Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    کورونا آیا تو بیشتر شعبہ ہائے زندگی کے لئیے تباہی کا پیام لایا
    انہی شعبوں میں سے ایک تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ تعلیم بھی رفتہ رفتہ نارمل زندگی کی طرح واپس لوٹا
    ملکی شعبہ تعلیم کی طرح غیر ملکی شعبہ تعلیم بھی واپس لوٹا اور مارچ 2021 میں کئی غیر ملکی جامعات کے طلبا واپس اپنی اپنی جامعات میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے لیکن انہی غیر ملکی جامعات میں پڑھنے والے طلبا کا بڑا حصہ "چین” کی جامعات میں زیرتعلیم ہے
    چین میں کورونا پر جون 2020 میں کنٹرول پالیا گیا تھالیکن تیزی سے بدلتی دنیا کے حالات اور کورونا کے پھیلاؤکے باعث سٹوڈنٹ ویزا بند رکھا گیا طلبا بھی حالات کی نزاکت سے واقف تھے لہذا انہوں نے بھی چین کی حکومت کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور آن لائن تعلیم حاصل کرتے رہے
    قارئین آن لائن تعلیم والا سلسلہ اس وقت تک پرامن چلتا رہا جب تک کہ پروفیشنل ڈگریاں ،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا "لیب ورک،تھیسس اور ریسرچ "سر پر آ پہنچا
    قارئین یہ ڈگری کا وه حصہ ہوتا ہے کہ جو ماہر اساتذه کی زیرنگرانی صرف جامعات میں حاضر ره کر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی صورت میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہتی دوسرے لفظوں میں ضائع ہوجاتی ہے نا مکمل رہتی ہے چنانچہ مارچ2021 میں جبکہ بیشتر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی واپس اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے مگر "چین” میں زیر تعلیم طلبا واپس نہ لوٹ سکے اس وقت چین میں پڑھنے والے طلبا کئی پلیٹ فارمز پر اپنا مسئلہ اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواه جواب حاصل نہ کرسکے وقت گزرتا گیا پاکستانی طلبا کوشش کرتے رہے لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ "چین” کی بین الاقوامی طلبا کے لئیے یکساں پالیسی ہے ابھی تک کسی بھی غیر ملکی طالبعلم کو واپس آنے کی اجازت نہیں لہذا جب بھی غیر ملکی طلبا کو چین لوٹنے کی اجازت ملے گی تو سب سے پہلے پاکستانی طلبا کے واپسی کے انتظامات کریں گے دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا کے طلبا کو واپسی کی اجازت دی اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی طلبا کے واپسی کے مطالبے پر بتایا گیا کہ یہ طلبا جنوبی کوریا میں کورونا کی بہتر صورتحال کے باعث بلائے گئے
    چونکہ جنوبی کوریا میں بھی چین کی طرح کورونا کا کوئی کیس نہیں اس لئیے ان کو اجازت ملی ہے
    پاکستانی طلبا تعلیم میں ہونے والے حرج کو بار بار چینی حکام کے سامنے رکھتے رہے لیکن کوئی خاطر خواه جواب نہ مل سکا اسی ساری کشمکش کے دوران چین نے خفیہ طور پر امریکہ،بھارت اور ارمینیا سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئیے ویزے کھول دئیے
    چین کی مختلف محاذوں پر مخالفت کرنے والے ان چین دشمنوں کو واپسی کی اجازت پر پاکستانی طلبا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت میں کورونا کتنا کنٹرول ہے بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا ڈیلٹا ویرینٹ بھی انہی ملکوں میں افزائش پارہا ہے
    MBBS کے طلبا کو اگر ہسپتالوں میں مقرره گھنٹوں کی کلاسز نہ دی گئیں تو ان کی ڈگریاں ناکاره ہوجائیں گی اسی طرح سائنس کے طلبا کو اگر لیب میں تجربے نہ کروائے گئے ان کی ڈگریکا بھی کوئی فائدہ نہیں ماسٹرکے طلبا اگر تھیسس نہیں لکھیں گے تو ان کی ڈگری نامکمل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے اگر ریسرچ ورک کرکے ریسرچ پیپر حقائق پر مبنی نہ لکھاتو انکی ڈگری بھی ضائع ہوجائیگی
    ان اقدامات سے ان طلبا کی صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اورطمستقبل میں جب یہ عملی زندگی کی دوڑمیں دوسرےلوگوں سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس دوڑ میں بھی سب سے پیچھے ره جائیں گے
    ان طلبا نے اب تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی سفارشات کی ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لینے کے درخواست گزار ہیں
    یہ وہی طلباہیں جو پاک چین دوستی کومضبوط کرنے اور دونوں ملکوں میں روابط بڑھانے کی غرض سے اور عظیم خوابوں کے ساتھ چین گئے تھے اگر ان نازک حالات میں امریکہ ،بھارت ،ارمینیااور جنوبی کوریا کے طلبا کوتو چین لوٹنے کی اجازت مل جائے لیکن پاکستانی طلبا کو تاریخ کے اس موڑ پر احساس کمتری دلایا گیا تو یقین مانیں یہ طلبا مستقبل میں پاک چین دوستی کے "سفیر” کبھی نہیں بنیں گے بلکہ اہنے تئیں برتی گئی اس تعصب پسندی کو سینے میں سجائے اگلی نسلوں تک جین کی اس بے رخی کو پھیلا کر ہمیشہ کے لئے امر کردیں گے
    @Naseem_Khera

