” اگر تم شکر کروگے تو میں تمیں اور دونگا !”
(القران )
شکر ایک عام انسانی اور اسلامی صفت ہے ہمیں ہر حال میں اللّه کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ شکر گزاری کے بارے میں اللّه فرماتے ہیں کہ جو شخص جیس نعمت پہ شکر ادا کرے گا میں اسے وہ نعمت اور زیادہ دونگا، در حقیقت احساس کا نام ہے یہ زبان سے نہیں اپنے عمل سے ھوگا۔ احساسات عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک آدمی بہت سارا مل وہ دولت اكهٹا کرتا ہے اسے بانٹتا نہیں ہے اور کہتا ہے کہ شکر ہے ،شکر ہے تو وہ آدمی اصل میں شکر کرنے والا نہیں کہلاے گا۔ کیوں کہ کنجوس آدمی مال اكهٹا کرتا ہے اور استعمال کوئی اور کرتا ہے ہم زندگی میں بہت سارا مال اكهٹا کرتے اور کہتے ہیں یہ ہمارا ہے ۔ ذرا سوچیے کیا یہ شکر گزاری ہے ؟ نہیں یہ شکر گزاری نہیں!
شکر گزاری کا مطلب یہ ہے کہ اللّه پاک نے جو دیا ہے وہ اللّه کی راہ میں استعمال ہو ۔ شکر گزاری کا ایک اچھا طریقہ یہ بھی ہے کہ جو اللّه نے دیا اسے اللّه کے راہ میں خرچ کریں غريبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں جو نعمتیں اللّه نے دیا ہے انہیں دوسروں میں بنٹنا شروع کریں۔
اپنے روے سے اپنے انداز سے شکر گزار بنیں کیوں کہ عمل سے پتا چلتا ہے کہ بندہ کتنا شکر گزار ہے جو دوسروں کا خیال نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کا درد احساس نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کو اپنے رزق میں شامل نہیں کرتا ہوں وہ بندہ شکر گزار نہیں بن سکتا۔ بہت ساری چیزیں اور وجود ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ انہیں چھوا جا سکتا مگر ہماری کامیابی اور ترقی میں ان کا بہت کردار ہوتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں پہ شکر ادا کرنا چائے۔
ہر حال میں ہر بات پہ ہر چیز پہ اللّه کا شکر ادا کرنا چائے مثلا یہ کہ یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے مجھ سیکھنے کا شوق دیا اگر سيكهنے کا شوق نہیں دیا ہوتا تو میں علم حاصل نہیں کر پاتا۔
اے اللّه اگر مجھ شکر گزار بندہ نہ بنایا ہوتا تو آج میری زندگی میں اتنے محبت کرنے والے لوگ نہ ہوتے۔ میں اسکا شکر ادا کرتا ہوں۔
اے اللّه مجھے آپ پہ یقین ہے کہ آپ میرے مالک ہے۔ میں اس پہ شکر ادا کرہا ہوں۔
اے اللّه میری زندگی میں انے والے ہر مشکل کو آپ نے حل کیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
اے اللّه مجھ صحت دی مجھ اس پہ شکر ہے۔
اے اللّه مجھ دی ہوئی ہر نعمت کا میں شکر ادا کرتا ہوں۔
اے اللّه مجھ ہمت دی کہ میں آپکے مخلوق کی مدد کر سکو مجھ اس پہ شکر ہے ۔ یہ میرے اندر احساس ہے مجھ اس بات پہ شکر ہے ۔
یا اللّه مجھ کوئی جسمانی اپا ہیج نہیں دیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
اے اللّه میں آپکے کون کون سی نعمت پہ شکر ادا کروں میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔
دنیا میں گلا کرنا شکایات بہت آسان ہے مگر شکر کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں شکر گزاری کو شامل کرتے ہیں شکر گزاری کا جذبہ لے کر اتے ہیں اور شکر گزار بنتے ہیں تو پھر ہماری زندگی بدلے گی اور ہمیں اطمینان قلب بھی نصیب ہوگا۔
ہر وقت اللّه کا شکر ادا کرنا ہے۔ وہ تمام لوگ جو ہماری زندگی میں خوش قسمتی بن کر آئے، وہ تمام چیزیں جو ہمیں گفٹ کی شکل میں ملیں، وہ تمام چیزیں جن پر ہمارا حق نہیں قدرت نے پھر بھی ہمیں دیا انکا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور اگر ہم شکر ادا کرتیں تو اللّه پاک ان سب نوازشات میں اور برکت ڈال دیتا ہے ہمارے کام آسان ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور راحت مل جاتی ہے۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا ہمارے سارے مسلے حل ہو جاتے ہماری تمام مشکلات دور ہو جاتی ہے اور زندگی میں سکون اجاتا ہے۔
اسلیے تو اللّه پاک نے کہاں ہے جتنا شکر ادا کرو گے اتنا دونگا۔
ہم اپنی زندگی میں اپنی ذات اور ارد گرد کے چیزوں کا حالات واقعات کا اور رشتوں کا جايزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ان گنت نعمتں اللّه نے دیا ہے جن کا شکر ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
اور اگر ہم شکر ادا نہیں کرتے نا شکرے بن جاتے تو جو دیا ہے وہ بھی اللّه واپس چھين لیتا ہے اسلیے ہر وقت ہر حال اس خالق کا شکر ادا کرنا چائے۔
یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں وہ لوگ جو شکر ادا نہیں کرتے ان کی زبان میں ہمیشہ گلے شکوے رھتے اور ہمیشہ منفی سوچتے ہیں۔ اسے لوگ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہتے بس ہمیشہ اسی ناشکری اور منفی سوچوں میں ایک دن اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
اور وہ لوگ کامیاب ہو ہو جاتے ہیں جو ہمیشہ اللّه پاک کی دی ہوئی ہر نعمت پہ شکر ادا كرتیں ہیں۔
اس لئے ہمیں چائے جو اللّه نے دیا اس پہ ہو کر اللّه کا شکر ادا کریں اور جو نہیں ہے اس پہ صبر کریں پھر زندگی پرسکون گزرے گی اور اطمینان قلب نصیب ہوگا ۔
اس خوبصورت بات کے ساتھ اس کالم کو اختتام کرنا چاہونگا عمل کرو گے تو زندگی پرسکون گزرے گی۔
اگر آپ وہ چاہتے جو آپ کے پاس نہیں ہے تو اس چاہت کو ختم کرو اور اسے چاہنا شروع کرو جو آپ کے پاس موجود ہے زندگی کے بہت سارے پرابلمز ختم ہو جائینگے۔
@I_MJawed
Author: Baaghi TV
-

شکر گزاری ایک نعمت ہے تحریر محمد جاوید:
-

آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان
کسی بھی معاشرے کو سدھانے کیلئے مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے میں موجود جرائم کو روکنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتا ہے۔ یہ قوانین ہمارے منتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھ بناتے ہیں۔ جب کوئی بھی قانون متفقہ طور پر یا اکثریت رائے سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کی پاسداری ملک میں رہنے والے تمام افراد پر لازم ہو جاتی ہے ۔ قانون کی عمل داری یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنے کیلئے دنیا بھر میں ایک منعظم نظام رائج ہے۔ اس نظام میں مختلف سکیورٹی اور سو لین ادارے کام کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔
پولیس ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وہ عزت و احترام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ پولیس رشوت کے نام پر غنڈہ گردی ہے۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ رشوت کے نام پر کرپشن تو ہر ادارے میں ہو رہی ہے لیکن پھر پولیس ہی ذیادہ بدنام کیوں؟
