Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    راولپنڈی میں سہگل حویلی کی مرکزی عمارت، جو اب لال حویلی کے نام سے مشہور ہے، شہر کے بالکل وسط میں بوہڑ بازار میں ایک سو سال سے زائد زیادہ عرصے سے کھڑی ہے۔راولپنڈی شہر میں اس سے قبل ایسی کوئی عمارت نہ تھی۔ اس عمارت پر لکڑی، پیتل، چاندی اور دیگر دھاتوں کا استعمال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس عمارت میں ایک کیمیائی لکڑی کا استعمال کیا گیا اور شہر میں یہ عمارت اپنی مثال آپ تھی۔ عمارت دو حصوں پر مشتمل تھی جس کا ایک حصہ مردوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جبکہ مرکزی اپارٹمنٹ اور پیچھے سے ایک حصہ خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حویلی میں سہگل اور بدھاں بائی کے کمروں کو اعلیٰ پودوں اور پھولوں سے مزین کیا گیا تھا جو بوہڑ بازار میں کھلے بازاروں سے منسلک تھے۔ بدھاں بائی نے لال حویلی میں منتقل ہونے کے بعد رقص چھوڑ دیا تھا۔ راج سہگل نے حویلی کے اندر بدھاں بائی کے لیے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی جبکہ اپنی عبادت کے لیے ایک مندر تعمیر کرایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ حویلی ایک مہاجر کشمیری خاندان کو الاٹ کی گئی ۔

    بدھاں بائی کی اس داستان نے سہگل حویلی کو جنوں والی حویلی بنا دیا۔ سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان مر کر بھی زندہ ہے، بدھاں بائی کی یادیں پرچھائیاں بن کر آج بھی لال حویلی کے در و دیوار میں رقصاں ہیں۔

    انمول پیار کی لازوال کہانی ایک صدی کا قصہ ہے، کہا جاتا ہے کہ اس حویلی کو شاہ راج سہگل نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال مسلم رقاصہ بدھاں بائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔ مشہور ہے کہ سہگل جو جہلم کے ایک امیر کبیر ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا سیالکوٹ کی اس رقاصہ سے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ بدھاں کے گھنگھروں کی گھن سہگل کے دل پر ایسی اثر انداز ہوئی کہ پہلی ہی نظر میں سہگل بدھاں بائی کو دل دے بیٹھا اور اس کو شادی پر آمادہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی اور سہگل باندھ بائی کو سیالکوٹ سے راولپنڈی لے آیا اور اس کے لیے ایک حویلی تعمیر کروائی اور اپنا پیار امر کر ڈالا۔

    1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو محبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی یہیں رہ گئیں۔ پوری محبت کی اس آدھی کہانی میں پر اسرار موڑ اس وقت آیا جب بدھاں بائی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ کر کسی گمنام وادی میں کھو گئیں۔ بدھاں کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو جنوں کی حویلی کہا جانے لگا۔ وقت گزرا اور پھر اس حویلی کو نئی شناخت اس وقت ملی،جب 1985ء میں شیخ رشید نے سہگل حویلی کو خرید کر لال حویلی کا نام دے دیا، اب یہ حویلی محبت کی خوشبو کی بجائے سیاست کے دھوئیں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

    کبھی یہ حویلی محبت کے علامت ہوا کرتی تھی جو آج کل عوامی مسلم لیگ کا پبلک سیکرٹریٹ ہے اور پارٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد کی ملکیت بتائی جاتی ہے اور سیاسی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ 1985ء کے بعد شیخ رشید احمد نے اس کو سیاست کا گڑھ بنایا اس لال حویلی نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی میزبانی کی جن میں موجودہ اور سابقہ وزیراعظم شامل ہیں ۔ اسکے علاوہ 90 کی دہائی میں جب الیکشن ہو رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بی بی سی نے انٹرویو کیا اور راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے بارے میں سوال کیا اسکے بعد صحافی نے بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کو مشورہ دیا کہ” آپ راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کو ٹکٹ لال حویلی کو دے دیں ۔”وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اب لال حویلی کو فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے ۔

     

  • جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعتہ المبارک  کی سنتیں  تحریر: محمد آصف  شفیق

    جمعہ کا دن دین اسلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اس دن کے حوالے سے رب کریم قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذِکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔(9سورۃ الجمعہ)

    اور پھر اگلی ہی آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ 

    فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ

    پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔(10سورۃ الجمعہ )

    اس دن میں  غسل کرنا اچھی طرح تیار ہونا خوشبو لگانا سب نبی مہربان ﷺ کی سنتیں  ہیں اس  دن کی برکت کو سمجھنے  کیلئے چند احادیث مبارکہ کا  آج مطالعہ کریں گے

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جس قدر ممکن ہو، پاکی حاصل کرے، یا پھر تیل لگائے یا خوشبو ملے اور مسجد میں اس طرح جائے کہ دو آدمیوں کو جدا کرکے ان کے درمیان نہ بیٹھے اور جس قدر اس کی قسمت میں تھا، نماز پڑھے، پر جب امام خطبہ کیلئے نکلے تو خاموش رہے، تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 874

    حضرت ابوالیمان، شعیب، زہری، طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، اور اپنے سروں کو دھولو، اگرچہ تمہیں نہانے کی ضرورت نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا کہ غسل کا حکم تو صحیح ہے، لیکن خوشبو کے متعلق مجھے معلوم نہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 850 )

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کی نماز کیلئے آئے تو وہ غسل کر لے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 860)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر واجب ہے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 861)

    حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن سویرے نکلتے اور جمعہ کی نماز کے بعد لیٹتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 868)

    حضرت یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب روایت کرتے ہیں، کہ ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن دوسری اذان کا حکم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا، جب کہ اہل مسجد کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب کہ امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 879)

    نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے بروقت   مسجد پہنچنے کی فضیلت اس حدیث  مبارکہ میں  یوں بیان کی گئی ہے 

    حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور سویرے جانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر اس شخص کی طرح جو گائے کی قربانی کرے اس کے بعد دنبہ پھر مرغی، پھر انڈا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے جب امام خطبہ کے لئے جاتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ کی طرف کان لگاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 893)

    جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے  جس میں اللہ  رب العالمین سے  جو بھی  دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے  جسے اس حدیث مبارکہ میں یوں   بیان کیا گیا ہے

    حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 899 )

    آپ ﷺ  جمعہ کے دن نماز فجر میں  سورۃ السجدہ اور سورۃ  دہر  کی  تلاوت فرماتے

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت الم تَنْزِيلُ (السَّجْدَةُ) اور هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ ( سورت دہر) پڑھتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1025)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس کے ایک دن پہلے یا اس کے بعد ملا کر روزہ رکھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1910)

    ہمیں کوشش کرنی چاہئے  کہ ہم جمعہ کے دن جلد مسجد پہنچیں  تاکہ ہمارا نام بھی  اول  وقت میں آنے والوں میں لکھا جائے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے ہر دروازہ پر (متعین ہو کر) سب سے پہلے پھر اس کے بعد (پھر اس کے بعد اسی طرح) آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں جب امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے آجاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 471)

    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں  جمعہ کی فضیلت کو سمجھنے والا اور  اس دن کے اجر وثواب کو حاصل کرنے والا بنا دے  آمین یا رب العالمین

  • ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد

    ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد

    آج کل اگر ہم ٹی وی چینلز کی بات کریں ویسے تو بہت ماڈرن زمانہ ہو گیا ہے ٹیلی ویژن کی تو ویلیو نہیں ہر چیز جب چاھیں جہاں چاھیں آپ کے موبائل،آم آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں آسانی سے دیکھ سکتے ہیں بہرحال ہم بات کر رہے تھے ٹی وی چینلز کی سیٹینگ کی تو انکی سیٹنگ بھی بلکل اجیب ہے سب سے پہلے سارے فلموں والے چینلز پھر ڈراموں والے پھر نیوز والے اور پھر اینڈ میں کئی جا کر اسلامی چینلز، جو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا وہ سب سے آخر میں اور جو آخر میں ہونے چاھیے تھے وہ سب سے پہلے ہوتے ہیں، آپ اگر شام 8 بجے کہ بعد ڈراموں والے چینلز دیکھیں گے تو کئی دائیں طرف سے عورت کو چانٹا لگ رہا ہوگا کسی کو بائیں طرف اور کئی پر الٹیاں ہوں گی پریگننسی ہو گئی میں یہ نہیں کہتا اس ملک میں عورتوں پر ظلم نہیں ہوتا مگر ہمارے ڈرامے والے بار بار ایک ہے چیز دیکھا کہ کیا کہنا چاھتے ہیں؟ کچھ دنوں پہلے ایک ڈراما (جدا ہوئے کچھ اسطرح) کا ٹریلر دیکھا کی جی وہ کوئی شادی ہو گئی ہے لڑکے لڑکی کی تو نانی جی کہتی ہیں یہ تو بہن بھائی ہیں وہ بھی رضائی والے مطلب دو کزن ہم عمر ہیں غلطی سے اپنے بچے کہ جگہ دوسرے کو دودھ پلا دیا تو ہوگئے رضائی بھائی بہن یعنی اپنی اولاد کو ہی نہیں پہچانا اور پھر نانی اما نے یہ تو بتا دیا یہ بھائی بہن ہے اور دوسری طرف اب لڑکی پریگننٹ ہو گئی ہے، اس ٹاپک کہ بعد آپکو پھر دیکھے گا ڈرامے کا دوسرا موضوع جس میں ہمیں دیکھایا جاتا ہے دیور بھابھی سے محبت کرتا یا لڑکی کئی جاب کرتی ہے تو وہاں بوس سے پیار کر بیٹھتی ہے بالکل بھی فرق نہیں پڑتا وہ شادی شدہ ہے یا اسکا بچہ ہے کچھ بھی نہیں یہ کہانی آپ نے پچھلے دنوں بہت نام سنا ہوگا ( میرے پاس تم ہو ) اسکا سین بیان کر رہا ہوں ہمارے یہاں آپکو صرف یہ دو ہی ٹاپک ملیں گے اور پھر ڈراما لکھنے والا کہتا ہے جو روز مرہ کی زندگی میں ہوتا ہے وہ دکھاتے ہیں ہم تو کیا ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں بچے لوگ ٹیچرز نہیں بنتے یا پھر گورنمنٹ سکول یا ہسپتال کے ان لوگوں پر کہانی نہیں بن سکتی جو گھر بیٹھے بیٹھے تنخواہیں اٹھا رہے ہوتے ہیں میں ایسا ہر گز نہیں کہوں گا کہ سارے ایسا کرتے ہیں پر کچھ بھی آٹے میں نمک کے برابر لوگ ہی سہی کرتے تو ہیں تو ان پر کہانی بنائو، ہمارے یہاں آپ معاشرے میں دیکھیں گے بچوں نے انجیرنگ کی ہے کسی نے ڈاکٹری یا کچھ بھی کیا ہو محنت کی ہے تعلیم حاصل کی ڈگریاں حاصل کیں پر بیروزگار ہیں ان پہ بھی تو ایک بہت زبردست کہانی بن سکتی ہے یہ بھی تو زندگی میں ہو رہا ہے ان پہ کوئی کیوں کوئی ڈراما یا فلم نہیں بناتا ؟ آجکل ڈراموں میں بے حیائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھاتے پاکستان میں اس وقت جو طلاقوں کی سب سے زیادہ وجہ جو بنتی ہے میں سمجھتا ہوں وہ ڈراما سیریل ہے کیوں کہ ڈراموں کہ ذریعے ہماری نسلوں سے پیار ختم کرکے نفرتیں پیدا کر رہی ہیں وہ ہماری بچیوں اور خواتین میں آزادی کی باتیں ڈالتے ہیں کہ عورت کو آزادی ہونی چاہیے کچھ بہنیں سمجھدار ہوتی ہیں تو کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں ہیں جو پھر روڈ پر نکل آتی ہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے میں تو وقت کے حکمرانوں اور گھر کے سربراہوں سے ایک گزارش کروں گا اگر آپ ریاست مدینہ چاھتے ہیں تو اپنی نسلوں کو ڈراموں سے نکال کر صحابہ کرام کی سیرت پڑھائیں صحابیات کے واقعات پڑھائیں پھر آپ ریاست مدینہ قائم کر سکتے ہیں ہر گھر کی زمہ داری اس گھر کے مرد کی ہوتی ہے نا کہ حکومت یا حکمرانوں کی تو بہرحال اپنی نسلوں میں اور انکی سانچوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ 

  • فیصلہ پارٹ نمبر 3   تحریر سکندر علی

    فیصلہ پارٹ نمبر 3 تحریر سکندر علی

    پھر اس نے خط جیب میں رکھا اور کمرے سے نکل کر مختصر برآمدے سے ہوتا ہوا اپنے باپ کے کمرے میں گیا جہاں

    اس کا مہینوں سے جانا نہیں ہوا تھا۔ وہاں جانے کی اسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کاروباری سلسلے میں روز ہی تو وہ

    ملتے تھے اور کھانے کے وقفوں میں دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھاتے تھے۔ البتہ شام کو دونوں اپنے مرضی سے وقت

    گزارنے میں آزاد تھے۔ جارج زیادہ تر دوستوں کے ساتھ باہر چلا جاتا یا جیسا کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ وہ اپنی منگیتر سے

    ملنے چلا جاتا بصورت دیگر دونوں باپ بیٹا کچھ وقت ساتھ گزارتے اوراپی مشترکہ بینک میں بیٹھ کر اخبار پڑھتے ۔

    جارج کو حیرت ہوئی کہ ایسے روشن دن میں بھی اس کے باپ کا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ کرہ تک مین کی

    دوسری جانب اونچی دیوار کے سائے میں واقع ہونے کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی سے محروم تھا۔ اس کا باپ

    کھڑکی کے نزدیک ایک کونے میں بیٹا تھا جہاں اس کی مرحوم والدہ کی تصویریں اور تلف نشانیاں لگی ہوئی تھیں اور اخبار

    کو پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے یوں ایک طرف کیے ہوئے تھا جیسے بھارت کے قص پر قابو پانے کی کوشش کر رہا

    ہور میز پاس کے ناشتے کا، جس کا صاف معلوم ہوتا تھا کہ کم ہی حصہ کھایا گیا، باقی ماندہ حصہ پڑا تھا۔

    اوہ جارج اس کے باپ نے فورا اپنی جگہ کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔ چلنے سے اس کا بھاری بھر کم شب خوابی کا

