر آتے ہیں ۔کبھی کبھی تو لوگ آپکو اتنا سینئر قرار دینے کی کوشش کرنے لگتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے بس حضرت آدم علیہ السلام اور اماں ہوا کے بعد آپ ہی آئے تھے اس دنیا میں ۔۔
    بعض لوگ ڈائٹ پلان ایکسرسائز سب کرنے کے باوجود اپنی پسند کا فگر قائم نہیں رکھ سکتے اس کی بڑی وجہ موروثی بیماری بھی ہوتی ہے ان کے خاندان میں یہ شروع سے چلی آرہی ہوتی ہے اور بدقسمتی سے یہ ان لوگوں کو بھی تحفہ مل جاتا ہے ان چاہا تحفہ ۔۔!!!!
    لیکن اس میں اس انسان کا کوئی قصور نہیں ہوتا تو کرنا ایسا چاہئیے اسے کبھی اپنی کمزوری نہ بننے دیں اپنی شخصیت میں اعتماد پیدا کریں کوئی جو مرضی ہے آپ کے بارے میں سوچے ۔آپ نے اپنے آپکو مین ٹین کرکے رکھنا ہے اپنی شخصیت ایسی بنانی ہے کہ آپ ہر عمر میں ہر روپ میں "جازب نظر” آئیں سوچنے کا ٹھیکہ اپنے مخالفین کے پاس رہنے دیں ۔مخالفیں اس لیے کہ جو لوگ اپ کے اپنے ہیں وہ آپکو ہر روپ میں آپ سے پیار کریں گے اور انھیں آپ اچھے لگو گے جن کو آپ اچھے نہیں لگتے ان کو آپ چاہے دنیا کے خوبصورت ترین انسان بن کر بھی آجائیں اچھے نہیں لگیں گے ۔۔۔اس لیے ایسے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دیں دیکھنا آپ کی شخصیت کیسے سنور کر نکھر جائے گی ۔
    رہی بات شکل صورت کی اس پر ایک مکمل آرٹیکل پہلے بھی لکھ چکی بار بار یہ کہوں گی جب ہم کسی کی شکل صورت کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں دراصل ہم مصور کے بنائے شاہکار میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسانوں کی تو اتنی اوقات ہی نہیں ایک بال بھی بنا سکیں اللہ کے غضب سے ہر دم ڈرنا چاہئے اس کی پکڑ بہت سخت ہے ۔۔!!!
    ہمیشہ اپنی عاجزی میں رہیں یہ چار دن کی ذندگی ہے اسے ہنس کے گزار جائیں ۔ خوب صورت ترین ۔امیر ترین ۔ذہین ترین انسان بھی مٹی میں مل جائیں گے یہ ہی انسان کی حقیقت ہے ہماری ازلی "میں "کا خانہ پر کرنے کے لیے اور آجائیں گے ایسے ہی دنیا کا نظام چلتا رہے گا میری ماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ "آج مرگے کل دوسرا دن "تب بہت بچپن تھا اس کہاوت کہ سمجھ نہیں تھی پھر یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ بات کتنی سچ تھی ۔۔!!
    کوشش کریں دنیا میں ایسے کچھ عمل چھوڑ جائیں جو بعد میں ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں ہم انسان تھوڑے خود غرض ٹائپ کے ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے ہماری محفل نیک متقی پرہزگار لوگوں کے ساتھ رہے ان کی برکت سے ہمارے گناہ بھی اللہ معاف کردے اور اللہ انسان کے عمل سے بھی ذیادہ نیت دیکھتا ہے میں نے کبھی نیک نیت انسان کو زلیل ہوتے نہیں دیکھا بس اپنا دل صاف رکھیں پانچ وقت نماز پڑھیں اللہ آپ کے سب راستے آسان کردے گا جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہیں کرتا ان سے بھی عزت احترام محبت سے پیش آنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کی تربیت کتنی نیک ماں نے کی ہے

  • بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

    بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

     بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عیدکی شب ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھ سے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے،کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ دیاماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کردیں۔ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 

    4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکراکربولی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔وقت گزرتاگیاجب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمین سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔بڑابھائی علحیدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھابہت پریشان تھا میں نے لاکھ روپیہ قرض بھی لے لیا تھا بھوک سر پہ تھی میں حالات سے بہت پریشان کمرے میں اکیلا بیٹھا شاید رو رہا تھا،اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحو س میں نے بیوی کو کہا کچھ بہن کے لئے کچھ تیارکرو،بیوی میرے پاس آکربولی اس کیلئے گوشت یابریانی پکانے کی کوئی ضرورت نہیں،پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل تواویں پریشان ہوتا ہے بچے اسکول میں تھے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا۔شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے۔میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دیناپریشان نہ ہوا کر، جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا کربولی دیکھو اتنے بال سفید ہو گئے وہ جلدی سے جانے لگی میری نظراس کے پیروں کی طرف  پڑی ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی تھی،میں بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھااس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیے سکون آ جائے۔بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے رومال نکال کرآنسوصاف کیا۔یہ کہانی ہمارے موجودہ معاشرے کی عکاسی ہے۔آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اورکہانی بھی پڑھ لیں۔

     اختری بیگم کاتعلق خانیوال کے گاوں مخدوم پورسے ہے،یہ سات اپریل کی صبح اپنے ولدین کی زمین پرقبضہ لینے پہنچیں جوعدالتی حکم کیمطابق ان کے حصے میں آیاتھا،لیکن وہ وہاں سے اپنے پاؤں پرچل کرواپس نہ جاسکی،کیوں نہ جاسکی یہ کہانی بھیانک ہے،ان کے بھائیوں نے مل کران پرحملہ کیااوران کی ٹانگیں توڑدی، یوں وہ چلنے سے بھی قاصرہوکررہ گئیں،انکے بھائیوں نے جرم تسلیم کرلی،جیل کی ہواکھائی اورکچھ عرصہ بعدضمانت پرباہربھی آگئے۔یہ ہماراسسٹم ہے،اورہمارے ہاں ریاست مدینہ میں یہ قانون بھی ہے اورجائزبھی۔

     آپ ایک دن تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھ لیں پاکستان کاشماران ممالک میں ہوتاہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یاجائیدادکی ملکیت دینے کی شرخ سب سے کم ہے،جائیدادبہنوں کوحصہ دینے والے ملکوں میں پاکستان کاشمار127میں سے 121ویں نمبرپرہے،بلوچستان پاکستان کاوہ صوبہ ہے جہاں خواتین کووراثت دینے کی شرخ صفرہے،یوں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ میں سرکارمدینہ کی دین پرکس حدتک عمل پیراہے،اسلام کے مطابق وراثت میں بہنوں کاباقاعدہ حق مقررہے لیکن ہم اسلام کالبادہ اُڑھ کرجہیزکے نام پراسلام کامذاق اُڑانے کے علاوہ کرکیارہے ہیں،کیایہی اسلام ہے،آپ ایک بارریاست پاکستان کے اس ایکٹ پرہی نظرگھمانے کی سعی کریں جس کے مطابق خاتون کوحق وراثت سے محروم کیے جانے پردس سال قیداوردس لاکھ جرمانے کی سزامقررکی گئی ہے یہ ایکٹ پریونشین اورانٹی ویمن کے نام سے 2011میں منظورہوئی،لیکن ہمارے یہاں ایسے کتنے ایکٹ ہوں گے جومنظورتوہوئی ہے لیکن اس پرکوئی بھی شہری عمل کرنے کوتیارہی نہیں، کیایہی ہمارااسلام ہے کیایہی ہماراقانون ہے،ہمیں اسلام کے نام پراسلام کواستعمال کرنے کی بجائے اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہوناہوگا،ہمیں اپنے معاشرے میں عورت کامقام جانناہوگا،جس ہستی کے پاوں تلے جنت ہوتی ہے،ہم انہیں ان کی جائزحقوق سے بھی کیسے محروم کررہے ہیں،آپ ایک دن اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کیاآپ اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہے،کیاآپ اپنے محرم خواتین کے،آپ اپنے بہنوں کے حقوق اداکررہے ہیں؟جس دن آپ اورمیں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچناشروع کرتے ہوئے عمل کریں گے یقین کرلیں،اس دن آپ کوسمجھ آجائیں گے بہنیں منحوس نہیں ہوتیں، اس دن سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی،تبدیلی کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کوبدلنے کانام ہے توبس آج سے اپنے آپ کوبدلنے کاآغازکرلیں۔

