Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2  تحریر خالد عمران خان

    بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2 تحریر خالد عمران خان

    سماجی سرگرمی میں دلچسپی کا نقصان
     تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طلاق بچوں کو سماجی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جن بچوں کا خاندان طلاق سے گزر رہا ہے انہیں دوسروں سے متعلق مشکل وقت درپیش ہوسکتا ہے ، اور ان کا سماجی رابطے کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ان کا خاندان ہی واحد خاندان ہے جس نے طلاق حاصل کرلی ہے۔اور ان کے ماں پاب اس طرح الگ ہو رہے ہیں وہ اپنے ماں اور پاب کے ساتھ ایک ساتھ نہں رہ سکیں گے. یہ بات ان پے بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔

     تبدیلی کو اپنانے میں دشواری۔
     طلاق کے بعد بچوں کو زیادہ سے نئے ماحول کو قبول کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ فوراََ ہونے والی تبدیلی کو وہ جلدی قبول نہں کر پاتے انکو بہت مشکل لگ رہا ہوتا ہے خود کو تبدیل کرنا اور نئے تبدیل ماحول میں خود پہلے جیسا رکھنا خود کو اس ماحول میں ڈھالنا اس کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی خاندانی حرکیات ، نیا مکان یا رہائشی صورتحال ، اسکول ، دوست اور بہت کچھ ، سب پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔

     

    جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں بچے ہمیں انکے رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تعلق جیسے معاملات کے لڑائی جھگڑوں کو اور گھر کے بدلتے ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بچے اپنے آپ کو محفوظ بھی نہں محسوس کرتے اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہں کر رہی ہوتے اور اندر ہی اندر جب اس طرح کے غصے یہ پریشانی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وہ انکو کنٹرول بھی نہں کر پا رہے ہوتے ایسے وقت انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کے طلاق جیسے معاملے تک پنچھنے سے پہلے لازمی اگر گھر میں بچے موجود ہیں تو ان کے بارے میں ضرور سوچیں اور سوچ سمجھ کے اس قسم کا فیصلہ کریں کیوں کے اس قسم کے فیصلوں سے سب سے زیادہ اگر کسی پے اثر پڑتا ہے تووہ ہمارے بچے ہیں جن کے لیے اس بات کو قبول کرنا کے ماں باپ ساتھ نہ ہوں اور زندگی بلکل تبدیل ہوجائے اور انکو کسی نئی ماحول کی عادت ڈالنا بہت ہی مشکل ترین مسئلہ ہے ساتھ ہی ان کے تعلیمی معاملات کا خراب ہونا بھی مد نظر رکھنے والی بات ہے۔بچوں سے بات کریں انکے خیالات اور احساسات جانیں اور انکو سمجھنے کے بعد ماں باپ سوچ سمجھ کے اس طرح کے قدم اٹھائیں۔
     طلاق گھر کے افراد میں کئی طرح کے جذبات کو سامنے لا سکتی ہے ، اور اس میں شامل بچے بھی مختلف نہیں ہیں۔ نقصان ، غصہ ، الجھن ، بے چینی ، اور بہت سے دوسرے کے احساسات ، سب اس منتقلی سے آ سکتے ہیں۔ طلاق بچوں کو مغلوب اور جذباتی طور پر حساس محسوس کر سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے جذبات کے لیے ایک ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انکو ضرورت ہوتی ہے کے کوئی بات کرنے والا ، کوئی سننے والا ، وغیرہ – بچے اپنے جذبات پر عمل کرنے کے ذریعے طلاق کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے  تحریر : شفقت مسعود عارف

    غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے تحریر : شفقت مسعود عارف

     اکثر ‏لوگ کہتے ہیں کہ ہم غصے پر کنٹرول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غلط بات کرے ،کوئی گالی دے، کوئی غیر منطقی بات پر ضد کرے تو صرف اس وقت غصہ برداشت نہیں ہوتا

    سوال یہ ہے کہ غصہ برداشت کرنے کا وقت اور کون سا ہوتا ہے؟ برداشت تو تب ہی ہوتی ہے جب کوئی وجہ ہو اور دماغ کی رگوں میں ابال آ رہا ہو

    عام حالات میں اسکی ضرورت ہی کیا ہے؟

    لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں غصہ کیوں اور کب آتا ہے؟ 

    ‏ہم ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں وہ کوئی چیز ہو یا کوئی رائے

    اور ہماری مرضی کے خلاف ہونے پر ہمیں غصہ آتا ہے جو دراصل فطرت کی ورائٹی کا انکار ہے

    سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا

    نہ رائے

    نہ عقیدہ

    نہ دلیل

    سامنے والے کے پاس بھی اپنے جواز ہوتے ہیں اسلئے اختلاف رائے کو ایک فطری عمل سمجھنا اور اسی انداز میں ہینڈل کرنا ضروری ہے جس طرح آپ دوسروں کو غلط سمجھ کر غصہ کرتے ہیں عین اس وقت دوسرے آپ کو غلط سمجھ کر آپ پر ناراض ہو رہے ہوتے ہیں

    اس لئے غصہ نہیں دلیل سے کام لیں اور اس لئے دلیل سے کام لیں کہ دوسرا غلط راستے پر جانے سے بچ جائے

    نیت  بنیادی چیز ہے

    کیا ‏غصہ برا ہے ؟ 

    جواب  ہے نہیں بلکہ غصہ طاقت ہے اس کا غلط استعمال برا ہے

    غصہ طاقت کیسے ہے؟ ‏آپ عام حالت میں کسی کو تھپڑ ماریں اور شدید غصے میں کسی کو تھپڑ ماریں تو کیا فرق ہو گا دونوں میں۔غصے میں دیا دھکا بہت طاقتور ہوتا ہے بہ نسبت عام حالت کے

    کیوں؟ جسم وہی ہاتھ وہی

    پھر ایسا کیوں؟  دراصل غصے میں خون کے بڑھے ہوئے دباو کی وجہ سے آپ کی سوئی ہوئی جسمانی قوتیں زیادہ کام کرتی ہیں