آپ سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنی کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ ججز کی مثالیں دیکھ لیں۔ آپ اعلی بیوروکریسی کو دیکھ لیں۔ کرپشن اور رشوت خوری تو ہر جگہ کسی نا کسی شکل میں موجود ہے لیکن ان تمام کے جرائم کو لے کر سارے ادارے کو بدنام تو نہیں کیا جاتا جبکہ پولیس میں چند گنتی کے لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس کو ہی کیوں مشکوک نظر وں سے دیکھا جاتا ہے؟
پولیس پر عوام کا عدم اعتمام کسی ایک صوبہ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ۔ یہ سارے ملک میں ایک جیسا ہے۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آئی شاہد سیاستدانوں کا پولیس جیسے پروفیشنل ادارے پر اثررسوخ ہو سکتا ہے یا پھر میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
اگر چاروں صوبوں کی پولیس کو ہم الگ الگ درجہ بندی یا کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں تو اس حساب سے پختون خواہ کی پولیس نے پہلے کی نسبت عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساخت کافی حد تک بحال کی ہے۔ اس کا سارا کریٹ مرحوم IGKPKناصر دورانی اور سابقہ وزیر اعلی پختون خواہ پرویز خٹک صاحب کو جاتا ہے ۔ پختون خواہ پولیس اس وقت چاروں صوبوں کی پولیس کیلئے رول ماڈل ہے۔ گو کہ ابھی بھی وہ معیار نہیں جس کو ہم جدید تقاضوں سے لیس کہہ سکیں بہرحال رشوت خوری اور غنڈا گردی کے اعتبار سے کافی بہتری آئی ہے۔
اگر ہم پنجاب پولیس کو دیکھیں اس میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پنجاب پولیس کوسابقہ حکمرانوں نے مخالفین کے منہ بند کروانے اور مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کروانے کیلئے بہت استعمال کیا۔ ان اقدام نے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ بہت نقصان پہنچایا۔آپ 2014 ماڈل ٹاؤن واقعہ ہی دیکھ لیں۔جس طرح حاملہ خواتین کو گولیاں ماری گئی دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے واقعات اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
اس وقت پنجاب حکومت کو پنجاب پولیس میں بہتری کاچیلنج درپیش ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے منشور میں عدل وانصاف اور اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آذا کرنا تھا۔ پنجاب پولیس رشوت خوری ۔غنڈا گردی۔ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بہت بدنام ہو چکی۔یہ اقدام شاہد %10فیصد لوگ کرتے ہوں گے لیکن انکی وجہ سے ساری پنجاب پولیس کو لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بزدار حکومت اگر اس چیلنج سے نکل گئی تو تاریخ ان کو سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ آئی جی پنجاب پولیس کی بہتری کیلئے دن رات محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کافی حد تک بہتری نظر آ بھی رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کا واقعہ ہو یا رکشہ میں بیٹھی مسافر خواتین سے بدسلوکی پنحاب پولیس نے چند گھنٹوں میں انتہائی مہارت اور پروفیشنل طریقہ سے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔
اگر سندھ پولیس کو دیکھا جائے تو ایک ہی بات ذہین میں آتی ہے بھتہ اورسیاسی غلام اور رشوت خور۔ میرا کئی بار کراچی آنا جانا ہوا۔ یقین کریں وہاں پہنج کر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہوں۔ آپ راؤ انوار کا کیس دیکھ لیں کیسے بے دردی سے اس نے نقیبﷲ مصود کو قتل کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2011سے 2018کے بھیچ راؤ انوار نے تقریبا 444لوگوں کا encounterکیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس بندے کی وجہ سے سندھ پولیس کتنی بدنام ہوئی ہے۔
سندھ پولیس سیاسی اثر رسوخ کے زیر اعتاب سمجھی جاتی ہے۔ میرٹ کا فقدان اور سیاسی قیادت کی شہانہ طرز حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ سندھ پولیس کو معیاری پولیس نابننے دینے کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ سندھ میں پولیس جیسے ادارے کو جان بوجھ کر مفلوج رکھا جا رہا ہے۔ یہاں سندھ پولیس کی بجائے سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ جب تک سندھ حکومت پولیس کو ٹھیک نہیں ہونے دے گی یہ ممکن ہی نہیں کوئی اعلی افسر اسے ٹھیک کر سکے۔
اسلام آباد پولیس اس وقت دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔ بعض لوگ انکے معیار پر بھی انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن کیپٹل پولیس عالمی معیار اور دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے اور اسکی ایک اہم وجہ پولیس فورس میں میرٹ اور پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت ہے۔ چند عرصہ پہلے حکومت نے اسلام آباد پولیس کی یونیفارم میں خفیہ کیمرے لگانے کا کہا تھا ۔ اگر یہی معیار سارے پاکستان میں رکھا جائے تو انشاءاﷲ ہماری ساری پولیس بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میرٹ پر بھرتیاں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پولیس فورس میں لایا جائے۔ جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اعلی معیار کی ٹرینگ دی جائے۔ پرانے تھانہ کچہری کلچر کو بلکل ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق FIRسے لے کر کیس کے میرٹ تک ٹریس ایبل بنایا جائے تو کوئی شک نہیں ہماری پولیسنگ کا معیار عالمی معیار جیسا بن جائے۔ اس سارے پراسس میں حکومت وقت کا بہت اہم رول ہے۔
یہاں ان شہداء کو سلام پیش نا کرنا بھی ذیادتی ہو گی جنہوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ا ﷲ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان سب کے اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔ آمین
آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پولیس اور عوام کے بھیچ فاصلے کم کرنے ہیں تو پولیس کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ دوستانہ ماحول میں عوام سے بات کرنی پڑے گی۔ عوام کو احساس دلانا ہو گا کہ پولیس ان کی محافظ ہے دشمن نہیں۔ پولیس کا اولین کام بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے محافظوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ان کے لئے بھی میڈیا کوریج اور سرکاری سطح پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر سال ایک دن پولیس کے نام سے قومی سطح پر منایا جائے۔ سکولوں کالجوں میں پولیس بارے بچوں کو بتایا جائے۔ شہداء کی فیملیز کو آنر کیا جائے۔ ان کو بھی معاشرے میں اسی عزت و احترام سے ملا جائے جیسا باقی اداروں کیلئے ہم رکھتے ہیں۔ کیونکہ آخر پولیس بھی تو اپنی ہی ہے۔