  • درودوسلام کی برکات اور فضائل۔  تحریر: تیمور خان

    درودوسلام کی برکات اور فضائل۔ تحریر: تیمور خان

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہم پر دنیا میں جتنے بھی احسانات فرمائے ہیں اور جتنی بھی نعمتیں عطا فرمائی ہے وہ سب کے سب اپنے حبیب ﷺ کے صدقے عطا فرمائی ہے دنیا و آخرت کی رحمتیں اور نعمتیں سرکارِ دوعالم ﷺ کی وسعت سے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے جناب سے ہم تک پہنچی ہیں سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑی رحمت اگر سرکارِ دوعالم ﷺ کے ذات بابرکت کو سمجھا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا اس لئے کہ آج اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں دنیا میں جو عزت اور شناخت عطا فرمائی ہے اور اسلام کا جھنڈا ہر زمانے میں اللہ نے بلند فرمایا ہے اور جتنی بھی فضیلتیں ہمیں آج ملی ہے بلکہ یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں کہ ہمیں اگر توحید کا درس ملا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کی معرفت اگر حاصل ہوئی ہے تو سرکارِ دوعالم ﷺ کے برکت سے عطاء ہوئی ہے

    اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب نعمتوں سے بڑھ کر اور سب رحمتوں سب سے بڑ کر  سب سے بڑی اللہ کی رحمت اور سب سے بڑی اللہ کی نعمت وہ ہمارے لئے محبوب کائنات ﷺ کی ذات ہے انہی کی وجہ سے آج ہم مسلمان کہنے کے لائق ہیں انہی کا جھنڈا تھام کر آج پوری دنیا پہ ہم نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اور بروز قیامت انہی کے جھنڈے تلے اٹھا کر انہی کے کے امت میں شامل ہونا اپنے لئے باعث شرف اور فضیلت سمجھتے ہیں۔

    ہر مسلمان کا یہ عقیدہ پونا چاہیےکہ ہمیں جو بھی عزت اس دنیا میں ملی ہے جو اللہ کی معرفت دین کی معرفت قرآن ہمیں ملا ہے ایک آئین اور شریعت ہمیں ملی ہے اور آج چھوٹے چھوٹے عمل پہ ہمیں بڑے بڑے ثوابوں کی بشارت اور خوشخبری دی گئی ہے تو یہ ہمارے نبی ﷺ  کی برکت ہے ۔

    جس طرح ہر انسان کے دوسرے انسان پہ کچھہ حقوق ہیں اسی طرح حضور اکرم ﷺ کے بھی انہیں رحمتوں کی وجہ سے اپنی امت پہ کچھہ حقوق ہیں ان حقوق میں سے  ایک بنیای حق اور اس حق کو ادا کرنے کے لیۓ  علماء لکھتے ہیں کہ پوری امت سرکارِ دوعالم ﷺ پر درود و سلام پڑھتی رہے درود شریف پڑھنا یہ ان کا ہم پہ ایک حق ہے جتنے بھی کلمہ گو ہیں ۔

    اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید فرقان حمید کے 22 پارے کے سورہ الاحذب میں فرمایا

    إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا.

     اللہ کا ارشاد ہے بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پہ درود پڑھتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام پڑھا کرو،

    کتنی بہت ساری احکامات ہیں کتنی ہدایات ہیں لکین کہیں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ تم یہ کام اس لئے کرو کہ یہ میں بھی کرتا ہوں اور میرے فرشتے بھی کرتے ہیں، لیکن درود و سلام پڑھنے کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ اس فضیلت  کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ نے پہلے اپنا حوالہ دیا پھر اپنے فرشتوں کا حوالہ دیا کہ بیشک اللہ بھی درود پڑھتا ہے اس کے فرشتے بھی دورود پڑھتے اس لئے ایے ایمان والوں تم بھی یہ طریقہ اپناؤ جو اللہ اور اس کے فرشتے اپناتے ہیں، کائنات کی ہر شے چاہے فرشتے ہوں یا جننات نبی اکرم صلی ﷺ پر اسی طرح درود پڑھتے ہیں جس طرح عام انسان۔