    *اور دماغی طاقتیں کم*

    لیکن غصہ اور جذبات کی زیادتی برداشت کرنے کی کوشش میں ہم ایک غلطی کرتے ہیں

    غصہ فطری جذبہ ہے جذبات زندہ ہونے کی نشانی ہیں مگر ان میں بہہ جانا حماقت

    فطری جذبہ کو دبانے کی کوشش جسم اور نفسیات پر منفی اثر مرتب کرتی ہے

    پھر غصہ پر قابو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

    جوڈو کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ یہ جاپانی کشتی کا فن ہے اس کی تکنیک کا نچوڑ طاقت یا داؤ پیچ میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ 

    دشمن کی قوت کا رخ بدل کر اسی کے خلاف استعمال کر کے اسے شکست دی جائے

    غصہ پر قابو پانے کی اصل تکنیک یہی ہے کہ اس کا رخ بدل دیا جائے

    فوری طورپر الفاظ پر کنٹرول کھو رہے ہوں تو کچھ دیر رک جائیں

    12 منٹ 

    اس 12 منٹ میں موضوع سوچ اور جگہ بدل دیں12 منٹ بعد آپ کا جواب اور ردعمل زیادہ صحیح اور زیادہ متوازن ہو گا مگر 12 منٹ کا مطلب یہ نہیں کہ گھڑی پر وقت دیکھتے رہیں

    غصے یا ٹینشن میں‏12 منٹ رکنے والی تحقیق نئی ہے

    مگر 1400 سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاو بیٹھے ہو تو لیٹ جاو اور پانی پیو

    اس ہدایت کو اس زاویے سے بیان نہیں کیا جاتا کہ غصہ میں اعصاب اور ردعمل تیز ہو جاتے ہیں

    زبان تیز

    دھڑکن تیز

    بلڈ پریشر تیز

    کھڑے ہوں تو ایک جگہ رکانہیں جاتا

    اس تحرک کو سکون میں لانا ضروری ہے اسکے لئے یہ ہدایات ہیں سائنس کہتی کہ اعصاب کو قابو میں آتے 12 منٹ لگتے ہیں لیکن اگر رسول اللہ کی ہدایت پر عمل کریں تو جلدی قابوپا سکتے ہیں

    اگر ‏اللہ نے ہمیں قوت اور طاقت کی نعمت بھی بخشی ہے تو یہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے جس کا ہم سے سوال کیا جائیگا

    کسی کو گرانے سے قبل

    خودکو زیر کرنا سیکھیں

    کسی کو ہرانے کی بجائے اپنانے کی سوچ اپنائیں

    یہی اصل جنگ ہے

    جو آپ نے جیتنی ہے

    ‏ایک بات تسلیم کر لیں

    *اختلاف یقینی ہے 

    آپ کہیں اللہ ایک ہے تو سوا پانچ ارب لوگ کہیں گے جھوٹ ۔سب کچھ آپ کے اختیار میں نہیں جب  یہ بات تسلیم کر لیں گے تو آپ کے ذمہ صرف کوشش کرنا رہ جائیگا

    ‏دراصل ہم لوگ اپنی ذات میں چھوٹے چھوٹے خدا ہیں

    ہم چاہتے ہیں کہ ہر کام، ہر رائے ، ہر نتیجہ ہماری مرضی سے ہو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سب کچھ مرضی سے ہونا صرف اللہ کی صفت ہے

    جس دن ہم یہ بات سمجھ اور تسلیم کر لیں گے اس دن ہمیں

    کسی بھی خلاف مرضی بات یا عمل پر غصہ نہیں آئے گا

    کیونکہ ہم تسلیم کر لیں گے کہ اختلاف ، ورائٹی یہاں اللہ نے رکھی اور حتمی مرضی بھی اسی کی ہے