    Twitter ID:    @mumtazshigri12

  •   بالی وڈ کے دو بڑے سوپر سٹارز کی کہانی تحریر علی اصغر

         

                    سوپر اسٹار بمقابلہ سوپر اسٹار               
    یہ بات ہے آج سے بارہ سال پہلے سن 2009 کی جب آئیفا ایوارڈ کی تقریب کے دوران راجیش کھنا اپنی ہی فلم کا ایک ایک شعر سنا رہے تھے تو اس میں چھپا درد سامنے نظر آ رہا تھا با لی وڈ کا پہلا سوپرسٹار  بالی ووڈ کی شہنشاہ کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پاکر اسٹیج پر کھڑا تھا
    ہندوستانی سینماؤں کی ان دو بڑی شخصیت کی کہانی اسٹیج پر بارہ سال پہلے 2009 میں پہنچی مگر ان کا رشتہ 40 سال پرانا ہے تب امیتابھ امیتابھ نہیں تھے اور راجیش کھناان دنوں سوپر اسٹار کاکا کہلائے  جاتے تھے تھے 1969 میں آئے امیتابھ بچن کو پہلی کامیابی کے لیے چار سال انتظار کرنا پڑا اور سال 1973 میں امیتابھ کو فلم زنجیر سے بڑی کامیابی ملی جبکہ امیتابھ بچن سے تین سال پہلے بالی وڈ میں آئے راجیش کھنا سال 1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار 15 سپر ہٹ موویز دے چکے تھے تب راجیش کھنا سوپراسٹار تھے اور امیتابھ بچن اپنی ایک ہٹ کے لیے ترس رہے تھے تب پہلی بار دونوں ایک فلم میں ملے فلم کا نام تھا آنند اس فلم میں راجیش کھنا کو ایک ایک ڈائیلاگ کے اوپر داد مل رہی تھی امیتابھ بچن اس فلم میں ایک سائیڈ رول کر رہے تھے اور راجیش کھنا فلم کی جان تھے لیکن پردے کے پیچھے کی کہانی کچھ اور تھی وہ سال تھا سال 1971 مشہور کہانی نگار علی پیٹر جون  لکھتے ہیں رشی کیش مکھرجی امیتابھ اور راجیش کھنا کو لے کر ایک فلم بنانا چاہتے تھے بتایا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے کہا کہ اس فلم سے امیتابھ بچن کو ہٹا لیجئے ایک سپر اسٹار کا ایک نئے ہیرو کے لیے ایسا کہنا کافی حیران کن تھا اس وقت لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ راجیش کھنا اپنے آپ کو بہت جلدی غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور  امیتابھ کو لے کر بھی ان کے من میں یہی خیال تھا اس کے دو سال کے بعد 1973 میں آئی نمک حرام نے ایک دفعہ پھر امیتابھ بچن اور راجیش کھنا کی جوڑی کو سپر ہٹ کر دیا
    ان دونوں کی جوڑی پردے پر کامیاب تو ہوئی مگر اس بار یہ کردار فلم آنند کی طرح کمزور نہیں تھا بلکہ اس بار راجیش کھنا کی ٹکر کا کردار تھا یہ وہ وقت تھا جب امیتابھ بچن کو کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنی تھی اور راجیش کھنا کو انہیں سیڑھیوں سے نیچے اترنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ان دونوں کے درمیان کچھ اور کھچڑی پک چکی تھی علی پیٹر جون راجیش کھنا کے بہت ہی قریب تھے وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں میں ایک فلم باورچی بن رہی تھی باورچی کے سیٹ کے پر جب امیتابھ بچن جیا بچن کو لینے آتے تھے تو راجیش کھنا ان سے کنارہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ وہ صرف جیا بچن سے ہی ہیلو ہائے کرتے تھے ایک دن جیا بچن نے راجیش کھنا کو جھاڑتے ہوئے  کہا کہ دیکھ لینا ایک دن وہ تم سے بڑا سٹار بنے گا یہ واقعہ علی پیٹر جون کے سامنے ہوا تھا وہ کہتے ہیں کہ جیا بچن نے کہا کہ وہ آدمی اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے وہ کوئی خدا نہیں ہے ایک آدمی کو دوسرے آدمی کو عزت دینے میں کیا جاتا ہے ایسا علی لکھتے ہیں ہیں کہ اس وقت جیابچن نے کھڑے ہو کر کہا کہ دیکھ لینا ایک وقت آئے گا یہ جو آدمی میرے ساتھ کھڑا ہے یہ کتنا بڑا اسٹار ہوگا وہ جو اپنے آپ کو خدا سمجھے بیٹھا ہے وہ کہیں کا نہیں رہے گا وہ سال تھا 1972 اس وقت باورچی فلم آئی تھی اس وقت تک راجیش کھنا کے نام ایک درجن سے زیادہ سوپر ہٹ موویز تھی تھی اور امیتابھ بچن کو انڈسٹری میں آئے ہوئے صرف تین سال ہوئے تھے  آگے چل کر امیتابھ نے اپنے نام درجنوں سپر ہٹ موویز کی اور راجیش کھنا سٹارڈم کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے امیتابچن کی کامیابی بی اور راجیش کھنا کی ناکامی ریل کی پٹڑیوں کی طرح آگے بڑھتی جا رہی تھی اگلے پندرہ سال تک امیتابھ نے ہر سال کامیاب فلمیں دیں 1973 میں آئی فلم زنجیر سے امیتابھ کو بڑی کامیابی ملی اس کے بعد ابھیمان, نمک حرام, ملی, دیوار, چپکے چپکے, شعلے, کبھی کبھی, ہیراپھیری, قسمیں وعدے, ڈون, ترشول, مقدر کا سکندر اور ان جیسی اور کامیاب فلموں نے اگلے چھ سال میں امیتابھ کو انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ بنا دیا جب کہ راجیش کی اگلی فلمیں باکس آفس پہ دم توڑتی گی1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار پندرہ سوپر ہٹ موویز دینے والے راجیش کھنا کی اگلی فلمیں جیسے کہ مہا چور, عاشقوں بہاروں کا, بنڈل باز, محبوبہ, راجہ رانی, پلکوں کی چھاؤں میں ایسی فلموں نے بالی ووڈ پر پانی بھی نہیں مانگا اور فلاپ ہوتی چلی گئی یہ وہ وقت تھا کہ جب راجیش کھنا کو بچن نام سے نفرت ہوگئی ہے کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے اپنے آپ کو سپر ہٹ ثابت کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں کی مگر امیتابھ بچن کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو
    واپس نہیں لا سکے وہ اپنے دوستوں کو کہا کرتے تھے تھے کہ کے اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں ایسے ایرے غیرے لوگوں سےڈر جاؤں گا جاؤنگا یا اگر آپ ایسا سوچتے بھی ہیں تو آپ کو ہمارا دربار چھوڑنا پڑے گا ہے شاید بچن نام سے یہ نفرت اس لیے بھی تھی تھی کہ راجیش کھنہ نے جو سٹار دم دیکھا آج وہ سٹار دم امیتابھ بچن جی رہے تھے اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد بعد امیتابھ بچن اور راجیش کھنا بمبئی