    مگر اللہ کا درود پڑھنے کا طریقہ الگ ہے اور وہ یہ کہ اللہ ہر وقت نبی کریم ﷺ پر رحمتیں نازل فرماتا ہیں سلامتی نازل فرماتا ہے درود پڑھنے کا اللہ کی طرف ایک یہ نسبت یہ کی جاتی  ہے،

     اور درود پڑھنے کا ایک دوسرا معنیٰ جس کو امام بخآری نے بھی نقل فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے نبی ﷺ کی ثناہ اور تعریف بیان فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے سرکارِ دوعالم ﷺ کی تعریف کرنا امام بخآری فرماتے ہیں یہ اللہ کا درود ہے۔ تو جب سے سورہ احذب میں یہ آیات نازل ہوئی تو اس وقت سے   لے کر آج تک امت کے جتنے بھی انسان ہے چاہے آگر وہ نیکو کار ہے یا گناہگار چاہے وہ جدید السلام ہیں یا  چاہے وہ قدیم السلام ہے اگر وہ کلمہ گو ہے تو یاد رکھیں ہر مسلمان درود و سلام اپنے لئے باعث عزت اور باعث شرافت سمجھتا ہے۔

    جہاں ان کے شعریت پہ عمل کرنا جہاں ان کے سنت پی عمل کرنا اور زندہ کرنا یہ ان کا ہم پر حق ہے، اسی طرح درود اور سلام بھی ان کا ایک بنیادی  ہم سب  پر حق ہے۔

     اسی طرح صحابہ کرام کی معمولات اگر دیکھیں تو احادیث اور کتابیں بھری پڑی ہیں،صحابہ کرام کی معمولات  میں درودو سلام سب سے اہم ورد اور وظیفہ ہوا کرتا تھا۔

    امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے حضرت ابی بن کعب سے آپ فرماتے ہیں یا رسول اللہ میں نے اپنے لئے کچھہ وقت مقرر کیا ہے اورادو وضائف کے لئے میں چہتا ہوں یا رسول اللّٰہ میں وضائف کے ساتھ ساتھ آپ پر درود اور سلام بھی پڑھا کروں آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں اس وقت میں آپ پر کتنا درود پڑھا کروں سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابی تم اس میں سے مجھ پہ چھوتا حصہ درود پڑھا کرو آپ نے فرمایا یارسول اللہ اگر آج کے بعد میں یہ پڑھا کروں گا تو رسول اللہ نے بتایا اے ابی ہاں اگر اس سے زیادہ بھی پڑھ سکو تو ابی نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد میں اس میں سے تیسرا حصہ پڑھا کروں گا حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر ہے لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو اور بہتر ہے تو میں نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد آدھا وقت آپ پہ درود اور آدھا وقت باقی وضائف پڑھا کروں گا، حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر لیکن اگر اس سے اور بھی زیادہ کرو تو حضرت ابی نے فرمایا یا رسول اللہ آج کے بعد میں آپ پر ہر وقت درود ہی پڑھا کروں گا، تو سرکارِ دوعالم نے فرمایا اے ابی اگر آپ نے واقعی ایسا کیا تو آپ کی دنیا و آخرت کے تفقرات اور تکالیف کے لئے یہی کافی ہے۔

    اسی لئے درود اور سلام کے فضیلت میں بے شمار روایات حضور ﷺ کے احادیث مبارکہ میں اس کے طیبہ میں باقاعدہ اس کے مجموعے میں اتنی روایات ہمیں ملتی ہیں کی باقاعدہ ہمارے محدیثین نے جتنی کتابیں لکھیں ان میں درود اور سلام کا انھوں نے علیحدہ سے باب بنایا درود اور سلام پر انھوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں  کیونکہ یہ عمال ایسا ہے جہاں ہم سب کا  حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ 

    کیونکہ درودو سلام پڑھنے پر دلائل اور اس پر نظائر اور شواہد بھی زیادہ ہے اور پھر خاص طور پر جن لوگوں نے اپنی زندگی میں درود و سلام پڑھنے کا اپنا حصہ بنایا اور کثرت سے درودو سلام پڑھنے کا معمول بنایا انھیں جو فوائد ملے دنیا و آخرت کے جو نعمتیں ملیں اور پھر انھوں نے عجیب عجیب اللہ کے قدرت کے جو نظارے دیکھے ان پہ پھر علیحدہ سے کتابیں لکھیں گئیں اور تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا کہ جس نے جتنا زیادہ درود پڑھا جتنی محبت سے پڑھا انھیں اتنے ہی فائدے دنیا و آخرت میں دئے گئے۔

