Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم تحریر : ثمینہ محمدیہ

    باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم تحریر : ثمینہ محمدیہ

    حق اور باطل کی جنگ روز ازل سے جاری ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان کے سجدہ کرنے کے انکار سے لے کر آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی ۔ کبھی حق وباطل کی یہ جنگ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہوٸی ، تو کبھی یہ جنگ حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہوٸی ۔ کبھی حق و باطل کی یہ جنگ میدان بدر میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ہوٸی تو کبھی حق و باطل کی یہ جنگ یزید اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان ہوٸی اور کبھی یہ جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوٸی ۔ لیکن حق و باطل کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ مسلمانوں کے نصیب میں آٸی ۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ

    اے محبوب ﷺ )فرما دیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو ہے ہی مٹنے والا ۔
    (سورت الاسراء آیت 81)

    زندہ اقوام کی زندگی میں ایسےدن آتے رہتے ہیں جب انہیں دنیا کے سامنےثابت کرنا پڑ جاتا ہے کہ وہ ایک زندہ ،نڈر ، بہادر اور طاقت ور قوم ہیں ، جنہیں اپنی سلامتی کو تحفظ دینا بھی آتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دشمن کو نیست نابود کر کے اس کا غرور خاک میں ملانا بھی آتا ہے ۔ ایسا ہی ایک وقت پاکستانی قوم کی زندگی میں بھی آیا جب انہیں اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن سے نہ صرف اپنی سلامتی ، اپنی پہچان کو تحفظ دینا تھا بلکہ اپنے دشمن کا غرور اور گھمنڈ بھی خاک میں ملانا تھا تا کہ دشمن دوبارہ پاکستان کی طرف کبھی میلی آنکھ سے نہ دیکھے ۔ 6 ستمبر کا دن پاکستان کی آن بان شان کا دن ، جس دن پاکستان نے اپنے سے تین گنا بڑھے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان جس دن پاکستانی قوم اپنے قومی ہیروز کو ، اپنے فوجی جوانوں کو ، اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے ۔ اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں ، اپنے غازیوں ، اپنے شہیدوں کی طرح اپنے ملک پاکستان کا دفاع اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے کریں گے ۔ 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا اور اس ارداے سے حملہ کیا کہ وہ صبح کی چاٸے لاھور میں پٸیے گے اور فتح کا جشن مناٸیں گے ۔ لیکن بھارت یہ بھول چکا تھا کہ پاکستانی قوم ان کی وارث ہے جن 313 نے میدان بدر میں ایک ہزار کو شکست دی تھی ۔ 6 ستمبر کو دشمن نے پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کی سوٸی ہوٸی عوام کو ایک کر دیا ۔ادھر دشمن کا حملہ ہوا ادھر پاکستانی عوام ایک سیسہ پیلاٸی ہوٸی دیواربن کر اپنی افواج کے شانہ بشانہ آ کھڑی ہوٸی اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی افواج اور عوام نے تعداد کی کمی اور اسلحہ کی کمی ، جدید ہتھیاروں کی کمی کے باوجود اپنے سے کٸی گنا بڑھے دشمن کو ذلیل و خوارکر کے رکھ دیا کہ دشمن میدان جنگ سے بھاگتے ہوٸے اپنے فوجی جوانوں کی لاشیں بھی پاکستان میں ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    حق و باطل کی اس لڑاٸی میں چشم فلک یہ نظارہ بھی دیکھا کہ چونڈہ کے محاذ پر جب دشمن نے اپنے ٹینکوں کے ذریعے اس ملک کو مٹانا چاہا تو پھر یہاں کے بہادر بیٹوں نے اپنے سینے پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر دشمن کے ٹینکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ اس دن تو آسمان بھی ہمارے جوانوں کے حوصلے دیکھ کر دھنگ رہ گیا ہوگا ۔بہت سے بزرگ اور فوجی جوان بتاتے ہیں کہ اس دن اس جنگ میں اللہ کے فرشتے بھی مسلمانوں کی مدد کو آٸے تھے اور کچھ اولیا کرام بھی روحانی طور پر مدد کے لیے موجود تھے ۔ یقینا جہاں حق و باطل کی جنگ ہوگی وہاں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ فرشتوں کو مدد کے لیے ضرور بھیجے گا ۔ چونڈہ جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دشمن اپنے جوانوں کی لاشیں بھی ادھر ہی چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ چونڈہ کے مقامی لوگوں نے ریلوے لاٸن کے قریب گڑھا کھود کر ان سب بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو اس گڑھے میں پھینک دیا ۔ جس کا نشان آج بھی وہاں موجود ہے ۔

    ہم نے دشمن کو تو شکست دے دی لیکن اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر چھپے غداروں کو بھی پہچانیں جو ہمارے ملک کو لوٹ کرکھا گے ۔ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اپنے اندر چھپے یزیدیوں کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا جاٸے تا کہ پاکستان اپنی بقا و سالمیت اور ترقی میں اپنی مثال آپ ہو ۔ اللہ ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت تا قیامت رکھے ۔ آمین

    @ch__samina

  • سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال آج کل عام ہے، اور ایک نشہ بن کر لوگوں کی زندگیوں سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر عمر کے لوگ خصوصاً نوجوان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کا بنیادی مقصد تفریح حاصل کرنا، وقت گزاری اور نت نئ دوستیاں بنانا اور خبریں وغیرہ حاصل کرنا ہے۔ لوگ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا استعمال کرنے کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہیں۔ لیکن اس کا استعمال کثرت سے نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ آج کل عام ہے۔ لوگ  تنہائی، ڈپریشن، ایگزاٹی اور مختلف ذہنی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، یہ ان کے لیے حتی الامکان اطمینان بخش ہو سکتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے استعمال سے ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نقصانات بہر حال کافی زیادہ ہیں۔