شہد تم سے یہ کہہ رہے ہیں____لہو ہمارا بھلا نا دینا
قسم ہے تم کو اے سرفروشوں___لہو ہمارا بھلا نا دینا
وضو ہم اپنے لہو سے کر کے___خدا کے ہاں سرخروں ہیں ٹھہرے
ہم عہد اپنا نباہ چلے ہیں________تم عہد اپنا بھلا نا دینا
@saif__says -

محبت رسول کے تقاضے| تحریر :عدنان یوسفزئی
اس سے پہلے وہ شاہ حبشہ، نجاشی کے دربار میں جاتا رہا تھا، روم کے کے بادشاہ قیصر کے محل میں بھی پہنچا تھا اور ایران کے بادشاہ کسری کے پاس بھی سفیر بن کے جاچکا تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ اہل مکہ کو اس کی فراست، سفارت اور معاملہ فہمی پر ناز تھا ۔وہ اسے اپنی، کسی بھی بڑی سے بڑی مشکل سے بچنے کے لئے کوئی راہ نکالنے کی ذمہ داری سونپ سکتے تھے ۔
یہ اہل مکہ کا ایک دانا، جہاں دیدہ اور تجربہ کار سردار، عروہ بن مسعود تھا ۔یہ بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے(رضی الله تعالیٰ عنہ) ان پر انہیں مکمل اعتماد تھا ۔ماضی کی طرح، اج بھی ایک مشکل گتھی سلجھانے کے لئے، مکہ والوں نے انہیں میدان میں اتارنے کا عزم کیا ۔
یہ میدان، مکہ مکرمہ سے انیس میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔اس میدان کو حدیبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہاں رحمت دو عالم صلی الله عليه وسلم، اپنے صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھے،۔اپ صلی الله عليه وسلم مدینہ منورہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عروہ بن مسعود نے اپنے جان نثاروں کے درمیان گھرا ہوا دیکھا تو عجب منظر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان یوں لگ رہے تھے جیسے روشنی کے حلقے کے درمیان چاند ہو۔
عروہ بن مسعود نے یہ منظر دیکھا تو متآثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، انہوں نے جہاں مذاکرات کئے، وہیں حالات کا بغور جائزہ بھی لیتےرہے۔ وہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، اور حیران کیوں نہ ہوتے، یہاں انہیں وہ کچھ دکھ رہا تھا، جو قیصر وکسری کے دربار میں بھی دیکھنے کو نہ ملا وہ کیا تھا ؟
وہ بتاتے ہیں کہ میں نے دیکھا ؛
جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماء مستعمل ،وضو کا پانی آپ کے جان نثار نیچے نہیں گرنے دیتے، اسےہاتتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آب دہن کو زمین ترستی ہے لیکن آپ کے عشاق اسے زمین پر گرنے نہیں دیتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرتے ہیں تو ہر سو سناٹا چھا جاتا ہے، آپ کے یہ عقیدت مند ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔
آپ کی ہر ہدایت کو سنا اور مانا جاتا ہے بلکہ آپ کے اشارہ ابرو کو بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے.
آپ کی حد درجہ تعظیم کی جاتی ہے۔یوں کہہ لیجیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود ھدایت کے ان روش ستاروں اور جان نثاروں میں سے ہر ایک کی یہ کوشش رہتی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ فدا ہو جاؤں، اس فدا کاری کو وہ اپنے لیے دونوں جہانوں کے لیے باعث فخر اور ذریعہ نجات سمجھتا۔
واپسی پر جب عروہ نے کفار کے سامنے آنکھوں دیکھے حال کی منظر کشی کی تو کچھ ہیچ پیچ کرنے کے بعد، آخر کار انہیں اپنے جذبات سے بالا تر ہو کر سوچنا پڑا. نتیجے کے طور پر باہم مصالحت ہوئی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ والہانہ محبت کا اظہار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کا پست رکھنا اور آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں لپکنا، ہمیں عشق و محبت کے قرینے اور تقاضے بتاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعویٰ محبت تو محبت کا محض ایک دعویٰ ہی ہے، جب تک ہم اپنے عمل اور اطاعت رسول سے اپنے اس دعوے پر دلیل پیش نہیں کرتے، اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
محض عمل اور اتباع بھی کمال ایمان کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک تسلیم ورضا نہ ہو۔سورۃ نساء کی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا ایمان اس وقت تک کے لیے غیر معتبر ہے، جب تک ہم اپنی عملی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ حکم تسلیم کر لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں ۔
سورہ احزاب کی ایک آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے کسی معاملے میں فیصلہ فرما دینے کے بعد، ہمیں کوئی اختیار نہیں رہتا۔
غرض ایک سچے مؤمن اور حقیقی محب کی شان یہی ہے کہ وہ آقا نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاں اظہارِ محبت کرے، وہاں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت بھی رکھے،
آپ کی عظمت کو بھی جانے،
آپ کے فیصلوں کا احترام بھی کرے،
آپ کی اطاعت و اتباع بھی کرے،
اور وقت آنے پر آپ پر جان و تن فدا بھی کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جہاں ہم سے یہ تقاضے کرتی ہے وہیں ہم سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ ہم اغیار کے طور طریقے چھوڑ دیں، بدعات کا ارتکاب نہ کریں
اور شریعت کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی اتباع نہ کریں۔
Twitter | @AdnaniYousafzai -

ملک لوٹنے والوں کا بائیکاٹ کریں! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
اللہ پاک نے اس مملکت خداداد پر بڑا کرم کیا ہے ورنہ جس بے دردی سے اس ملک کو ستر سال سے لوٹا جارہا تھا اچھے خاصی ترقی یافتہ ممالک بھی شائد ایسی لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوجاتے یا صفحہ ہستی سے مٹ جاتے
ناجانے کتنے ہی ایسے لوگوں کی داستانیں موجود ہیں جن کے پاس اس ملک پر حکمرانی کرنے سے پہلے کچھ نہیں تھا لیکن جیسے ہی حکومت میں آئے ان کے کاروبار،جائیدادیں بڑھتی چلی گئ بچوں کا رہن سہن بادشاہوں والوں ہوگیا
ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم آج بھی اس ملک کو لوٹنے والوں کے پیچھے نعرے لگاتے ہیں ،آپ نواز شریف کی مثال لیں جو اس ملک پر تین بار وزیراعظم رہا پنجاب میں ان کی تیس سال حکومت رہی لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنا علاج کروانے آج بھی باہر بھاگتے ہیں ،ان کے پیچھے نعرے لگانے والوں سے کوئ پوچھے یہ آپ لوگوں کے ٹیکس کے پیسے ہی لوٹ کر گیا ہے جو پیسے اس ملک پر یہاں کی عوام پر خرچ ہونے تھے اس سے شریف خاندان نے باہر جائیدادیں اور کاروبار بنائے ،جس علاج کے لئے یہ لوگ باہر جاتے ہیں خدانخواستہ وہی بیماری اس ملک کے کسی غریب بندے یا کسی عام ن لیگی کارکن کو ہوجائے تو وہ کہاں جائے گا؟آخر ن لیگی کارکن ہمت کرکے یہ سوال کیوں اپنی قیادت سے نہیں پوچھتے؟عام آدمی نے اسی ملک میں رہنا ہوتا لیکن ان کے لیڈر اس ملک میں صرف حکومت کرنے آتے ہیں ،جس بندے کا کاروبار باہر ،بچے باہر،جائیدادیں باہر ،عیدیں اور شادیاں باہر وہ کس طرح اس ملک کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں
