Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تبدیلی سرکار کے تین سال   تحریر: احسان الحق

    تبدیلی سرکار کے تین سال تحریر: احسان الحق

    وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں. پاکستان میں حسب معمول اور حسب روایت حکومت اپنے کارناموں کی لمبی چوڑی فہرست عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہمیشہ کی طرح حزب اختلاف حکومتی کارکردگی کی فہرست کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے حکومت کے کسی بھی دعوے اور کارکردگی کو ماننے سے انکاری ہے.

    ایک طرف تین سال کی تکمیل پر حکمراں جماعت نے اپنی گزشتہ تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف سب برا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے. حقیقی تبدیلی یا کارکردگی کے حوالے سے عوام سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا.

    حزب اختلاف کے الزامات اور حزب اقتدار کے دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عام پاکستانیوں کی نظر میں تبدیلی سرکار کے تین سالہ دور کا جائزہ لیتے ہیں. قرضوں میں ڈوبا ہوا اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے آپ ناقابل یقین معاشی اور اقتصادی ترقی کی امید نہیں کر سکتے. عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران جن دعوؤں اور وعدوں کا بار بار ذکر کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مر جائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، مگر مجبوراً انہیں یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا. صاحب اقتدار ہونے کے بعد وزیراعظم قومی خزانے اور قومی معیشت کی حالت دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے.

    پاکستان پہلے سے ہی اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا تھا اور اب آئی ایم ایف کی سخت اور عوام دشمن شرائط ماننا پڑیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا. آئی ایم ایف کی شرائط میں سے نئے محصولات لاگو کرنا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بالخصوص بجلی کے نرخوں میں بتدریج اور مسلسل اضافہ کرنے جیسی مشکل اور سخت شرائط بھی تھیں، جنہیں ماننا پڑا. جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا.حکومتی دعوے کے مطابق جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی ریزرو تھے. 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جسے ہماری حکومت نے 10 سال کی کم ترین سطح پر لے آئی. کورونا کی وجہ سے اور کچھ عمران خان کو بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا.

    خیبر پختونخوا میں اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف نے انصاف صحت کارڈ متعارف کروایا جس سے عام اور غریب عوام بہت مستفید ہوئی، عام انتخابات 2018 کے بعد وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت سازی کے بعد تحریک انصاف نے صحت کارڈ کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیلا دیا. میرے خیال میں عوام کے لئے سب بڑا تحفہ یا تبدیلی یہی صحت کارڈ ہے.

    1967 کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا تھا جس کا ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. لاکھوں اور کروڑوں ایکڑ زمین بنجر ہو گئی ہے اور مہنگے تیل سے مہنگی بجلی بھی بنانے پر مجبور ہیں، عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جن میں دیامیر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور، مہمند ڈیم، ہری پور پاور، کرم تنگی ڈیم اور سندھ بیراج قابل ذکر منصوبے ہیں.

    بے گھر اور لاوارث لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں گئیں جن میں رہائش اور کھانے کا مناسب اہتمام کیا گیا ہے. میں ذاتی طور پر ان پناہ گاہوں کے حق میں نہیں. میرا خیال ہے کہ 100 بندوں کو پناہ گزین کرنے سے بہتر ہے کہ 10 بندوں کو روزگار پر لگایا جائے اور یہ 10 بندے 10 خاندانوں کے لئے کفیل ثابت ہو سکتے ہیں. اسی طرح غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لئے سستے گھروں کو بھی متعارف کروایا گیا. کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوان نسل کو خود کفالت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قرض سیکم بھی متعارف کروائی گئی. گزشتہ مالی سال 21-2020 میں ریکارڈ 4732 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے اور آئندہ مالی سال 22-2021 کا ہدف پہلے سے بڑھا کر محصولات کا حجم 5800 ارب کر دیا گیا ہے. زیادہ محصولات اکٹھا کرنا اور آئندہ ہدف میں مزید اضافہ کرنا، اسکو معیشت کے لئے بہتر سمجھا جائے یا عوام پر محصولات کا مزید وزن اور دباؤ سمجھا جائے؟

    بہت اچھے کاموں میں سے ایک یہ بھی کارنامہ تبدیلی سرکار کے سر جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے سرکاری اور سرکاری اداروں کی زمینوں کو تجاوزات اور قبضوں سے واہ گزار کروایا. اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ جس کی مالیت 50 ارب روپے بنتی ہے کو واگزار کروایا گیا. محکمہ تعلیم نے بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے خود کو دور جدید کے تقاضوں سے مزین کیا. ڈیجیٹل اور آن لائن سہولیات متعارف کروائیں. بہت سارے اسکولوں کو پرائمری سے مڈل اور مڈل سے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تک ترقی دی. احتساب اور انسداد رشوت کی مد میں اربوں روپے وصول اور ضبط کئے گئے. حکومتی اعداد وشمار کے مطابق نیب نے 535.783 ارب روپے وصول کئے جبکہ پنجاب انسداد کرپشن نے 225 ارب روپے وصول کئے. موجودہ حکومت نے وسیع پیمانے پر ملک بھر بلین ٹری کے تحت پاکستان کو سرسبز بناتے ہوئے اربوں درخت لگائے.

    یکساں نظام تعلیم کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں. یقیناً یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے. کسی حد تک اردو کو عزت دینے میں عمران خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں. سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے ریکارڈ سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کیں، سابقہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں 645 کلومیٹرز کی ہائی ویز/موٹر ویز تعمیر کیں جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے تین سال میں 1753 کلومیٹرز کی شاہراہیں مکمل کیں اور 6118 کلومیٹرز زیر تکمیل ہیں. تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے سممدرپار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات کی اور پہلی بار الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کی بات کی. فی کس آمدن میں اضافہ ہوا اور قوت خرید میں 36.6 فیصد اضافہ ہوا. لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا. ترسیلات زر میں ریکارڈ 29.4 ارب تک اضافہ ہوا.

    یقیناً یہ بھی عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کا اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ پاکستان میں کوئی کیمپ آفس نہیں. حکومت وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی اور بین الاقوامی دوروں میں سادگی کے ذریعے اربوں روپے کی قومی بچت کے دعوے بھی کرتی ہے.

    مہنگائی میں اضافہ ہوا، گھی 150 سے 335 فی کلو، چینی 55 روپے سے 110 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں. بجلی کے نرخ بھی تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ادویات اور طبی سہولیات مہنگی ہوئی ہیں. پولیس اصلاحات کا وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا. عمران خان نے حکومت میں آتے ہی سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا. بہرکیف اگر مہنگائی کو نظرانداز کرتے ہوئے باقی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی کارکردگی نسبتاً تسلی بخش ہے.