    لوگ صحت مندانہ زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات کا مسلسل استعمال بہت خطرناک ہے، ان سے نکلنے والی شعاعیں انسانی جسم پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لوگ ان آلات کو استعمال کرنے کے لیے بیشتر وقت ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں اور صحت مندانہ سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، جس کے صحت پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا لوگوں کی زہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کے علاوہ روز مرہ زندگی پر بھی بری طرح سے اثر انداز ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر دوستیاں پالی ہوئی ہیں اور دن کا بیشتر وقت سوشل میڈیا اور اس پر بنائے گئے دوستوں کے ساتھ مشغول رہتے ہیں، اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور وقت نہیں دے پاتے۔ لوگوں نے آپس میں ملنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنی زاتی زندگی نظر انداز کرتے ہیں۔ بہت سے کام ان کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ لوگ حقیقی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنا وقت سوشل میڈیا پر گزار کر بھی لوگ غیر مطمئن رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بننے والی دوستیاں ٹوٹنے پر اکثر نوجوان افسردہ رہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر بہت جلدی پھیلتی ہے۔ سوشل میڈیا جھوٹی خبریں پھیلانے کا گڑ بنتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی خبر یا بات نشر کی جائے تو لوگ بلا تصدیق اس کو آگے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں۔جس سے بعض اوقات سنگین قسم کی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ مہذب بن کر شر انگیز مواد شائع کرتے ہیں اور نفرت پھیلاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اپنی اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کو بھلا کر اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بری زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کا رواج عام ہو رہا ہے۔ جس کا اثر بہت سے نوجوانوں اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔ جو کہ تشویشناک صورتحال ہے۔

    لوگ سوشل میڈیا پر مثبت کام بھی کرتے ہیں، نوجوانوں اور لوگوں کے لیے کورسز وغیرہ اور دیگر چیزیں سیکھنے کے بہت زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں، لوگ اپنے کاروبار وغیرہ کی اشاعت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے زریعے کامیاب کاروبار بھی کرتے ہیں۔ مختلف مذہبی اور دیگر موضوعات پر راہنمائی کے پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں۔

    بہرحال لوگوں کو خصوصاً نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا استعمال اپنی بہتری کے لیے کرنا چاہیے، انہیں کسی بھی صورت اپنی زندگی عذاب بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ایک جال ہے، جو آپ کو بری طرح جکڑ سکتا ہے، آپ کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے ہوش و حواس بحال رکھیں اور توازن کے زریعے اس کا استعمال کریں۔ خود کو حقیقی اور صحت مندانہ زندگی کی طرف راغب کریں اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں۔ سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • سگریٹ نوشی سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے تحریر: مریم وحید

    سگریٹ نوشی سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے تحریر: مریم وحید

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے پھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بڑی مشکل ہی اس سے جان چھڑا سکتا ہے بہر حال اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں جن پر عمل کر کہ ہم اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

    اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ میں نے سگریٹ نوشی کو ترک کرنا ہے پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہوا ٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کردیں زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بار تو ضرور یہ عمل سرانجام دیں اس سے بہت حد تک آ پکوسکون محسوس ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دو ہرانے کو جی چاہے گا۔

    ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آ پکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہسہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعال زیادہ کردیں اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جاۓ گا اور دوسراجسم سے نکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔

    بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چٹروانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یبھی نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جاۓ۔

    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجاۓ سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چاۓ کا پئیں جس سے ہاضمہ بجائے بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جاۓ گا۔

    سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیر ہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیر ہ سے دو بار سگریٹ پینے کو جی نہ چا ہے۔

    صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبی لمبی سانس لیں۔ اور کی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج کی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جاۓ گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں لہذ وہ کی مزید حوصلہ افزائی سے مد دکر میں گے۔

    اس کے علاوہ کسی پریشانی کی صورت میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع ضرور کریں۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریعہ ادویات بھی کیا جا تا ہے جہاں نکوٹین کے متبادل کئی ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن یہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں ورنہ کسی ماہرنفسیات سے رابطہ کر میں جو کہ آپ کو بغیر ادویات کے مندرجہ بالا ہدایات کے پیش نظر اپنی نگرانی میں علاج کر یگا۔ اللّه پاک سے دعا ہے کہ اللّه پاک ہمیں اس لعنت سے محفوظ فرمائے اور جو لوگ سگرٹ نوشی کرتے ہیں انکو اس سے جان چھڑانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