    لباس کھل گیا اور پلواس کے جسم کے گرد پھڑ پھڑائے گئے۔

    میرا باپ ابھی تک ایک جسیم انسان ہے۔ جارج نے خود سے کہا۔

    وہ بولا ” یہاں نا قابل برداشت اندھیرا ہے ۔

    ہاں، کافی اندھیرا ہے۔ اس کے باپ نے جواب دیا۔

    آپ نے کھڑکیاں بھی بند کی ہوئی ہیں؟

    ایسا ہی اچھا لگتا ہے۔

    اخیر باہر کافی گری ہے۔ جارج نے کہا جیسے وہ اپنی پچھلی بات ہی کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔

    اس کے باپ نے ناشتے کے برتن صاف کیے اور انھیں ایک الماری میں رکھ دیا۔

    دور میں صرف آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا تھا کہ جارج اپنے باپ کی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بولتا رہا، میں

    سینٹ پیٹرز برگ خط لکھ کر اپنی منگنی کی خبریج رہا ہوں ۔ اس نے اپنی جیب میں سے خط پہلے مجھے باہر کیا لیکن پھر اسے

    والیں اندر سید لیا۔

    سینٹ پیٹرز برگ؟ اس کے باپ نے پوچھا۔

    میرے دوست کو جارج نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ

    کاروباری معاملات میں مریض کتنا مختلف ہوتا ہے ۔ کیسے مضبوطی سے اپنے بازوں کو باندھے بیٹھتا ہے۔

    ۔

    او ہاں، اپنے دوست کو اس کے باپ نے مجیب انداز میں زور دیتے ہوئے کہا ۔

    اچھا، ای جان آپ تو جانتے ہیں کہ پہلے میں اسے اپنی نئی کے بارے میں بتانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بس

    اس کا سوچ کر ورنہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی۔ آپ خود جانتے ہیں کہ وہ ایک مشکل انسان ہے۔ میں نے خود سے سوچا کہ

    اسے ضرور کسی نیکی ذریعے سے میری منگنی کے بارے میں پتہ چل جائے گا

    ، حالاں کہ اس کی خلوت گزینی کی زندگی میں

    اس بات کا امکان بہت زیادہ نہیں ہے اور اسے میں روک بھی نہیں سکتا لیکن میں اسے خبر دینے پر تیارنہیں تھا۔

    اور اب تم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اس کے باپ نے پوچھا، اپنا بڑا اخبار کھڑکی کی دہلیز پر پھیلاتے ہوئے

    جب کہ اس کے ہاتھ میں نظر کا چشمہ تھا جسے اس نے ایک ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا۔

    ہاں، اس بارے میں سوچتا رہا ہوں ۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر وہ میرا چھا دوست ہے تو میری خوشی سے اسے بھی

    خوشی ہوگی ۔ اس لیے اب مجھے اس کو اس بارے میں بتانے میں کوئی پچکچاہٹ نہیں ہے لیکن خط بھینے سے پہلے میں نے سوچا کہ آپ سے بات کرو۔

    جارج اس کے باپ نے اپنا بغیر دانتوں کا منہ پورا کھولتے ہوئے کہا میری بات سنو تم اس معاملے پر مجھ

    سے بات کرنے آئے ہو۔ بلا شبہ یہ تمھارے سعادت مندی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ بلکہ یہ پیش نہ ہونے کی

    بہتر ہوتا تو مجھے پورا ن ت بتاتے ۔ میں ان باتوں کو نہیں پھیرنا چاہتا ہو اس موقع سے مناسب نہیں رکھتی ہیں تمھاری ماں

    کی وفات کے بعد سے یہاں کچھ خاص قابل اعتراض باتیں ہوری ہیں۔ ایران پر بات کرنے کا ویتنے کا اور

    شاید اس سے بھی جلدر جتنا ہمارا اندازہ ہے۔

    کاروبار میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا مجھے علم نہیں ہو پاتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے چھپائی جاتی ہوں ۔ میں یہ

    نہیں کیہ رہا کہ نھیں جان بوجھ کر مجھ سے چھپایا جاتا ہے۔ میں پہلے ہمیں صحت مند نہیں رہا میری یادداشت کمز ور پوری

    ہے۔ میں اب مزید بہت کی باتوں پر ایک ساتھ نظر نہیں رکھ پاتا۔ ایک تو یہ سب کچھ قدرتی عمل کا حصہ ہے اور دوسری بات

    تمھاری ماں کی وفات تمھاری نسبت میرے لیے کہیں زیاد و پر ادا کی تھی لیکن چوں کہ ابھی ہم اس خط پر بات کر رہے

    ہیں، جارج میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے دھوکہ مت دو۔ تو بہت معمولی بات ہے۔ اتنی بھی اہم نہیں ہے کہ اس کا

    ذکر کیا جائے ۔ اس لیے مجھے دھوکہ مت دو۔ کیاوقتی سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست ہے؟

    جارج پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے دوستوں کی بات چھوڑیے۔ ہزاروں دوست بھی میرے لیے باپ کا

    تبادل نہیں ہو سکتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کیا سوچتا ہوں؟ آپ اچھے طریقے سے اپنا خیال نہیں رکر ہے۔ بڑھاپے

    میں زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار میں آپ کا ہونا میرے لیے ناگزیر ہے۔ آپ بھی یہ بات اچھی طرح

    جانتے ہیں لیکن اگر کاروبار آپ کی صحت کے لیے منتر ثابت ہے تو میں اسے کل ہی ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تیار ہوں لیکن

    اس سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں آپ کی طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ ایک بڑی تبدیلی ۔ آپ یہاں تاریکی میں بیٹے

    رہے ہیں جب کہ بینک میں اچھی خامسی روتی ہے ۔ اپنی صحت کا رسک لیتے ہوئے آپ بہت کم پاشی کرتے ہیں ۔ بند

    کھڑکی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر ہوا آتی رہے تو اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ۔

    ( ابھی جاری ہے)

  • ہاتھ میں تسبیح تو رب کے قریب کر دیتی ہے کیا ہاتھ میں پکڑا گلاس اقتدار کی لذت دے پائے گا؟ تحریر:سفینہ

    سحر (جادو ) کا لفظ قرآن پاک میں ایک مرتبہ نہی دو مرتبہ نہی
    بلکہ ساٹھ بار مختلف طریقوں سے ذکر آیا ہے ۔ اور جادو کی حقیقت بتائی گئی ہے ۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ “ انسانوں کی انکھوں کو دھوکہ دیئے”  سحر سیکھنا اور سکھانا کن کے مشاغل ہیں ۔ سحر (جادو) کے معنی دھوکہ دینے کے فن کے ہیں ۔  یہ دھوکہ صرف نظر کو دیا جاتا ہے ۔ اور جب نظر دھوکہ کھاتی ہے ۔ تو ذہین میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں ۔

    سورہ بقرہ میں فرمایا کہ کتاب الہی سے علم حاصل نا کرنے والوں کا حال محض جاہلوں جیسا ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا ایسی گمراہیوں میں مبتلا ہونا آخرت سے بےخوف ہونا ہے ۔ قرآنی تعلیمات سے لاعلمی اور غفلت ، آندھی توہم پرستی بہت بڑی وجہ ہے۔

    رب کی ذات بڑی مہربان ہے ۔ ہمیں اللہ تعالی پر کامل یقین ہونا چاہیے اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے مشکل میں نماز اور قرآن و رسول کی ذات مبارکہ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