آصف علی زرداری کی پپلزپارٹی بھی ن لیگ اور نواز شریف کی طرح اس ملک پر کئ بار حکمرانی کرچکی ہے لیکن حالات یہ ہیں کہ آج پورا ملک چھوڑیں ،صوبہ چھوڑیں زرداری کے اپنے شہر نوابشاہ اور پپلزپارٹی کے اپنے شہر لاڑکانہ کے حالات بھی آپ دیکھیں تو رونا آجائے جس بے دردی سے ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام کے خون پسینے کا پیسہ لوٹا ہے ایسا تو شائد کوئ دشمن ملک بھی قابض ہونے کے بعد نا لوٹتا ہو
لیکن ہماری بے حسی دیکھئے ہمیں آج بھی لوگ ان دونوں جماعتوں کے پیچھے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں
یقین کریں یہ ہمارے ملک کا المیہ بن گیا ہے اب کوئ بندہ بھی سرکار کی چھوٹی سی ملازمت کرتا ہے تو وہ کہیں نا کہیں سے کرپشن ضرور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہم لوگ جب یہ عام ملازم جو تھوڑی بہت کرپشن کرکے پیسے والا بنتا ہے تو اسی کے پیچھے ہاتھ باندہ کے کھڑے ہونے کو فخر سمجھتے ہیں
ہمارے پاس ایک عام میٹر ریڈر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنالیتا ہے اور ہم اس کی تعریف کے پل بادھتے نہیں تھکتے اس کی محنت کے گیت گاتے ہیں آخر کہاں گئ ہماری اخلاقیات ؟
اس لئے سب سے پہلے تو ہم سب کو عام پاکستانیوں کو عہد کرنا چاہیے کہ جو بندہ اس ملک کا ایک روپیہ بھی لوٹے گا ہم کبھی اس کے پیچھے نہیں چلیں گے اس کی کوئ تعریف نہیں کریں گے بلکہ ایسے کرپٹ لوگوں کے خلاف ہم اپنا فرض سمجھ کر ہر موقعے پر آواز اٹھائیں گے
کرپٹ عناصر سے سوشل بائیکاٹ کریں گے ،یہاں تک کہ ایسے لوگ کرپشن کو خود کوئ بڑا جرم نا سمجھ لیں اور کرپشن کی گئ رقم قومی خزانے میں واپس نا کروادیں
کرپشن کے خلاف جہاد صرف وزیراعظم عمران خان صاحب کا ہی فرض نہیں بلکہ ہم سب پاکستانیوں کا یہ فرض بنتا ہے اس برائ کے خلاف علم جہاد بلند کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے ہماری آنے والی نسلوں کو ایک ترقی یافتہ خوشحال کرپشن سے پاک پاکستان ملے اور دنیا میں پاکستان کی عزت میں مزید اضافہ ہو
اللہ پاک پاکستان پر اپنا خصوصی کرم فرمائیں اور ہم سب کو کرپشن کے خلاف آواز حق بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین -

قدیم نظام تعلیم تحریر: محمد معوّذ
جہاں تک ہمارے پرانے نظام تعلیم کا تعلق ہے وہ آج سے صدیوں پہلے کی بنیادوں پر قائم ہے، جس وقت یہاں انگریزی حکومت آئی اور وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے۔ اس وقت جو نظام تعلیم ہمارے ملک میں رائج تھا وہ ہماری اس وقت کی ضروریات کے لیے کافی تھا۔ اس نظام تعلیم میں وہ ساری چیزیں پڑھائی جاتی تھیں جو اس وقت کے نظام مملکت کو چلانے کے لیے درکار تھیں۔ اس میں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں تھی بلکہ اس میں فلسفہ بھی تھا، اس میں منطق بھی تھی، اس میں ریاضی بھی تھی۔ اس میں ادب بھی تھا اور دوسری چیزیں بھی تھیں ۔ اس زمانے کی سول سروس کے لیے جس طرح کے علوم درکار تھے، وہ سب طلبہ کو پڑھائے جاتے تھے ۔ لیکن جب وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے تو اس پورے نظام تعلیم کی افادیت ختم ہوگئی۔ اس نظام تعلیم سے نکلے ہوئے لوگوں کے لیے نئے دور کی مملکت میں کوئی جگہ نہ رہی ۔ جس قسم کے علوم اد دوسری مملکت کو درکار تھے وہ اس کے اندر شامل نہیں تھے اور جو علوم اس میں شامل تھے ان کے جاننے والوں کی اس دوسری مملکت کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم چوں کہ اس کے اندر ہماری صدیوں کی قومی میراث موجود تھی اور ہماری مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا (اگرچہ کافی نہ تھا) اس لیے اس زمانے میں ہماری قوم کے اچھے خاصے بڑے عنصر نے محسوس کیا کہ اس نظام کو جس طرح بھی ہوسکے قائم رکھا جائے تا کہ ہم اپنی آبائی میراث سے بالکل منقطع نہ ہو جائیں۔
اسی غرض کے لیے انھوں نے اسے جوں کا توں قائم رکھا لیکن جتنے جتنے حالات بدلتے گئے اتنی ہی زیادہ اس کی افادیت گھٹتی چلی گئی کیوں کہ اس نظام تعلیم کے تحت جو لوگ تعلیم پاکر نکلے انھیں وقت کی زندگی اور اس کے مسائل سے کوئی مناسبت ہی نہ رہی۔ اب جو لوگ اس نظام تعلیم کے تحت پڑھ رہے ہیں اور اس سے تربیت پا کرن کل رہے ہیں ان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں یا کچھ مدرسے کھول لیں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں تا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس طرح ان کی ذات سے اگر کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہمیں پہنچتا ہے۔ یعنی ان کی بدولت ہمارے اندر قرآن و دین کا کچھ نہ کچھ علم پھیلتا ہے، دین کے متعلق کچھ نہ کچھ واقفیت لوگوں کو حاصل ہوجاتی ہے اور ہماری مذہبی زندگی میں کچھ نہ کچھ حرارت باقی رہ جاتی ہے لیکن اس کے فائدے کے مقابلے میں جو نقصان ہمیں پہنچ رہا ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی کر سکتے ہیں، نہ موجودہ زندگی کے مسائل پر اسلام کے اصولوں کو منطبق کر سکتے ہیں، نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ دینی اصولوں پر قوم کی راہنمائی کر سکیں اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹی اس میں کچھ ککیمی ہورہی ہے، دین کی جیسی نمائندگی آج ان کے ذریعہ سے ہورہی ہے، اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں دین سے روز بروز بعد بڑھتا جارہا ہے اور دین کے وقار میں کمی آرہی ہے۔ پھر ان کی بدولت ہمارے ہاں مذہبی جھگڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا، کیوں کہ ان کی ضروریات زندگی انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان جھگڑوں کو تازہ رکھیں اور بڑھاتے رہیں۔ یہ جھگڑے نہ ہوں تو قوم کو سرے سے ان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