کے ایک ہوٹل میں ایک پارٹی میں اکٹھے  ہوئے تو وہاں پر راجیش کھنہ سے زیادہ لوگ لوگ میتابچن سے آٹو گراف لینے پہنچے راجیش کھنا اس واقعہ کو لے کر اتنا دل برداشتہ ہوئے کے پارٹی ادھوری چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے کمرے میں جا کے خوب شراب پی  اور خدا سے کہنے لگے لگے کہ میرے ساتھ ہی کیوں کیوں اینگری ینگ مین کے کردار میں امیتابھ بچن کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھےجارہے تھے اور راجیش کھنا اپنے آپ کو دہرانے کے چکر میں فلاپ ہوتے جارہے تھے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ راجیش کھنا کے چاہنے والوں نے ایک اور سپر سٹار کو چن لیا تھا اور وہ تھا امیتابھ بچن
    اس کے بعد 80کی دہائی میں جب امیتابھ بچن کا ستارہ مدہم پڑنے لگا تو انہوں نے سیاست کا رخ کیا یا اس کے بعد 90 کی دہائی میں راجیش کھنہ نے بھی یہی کام کیا اور وہ بھی سیاست میں آگئے یہ کہا جاتا ہے ہے کہ راجیوگاندھی امیتابھ بچن کو جلانے کے لیے راجیش کھنا کو سیاست میں لے کر آئے تھے 1991 میں ایل کے ایڈوانی کے مد مقابل الیکشن لڑیں 1991 میں جب ایل کے ایڈوانی کے مدمقابل امریتا سونی کو کھڑا کرنا تھا مگر الیکشن سے کچھ دن پہلے اچانک راجیش کھنا کا نام اناؤنس کردیا گیا اور اس کے بعد جب الیکشن ہوا  تو راجیش کھنا وہ الیکشن ہار گئے گئے اور وہ بھی صرف پندرہ سو ووٹ کے فرق سے اس کے بعد جب ایل کے ایڈوانی نے نئی دلی والی سیٹ چھوڑی تو راجیش کھنا فلمی دنیا کے ایک اور ستارے شتروگھن سہنا کو ہرا کر اسمبلی میں پہنچ گئے اس طرح ان کا اسمبلی میں پہنچنے کا خواب پورا ہوگیا اس کے بعد اگلے الیکشن میں راجیش کھنا ہار گئے اور وہ بھی امیتابھ بچن کی طرح الٹے پاؤں سیاست سے واپس فلمی نگری کی جانب آ گئے  اکیسویں صدی کے شروع میں میں امیتابھ بچن کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام سے ایک دفعہ پھر کامیابیوں کی سیڑھی پر پہنچ گئے ہاں اب راجیش کھنا میں اتنی ہمت باقی نہیں تھی اور انہوں نے فلموں میں ہی اپنے آپ کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہو سکا اس کے بعد 2009 میں امیتابچن کی ملاقات ایک دفعہ پھر راجیش کھنا کے ساتھ ہوئی جہاں امیتابھ بچن نے راجیش کھنا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا اس کے تین سال کے بعد جب راجیش کھنا دنیا سے گئے تو امیتابچن وہاں پر اپنے بیٹے ابھیشیک بچن کے ساتھ پہنچے  آخری بار دیدار کرنے بالی ووڈ کا پہلا سوپر اسٹار اس دنیا سے جا رہا تھا اور عجیب اتفاق دیکھئے یے کہ امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ نے جو پہلی فلم اکٹھے کی تھی آنند اس میں بھی فلم کا کردار آنند یعنی راجیش کھنا جب دنیا سے جاتا ہے امیتابھ بچن اس کے بعد اس کے پاس آتے ہیں ہیں یہ تھی آج کی کہانی  اچھی لگی ہو ہو تو کمنٹس میں بتائیے گا 