    ہمارے دین میں جادو سیکھنا یا سکھانا نا صرف حرام ہے بلکہ کفر اور شرک کے زمرے میں بھی آتا ہے اور اب پاکستان میں قانونی طور پر جرم بھی ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے اوپر معوذ تین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے ۔ اور جب آپ شیدد علیل ہوتے تو میں خود معوذ تین (تینوں قل) پڑھ کر اپ کے ہاتھ پر دم کر کے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیر دیتی ۔

    انسان کی فطرت ہے جب وہ کسی مصیبت یا مشکل کا شکار ہوتا ہے اور اسے کوئی راستہ نظر نہی آتا تو وسوسے دل میں گھر کر جاتے ہیں ۔ اور شیطان کا کام ہی انسان کے دل میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرنا ہے۔

    قران میں واضع الفاظ میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ جو بھی انسان شیطان کی پھیلائی گمراہی یا وسوسوں میں مبتلا ہو گا ۔ وہ آخرت میں شیطان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔

    قرآن میں کھلی وضاحت کے باوجود کمزور ایمان رکھنے والے
    مسلمان سایہ ، بھوت پریت ، تعویذ ، جھاڑ پھونک ، قبروں ، درباروں ، آستانوں ، پیروں فقیروں سے مدد کے لئے بھاگتا ہے۔
     
    جادو ٹونہ اور تعویز گنڈے یہ الفاظ نا ہی تو ہمارے لئے نئے ہیں اور شائد ہی ہمارے گھر یا خاندان میں کوئی ایسا شخص ہو گا ۔ جس نے اپنے گھر میں اپنی والدہ ، بہن ، تائی ، چچی ، خالی ، پھوپھی سے لے کر ہمسائے کی ماں جی ہوں یا گھر میں مدد کرنے والے ملازمین سب ہی زندگی میں کبھی نا کبھی یہ کہتے یا سنتے ہوئے ضرور ملے ہوں گے ۔ کہ اپ پر لگتا ہے کسی نے جادو کروا دیا ہے۔
    اگر ہم غور کریں تو ان توہم پرستی اور گمراہیوں سے وابستگی کا سلسلہ ہمارے بچپن سے ہمیں ہماری مائیں اور نانی ، دادیاں ہمیں جنوں ، پریوں ، بھوت ، چڑیل کی کہانیاں سے شروع کروا دیتی ہیں ۔ من گھڑت قصے کہانیاں ، کالا جادو ، طلسمی جادوگر اور سامری جادوگر کی کہانیاں ہم سب نے سنیں بھی ہیں اور پڑھی بھی ہیں ۔
    کچے اور ناسمجھ ذہنوں پر تو ہم پرستی کی سیاہ بنیاد ہمیں گھر سے ہی وراثت کی شکل میں ملتی ہے۔

    گھر میں کوئی بیمار ہو جائے ۔ عدالت  اور کچھہری کے چکر ہوں ۔ بچوں کی شادیاں نہی ہوتیں ہوں ۔ اولاد نا ہوتی ہو ۔ کاروبار میں ناکامی ہو ۔ یا بیروزگاری جیسے مسائل ہوں ۔

    یا پھر اقتدار کی سیڑھیاں چھڑنے کے لئے کسی کا مرید بننا پڑے ۔ ہم سب کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔ کیونکہ جہاں انسان اللہ ہر بھروسہ چھوڑ کر اپنے جیسے انسانوں سے مانگے گا۔ تو وہاں ایسے لوگوں کے خوابوں کو لبھانے کے لئے لچھے دار باتوں میں الجھانے والے ستاروں کا حال بتانے والے شعبدہ بازوں کی بھی کمی نہی ہے۔

    پاکستان کی سیاست میں سیاستدانوں کا پیر ، فقیر ، درباروں اور علم نجوم سے بہت ہی گہرا رشتہ رہا ہے۔
    اگر ہم شریف فیملی کا 1980 کی دہائی کا ذکر کریں تو شریف خاندان پر علامہ طائر القادری کا بہت گہرا روحانی اثر تھا۔ نواز شریف صاحب کی بیشمار تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں ۔ بلکہ علامہ طائر القادری خود ذکر کرتے ہیں ۔ کہ چھوٹے میاں صاحب نے انھیں کندھے پر بیٹھا کر خانہ کعبہ کا طوائف بھی کروایا ۔

    نواز شریف صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بیوروکریٹ حسن پیرزادہ سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔ پھر پیر تنکاہ سمیت مختلف لوگوں سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔

    دیوان بابا کا ذکر نا کرنا بھی زیادتی ہے ۔ جن کے پاس نواز شریف وزیراعظم بننے کے چھڑی کھانے تک جاتے تھے۔ یہ بات تو زبان صد عام تھے کہ نواز شریف صاحب کو درباروں پر لے کر جانے والے سابقہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی  تھے۔
    لیکن ایک سب سے اہم بات نواز شریف صاحب اپنی مرحومہ بیگم کلثوم نواز کی کوئی بھی بات نہی ٹالتے تھے۔

    آصف زرداری پاکستان کی سیاست کے گُرو مشہور ہیں ۔لیکن ان کے بھی روحانی گُرو اعجاز شاہ گوجرانوالہ سے تھے۔ انھیں کے حکم سے ایوان صدر میں روزانہ کالے بکرے کی قربانی دی جاتی تھی ۔ وہ زرداری صاحب کے ساتھ دوروں پر بھی جایا کرتے تھے۔ انھیں کے حکم پر کب زرداری صاحب پہاڑی علاقے اور کب سمندر کنارے بسیرا کریں گے وہی طے کرتے تھے ۔

    اصف علی زرداری کی صدرات کے بعد پیر اعجاز شاہ نے پیر عمران خان سے بھی قربتیں بڑھانے کی کوشش کی تھی ۔ سنا ہے کہ انھوں نے بھی عمران خان کو وزیراعظم بننے کی پیشن گوئی کی تھی۔ لیکن شائد عمران خان صاحب کو وہ متاثر نا کر پائے۔ یا شائد خان صاحب کسی اور کو اپنا پیر مان چکے تھے ۔

    محترمہ بےنظیر بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ کہ شائد ان کا کوئی ایک مستقل پیر ،یا گُرو نہی تھا۔ انھیں بہت سارے بزرگ ہستیوں سے عقیدت تھی۔ لیکن ایک بزرگ جو مانسہرہ دیوانہ بابا جو کہ چھڑی والے بابا کے نام سے مشہور تھے۔ جی یہ وہی بزرگ ہیں جن کے پاس نواز شریف صاحب بھی چھڑی کھانے جایا کرتے تھے۔ ان بزرگ ہستی کے پر ستاروں میں تقریبا سارے ہی سیاستدان آتے تھے۔
    محترمہ بےنظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب کی عقیدت کا یہ حال تھا کہ ایک نے ان کے آستانے تک سڑک بنوائی تو دوسرے نے بجلی پہنچائی۔
    یہ پیری مریدی اور درباروں کا سلسلہ صدیوں سے چلتا آ رہا ہے وہ جونہی آگے بھی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ جی ہاں اب نواز شریف صاحب کی صاحبزادی مریم نواز شریف کے بارے میں صحافی عمران ریاض فرماتے ہیں ۔ کہ وہ جو ایک خاص قسم کا گلاس ہاتھ میں پکڑے اپنی ہر تصویر میں نظر آتی ہیں وہ دراصل ان کو ایک لاہور کے خواجہ سرا نے دم کر کے دیا ہے۔
    اور ہم نے اکثر مریم نواز کو بھی عدالت کے اندر ہاتھ میں تسبح پکڑے کچھ نا کچھ پڑھتے ہی دیکھا ہے۔