    @MeryamWaheed

  • یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن    تحریر: محمد بلال

    یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن تحریر: محمد بلال

    شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور تمام خطرات کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے عزم کی تصدیق کے لیے آج یوم دفاع و شہداء منایا جا رہا ہے۔ 6 ستمبر،1965 میں وہ دن تھا کہ بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا لیکن قوم کے تعاون سے افواج پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ اس سال کا یوم دفاع و شہداء کا موضوع ”ہمارے شہدا ہمارا فخر، غازیوں اور شہیدوں سے تعلق رکھنے والے تمام رشتہ داروں کو سلام’ ‘ ہے۔ملک کی ترقی اور خوشحالی اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ظالمانہ چنگل سے آزاد کرانے کے لیے مساجد میں فجر کے بعد خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ریڈیو پاکستان مادر وطن کے محافظوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قومی گانوں، شہداء کے لواحقین اور غازیوں کے انٹرویوز پر مشتمل خصوصی پروگرام بھی نشر کر رہا ہے۔یوم دفاع پاکستان کی قومی علامتوں کا مظہر ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم اکثر آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔اسی طرح، ملک کی افواج اور سیکورٹی ایجنسیاں مادر وطن کو غیر ملکی دشمنوں اور ملکی امن خراب کرنے والوں سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے چوبیس گھنٹے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔اس پس منظر میں، یوم دفاع، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے 1965 کی جنگ کے دوران بھارتی غداری اور جارحانہ ڈیزائن کے خلاف مظاہرہ کی گئی بہادری، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی یادگار ہے۔بھارتی افواج کے بزدلانہحملے کے باوجود، بے باک فوجی جوانوں نے پوری قوم کو اپنی پشت پر رکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا کامیابی سے دفاع کیا، بلکہ بے مثال جوش کے ساتھ جوابی وار کیا اور بھارتی افواج کے ساتھ ساتھ ان کے جارحانہ خوابوں کو بھی کچل دیا۔.یوم دفاع پاکستان مسلح افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور 1965 کی جنگ کے تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ درحقیقت، پاکستان کی افواج خدمات کے بہادر سپاہی، جنہیں بھارتی جارحیت کے خلاف ایک متحد قوم کی حمایت حاصل ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کا تنازعہ، جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گہری جڑیں رکھنے والی دشمنیوں کی بنیادی وجہ ہے، تقریبا 74  سال گزر جانے کے بعد بھی لٹکا ہوا ہے۔نریندا مودی نے بھارت کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال مزید خراب کر دی ہے، اقوام متحدہ کی مسلسل قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، 5 اگست 2019 کو متنازعہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔اس نے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم اور دباو کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر اپنے بہادر سپاہیوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے لیے اپنے عہد کی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں 