یہ ہے ہمارے پرانے نظام تعلیم کی پوزیشن اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ کہہ دوں کہ حقیقت میں وہ دینی تعلیم بہت کم ہے۔ دراصل وہ اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگایا گیا تھا کہ اس زمانے میں اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی اور اسے نافذ کرنے والے کے لیے فقہ اور اس کی بنیادوں کا جاننا ضروری تھا۔ آج ہم غنیمت سمجھ کر اسی کو اپنی دینی تعلیم سمجھتے ہیں-لیکن حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے، کوئی عربی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس کے نصابِ تعلیم میں پورا قرآن مجید داخل ہو۔ صرف ایک یا دو سورتیں (سورہ بقرہ یا سورہ آل عمران) باقاعدہ درساً درساً پڑھائی جاتی ہیں۔ باقی سارا قرآن اگر کہیں شامل درس ہے بھی تو صرف اس کا ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مطالع قرآن کسی مدرسے کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ یہی صورت حال حدیث کی ہے۔ اس کی باقاعدہ تعلیم جیسی کہ ہونی چاہیے، جیسی کہ محدث بننے کے لیے درکار ہے کہیں نہیں دی جاتی ۔ درس حدیث کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ جب فقہی اور اعتقادی جھگڑوں سے متعلق کوئی حدیث آجاتی ہے تو اس پر دو دو تین تین دن صرف کر دیے جاتے ہیں۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو دین کی حقیقت کو سمجھاتی ہیں، یا جن میں اسلام کا معاشی ، سیاسی ، دینی اور اخلاقی نظام بیان کیا گیا ہے، جن میں دستور مملکت یا نظام عدالت یا بین الاقوامی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ ان پر سے استاد اور شاگرد دونوں اس طرح رواں دواں گزر جاتے ہیں کہ گویا ان میں کوئی بات قابل توجہ ہے ہی نہیں ۔ حدیث اور قرآن کی بنسبت ان کی توجہ فقہ کی طرف زیادہ ہے،…………….. لیکن اس میں زیادہ تر ،بلکہ تمام تر جزئیات فقہ کی تفصیلات ہی توجہات کا مرکز رہتی ہیں۔ فقہ کی تاریخ، اس کے تدریجی ارتقاء، اس کے مختلف اسکولوں کی امتیازی خصوصیات، ان اسکولوں کے متفق علیہ اور مختلف فیہ اصول اور ائمہ مجتہدین کے طریق استنباط، جن کے جانے بغیر کوئی حقیقت میں فقہی نہیں بن سکتا، ان کے درس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ان چیزوں پر شاگرد تو درکنار استاد بھی نگاہ نہیں رکھتے۔
اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لیے بھی سخت ناکافی ہے ۔ جن کی خاطر اسے باقی رکھا گیا تھا۔ رہیں دنیوی ضروریات تو ان سے تو اس کو سرے سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔
@muhammadmoawaz_
-

وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی
وزیراعظم کی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد یہ بائیس سال کہنا تو بہت آسان ہے مگر گزارنا قدرے مختلف وزیراعظم نے بارہا کہا صرف مقامی خبروں کے چینلز پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں کے چینلز پر بھی متعدد بار یہی کہا کے افغانستان کا حل جنگ نہیں بات چیت ہے. اس مؤقف کو ہر جگہ اجاگر کیا گیا یہاں تک وزیراعظم کو طالبان خان کہا جانے لگا اس کی وجہ کے وزیراعظم نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی اور کہا افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت ہی میں ہے.
امریکہ کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس نے تاریخ سے کبھی نہیں سیکھا ویت نام ہو عراق ہو ایران کویت ہو یا افغانستان ہر جگہ گھسے جنگ کی اور بلا آخر کچھ بھی حاصل نا ہؤا اور واپس گئے اور آج ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو چکا ہے جب روس یو ایس ایس آر تھا تب بھی افغانستان میں امریکہ گیا اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نا ہؤا.
آج زرا نئے امریکی صدر جوبائیڈن پر نظر ڈالیں تو وہ بھی یہی کہتا نظر آئے گا کے جنگ مسائل کا حل نہیں اور امریکی صدر نے یہ بھی کہا کے میں اب نئے آنے والے صدر پر ایک بار پھر افغانستان کا مسئلہ نہیں ڈالنا چاہتا میرے ملک کی افواج نے وہاں جانیں دیں اور مزید کیوں جانیں دے جب افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی اور فوج بجائے لڑنے کے بھاگ گئی اگرچہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر حالات اب کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں کے امریکہ اس بار واقعی سنجیدہ ہے اور افغانستان سے واپس جا رہا ہے.
جو ملک سب سے زیادہ تباہ ہؤا وہ پاکستان ہے کیونکہ اس نے دہشتگردی کا سامنا کیا ٹی ٹی پی اور جیسی کئی دہشتگرد تنظیموں نے پاکستان پر حملے کئے اب یہاں کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کے اب طالبان آگئے پھر سے حالات خراب ہوں گے افغان طالبان نے پاکستان پر حملے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت نے مل کر وہاں ایسے دہشت گرد بنائے جس نے پاکستان پر حملے کئے اور اب افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کہا اور پاکستانی میڈیا پر کہا کے اب ہم افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم سب ممالک سے امن اور اچھے تعلقات کے حامی ہیں اس بیان سے سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا ہے کیونکہ اشرف غنی کے دور حکومت میں افغانستان بھارت کے زیر اثر تھا بھارت نے وہاں انویسٹمنٹ کی دراصل وہ بیٹھا ہی پاکستان کو کنٹرول اور سینڈوچ کرنے کے لئے تھا لیکن حکمت عملی اور قدرت کا کچھ ایسا کرنا ہؤا کے امریکہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھایا اور یوں افغانستان سے اب پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی جنگوں کا بھی اختتام ہوگا
کل وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جوان پر فائرنگ کی گئی اور ایک جوان شہید ہؤا اب بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کے شائد ابھی بھی افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں دراصل کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں پہلے ہی سے داخل ہوکر یہاں زندگی بسر کر رہے ہوں گے انھی کی کارستانی ہے.اب ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور ہے ہے اور اس میں خبروں کو انٹرنیٹ پر ایسے دکھایا جاتا ہے کے گویا وہ خبر درست ہو کچھ عرصے سے ہمارے سوشل میڈیا پر افغانستان سے متعلق باقاعدہ غلط خبروں کا سلسلہ شروع ہے کے لو جی طالبان آگئے اب پاکستان میں یہ ہوگا وہ ہوگا تو محترم قارئین اس بات کو بھی زیہن نشین کرلیں کے ایسی خبریں بھارت عناصر ہی پھیلائیں گے کیونکہ بھارت کو بہت نقصان ہؤا ہے اس کا پاکستان کو اکیلا کرنے اور پراکسی جنگ جاری رکھنے کا خواب الحمد لله چِکنا چُور ہوگیا ہے وہ غلط خبریں پھیلانے میں کسی بھی حد تک جائے گا مجھے امید ہے بلکہ یقین ہے کے اب افغانستان میں تبدیلی آئے گی ابھی جس وقت میں یہ کال م لکھ رہا ہوں تو کل یا کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم کی کابینہ کا اہم سیکورٹی اجلاس اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا اس ویڈیو میں باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی کے بھارت کا کتنا نقصان ہؤا ہے.