    @mian_ihsaan

  • ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی ” (دوسرا حصہ ) تحریر فرزانہ شریف

    ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی ” (دوسرا حصہ ) تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی میں جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ یہاں فروٹس کے باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں حتی کے آپکو سڑکوں کنارے بھی آلوبخارہ ناشپتی ۔خوبانی ۔اخروٹ ۔چیری۔کے درخت قطار میں نظر آئیں گے جو موسمی پھلوں سے لدے ہوتے ہیں لوگوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا دو گھڑی رک کرفروٹ اتار لیں ۔انھیں بس مارکیٹس میں پیک ہوا فروٹ لینے میں دلچسپی ہوتی ہے۔ذیتون کے درخت آپ کو ہر طرف نظر آئیں گے اور ہر سٹاپ پر گھنے پرانے درختوں کی بہار ہے جھنیں تراش خراش کرکے خوبصورت بنایا ہوا ہے کہ دیکھنے میں اس کی خوبصورتی بھی انسان کو متوجہ کرے اور درخت کی گھنی ٹھنڈی چھاوں سے بھی لوگ لطف اندوز ہوں ۔۔۔
    یہاں انگوروں کے باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ دنیا میں سب سے ذیادہ انگوراٹلی میں پیدا ہوتا ہے جس سے یہ مختلف قسم کی شراب بھی بناتے ہیں اور عام کھانے میں بھی بہت میٹھا اور رسیلا ہوتا ہے۔۔جتنے بھی غیر ملکی یہاں اٹلی میں ہیں عام طور پر وہی یہ انگور اتارنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ باقی جگہوں پر بنا پیپرز کے کام نہیں ملتا تواگست ستمر سے اکتوبر کے آخری ہفتے تک یہاں انگور کا بہت کام ہوتا ہے مذدور طبقہ ان دو تین ماہ میں کافی پیسہ کما لیتے ہیں کیونکہ اگست کے آخری ہفتے ہی کام شروع ہوتا ہے انگور کا تب تک جو یہاں تھوڑی بہت گرمی ہوتی ہے وہ بھی ختم ہوچکی ہوتی ہے تو بہترین وقت ہے کام کرنے کا ۔۔بادام کا درخت ایک ہی دیکھا اور بھی شائد ہوں ۔۔لوکاٹ جاپانی پھلوں سے درخت لدے ہوتے ہیں پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ جاپانی پھل کے پتے سب گر جاتے ہیں بس جاپانی پھل ہی درختوں پر نظر آتا ہے ۔اور یہ جاپانی پھل پاکستان کے جاپانی پھل کی طرح زبان پر چپکتا نہیں ہے بلکہ بہت رسیلا بہت ٹیسٹی ہوتا ہے ۔یہاں جو واحد چیز نہیں ملتی وہ جامن ہیں ۔کبھی آج تک میں نے اٹلی میں جامن نہیں دیکھا
    آم اور امرودپاکستان سے آتے ہیں ۔
    یہاں جو حقوق اٹالئین کے ہوتے ہیں وہی غیرملکیوں کے نسل پرستی کا نام و نشان ہی نہیں اتنی محبت پیار سے اٹالئین غیر ملکیوں سے پیش آتے ہیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ ملک ہمارے اباواجداد کا نہیں ہے ہر سہولت ان کے برابر ملتی ہے عزت تحفظ اور مالی سپورٹ بھی اٹالئین گورنمنٹ بہت ذیادہ کرتی ہے ہر شہری کی۔۔یہی وجہ ہے یہاں ہر گھر مڈل اپر کلاس ضرور ہے اگر ہائی کلاس نہیں بھی تو ۔۔
    ہائی سکول تک بالکل مفت تعلیم ہے کتابیوں کاپیوں پینسلوں حتی کہ بیگ کے لیے گورنمنٹ نے مخصوص رقم دی ہوتی ہے جو بونس پرچیوں کی شکل میں ہوتی ہیں جتنی آپ نے شاپنگ کرنی ہے کرلیں ضرورت کے مطابق باقی پرچیاں آپ پورا سال ضرورت کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں ۔
    اگر مجھ پر فتوی نہ لگے تو یہ کہنا چاہوں گی اگر دنیا میں کوئی جنت ہوتی تو آپ اٹلی دیکھ لیں ۔۔ہر گلی صاف ستھری۔سڑکیں صاف ستھری کہ آپکو ایک ٹشو بھی سڑک کنارے یا کسی گلی میں نظر نہیں آئے گا ہر جگہ بن لگی ہوئی ہے اور لوگوں نے خود کو اس بات پر پابند بنایا ہوا ہے کہ کوئی ایک سگریٹ کا ٹکڑا بھی سڑک پر نہیں پھینکتے ۔
    اٹلی واحد ملک ہے جس میں 70 فیصد بزرگ لوگ ہیں وجہ یہ ہے کہ یہاں بزرگ لوگوں کی عمر بہت لمبی ہے ایکٹو سائیکل چلاتے ہوتے لیڈیز مرد لگتا ہی نہیں یہ 90یا 95 سال کے ہیں سڑک کنارے پارکوں میں دوڑتے ہوئے ہر دم ایکٹو اور اٹلی کےحسن کو ان بزرگوں سے چار چاند لگے ہوئے ہیں ۔۔
    بہت محنتی لوگ ہیں 20 ۔21 سال کی لڑکیاں مزدوروں کے ساتھ چھتوں کی تعمیر میں بھی کام کرواتی ہیں نارمل انداز سے پاکستان کی لڑکیوں کی طرح نازک اندام بننے والی سوچ ہی نہیں ۔۔ہر شعبے میں مرد عورت برابر کی سطع پر کام کررہے ہوتے ہیں اور جنس کی سوچ دماغ کے کسی کونے میں بھی نہیں ہوتی بس نارمل انداز سے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں میں نے کوئی شعبہ ایسا نہیں دیکھا جس میں صرف مرد کام کرتے ہوں خواتین مشکل اور سخت کام بھی نارمل انداز سے کرتی ہیں ۔۔