    @Bilal_1947

  • یوم دفاع ۔۔۔۔۔۔۔۔داستان  شجاعت و عزیمت   تحریر عظمی  ناصر ہاشمی

    یوم دفاع ۔۔۔۔۔۔۔۔داستان شجاعت و عزیمت تحریر عظمی ناصر ہاشمی

    اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو ہے للکارا
    ہم بھی ہیں صف آرا ‘ہم بھی ہیں صف آرا
    ریڈیو پاکستان پر اس نغمے کی ریکارڈنگ جاری تھی کہ ایسے میں پاک ٹی وی چینل پر نیوز کاسٹر قراۃالعین کی جذبات سے بھرپور تیز آواز ابھری ۔؛
    بھارت نے پاکستان پر لاہور کی جانب سے حملہ کر دیا ہے ۔اب تک دشمن کے آٹھ سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔
    یہ 6 ستمبر 1965 کی صبح کاذب کا وقت تھا جب انڈیا کی ناپاک فوج نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر بزدلانہ وار کیا ۔وہ تو لاہور کے احاطے میں ناشتہ کرنے کے متمنی تھے لیکن ہمارے شیردل نوجوانوں نے انہیں بی آر بی نہر کے پار ہی روک لیا اور ان کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے ۔اس جنگ میں فتح کا سہرا لاہوریوں کے سر بھی جاتا ہے اس کے ساتھ عوام بالخصوص گلی محلے کے لڑکے والے بھی شامل ہوگئے ہر کوئی اپنے مذہب اور وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار تھا ۔ماؤں نے اپنے بیٹوں کے سر پر خود کفن باندھے لوگوں کو گرمانے کے لیے یہ نغمہ بھی ملک بھر میں رقص کر رہا تھا ۔
    اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
    تو لبدی پھریں بازار کڑے
    اے شیر بہادر غازی نیں
    اے کسے کولوں وی ہر دے نہیں
    ایہنا ں دشمناں کولوں کی ڈرنا
    اے موت کولوں وی ڈردے نہیں
    اے اپنے دیس دی عزت توں
    جان اپنی دیندے وار کڑے
    محب وطن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے سرحدوں پہ پہنچ چکے تھے مائیں بہنیں کھانے بنا کر جانباز فوجیوں اور جوانوں کے پاس پہنچا رہی تھی بہت سی دختران پاکستان ہسپتالوں میں زخمیوں کے لیے نرسنگ کا فریضہ انجام دے رہی تھیی ۔جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی فوجی یا سویلین نوجوان زخمی ہسپتال میں لایا جاتا تو وہ دوبارہ میدان جنگ میں جانے کی خواہش کرتا ۔شدید بیہوشی میں بھی وہ کافروں سے جنگ لڑنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے اور ہندوؤں کو للکار رہے تھے ۔
    6 ستمبر 1965 کی جنگ کے پیچھے بھارت کی وہ جارحانہ کارروائیاں تھی جو وہ پچھلے کئی ماہ سے کر رہا تھا ۔مسلمان ریاستوں سے چھیڑ چھاڑ اس کی د یرینہ روایت ہے اس روایت نے ہی تو سلطان محمود غزنوی کو ہندوستان پر سترہ حملے کرنے پر مجبور کیا تھا ۔ہمیشہ یہ ناپاک دشمن پہل کرتا ہے اور پھر منہ کی کھا تا ہے
    جنگ شروع ہو چکی تھی ایسے میں صدر پاکستان محمد ایوب کے خطاب نے مسلمانوں کے جوش و جذبے کو مزید ابھا را۔ 6 ستمبر 1965 کو ریڈیو !پاکستان پر ایوب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔میرے عزیز ہم وطنو!
    دس کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آگیا ہے ۔ہندوستان نے پاکستان پر لاہور کی جانب سے حملہ کر دیا ہے مئی 1965 میں ہندوستان نے جنگ بندی کی لائن کو توڑتے ہوئے جان بوجھ کر کارگل کی تین چوٹیوں پر قبضہ کرلیا ۔اقوام متحدہ کی مداخلت پر انہیں خالی تو کردیا لیکن انہوں نے اگست میں ان پردوبارہ قبضہ جما لیا بعد ازاں اس نے چکوال کی چوکیوں پر بھی قبضہ کرلیا اور مختلف سرحدوں کی جانب سے بھی پاکستانی عوام پر گولا باری کی ۔اس قدر اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستانیوں نے بڑے صبر سے کام لیا لیکن ہندوستانیوں نے اس بات کو ہماری کمزوری سمجھا ۔ان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے سبب آزاد کشمیر کو اپنی اپنی فوجیں بھی بھمبھر کے مقام پر لا کر کھڑا کرنا پڑیں ۔ہندوستان نے تو اپنے ہوائی بیڑے کو بھی بے دریغ جنگ میں دھکیل دیا اس طرح حالات کو مزید خطرناک بنا دیا اس وقت تمام دنیا پر ظاہر ہوگیا تھا کہ کشمیر میں ہندو جارحیت کا اصل مقصد پاکستان پر حملہ کرنا ہے ۔پچھلے اٹھارہ سال سے وہ پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کرتے رہے ہیں ہم شروع سے ہی اس بات کو جانتے تھے کہ یہ جنگی تیاریاں ہمارے لئے ہیں وقت نے اسے سچ کر دکھایا ۔اب جب کہ ہندوستان نے اپنی روایتی منافقت اور بزدلی سے کام لیتے ہوئے باقاعدہ اعلان جنگ کیے بغیر اپنی فوجوں کو پاکستان پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہے تو ہمارے پاس بس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ ہم ان کے ناپاک حملے کا ایسا منہ توڑ جواب دیں گے کہ ہندوستانی حکمرانوں کے ناپاک سامراجی منصوبوں کا خاتمہ ہوجائے ۔
    انہوں نے لاہور کے دلیر اور بہادر لوگوں کو سب سے پہلے للکاراہے تاریخ میں لاہور کے دلیروں کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا ۔
    پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دلوں میں لا الہ الا اللہ محمد k الرسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ ہو جائیں ۔ہندوستانی حکمران شایدابھی نہیں جانتے کے انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے ہمارے اندر ایمان اور یقین کی طاقت ہے ۔ہم پورے اتحاد اور عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے اللہ تعالی کا واضح ارشاد ہے کہ’ فتح ہمیشہ سچ کی ہوگی” ۔جنگ شروع ہو چکی ہے اللہ تعالی نے ہماری مسلح افواج کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع دیا ہے ہماری فوجیں انشاءاللہ کامیاب ہوگیں ۔
    میرے عزیز ہم وطنو اس آزمائش کی گھڑی میں آپ مکمل طور پر پرسکون اور متحد رہیں
    میرے ہم وطنوں آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو
    اس جنگ نے بہت سے شہداء کے کارنامے رقم کیے ۔
    پاکستان کے شہداء میں ایک ایسا ہی اہم کردار میجر عزیز بھٹی شہید کا ہے ۔میجر میجر عزیز بھٹی 6 اگست1928 کو ہانگ کانگ کے خوبصورت جزیرے میں پیدا ہوئے ان کے والد مقامی سکول میں معلم تھے ۔1941 میں جاپان نے ہانگ کانگ پر حملہ کردیا ان کے والدین ہجرت کر کے پاکستان کے شہر گجرات کے ایک علاقے کھاریاں میں رہائش پذیر ہو گئے ۔میجر میجر عزیز بھٹی شروع سے ہی بڑے بہادر اور بڑے زیرک انسان تھے پڑھ لکھ کر وہ فوج میں بھرتی ہو گۓ انہوں نے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور پنجاب رجمنٹ کا حصہ بن گئے یہ۔
    29 اگست 1965 کی بات ہے جب میجر عزیز بھٹی اپنے اہل وعیال کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے تو انہیں یونٹ واپس بلا لیا گیا جنگی حالات سر پر منڈلا رہے تھے وہ یونٹ آنے کی تیاری کرنے لگے جب کھانے کی میز پر ان کی بیوی نے آ فسردہ لہجے میں پوچھا کہ جنگ ختم ہو گئی تو وہ واپس آ جائیں گے جواب میں عزیز بھٹی نےمسکرا کر جواب دیا ؛پریشان کیوں ہوتی ہو تمہیں معلوم تو ہے ایک فوجی کی زندگی میں اتارچڑھاؤ آتے رہتے ہیں ۔ان کا چھوٹا بیٹا ذوالفقار معصومیت سے بولا ابا جان کیا جنگ ہونے لگی ہے ؟عزیز بھٹی نے جواب دیا ہاں ۔شاید حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں رہے تو وہ معصومیت سے مکا ہو ا میں لہراتے ہوۓ بولا پھر کبھی دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا۔ میجر نے اس کا ماتھا چومااور اس سے کہا کہ پھر یہ بھی وعدہ کرو کہ میں شہید ہوجاؤں تو میری لاش پر نہیں رونا اور پھر اپنی بیوی اور بیٹے سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے میدان جنگ میں پہنچ گئے ۔
    میجر عزیز بھٹی کو لاہور سیکٹر میں برکی کی جانب سے ایک کمپنی کی کمان سونپی گئی جہاں انہوں نے اپنے جانبازوں کے ساتھ مسلسل چھ دن اور چھ راتیں دشمن کا مقابلہ کرتے گزاریں۔ نئ وردی نہ ملنے پر ایک افسر نے اپنی وردی پہننے کو کہا تو میجر عزیز نے جواب دیا نہیں وردی اور کفن اپنا ہی اچھا لگتا ہے ۔
    نویں اور دسویں کی درمیانی شب کو دشمن نے اس سیکٹر پر بھرپور حملے کے لیے اپنی پوری بٹالین جھونک دی لیکن میجر عزیز بھٹی اور اس کے جوانوں نے ان کے سامنے اپنے جسموں کی فصیل کھڑی کردی اور دیوانہ وار ان کا مقابلہ کیا۔میجر عزیز بھٹی مسلسل دشمن کی چوکیوں پر بی آر بی نہر کے اوپر کھڑے ہو کر نظریں جمائے کھڑے تھے کہ مخالف ٹینک کا ایک گولہ آپ کو أ لگا اور آپ موقع پر ہی شہید ہوگئےلیکن دشمن کو سرحد پار کرنے میں ناکام کر دیا جب دشمن یہاں سے ہٹ رہا تھا تو اس سیکٹر کے 150نوجوان شہید جبکہ اس کے سینکڑوں فوجی مارے جا چکے تھے ۔
    ایک دوسرا نام پاک فضائیہ کے کمانڈر ایم ایم عالم کا ہے جنہوں نے چالیس سیکنڈ میں پانچ ہنٹر طیارے مار گرائے جو آج بھی گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے ان کی اس جرات و مہارت پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا دین کا یہ سپاہی میدان جہاد میں تو شہید نہ ہوسکا لیکن طویل علالت کے بعد وفات پا گیا۔ اس طرح میجر طفیل شہید اور شبیر شریف کو بھی نشان حیدر سے نوازا گیا کیونکہ انہوں نے بھی میدان کارزار میں جرات و بہادری کے بہت جوہر دکھائے تھے ۔پاکستان کے جس جس علاقے سے دشمن نے حملہ کیا جب وطن باسیوں نے اس کا منہ توڑ جواب دیا ۔
    ہڈیارہ سے لے کر کھیم کرن تک
    چونڈہ سے لے کر ہلواڑے تک
    واہگہ سے لے کر جام نگر تک
    قصور سے لے کر اکھنور تک
    ہر طرف پاک فوج کی سرخروئی کے پرچم لہرا رہے تھے
    20ستمبر کو سلامتی کونسل کے کہنے پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا
    یہ جنگ 17 روز جاری رہی اس کے خاتمے تک ہندوستان اپنا بھاری جانی اور مالی نقصان کروا چکا تھا ۔
    یہ جنگ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی ۔120 ٹینک تو لاہور سیکٹر میں ہی تباہ ہو چکے تھے ۔
    بھارت کے پانچ سو سولہ ٹینک جب کہ ہمارے 35 ٹینک تباہ ہوئے تھے ۔
    بھارت کے سات ہزار فوجی جہنم واصل ہوئے جبکہ پاکستانی 830 جوان شہید ہوئے
    بھارت کے 1000فوجیوں کو قیدی بنایا گیا جبکہ پاکستان کے 17 فوجی ہندوستان کے قیدی بنے ۔
    بھارت کے 1617 مربع میل کے رقبے پر پاکستان کا قبضہ ہوگیا جبکہ پاکستان کے 447 رقبے پر ہندوستان نے قبضہ کیا اور درجنوں جنگی انڈین جہاز ہمارے ماہر ہوا بازوں نے تباہ کر دیئے اور یوں ہندوستان کے وزیراعظم لال بہادر شاستری کا لاہور میں ناشتہ کرنے کے بعد جم خانوں میں بیٹھ کر جام سے جام ٹکرا نے کا خواب منوں مٹی تلے ملیامیٹ ہو گیا ۔
    اس وطن کا ایک ایک ذرا ان شہیدوں کے ایک ایک قطرے کا مقروض ہے۔ جن آزاد فضاؤں میں ہم سانس لے رہے ہیں اس کے ایک ایک جھونکے میں ان کے مقدس لہو کی خوشبو شامل ہے ۔
    جنہوں نے اپنا خون دل دے کر گلاب کی طرح اپنے وطن کو سنو ارا اور اپنے تازہ لہو سے اس کی آبیاری کی ہے اور انھوں نے یہ واضح کر دیا ۔
    جب بھی گھیرا تجھے ظلمتوں نے کبھی
    مشعل جام بنے ہم مقابل رہے
    ہم نے مر کر تجھے سرخرو کردیا
    ہم بھی تیرے شہیدوں میں شامل رہے
    آئیں یوم دفاع کو یاد رکھتے ہوئے ہم اپنے وطن کی پاک مٹی سے وعدہ کریں کہ جب بھی ضرورت پڑے گی ہم بھی اپنے وطن اور اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن اس پر نچھاور کر دیں گے ۔اللہ تعالی اس اسلام کے قلعے کو محفوظ اور مستحکم بنا ۓ ۔ہمیں کفار پر فتح و نصرت عطا کرے ۔اسلامی ریاست کا وجود قائم رہے اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہو جائے (آمین)
    **********************