بھارتی وزیر خارجہ کل پرسوں دوحا قطر میں موجود تھے انھوں نے اپنے ہم قطری ہم منصب سے ملاقات کی اور افغانستان ڈسکس کیا اور مبصرین کے مطابق افغانستان میں تبدیلی اور بھارت کے پیچھے رہ جانے کتمے بعد بھارت دیگر راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے.
پاکستان کی معیشت کے امکانات روشن ہیں افغانستان میں امن آنے کو ہے اور وسطی ایشیائی ممالک ( براستہ افغانستان) ، میں اپنی تجارت کو فروغ دے گا ان شاء ﷲ پھلتا پھولتا پاکستان.
آمین.
Twitter id : @ M1Pak
-

کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟
چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔
@Being_Faani
-

ماں نے سلا دیا ہے تھپک کے لال کو تحریر محمد وقاص شریف
اعتزاز حسن نے اپنی ایک نظم میں ریاست کو ”ماں“کا درجہ دیکر ہر خاص و عام کو ایک امید کی کرن دلائی اور عوام میں یہ شعور جگایا کہ ریاست کا اصل کردار اپنے عوام کو ماں جیسی توجہ دینا ہوتا ہے،ایک ماں کا کردار ایسا مثالی کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ستر ماؤں جیسا پیار دینے والا قرار دیا ہے۔ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہ پاکستان کم اور مسائلستان زیادہ ہے۔”ایک ماں کا تصور لے کر ملک کا حکمران بننے والا خود بچہ بن جاتا“ الٹا ملک کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اُس بچے کو سہارا دے۔پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے اور ترقی یافتہ بننے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے۔یہاں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے،ملک کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔حق یہ بنتا ہے کہ اس ملک کی پالیسی میں غریب اور غربت پہلے نمبر پر ہو لیکن یہاں عوام پر پیسہ لگانے کا رجحان نہایت کم ہے۔ریاست مدینہ میں انڈر پاس، اوورہیڈبرج،فلائی اوور،میٹرو اونج ٹرین اور موٹر وے کا تصور تک نہیں۔نبی اکرمﷺ نے اپنی ساری توجہ لوگوں پر دی، اپنے اعلیٰ اخلا ق سے لوگوں کے دل جیتے۔مدد کیلئے آنے والے شخص کو پیسے نہیں دیئے کلہاڑا دیا اور بازار کی راہ دکھائی۔لوگوں پر سرمایہ کاری کی۔انتہائی محدود ذرائع کے باوجود وہ ریاست مدینہ قائم کردی جس کے خواب آج کے حکمران بھی دیکھ رہے ہیں۔ڈیڑھ سال ختم ہونے کو ہے،ریاست مدینہ کے علاوہ ہر وہ کام ہورہا ہے جس کی مخالفت 22سال تک کی جاتی رہی۔عمران خان کی یہ بدقسمتی ہے کہ جن امور کی وہ ساری زندگی مخالفت اور تنقید کرتے رہے،حالات ان سے وہ سارے کے سارے کام کروا رہے ہیں جس کی وجہ سے PTIکا ورکر،سپورٹر اور ووٹر شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتا ہے اور اُس کی اڑان اب جواب دیتی جارہی ہے۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو غریب کو اپنے مسائل کا حل درکار ہوتا ہے جو حکومت اسے روٹی، کپڑا،مکان،صحت، تعلیم کاتھوڑا سا بھی حصہ دے دے وہ حکومت عوامی ہوجاتی ہے۔بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا اور اس پر 10%بھی عمل درآمد نہ ہوسکا لیکن جتنا قلیل عمل ہوگیا اس نے بھٹو کو نہ صرف یہ عوامی لیڈر بنا دیا بلکہ وہ ساری زندگی کے لئے”امر“ ہوگئے۔آج بھی ان کا نام بیچا جارہا ہے اور شائد اگلے 20سال تک بھی بھٹو زندہ رہے گا۔وہ دن کسی بھی پاکستانی حکومت کے لئے کامیابی اور کامرانی کا پہلا د ن ہو گا جس دن عوام پر پیسہ لگانے کا عملی کام شروع ہوگا۔ چائنا نے اپنی قوم پر پیسہ لگایا،غربت ختم ہوگئی وہاں کے لوگوں نے اس عمل کاReturnدینا شروع کیا،عمل کا ردعمل سامنے آیا اور چائنا دنیا کا دوسرا بڑا کامیاب ملک بن گیا۔آج امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں کیونکہ اگلے دس سالوں تک امریکہ کی چودھراہٹ چین کے ہاتھوں ختم ہونے جارہی ہے۔یہ ساری کامیابی غربت کے خاتمے اور عوام پر سرمایہ کاری کی مرہوں منت تھی۔کیا پاکستان میں ایسا ممکن نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے کیونکہ پچھلی حکومتوں نے انفراسٹرکچر پر اتنا کام کردیا ہے کہ اب مزید پیچھے صرف عوام ہی رہ گئے ہیں،اگر اینٹ گارے سے حکومتیں کامیاب ہوتیں تو مسلم لیگ نواز کا حق بنتا تھا کہ انہیں اگلے 20سال بھی ملتے۔یہ ایک مثال ہے جو عمران حکومت کیلئے سبق ہونی چاہئے۔بدقسمتی سے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود حکومت میں سب کچھ ہے لیکن عوام نہیں۔تاریخ پہ تاریخ ڈالی جاری ہے اور مہلت پہ مہلت مانگی جارہی ہے لیکن یاد رہے دنیا کی تاریخ میں عوام اقتدار تو دے دیتے ہیں لیکن مہلت نہیں دیتے،کارکردگی نہ دکھانے والے ماضی کا قصہ بنا دیئے جاتے ہیں۔عمران خان کو بھی اقتدار دے دیا گیا ہے۔Deliverنہ کیا گیا تو مہلت ان کو بھی نہیں ملے گی کیونکہ عوام کو ریلیف درکار ہوتا ہے، حکومت چاہے نمرود کی ہی کیوں نہ ہو
@joinwsharif7 -

اصل مجرم کون؟ تحریر: احسان الحق
رواں ہفتے لاہور میں دو دلخراش اور انتہائی افسوس ناک واقعات پیش آئے. دونوں واقعات نے تمام پاکستانیوں کو غمگین کر دیا بالخصوص مینار پاکستان والے واقعے نے تو جہاں پاکستانیوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا وہیں کچھ اسلام اور پاکستان مخالف لوگوں نے بھی اس واقعے اور موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی. مینار پاکستان والے واقعے میں دونوں فریقین کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسرے رکشے والے واقعہ میں ایک بدقماش اور آوارہ لڑکوں کے جھنڈ کی سراسر غلطی تھی. ان دونوں واقعات سمیت ملک بھر میں پیش آنے والے تمام واقعات میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے والدین کی طرف سے اولاد کی تربیت کا فقدان.