    بس ایک بات کہ یہاں رہنے کے لیے آپکو اٹالئین آنی بہت ضروری ہے جو دوسرے ممالک سے آتے ہیں انھیں مختلف کورس کرنے پڑھتے ہیں یہاں کی زبان سیکھنے کے لیے کیونکہ آپکو ہر جگہ بولنے کی ضرورت ہے تو یہاں ہر شعبے میں اٹالئین بیٹھے ہوتے ہیں پاکستانی ابھی یہاں بہت کم ہیں جو آفس وغیرہ میں ہوں اب نئی نسل جارہی ہے مختلف شعبوں میں لیکن آٹے میں نمک کے برابر فیلحال ۔۔۔یہاں ہم پاکستانیوں سے بھی ذیادہ کوئی قوم ایکٹو ہے چاہے وہ گاڑی کا لائسنس کرنا ہو یا جاب کرنی ہوتو مروکی خواتین اور مصر سے آئی ہوئی خواتین اور مرد ہیں یا پھر دوسرے نمبر پر انڈین اور تیسرے نمبر پر پاکستانی خواتین ہیں ۔۔
    یہاں کا موسم بہت اچھا رہتا ہے نہ شدید سردی نہ گرمی ۔جولائی اگست میں ہلکی سی گرمی ہوتی ہے جو لوگ بھرپور انجوائے کرتے ہیں ۔۔
    ہم پاکستانیوں کی طرح تھوڑی جذباتی قوم بھی ہیں اپنے ملک کے جھنڈے کے لیے ہماری طرح جذباتی ہیں اور اپنی قومی خوراک پیزا کو کوئی برا کہہ دے اس کا قبر تک پیچھا کرتے ہیں حالیہ دنوں میں پیرس نے اپنے پارلیمنٹ میں مذاق میں پیزے کا مذاق اڑایا اٹلی کی عوام نے اس پر بھرپور احتجاج کیا پیرس کی بنی ہر چیز سے بائیکاٹ کردیا تھا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا پر بھرپور پیرس کی کلاس لی گی تھی ۔۔
    یہاں کے ہسپتال بہت صاف ستھرے ۔دنیا کی جدید ترین مشینری سے آراستہ ۔اور صفائی اتنی کی آپکے گھر کے واش روم اتنے نہیں چمک رہے ہوتے جتنے ہسپتالوں کے چمک رہے ہوتے ہیں اور ہلکی سے مہکتی ہوئی خوشبو ہر طرف ۔۔اور بڑے بڑے سرسبز پارک ۔جس میں مریض ہلکی پھلکی واک کرسکیں مفت علاج چاہے آپ دل کا بائی پاس کروا لیں ایک پیسہ نہیں لگے گا اپ کا ۔۔۔
    مارکیٹس میں اپر مڈل کلاس لوگ جاتی سردیوں یا پھر جاتی گرمیوں میں اگلے سال کے لیے اچھے مہنگے کپڑے جوتے کوٹ وغیرہ سستے داموں خرید لیتے ہیں کیونکہ یہاں بہت ذیادہ ڈسکاونٹ لگتی ہے ۔۔ہم نے تو امیر لوگوں کو بھی ڈسکاونٹ پر شاپنگ کرتے دیکھا میری نظر میں یہ بہت عقلمندی اور سمجھداری کی بات ہے موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔۔امید ہے آپکو میرے اس کالم کے دونوں حصے پسند آئے ہوں گے اگر نہیں آئے تو پھر ۔۔لاکھ لاکھ زرداری اور نواز شریف 😄
    میری انگلیاں گس گئیں لکھ لکھ کے ۔۔
    آخر میں میری دعا ہے اللہ میرا ملک پاکستان بھی ایسے ہی ترقی کرے دن دگنی رات چوگنی ۔۔اللہ میرا ملک ہماری ذندگی میں ہی سپر پاور بن جائے یہ ہماری دلی دعا ہے اپنے ملک کے لیے۔۔!!

  • مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

    مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

     سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔

    مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔

    ہمارا ایمان ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والوں کے نبی ہیں۔قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے مسائل،معاملات مختلف ہیں۔

    کبھی لوگ امن کی حالت میں ہوتے ہیں تو کبھی جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کی ضروریات اور خواہشات مختلف ہیں۔یہ ضرورت اور خواہش روحانی بھی ہوتی ہیں،جسمانی بھی ہوتی ہیں اور نفسانی بھی ہوتی ہے۔

    ان مسائل کے حل کیلئے ایسے شخصیت کی ضرورت ہے جو ہم میں سے ہو اور وہ ایسا نظام دے جو قیامت تک کیلئے اور ہر ایک کیلئے ہو۔

    اس مقصد کیلئے سیرت طیبہ کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے کیونکہ حضور اکرم کے ذریعے اللہ تعالی نے قیامت تک کے آنے والے مسائل کا حل دیا ہے۔

    چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے "اور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے”.

    اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔

    دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت ﷺ نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔

    سیرت طیبہ زندگی کےہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ امن ہو یا جنگ،سفر ہو یا حضر،انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،مسجد کا ماحول ہو یا بازار کا ماحول،گھریلو زندگی ہو یا باہر کی زندگی،تجارت ہو یا ملازمت،عبادات ہوں یا معاملات،خوشی ہو یا غمی، شادی ہو یا کوئی فوتیدگی ،معیشت ہو یا معاشرت غرض کوئی ایسی چیز نہیں جہاں سیرت پاک سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔

    ہر باطل نظام کے خلاف سیرت طیبہ نے متبادل بہتر نظام پیش کیا ہے۔سود کے مقابلہ میں تجارت،کنونشنل بینکنگ کے مقابلہ میں اسلامی بینکنگ اس کی بہترین مثال ہے۔

    سیرت طیبہ ایک ایک مرحلہ پہ رہنمائی کرتی ہے۔ل مثال کے طور پہ جنگ کب کرنی ہے،کس سے کرنی ہے،جنگ سے پہلے کیا کرنا ہے،جنگ میں کیا کرنا ہے،جنگ بعد کیا کرنا ہے۔

    امن کہ حالات میں کیا کرنا ہے،امن کیلئے کس حد تک جایا جا سکتا ہے،

    سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے۔ غیر مسلم کا سیرت کے مطالعے کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہوسکتی ہے جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصے میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کردیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کردی جس کے کارنامے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔و غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں۔

    ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرکے انھی واقعات کو توڑ مروڑکر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

    جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ:

    محمد ﷺ کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے محمد ﷺ کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

    عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں سیرت لکھنے کا کام شروع ہوا۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوتھ نے 1905ء میں آنحضور ﷺ کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and the First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ ”حضرت محمدؐ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔”

    اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:”جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔”

    کتب سیرت کی کثرت:1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شایع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

    سال 1975-1974ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

    ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودہویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

    بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شایع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکورہ ہیں۔

    سیرت پر ہونے والا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں، تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہوسکتا ہے۔

    سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کرنے والے پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل میں یکجائی تھی، آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، یہ نہیں تھا کہ آپؐ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم فرماتے اور خود اس سے تہی دامن رہتے، بلکہ سب سے پہلے آپؐ ہی اس پر عمل پیرا ہوتے۔

    علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں غور و فکر کرنے والا لامحالہ اس کی تصدیق کرے گا کہ آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، اور وہ یقیناًیہ گواہی دے گا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اگر آپؐ کوئی معجزہ لے کر نہ آتے تب بھی آپؐ کی سیرتِ طیبہ آپؐ کی صداقت کے لیے کافی تھی۔ (ابن حزم۔ الممل و النحل:ج2، ص90)۔

    لہذا اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ سیرت طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ کافروں کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔

    ان سب مقاصد کے حصول کیلئے 

    مطالعہ سیرت نہایت ضروری ہے۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • پاکستان تحریک انصاف۔۔.۔پیوستہ رہ شجر سے۔۔ امید بہار رکھ!  تحریر   عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    پاکستان تحریک انصاف۔۔.۔پیوستہ رہ شجر سے۔۔ امید بہار رکھ! تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تاریخ عالم کی ورق گردانی کی جائے تو عزم و استقلال کی جتنی ولولہ انگیز داستانیں آپ کو ملیں گی ان کے پس منظر میں کوئ نہ کوئ نظریہ ہی کارفرما ہی نظر آئیگا کیونکہ نظریہ ہی وہ قوت ہے جو کسی تہزیب کو جنم دیتا ہے نظریہ ہی کسی انقلاب کے لئے تحریک کی حیثیت رکھتا ہے۔اور نظریہ ہی کسی فرد یا قوت کے فکر کے انداز ،دستور حیات اور نظام زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا قیام بھی ایک نظریہ کا ہی مرہون منت ہے۔جو کرپشن کے خاتمے اور یکساں انصاف پر قائم ہے۔یہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کی بنیاد کسی نظریہ پر قائم ہے اور نظریہ بھی ایسا جو اسٹیٹس کو کے خاتمے میں سرکرداں نظر آئے۔تحریک انصاف کی تاریخ پچیس سالہ جدوجہد پر محیط ہے ان پچیس برسوں میں پارٹی نے بڑے اتار چڑھاو دیکھے لیکن مرد آہن جناب عمران خان کے عزم و حوصلے کو سلام ہے جو تمام تر مسائل ،منفی پروپیگنڈہ اور مبینہ سازشوں کے باوجود آہستہ آہستہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ایک طویل جہد مسلسل کے بعد 2018کےقومی انتخابات میں اس جماعت نے واضع کامیابی حاصل کی۔تحریک انصاف کی حکومت میں آنے کے ابتدائ ایام تو بہت ہی کٹھن رہے۔جب خان صاحب نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک معاشی طور پر ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، وزیر اعظم عمران خان نے بہترین سفارت کاری کے زریعہ دوست ممالک کی حمایت حاصل کی اور بگڑے ہوئےخارجہ تعلقات کو بہتربنانے میں کامیاب ہوئے۔۔ سعودی عرب، قطر اور چین کی جانب سے معاشی امداد کا حصول ممکن بنایا اور ملک کو ڑیفالٹ ہونے سے بچایا۔۔
    حکومتی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے ساتھ ساتھ فاٹا کا انضمام بھی انکی تاریخی کامیابی ہے اس کے علاوہ ان کی سادگی اور کفایت شعاری مہم نے حکومت کو ایک نئ جہت دی ، کرپشن پر کریک ڈاؤن کیا گو کہ قانونی موشگافیوں میں وہ نتائج نہیں مل پائے جس طرح کےانصاف کی توقع کی جارہی تھی،صحت انصاف کارڈ، غربت کے خاتمے کے پروگرام، ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم،ٹیکس نظام میں اصلاحات اور کئی دیگر کامیابیابیاں ہیں جو نو زائدہ حکومت کے حصے میں آئیں۔ اس کے علاوہ کرتارپور راہداری کو کھولنا اور وزیر اعظم کی جانب سے غربت کے خاتمے کے منصوبے ’احساس‘ اور بے گھر افراد کے لیے ’پناہ گاہ‘ اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کی تقسیم ۔یکساں تعلیمی نصاب جیسے پروگرام کے انعقاد بھی قابل ستائش رہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے تین سالہ دور میں ہر ہر موقع پر اس عزم کااعادہ کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گےاور اس کی کوشش بھی کر رہےہیں۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اچانک آنے والی کورونا وبا کے نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا جس کے باعث دنیا کو نہ صرف بے روزگاری اور غربت میں اضافہ دیکھنے کو ملا بلکہ عوام کو مہنگائی کے طوفان کا بھی سامنا رہا اور پاکستان بھی اس مشکل وقت سے گزرا لیکن پاکستان کا شمار ان چند خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہترین حکومتی پالیسیوں نے اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ وبا نہ صرف کم رہی بلکہ اس پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا گیا اور حکومت کی کامیاب پالیسی کو نہ صرف پوری دنیا نےسراہا بلکہ عالمی ادارہ صحت نے تو دنیا کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان سے سیکھے کہ اس نے کس طرح کرونا کا مقابلہ کیا اور اپنی معیشت بھی بچائ۔
    گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے تین سالہ کارکردگی پر ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا اس تقریب میں خان صاحب کا کہنا تھاکہ
    ” تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ ہے نہ کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے، حکومت ملی تو ہماری ٹیم ناتجربہ کار تھی، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، آج زرمبادلہ کے ذخائر 29 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، 4700 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جارہا ہے، سیمنٹ کی فروخت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور ٹریکٹر ریکارڈ تعداد میں بیچی گئیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خوشحال ہو رہے ہیں‘‘۔
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالہ دور کی کامیابی کے اعداد و شمار کچھ بھی ہوں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے جس انداز میں امریکہ کو فوجی اڈہ نہ دینے کا اعلان کیا اور افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے معاملہ پر جو جراءت مندانہ فیصلے کئے انہیں قوم نے بہت پسند کیا اور جس طرح آزاد کشمیر انتخابات میں حزب مخالف کے منفی پروپیگنڈہ کو اپنے ایک ہی خطاب میں سبو تاژ کیا اور بعد ازاں وہاں ایک بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی جس کے باعث حزب اختلاف کی جانب سے چلائ جانے والی تمام تر حکومت مخالف تحریکوں پر پانی پھر گیا۔
    دوستوں تحریک انصاف کی حکومت کی تین سالہ کاکردگی کا نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن اس حکومت نے ہمیں ایک ایسی باعزت اور قابل فخرقوم بنا دیا ہے جو کسی بھی عالمی طاقت سے نہ مرعوب ہو ر ہی ہے اور نہ ہی اپنی سالمیت پر آنچ آنے دے رہی ہے خود عمران خان کا کہنا ہے کہ جس کے پاس لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کی طاقت ہو اس قوم کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں سوائے اللہ کے۔
    اسٹیٹس کو کے اس نظام میں جہاں ہر سطح پر کرپٹ اورماہر ترین دھندے باز سیاست دان ہوں۔اور تیس سال سے بٹھائے گئےان کے آلہ کار خواہ وہ ببیوروکریسی میں ہوں یا کسی اور ادارے میں اور اس کے علاوہ محلاتی سازشیں بھی عروج پر ہوں تو ایسی صورتحال میں حکومت کاتین سال پورے کر لینا بھی کسی معجزے سے کم نہی۔

    @Azizsiddiqui100

  • سگریٹ نوشی کے نقصانات تحریر سید محمد مدنی

    سگریٹ نوشی کے نقصانات تحریر سید محمد مدنی

    میں اپنی بات ہی سیدھی یہاں سے شروع کروں گا کہ سگریٹ کے ڈبیہ پر لکھا ہوتا ہے کہ خبردار سگریٹ نوشی نقصان دہ ہے مگر پی بھی دبا کے جاتی ہے اور تو اور ہم اکثر اپنے بچوں سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بیٹا زرا فلاں کی دکان سے جا کر سگریٹ تو لے آؤ اور یہیں سے ہم اپنی جان کی تباہی تو کر ہی رہے ہوتے ہیں ساتھ بچے کو سگریٹ لینے بھیج کر اسے بھی یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ تم بھی اسے استعمال کرو.