    اللہ کے نبیوں نے بھی اسی اختلاف کا سامنا کیا کیونکہ وہ بھی خدا نہیں تھے

    تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں

    @shafqatchMM

  • نکاح کی ضرورت و اہمیت  تحریر: نثاراحمد تحریر

    نکاح کی ضرورت و اہمیت تحریر: نثاراحمد تحریر


    اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام اہم ضرورتوں کا انتظام اور اس کے لیے مناسب نظام بھی بنایا۔کھانے کے لیے غذائیں، پینے کے لیے پانی فراہم کیا تو ساتھ ہی حلال وحرام اور جائز و ناجائز کی تفصیلات واضح کرکے اس کا پابند کردیا۔ سانس لینے کے لیے ہوا اور آکسیجن کا فطری انتظام کیا، شجرکاری کی حوصلہ افزائی اور اس کی افادیت کو واضح کیا تو بے ضرورت درخت کاٹنے کو ممنوع قرار دے دیا۔ دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے خاندان کی ضرورت، خاندان کی تشکیل اور وجود کے لیے نکاح کی مشروعیت، نکاح جیسے جائز اور مسنون عمل کی طرف ترغیب، اس کے بے شمار سماجی فوائد، اس پر اجر و ثواب کا وعدہ، ناجائز رشتوں کی قباحت و حرمت، اس کی مذمت، اس پر دنیوی سزا اور اخروی عذاب کو بیان کیا۔ اوراس طرح نکاح و شادی کے بعد ازدواجی تعلق کو نہایت مہذب شائستہ اور مطلوب طریقہ قرار دے کر اس کو نہایت آسان بنادیا۔
    نکاح مرد اور عورت کا خالص نجی اور ذاتی معاملہ ہی نہیں، بلکہ یہ نسل انسانی کے وجود، قیامت تک اس کی بقا و دوام اور بے شمار انسانی وسماجی ضرورتوں اور تقاضوں کی فراہمی اور تکمیل کے لیے اللہ اور رسول کی طرف سے متعین کردہ نہایت مہذب اور شائستہ طریقہ ہے اس لیے آئیے جائزہ لیں کہ نکاح سے کن انسانی و سماجی ضرورتوں کی فراہمی اور تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس کے کیا فوائد اور اس کے نہ ہونے کے کیا نقصانات ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نکاح اور شادی انسانوں کے لیے کیوں ضروری ہے۔
    سکون ومحبت کا ذریعہ:
    اسلام میں نکاح کوکسی نا محرم سے پیار و محبت اور جائز تعلق کی بنیاد قرار دیا گیا اور اسے زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل، سکون و اطمینان اور باہمی الفت و مودت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”یعنی اللہ نے تمہاری ہی نسلوں سے تمہارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت کا انتظام فرمایا اور اس کو اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی قرار دیا۔ (الروم21)
    اللہ کا مطالبہ:
    نکاح صرف انسانوں کی نجی ضرورت اور ان کا اختیاری مسئلہ و فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اللہ نےبے شمار سماجی ضرورتوںاور عفت و پاکدامنی کی خاطر مطلوب و مسنون قرار دیا اور فرمایا ” فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    انبیاء کا طریقہ:
    نکاح عام انسانوں کی ضرورت اور طریقہ کار ہی نہیں بلکہ یہ اللہ کے منتخب کردہ اور کائنات کے سب سے افضل اور دنیا میں آئیڈیل اور اسوہ بناکر بھیجے گئے انبیاء اور رسولوں کی سنت اور طریقہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بیشتر نبیوں کا اسوہ قرار دیا اور فرمایا "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً”ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد 38)
    مختلف رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح وہ سنت ہے جس کے ذریعہ صرف دو لوگوں کو باہمی پیار و محبت اور الفت و مودت کے ساتھ مربوط نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے ایسے نئے رشتے بھی عطا کئے جاتے ہیں جو زندگی خوشگوار بنانے اور اس کی خوشیوں کو دو بالا کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتوں کی طرح نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا "وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا” کہ اللہ نے ہی پانی (انسانی نطفہ) سے انسانو‌ں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتے نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔ (الفرقان 54)
    نبی اکرم کی سنت:
    سورہ رعد آیت نمبر38 میں اللہ تعالی نے نکاح کو بیشتر انبیاء کی سنت قرار دیا اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صرف نجی اور جنسی ضرورت کے بجائے ایک عمومی بڑی سماجی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت، ضرورت اور فضیلت کو مزید واضح کیا اور اس کو خود اپنی سنت بھی قرار دیا اور کئی شادیاں کیں جس کے بے شمار دعوتی و سماجی فائدے ملے اور فرمایا ”النِّكاحُ من سُنَّتي”( ابن ماجة عن عائشة)
    عام جانداروں اور انسان میں فرق:
    اللہ تعالی نے کائنات میں بہت سی جان دار مخلوق پیدا کیے، ان کے اندر جنسی خواہش اور اس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھانے کا انتظام فرمایا لیکن انسانوں اور دوسرے جانداروں میں فرق کرنے کے لیے انسانوں کو نکاح کا مسنون طریقہ دے کر اس کو صرف وقتی ضرورت ہی نہیں رہنے دیا بلکہ عام حالات میں اس کو دائمی اور ایک دوسرے کے تئیں بہت سے حقوق و ذمہ داریوں سے مشروط کردیا اور انہیں عام جانداروں کی طرح آزاد کہیں بھی جنسی تسکین پوری کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس طرح سے نکاح کو انسانوں اور دوسرے عام جانداروں میں فرق کا ایک اہم سبب بھی بنادیا۔
    دنیوی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی سے ایک لڑکا اور لڑکی صرف میاں بیوی ہی نہیں بنتے بلکہ اب وہ دونوں مل کر اپنی ضرورتوں اور بیشتر امور کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی اپنی ذمہ داریاں متعین کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاموں میں معاون و مددگار بن جاتے ہیں اور اس طرح ان کے نجی، خاندانی اور دیگر تمام امور و معاملات بہترین انداز میں منظم طریقہ سے باہمی تعاون اور بہت سی صورتوں میں تو دونوں کے خاندانی افراد کی مشترکہ کوششوں اور محبتوں سے بآسانی انجام پانے لگتے ہیں۔
    خواتین کے حقوق کا تحفظ:
    نکاح کی مشروعیت کے ذریعہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کی ضرورتوں کا زندگی کے ہر مرحلہ میں معقول بندوبست کیا گیا چنانچہ بیوی کی تمام ضرورتوں خاص طور پر مالی مصارف، رہائش و زیبائش اور علاج و معالجہ، بیٹی کی پرورش، تعلیم و تربیت، اس پر آنے والے خرچ اور اس کے نکاح و شادی کی پوری ذمہ داری، اسی طرح ماں کی عزت و تکریم اس کے ساتھ حسن سلوک اور حسب ضرورت ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت اور دیگر تمام متعلقہ امور کی ذمہ داری عام حالات میںمرد پر ڈالی گئی۔
    ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ:
    نکاح کی وجہ سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے تئیں جو حقوق اور ذمہ داریاں عائد کی گئیں اسے صرف ذمہ داری اور بوجھ نہیں بلکہ اجر و ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ بھی بنا دیا گیا ۔ لہذا مرد کے ذریعہ خود اپنی بیوی بچوں پر خرچ کو سب سے بہترین صدقہ قرار دیا گیا ” دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في سبيلِ اللَّه، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في رقَبَةٍ، ودِينَارٌ تصدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذي أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ (مسلم عن أبی ھریرۃ) اسی طرح عورت کے ذریعہ شوہر کی اطاعت پر جنت کی بشارت دے دی گئی. "أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة”(الترمذي عن ام سلمة)
    بھلائی اور خیر کا معیار:
    شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک، اچھے برتاؤ اور احساس ذمہ داری کو ایک اچھا انسان ہونے کا معیار قرار دیا گیا لہذا واضح کردیا گیا کہ کوئی بھی مرد یا عورت ایک اچھا انسان اسی وقت ہو سکتے ہیں جب وہ اپنے اہل و عیال، شوہر و بیوی، بچوں اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کریںاور حدیث میںواضح کردیا گیا کہ خود نبی اکرم نے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی عظمت کا ایک اہم سبب قرار دیا "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي(ترمذى عن عائشۃ)
    نسل انسانی کی وجود و بقاء کا طریقہ:
    نکاح اور شادی صرف جنسی تسکین نجی اور خاندانی ضرورتوں اور ایک دوسرے کی دیگر مصلحتوں کی تکمیل کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ یہ قیامت تک نسل انسانی کی وجود و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کا متعین کردہ اور انبیاء کرام کا اختیار کردہ وہ مہذب اور شائستہ طریقہ ہے جس کا اللہ نے حکم دیا اور فرمایا۔”فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    بچوں کی غذا اور کفالت کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی کو اللہ تعالی نے نسل انسانی کی وجود اور پیدائش کا ذریعہ بنایا اسی طرح بچپن میں بے فکر، بے بس و بے سہارا اور معصوم بچوں کی معقول غذا، دیکھ ریکھ اور پرورش کا انتظام ماں کی بالکل بے لوث ممتا کے ذریعہ اور اس کی دیگر ضرورتوں کی تکمیل اور ہر طرح کی کفالت ارر تعلیم وتربیت کا انتظام باپ کی عنایتوں اور توجہ کے ذریعہ کیا۔
    والدین کے لیے سہارا:
    اگر شادی اور نکاح کے ذریعہ بچپن میں بچوں کی ضروریات کا انتظام کیا گیا تو بڑھاپے میں انہیں بچوں کو والدین کا سرمایہ اور سہارا بنا دیا گیا اور اللہ تعالی کی عبادت کے بعد والدین کو سب سے بڑا رتبہ دیا گیا اور بچوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک، ان کی تمام ضروریات کی فکر اور ان کی ہر طرح خبر گیری فریضہ سمجھ کر انجام دیں۔
    رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی صرف میاں بیوی یا چند سسرالی رشتہ داری کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ اس مقدس عمل نکاح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی رشتہ داری کو مربوط کردیا اور اسی کے ثمرہ کے طور پر دادیہالی اور ننہالی رشتہ داریوںسے بھی نوازا ۔ لہذا دادیہالی رشتہ داروں میں چچا، پھوپھی اور چچازاد و پھوپھی ذاد رشتے، اور ننہالی رشتہ داروں میں ماموں، خالہ اور ماموں زاد و خالہ زاد رشتے عطا فرماکر سماجی ضرورتیںواآسان بنادیں اور باہمی صلہ رحمی کا پابند کیا۔
    عفت و پاکدامنی کا ذریعہ:
    نکاح کو اللہ تعالی نے فطری جنسی خواہشوں کی تکمیل کا شرعی اور شائستہ طریقہ بنایا اور اس طرح انسان کی فطری ضرورت کا ایسا حل پیش کیا جو ایک طرف بے شمار اجر و ثواب کا سبب ہے تو دوسری طرف بدنگاہی سے بچنے کا ذریعہ، عفت و پاکدامنی کا نسخہ اور انسانی عزت وآبرو کے تحفظ کا الہی فطری نظام بھی ہےاسی لیے اس کو عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں بدنگاہی سے بچنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا سبب قرار دیا گیا۔” يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ” (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ)
    نسل انسانی کا تحفظ اور شبہات کاازالہ :
    نکاح اور شادی فطری جنسی خواہشات کی تکمیل، نئی نسل کے وجود، پیدائش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت اور پرورش کا ذریعہ بھی ہے۔اسی لیے خاتون کو بیک وقت ایک مرد کے ساتھ وابستہ کرکے نسل انسانی کا تحفظ، نطفۂ انسانی کے مشتبہ ہونے کے امکان کو ختم کرنے اور نو مولود بچے کے تئیں ماں باپ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کیا گیا اور اس کو یقینی بنادیا گیا کہ اصل باپ اور پرورش وکفالت کا ذمہ دار معلوم و متعین رہے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہے۔
    صدقہ جاریہ:
    شادی، نکاح اور اس کی وجہ سے قائم ازدواجی رشتہ نسل انسانی وجود اور اولاد کی نعمت کے حصول کا جائز ذریعہ ہے اور اولاد کا حصول شادی کے اہم مقاصد میں ہے اسی لیے اولادکے لیے انبیاء کرام نے بھی دعائیں کی اور اللہ نے انھیں نا صرف دنیوی زندگی کی زینت، بڑھاپے کا سہارا اوران کی تربیت کو اخروی زندگی میں بہت سارے اجروثواب کا ذریعہ بنا یا بلکہ والدین کے لیے صدقہ جاریہ بھی بنادیا”
    اجر و ثواب کا ذریعہ:
    مسنون نکاح اورجائز ازدواجی تعلقات آپسی سکون، جنسی تسکین، اولاد کی پیدائش کا سبب، صدقہ جاریہ اور دیگر بہت ساری خوبیوں کے ساتھ اجر و ثواب کا ذریعہ بھی

  • سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن   تحریر: محمد امین 

    سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن تحریر: محمد امین 

    آپ نے اپنا بچپن خوشیوں بہاروں رنگینیوں میں گزارا ہو گا آج بھی بچپن کے وہ سہانے دن یاد آتے ہوں گے اور سوچتے ہونگے کاش  وہی بچپن وہ زندگی کے مزے دوبارہ آجائیں. لیکن آپکے پاس ہی ایک ایسی بستی ایسا معاشرہ ہے جہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر انکا بچپن نہیں ہوتا. آپ نے تو بچپن کھلونوں سے کھیل کر کے گزارا ہو گا مگر انھیں اسی چھوٹی سی عمر میں حالات سے مجبور ہو کر سڑک پر کھلونوں اور کتابوں کی بجائے ہاتھ میں اوزار لیکر کام کرنے نکلنا پڑتا ہے. نہ تو ان کے سر پر چھت ہوتی ہے نہ ہی کوئی سہارا.ان کو پورے خاندان کی زمہ داریاں بچپن میں مل جاتی ہیں. انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہوتا وہ اپنا سارا بچپن سڑک کی غلاظت میں گزار دیتے ہیں. ان بچوں کے لیے کوئی عید کوئی خوشی کوئی تہوار نہیں ہوتا. کتنا درد ہوتا ہو گا ان نونہال بچوں کو جب کھلینے کودنے کی عمر میں انکے ہاتھوں میں مشقت کے چھالے پڑ جاتے ہیں. 

    بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں.لیکن ان بچوں کے ہسنے کھیلنے کے دنوں میں انکو کام پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے.سکول میں جانے کی عمر میں ان معصوم پھولوں کو ہوٹلز, بسوں,چائے خانوں,مارکیٹوں, دکانوں یا ورک شاپس پر مشقت کےلیے لگایا جاتا ہے. آپ نے بےشمار گلشن کے پھولوں کو کچروں کے ڈھیر میں رُلتے دیکھا ہو گا. گلیوں میں بسنے والے بچوں کو کوئی سہارا نہیں دیتا. وہ خود کما کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اسی  سڑک پر سو کر زندگی بسر کرتے ہیں.کچھ غریب خاندان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ معصوم بال بھیک مانگ کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں اور خود زندگی سڑک پر گزار دیتے ہیں.

    اسٹریٹ چائلڈ ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد 150 ملین کے لگ بھگ ہے. لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے.اسٹریٹ چلڈرن ایک معاشرتی چیلنج ہے. انکے پھیلاو کی بنیادی وجوہات غربت,قحط,مہنگائی,شہرکاری بےروزگاری,حکومتی عدم توجہ ہے. یہ خونی معاشرہ ظالم سماج انھیں بھوک اور تنگ دستی کی وجہ سے کچل دیتا ہے.کیونکہ جینے کے لیے خوراک بھی اتنی ہی ضروری ہے جیسے پانی اور سانس. 

    دنیا کے دیگر ترقی پزیر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اسٹریٹ چلڈرن  کا مسئلہ درپیش ہے. عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے. اسکی بڑی وجہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ اور آمدن کے وسائل میں مسلسل کمی ہے. بے روزگاری اور بےگھر افراد کی شرح پہلے ہی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں. اسی وجہ سے جب غریب خاندان غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو بال مزدوری اسٹریٹ چلڈرن جیسے چیزیں پنپنے لگتی ہیں.اور اس وقت یہ ایک المیہ بن چکا ہے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے

    اس بے رحم معاشرے میں ان پھولوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ان سے بچپن میں ہی سخت مشقت کروائی جاتی ہے معمولی باتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. انکی تعلیم اور صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا. طرح طرح کی بے رحمیوں ناانصافیوں,مظالم ,دکھ درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان پھولوں مسل دیتے ہیں. کم عمری میں ہی غلط کاریوں میں لگا دیا جاتا ہے کیونکہ ان معصوم پھولوں کا نگہبان کوئی نہیں ہوتا.بس اوپر آسمان چھت اور سڑک انکا بستر ہے.یہ حالات کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی انکو نہیں تھامتا نہ انکی فریاد سنتا ہے. 

    آخر میں اتنا کہ اب اگر اس لعنت کو ختم کرنا ہے تو حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے. اپنے آس پاس غریب خاندان کے بچوں کی کفالت کا زمہ اٹھانا چاہے یہ ہم پر فرض ہے. معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان بچوں سے مزدوری محنت مشقت کروانے کی بجائے انکی صحت تعلیم اور خوارک کے انکی سپورٹ کرے. اور ریاست تو ماں ہے اس ماں کے ہوتے ہوئے یہ پھول کیوں در بدر سڑکوں کچرے خانوں میں رُل رہے ہیں. اگر یہ معصوم پھول یوں ہی اجڑتے رہے تو یہ چمن بھی اجڑ جانا ہے.افسوس یہ کلیاں پھول کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں

    نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے

    مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے

    ‏Twitter Handle: @ameyynn

  • ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک باپ اور بیٹے کی جو ایک دن اسکوٹر پر کہی جا رہے ہوتے ہیں اور باپ کی نظر اچانک پڑتی ہے روڈ کی سائٹ میں کچھ لڑکے کیچڑ میں کچھ تلاش کر رہے ہیں۔

    تو باپ اپنا اسکوٹر وہاں جاکر روکتا ہے اور جاکر لڑکوں سے پوچھتا ہے کیا تلاش کر رہے ہو یہاں پر؟ تو ایک لڑکا بولتا ہے کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ہے کے سامنے ایک گولڈ کا پھل پڑا ہے ہم اس پھل کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    باپ کا دھیان یہ بات سنتے ہی سونے کے پھل کی طرف جاتا ہے  جو چمک رہا ہوتا ہے اور باپ کے دماگ میں خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں کے کاش یہ پھل میرے بیٹے کے پاس آجائے تو نہ صرف میرے بیٹے کی بلکہ میری بھی قسمت بدل جائے گی۔

    باپ بنا سوچے سمجھے  اپنے بیٹے کو کیچڑ میں دھکا مار دیتا ہے اور بیٹے کو بولتا ہے تجھے کسی بھی قیمت پر یہ سونے کا پھل حاصل کرنا ہے لیکن بیٹے کو وہ پھل نہیں چاہیئے ہوتا أس کے اپنے کچھ اور ہی خواب ہوتے ہیں وہ بہت کوشش کرتا ہے اپنے باپ کو یہ سمجھانے کی کے میری خوشی اس سونے کے پھل میں نہیں ہے میری خوشی کہی اور ہے میرے خواب کچھ اور ہیں لیکن باپ أس کی ایک بات نہیں سنتا باپ أس کو دھکا مارتا ہے کیچڑ میں اور بولتا ہے میں تجھ سے پوچھ نہیں رہا ہوں میں تجھے بتا رہا ہوں کے تجھے وہ سونے کا پھل لیکر آنا ہے۔