ویسے تو ہر جرم کے ہر مرتکب شخص کی شرعی اور اخلاقی تربیت کا فقدان ہوتا ہے مگر ایسے تمام واقعات بالخصوص جن میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا حرکات کی جاتی ہیں ان میں لازمی طور پر تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے. صبح سے شام تک سخت گرمی اور سردی میں رزق حلال کما کر یا یکم سے 30 تک پورا مہنیہ کام کرکے اپنے بچوں کو کھانا کھلا دینا، اسے والدین اپنی ذمہ داری کی تکمیل مت سمجھیں. اپنی اولاد کو کھانا کھلانے اور جائز ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری تو ایک خاص عمر اور خاص حالت تک عائد ہوتی ہے مگر تربیت کے لئے تو والدین اور بچے کی ساری عمر ناکافی ہے اور لازمی ہے.
اسلام نے والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کے لئے پابند بناتے ہوئے وسیع اختیارات بھی دے رکھے ہیں. نماز کی پابندی اور شرعی تربیت کے لئے والدین کو اسلام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بچے کو سمجھاؤ، نہ سمجھے تو ڈانٹ ڈپٹ کرو، پھر نہ سمجھے تو ہاتھ اٹھا سکتے ہو اگر پھر بھی باز نہ آئے تو گھر سے نکال کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جائیداد سے عاق کرکے لاتعلقی کا اعلان کر سکتے ہو.ارشاد ربانی کے مطابق "بہترین عزت والا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو”، انسانیت کے حوالے سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کے مطابق
"تم میں سے بہترین مومن وہ ہے جس کے ہاتھ، کان اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو” اسی طرح ایک اور جگہ رسولﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
"بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے”. ان تمام احکامات کو جنسی ہراسگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات سمجھ آ جاتی ہے کہ برائی کی وجہ کیا ہے. جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوگا ان میں عورت پردے اور چادر کا خیال کرتے ہوئے باحیا ہو گی اور اسی طرح مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر چلے گا اور ہر عورت کو عزت دے گا. مسلمان اپنے قول و فعل سے کسی کو تکلیف پہنچانے سے باز رہیں گے.جرم کی سب سے بڑی وجہ والدین ہیں اور مجرمین سے زیادہ مجرم والدین ہیں. جو اپنی اولاد کی تربیت نہیں کرتے. اگر تمام والدین اسلامیات اور اخلاقیات کی روشنی میں اپنی اولاد کی تربیت کرنا شروع کر دیں تو معاشرے سے جرم مکمل طور پر ختم ہو جائے. خواتین کے متعلقہ تمام واقعات میں والدین کی تربیت کہیں نظر نہیں آتی. آج کل کے دور میں والدین اپنے بچوں کو وقت نہیں دیتے کیوں کو وہ تربیت کو اہم نہیں سمجھتے. اپنی اولاد کی شرعی اور اخلاقی تربیت کرنا والدین پر فرض ہے. بدقسمتی سے والدین اسلام سے دور ہیں، والدین کی اولاد کے متعلق ترجیحات اور اہداف نہ غیر ضروری ہیں بلکہ بعض اوقات اسلام اور اخلاقیات کے بھی متصادم ہوتے ہیں. بہت سارے والدین اپنی اولاد کے لئے گلوکاری، اداکاری، سوشل میڈیا پر فالورز اور ریٹنگ لینے کے لئے محنت اور دعا کرتے نظر آتے ہیں.
مینار پاکستان واقعہ، نور مقدم واقعہ، اسلام آباد عثمان مرزا واقعہ، یہ ایسے واقعات ہیں جن میں دونوں فریقین اور ان کے والدین برابر کے مجرم ہیں. والدین کی تربیت میں ناکامی یا عدم دلچسپی پاکستان اور اسلام کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے. نور مقدم کے والدین اور قاتل ظاہر جعفر کے والدین نے نہ صرف اپنی اولادوں کی تربیت کرنے میں ناکام رہے بلکہ ان کے درمیان ناجائز تعلقات پر بھی راضی رہے. اسی طرح مینار پاکستان والے معاملے میں لڑکی عائشہ کے والدین بخوبی جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کیا کر رہی ہے اور ریمبو کون ہے اور ان دونوں کے درمیان کیا تعلقات ہیں.
والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی شرعی اور اخلاقی تربیت کریں. اگر ان کی اولاد میں سے کوئی بھی غلطی کرے اسکو سزا دیں، پولیس اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بیٹے، بیٹی یا بہن بھائی کو قانون کے حوالے کریں. اچھی تربیت کے بعد صرف سزا ہی ہے جس کے ذریعے معاشرے کو سدھارا جا سکتا ہے.
اولاد کی اچھی تربیت کئیے بغیر اور مجرم کو قرار واقعی سزا دئیے بغیر جرم کو ختم کرنا تو دور کی بات، کم بھی نہیں کیا جا سکتا. اچھی تربیت اور سزا کے ذریعے ہی جرم ختم کیا جا سکتا ہے.دوسرے نمبر پر ان جرائم کی ذمہ دار ریاست اور متعلقہ ادارے بھی ہیں. سزا جزا کا عمل ناپید ہو چکا ہے. اگر کوئی سنگین جرم میں اقبال جرم کر لے تو چند ہزار کے بدلے عدالت ضمانت پر رہا کر دیتی ہے. جس سے مجرم سزا اور قید سے بچ جاتا ہے. میں آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا مطلب کیا ہے. اسلام میں سزا اور جزا ہے، اسلام میں معافی بھی ہے اگر متاثرہ خاندان یا شخص اور لواحقین گناہ گار کو معاف کر دیں. سنگین مجرموں کو ضمانت پر بھی رہائی نہیں ملنی چاہیے. مجرم کو جیسا جرم ویسی سزا یقینی ملنی چاہیے.
ایسے غیر اخلاقی اور ناخوشگوار واقعات کی وجوہات میں سے تیسرا نمبر غیر اخلاقی اور غیرمعیاری ڈرامے اور فلمیں ہیں. جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا تب تقریباً سب صحیح تھا. معیاری، اخلاقی اور ثقافتی ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے. جس سے نئی نسل کی کردار سازی ہوتی تھی. اب واہیات، فحش اور بے ہودہ ڈراموں نے گھر اجاڑ دئیے، میاں بیوی کے درمیان طلاق کی شرح میں اضافہ کردیا. معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کو بڑھا دیا.