    اب سوال یہ پیدا ہوتا کے کہ بچہ کس وقت اور کیسے میں سگریٹ استعمال کرے گا تو محترم قارئین بچے کو کبھی بھی موقع مل سکتا ہے جبکہ میں جیسا کہ آپ کو اپنے سابقہ کالمز میں بتا چکا ہوں کہ باہر رہ کر آیا تو وہاں بچوں کے ہاتھ سگریٹ بھیجنا ہے ہی ممنوع سختی ہے اور ہم یہاں دن میں نا جانے کتنی بار دکان سے بچوں سے سگریٹ منگواتے ہیں.

    سگریٹ پہلی بار پینے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کے آپ سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہنے کا مطلب ہے کہ ابتداء ہی انسانی جان کی تباہی کا انجام بن جاتی ہے لوگ آپ کو شروع شروع میں زور دیتے ہیں کہ یار پیو کچھ نہیں ہوتا اور آپ وہ سگریٹ پہلی بار پیتے ہیں پھر دوسری بار اور پھر اس کی لت پڑ جانے کے بعد اس سے جان چھڑانا نا ممکن ہو جاتا ہے.

    سگریٹ نوشی سے متعلق ہمارے ہاں کئی کیمپینگ چلیں بہت کچھ ہؤا مگر بات ہے کے ترک کردینا جو مشکل تو ضرور ہے مگر نامکن نہیں.

    اس کو ترک کرنے کے لئے آپ کی نفسیات اور اپنی طاقت چاہئے ہوتی ہے اور دنیا میں ضی ایسے افرد بھی ہیں جنھوں نے بہت مشکل کے بعد سگریٹ نوشی چھوڑی اور پھر ہاتھ نہیں لگایا. 

    سگریٹ نوشی آپ کے پھیپڑے کو پھیپھڑوں کا کینسر بناتی ہے غرض جسم کو کھوکھلا کرتی ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ اس کا معلوم آپ کو اس وقت چلتا ہے جب آپ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے اور یہ اندر ہی اندر آپ جو جلاتی رہتی ہے.

    میں نے کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ سگریٹ کچھ نہیں کہتی اگر کچھ نہیں کہتی تو پھر چھوٹے بچے کو بھی کیوں نہیں پلا دیتے اس پر انکار کیوں کرتے ہیں.

    جب سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے جیسی کئی مہم بھی چلائی گئیں جس کا مقصد خاص طور پر نوجوانوں کو اس جان لیوا عادت سے دور رکھنا تھا.

    سگریٹ دھوئیں میں کوئی سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان دہ ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہیں جو کینسر کی وجہ بنتے ہیں اس کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہارٹ اٹیک  کا خطرہ رہتا ہے اس کے علاوہ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس بھی ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے تمباکو نوشی سے تقریباً ١٥ قسم کی مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھیلتی ہیں.

    پاکستان میں زیادہ تر کینسر منہ کا کینسر ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے یہ منہ، گلا، خوراک کی نالی، معدہ، جگر، مثانہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے.

    ہم اپنی زندگی جو کے ﷲ کی ایک نعمت ہے کے پیچھے خود سے پڑے ہیں آئیے اس سے پیار کریں اور سگریٹ نوشی ہمیشہ کے لئے ترک کریں.

    Twitter Id @ M1Pak

  • ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت   تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی پر اس تحریک میں ، ہم اس بات پر بات کرنے جا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے ، اس کے استعمال کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے؟ سب سے پہلے ، ٹیکنالوجی سے مراد مشینری بنانے ، مانیٹر کرنے اور ڈیزائن کرنے کے لیے تکنیکی اور سائنسی علم کا استعمال ہے۔ نیز ، ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کرنے والے دوسرے سامان بنانے میں مدد دیتی ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون – ایک فائدہ یا فائدہ؟

    ماہرین برسوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک طویل راستہ طے کیا لیکن اس کے منفی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سالوں میں تکنیکی ترقی نے آلودگی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ نیز ، آلودگی صحت کے بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس نے لوگوں کو جوڑنے کے بجائے معاشرے سے کاٹ دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ، اس نے مزدور طبقے سے بہت سی نوکریاں چھین لی ہیں۔

    چونکہ وہ مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ نیز ، یہ سائنس کی شراکت کی وجہ سے ہے ہم نئی جدت پیدا کر سکتے ہیں اور نئے تکنیکی اوزار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، لیبارٹریوں میں کی جانے والی تحقیق ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف ، ٹیکنالوجی سائنس کے ایجنڈے کو بڑھا دیتی ہے۔

    ہماری زندگی کا اہم حصہ۔

    باقاعدگی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ نیز ، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں طوفان برپا کر رہی ہیں اور لوگ وقت کے ساتھ ان کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، تکنیکی ترقی قوموں کی ترقی اور ترقی کا باعث بنی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا منفی پہلو۔

    اگرچہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے ، ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بھی دو پہلو ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ یہاں ٹیکنالوجی کے کچھ منفی پہلو ہیں جن پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔

    آلودگی۔

    نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کاری بڑھتی ہے جو ہوا ، پانی ، مٹی اور شور جیسے بہت سے آلودگیوں کو جنم دیتی ہے۔ نیز ، وہ جانوروں ، پرندوں اور انسانوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کا ختم ہونا۔

    نئی ٹیکنالوجی کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں جس کے لیے توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر ، یہ قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا باعث بنے گا جو بالآخر فطرت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

    بے روزگاری۔

    ایک مشین بہت سے کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ نیز ، مشینیں بغیر کسی رکے کئی گھنٹوں یا دنوں تک مسلسل رفتار سے کام کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ، بہت سے مزدوروں نے اپنی نوکری کھو دی جو بالآخر بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کی اقسام۔

    عام طور پر ، ہم ٹیکنالوجی کا ایک ہی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ، ٹیکنالوجی مختلف اقسام میں تقسیم ہے۔ اس میں انفارمیشن ، تخلیقی ، صنعتی، تخلیقی  اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز پر مختصر بحث کریں۔

    صنعتی ٹیکنالوجی۔

    یہ ٹیکنالوجی مشینوں کی تیاری کے لیے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو منظم کرتی ہے۔ نیز ، یہ پیداواری عمل کو آسان اور آسان بنا دیتا ہے۔

    تخلیقی ٹیکنالوجی۔

    اس عمل میں آرٹ ، اشتہارات اور پروڈکٹ ڈیزائن شامل ہیں جو سافٹ وئیر کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ نیز ، اس میں تھری ڈی پرنٹرز ، ورچوئل رئیلٹی ، کمپیوٹر گرافکس اور دیگر پہننے کے قابل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اس ٹیکنالوجی میں معلومات بھیجنے ، وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر کا استعمال شامل ہے۔ انٹرنیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔

    آج ہر وہ چیز جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہے اور جس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نیز ، ہم ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس سے ہمارے اردگرد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون پر عمومی سوالات

    Q.1 انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے؟

     یہ ٹیکنالوجی کی ایک شکل ہے جو مطالعے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتی ہے۔ نیز ، وہ ڈیٹا بھیجتے ، بازیافت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں۔

    Q.2 کیا ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے؟

     نہیں ، ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں جب تک کہ اس کا صحیح استعمال نہ ہو۔ لیکن ، ٹیکنالوجی کا 