    Thanks
    Ali Asgher khan 
    Twitter account @Ali_khan_AJK 
    Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن ایک ایسا احساس ہے جب انسان خود کو دو اونچی دیواروں کے درمیان اندھیرے میں پھنسے ہوئے محسوس کرتا ہے، جس کے آگے کوئی راستہ نہیں ہے اور کوئی راستہ پیچھے نہیں ہے. ماضی کی ہر بری یاد کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے یہ اسی لمحے ہوا ہے، جبکہ مستقبل کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے اس میں موجودہ مصیبت کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ہوگا. ڈپریشن منفی خیالات سوچنے سے نہیں ہوتا. بلکہ یہ ڈپریشن ہی ہے جو منفی خیالات کا سبب بنتا ہے. افسردہ شخص ایک خوشگوار واقعہ کے بارے میں صرف تب سوچ سکتا ہے تاکہ اس کے دوران ہونے والی منفی باتوں کو یاد کر سکے. ڈپریشن کی منفیت ان کے تمام خیالات کو ایک سیاہ بادل کی طرح ڈھانپ دیتی ہے.

    جب ہم افسردہ ہوتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ہم اس بڑی، وسیع دنیا میں اپنے آپ پر مصیبتیں چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں، بغیر کسی مقصد یا حکمت کے زندگی گزار رہے ہیں. دن بہ دن گزرتا ہے، ہم تکلیف اٹھاتے ہیں، اور ہم کسی چیز کے لیے بہتر نہیں ہیں….!

    ڈپریشن سے نمٹنے کی طرف پہلا قدم صرف یہ ماننا اور سمجھنا ہے کہ خدا ہمارے تمام مسائل کو حل کر سکتا ہے اور ہماری ڈپریشن کو فوری طور پر دور کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسا نہ کرنے کا انتخاب کر رہا ہے. آپ نے اسے ترک نہیں کیا ہے، وہ آپ کے ساتھ ایسا ہونے دے رہا ہے اور ہر سیکنڈ میں آپ کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہا ہے، وہ آپ کے دل میں چھپی بات تک کو جانتا ہے. یہ کبھی کبھی بہت عجیب بھی لگتا ہے، کہ ایک مہربان خدا اس کی اجازت کیوں دے گا؟ کچھ لوگ اس کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں.

    یاد رکھیں آپ کا ڈپریشن بے مقصد نہیں ہے. آپ کی افسردگی آپ اور خدا کے درمیان معاملہ ہے. وہ مکمل طور پر اس کا اختیار رکھتے ہیں کہ جب وہ چاہیں اسے روک دیں.

    جب آپ کو تکلیف ہوتی ہے ، اگر آپ خدا سے پیٹھ پھیرتے ہیں اور اس کی مدد نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو آپ اس کے امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں. وہ جو رویہ آپ کو دکھانا چاہتا ہے وہ تسلیم اور قبولیت میں سے ایک ہے، وہ رویہ جو قرآن کے نبی سب دکھاتے ہیں خدا کی طرف دکھاتے ہیں. آپ کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ، "خدا ، میں جانتا ہوں کہ آپ اس دنیا کی ہر چیز کے مالک ہیں، دنیا کا پتا پتا آپ کے حکم کا پابند ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے تکلیف میں دیکھ رہے ہیں. جو گناہ مجھے یہاں لائے ہیں انہیں معاف کر دیں، میری جو غلطیاں ہیں وہ معاف کریں، میری رہنمائی کریں اور میرے علم میں اضافہ کریں. مجھے سیکھنے میں مدد کریں کہ مجھے کیا سیکھنا ہے. مجھے ہر دکھ غم تکلیف سے نجات دیں. بے شک آپ کسی جاندار پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے مگر مجھے معاف کریں اور میرا شمار اپنے چند خاص بندوں میں کریں جنہیں سکون اور ہدایت نصیب ہوئی ہے.”

    مایوسی کفر ہے، بس یاد رکھیے کہ اللّٰہ ہیں نا ہمارے ساتھ. وہ سب کچھ وقت آنے پر خود ہی ٹھیک کر دیں گے انشاء اللہ…..!