  • 6ستمبر یوم دفاع پاکستان ۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا بقلم : عمر ہمدانی

    6ستمبر یوم دفاع پاکستان ۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا بقلم : عمر ہمدانی

    6 ستمبر ہر سال یوم دفاع پاکستان کے طورپر ملک بھر میں قومی دن کے طورپر منایا جاتا ہے،یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج پاکستان کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے اس دن شہداء پاکستان اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور ملک پاک کی عسکری طاقت کو مضبوط کرنا اور ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے احسن طریقے سے نمٹا جاسکے ۔

    6 ستمبر ملک بھر میں سکول ،کالجز ،جامعات کے علاوہ تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتاہے اور بھارت کی اس شکست و پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے،ہر محب وطن پاکستانی اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتاہے اور یہ یقین رکھتاہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے ۔

    6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نا بھولنے والا قابل فخر دن ہے جب پاکستان سے کئی گنا بڑے ملک ہندوستان نے کئی گنا افرادی قوت اور دفاعی وسائل کے ساتھ کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں یہ منصوبہ بنایا کہ وہ لاہور پر قبضہ کر کے لاہور جمخانہ کلب میں فتح کا جشن منائیں گے لیکن انہیں کیا معلوم کہ پاکستانی فوج اور فضائیہ دشمن کی چالاکیوں اور حملوں کامنہ توڑ جواب دینے کیلئے ہر وقت مستعدرہتی ہے، اس غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملے کا پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم مٹی میں مل گئے اور ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اور یہ ہمیشہ ہی ایسا ہوا جب جب ملک کے دشمنوں نے پاکستان میں فسادات برپا کرنا چاہے حملہ کرنا چاہاتو افواج پاکستان نے ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کے عزائم مٹی میں ملا دیئے اور پاکستان کی بہادر افواج کے جوانوں نے اپنی چھاتیوں پر بم باندھ کر ان کے درجنوں ٹینکوں کو تباہ کر دیا اور دشمن کے حملہ کو اپنے عزائم اور لازوال قربانیوں کے ساتھ ناکام کر دیا ۔