    رسول اللہ نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت فرماتا ہے اور درود وسلام پڑھنا ایک ایسا عمل ہے جس کی قبولیت میں ذرہ برابر شک نہیں ہے یاد رکھیں درود اور سلام پڑھنا آج ہر شخص مشکلات میں گھیرا، ہوا ہے ہر شخص پریشانی کے عالم میں ہے، ہر شخص لاعلاج امرض میں ہے، معاشی پریشانیاں ہیں، کاروباری پریشانیاں ہے، یاد رکھیں ان تمام پریشانیوں کا حال اللہ تبارک وتعالیٰ نے درود و سلام میں رکھا ہے اور درود اور سلام انسان کو اللہ نیک, بنا دیتا ہے اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے، اللہ کا قرب اس سے ملتا ہے اس لئے اپنے اوقات میں وقت نکال کر ہمیں ضرور درودو سلام پڑھنا چاہیے یہی ہماری آج پریشانیوں کا حل بھی ہے، ہماری مشکلات کی ایک  اکسیر، بھی ہے ہماری بیماریوں کے  لئے شفاء بھی ہے، اور بےشمار احادیث اس پر موجود ہے کہ دورود اور سلام پڑھنے والا کبھی بھی دنیا اور آخرت میں ناموراد نہیں رہتا۔

    @ImTaimurKhan

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

    ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

    خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

    حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

    @hidesidewithak

  • یوم دفاع پاکستان  تحریر: تماضر خنساء

    یوم دفاع پاکستان تحریر: تماضر خنساء

    چھ ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ
    یادگار دن جب پاک فوج کے جوانوں نے اس پاک وطن کی طرف بڑھنے والے ناپاک قدموں کو روند ڈالا تھا…
    وہ چھ ستمبر کا دن تھا جب انڈیا نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لاہور پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا… انڈین آفیسرز بہت خوش تھے اسی لیے کچھ زیادہ ہی پر اعتماد بھی تھے…. ان کا ارادہ تھا کہ واہگہ بارڈر سے پاکستان پر حملہ کرکے وہ باآسانی لاہور پر قبضہ کرلیں گے… صرف یہی نہیں بلکہ وہیں ان کا جشن منانے کا بھی ارادہ تھا.. وہ بے چارے لاہور میں ناشتہ کرنے کے خواہشمند تھے…
    بھارت کی یہ چھوٹی سی خواہش تو پوری نہ ہوسکی مگر پاکستانی سپاہ نے انڈیا کے ماتھے پہ شکست کا وہ جھومر سجایا کہ جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا…
    وہ آئے تو ناشتہ کرنے تھے مگر پاک فوج نے انکو زندگی بھر کا ناشتہ بھلادیا …
    بھارتی فوج کا وہ کمانڈر انچیف جس نے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانے میں شراب پی کر اپنی فتح کا جشن منائیں گے پاک فوج کے سپوتوں نے اسکو ایسا طمانچہ رسید کیا کہ اسکے بعد سے تاریخ میں کسی بھی انڈین نے فوجی نے پاکستان کی چائے سے زیادہ کی فرمائش نہیں کی ….
    رات 3:45 پہ واہگہ بارڈر کی طرف سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر حملہ کردیا …پھر آسمان نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ کس طرح پاک فوج کے نڈر جانبازوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنا ڈالا اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی
    جبرالٹر آپریشن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی.اسی نتیجے میں جنگی جنون میں مبتلا اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی تھی کہ ” اب ہم اپنی مرضی سے اپنا من پسند محاذ کھولیں گے ".بھارت کی ہمیشہ سے یہی روش رہی ہے.
    موسم برسات ٹینکوں کی نقل و حرکت کیلیے ایک رکاوٹ ہوتا ہے اور فوجی نقل و حرکت بھی اس وقت سست روی کا شکار ہوجاتی ہے . موسم برسات کے ختم ہوتے ہی بھارت نے سیالکوٹ، قصور اور لاہور تین جانب سے پاکستان پہ حملہ کردیا . بھارت کامنصوبہ تھا کہ حملہ اس قدر اچانک اور فوری ہو کہ پاک فوج سنبھل ہی نہ پائے، مگر افسوس وہ لوگ پاک فوج کو سمجھ ہی نہ پائے اور پھر پاکستان کے قابل سپوتوں نے وہ معرکے سر انجام دیے کہ دنیا دنگ رہ گئ، بھارتی فوج نے لاہور سے حملہ کرکے ہڈیارہ گاؤں پر قبضہ کرلیا ،جواب میں پاک فوج نے دشمن کو نو گھنٹے کامیابی سے وہیں روکے رکھا اور یہی وقت تھا پاک فوج کے سنبھل جانے کا اور بھارتی فوج ڈگمگا کر رہ گئ …بی آر بی نہر بھارتی فوج کیلیےمضبوط دیوار بن گئ
    یہ معرکہ شہید میجر عزیز بھٹی نے سر انجام دیا اور شہادت سے سرفراز ہوئے…
    اگلے دو دن پاک فوج نے بھارت کے علاقے میں آٹھ کلو میٹر تک پیش قدمی کی اور قصبہ کھیم کرن پہ پاکستان کا پرچم لہرادیا جس کے جواب میں جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اپنے ٹینک اس جنگ میں جھونک دیے ،اس محاذ پر دوسری جنگ عظیم کےبعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ ہوئ ،اس جنگ میں فرسٹ انڈین آرمر ڈویژن بھی شامل تھا جسکے باعث پاک فوج پہ یہاں دباؤ بڑھ گیا تو پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ٹینکوں کا قبرستان بنادیا، اسی کے ساتھ پاک فضائیہ بھی حرکت میں آگئ اور یوں چونڈہ کے مقام پر بھارتی پیش قدمی روک دی گئ… آج بھی چونڈہ کے مقام پر وہ ٹینک نصب ہے جسے بھارتی چھوڑ کر بھاگے تھے.
    بھارت میں چونڈہ کا مقام انکے ٹینکوں کی قبر کے نام سے” جانا جاتا ہے ”
    پھر پاک فضائیہ نے اپنے جوہر دکھائے اور بھارتی اڈوں کو بہت نقصان پہنچایا اسی میں پاک فوج کے دو ہواباز رفیقی اور یونس حسن شہید ہوگئے.. پھر اسکے بعد بھارتی فضائیہ کی کوئ قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئ اور یہیں دوسری طرف پاکستان کےقابل فخر سپوت ایم ایم عالم نے بھارت کے چار ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مارگرائے جس نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑڈالی..
    جہاں بری اور فضائ فوج نے دشمن کو مارگرایا وہیں بحری فوج نے بھی اپنے جوہر دکھائے اور بھارت کے دوارکا نامی اڈے کو تباہ کردیا دوسری طرف پاک بحریہ کی آبدوز غازی” نے بھارتی بحری جنگی جہاز ککری بھی تباہ کردیااس سے بھارتی بحریہ کی بھی کمر ٹوٹ گئ اور اسی کی بدولت کراچی محفوظ رہا.. یہ یاد گار جنگ تیئس ستمبر کو ختم ہوئ اور اپنے ساتھ ساتھ بھارت کے ماتھے پہ شکست کا کلنک چھوڑگئ اور پاکستان کی فتح ساری دنیا نے دیکھی….
    چھ ستمبر کی جنگ کے بعد سے بھارت نے کبھی پاکستان سے آمنے سامنے جنگ کی ہمت نہ کی ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے…
    ہر سال پاکستان میں چھ ستمبر کی اس جنگ کو یاد کیا جاتا ہے جس میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا…
    یہ وہ دن ہے کہ جب دنیا نے دیکھا کہ ایک کمزور ملک نے کسطرح جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو شکست دی…
    اسی فتح اور پاکستان کے مضبوط دفاع کی مناسبت سے اس دن کو یوم دفاعِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
    یہی وہ یادگار دن ہے جب پاک فوج کے جانبازوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جانوں کی بازیاں کھیلیں اور اپنے رب کے حضور سرخرو ہوگئے… آج بھی پاکستان کا ہر ایک جوان پہلے سے زیادہ نڈر اور بہادر ہےانکو موت کا کوئ خوف نہیں یہ تو بس اس وطن کیلیے جیتے ہیں اور شہید ہونا ایک اعزاز سمجھتےہیں… یہی وہ بے خوفی ہے جو انکی فتح کی ضامن یے کہ ایک مسلمان کیلیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا تو ایک بہت بڑا اعزاز ہے جسکی تمنا عمر ابن خطاب رض جیسے صحابی نے کی…

    اے میرے وطن کے پاسبانوں
    تم اس وطن کے ماتھے کا جھومر ہو
    تم اس وطن کا قابل فخر سرمایہ ہو