میرے خیال میں موجودہ حالات کی مخلوط نظام تعلیم بھی ایک وجہ ہے. غیر مردوں کے ساتھ غیر عورتیں اور غیر عورتوں کے ساتھ غیر مرد بیٹھ کر پڑھیں گے اور پڑھائیں گے تو معاشرہ سدھرنے اور سنورنے کی بجائے مزید بگاڑ کا شکار ہوگا.لب لباب یہ ہے کہ معاشرے کو سنوارنے کے لئے تربیت کے حوالے سے والدین پر اولین اور سب سے اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے. اس کے بعد ریاست اور اداروں کو ذمہ داری نبھاتے ہوئے سزا و جزا کو یقین بنانا ہوگا اور نظام تعلیم میں تبدیلی لاتے ہوئے تعلیم کو اخلاقیات اور شریعت کے عین مطابق بنانا ہوگا.
@mian_ihsaan
-

اکیسویں صدی اور پاکستان کے چیلنجز تحریر: زاہد کبدانی
پاکستان کی سابقہ حکومتوں کی جانب سے سخت الفاظ اور اعلانات کے باوجود ، موجودہ صدی کے چیلنجوں کو قبول کرنے میں افسوسناک نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ صورتحال نے بدترین کوانٹم لیپ لیا ہے۔ دوسری طرف بنی نوع انسان کی ریکارڈ شدہ تاریخ میں پیش رفت کے نقطہ نظر میں انتہائی دلچسپ وقت ہے۔ دنیا کے تمام ممالک زندگی کے تقریبا تمام شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ یہ ممالک اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی دنیا بن چکی ہے۔ طاقت کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کا پرانا تصور پچھلی صدی کی آخری دہائی میں سوویت یونین کے ٹوٹنے سے مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ بہت سے ممالک کی ترقی کی رفتار قابل ذکر ہے۔ چین کو پاکستان کے دو سال بعد آزادی ملی لیکن اس نے اپنی ترقی کی رفتار کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ آج چین میو کے بعد دنیا کی دوسری تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کا درجہ حاصل کر رہا ہے ، چین نے 1977 اور 1987 کے درمیان اپنی فی کس آمدنی کو دوگنا کرنے میں ایک ہمہ گیر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ صرف $ 3.0 کھرب سے کم ہے جو امریکہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر کوئی 1995 کے رینڈ سٹڈی کے تخمینوں کو قبول کر لے تو چین 2010 تک 11.3 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ چین کئی ممالک کی منڈیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کی تجارتی صلاحیتوں نے زرمبادلہ کے بڑے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب چین ایسی کار بنانے میں داخل ہوچکا ہے جسے نئی صدی کے چیلنجنگ ماحول سے نمٹنے کے لیے بہت اچھی طرح سے تیار ملک سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اگر چین سود کی شرحوں میں کم ایکسچینج رسک پریمیم کا حصہ نہیں ہے اور اس نے سرمایہ کاری کے مطالبات میں اضافہ کیا ہے۔ ایک ہی کرنسی کی بازگشت پوری دنیا میں فری ٹریڈ زونز کے ساتھ پھیل گئی۔ یورو کی اس شاندار کامیابی کی وجہ سے ، بہت سے ممالک نے حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے بھی اپنی گیند کو اسی سمت میں گھمانا شروع کیا۔ ہالینڈ میں ڈچ لوگوں نے مویشیوں کے لیے ایسی خوراک ایجاد کی ہے جو مویشیوں کو بہت تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہالینڈ کے لیے مویشی بہت اہم ہے کیونکہ یہ بہترین معیار کے دودھ ، مکھن اور گوشت کی برآمد میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے۔ اس سے ہالینڈ کے لیے بڑی مقدار میں زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ ڈچ لوگوں نے ایک خاص ٹیلی ویژن پر بھی کامیابی سے کام کیا ہے جو کمپیوٹر کی تمام سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ڈچ لوگ موجودہ صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت اچھی طرح تیار ہیں۔
پاکستان میں عالمگیریت کے مسائل
دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ فاصلے قابل تعریف حد تک کم کیے گئے ہیں۔ امریکہ میں لوگوں نے ایک نئی مشق شروع کی ہے۔ اعلیٰ حکام دفاتر نہیں جاتے۔
وہ اپنے زیادہ تر سرکاری معاملات کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ان کے قیمتی اوقات کو بچانے میں ان کی بہت مدد کرتا ہے جسے وہ سفر میں ضائع کرتے۔کوریا ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور ویت نام جیسے ممالک بہت محنت کر رہے ہیں۔ اس محنت نے انہیں موجودہ ہزار سالہ چیلنجوں کا انتہائی باوقار طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ ان ملکوں نے اس حد تک ترقی کی ہے کہ پاکستان کے لیے اپنے موقف کو جوڑنا دور کی بات بن گیا ہے۔ کوریا نے کاروں اور دیگر گاڑیوں کے برآمد کنندگان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ 1960 میں ملائیشیا کی معیشت بہت خراب تھی لیکن محنت کے ذریعے انہوں نے اپنی معیشت کو کافی حد تک مضبوط کیا ہے۔ ملائی ٹیلی ویژن اور دیگر الیکٹرانک آلات نے واقعی بہت سے ممالک کی مارکیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان ممالک نے اپنی مناسب معاشی حکمت عملیوں ، اچھی تعلیمی پالیسیوں ، حب الوطنی کے جذبے اور بہترین خارجہ پالیسیوں کے ذریعے استحکام کی یہ پوزیشن حاصل کی ہے۔
شرح ترقی۔
نئی صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ترقی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں بھی بہت زیادہ ہے۔ ہندوستانی عوام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں واقعی حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ہندوستانی سافٹ وئیر انجینئرز نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس میدان میں غیر معمولی اختراعات کی ہیں۔ بھارتی حکومت نے اپنے لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے مدراس میں سلیکن ویلی قائم کی ہے۔ سافٹ ویئر پروگراموں کی برآمد کے ذریعے ہندوستان بہت زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے جس نے ہندوستان میں معاشی بدحالی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی معیشت بہت مضبوط ہو چکی ہے۔ ملک میں خواتین کے روزگار کے تناسب سے بھی ہندوستان کو فائدہ ہوا ہے۔ خواتین بھی تقریبا تمام پیشوں میں مردوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
ملک کی قیادت میں مسلسل تبدیلی تمام شعبوں میں ترقی کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوئی۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں نواز شریف کی حکومت نے ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے۔ انہوں نے مواصلات کے ذرائع کو بہتر بنانے کے لیے ڈائیو کمپنی کے ساتھ مل کر موٹروے پراجیکٹ قائم کیا۔ انہوں نے نارووال کے لوگوں کو ایک نئے ٹیلی فون ایکسچینج کی سہولت بھی دی انہوں نے "ییلو ٹیکسی” کی شکل میں سیلف ایمپلائمنٹ سکیم متعارف کرانے کی کوشش کی جس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ٹیکسی کاریں بہت آسان اور سستی اقساط پر فراہم کی گئیں۔ اس کا مقصد ملک میں روزگار کے تناسب کو بڑھانا تھا لیکن یہ اسکیم بھی ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ ان کی پارٹی کے کئی اراکین نے اس اسکیم کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔@Z_Kubdani