Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • 7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت  تحریر : احسان اللہ خان

    7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت تحریر : احسان اللہ خان

    جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔

    مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ "الحق اکوڑہ خٹک” کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔ 

    "یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها” 

    اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی "الحق رسالے” میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ 

    "ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا”

    اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔

    سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

    جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔

    سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟

    جواب۔آتی تهی۔

    سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟

    جواب۔بالکل نہیں۔

    سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا” خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟

    جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں”جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں "کفردون کفر” کی روایت درج کی ہے۔

    سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟

    جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔

    سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟

    جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔

    سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

    (یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

    اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟

    جواب۔ نہیں تھے۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

    جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )

    سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟

    جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔

    سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا” سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی”

    جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی "البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه” )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!

    (اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )

    13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمدنورانی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب، چودہری ظہور الہی صاحب، مسٹر غلام فاروق صاحب”سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔

    کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا "حاصل مغز "کیسے لکھا جائے۔؟

    مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔

    22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔

    مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ” باقی نہ رہے۔

    اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔

    پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔

    مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب )

    اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔

    جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔

    بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔

    عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔

    اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔

    پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔

    وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )

    مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ 

    اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔

    چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔

    مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔

    تاریخی فیصلہ۔۔۔

    7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔

    دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔

    "جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔

    اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔

    بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔

    اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔  تحریر:- تیمور خان

    نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔ تحریر:- تیمور خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں انسانی زندگی کے کسی گوشے کو نامکمل اور ادھورا نہیں چھوڑا گیا انسان کی فطرت اور اس کے تبیعت کے جتنے بھی تقاضے ہیں ان تمام کو بخوبی سر انجام دینے کے لئے اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ماننے والوں کو مکمل اصول اور ضوابط عطا فرمائے ہیں یہاں تک کہ انسان کی نجی زندگی ہو یا اس کی معاشی اور اجتماعی زندگی ہو زندگی کہ ہر موڑ پر اسلام نے رہنما اصولوں کے ذریعے مسلمانوں کو نجات اور کامیابی کا راستہ بتایا ہے انسان کی جو فطری ضرورتیں ہیں جو انسان کے ساتھ پیدا کی گئیں ہیں۔ ان فطری ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت انسان کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کا اور شادی کرنا بھی ہے شادی کرنا اور نکاح کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے جہاں ایک مرد اور عورت کی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بقائے نسل انسانی کے لئے توال اور تناسل کا ایک بہت بڑا زریعہ بھی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا میں سب سے پہلے اس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو بشر اور انسان بنا کہ پیدا فرمایا ادم علیہ السلام سے آج تک جتنے انسان آیے ہیں یہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کہلاتے ہیں لیکن یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی قدرت سے پیدا فرمایا بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا فرمانے کے بعد اللہ نے یہ اصول بنایا ایک قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا کہ ادم علیہ السلام کے بعد جو انسان بھی اس دنیا میں آئے گا اس کے لئے ایک مرد اور ایک عورت کی ضرورت ہو گی اگر اللہ تبارک وتعالیٰ چاہیے تو بغیر کسی مرد اور عورت کی بھی کسی انسان کو پیدا کر دے جتنے انسانوں کا قیامت تک اس دنیا میں آنا ہیں تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کن فیکون تو وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ اصول اور ضوابط جو پیدا فرمائے ہیں اور ہمیں ان اصولوں کے مطابق چلنے کا کہا ہے یاد رکھیں ان اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے بقا کے لئے شادی کو نکاح کو ایک اہم جز  انسانی زندگی کا قرار دیا ہے۔

    اسی لئے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جب پیدا فرمایا، تو آپ جنت میں رہتے تھے جنت میں ٹہلتے تھے، لیکن چونکہ دوسرا کوئی انسان اس وقت نہیں تھا اس دنیا میں اس کائنات میں ایک ہی انسان تھے اس لئے ان کے فرشتے بھی ہوا کرتے ان کے ساتھ جننات بھی ہوا کرتے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مختلف نعمتیں ان کی ارد گرد ہوتی لیکن ان کو انسیت حاصل نہ ہوتی، کہ ہر ایک شے اپنی جنس انس اور  محبت حاصل کرتی  ہے، ایک انسان کو آپ دنیا کی ساری نعمتیں دے دیں لیکن اگر اس کے پاس کوئی انسان نہ ہو تو اس کی زندگی خوشحال نہیں ہو گی وہ چاہے گا کہ میرے ساتھ میری ہی جنس کا کوئی انسان ہو تاکہ اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کی شب و روز بسر کر سکوں۔

    آدم علیہ السلام فطرتی انسانی کے مطابق ان کو جب انسیت جنت میں نہ ملی، ایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جب آدم علیہ السلام آرام فرما رہے تھے جب آپ بیدار ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے سوتے ہوئے آپ کے بائیں پسلی سے اماں حوا کو پیدا فرمایا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوئی اور جونہی آپ نے ہاتھ بڑھانا چاہا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آواز دی  اے آدم اس انسان کو جو تیری ہی جنس سے پیدا کی گئی ہے تیری ہی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اس انسان ہو عورت کہتے ہیں یہ تمہاری انسیت کی کمی کو پورا کرے گی تمہاری فطری ضرورتوں کو پورا کرے گی لیکن اس کو ہاتھ لگانے کے آپ کو مہر دینا پڑے گا، تمہارا نکاح ہوگا ادم علیہ السلام نے پوچھا اے اللہ اس کا مہر کیا ہوگا یہ کیوں کر میرے لئے حلال ہوگی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا تم ایک مرتبہ نبی آخر الزمان جو تیری ہی اولاد سے پیدا ہوگا سب سے آخری نبی ہوگا، تم ایک مرتبہ ان پہ درود پڑھو یہی تمہارے اور اماں حوا کا حق مہر ہوگا، تو سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ درود یہی حق مہر تھا  اور اس کے بعد حضرت آدم اور اماں حوا جنت میں پھرتے تھے، پھر جب اللہ نے آدم اور حوا کو دنیا میں بھیجا دنیا میں آنے کے بعد جب ان کا آپس میں ملاپ ہوا اور نسل انسانی کی ابتداء ہوئی تو آج تک دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں یہ سب اسی نکاح کا نتیجہ ہے۔