    تو بیٹا بھی اپنے باپ کے خواب کو سچ کرنے کے لیئے اپنی پوری جان لگا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کے کسی طرح یہ سونے کا پھل ہاتھ میں آجائے لیکن جیسے جیسے وہ کیچڑ میں ہاتھ پیر مارتا ہے پھل کو پکڑنے کے لیئے اور نیچے دھسنے لگ جاتا ہے اور پھر جا کر بیٹے کو سمجھ آتا ہے کے یہ کیچڑ نہیں ہے یہ دلدل ہے وہ چیختا ہے چلاتا ہے آواز لگاتا ہے لیکن أس کا باپ اس کی ایک بات بھی نہیں سنتے اور کہتے ہیں بہانے نہیں بنا اور بھی لوگ ہیں کیچڑ میں جو کوشش کر رہے ہیں جب وہ کر سکتے ہیں تو پھر تو کیوں نہیں کرسکتا تو ایک بار وہ پھر سے کوشش کرتا ہے اور پوری جان لگا دیتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا ہے اور بیٹا دھیرے دھیرے دھستا چلا جاتا ہے اور مر جاتا ہے۔

    تب جا کر أس کے باپ کو احساس ہوتا ہے کے أس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے وہ وہیں بیٹھ کر رو رہا ہوتا ہے چیخ رہا ہوتا ہے تب وہا سے بزرگ کا گزر ہوتا ہے اور پوچھتا ہے تم کیوں رو رہے ہو؟ پھر باپ أس سونے کے پھل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بزرگ کو اپنی پوری بات بتاتا ہے اور بولتا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے؟ میں تو جو کچھ بھی کیا اپنے بیٹے کی خوشی کے لیئے کیا۔ تو وہ بزرگ أس سونے کے پھل کو بہت غور سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے جس سونے کے پھل کی وجہ سے تم نے اپنے بیٹے کو گوا دیا کم سے کم ایک بار غور سے اس پھل کی طرف دیکھا تو ہوتا کے وہاں پر کوئی پھل ہے بھی یا نہیں یہ سن کر آدمی کو غصّہ آیا اور کہنے لگا سامنے تو نظر آرہا ہے سونے کا پھل آپ کو نہیں نظر آرہا کیا؟ 

    تو وہ بزرگ کیچڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں ایک درخت ہوتا ہے بولتے ہیں وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ ایک سایہ ہے اصلی پھل درخت پر ہے پھر بزرگ أس آدمی کو بولا کے اپنے بیٹے کو زبردستی کیچڑ میں دھکا دینے کے بجائے أس کو بتانے کے بجائے تیری خوشی کس میں ہے اگر تم نے أس سے پوچھا ہوتا کہ بیٹا تو بتا تو کیا کرنا چاہتا ہے اور تیری خوشی کس میں ہے؟ تو نہ صرف تمہارا بیٹا زندہ ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے کے أس کے ہاتھ میں وہ اصلی سونے کا پھل ہوتا۔

    سبق لوگو کی رائے لینا چاہئیے اپنے بچوں کی خوشی کا خیال کیجئے اور لالچ میں آکر اپنے بچوں کی زندگی برباد نہیں کیجئے۔

    Name:

     Sadiq Saeed

    Twitter : SadiqSaeed_

  • حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

    سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لئے آنجناب ﷺ کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

    جب آنجناب کی ذات عالی کے اندر نمونہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اپنے کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے غیروں کے طریقے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے تو اسی لیے اپنے آج کے موضوع کی طرف آتے ہوئے میں آپ حضرات کی خدمت میں آنجناب کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو تجارت کے بارے میں کچھ تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

      نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔

    مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی۔ ابتدا ء ً  اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا۔

    آپ کی خدمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی اسفار میں سے کچھ سفروں کی کارگزاری پیش کرنا چاہتا ہوں۔

     ملکِ شام کی طرف پہلا  سفر 

          نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف 2 سفر کیے۔ پہلا سفر اپنے چچا کے ہمراہ،لیکن اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا۔ اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیاجس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا (الطبقات الکبریٰ، ذکر ابی طالب وضمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہ، وخروجہ معہ الی الشام فی المرۃ الاولی)۔

        ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر:

        اور دوسرا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاؤ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا۔ 

    یہ گفتگو حضرت خدیجہؓ  کو معلوم ہوئی تو انہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا کہ جتنا معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں، آپ کو اس سے دوگنا دوں گی۔اس پر ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری جانب کھینچ کر بھیجا ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ حضرت خدیجہؓ  کا غلام ”میسرہ ”بھی تھا۔

     جب قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں پہنچا تو وہاں نسطورا راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نبوت کی علامات پہچان کر آپ کے نبی آخر الزمان ہونے کی پیشین گوئی کی۔

        دوسرا اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سامان فروخت کر لیا تو ایک شخص سے کچھ بات چیت بڑھ گئی۔ اس نے کہا کہ لات وعزیٰ کی قسم اٹھاؤ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

         ”مَا حَلَفْتُ بِھِمَا قَطُّ، وَاِنّی الَأمُرُّفَأعْرِضُ عَنْھُمَا” ۔

        "میں نے کبھی ان دونوں کی قسم نہیں کھائی، میں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے منہ موڑلیتا ہوں۔”

        اس شخص نے یہ بات سن کر کہا: حق بات تو وہی ہے جو تم نے کہی۔ پھر اس شخص نے میسرہ سے مخاطب ہو کر کہا: خدا کی قسم، یہ تو وہی نبی ہے جس کی صفات ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

    آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

    کے تجارتی سفر کے بارے میں پڑھا کہ آپ کتنے امین اور صادق تھے کہ دشمن  بھی ان صفات کی گواہی دیتے تھے۔اس تحریر کا یہی پیغام ہے کہ ہم سب اس عمل کرنے والے بن جائیں۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ میل جول تعلقات بنانا پسند کرتا ہے اور ہمیشہ دوسروں کا ساتھ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو اکیلا رہ کر زندگی گزارنا پسند کرے۔ کیونکہ قدرتی طور پہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور سماج میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اکیلا رہنا خلاف فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی پسند اور طبعیت کے مطابق دوست بناتا ہے اور اچھی زندگی گزارنے کے لئے بھی انسان کو دوسروں کے ساتھ اور باہمی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان پہ تعلیم کی نسبت صحبت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اچھی یا بری صحبت سے ہی انسان کے اپنے اخلاق کا بھی دارومدار ہے۔ انسان کی زندگی میں سکون اور تکلیف بھی صحبت سے ہی جڑے ہیں۔ جب ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں رہنے کے لئے ہمیں دوسرے لوگوں کی ضرورت ہے تو یہ دیکھ لینا چاہئیے کہ جس کے ساتھ ہم وقت گزار رہے ہیں اٹھتے بیٹھتے ہیں اس کے اخلاق اور آداب کیسے ہیں کیونکہ دوستوں کے اخلاق کا اثر خود انسان پہ بھی پڑتا ہے جو شخص اچھے اور نیک دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے اس کے اپنے اخلاق بھی ویسے ہوجاتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہماری دوستی کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو بری عادات کا شکار ہو تو وہ عادات ہم میں منتقل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھیں گے تو معاشرہ بھی آپ کو ویسے  ہی اچھی نظر سے دیکھے گا اسی طرح اگر کوئی بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو لوگ اس کو بھی برا ہی سمجھتے ہیں۔ نیک صحبت کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی ڈالنی چاہیے۔بچوں کا دل جلدی اثر لیتا ہے اس لئے ان پر دوسروں کا اثر فوری ہونے لگتا ہے۔ شیخ سعدی اپنی مشہور کتاب ”گلستان سعدی” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن حمام میں میرے دوست نے مجھے خوشبو والی مٹی دی میں نے اس مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر ہے؟ تیری خوشبو نے تو مجھے مست کر دیا ہے ،مٹی کہنے لگی میں تو مٹی ہی ہوں مگر ایک عرصہ تک پھولوں کی صحبت میں رہی ہوں یہ میرے ہم نشیں کے جمال کا اثر ہے ورنہ میں تو وہی مٹی ہوں۔ اللہ تعالٰی نے انسان میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ وہ دوسرے کے اثر بہت جلد قبول کرتا ہے۔ﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تقوی اختیار کرو اور صادقین کی صحبت اختیار کرو۔”(التوبۃ 119)۔

    اچھی صحبت کے فضیلت میں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں”اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثال اس طرح ہے جس طرح خوشبو بیچنے والے اور بھٹی سلگانے والے کی مثال ہے ، اگر عطار تمہیں خوشبو نہ بھی دے تب بھی اس کی خوشبو تمہیں پہنچ کر رہے گی، اور لوہار کی بھٹی کی چنگاری تمہارے کپڑے نہ بھی جلائے تو اس کا دھواں تمہارے کپڑے میلے ضرور کردے گا۔(بخاری، مسلم)۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو ان کی زندگی کے احوال، واقعات، اقوال، نصیحتیں پڑھنا اور ان پہ عمل پیرا ہونا بھی ان کی صحبت میں رہنے جیسا ہی ہے۔

    اچھے لوگوں سے میل جول اور ان سے تعلق اختیار کرنا انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے اصلاح بہت زیادہ ہوتی ہے اور انسان کا معاشرے میں عزت وقار میں اضافہ ہوتا ہے

    @KharnalZ

  • یومِ دفاع  تحریر : خالد اقبال عطاری

    یومِ دفاع تحریر : خالد اقبال عطاری

     

     ہر سال پاکستان میں اور بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی 6 ستمبر کو یوم دفاع کے طور پر مناتے ہیں. یہ دن پاکستان اور بھارت کی 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کی ناقابلِ تسخیر دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے.

    یوم دفاع کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاد دہانی ہے تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے میں بطریق احسن نمٹا جا سکے. یوم دفاع کی یاد ہمارے اسکولوں، کالجوں کے علاوہ سرکاری دفاتر میں اس جنگ کے شہدا کو اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی فوج جو بڑے غرور و تکبر کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنے کا دعوہ کرتے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی، کی پسپائی اور شکست کا تزکرہ کیا جاتا ہے. جس میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا.ہر پاکستانی اپنی افواج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاکستانی فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے.

    6 ستمبر 1965 کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے والا قابل فخر دن ہے. جب کئی گنا بڑے ملک بھارت، افرادی تعداد میں کئی گنا بڑا،

    لشکر اور دفاعی سازو سامان کے ساتھ اپنے پڑوسی اور اپنے سے چھوٹے ملک پاکستان پر بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں حملہ کردیا. اس چھوٹے اور غیور وطن کے سپاہیوں نے  اپنے دشمن کے جنگی حملے کا  اس جوانمردی و ہمت سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے. عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا.

    1965 کی جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر لڑی اور جیتی جا سکتی ہے. پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے جرات مندانہ جزبے نے ملکر ناممکن کو ممکن بنایا.

    جب 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے حملہ کیا تو فوراً ہی پاکستانی قوم،  فوجی جوان اور افسران، سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے. پاکستانی افواج نے ہر جارجیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے روکا ہی نہیں بلکہ ان پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا ہندوستانی فوج کے افسر کے جو دعوے تھے ہماری مسلح افواج نے اسکے  منہ پر وہ طمانچے مارے کے ساری زندگی وہ اپنا منہ ہی چھپاتا پھرا. لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی شہید نے سنبھالا جان دے دی مگر وطن کی مٹی پر آنچ نہیں آنے دی. 