    6 ستمبر مسلم امہ کی فتح کا جنم دن ہے جب دشمن نے پاکستان کے شیر دل جوانوں کو للکارا تب کون جانتا تھا کہ صبح کا سورج آزمائش کا سبب بنے گا ماءوں کے لال ان سے جدا ہو جائیں گے ،خواتین کے سہاگ اجڑ جائیں گے ،بچوں کے سروں سے سائبان اٹھ جائیں گے لیکن سلام پاک فوج و فضائیہ کے ان جوانوں کو جنہوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا مگراس پاک مٹی پر آنچ نہ آنے دی اور آنے والی نسل کیلئے مشعل راہ بن گئے ۔

    6 ستمبر کا دن ہ میں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ آزادی کی حفاظت اللہ پر بھروسہ اپنے وطن عزیز سے بے پناہ محبت اور دفاع وطن کی قربانیوں کے جذبے سے ہوتی ہے ،پاک بھارت کی اس جنگ نے ثابت کیا کہ ہمیشہ ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی جنگیں لڑتی ہیں اور جیتتی ہیں پاکستان پر خدا کی رحمت باد نسیم کی طرح سایہ فگن ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ پاکستان زندہ باد ۔ ۔ ۔ پاک فوج پائندہ باد

  • وہ شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے – تحریر یاسر اقبال خان

    وہ شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے – تحریر یاسر اقبال خان

    برصغیر کے تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان دو الگ الگ ملکوں کی صورت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ 1947 سے لے کر بھارت کے پاکستان سے نفرت میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔ کشمیر میں پاک فوج کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کے بعد بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ چھپکے سے بنا دیا۔ 6 ستمبر 1965ء کی رات کو پاکستان میں حملے کیلئے داخل ہوتے وقت بھارت اپنے طاقت کے نشے میں اتنا مغرور ہوگیا تھا کہ بھارتی فوج کے ایک جنرل جینتو ناتھ چودھری نے اپنے سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح لاہور کے جم خانہ میں شراب پییں گے اور ناشتہ کریں گے۔

    6 ستمبر 1965ء کی آدھی رات کو صبح ہونے سے 3 گھنٹے پہلے بھارت نے رات کے اندھیرے میں بغیر اعلان کے پاکستان پر حملہ کردیا اور اپنے طاقت کے نشے میں پاکستان پر رات کے وقت جنگ مسلط کردی۔ بھارت کے فوج نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور اور قصور کے محاذوں پر حملہ کیا۔ 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان کے صدر نے ایک تاریخی خطاب سے قوم کو جنگ کی اطلاع ریڈیو پاکستان پر اپنے تقریر میں دی۔ اپنے خطاب میں ایسا جوش اور ولولہ پیدا کیا کہ ملک کا ہر فرد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے خطاب میں صدر ایوب خان نے قوم سے کہا کہ "میرے عزیز ہم وطنوں 10 کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آپہنچا ہے ہندستانی فوج نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے بھارتی حکمران شروع سے پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے تھے ہندوستانی حمکران شاید یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے” صدر ایوب کے اس جذباتی تقریر پر پاکستانی قوم متحد ہوکر اپنی دفاع کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہوگئی۔

    6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے سب سے پہلے لاہور میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکامی دشمن کا مقدر تھی۔ پاک افواج نے دشمن کو واگہ بارڈر کے ساتھ ہی طاقتور مزاحمت سے لاہور شہر میں انے نہ دیا اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔ بھارتی فوج نے کھیم کرن کے مقام سے قصور میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بھارت کو یہ کوشش مہنگی پڑی۔ پاک فوج نے نہ صرف اس پیش قدمی کو ناکام بنایا بلکہ جوابی کروائی کرتے ہوئے بھارتی افواج کو سرحد پار جا کر کھیم کرن تک دهكیل دیا۔ پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارتی حملے کا لاہور کی محاز پر لڑتے ہوئے روک دیا جس سے بھارتی حملہ آوروں کو بھاری جانی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی علاقے میں پٹھان کوٹ، ادم پور اور ہلواڑہ ایئر بیسس پر انتہائی کامیاب حملے کئے۔ پاک فضائیہ کی اس کاروائی میں دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہوئے ان حملوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی۔ 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ نے نہ صرف بھارتی پیش قدمی کو کراچی کی بندرگاہ پر روکا بلکہ بھارت میں جا کر دوارکا کے مقام پر بھارتی طیاروں اور ریڈر سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی افواج کا غرور مٹی کردیا۔ پوری قوم اور مسلح افواج نے اپنے سے چھ گنا بڑی بھارتی فوج کو پاکستان پر حملے کا زبردست جواب دیا کہ دنیا پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جرت اور قوم کے جذبہ حب الوطنی پر حیران رہ گئی۔ 

     7/8 ستمبر 1965ء کی رات مکار و بزدل بھارتی فوج نے لاہور کے محاذ سے پاکستانی فوج کی توجہ ہٹانے کیلئے سیالکوٹ کے ایک مقام چھونڈہ پر 600 سے زائد  ٹینکوں، 400 توپوں اور ایک لاکھ سے زائد فوج کے ساتھ حملہ کردیا تاریخ اس حملے کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتی ہے۔ پاک فوج نے چھونڈہ میں ہی ان ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا اور پاک فوج کے جوانوں نے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا اور مادر وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا۔ بھارت کو بھاری قیمت چکا کر دم دبا کر واپس بھاگنا پڑا۔ بھارتی فوج رات کے اندھیرے میں چھونڈہ گھس تو گئی لیکن پھر چھونڈہ کے عوام نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کی ایسی دھولائی کی کہ چھونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ 