    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نکاح ایسی چیز ہے جو انسان کی جہاں فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے وہاں  نسل انسانی کی بقاء اور اس میں پروان چڑھانے کے لئے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کو بہت بڑا زریعہ قرار دیا گیا ہے، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں میں سے اللہ کی ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اللہ نے تمہاری جنس سے ہی جوڑے پیدا فرمائے، مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد کو پیدا فرمایا مرد اور عورت کے جوڑے کے ملاپ کو اس کا فائدہ اللہ نے فرمایا اسی لئے کے تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو اور پھر انسانی جوڑے کے درمیان اللہ نے محبت کو پیدا فرمایا دلی محبت کو اللہ نے پیدا فرمایا، لیکن اس کے برعکس اگر ہم دیکھیں کہ آج دنیا کتنی ہی پرفتن ہو چکی ہے طلاق کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے ایک دوسرے سے جدائی اور خلاء کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی میاں بیوی کی محبت کا جو رشتہ ہے وہ آج بھی قائم ہے اس لئے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قانون ہے اور انسان کی فطرت اور تبیعت کے عین مطابق ہے۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا اے نوجوان، اپنے امت کے نوجوانوں سے خطاب کیا تم میں سے جو بھی شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے تو وہ فوراً نکاح کرے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا یہ انسان کے شرم گاہ کو محفوظ کر لیتا ہے اور انسان کی آنکھوں کو نیچے کر لیتا ہے یہ آنکھوں میں نظروں میں حیا پیدا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے قرآن مجید فرقان حمید میں زنا کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگر العیاذ باللہ غیر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے تو ان کے لئے سو کوڑے ہے، اگر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے یا ان میں سے یا زانی اور مزنیا میں کوئی ایک شادی شدہ ہے تو پھر ان کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیاہے اب زنا ہوا کیوں کیونکہ اس مرد کی جو حواہشات ہے وہ پوری نہیں ہوئی۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا زنا کا درواز بند کرنے کے لئے جب تم میں سے کسی کی اولاد بالغ ہو جائے اور نکاح کے قابل ہو جائے تو پھر تم ایسا رشتہ دیکھو کہ جس کے دین اور اخلاقی سے تم رازی ہو مرد اور عورت کے لئے ایسا رشتہ ایے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری بیٹی کے لئے دین دار ہے تو آپ نے فرمایا پھر سوچ سے کام نہ لو فوراً ان کا نکاح کرو اور اگر تم ان سب کے باوجود بھی نکاح نہیں کرو گے تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا پھر زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ اور وہ فساد یہی ہے کہ نہ عورت کی عزت محفوظ رہے گی اور نہ مرد کی پاک دامنی محفوظ رہے گی اسی لئے چند مواقعے میں آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو بھی جس چیز کے قابل ہو جاؤ تو فوراً ہی کر لیا کرو ان میں سے ایک نکاح کا حکم بھی ہے۔ 

    اور پھر آج کے اس زمانے میں آج کے اس فحاشی اور عریانی کے ماحول میں کہ جہاں کوئی تمیز لڑکوں اور لڑکیوں کی نہیں ہے جہاں کوئی تمیز حیا اور بے حیائ کی نہیں ہے جہاں حیاء کا جنازہ ہمارے معاشرے سے بلکل اٹھ چکا ہے، ایسے حالات میں نکاح کرنا نہایت ہی اہم ہے، یاد رکھیں ہم کہتے ہیں نکاح کرنا سنت ہے شادی کرنا سنت ہے، یاد رکھیں ہر کسی کے لئے سنت نہیں ہے جو ایسا شخص ہے مرد ہے یا عورت اگر اس کی شادی فوراً نہیں کی جائے تو وہ گناہ میں مبتلا ہوگا اس کی آنکھیں جسم گناہ میں مبتلا ہوگا تو پھر اس کے لئے نکاح سنت نہیں فرض عین ہے اور آج کل کے جو نوجوان ہیں ان کے لئے محقیقین نے نکاح کرنا فرض عین قرار دیا، اسی لئے فحاشی کا اور عریانی کا دور ہے تو اسی لئے محقیقین نے نکاح کو فرض عین قرار دیا اس لئے نکاح کرنا یاد رکھیں یہ ہمارے معاشرے ہماری تبیعتوں ہمارے گھرانے اور ہمارے خاندانوں کے لئے پاک دامنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اگر ایک شخص کہ پاس کوئی وسائل  نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور نکاح کے طاقت نہ رکھ سکے تو پھر سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص روزے رکھے کیونکہ روزے اس کے شہوانی خواہشات کو ختم کر دے گی، تو یاد رکھیں دنیا کے تمام معاشروں میں کسی نہ کسی طریقے سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے، تو اس لئے حیا کو پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرے کو باحیا بنانے کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اپنی قردار کی بھی حفاظت کرنی ہے اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے آج کے نوجوان حیاناک بن سکے، پس اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    آج کل سب سے عام پریشانیوں میں سے ایک پریشانی جو ساری دنیا میں لوگوں کو مار رہی ہے وہ سگریٹ نوشی ہے۔ بہت سے لوگ ٹینشن، ذاتی مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں. کچھ لوگ نمائش کے طور پہ بھی شروع کرتے ہیں یا کچھ لوگ لطف اٹھانے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو نوشی ایک قسم کی تفریح اور تواضع کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

     ایک انسان سے دوسرے کو سگریٹ نوشی کی لت پڑ سکتی ہے جب کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے نہ صرف خود کو بلکہ اردگرد کے افراد کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کے جسم کو بہت خطرناک قسم کی بیماریاں دیتی ہے۔ تقریبا ہر کوئی جانتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کا استعمال کرنے سے انسان کی زندگی تقریبا دس سال کم ہوجاتی ہے جبکہ اس گندی عادت کی وجہ سے سال میں ہزاروں سگریٹ پھونک دئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ نوعمر افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں نکوٹین وقتی طور پہ انسان کو سکون پہنچاتی ہے جس سے انسان اس موذی عادت کی لت کا شکار ہوجاتا ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک سست موت کی مانند ہے۔ سگریٹ میں کیا ہے جو ہر روز لاکھوں افراد ہر دن اس کو پھونک رہے ہوتے ہیں سگریٹ میں 4000 سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے آس پاس لوگ خاص طور پہ بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یومیہ اٹھارہ ارب سگریٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ارب 60 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں منہ اور گلے کے کینسر کا بہت اضافہ ہوا ہے دنیا میں سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق روز کا ایک سگریٹ بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان 50 فیصد اور سٹروک کا 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک ارب افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 33 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین ہیں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    سگریٹ بنانے والی کمپنیاں نت نئی مصنوعات متعارف کرائی رہتی ہیں، ہر دور میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایسی مصنوعات تیار کرکے دعوی کیا جاتا رہا کہ اس سے نقصانات کم ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد لوگوں کو تمباکو کا عادی کرنا ہوتا ہے دوسری جانب e-cigarette وائپ بھی سالوں سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات ایک بڑی انڈسٹری بنتی جارہی ہیں لیکن پیکنگ چاہے جیسی بھی ہو لیکن یہ چھپانا آسان نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس سے لوگ چھوڑنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور تناو میں سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ تمباکو نوشی آپکو اندر سے مار ڈالتی ہے وہ تمباکو نوشی نہیں کررہے بلکہ اپنے لیے مضر بیماریاں خرید رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا جانتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے،حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ‘چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور سنجیدہ مہم نہیں چلاتیں اور نہ ہی حکومتوں کی جانب سے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