    اب تسبیح محترمہ بےنظیر بھٹو پکڑیں یا مریم نواز پکڑیں یا عمران خان یا پھر جنرنل فیض تسبح تو تسبیح ہی رہے گی ۔

    ہاتھ میں پکڑی تسبیح تو رب کے قریب کر دیتی ہے کیا ہاتھ میں پکڑا گلاس اقتدار کی لذت دے پائے

    یہ تو سیاستدان ہیں ۔ جن کا ماضی اور حال سب ایک جیسا ہے ۔ لیکن پھر بھی خود کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان ثابت کرنے پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اور اپنے اپنے پیروں سے معجزے  کروانے کے طلبگار رہتے ہیں ۔
    سورہ انبیا میں فرمایا پیغمبروں سے تمام معجزے محض اللہ کے حکم سے ہی ظاہر ہوئے ہیں ۔ اور کسی پیغمبر کو بھی خود سے معجزہ پیش کرنے کا رہتی برابر بھی اختیار نہی دیا گیا۔

  • موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ 

    موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ 

     

    جیسا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔ چند مقامات پر تو موسم بہت سرد ہے۔ لیکن ساتھ ہی کئی مقامات پر موسم جزوی ہے۔ کہی کہی تو تیز بارش ہے۔ پر کہی کہی دھوپ، لیکن کہی تو برف باری نے موسم کو مزید سہانا بنا دیا ہے۔ پہلی برف باری نے سیاحوں کی دل موہ لیے ہیں۔ آسمان سے گرتے برف کے گالوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ موسم سرما سرد ترین موسم ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو پارہ منفی ڈگری میں چلا جاتا ہے لوگ آگ جلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔ درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہے جس سے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سرد ترین علاقوں میں خوب برف پڑتی ہے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ جھیل اور چشمے جم جاتے ہیں۔ جو الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے ان علاقوں میں کچھ سرمائی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔

    موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ غذا اور ملبوسات میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اونی کپڑے، سویٹر، جوتوں اور گرم شالوں کا انتخاب اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیا خریدا جائے کیا نہیں۔

    اس موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کافی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بدلتے موسم کے اثرات مضر صحت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو اس موسم کے مطابق ڈھال لیں اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہیں تو آپ کو اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا۔

    اس موسم میں اپنے آپ کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہے۔ کھانسی، زکام اور بخار اس بدلتے موسم میں عام ہیں۔ موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ ویسے ہی، کچھ بیماریاں بھی لوگوں کو سردیوں میں زیادہ تنگ کر سکتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کے ماہرین ہر عمر کے مرد و خواتین کی تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔

    عام طور پر نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، دمہ، جوڑوں میں درد، ہاتھ پاوٴں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہو جانا، جِلد کا خشک ہو جانا، فلو کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ، ہونٹوں پہ اور ان کے گرد چھالے اور اُلٹیاں سرد موسم کی کئی عام بیماریاں ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگوں کے جوڑوں میں درد کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں ان کو چاہیے کہ گھر سے باہر کم نکلا کریں۔ 

    سردی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ خاص طورپر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کے سینے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی  گرم  چیزوں کا بھی استعمال کرنا چاہئے ۔ سردموسم میں دمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جوفوری طبی امداد کے وقت کام آ سکیں۔

    اپنی صحت کی حفاظت ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے گرم غذائیں کھائیں اور گرم ملبوسات کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خدا حافظ 

  • کیا وزیراعظم آزاد کشمیر احتساب کا عمل بہتر کر سکیں گے تحریر سعد اکرم

     وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم خان نیازی آزاد کشمیر کے گیارہویں وزیراعظم ہیں وہ گزشتہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پہ الیکشن جیت کر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتحب ہوئے اور پھر  وزیراعظم  آزاد کشمیر  منتحب ہو گئے  دارالحکومت مظفر آباد میں میڈیا سے اپنی پہلی باضابطہ ملاقات میں آزاد کشمیر کو کرپشن سے فری سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا ان کا کہنا تھا ان کے اقدامات کو دیکھ کر میڈیا خود کہے گا میں آزاد کشمیر کا سب سے تگڑا وزیراعظم ہوں وزیراعظم نے احتساب ایکٹ کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے درویش اور عام آدمی کے وزیراعظم معلوم ہوتے ہیں ان کا تعلق سیاست کے روایتی طبقہ اشرافیہ سے ہے اور نہ ہی وہ برادری ازم کے نام پر سیاست میں آگے آئے ہیں تین ماہ میں ہی ان کی کارکردگی نظر آنے لگی ہے جس کا پہلا ثبوت وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے پانچ سو ارب روپے کا خصوصی پیکج ہے جو بجٹ کے علاوہ ہو گا وزیراعظم کے مطابق یہ تاریخ کا سب سے بڑا اقتصادی پیکج ہے جس آزاد کشمیر کی عوام کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ہو گا انھوں نے چھ ماہ کیلئے حکومت کے احداف مقرر کر کے ایک احسن قدم اٹھایا ان کے اعلانات میں سب سے اہم اعلان آزاد کشمیر کو کرپشن فری سٹیٹ بنانا اور احتساب ایکٹ کو نئی روح کے ساتھ زندہ کرنا ہے ہماری سوسائٹی میں کرپشن بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے اور اس جڑ کو پانی اور غذا بیوروکریسی فراہم کرتی ہے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی عوام کو کئ بار احتساب کا مسودہ سنا چکے ہیں جس سے ایک امید سی بندھ چلی ہے آزاد کشمیر میں ایک شفاف نظام کی بنیاد ڈالنے کے لئے بے رحم احتساب ضروری ہے مگر احتساب کی پہلی زدگھاک اور کائیاں بیوروکریسی پر پڑنا ہیں جو کسی طور نہیں چاہیے گی کے احتساب کا عمل شروع ہو بلکہ یہ بیوروکریسی تبدیلی کی علمبردار حکومت کو بھی اپنے دام ہم رنگ میں پھنسانے کی پوری کوشش کرے گی گزشتہ دہائیوں سے آزاد کشمیر کے عوام خوردبین سے احتساب بیورو کا وجود تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئ سراغ نہ ملا ان سالوں میں قومی خزانے پر کیا نہ ستم ڈھائے گئے قومی وسائل کو کس کس انداز میں تختہ مشق نہ بنایا گیا  یہ ایک دردناک کہانی ہے مگر احتساب بیورو کے ادارے کا نام عنقا ہی رہا بیتے ہوئے اس ماضی کی رکھ کو کریدنے پر اب سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنا ہی کہلاتا ہے ماضی کے واقعات کو دیکھیں تو احتساب کا لفظ مخص مرضی کے احتساب یہ وقتی ضرورت اخباری سرخیاں بنانے کیلئے استعمال ہوا احتساب اور احتساب کے نام پر سرگرمیاں مخص شلغموں سے مٹی جھاڑنے کا عمل ثابت ہوتا رہا جونہی حالات اور اور وقت بدل گیا احتساب کا عمل ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا اس طرح احتساب کے نام پر کھیل تماشہ تو چلتا رہا مگر حقیقی احتساب کا آغاز نہ ہو سکا احتساب اس وقت حقیقی ہوتا ہے جب وہ رواج عمل بن جائے احتساب ایک ایڈہاک ازم کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے احتساب میں تلسل نہ ہو تو بدعنوان عناصر بے خوف ہو جاتے ہیں بدعنوان عناصر زیادہ تندہی سے اپنے کام میں مگن ہوتے ہیں آزاد کشمیر میں احتساب کے نام پر یہی کچھ ہوتا رہا ہے یہ کام محکمہ اینٹی کرپشن زیادہ بہتری سے انجام دیتا تھا احتساب بیورو کے نام سے ادارہ بنانے کا مقصد صرف روزگار کھولنا نہیں بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے شکنجے میں کسنا قانون کا خوف قائم کرنا اور لوٹے گئے وسائل کو واپس لانا تھا احتساب بیورو ان کاموں کے سوا سب کچھ کرتا رہا اب اگر پاکستان کے تناظر میں موجود سسٹم کو احتساب کے کام میں کچھ دلچسپی ہے تو کل ان کے چلے جانے کے بعد معاملہ وہی ہو گا ۔اس کے بعد  وہی بدعنوان عناصر ہوں گے  اور آزاد کشمیر کا وہی خزانہ اور یہی احتساب بیورو۔ خدا کرے اب حالات اس سے مختلف ہوں سردار عبدالقیوم نیازی کے بار بار کے اعلانات سے اب یہ امید بندھ چلی ہے کے وہ آزاد کشمیر کے عوام کو اچھی گورننس اور کرپشن فری معاشرہ دیں گے کیونکہ وہ ایک درویش اور سادہ مزاج شخصیت ہیں جو سیاست میں پیرا شوٹر نہیں بلکہ نیچے سے اوپر آئے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کے ان کا بے داغ ماضی ہے اسی پس منظر کے ساتھ انھیں واقعتا تگڑا وزیراعظم ہی ہونا چاہیئے کیونکہ کمزور وزیراعظم وہی ہوتا ہے جس کی ماضی میں فائلیں اور داستانیں ہوتی ہیں ماضی کی وجہ سے اسے قدم قدم پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے موجودہ وزیراعظم کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے ان ماضی میں نہ کوئی فائل ہے نہ کوئ داستان۔