    @timazer_K

  • تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    سگریٹ پینے سے جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، سگریٹ پینے سے تمباکو کے استعمال سے منسلک نہیں بلکہ ان تمام وجوہات سے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ پینے سے نظام تنفس، گردش کا نظام، تولیدی نظام، جلد اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں اور اس سے بہت سے مختلف کینسروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔استحریر میں سگریٹ پینے سے کچھ ممکنہ اثرات دیکھتے ہیں۔1. پھیپھڑوں کو نقصان۔سگریٹ پینا پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ایک شخص نہ صرف نیکوٹین بلکہ مختلف قسم کے اضافی اور ٹاکسن کیمیکلز میں سانس لیتا ہے۔سگریٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں خاطر خواہ اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خطرہ مردوں کے لیے 25 گنا اور خواتین کے لیے 25.7 گنا زیادہ ہے۔2. دل کی بیماری سگریٹ پینا دل، خون کی شریانوں اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور ٹار کسی شخص کے ایتھروسکلروسیس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جو خون کی رگوں میں تختی کی تعمیر ہے۔ یہ تعمیر خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور خطرناک رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔3. بانجھ پن کے مسائل۔سگریٹ پینا عورت کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حاملہ ہونا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمباکو اور سگریٹ میں موجود دیگر کیمیکل ہارمون کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔4. حمل کی پیچیدگیوں کا خطرہ۔ایکٹوپک حمل کے خطرے میں اضافہ،بچے کے پیدائشی وزن میں کمی، قبل از وقت ترسیل کے خطرے میں اضافہ، جنین کے پھیپھڑوں، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچانا۔اچانک بچوں کی موت کے سنڈروم کے خطرے میں اضافہ۔5. ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ۔ ایک بین الاقوامی ادارہے کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی نشوونما کا خطرہ 30-40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔6. کمزور مدافعتی نظام۔سگریٹ نوشی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے وہ بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔یہاں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کروناوائرس ایک موذی وبا ہے جو انسان کے پھیپھڑوں اورمدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں اسیے افراد جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔7. بینائی کے مسائل۔سگریٹ پینا آنکھوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، بشمول موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط کا زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لہٰزا، ہر انسان کو چاہیے وہ سیگریٹ نوشی جیسی لعنت سے دور رہ کر آپنے اور آپنے چاہنے والوں کا خیال رکھے۔

  • کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟   تحریر زاہد کبدانی

    کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟ تحریر زاہد کبدانی

    کلاس روم کا ماحول آج کے بچوں سے واقف ہے اس ماحول سے بہت مختلف ہے جو ان کے والدین نے تجربہ کیا تھا جب وہ طالب علم تھے۔ ان میں سے بہت سی تبدیلیوں کا پتہ ٹیکنالوجی سے لگایا جا سکتا ہے ، جس کی آہستہ آہستہ گزشتہ کئی سالوں سے سکول اور اس کے کلاس روم میں بڑھتی ہوئی موجودگی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی نے نہ صرف بچوں کے لیے کلاس روم کے تجربے کو تبدیل کیا ہے ، بلکہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ شکریہ ، ٹیکنالوجی نے بچوں کے گھر میں اسکول کا کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ اگرچہ ایک ممکنہ طور پر قیمتی سیکھنے کا آلہ ہے ، انٹرنیٹ یہاں تک کہ آج کے طلباء کے لیے کئی مسائل پیدا کرتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے غیر شعوری استعمال کی بات کرتے ہیں تو بچے اور طالب علم سب سے پہلے سب کے ذہن میں آتے ہیں۔ اگر کوئی بالغ ٹیکنالوجی نقصان دہ طریقے سے استعمال کرتا ہے تو ہم اسے "بے ہوشی” کے بجائے "انتخاب” کہیں گے۔ لیکن یہ بچوں کے لیے مختلف ہے کیونکہ وہ عام طور پر ان ممکنہ مضر اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے جو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ، ہم والدین اور بڑوں کے لیے ٹیکنالوجی کے ممکنہ مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں کچھ یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ تحریر طلباء کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت ، اس کے مثبت اور منفی اثرات پر کچھ روشنی ڈالے گی۔

    پہلا سوال جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: ٹیکنالوجی کا بچوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ جواب سادہ ہے: کمپیوٹر ، اسمارٹ فون ، ٹیبلٹ ، ٹیلی ویژن ، جدید کھلونے اور اسی طرح کی تمام تکنیکی مصنوعات جو بچوں کے لیے دلچسپ ہوں گی۔ بچوں کے لیے ٹیکنالوجی یہ سب کچھ ہے۔

     1 انٹرنیٹ کی اہمیت۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک بہت ہی معروف رجحان ہے۔ کالج میں ہر طالب علم طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ تاہم ، ان میں سے بیشتر کو انٹرنیٹ مقامات کی گہرائی کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے ، جیسے کہ یہ کتنا مفید ہے اور جب آپ اسے استعمال کریں گے۔ انٹرنیٹ نے مواصلات ، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں بھی بہت سی تبدیلیاں اور پیش رفت کی ہے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک استاد کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ طلباء انٹرنیٹ کو فوری استعمال کے لیے معلومات اور معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن کی انہیں پراجیکٹس ، اسائنمنٹس یا اپنے مضامین کے لیے ضرورت ہے۔ طالب علموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کے خلاف تنقیدوں اور بحثوں کے باوجود ، یہ اب بھی ان کی زندگیوں اور مجموعی طور پر تعلیمی دنیا میں ترقی اور ترقی میں معاون ہے۔