    tweets @KharnalZ

  •  کامِل یَقِین تحریر: محمد اسعد لعل

     کامِل یَقِین تحریر: محمد اسعد لعل

    علاقے میں قحط سالی تھی اور جانور سب کچھ کھا کر فارغ ہو گئے تھے مزید کچھ کھانے کو رہا نہیں تھا ،مویشی مالکان نہایت پریشان تھے، اس دوران مولوی اللہ وسایا نے جمعہ کے خطبے میں یقین کے ساتھ یہ بات بتائی کہ اگر اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر دریا کو حکم دیا جائے تو وہ بھی لاج رکھ لیتا ہے، وہیں خطبے  میں ایک بکروال  مولوی اللہ وسایا کی باتیں بڑے غور سے سن رہا  تھا ، مولوی صاحب کی بات اس کے دل میں گھر کر گئی، اس نے واپس آ کر اپنی بکریاں کھولیں اور سیدھا دریا کی طرف چل پڑا،

    بکروال نے دریا کے پاس پہنچ کر اونچی آواز میں اللہ کا نام لیا اور بکریوں کو دریا کی طرف ہانک دیا۔بکروال اور اس کی بکریاں خیرو عافیت سے دریا کے اس پار پہنچ گئے۔چنانچہ دریا کے پار اب تک کوئی نہیں جا سکا تھا تو اس لیے وہاں  ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ بکروال بہت خوش تھا کیوں کہ اس کی بہت بڑی پریشانی دور ہو گئی تھی۔ ، اب تو یہ اس کا معمول بن گیا کہ وہ بکریاں پار چھوڑ کر خود واپس آ جاتا اور شام کو جا کر واپس لے آتا،۔

    اس کی بکریوں کا وزن دگنا چوگنا ہو گیا تو لوگ چونکے اوراس سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو کیا کھلاتا ہے، وہ سیدھا سادہ صاف دل انسان تھا، صاف صاف بات بتا دی کہ جناب ہم تو دریا پار اپنی بکریاں چرانے جاتے ہیں، یہ بات پورے علاقے میں پھیل گئی۔جب  بات مولوی اللہ وسایا تک پہنچی تو وہ اس بکروال کے پاس آیا اور اس سے قصہ کی حقیقت کے بارے میں پوچھا جو وہ گاؤں والوں سے سن کر آیا تھا۔

    بکروال نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے ، میں آپ کا شکر ادا کرنے کے لیے آنے ہی والا تھا کہ آپ نے جو جمعہ کے خطبے میں بتایا تھا میں نے وہی کیا اور اللہ کا نام لے کے بکریوں کے ساتھ دریا پار کر گیا۔مولوی اللہ وسایا حیران ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے اور ایسی باتیں تو وہ ہر جمعے لوگوں کا ایمان مضبوط کرنے کے لیے کرتا ہے۔

    مولوی اللہ وسایا کو بکروال کی بات پر یقین نہ آیا  اس لیے کل صبح اس نے خود تجربہ کرنے کا سوچا۔ صبح علاقے کے لوگ اور بکروال بھی دریا کے پاس پہنچ گئے۔ایک  دو دفعہ اللہ وسایا نےدل ہی دل میں تجربہ نہ کرنے کا سوچا پر اب پورا  گاؤں مولوی صاحب کا کرشمہ دیکھنے کو پہنچ چکے تھے  اس لیے مولونااللہ وسایا کے لیے پیچھے ہٹ جانا ممکن نہ تھا۔علاقے کے لوگ مولانا اللہ وسایا کے حق میں تعریفی موشگافیاں کر رہے تھے۔

    آخر کار مولوی صاحب نے رسہ منگوایا اور اُس رسے سے خود کو درخت سے باندھ لیااور پھر ڈرتے ڈرتے ڈھیلا ڈھالا سا بسم اللہ پڑھا اور دریا پر چلنا شروع ہو گئے، مولانا کا پہلا قدم ہی دریا کے پانی کے اندر چلا گیا،مولوی اللہ وسایا لڑکھڑانے لگا اور وہ ہڑبڑاہٹ میں یہ بھی بھول گیا کہ اس نے خود کی حفاظت کے لیے رسہ باندھ رکھا ہے۔بہہ جانے کے خوف کی وجہ سے مولوی اللہ وسایا اپنے  حواس میں نہ رہا ، اور علاقے کے لوگوں نے رسہ کھینچ کر مولاناصاحب کو دریا سے باہر نکال لیا۔

    یہ منظر دیکھ کر بکروال حیران تھا ،لہٰذا اس کے اپنے یقین پر اس منظر کا کوئی اثر  نہ پڑا، کیونکہ اس کا اللہ پر یقین کامل تھا۔ اس نے بسم اللہ کہہ کر بکریوں کو پانی کی طرف اشارہ کیا اور دریا پار کر گیا، لوگ اسے ولی اللہ سمجھ رہے تھے اور اس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مگر وہ سیدھا مولوی اللہ وسایا کے پاس آیا اور کہا کہ مولوی صاحب مجھے آپ کی بسم اللہ کی بیماری کا پتہ چل گیا،

    بکروال نے کہا کہ مولوی صاحب یہ جو رسہ آپ کی کمر کے ساتھ بندھا ہوا ہے یہ آپ کی بسم اللہ کی بیماری ہے، آپ کو اللہ  کے نام سے زیادہ اس رسے پر یقین تھا ، میرے اللہ نے میرے یقین کی لاج رکھ لی مگر آپ نے بسم اللہ پر یقین نہیں کیا اس لیےاللہ نے آپ کو رسوا کر دیا۔ یہی کچھ حال ہمارا بھی ہے، ہر ایک نماز ،ہر ایک دعا یقین سے خالی ہے۔

    اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں صرف اللہ پر توکل اور یقین بنائے رکھنا چاہیے۔اگر اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ کیا تو سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی پختگی کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔اللہ نگہبان
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں جہاں دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے وہیں ہمارے ملک پاکستان میں بھی سائنسی ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یقیناً یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے انتخابات کے طرز عمل میں بہت بڑا انقلاب لا سکتی ہےـ یہ ٹیکنالوجی بہت پہلے ہی متعارف کروائی جاچکی ہے اور کئی ممالک اس کا استعمال کر رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر چکا ہےـ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سے وابستگی کی وجہ سے یہ بات میرے لیے قابلِ رشک ہے کہ اب ہمارے ملک میں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی-
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم):
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین دو یونٹس پر مشتمل ہے، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ- بیلٹ یونٹ وہ ڈیوائس ہے جو کہ ووٹر استعمال کرے گا اس ڈیوائس پر تمام امیدواران کے نام اور ان کے انتخابی نشان بنے ہوں گے- ہر امیدوار اور اس کے انتخابی نشان کے سامنے ایک بٹن بنایا گیا ہے اسی بٹن کو دبا کر ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکے گا۔ ایک بیلٹ یونٹ پر 16 امیدواران کے نام درج ہوسکتے ہیں اگر کسی حلقے میں امیدواران کی تعداد 16 سے تجاوزکرتی ہے تو دو سے زیادہ بیلٹ یونٹ بیک وقت استعمال ہوسکتے ہیں۔
    بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ کو آپس میں پانچ میٹر کیبل سے جوڑا جاتا ہے۔
    کنٹرول یونٹ کا اختیار پریزائیڈنگ افسر یا پولنگ آفیسر کے پاس ہوتا ہے اور صرف وہی اس کو آپریٹ کر سکتا ہے۔
    ووٹر کی تصدیق کے بعد پولنگ آفیسر کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن کو دبائے گا تب ووٹر جا کر بیلٹ یونٹ پر ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہوگا۔ اسی طرح ووٹر کی تصدیق اور کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن دبانے کرنے کے بغیر دوسرا ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے گا۔ پولنگ آفیسر ہر ووٹر کی تصدیق کرنے کے بعد بیلٹ بٹن دبائے گا تب جاکر ووٹرز ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہونگے۔
    ووٹ کاسٹ کرنے پر بیلٹ مشین سے پرچی باہر نکلے گی جس پرانتخاب کردہ امیدوار کا نام، انتخابی نشان اور ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی درج ہوگی، ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی مخصوص ہوگی اوراسی طرح سے ہر ووٹر کو مختلف ٹریکنگ آئی ڈی ملے گی۔ اس پرچی کو ووٹر ساتھ موجود بیلٹ باکس میں ڈالے گا یہی کاغذی ووٹ بعد میں ڈیجیٹل نتائج کے ساتھ موازنے کے لئے استعمال ہو سکیں گے۔
    کنٹرول یونٹ کے اندر دو خفیہ سیل کیے گئے بٹن ہوتے ہیں ایک ریزلٹ اور دوسرا کلوز کا بٹن ہوتا ہے۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے پر پولنگ افسر کلوز کا بٹن دبا کر ووٹنگ روک دیگا اس کے بعد بیلٹ یونٹ پر موجود کوئی بھی بٹن قابلِ استعمال نہیں ہوگا۔ رزلٹ بٹن دبانے سے کنٹرول یونٹ پر موجود سکرین کل کاسٹ کیے گئے ووٹس اور ہر امیدوار کا علیحدہ علیحدہ نتائج دیکھائے گی-

    کیا یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے ہیک ہو سکتی ہے؟
    یہ ایک سٹینڈ اعلون مشین ہے۔ مختصر یہ کہ یہ مشین بیرونی آلات پرانحصار نہیں کرتی ، یعنی کہ نہ یہ وائی فائی سے کنیکٹ ہوسکتی ہے اور نا ہی بلوٹوتھ کے ساتھ، اور نہ اس میں کوئی یوایس بی یا باہر کی چیز لگ سکتی ہے- حتیٰ کہ اس میں بجلی کی تار بھی نہیں لگ سکتی ہے ۔ یہ مشین مکمل طور پر خشک بیٹری پر چلتی ہے، لہذا یہ مشین ہیک نہیں ہو سکتی۔

    مگر ہیک ہو بھی سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    جب بات اس مشین کی سکیورٹی اوراس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقلی پر آجائے تو یہاں پر اس کے ہیک ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، یعنی ناقص سکیورٹی یا آپس میں جوڑ توڑ کی وجہ سے اگر کسی غیرذمہ دار شخص کو اس مشین تک رسائی حاصل ہوجائے تو یقیناً یہ مشین ہیک ہو سکتی ہے۔
    کنٹرول یونٹ پر ڈسپلے سکرین لگی ہوتی ہے جو کہ رزلٹ ڈسپلے کرتی ہے-

    اگر اسی طرح کی ایک نقلی ڈسپلے سکرین بنایی جائے جس کے نیچے بلوٹوتھ ڈیوائس نصب کی جائے اور اسی ڈسپلے سکرین کو کنٹرول یونٹ پر موجود اصلی ڈسپلے سکرین کے ساتھ تبدیل کیا جائے، اب اس سے ہوگا یہ کہ کنٹرول یونٹ اور سمارٹ فون کے درمیان بلوٹوتھ کے زریعے رابطہ قائم ہوگا- اور اسی رابطے کے ذریعے سے پولنگ ختم ہونے کے بعد اپنے مرضی کے رزلٹ شو کرائے جا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ محض ایک خیالی بات ہے۔
    اللہ تعالی پاکستان اور پاکستانیوں کو ہر میدان میں سرخرو فرمائے۔ آمین۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔!!!
    Follow on Twitter & Instagram: @imshehzadahmad

  • ‏طالبان اور آئندہ کا لائحہ عمل تحریر: فاروق

    ‏طالبان اور آئندہ کا لائحہ عمل تحریر: فاروق

    طالبان ایک سوچ کا نام ہے اور اسی طرح امریکی مفادات بھی، گویا ایک سوچ ہار گئی یا یوں کہئیے کہ ایک سوچ جیت گئی۔ آخر کار امریکہ نے ایک دن تو جانا ہی تھا وجوہات کو اگر ایک طرف بھی رکھیں، امریکہ چلا گیا اور افغانستان میں طالبان بلا شبہ فاتح قرار پائے۔
    اگر زندگی کے کسی بھی پہلو کو دیکھیں تو زیادہ تعریف اسی کھلاڑی کی ہوتی ہے جو winning shot لگاتا ہے یا جو گول کرتا ہے یا جو آخر میں کوئی امتحان پاس کرتا ہے، ٹیم ورک میں دوسرے قدرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مختصرا” کہہ سکتے ہیں کہ طالبان ناقابل تسخیر بن کر ابھرے ہیں۔
    مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے کہ طالبان مستقبل میں دنیا کے بارے اپنا رویہ کیسے رکھ پاتے ہیں۔ شروع میں تو ہر نئی دلہن کی ہر بات اور ہر نخرہ بھلا لگتا ہے مگر وہی ساس بہو کے مسائل کے اثرات کچھ عرصہ بعد محسوس ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ابھی مغرب یا مغرب نواز گروہوں کو افغانستان کی جمہوریت، حقوق نسواُ، مذہبی رحجانات اور جزا سزا کے طریقہ کار کے متعلق بہت پریشانی لاحق ہے مگر خود پچھلے بیس برسوں میں تمام تر وسائل ہونے کہ باوجود ایسا نظام وضع نہیں کر پائے کہ طالبان کمزور رہتے اور عوام جدت پسند ہو جاتے۔