    میجر عزیز بھٹی شہید 1965ء کے جنگ کے ایک ہیرو ہے جو لاہور کے قریب برکی سیکٹر پر مسلسل 5 دن اور 5 راتیں جاگتے رہے اور دشمن کے سامنے دیوار بن کر اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے رہے۔ دشمن کا مقابلا کرتے ہوئے اس نے اپنی جان دے کر پاکستان کی حفاظت کی۔ میجر عزیز بھٹی شہید کو اس کی بہادری پر نشان حیدر سے نوازا گیا۔ بھارت جو ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستان کو آگ لگانے آیا تھا پاکستان کے مسلح افواج نے بھارت کے ٹینکوں اور توپوں سے برستے آگ کے شعلے اپنے لہوں سے بجھا کر اس پاک وطن کی حفاظت کی۔ پاک فوج کے نوجوانوں نے شہادتیں پا کر پاکستان کو دشمن کے قبضے میں جانے سے بچایا اور دشمن کو شکست سے دوچار کردیا۔ ستمبر 1965ء کے شہیدوں اور غازیوں کی یاد میں پاکستان میں 56 واں یوم دفاع پاکستان بنایا جا رہا ہے۔

     لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو 

    وه شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں زندگی گزارنے والے سید علی گیلانی 92 سال کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اگر انہیں شہید سید علی گیلانی کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ جدوجہد میں تھے، وہ کشمیر کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے نظر بندیوں، جیلوں اور قیدوں میں گزارا۔ ان کی آواز بوڑھی ہو گئی تھی، کمزور ہو گئی تھی لیکن اب بھی ان کے الفاظ میں گرج موجود تھی۔ ان کی آنکھوں میں جو آزادی کا خواب تھا وہ انشاءاللہ ضرور پورا ہو گا۔

    ان کی ایک ویڈیو نظر کے سامنے سے گزری جس میں وہ ایک دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔ پورے کشمیر میں لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا، کشمیریوں پر ظلم کیا جا رہا تھا، ان کا حق چھینا جا رہا تھا، شہید کیا جا رہا تھا، گھر گھر تلاشی ہو رہی تھی، بھارتی فورسز کشمیریوں سے بدتمیزی کر رہی تھیں، اُس وقت انہوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا کہ "دروازہ کھولو، دیکھو تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے۔” یہ آواز ہمیشہ بھارت کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ اس عمر میں ان کی آواز بوڑھی ہو چکی تھی لیکن ان کے الفاظ میں جو طاقت تھی وہ آج بھی پوری وادی میں گونج رہی ہے۔

    سید علی گیلانی بڑے عرصے سے علیل تھے، نظر بند بھی تھے اور سمجھوتہ بھی نہیں کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین سب سے بڑا سوال تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں کی جائے۔ لیکن بھارتیوں نے ان کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہونے دی۔ بھارتی ڈر گئے تھے کہ اگر سید علی گیلانی کی میت کو اُٹھا کر وہاں تک لے جایا گیا تو پورا کشمیر میت کے ساتھ باہر نکل آئے گا، لوگوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور یہ تحریک دوبارہ زور پکڑ لے گی۔ 

    اس لیے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جگہ جگہ خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان کی رہائش گاہ پر بہت بڑی تعداد میں نفری پہنچ گئی۔ ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جھگڑا کیا گیا، اور اُن کی تدفین زبردستی اُن کے گھر کے قریب ہی قبرستان میں کروائی گئی۔ ایک جسدِ خاکی سے بھارت اتنا زیادہ ڈر گیا کہ انہوں نے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا، انہوں نے پورے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا کہ لوگ کہیں باہر نہ آ جائیں۔ لیکن یہ تو ہو گا، اور یہ انشاءاللہ آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

    کشمیر کے لوگ آج نہ صرف سراپائے احتجاج ہیں بلکہ سوگ میں ہیں۔ پاکستان نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم اور صدرِ پاکستان نے فوری طور پر ردِ عمل دیا۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کو جوڑنے کے حوالے سے ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تمام وہ راستے اختیار کیے جس سے کشمیریوں کو ان کا حق دلوایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سیاست کر کے دیکھی اور وہ کئی دفعہ جیتے، لیکن ان کی پارٹی کو کبھی بھی اکثریت میں نہیں آنے دیا گیا۔ کیوں کے بھارتی حکومتیں ان سے کہتی تھیں کہ ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں ہم آپ کی کشمیر میں حکومت بنوا دیں گے، لیکن سید علی گیلانی نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کشمیریوں کو کبھی دھوکہ نہیں دیا۔ پھر سیاست چھوڑی اور حُریت میں آ گئے۔ آزادی کی تحریک میں کام کرتے رہے۔ بلآخر ان کا نعرہ پورے کشمیر میں گونجنے لگا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” ۔

    ایک اور ویڈیو ان کی مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ بہت زوردار آواز میں کہتے ہیں کہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ ان کے یہ الفاظ وادی میں گونج رہے ہیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک بہت اہم سٹیٹمنٹ جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے پوری دنیا کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب مار دیے گئے تو اللہ کے حضور آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا، کیوں کے بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی شروع کرنے جا رہا ہے، اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے”۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے، کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور کبھی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے کشمیریوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا، یعنی شیخ عبداللہ کو سر پہ اُٹھایا، اتنی عزت دی لیکن اس نے انڈیا گورنمنٹ سے معاہدہ کر لیا اور کشمیر کا حکمران بن کے موجیں کیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک دوسرا قول جس پر وہ ساری زندگی کھرے اُترے، انہوں نے کہا کہ "بھارت اپنی ساری دولت ہمارے قدموں میں ڈال دے اور ہماری سڑکوں پر تارکول کی بجائے سونا بچھا دے تو تب بھی ایک شہید کے خون کی قیمت نہیں چکا سکتا۔