    اسے کسی وقفے یا وقت کی ضرورت نہیں ہے:

    انٹرنیٹ کی دنیا ہمیشہ متحرک رہتی ہے اور یہ کبھی وقفہ یا وقت نہیں لیتی۔ یہ حقیقت طالب علموں کو اپنی اسائنمنٹس ، ریسرچ پروجیکٹس اور کسی بھی وقت کام کرنے کے قابل بناتی ہے جو ان کے مطابق ہو۔ اس سے قطع نظر کہ اگر آپ مدد یا پڑھنے کے لیے کوئی رپورٹ ڈھونڈ رہے ہیں ، آپ اسے گوگل کے ذریعے انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے تلاش کر سکتے ہیں۔۔

    2- ذہنی مہارت کی ترقی:

    طالب علموں کے لیے دماغی ورزشیں اس کے جسمانی مواد تک محدود ہیں۔ وہ بچہ جس کے گھر میں کئی مختلف انٹیلی جنس گیمز یا مشقیں ہوتی ہیں اسے ایک ہی ورزش بار بار کرنا پڑتی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اور بھی بہت سے مواقع ہیں۔ ان بچوں کے لیے میموری گیمز جو اپنی یادداشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے توجہ کھیل جو اپنی حراستی اور توجہ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے بصری کھیل جو اپنی بصری بینائی اور مہارت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور بہت کچھ آج تک آپ کی انگلی پر ہیں۔ لہذا ، ٹیکنالوجی ان بچوں کے لیے کارآمد ہے جو اپنے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ کو کار یا موٹر سائیکل کی دوڑ کھیلنے کے بجائے دماغی کھیل کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک اہم خلفشار بھی بن سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس آسانی سے اور جلدی سے بچوں کو ان کے سکول کے کام سے ہٹا سکتی ہیں ، ان کا قیمتی وقت ضائع کر کے انہیں اپنی پڑھائی کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ، انٹرنیٹ نے دنیا بھر کے طلباء کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ثابت کیا ہے۔ لیکن ان طالب علموں کو اس بات کی نشاندہی کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے فوائد اور نقصانات ہیں جب کہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت صرف مذکورہ بالا فوائد تک محدود نہیں ہے۔ تاہم ، والدین کو یہ یقینی بنانے کے لیے چوکس رہنا ہوگا کہ ان کے بچے انٹرنیٹ کا استعمال علم اور کیریئر کی ترقی کے لیے کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں ، طالب علم تفریحی مقاصد کے لیے اس کا غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ، سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا۔ انٹرنیٹ طلباء کے لیے تعلیم کے تمام پہلوؤں میں اہم ہے۔ یہ طالب علموں کے لیے ایک استاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیمی حرکیات اور اس کے انجام دینے اور کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اسائنمنٹس انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اداروں میں آن لائن لائبریریوں سے بھی ممکن ہے۔ لہذا ، بچوں کے نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے ، ہمیں صنعتی مشینوں ، طبی آلات یا جنگی مواد کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، 

    @Z_Kubdani

  • موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی  بیماری   تحریر : فرح بیگم

    موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

    موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
    موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
    موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
    اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملاعمر کا شمار 90 کی دہائی کے طاقتور ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے انھوں نے 1996 میں افغانستان میں طالبان حکومت قائم کی تاہم ان کی زندگی کے کئی پہلو پوشیدہ اور خفیہ رہے
    ٹویٹر پر ایک صارف کی جانب سے ملاعمر سے متعلق معلومات بتائی گئی ہیں انھوں نے ان معلومات کے لیے تین کتابوں کا حوالہ دیا ہے ان کتابوں میں ایلکس اور فیلکس کی کتاب این اینیمی وی کریٹڈ دی میتھ آف دی طالبان القاعدہ مرجر ان افغانستان، احمد رشید کی کتاب طالبان ملیٹنٹ اسلام اور کرسٹوفر اینڈریو اور وسیلی مٹروکھن کی کتاب دی ورلڈ واز گوئنگ اوور وے شامل ہے
    ملاعمر کی پیدائش سن 1959 میں ہوئی۔