    میری غرض کچھ ہٹ کر ہے، میں دیکھنا چاہوں گا کہ افغانستان میں طالبان کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے، طالبان پاکستان گریز قوتوں سے کتنا گریز کرتے ہیں، تحریک طالبان پاکستان سے کیا رویہ اپنایا جاتا ہے، ہندوستان کو کس حد تک اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے، پاکستان کی متعین شدہ سرحدوں کی کتنی پاسداری کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ، گویا پاکستان کے مفادات کا تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جا سکتا ہے ورنہ ہماری حالت عبداللہ کی شادی میں بیگانے جیسی ہو گی۔
    دنیا میں بہت ساری تحاریک چلی ہیں اور کامیابی سے نتائج حاصل کر چکی ہیں، یعنی مقاصد مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر طالبان کا مقصد امریکہ کو شکست دینا تھا تو وہ حاصل ہو چکا، اگر افغان عوام کی نمائیندہ حکومت مقصد ہے تو اس کا موقع مل چکا ہے، اگر دنیا میں امن درکار ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی پاسداری چاہئیے اور مذہبی رواداری چاہئیے تو اس کا موقع بھی انہیں مل چکا ہے۔
    مگر یہ سب اتنا آسان نہیں ہو گا۔ افغانستان کا مذہبی طبقہ، روشن خیال افغان، طالبان کا سیاسی ونگ اور جنگجو ونگ اور قبائلی معاشرہ ایک ایسی مسدس بناتے ہیں اور اس کے علاوہ اگر وہاں پر موجود فرقہ واریت، مختلف نسلوں اور بیرونی اثرات کو بھی مدنظر رکھیں تو طالبان کے لئیے uphill task ابھی باقی ہے اور مجھے خوف ہے کہ ایک مخصوص سوچ کا حامل گروہ اتنے ساروں محاذوں کو کیسے سنبھال پائے گا۔ میرا ملک کیسے بچ پائے گا کہ درآمد شدہ سوچ کا مقابلہ کر پائے گا۔
    ہمیں ہر فیصلہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل ذمہ داری سے کرنے ہوں گے اور ذہن میں رکھنا ہو گا کہ طالبان کامیاب ہوئے ہیں، ہم نہیں، جنگ طالبان نے لڑی ہے پاکستان نے نہیں۔ اپنے مسائل خود افغانستان نے حل کرنے ہیں ہم نے نہیں۔

  • اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    تعلیم کے دائرہ کار میں اسکول کے طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ اسکول کی دنیا میں داخل ہونے سے قبل چھوٹے بچوں کو بھی اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے تعلیم کی دنیا میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور انہیں روزمرہ زندگی میں اس کا اضافہ اور نفاذ ضروری ہے۔ موجودہ دور میں طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ ساتھ طلبہ میں بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً ایلیمنٹری اسکول کے وہ بچے جنہوں نے تمباکو نوشی کی ہے، ڈیٹنگ کی ہے اور دیگر، طلبہ میں اسلام کو ابھارنے سے اور اچھی سمت کی طرف راغب کرنے سے پھر طلبہ جدید دور کے منفی اثرات سے بچ جائیں گے۔

     اسلام ایک طرز زندگی ہے، اگر ہم میں اور ہماری زندگی میں کوئی مذہب نہیں تو پھر زندگی غیر منظم ہو جائے گی، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی رہنما اصول نہیں ہیں، مذہب میں ہر چیز کا قرآن و احادیث میں اہتمام کیا گیا ہے، دل کی نیت سے شروع، عبادت، رویہ، تعلیم، خرید و فروخت یا معیشت، سماجی جیسا کہ آیت 255 میں بیان کیا گیا ہے، سورہ بقرہ۔

    طالب علموں کے لئے اسلامی تعلیم کے فوائد میں کئی چیزیں شامل ہیں:

     اول، بچوں کے روحانی معاملات میں اگر بچوں نے مدارس سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے، مثلاً باجماعت نماز ادا کرنا، والدین یا اساتذہ سے ہاتھ ملانا، یقیناً درخواست دینے میں طلبہ کو واقعی ماحول سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، خاندانی ماحول وہ اہم چیز ہے جو والدین کی زمہ داری ہوتی ہے، والدین کو روزمرہ زندگی میں نفاذ کے لئے بچوں کو ہدایت اور معاونت کرنا ضروری ہے، طلبہ کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے اس کے بعد والدین کو اپنے بچوں کے رشتوں کی نگرانی بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کیا جائے، جدید دور میں اس کی جتنی زیادہ روحانی گہرائی ہوگی وہ نقصان سے بچ سکے گا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا ہے۔

    دوسرا یہ کہ طرز عمل یا اخلاق کے اعتبار سے اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے، مثلاً والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار، ہر ایک کے ساتھ، شائستہ، ہر ایک کی مدد کرنے میں آگے، ایک دوسرے کی مدد کرنا، اس مقام پر طالب علموں کو والدین اور اساتذہ کے رویے یا اخلاق سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اسلامی مذہب کے علم اور اچھے اخلاقی رویے کے ساتھ طالب علموں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

     

     طلباء کو اسلامی تعلیم فراہم کرنے اور خاندانی ماحول، والدین، تعلقات، اساتذہ کے تعاون سے، جو اس کے بعد زندگی میں لگائے گئے ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو مدد ملے گی جو جدید دور میں طلباء کو دوچار کر چکے ہیں۔

     اسلامی تعلیم کا استعمال:

     1) مسلم طالب علموں کے لئے موجود صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لئے جو مخلوق کے طور پر تعلیم حاصل کر سکتی ہے

    2) آئندہ نسلوں یا لوگوں کے ممکنہ رہنماؤں کی حیثیت سے طلباء کو اسلامی مذہب کی ثقافتی اقدار کو ختم کرنا۔

     3) چوں کہ اسلامی تعلیم سائنس قرآن و حدیث پر مبنی ہے، جس میں سے دونوں عربی زبان استعمال کرتے ہیں، اس لیے مسلمان طلبہ زبان کی تربیت اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔

     4) طلباء کو یہ سمجھ بوجھ دینا کہ وہ صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ہے جو قرآن و حدیث کی رہنمائی کرتا ہے، بلکہ وہ انڈونیشیا کا شہری بھی ہے جس کے پاس قوم کا فلسفہ حیات یعنی پنکسیلا اور 1945 کا آئین ہے۔

     آئیے ایک اچھے پائلٹ کی شکل میں طلباء کو زمانے کے نقصان سے بچانے میں مدد کریں یا کسی عظیم مذہب (اسلام) کی شان و شوکت کے لئے، آنے والی نسلوں کے بچوں کو اسلامی تعلیم دیں۔