  • غرور کا سر نیچا  تحریر۔ نعیم الزمان

    غرور کا سر نیچا  تحریر۔ نعیم الزمان

    بلآخر پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں بھارت کو شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ کے کوالیفائی راؤنڈ کے بعد سپر 12 راؤنڈ کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف بھارت کو  عبرتناک شکست سے دو چار کیا۔ موقع موقع کے ٹرینڈ چلانے والوں کو پاکستان کے خلاف نہ کھل کر بیٹنگ کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی پاکستانی بیٹسمینوں کی وکٹیں لینے کا موقع ملا۔ پاکستان کا ٹاس جیت کر  پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کارآمد ثابت ہوا۔  شائین شاہ آفریدی کی تیز اور سوئنگ بولنگ کے سامنے انڈین اوپنر ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ شائین شاہ آفریدی نے پہلے ہی آور کی چوتھی گیند پر روہیت شرما کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ روہیت شرما بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے۔ اور شائین شاہ آفریدی نے اپنے دوسرے آور کی پہلی ہی گیند پر لوکیش راہول کو کلین بولڈ کیا۔ محض چھ سکور پر انڈیا کے دو مستند  اوپنر پویلین لوٹ چکے تھے۔ شائین کے بہترین سپل کی بدولت پاکستان نے انڈیا پر اچھا خاصا پریشر بنا لیا تھا۔ جس سے نکلنا کافی مشکل تھا۔ پاکستانی بولرز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو 20 آوروں میں سات وکٹوں کے نقصان پر  151 رنز تک محدود رکھا۔ پنت اور ویرت کوہلی کی پارٹنر شپ کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین پارٹنر شپ لگانے میں ناکام رہے۔ پنت 39 رنز بنا کر شاداب خان کی گوگلی کا نشانہ بننے۔ اور ویرات کوہلی 57 رنز بنانے کے بعد شائین شاہ آفریدی کی گیند پر  رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ شائین شاہ آفریدی نے 31 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ حسن علی تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے انہوں نے 44 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ شاداب خان  نے 22 رنز اور حارث راؤف 25 رنز دے کر ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی بہترین بولنگ کی بدولت انڈیا کی مظبوط بیٹنگ لائن 20 آوروں میں 151 رنز بنا سکی۔  152 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی اینگز کا آغاز کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے کیا۔  دونوں اوپنرز نے نہایت ہی عمدگی کے ساتھ بہترین کھیل پیش کیا۔ اینگز کی پہلی بال سے لے کر میچ جیتنے تک بغیر کسی پریشر کے کھیلے۔ اور پاکستان کو دس وکٹ سے جیت دلوائی۔ بابر اعظم دو چھکوں اور چھے چوکوں کی مدد سے 68 رنز اور محمد رضوان تین چھکوں اور چھے چوکوں کی مدد سے 79 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔ پاکستان نے 17.5 آوروں میں بغیر کسی وکٹ کے 152 رنز کا ہدف پورا کیا۔ انڈیا کو پہلی بار دس وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پاکستان کی آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ہائیسٹ اوپنر پارٹنر شپ تھی۔ اور  یقیناً پوری قوم اس فتح کا انتیس سال سے انتظار میں تھی۔ پاکستان کی ٹیم نے جوش وجذبے محنت اور لگن سے اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے انڈیا کے غرور کو خاک میں ملایا۔ الحمدللہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے پاکستان کی اس ٹیم نے انڈیا کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا جسے خود بہت ساری پریشانیوں کا سامنا تھا۔ نیوزی لینڈ کا دورہ منسوخ ہوا انگلینڈ نے پاکستان آنے سے معذرت کی۔ کوچز مستعفی ہو ئے۔ ان سب مشکلات سے دو چار  پاکستانی ٹیم نے دنیا کی بہترین مانے جانے والی ٹیم کو بڑی شکست سے دو چار کیا۔ اس بہترین کارکردگی  پر سابق ‏ویسٹ انڈیز کرکٹر اور کمنٹیٹر آئن بشپ نے شاہین آفریدی کو دنیا کا بہترین باؤلر قرار دیا UAE میں کھیلے جانیوالے پاک بھارت میچ میں کمنٹری کےدوران انکا کہنا تھا کہ میری نظر میں شاہین آفریدی موجودہ باؤلرز میں سب سے بہترین ہیں۔ وہ صرف ٹی ٹونٹی ہی نہیں بلکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ اور بھی بہت سارے سابق کرکٹر نے  میچ کے بعد  اپنے اپنے ٹویٹس میں کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی بھی خوب تعریفیں کی۔  بڑی عرصہ کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دیکھی۔ اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے شوشل میڈیا پر ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ صدر ، وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی ٹیم کی کامیابی پر  مبارکباد پیش کی۔ مگر چند اقتدار کے بھوکے پیاسے اس جشن پر بھی سیاست سے باز نہ آئے۔ اللہ پاک ہدایت بخشے ایسے عناصر کو۔ انڈیا کی طرح ان کو بھی پاکستان کی جیت ہضم نہیں ہو سکی۔ پاکستانی شائقین نے موقع موقع کے مقابلے میں ٹھوکا ٹھوکا گنگنا کر خوب جشن منایا۔ جہاں پورا پاکستان انڈیا کے خلاف جیت پر جشن منا رہا تھا وہاں مقبوضہ کشمیر کی عوام نے بھی پاکستان کی جیت کا خوب جشن منایا۔ پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔

      اس سارے معاملے کے بعد جہاں انڈین ٹیم کو انڈین عوام کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہاں ہی انڈین ٹیم سے تعلق رکھنے والے مسلمان کھلاڑی محمد شامی کو کافی تنقید اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ختی کہ شامی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہا گیا۔ اور ان کو ٹیم سے نکالنے کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے۔  خدارا کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ اس کامیابی کے بعد کپتان بابر اعظم نے ٹیم کی سپورٹ اور دعاؤں پر پوری قوم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور قوم سے مزید دعاؤں کی اپیل کی۔  اللہ پاک سے دعا ہے کہ  ملک پاکستان کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔ چاہیے کھیل ہو معیشت اور سیاحت ہو  اللہ پاک پاکستان کو ہر محاذ پر فتح نصیب فرمائے۔ امین 

  • شاکر ساکوں معاف چا کر! تحریر زکیہ نیر

    ارمان ہے شاکر ایں گَل دا
    ساڈا یار ہوندا اَساں کیوں رُلدے ۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی ادب کی دنیا کا ایسا ستارہ جسکے بنا شاید ہی سرائیکی شعر کی منزل تک کوئی پہنچ سکے ہیرے جیسے شعر لکھنے والا سونے جیسے گیتوں کا خالق تخیل اتنا قیمتی کہ شعر شعر انمول آج انہیں ایک موٹر سائیکل پر ایک کپڑے سے بندھا دیکھا یعنی ادب کا امیر آج اتنا غریب ہوا کہ کسی کرائے کی گاڑی تک میں بیٹھنے کو پیسے نہیں جیب خالی اور مرض مہنگا ۔۔۔ایسے میں سرائیکی ادب کی پہچان شاکر کو زمانے کے رحم وکرم پہ رُلتے دیکھا۔۔۔جب سے ویڈیو دیکھی سمجھ نہیں آرہی کہ کس سے گلہ کروں کس کو دہائی دوں کونسا ایسا ادارہ ہے جو فنکاروں کی حالت زار پہ انہیں سہارا دیتا ہے وہ فنکار جو اپنے فن سے لاکھوں دلوں میں گھر کرتے ہیں وہ در بدر کیوں ہیں کہاں شاکر کی عرضی لے کر جاؤں۔
    شاکر شجاع آبادی کا اصل نام  شفیع محمد شجاع آبادی ہے جبکہ تخلص شاکر۔۔۔ان کا تعلق ملتان سے ستر کلو میٹر دور شجاع آباد کے ایک گاؤں راجہ رام سے ہےشاکر 1968 میں پیدا ہوئے 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں نصابی تعلیم نہ ہونے کیوجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے مگر شاعری انہوں نے ریڈیو سن کر سیکھی وہ سرائیکی خطے میں پیدا ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ سرائیکی عوام کو محرومیوں میں رکھا گیا اور وہ اپنی شاعری کے زریعے انکی محرومیوں کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں گے۔۔انہیں عشق کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے انہوں نے ساری زندگی غربت دیکھی انکے شعروں کو سراہا ضرور گیا جس پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئیے گئے مگر حالات بدلنے کی نہ کوشش کی گئی نہ ہی اس بارے سوچا گیا۔
    ہِک شاکر تھی برباد گئے
    ڈوجھے تبصرے کھا گئے لوکاں دے۔
    انکے دوہڑے کئی سیاستدان اپنے جلسوں میں پڑھتے رہے ایک بار تو مریم نواز صاحبہ نے خود کو انکی مداح بھی کہا دو بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا انکی تصانیف میں کلام شاکر،پیلے پتر،پتھر موم،
    لہو دا عرق،شاکر دے ڈوہڑے،شاکر دے قطعے،بلدیاں ہنجوں،پتہ لگ ویندے،شاکر دے گیت،شاکر دیاں غزلاں،منافقاں توں خدا بچاوے،اور شاکر کی اردو غزلیں شامل ہیں۔۔انہی سخی لکھاری بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا شاعر جسے کبھی کوئی چاہ نہ رہی لوگ کہتے شاکر کسی وزیر مشیر سے بیٹوں کی نوکری ہی مانگ لو مگر وہ شاکر ہی کیا جو بے نیازی میں سر نہ جھٹک دے  کہتا حاکمو جس حال میں بھی رکھو شاکر شاکر ہی رہے گا اپنی ساری زندگی میں کبھی شاکر شجاع نے کسی کی شان میں قصیدے نہ لکھے نہ ہی کسی کے لیے تعریفی کلمات کہے۔۔
    بے وزنی ہیں تیڈی مرضی ہے بھانویں پا اچ پا بھانویں سِر اچ پا
    یا چَن دی چٹی چاندنی وچ بھانویں رات دے سخت ہنیر اچ پا
    پا کہیں دشمن دی فوتگی تے یا جھُمر دے کیں پھیر اچ پا
    راہ رُلدے شاکر کنگن ہیں بھانویں ہتھ اچ پا بھانویں پیر اچ پا۔
    بدقسمتی سے شاکر شجاع آبادی پہلے فنکار نہیں جو حکومتی بے حسی کے حصار میں ہیں یہاں کئی فنکار جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنے فن کا  نقطہ  نقطہ دان کیا جن کے فن سے لوگ محظوظ ہوتے رہے مگر جب بھی ان جگمگاتے ستاروں پہ برا وقت آیا ریاست نے کمر ہی دکھائی کئی فنکار غربت اور تنگدستی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔۔۔حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں مگران لوگوں کے لیے کوئی ایسا فنڈ نہیں رکھا جاتا کہ جب ان پر بیماری یا کوئی مصیبت کی گھڑی آئے تو یہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں نہ ہی انکی فلاح کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے کا خیال آیا۔۔۔انکا حق بنتا ہے کہ انہیں انکے فن کاصلہ ریاست کی جانب سے دیا جائے بے حسی کی انتہاء ہے شاکر کی حالت زار دیکھ کر سوال تو جنم لیتے ہیں کہ کیا اس مملکت کے تمام مالی وسائل امراء اور حکمرانوں کے لئے ہیں کیا اس بے بس اور غریب شاعر کا اس ملک پر کوئی حق نہیں ہے دعوے تو ہر بار سینہ تان کے کیے جاتے ہیں کہ کلچر فنڈز میں ادب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی حق ادا ہونگے  مگر شاکر جیسوں کی سسکتی زندگی دیکھ کر صرف سینہ ہی پیٹا جاسکتا ہے
    بندے ڈیکھ کہ روندیں زندگی کوں
    میکوں ڈیکھ کہ زندگی رو پئی ہے۔
    شاکر شجاع آبادی صاحب ہم شرمندہ ہیں ہمیں چوہتر سال گزرنے کے بعد بھی آپ جیسے انمول فنکاروں کو عزت اور احترام دینا نہ آیا جو اس دھرتی ماں کی آبرو میں جھل مل کرتے ستارے رہے میری حکمرانوں سے ہاتھ جوڑ کر فریاد ہے شاکر اور اس جیسے کئی فنکار لوگ کسمپرسی میں حیاتی بسر کر رہے ہیں اٹھیے اور پہنچیے انکے آس کے جھونپڑوں میں اور دیکھیے جو زیست وہ گزار رہے اسکے حقدار ہیں کیا۔۔۔پھر کل کو جب وہ نہیں رہیں گے تو آپ انکے نام پر سیمینارز منعقد کراؤ گے مشاعرے سجائے جائیں گے  ایوارڈز تقسیم کرو گے اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دوگے مگر کیا فائدہ مرنے کے بعد کس نے دیکھا کہ کسی چوراہے پہ اسکے نام کی تختی لگا کر اسے اعزاز بخشا جارہاہے جو کرنا ہے انکی زندگی میں کیجیے تاکہ انہیں بھی فخر ہو کہ جس مملکت کی آبیاری میں انکے فن کے لطیف احساسات بھی شامل ہیں اس ریاست نے بڑھ کر ایسے مالیوں کے گلے لگا لیا ہے۔
    اساں مفت اِچ شاکر رُل گئے ہیں
    جڈاں ویسوں مر ساڈا مُل پوسی۔
    میرا ایک شعر شاکر صاحب کے لیے کہ
    شاکر اساں شرمسار بہوں
    توں ظرفاں آلا ساکوں معاف چاکر
    اساں تیڈی حیاتی رُلدی ڈیکھی
    تُوں قلماں آلا ساکوں معاف چا کر
    توں مر کہ ڈیکھ اساں عزت ڈیسوں
    تُوں صبراں آلا ساکوں معاف چا کر۔