    پاکستانی فوج 

    چونڈہ کے مقام پر(ہندوستان کا اہم اور پسندیدہ محاذ تھا) جنگ میں پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ و بارود سے نہیں اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہندوستانی فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا. ہندوستان کے اس نقصان اور تباہی کو دیکھ کر باہر سے آئے ہوئے انٹرنیشنل صحافی بھی پاکستانی افواج کی دلیری اور بہادری دیکھ کر حیران رہ گئے.

    اللہ تعالیٰ افواج پاکستان اور ہمارے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور عوام پاکستان کی حفاظت فرمائے اور انہیں مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے.

    ‎@AttariKhalid1

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    کورونا آیا تو بیشتر شعبہ ہائے زندگی کے لئیے تباہی کا پیام لایا
    انہی شعبوں میں سے ایک تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ تعلیم بھی رفتہ رفتہ نارمل زندگی کی طرح واپس لوٹا
    ملکی شعبہ تعلیم کی طرح غیر ملکی شعبہ تعلیم بھی واپس لوٹا اور مارچ 2021 میں کئی غیر ملکی جامعات کے طلبا واپس اپنی اپنی جامعات میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے لیکن انہی غیر ملکی جامعات میں پڑھنے والے طلبا کا بڑا حصہ "چین” کی جامعات میں زیرتعلیم ہے
    چین میں کورونا پر جون 2020 میں کنٹرول پالیا گیا تھالیکن تیزی سے بدلتی دنیا کے حالات اور کورونا کے پھیلاؤکے باعث سٹوڈنٹ ویزا بند رکھا گیا طلبا بھی حالات کی نزاکت سے واقف تھے لہذا انہوں نے بھی چین کی حکومت کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور آن لائن تعلیم حاصل کرتے رہے
    قارئین آن لائن تعلیم والا سلسلہ اس وقت تک پرامن چلتا رہا جب تک کہ پروفیشنل ڈگریاں ،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا "لیب ورک،تھیسس اور ریسرچ "سر پر آ پہنچا
    قارئین یہ ڈگری کا وه حصہ ہوتا ہے کہ جو ماہر اساتذه کی زیرنگرانی صرف جامعات میں حاضر ره کر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی صورت میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہتی دوسرے لفظوں میں ضائع ہوجاتی ہے نا مکمل رہتی ہے چنانچہ مارچ2021 میں جبکہ بیشتر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی واپس اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے مگر "چین” میں زیر تعلیم طلبا واپس نہ لوٹ سکے اس وقت چین میں پڑھنے والے طلبا کئی پلیٹ فارمز پر اپنا مسئلہ اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواه جواب حاصل نہ کرسکے وقت گزرتا گیا پاکستانی طلبا کوشش کرتے رہے لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ "چین” کی بین الاقوامی طلبا کے لئیے یکساں پالیسی ہے ابھی تک کسی بھی غیر ملکی طالبعلم کو واپس آنے کی اجازت نہیں لہذا جب بھی غیر ملکی طلبا کو چین لوٹنے کی اجازت ملے گی تو سب سے پہلے پاکستانی طلبا کے واپسی کے انتظامات کریں گے دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا کے طلبا کو واپسی کی اجازت دی اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی طلبا کے واپسی کے مطالبے پر بتایا گیا کہ یہ طلبا جنوبی کوریا میں کورونا کی بہتر صورتحال کے باعث بلائے گئے
    چونکہ جنوبی کوریا میں بھی چین کی طرح کورونا کا کوئی کیس نہیں اس لئیے ان کو اجازت ملی ہے
    پاکستانی طلبا تعلیم میں ہونے والے حرج کو بار بار چینی حکام کے سامنے رکھتے رہے لیکن کوئی خاطر خواه جواب نہ مل سکا اسی ساری کشمکش کے دوران چین نے خفیہ طور پر امریکہ،بھارت اور ارمینیا سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئیے ویزے کھول دئیے
    چین کی مختلف محاذوں پر مخالفت کرنے والے ان چین دشمنوں کو واپسی کی اجازت پر پاکستانی طلبا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت میں کورونا کتنا کنٹرول ہے بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا ڈیلٹا ویرینٹ بھی انہی ملکوں میں افزائش پارہا ہے
    MBBS کے طلبا کو اگر ہسپتالوں میں مقرره گھنٹوں کی کلاسز نہ دی گئیں تو ان کی ڈگریاں ناکاره ہوجائیں گی اسی طرح سائنس کے طلبا کو اگر لیب میں تجربے نہ کروائے گئے ان کی ڈگریکا بھی کوئی فائدہ نہیں ماسٹرکے طلبا اگر تھیسس نہیں لکھیں گے تو ان کی ڈگری نامکمل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے اگر ریسرچ ورک کرکے ریسرچ پیپر حقائق پر مبنی نہ لکھاتو انکی ڈگری بھی ضائع ہوجائیگی
    ان اقدامات سے ان طلبا کی صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اورطمستقبل میں جب یہ عملی زندگی کی دوڑمیں دوسرےلوگوں سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس دوڑ میں بھی سب سے پیچھے ره جائیں گے
    ان طلبا نے اب تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی سفارشات کی ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لینے کے درخواست گزار ہیں
    یہ وہی طلباہیں جو پاک چین دوستی کومضبوط کرنے اور دونوں ملکوں میں روابط بڑھانے کی غرض سے اور عظیم خوابوں کے ساتھ چین گئے تھے اگر ان نازک حالات میں امریکہ ،بھارت ،ارمینیااور جنوبی کوریا کے طلبا کوتو چین لوٹنے کی اجازت مل جائے لیکن پاکستانی طلبا کو تاریخ کے اس موڑ پر احساس کمتری دلایا گیا تو یقین مانیں یہ طلبا مستقبل میں پاک چین دوستی کے "سفیر” کبھی نہیں بنیں گے بلکہ اہنے تئیں برتی گئی اس تعصب پسندی کو سینے میں سجائے اگلی نسلوں تک جین کی اس بے رخی کو پھیلا کر ہمیشہ کے لئے امر کردیں گے
    @Naseem_Khera