    Twitter Account: @Asma_smt

  • ہم پاکستانی ہیں۔پاکستان ہمارا ہے! تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    ہم پاکستانی ہیں۔پاکستان ہمارا ہے! تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ یہ نعرہ تحریک آزادی کشمیر کے ایک عظیم مجاہد اورحریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی زبان سے ایسے وقت میں جاری ہوا تھا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر میں عروج پر تھی۔ سید علی گیلانی نے اس نعرہ کو ایسے وقت میں مقبوضہ کشمیر کی وادی میں بلند کیا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جبر پاکستان کے نام لینے کو بھی جرم قرار دے کر نوجوانوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتی تھی۔بطور پاکستانی جب میں اس نعرہ کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ نعرہ فقط ایک لفاظی نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک طرف مظلوموں کی امید ہے تو دوسری طرف پاکستان کے باسیوں کے لئے ایک سبق ہے۔
    یہ نعرہ مظلوموں کی امید ہے کیونکہ سید علی گیلانی اور ان جیسے لاکھوں کشمیری حریت پسند کہ جو ستر سالوں سے بھارت کے ریاستی ظلم و جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آزادی کی قیمت خو ن سے چکانا پڑتی ہے۔و ہ شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ہی ان کی پہلی اور آخری امید بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس بصیرت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر سے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے کا نعرہ بلند ہوا ہے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کشمیری حریت پسند عوام اور رہنما پاکستان کو اپنا وطن اور گھر ہی سمجھتے ہیں۔ یقینا اگر کشمیر سید علی گیلانی کی زندگی میں ہی آزادی حاصل کرلیتا تو سید صاحب کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل کر لیتے۔
    بہر حال جہاں تک کشمیری حریت پسندوں کا تعلق ہے تو مجھے تو ان کے اس نعرے کی گہرائی سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اور اس امید کو جنم دیتی ہے کہ عنقریب کشمیر بھارت کے شیطانی چنگل سے آزاد ہو گا اور پاکستا ن کا پرچم علی الاعلان کشمیر کی وادیوں میں لہراتے ہوئے سید علی گیلانی، اشرف صحرائی، شہید وانی اور دیگر شہداء و مجاہدین کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کریگا۔
    بطور پاکستان کے شہری اور باسی ہونے کے ناطے ہمیں بھی سید علی گیلانی کے اس نعرے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے سے کچھ تو سبق حاصل کرنا چاہئیے۔ ہمیں اس نعرے کی گہرائی اور بصیرت کو درک کرنا چاہئیے۔ اگر چہ خدا وند کریم نے مملکت خداداد پاکستان کو آزادی جیسی نعمت سے نوازا ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم ان الفاظ پر غور کریں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ کیاہمارے اعمال اور افعال آج واقعی اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سوچا ہے یا محسوس کیا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ جبکہ سید علی گیلانی اور ان سے قبل حریت پسندوں نے ستر سالوں میں اس نعرے کے لئے کئی قربانیاں دے کر اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
    جب اردگردماحول اور معاشرے پر نظردوڑاتا ہوں تو مجھے سید علی گیلانی او ر ان کشمیری حریت پسندوں کے سامنے اپنی نظریں جھکانی پڑتی ہیں کہ جنہوں نے ظلم وجبر اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مقابلہ میں اعلان جہاد بلند کیا اور کہا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستا ن ہمارا ہے۔
    ایسا لگتاہے کہ ہمارے معاشرے کو آج اس با ت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ہمیں اس بات کو شدت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو ہم بھی باقی نہ رہیں گے۔آج اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستا ن کو بنانے کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے جو بے مثال قربانیاں دی تھیں ان قربانیوں کا تسلسل آج بھی جاری ہے اور افواج پاکستان، سیکورٹی اداروں سمیت عوام کے مختلف طبقات نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ اگر چہ پاکستان کے ازلی دشمنوں نے کبھی پاکستان کو فرقہ واریت کے نام پر لہو لہان کیا ہے تو کبھی لسانی اختلافات میں الجھا کر لہو لہان کیا ہے۔ اسی طرح جب کسی کا کچھ بس نہیں چلا تو اس نے عالمی استعمار ی ایجنڈاکی تکمیل کے لئے پاکستان کی دفاع کی سرخ لکیر افواج پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کر لئے۔کسی نے کرپشن کر کے پاکستان کو لہو لہان کیا تو کسی نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مظلوم اور نادار عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو لہو لہان کیا۔اسی طرح کسی نے بم دھماکے کئے اور کسی نے قتل و غارت گری کے ذریعہ اور کسی نے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دی تو کسی نے لسانیت کی آگ بھڑکائی۔یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں عام ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں مجھے جب سید علی گیلانی کا یہ نعرہ یاد آتا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم پاکستانیوں نے بھی کبھی اس بات کو درک کیا ہوتا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ جی ہاں پاکستان ہمارا ہے۔
    اگر یہ احساس جاگ جاتا تو شاید اپنے وطن سے ہم بہت سی ان برائیوں اور مسائل کی جڑوں کو اکھاڑپھیکنتے کہ جو صرف اسی سبب پیدا ہو رہی ہیں کہ ہم مجموعی طور پر اس احساس سے خالی ہو چکے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ہم یہاں فرقوں میں بٹ کر نفرت کا بازار گرم کر رہے ہیں، لسانی اختلاف کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر دقت کے ساتھ غورکرنا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہماراہے۔جب ہم اس بات کو محسوس کریں گے کہ پاکستان ہمارا ہے تو یقینا اس کی ترقی اور بقاء کے لئے اسے لہو لہان کرنے کی بجائے اپنے لہو سے اس کی آبیاری کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ ہمیں اپنے اندر اور آنے والی نسلوں کو سید علی گیلانی کے اس نعرے سے ہی احساس دلوانا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ تا کہ مستقبل میں ہماری نسل نو اس احساس کے ساتھ وطن عزیز کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی میں پیش پیش رہے۔ سید علی گیلانی میں آ پ کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں کہ آپ کی وفات کے دن اس نعرے یعنی ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کی گونج نے ایک نئے احساس کو جنم دیا ہے۔یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے تو پھر ہمیں اپنا رویہ اور طرز تفکر بھی اسی نعرے کے ساتھ ساتھ بدلنا ہو گا اور اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے

  • جدید ٹیکنالوجی کا دور تحریر:شھریار سیالوی

    آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہیں پر حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا بھی یے۔جس سے ہمارا معاشرہ مزید تباہی و بربادی کیطرف جارہا ہے۔لوگ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کھوچکے ہیں۔بس اپنی خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں ان خواہشات کی تکمیل کیلئے ہر جائز و ناجائز رستہ اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔اچھے اور برے کی تمیز میں فرق کئے بغیر انسان دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبتا چلاجارہا ہے اور انسان گمراہی کے اندھیروں کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے جن کے پورا ہونے پر انسان قلبی سکون حاصل نہیں کرپاتا اور اسے زندگی ادھوری ادھوری سی لگتی ہے۔انسان جب نفس کا غلام بن جائے تو اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔یہ نفس ہی ہے جو انسان کو بار بار اکساتا ہے کہ اس شخص کے پاس تو یہ ہے اور تمہارے پاس کیا ہے؟تمہارے پاس تو کھانے کیلئے اچھا طعام تک نہیں۔کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہارے پاس وافر مقدار میں اشیاء خورد و نوش ہوں اور آسائشوں سے مزین گھر ہو۔کیا تم پرسکون اور معیاری زندگی نہیں گزارنا چاہتے؟جب یہ خیال انسان کے دماغ پر سوار ہو تو وہ اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نکل پڑتا ہے۔اس کی راہ میں سیدھا رستہ بھی آتا ہے اور الٹا بھی یہاں سیدھے سے مراد حلال کا رستہ اور الٹے سے مراد حرام کا رستہ ہے اور جب انسان کو اپنے رستے کا تعین کرنا ہوتا ہے تو اسے اپنے بےلگام نفس کا اکسانا دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔جس کی بنا پر وہ سیدھے رستے کے بجائے اپنے قدم الٹی جانب موڑ لیتا ہے۔

    حرام و حلال کی تمیز ہر باشعور انسان بالخصوص ہر مسلمان پر فرض ہے۔اللہ رب العزت نے انسانی زندگی کے ہر معاملات میں حرام و حلال کا فرق رکھا ہے۔ہمارے معاشرے میں لوگوں نے روزی اور مال کی حد تک حلال و حرام کا نظریہ رکھتے ہیں اور اسی کی افادیت پر زور دیتے ہیں۔اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہےکہ جو رزق و معاش حلال ذریعے سے کمایا ہو وہ انسان کے جسم کے اندر سرایت کرکے آپکی ذات کا حصہ بن جاتی ہے اور حرام کے ذرائع سے آئی ہوئی آمدنی نہ تو جسم کا حصہ بنتی ہے نہ تو ذات کا۔آجکل اولاد کی نافرمانی کا رونا رویا جاتا ہے کہ ہمارے بچے خیال نہیں رکھتے ہمارا اور ہمیں وقت نہیں دیتے۔وہ بچہ کیا اطاعت اور خدمت کے اصولوں سے روشناس ہوگا۔جس نے پیدائش کے بعد آنکھ کھولتے ہی حرام لقمے سے آغاز کیا۔اس کی رگوں میں حرام کی آمیزش کرنیوالے یہ بھول گئے تھے کہ کل کو جب بیج پھل پھول کے افزائش پائے گا تو اس کی آبپاری ویسے ہی ہوگی جیسے اس میں سختی اور نرمی ہوگی۔شاخ جتنی لچک دار ہوگی اتنی ہی آسانی سے مڑجاتی یے اس پر کسی قسم کے موسم کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہی لچک اگر بچے کے خون میں ہوگی تو بچہ اپنے والدین سے رخ نہیں موڑے گا۔اس میں سب سے اہم بات جو ہے وہ "بنیاد” ہے۔انسان کی بنیاد جتنی مضبوط اور پائیدار ہوگی اتنی ہی سب کیلئے سودہ مند ہوگی۔اس کے برعکس بنیاد اگر کھوکھلی ہوگی تو وہ کھوکھلاپن اس کی زندگی کے ہر معاملے میں آویزاں ہوگا۔جس کی بناء پر ایسے افراد نہ تو معاشرے کی ترقی کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔

    ان کھوکھکی اور کمزور بنیادوں کی ضمانت کون دے گا۔ان کو پالنے والے یا پھر وہ لوگ خود؟حلال رزق اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔حلال میں اللہ نے بڑا سکون رکھا ہے۔اگرچہ تھوڑا قلیل ہوتا ہےلیکن برکت بہت ہوتی ہے۔محنت اور حلال آمدنی حرام کے ہر ایک لقمے سے معتبر ہوتی ہے۔حلال کی جو اہمیت ہے اس میں رتی برابر بھی شک کی گنجائش باقی نہیں لیکن ہماری زندگی میں کچھ امور ایسے بھی ہیں جہاں اللہ نے حلال و حرام میں فرق واضح رکھا ہے اور حدود متعین کی ہے۔جو بھی اس حد کو پار کرتا ہے تو وہ حرام کے زمرے میں آجاتا ہے اور جو کام متعین شدہ حدود کے اندر رہ کر کیا جائے اس کو حلال تصور کیا جاتا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں اخلاق و کردار بھی اچھے اور برے کے طور پر کسی کو متعارف کروایا جاتا ہے۔اب یہاں غور کیا جائے تو ذہن میں حلال و حرام ابھر کے سامنے آجاتے ہیں۔اصل میں حقیقت یہ ہے کہ ہم گہرائی میں جانا پسند ہی نہیں کرتے اور ان سب الفاظوں کا استعمال بھی ضرورت کے تحت کرتے ہیں۔اپنے ذہن کو اس بات کی غور و فکر کرنے کی عادت ضرور ڈالیں کہ کیا اچھا ہے کیا برا؟ حلال و حرام کے کس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ان صورتوں میں انسان کی قابلیت اور عقلی معیار کے پیمانے واضح ہوتے ہیں۔جہاں سوچ اور فکر میں اتار چڑھاو کی کمی ہوگی وہی عمل میں کمزوری ظاہر ہونے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں اور انسان درست راہ سے اندھی تقلید میں گمراہ ہو جاتا ہے۔

    بعض اوقات ہم دوسروں کیلئے راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں اور انکو تکلیف دیتے ہیں۔یہ سب اعمال ہمارے خیالات کا واضح اظہار ہوتا ہے جو عملی زندگی میں کسی کیلئے مشکلات کا باعث بنتا ہے اور یہی خیالات حرام کے زمرے میں آتے ہیں۔اس کے برعکس جب کوئی خیال کسی دوسرے انسان کو آسانیاں اور خوشگوار ماحول فراہم کرتا ہے تو وہ حلال کے زمرے میں آتا ہے۔ان سب خیالات کا کنڑول انسان کے اپنے اوپر مخصر ہے۔اگر مثال میں یہ دوں کہ اگر ایک انسان کی نگاہ میں غلاظت ہو اور شرم و حیا کا عنصر موجود نہ ہو تو یہ سوال سیدھا اس کی سوچ پر ہوگا۔لہذا یہ چیز انسان پر مخصر ہے کہ جب چاہے جسطرح چاہے درست سمت کیطرف موڑ لے اور جب چاہے غلط سمت کیطرف موڑ لے۔بعض اوقات یہ سوچ کا بہاو بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن جاتا ہے اور نقصان کسی بھی قسم کا ہو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا،جانی ہو یا مالی یہ سب نقصانات حرام کے دائرے میں آئیں گے۔اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے (آمین)