    قندھار کے نزدیک نودیھ گاؤں میں ان کا خاندان انتہائی غریب تھا جو کھیتی باڑی کے پیشے سے وابستہ تھا اُن کا تعلق ہوتک قبیلے سے تھا جو پشتونوں کی غلزئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے
    افغان جہاد شروع ہونے کے بعد، سن 1980 کی دہائی میں ان کا خاندان ارزگان صوبے منتقل ہوگیا روزگار کی تلاش میں ملا عمر قندھار آئے اور میوند ضلع کے سنگیسار گاؤں میں مدرسہ کھولا انھوں نے حزب اسلامی میں شمولیت اختیار کی اورنیک محمد کی سرپرستی میں نجیب اللہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔
    ایک حوالے کے مطابق 1994 میں انھوں نے ظالم جنگجوؤں کےخلاف اہم کارروائی کی طسنگیسار کے پڑوسی علاقے سے کچھ افراد نے ملا عمر سے شکایت کی کہ جنگجو کمانڈر نے دو کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرلیا ہے اور ان کے ساتھ کئی بار ریپ کیا گیا ہے ملا عمر نے 30 طالبان کا گروپ تشکیل دیا جن کے پاس صرف16 رائفلز تھیں انھوں نے جنگجوؤں کے اڈے پر حملہ کرکے لڑکیوں کو آزاد کروایا اور جنگجوؤں کو ٹینک کی توپ سے پھانسی پر لٹکادیا
    کچھ عرصے بعد ایک بچے سے بدفعلی کے لیے دو کمانڈرزکی قندھار میں شدید لڑائی ہوئی جس میں متعدد شہری بھی مارے گئے ملاعمر کے گروپ نے بچے کو آزاد کروایا ان تمام تر کارروائیوں کے بعد لوگوں نے ملا عمر کو اپنا مسیحا سمجھنا شروع کردیا اور یوں اپنے مسائل کے حل کے لیے اِن کے پاس آنے لگے
    گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان لڑائی نےافغان عوام کو شدید متاثر کیا احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد نے ابتدا میں ملا عمر کو طالبان تحریک کے لیے 10 لاکھ ڈالر نقد دئیے
    کچھ عرصے بعد اسپن بولدک میں طالبان نے اسلحہ کے بڑے ذخیرے پر قبصہ کرلیا جو تین ڈویژنز کے لیے کافی تھا۔
    طالبان نے چند ماہ میں افغانستان کے 31 صوبوں میں سے 12 صوبوں پر قبضہ کرلیا 4 اپریل 1996 کو طالبان نے ملا عمر کو امیرالمومنین نامزد کردیا قندھار کی ایک عمارت کی چھت پر ملا عمر چوغے میں خود کو لپیٹے جب سامنے آئے تو نیچے موجود افراد نے امیر المومینین کے نعرے لگانا شروع کردئیے ان کی نجی زندگی سے متعلق بھی بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں بتایا گیا ہے کہ دوران جنگ وہ 4 بار زخمی ہوئے اور ایک بار ان کی سیدھی آنکھ زخمی ہوئی جس کے بعد ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی ملا عمر ساڑھے 6 فٹ لمبے اور مناسب جسامت رکھتے تھے پاکستان نے جب 1998 میں ایٹمی دھماکے کئے تو ملا عمر اور طالبان کی جانب سے اس کو سراہا گیا اور پاکستان پر کسی بھی حملے کو افغانستان پر حملے سے تشبیہ دی گئی نائین الیون کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملا عمر نے امریکا کے خلاف حملوں کی مخالفت کی تھی انھوں نے سب سے پہلے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کی مذمت کی اور افغان طالبان کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے انھوں نے کہا تھا کہ خود مختار عدالت اس واقعے میں اسامہ بن لادن کا ہاتھ ہونے کی تحقیقات کرے تاہم امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کردیا
    سال 2001 کے بعد ملا عمر اپنی موت تک افغانستان سے باہر نہیں گئے انھوں نے طالبان کے امور اپنے ساتھی ملا عبید اللہ کے سپرد کردئیے اور خود زابل صوبے چلے گئے جہاں وہ اپنے ڈرائیور کے گھر میں روپوش رہے ایک بار امریکی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ ملا عمر کے خفیہ کمرے تک نہیں پہنچ سکے۔
    امریکی فورسز نے جب اس علاقے میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کیا تو ملا عمر نے اس مکان کو چھوڑ دیا اور وہ سیورے کے علاقے میں منتقل ہوگئے ملا عمر کا مکان امریکا کے چھوٹے فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھا وہ 9 برس اپنی موت تک اس علاقے میں رہے۔
    اللّه پاک حضرت محمد ملا عمر رح کے درجات بلند عطا فرمائے اور انکو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔

    @SyedUmair95
    @suhailshaheen1