    @NayyarZakia

  • اخلاقیات اور بدمزاجی تحریر افشین

    تلخ مزاج ہونا ، بات کرتے وقت لہجے کا سخت ہونا ۔ نا خوشگوار حالات انسان کو تلخ مزاج بنا دیتے ہیں ۔ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات جن سے دل آزاری ہوئی ہو انسان کو بدمزاج بنا دیتے ہیں ۔اخلاق بہتر بنائیں ۔ اخلاق بہتر بنانے سے مراد روحانی طور پہ خود کو بہترین بنائیں صرف دکھاوے کی غرض سے نہیں ۔
    بہت سے افراد کا لہجہ مخاطب ہوتے وقت شہد جیسا ہوتا ہے اتنا میٹھا کے ہر کوئی انکا گرویدہ ہوتا ہے انکی باتوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور ایسا انسان اپنی میٹھی باتوں سے دوسروں کے دل پہ راج کرنے لگتا ہے اور ہر کام کروا سکتا ہے ۔ جب کہ تلخ مزاج انسان سے ہر کوئی دوری اختیار کرتا ہے ۔ کوئی بھی اسکو سمجھنے کو کوشش نہیں کرتا۔ وہ ایسا بدمزاج کیوں ہے ؟ انسان کو املی کی طرح کھٹا میٹھا ہونا چاہیے ۔بہت میٹھا بھی صحت کے لیے مضر ہے ۔ایسے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جنکا انداز گفتگو ایسا ہوتا ہے کہ انکے اچھے اخلاق، بات کے انداز سے متاثر ہوکے لوگ انکے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔ لوگ اچھا اخلاق دوسروں کے سامنے ظاہر کر کے خود کو اعلی مثال پیش کرتے ہیں ۔حقیقت میں وہ اپنے اس انداز سے صرف دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔ایک اچھا انسان کبھی بھی ایسے نہیں کرتا ۔ لہذا خود کو دکھاوے کی غرض سے بہترین نہ بنائے ۔
    انسان کو پرکھنا ہو تو اسکے میٹھے لہجے سے نہیں بلکہ اسکے دل کو دیکھیے وہ سچ بولتا ہے، رحم دل ہے ، دوسروں کی مدد کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے سب پہلو دماغ میں رکھ کے اسکے جاننے کی کوشش کریں۔ صرف لہجوں سے انسان کی پہچان نہیں ہوتی ۔انسان کی جو فطرت ہو وہ کبھی نہیں بدل سکتی نا میٹھے لہجے کے پیچھے نا کرواہٹ لہجوں میں ، ہمیشہ وہی رہے جو آپ حقیقی معنوں میں ہیں ۔بہترین اخلاق وہی ہیں جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ کہیں لوگ گھر سے باہر اچھا انسان ہونے اور اپنی مثال قائم کرنے میں لگے ہوتے ہیں اپنی برائیاں چھپائے دنیا کی نظر میں اعلی ظرفی کا مقام پاتے ہیں ۔
    اللّلہ پاک کی نظر میں اعلی مقام والا وہی ہے جو کسی کا دل نہ دکھائے سچا مومن ہو ظاہری مومن تو ہر کوئی بنا ہوا ہے ۔ اخلاق بہترین بنائیں بزرگوں کا احترام کریں۔ بچوں سے پیار سے پیش آئیں ۔ رحم دلی، ایمانداری اور سچائی کے پیروکار بنے ۔ اللّلہ سب دیکھتا ہے دنیا کے سامنے اچھا بننے کا ناٹک نہ کریں جو آپ حقیقی طور پر ہیں وہی رہیں ۔ کرواہٹ سے بات نہ کریں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ لفظوں سے زیادہ لہجے اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر آپ دنیا کی تلخیاں برداشت کر کے سخت مزاج ہو چکے ہیں پھر بھی آپ اپنے لہجے پہ قابو رکھیں ۔اختتام پہ اتنا ہی کہنا چاہوں گی ۔ جو انسان اپکے ساتھ بہت ہی میٹھا ہے اس سے بچاؤ رکھیں ۔ کیونکہ انسان کوئی بھی اتنا خوبیوں کا مالک نہیں ہوتا کوئی بھی اتنا پرفیکٹ نہیں ہوتا کہ جس کو ساری زندگی آپ اسکو کبھی غصے میں نہ دیکھا ہو ۔ ایسا انسان کوئی ہو ہی نہیں سکتا جس کو غصہ نہ آتا ہو ۔ یا جس میں کوئی بھی برائ نہ پائی جاتی ہو ۔ میٹھا لہجہ ایک جال ہوتا ہے جس میں پھنسنے سے بچیں ۔ ایسے لوگ وقتی طور پہ اپکے سکون کا باعث بن سکتے ہیں اپکی ہاں میں ہاں ملا کہ اپکو خوش کرتے ہیں ۔ منافقت سے بچیں ۔ منافق لوگ ظاہری اچھے اندرونی زہریلے ہوتے ہیں ۔دوسروں کو آپ اپنی باتوں سے متاثر بس وقتی طور پہ کر سکتے ہیں ۔ اپنے اچھے اخلاق سے آپ ہمیشہ کے لیے دوسروں کے دلوں میں رہ سکتے ہیں زندگی میں بھی آپکو اچھا کہا جاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اچھا انسان سمجھ کے یاد کیا جاتا ہے ۔ اخلاقیات کو جانے اور سمجھے لہجوں سے پرکھنے اور دل سے کسی کو جان لینے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
    "رشتے کھٹے میٹھے ہی ہوتے ہیں ، منافق رشتے کبھی بھی سگے نہیں ہوتے ”

    @Hu__rt7