  • سگریٹ نوشی کے دماغی صحت پر اثرات تحریر: ماہ رخ اعظم

    سگریٹ نوشی کے دماغی صحت پر اثرات تحریر: ماہ رخ اعظم


    ہماری نوجوان نسل کے لیے سگریٹ نوشی، جسمانی صحت کے مقابلے میں ذہنی اور دماغی صحت کیلٸےزیادہ نقصان دہ ہے۔ ذہنی صحت کی بیماریاں کیونکہ نظر نہیں آتیں۔ اس لیے اسے نظر انداز کردیاجاتاہے

    اگر آپ کو پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار  ہیں تو ، تمباکو نوشی اسے زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے۔. آپ سگریٹ نوشی شروع کر سکتے ہیں یا جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کی پریشانی یا افسردگی میں مدد کرتا ہے ، اور پھر یہ معلوم کریں کہ جب آپ تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کی پریشانی / افسردگی بہت خراب ہوجاتی ہے۔.

    لہذا اگر آپ تمباکو نوشی کرتے رہتے ہیں تو ، یہ ایک شیطانی چکر بن جاتا ہے۔. سگریٹ نوشی آپ کی جسمانی صحت کو بھی متاثر کرسکتی ہے ، جس کی وجہ سے سانس کی قلت ، زیادہ باقاعدہ نزلہ یا فلو ، پیلے رنگ کے داغ دار انگلیاں اور طویل مدتی ، دل کی بیماری اور کینسر جیسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔

    ‘نوجوان نسل میں  احساسات اور جذبات کی شدت، ڈوپامین ہارمون کی مرہون منت ہوتی ہے۔ سگریٹ ، تمباکو، نیکوٹین،  اور ڈوپامین ہارمون کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے۔ جس کے باعث تمباکو نوشی کرنے والوں کے مزاجوں پہ ، تھکن، چڑچڑے پن، تناو اور موڈ سوئنگ کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی میں مبتلا فرد یہ سمجھتا ہے کہ یہ  دماغی اثرات وقتی ہے  بلکہ یہ یہ دیرپا ہوتے رہتے ہیں کیونکہ جب ایک بار ہمارا دماغ نکوٹین کا عادی بن جاتا ہے  تو جب تک جسم کو نکوٹین نہیں مہیا کی جائے گی۔ تو  ہمارا دماغ ڈوپامین پیدا نہیں کرئے گا۔ سگریٹ نوشی  کرنے والے ہمیشہ نیروسیزم یعنی شک کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں خود پر اعتماد نہیں رہتا ہے۔ بلکہ سامنے والے کو اور اپنے عزیز  و اقارب کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے آپس میں تعلقات خراب ہونے کے ساتھ، انہیں یہ لگتا ہے کہ سگریٹ نوشی کر کے ہی وہ اپنا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی کا سب سے بڑا اثر دماغ  اور ہماری یاداشت کو  ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے پھیپڑوں اور دماغ، دونوں کو ہی آکسیجن کی ضرورت رہتی ہے۔ نکوٹین کے استعمال سے دماغ میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سیکھنے، سمجھنے ، بولنے اورنئی نئی چیزیں کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ نا صرف دماغی خلیوں کو بلکہ ہپوکیمپس  دماغ کا وہ حصہ، جو یادداشت کو محفوظ کرتا ہے اسکو بھی متاثر کرتا ہے۔

    انسانی جسم میں ایسے ہارمون پاٸے جاتے  ہیں۔ جو تناٶ ، پریشانی اور مصاٸب کو دور کر دیتے ہیں۔ لیکن نکوٹین کا عادی فرد کا جسم خود تناٶ اور  پریشانی  کو دور نہیں کرتا۔ بلکہ وہ سگریٹ پینے پر ہی تناو اور پریشانی  کم کرنے والے ہارمون خارج کرتا ہے۔ اور سگریٹ نوشی کرنے والے احباب  نیند اور بھوک کی کمی کا شکار رہتے ہیں

    نیکوٹین آپ کے مرکزی اعصابی نظام کی رفتار کو تیز کرتی ہے اور آپ کو ایسا محسوس کرواتی ہے کہ آپ کے پاس زیادہ توانائی ہے۔. یہ دماغ کو بری طرح  متاثر کرسکتا ہے  کیونکہ تمباکو نوشی کے بعد آپ کو ‘اچھا’ بھلا محسوس ہو مگر نیکوٹین انتہائی جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے لہذا  اس کی لت لگ جانے کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔.

    جب آپ پہلی بار تمباکو نوشی کرنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا سر بھاری ہو رہا یا  آپ کو  چکر آرہے ہیں ، یا آپ کے دل کی دھڑکن کو تیز تر بنا سکتا ہے ، آپ کو سر درد دے سکتا ہے اور آپ کو کھانسی ہوسکتی ہے. ان میں سے زیادہ تر اثرات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں جب آپ تمباکو نوشی کرتے رہتے ہیں تو آپ کی دماغ کی سوچنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔. وقت گزرنے کے ساتھ ، آپ کا دماغ نیکوٹین سمیت سگریٹ میں موجود کیمیکلوں کا عادی ہوجاتا ہے

    والدین  کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں پر توجہ دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ڈانٹ ڈپٹ سے روکا نہیں جا سکتا اس لیے  والدین انکو پیار سے سمجھائیں کہ آپ نے مزہ لینے کیلٸے سگریٹ پی ہے۔ آپ میرے لیے بہت عزیز ہو، بہت انمول  ہو۔ والدین کو نوجوان نسل کویقین دلانا ہو گا کہ وہ ان سے غیر مشروط الفت کرتے ہیں اورانہیں مستقل مدد کی ضرورت ہو گی۔

     ہر طرح کے میڈیا کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے  کردار ادا کرنا ہوگا۔ نواجون نسل کو  صرف ظاہری صحت کا ہی نہیں بلکہ دماغی صحت کے نقصانات بتائیں۔ انہیں سمجھانا پڑے گا اور بار بار انہیں بتانا پڑے گا۔ ان کا  مستقبل  متاثر ہوگا۔ کیونکہ نوجوان نسل چھپ کر پی رہے ہیں۔ تو انہیں روکا جاٸیں  ان کی خوارک کا بھی خیال رکھیں۔ انہیں مصروف رکھیں اور انکی  توجہ بٹائیں اور سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں پاکستان میں سگریٹ کی قیمت سب سے کم ہے۔ سگریٹ کی قیمت کو بڑھایا جانا چاہیے اور کم سن افراد کو سگریٹ کی خرید و فروخت نہ کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیے تاکہ ہم اپنی نوجوان  سگریٹ نوشی کے ظاہری اور دماغی اثرات سے بچایا جاسکے۔

    ‎@ItxMahrukh_