    غلط استعمال نقصان دہ اور مہلک ہو سکتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • آلو کی فتح یا لاہوریوں کی شکست؟ تحریر ؛ علی خان

    آلو کی فتح یا لاہوریوں کی شکست؟ تحریر ؛ علی خان

    جب تک سموسے میں آلو رہے گا پٹنہ بہار میں لالو رہے گا”،،، بھارتی ریاست بہار میں لگایا جانے والا یہ نعرہ کسی زمانے میں گویا یقین بن گیا تھا،،، پھر حالات بدلے اور بہار سے لالو پرساد نکل گئے،،، اب سموسے میں آلو کی لازم موجودگی بھی خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے،،، چکن سموسہ، قیمہ سموسہ اور سبزی سموسہ تو پرانی باتیں ہوگئیں اب تو نوڈلز سموسہ اور مشروم سموسمہ جیسی تراکیب نے آلو کو چیلنج کردیا ہے،،، لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں کیوں کہ آلو نے ایک اور ڈش میں اپنی جگہ پکی کرلی ہے اور وہ ہے بریانی
    یہ یقین مجھے اس وقت ہوا جب لاہور میں جگہ جگہ کراچی کے نام سے منسوب بریانی شاپس کھلیں اور آلو والی بریانی مقبولیت حاصل کرگئی،،، اس سے قبل کھانوں پر لاہور اور کراچی کی بحث ایسی ہی تھی جیسی اردو کی گرامر بارے دلی ، دکن اور لکھنؤ کی،،، لاہور والوں کو بریانی میں آلو کی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ،،، کراچی کی بریانی کو پلاو کا نام دیا جاتا تھا تو کراچی والے لاہوریوں کو ذائقوں سے ناآشنائی کا طعنہ دینے سے نہیں چوکتے تھے،،، کراچی میں پودینے کی چٹنی آج بھی سموسے کا لازم جزو ہے تو دوسری جانب لاہور میں چنے اور میٹھی چٹنی کے بغیر سموسے کو سموسہ نہیں مانا جاتا ،،، لیکن اب شاید لاہور یوں کو کراچی کےپکوان پسند آنےلگے ہیں،،، صرف آلو والی بریانی ہی نہیں ، بن کباب اور بڑا پاؤ جیسے کھابے بھی لاہور میں نظر آرہے ہیں،،، تو کیا واقعی لاہوریوں کو کھانوں میں کراچی والوں سے مات دے ڈالی ہے یا یہ کوئی "ہور گل اے”
    کہتے ہیں شوہر کے دل کا راستہ معدے سے ہوکر جاتا ہے،،، یہ کہاوت لاہوریوں میں مرد، عورت، بیوی، شوہر ، شادی شدہ کنوارے سب پر لاگو ہوتی ہے،،، اچھے کھانے کے لیے لاہور والوں کو مریخ کا پتا بھی دیا جائے تو شاید اسی چکر میں راکٹ بھی بنا ڈالیں،،، کچھ لاہوری دوستوں کا ٹائم ٹیبل کھانے کے حساب سے سیٹ ہوتا ہے،،، چائے رس کھا کر کام پر جانا ہے،،، 10 بجے پائے کلچے کھانے ہیں اور لسی پینی ہے،،، 12 بجے دوپہر کا کھانا کھانا ہے،،، 3 بجے سہ پہر چائے پینی ہے،،، 5 بجے گھر آکر فروٹ چاٹ دہی بھلے کھالینے ہیں،،، 7 بجے کھانا کھانا ہے،،، 8 بجے دوستوں کے ساتھ میٹھا کھا کر یا چائے پی کر 9 بجے سو جانا تاکہ اگلی صبح جلدی اٹھ کر چائے ناشتہ ہوسکے
    لاہوریوں کا یہی مزاج شاید کراچی کے کھانوں کو یہاں مقبول کررہا ہے اور یہ صرف کراچی ہی نہیں ہر شہر کے کھابے ہیں جو آپکو لاہور میں مقبول ہوتے نظر آئیں گے،،، قصوری فالودہ، تندوری چائے ، شنواری کڑاہی جیسے بے تحاشہ کھانے ہیں جنہیں لاہوریوں نے نہ صرف چکھا بلکہ پوری طرح اپنا لیا،،، لیکن کچھ خانہ خرابوں نے اسکا ناجائز فائدہ اٹھایا اور زیادہ کمائی کے لالچ میں کہیں ملاوٹ تو کہیں گوشت ہی بدل ڈالا ،،، انہی کم بختوں کی وجہ سے سار سال گوشت خوری کرنےوالے لاہور والوں کو صرف عید پر بکرے اور گائے کا گوشت کھانے کے طعنے ملتے رہے،،، اب اگر ہم سارا قصور نری بدنامی کو دیں تو بھی غلط ہوگا کیونکہ لاہوریوں نے اصل کے بعد نقل کی بھی خوب پذیرائی کی اور ملتے جلتے ناموں والے جعل سازوں کا کام بھی چمکا دیا،،، آج اسی وجہ سے بھیا کے نام سے بیسوں دکانیں ملتی ہیں لیکن کباب میں ذائقہ غائب ہوتا ہے،،، تندوری چائے کے نام پر ہر گلی محلے میں چائے خانے کھل گئے لیکن ذائقے کا یہاں بھی فقدان نظر آتا ہے،،، تو یہ لاہوریوں کا بڑا دل ہے جو ہر کھابے کو بھی اپنا کر دیسی کردیتے ہیں اس کو انکی مات قرار دینا شاید انصاف نہیں ،،، خیر یہ بحث تو چلتی رہے گی آئیے سب مل کر آلو کو بریانی میں جگہ پکی ہونے پر مبارکباد دیں،،، تو ” جب تک کھابے چالو رہیں گے۔۔۔ بریانی میں لازم آلو رہیں گے

    @hidesidewithak

  • تو ہمارا کیا انجام ہوگا؟ تحریر : سید مصدق شاہ

    فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے

    وہ شمع کیا بجھے گی جسے روشن خدا کرے

    ہم نے بزرگوں سے ایک واقعہ سن رکھا تھا کہ ایک ملک کے بادشاہ نے اپنی رعایا پروری، انصاف، عقلمندی اور ایمانداری سے اپنی رعایا کا دل جیت رکھا تھا مگر جب عالم پناہ بوڑھے ہو گئے تو بڑھاپے کے سبب ان کی صحت جواب دے گئی عوام بہت فکر مند رہنے لگے سارے ملک میں یہ بحث چھڑ گئی اس نیک رحمدل اور عقلمند بادشاہ کے بعد ان کا جانشین کون ہوگا؟

    کیوں کہ ان کے بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی بادشاہ حضور بھی اپنی بیماری کی صعوبتوں سے مایوس ہوچکے تھے انھوں نے اپنے لئے شاہی قبرستان میں قبر بھی کھدوا رکھی تھی ان کے وزراء اور امراء کی بے چینی دیکھ کر بادشاہ نے کافی غوروفکر کے بعد یہ اعلان کیا کہ ویسے ہماری سلطنت میں بہت سارے قابل ہستیاں ہیں جو اس منصب کے لئے موزوں ہیں اگر جانشین کا تقرر کا اعلان کرے تو بہت سارے امیدوار اپنی نامزدگی داخل کریں گے پھر ان میں کسی ایک کا انتخاب کرنا مشکل ہوجائے گا لہذا انتخاب کے مسئلہ کو حل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ امیدواروں پر ایک شرط مقرر کی جائے جو کوئی یہ شرط پوری کریگا اسے بادشاہ کا جانشین مقرر کر دیا جائے گا