    یہ ایک عظیم مجاہد کی داستان ہے، جو ساری زندگی اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب لے کر جیتے رہے، نعرے لگاتے رہے کہ ” کشمیر بنےگا پاکستان”، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ انہوں نے جو خواب دیکھے وہ خواب انشاءاللہ ضرور پورے ہوں گے۔

    ان کے جانے کا غم کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سید علی گیلانی کے درجات بلند کریں اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ (آمین)

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    دنیا  بھر میں سب زیادہ تعداد میں فروخت ہونے والی اشیاء میں سے ایک سگریٹ بھی ہے۔تمباکو نوشی کی عادت بعد میں دیگر منشّیات مثلاً چرس ، ہیروئن ، شیشہ وغیرہ کے استعمال کا سبب بن جاتی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی باقی منشیات کی جانب پہلا قدم کہلائی جا سکتی ہے۔

    روزانہ سینکڑوں لوگ تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ وبا ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

    نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے شروع سے ہی ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں سکول سے ہی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک کافی حد تک تمباکو نوشی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے انتہائی مضر ہے, تمباکو نوشی سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور دمہ جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو کہ آگے جا کر انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بھی رہتا ہے عام لوگوں کے مقابلے میں تمباکو نوشی لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے تمباکو نوش تو متاثر ہوتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر تمباکو کے دھوئیں سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں ان میں دمہ اور دوسری متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو سوچنا چاہیے انکی اس بری عادت کا ان کی صحت پر تو برا اثر ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ اس کے عزیز بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو نوش افراد کو چاہیے جتنا جلدی ممکن ہو اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کریں۔

    حکومتی سطح پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی جانب سے کوئی خاص آگہی مہم نہیں شروع کی گئی جس سے اس وبا کو کم کرنے میں کوئی مدد مل سکے۔ اس لیے انسداد تمباکو نوشی کی مہم چلانی چاہیے جس میں معاشرے کے سب طبقات، می ڈیا وغیرہ کو بھی بھر پور حصہ لینا چاہیے۔ سکول اور کالج کے نصاب میں انسداد تمباکو نوشی کے متعلق مضمون ہونا چاہیے جس میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی ہو تاکہ انہیں شروع سے ہی تمباکو نوشی جیسی بری عادت سے دور رکھا جا سکے۔ 

    بسوں، مارکیٹس، دفاتر اور عوامی جگہوں پر تمباکو نوشی کی سختی سے ممانعت ہو تاکہ اردگرد کے لوگوں کو تمباکو کے دھوئیں سے محفوظ بنایا جا سکے اور جو کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے۔ 

    سماجی رابطوں کی مختلف ایپس ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام وغیرہ پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف بہترین مہم چلائی جا سکتی ہے اس لیے آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے ملک سے تمباکو نوشی کی وبا کو کم کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  • لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 

    لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 


    قانون سازی کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں آئے روز نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کو روکا جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

    پاکستان میں اگر کوئی نچلے طبقے کا شخص جرائم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور بلاخوف مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ھے تو جو کہ خوش آئند عمل ہے۔

    لیکن جب کوئی بااثر شخصیات کسی غریب پر ظلم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو گھر بیٹھے ریلیف فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں غریب کی عزت مجروح ہوتی ہے اور بااثر شخصیات اپنی طاقت سے عوام پر ظلم کرنے کو ہی اپنی عظمت سمجھتے ہیں

    پاکستان میں چاروں صوبوں کی بات کی جائے تو ہر صوبے میں الگ قسم پائی جاتی ہیں پنجاب میں اگر کوئی نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تو طاقت وار لوگوں کی پشت پناہی کرنے والے صحافی نیے قانون کو متنازع بنانے شروع ہو جاتے ہیں

    دوسری جانب وطن عزیز میں سب سے زیادہ سندھ میں لاقانونیت دیکھی جاتی ہے جہاں ملک کا چیف جسٹس موقع سے شراب برآمد کر لیتے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ شراب کی بوتلیں شہید میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جس سے شراب برآمد ہوئی وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ھے

    سوچیں جہاں ملک کا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکے مجرم بااثر ھے تو وہاں میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کیا انصاف فراہم کیا جائے گا انصاف تو دور کی بات الٹا تذلیل کی جاتی ہیں

    پاکستان عدلیہ کا شمار دنیا کی درجہ بندی سے دیکھا جائے تو کسی سے چھپا ڈھاکا نہیں ایک سو اٹھائیس میں سے ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد اور انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہیں۔ بڑھتے جرائم کی ایک وجہ مہنگائی ، غربت ، بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بےحیائی بھی معاشرے میں بڑھتے جرائم کا اسبب بن رہی ہے۔

    جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بچوں سے زیادتی کے حالیہ واقعات دیکھیں جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں آئے روز کسی معصوم سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اسب لاقانونیت ھے ایسا قانون نافذ کیا جائے جس سے دوسرے کو سزا کا خوف ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ جو کیسیز انڈرٹرائیل ھے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائے تاکہ کہ دوسرے لوگوں کو علم ہے یہاں طاقت وار اور غریب کے لئے ایک قانون ھے اور اداروں کو بھی چاہیے اس میں بااثر شخصیات کو کسی بھی کیس میں رعایت نہیں دی جائے اور جب کوئی بااثر افراد کسی کیس میں اپنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کریں پہلے اس کا احتساب کیا جائے کہیں ایسا تو ہو رہا بیرون دُشمنوں کے پیروکار کے طور پر تو ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں ملوث نہ ہو۔

    @AK_Anwar_Khan