    بادشاہ کا یہ اعلان سننا تھا کہ عوام و خاص میں یہ تجسس پیدا ہو گیا کہ وہ کیا شرط ہے جسے پورا کرنے والے کو اس منصب کا حقدار بنایا جائے گا ایک دن بادشاہ نے اس شرط کا اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

     شرط یہ تھی کہ جو بھی شخص بادشاہ کے لیے کھودی گئی قبر میں ایک رات سو کر ائے گا اسے عالم پناہ اپنا جانشین مقرر کریں گے

    اس شرط کو سن کر سبھی امیدواروں کے پسینے چھوٹ گئے سب پر سکتا طاری ہو گیا سبھی وزراء اور امراء پرچہ امیدواری داخل کرنے سے کترانے لگے 

    جب یہ بادشاہ کے جانشین کے انتخاب اور بادشاہ کے شرط  والی خبر ایک نہایت ہی مفلس اور غریب شخص تک پہنچی تو وہ سوچنے لگا "ویسے میری ساری زندگی مفلسی میں بسر ہو گئے اب بادشاہ بننے کا ایک سنہری موقع ہاتھ آیا وہ کیوں نا میں اس سے فائدہ اٹھاؤ؟

     قبر میں سونے کے ایک رات ہی کی تو بات ہے”۔

     ویسے سب اس شرط سے اس لیے خوفزدہ تھے کہ جب قبر میں وہ جائیں گے تو دو فرشتے سوال جواب کے لئے حاضر ہونگے اور ان کی ساری زندگی کی نیکیوں اور گناہوں کا حساب لیا جائے گا اور انہوں نے دنیا میں دولت کو جمع کرنے کے لئے جائز و ناجائز طریقوں سے جو کچھ حلال اورحرام کی کمائی کی ہے اس کی پائی پائی کا ان کو جواب دینا پڑے گا

    اس غریب نے سوچا کہ ” میں تو ایک مفلس غریب انسان ہوں مجھ سے تو کوئی سوال جواب کی نوبت نہیں آئے گی میرے پاس تو مخض ایک مریل گدھے کے سوا کچھ بھی نہیں تو فرشتے کیا پوچھ لیں گے؟

    چلو ایک رات ہی کی تو بات ہے جیسے تیسے کہیں بھی گزر ہی جائے گی”

    وہ اس امید پر حوصلہ پاکر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور بادشاہ کی شرط پوری کرنے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو بادشاہیوں کو حکم دیا کہ انہیں بادشاہ کے لیے کھودی گئی خالی قبر میں ایک رات سونے کے لئے لے جائیں

    اور جب یہ بادشاہ سلامت کی شرط پوری کر لیں تو انہیں دربار میں حاضر کیا جائے تاکہ انہیں بادشاہ کا جانشین مقرر کیا جاسکے

    سارا ملک اس غریب کی جرات پر حیران تھا الغرض اسے قبرستان لے جایا گیا اور بادشاہ کے لیے کھودی گئی اس خالی قبر میں سلا دیا اوپر تختے جوڑ دیے گئے اور ہوا کے لیے تھوڑی جگہ چھوڑ کر باقی قبر کو بند کر دیا گیا

    جیسے ہی سپاہی اس غریب کو دفن کرکے قبر سے چالیس قدم دور نکلے قبر کا منظر ہی بدل گیا حسب دستور قبر میں دو فرشتے جرح کرنے کے لئے حاضر ہو گئے انہوں نے پہلے اس سے کچھ دینی و معلوماتی سوالات پوچھے وہ ان سب سوالات کے جوابات دینے میں کامیاب رہا تو فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے وہ انہیں ایسے گھورنے لگا کہ گویا پوچھ رہا ہے کہ اب کیا کر لو گے؟

    میں نے تمہارے سارے سوالات کے جوابات تو دے دیے چلو اس اکیلے نکٹھو گدھے کے بارے میں کیا پوچھ لوگے؟ پوچھو پوچھو

    جب فرشتوں نے اس سے اس کے گدھے کے متعلق سوالات کا آغاز کیا تو اس کی خلاف توقع اتنے سوال پوچھے گئے کہ وہ جواب دیتے دیتے تھک کر چور ہو گیا اس کی زندگی میں اب تک جو اس سے غلطی ہوئی ان میں سارے غلطیاں اس کے گدھے کے ساتھ اس کے برتاؤ اور اس کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کو لے کر ہوئی تھی جب سے اس نے اس گدھے کو اپنے گھر لایا تب سے اب تک اس سے جو غلطیاں ہوئیں ان میں سے ایک ایک غلطی پر اسے سو سو کوڑے لگائے گئے اس طرح صبح تک ہزاروں کوڑے اس کو کھانے پڑے اس نے کبھی خواب و خیال میں بھی یہ سوچا نہیں تھا کہ مخض ایک گدھے کو رکھنے پر اسے اتنے سارے سوالات کے جوابات دینے پڑیں گے اور جن کی پاداش میں اسے اتنے سارے کوڑے لگائے جائیں گے جن سے وہ ادھ مرا ہوگیا وہ گدھے کو رکھنے اور اس کے ساتھ کی گئی غلطیوں اور ظلم کو جب فرشتوں نے ایک ایک کرکے گنایا تو اپنے لاپرواہیوں پر گڑگڑا کر توبہ کرنے لگا

    صبح جب فرشتے واپس چلے گئے تو وہ سوچنے لگا کہ محض ایک گدھے کو رکھنے پر اس کی یہ نوبت ہوئی تو ملک کا بادشاہ بن جانے پر اس پر ساری رعایا کی ذمہ داری واجب ہوگی تب اسے فرشتے اور کتنے لاکھ سوال کرینگے؟

    یہ سوچ کر وہ اتنا خوفزدہ ہوا کہ بادشاہت سے توبہ کرنے لگا حکم کے مطابق صبح بادشاہ کے سپاہی اسے قبر سے نکال کر دربار میں پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو قبر کو جیسے ہی انہوں نے کھولا وہ غریب قبر سے نکل کر جنگل کی طرف دوڑنے لگا

    سب تعجب سے اسے دیکھنے لگے سپاہی اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ لگانے لگے تو وہ دوڑتے دوڑتے کہہ رہا تھا :”معاف کیجیے بادشاہت تو کیا مجھے اب یہ گدھے کا بچہ بھی نہیں چاہیے”

    پیارے دوستوں ! 

    اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہر انسان مرنے کے بعد قبر میں فرشتوں کے سوال جواب کے منظر کو یاد کرے گا تو زندگی کا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے گا اس کے سامنے بادشاہت بھی رکھ دیں تو اس سوال جواب اور قبر کے عذاب سے ڈر کر اسے بھی قبول نہیں کرے گا

    تو پھر چھوٹے چھوٹے فائدے کے مقابل اتنا بڑا رسک کیوں مول لینا ہے؟

    مگر آج قبر کے عذاب کو ہم بھلا بیٹھے ہیں قدم قدم پر ہم سے غلطیاں سرزد ہورہی ہیں تو ہمارا انجام کیا ہوگا؟

    Tweeter id Handel @SyedmusaddiqSy4

  • ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔ 

    یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

    ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔

    یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔

    اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔

    آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔ 

    اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔

    بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔

    اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

    @iamAsadLal

  • سی پیک اور پاکستانی معیشت تحریر : کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    سی پیک اور پاکستانی معیشت تحریر : کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اپنے محل وقوع کی بنیاد پر دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ بحرہند پر موجود، گلف کے دہانے پر، گرم پانیوں سے جڑا تمام شمالی ممالک کیلئے حسرت بنا کم سے کم فاصلہ، آسان تجارتی راستہ جہاں سے تمام دنیا کیساتھ رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سرزمین کی طرف دنیا کی اقوام اپنے نکتہ نظر سے رویہ بھی اپنائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ شاہراہ ریشم جو مشرق میں ممالک کیساتھ تجارت کا اہم ترین راستہ صدیوں سے مانا جاتا ہے اور تمام مغربی اقوام استعمال کرتی رہی ہیں، اب سی پیک کے ذریعہ جوڑ کر سمندری تجارت کو مزید آسان کرے گا۔ یوں دوطرفہ تجارت اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ بھارت اب تک اپنی منڈی یعنی اپنی آبادی کی وجہ سے تاجروں کیلئے دلچسپی کا مرکز تھا، لیکن شمال مشرق میں چین کی آبادی جو بھارت سے کہیں زیادہ ہے، بہت دشوارگزار راستہ کی وجہ سے کسی ملک کی دسترس میں نہ رہ سکا۔ البتہ سی پیک اسی سلک روٹ کو آسان ترین راستہ بنا کر سمندری راستہ سے جوڑ کر عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کی صلاحیت بناتا ہے۔
    سی پیک بنتے ہی، گوادر پورٹ کی اہمیت کے پیش نظر یقین ہے کہ یہ دنیا کی تمام بندرگاہوں کے مقابلہ میں اول مقام حاصل کر لے گا۔ اس طرح دبئی کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی سطح پر مقبول ہے تمام سمندری جہازوں کیلئے، اپنی مقبولیت کھو دیگا یا کم از کم موجودہ اہمیت قائم نہ رکھ سکے۔ یہ چیز عرب ممالک کیلئے سوحان روح ہے۔ تجارت ہی دنیا میں سب کیلئے سیاست، معیشت، جنگوں اور تعلقات کی بنیاد رہی ہے۔
    جہاں ایک طرف سی پیک پاکستان کی معیشیت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں بھارت کا سکون برباد کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی دہائیوں میں بھارت کی ہر ممکنہ کوشش رہی ہے کہ ایک طرف عربوں کو پاکستان کے خلاف ابھارے، دوسری جانب ایران میں سرمایہ کاری کے ذریعہ ایران کو پاکستان سے دور رکھے، تیسری جانب افغانستان کے راستے بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور قریبا” تمام پاکستان میں ابتری پھیلاتے ہوئے پاکستانی عزائم کو خاک میں ملانے کی ہر ممکنہ کوشش کر چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پاکستانی کردار نہ صرف قابل ستائش بلکہ بہت مدبرانہ اور صبر آزما رہا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی بدلتی صورتحال نے تو سونے پر سہاگہ والی کیفیت پیدا کر دی کہ بھارت کی تمام سرمایہ کاری جو افغانستان میں پچھلی دو دہائیوں میں ہوئی تھی وہ یک لخت طالبان کے قبضہ میں چلی گئی۔ طالبان کے طاقت حاصل کرتے ہی وہاں سے بھارت کو اپنا بوریا بستر سمیٹنا پڑ رہا ہے۔ پنجشیر کی وادی واحد بھارت کی امید رہ گئی ہے جسے اس وقت طالبان نہ تو وقعت دے رہے ہیں اور نہ ہی اس طرف توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے، پنجشیر میں قابض جتنی دیر کریں گے طالبان سے آن ملنے میں، اتنا نقصان کا اندیشہ قوی تر ہوتا جائے گا۔
    حالیہ کابل کے ائرپورٹ پر دھماکوں کی ذمہ داری گرچہ داعش نے قبول کرلی ہے لیکن اب تو دنیا میں شور مچ گیا ہے کہ داعش کی اس کاروائی کی پشت پر بھارت کا ہاتھ ہے۔ اگر نظر عمیق ڈالی جائے تو سوائے بھارت کے ایسی کاروائی کوئی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو پر امن افغانستان درکار ہے، امریکہ اپنے معاہدے کا پابند ہے اور انخلاء کو وقت پر مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ نے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو بچانے کیلئے عجلت میں افغانستان کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو وہ بھی غلط نہیں کیونکہ امریکہ ماضی قریب میں روس کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ رہ گئے طالبان جو ہر لمحہ اس کوشش میں ہیں کہ امریکہ اور تمام غیرملکی افواج انکی سرزمین چھوڑ دیں۔ واحد بھارت رہ جاتا ہے جسے افغانستان اس وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر غشی کے دورے پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے بھارت کی بچھائی بساط مکمل طور پر لپیٹ نہیں دی گئی بلکہ تباہ ہو چکی ہے اور ساتھ ہی معیشت کو ایک ناقابل برداشت نقصان پہنچ چکا ہے۔
    یہ سی پیک پاکستان کو مستقبل میں بہت کچھ دے سکتا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے ابھی منصوبہ کی، کہ دنیا پوری طرح سے پاکستان کی جانب متوجہ ہے، جب مکمل ہو گیا تو پاکستان دنیا میں منفرد مقام کا حامل ہوگا۔
    اس تمام صورتحال میں پاکستانی افواج اور اداروں کی کارکردگی بہت اہم ہو جاتی ہے۔ ہمارے ادارے عام حالات سے زیادہ چوکنْا اور چاق و چوبند ہیں۔ افواج کے سالار ہمہ وقت افواج پاکستان کو تیار رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی غیر یقینی اور ناپسندیدہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر عوام کو ایک متحد قوم کے طور پر ابھرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ملنے والی ہر بات سچ نہیں ہو سکتی۔ بعض چھوٹ واقعات جو عموما” تمام ممالک میں پیش آتے ہیں انہیں ضرورت سے زیادہ یہاں پذیرائی نہیں دینا چاہئیے کہ اس سے عوام میں بےچینی اور خوف پھیلنے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس سے قوم میں اختلافات اور تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے جو پاکستان کیلئے اچھا نہیں۔
    آئیے مل کر پاکستان کو خوبصورت اور قوم کو باوقار بنائیں۔
    پاکستان زندہ باد

    لاہور
    ٢٩ اگست ٢٠٢١ء