Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میرے آنسو تحریر سیدہ بنت زینب

    میرے آنسو تحریر سیدہ بنت زینب

    کیا آپ کبھی کمزور ہوئے ہیں یا کسی چیز کے لیے نااہل محسوس کیے ہیں؟ کیا کسی چیز نے اتنا لاچار محسوس کروایا ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے یا صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اتنا درد محسوس کیا ہے جہاں ایسا لگتا ہے کہ اس نے آپ کے جسم کو غیر متحرک کردیا ہے؟ کیا آپ نے خود کو کبھی اتنا افسردہ محسوس کیا ہے کہ آپ واقعی نہیں جانتے کہ افسردگی کا ذریعہ کہاں سے آرہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو میرے ذہن میں آتے ہیں جب میں ہر اس آنسو کے بارے میں سوچتی ہوں جو کبھی میرے چہرے پر پلکوں سے بہہ کر آ گرتا ہے. میں حیران ہوں کہ کتنے آنسو اصل میں میرے چہرے کو مار رہے ہیں، کتنے اصل میں میری جلد میں اب تک جذب کر گئے ہیں. مجھے حیرت ہے کہ کیا لوگ ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتی ہوں یا وہ کبھی کبھی ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا میں محسوس کرتی ہوں. بہت سے الفاظ اکثر اپنے مفہوم کو کھو دیتے ہیں. میرے لیے ایک آنسو اب آنسو نہیں رہا. میری لیے آنسو ہر اس اذیت کا مجموعہ بن گیا ہے جس سے اس وقت میں گزر رہی ہوں، جیسے اپنے نفس کی جنگ میں میں مبتلا ہوں اور کوئی میرے ساتھ نہیں ہے. میں کسی کو بتا نہیں سکتی کہ میں کس قدر کمزور پڑ رہی ہوں، اپنوں کو پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں بول سکتی کہ مجھے ضرورت ہے آپ کی.
    ایک آنسو ہر اس چیز کی عکاسی کرتا ہے جو میں محسوس کرتی ہوں. کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ میں کیوں روتا ہوں یا لوگ عام طور پر کیوں روتے ہیں؟ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر میں نے کبھی آنسو نہیں بہایا تو پھر کبھی بھی مجھے تکلیف نہیں ملے گی. میں اس پر یقین کرتی ہوں کیونکہ جب بھی میں روتی ہوں تو یہ آنسو یادوں کو واپس لاتا ہے، زیادہ تر خوبصورت یادوں اور باتوں کو جنہیں میں بھلا دینا چاہتی ہوں، اور احساسات کو زیادہ تر وہی احساس جو ہمیں کمزور ترین انسان بنا رہے ہیں.
    میں کہتی ہوں کہ ایک آنسو ان مسائل کو بیان کرتا ہے یا لاتا ہے جن میں میں ہوں، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ جب وہ چھپے ہوئے آنسو بہتے ہیں تو وہ بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں، اور وہ میری برداشت سے بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں.
    میرے آنسو چھپے ہوئے ہیں. وہ آج سے پوشیدہ ہیں. وہ دنیا سے پوشیدہ ہیں. وہ چھپے ہوئے ہیں کیونکہ میرا درد جو آنسوؤں کے ساتھ آتا ہے وہ بھی پوشیدہ ہے. آنسو مجھے نااہل محسوس کرواتے ہیں. وہ مجھے بے اختیار اور کمزور بنا دیتے ہیں. آنسو وہ واحد طاقت چھین لیتے ہیں جس میں میں اکٹھا ہو سکتی ہوں یاں مضبوط بن سکتی ہوں. آنسو ایک کمزور شخص کی خصوصیت کہلاتے ہیں اور میں ایمانداری سے اس بات کو واقعی سچ مانتی ہوں، تاہم میں سمجھتی ہوں کہ یہ سوچنا احمقانہ ہے.
    اب سے میں نے خود کو بدلنے کا عہد کیا ہے. اب میری سوچ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آنسو نہیں بہانے چاہیئے کیونکہ کوئی ہمارے آنسو پونچھنے نہیں آئے گا. کسی کو فرق نہیں پڑتا آپ سے. آپکی زندگی کے 80 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں آپ کے آنسوؤں سے کوئی سروکار نہیں اور باقی کے 20 فیصد لوگ خوش ہوں گے کہ آپ تکلیف میں ہیں. تو ہمیں اپنی ذات کو خود مضبوط بنانا ہو گا. جب انسان کے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تو اسکے ساتھ اسکا رب ہوتا ہے اور وہ پاک ذات تو شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ آپکے ہر دکھ ہر آنسو ہر تکلیف کو جانتا ہے اور وہی آپکو آپکی سوچ سے بہترین نوازے گا. بس صبر کریں اور یقین رکھیں 🙂

    @BinteZainab33

  • اللہ جسے ہدایت دے  تحریر: نصرت پروین

    اللہ جسے ہدایت دے تحریر: نصرت پروین

    ویسے تو یہ دنیا انسان کی بہت سی مادی ضرورتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن سب سے اہم ترین ضرورت جس میں دنیا آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے وہ ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد رہنمائی کرنا، سیدھا رستہ دکھانا، نفع مندی کا راستہ، انبیا کا راستہ جس کی منزل جنت ہے۔ وہ راستہ جس پر اللہ نے اپنے تمام انعام یافتہ بندوں کو چلایا۔ وہ سب اللہ کی نظر میں محبوب تھے۔ اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں ہدایت سے نوازا۔ ان میں سارے انبیا حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، اور بھی سارے انبیا شامل ہیں وہ بھی جن کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا۔ وہ سب کے سب اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں کوششیں کی، دکھ رنج اور تکلیفیں سہی، انہوں نے ہجرتیں کی، اپنا گھر بار سب الل کے لئے لگا دیا، انہیں اپنے علاقوں میں نہیں رہنے دیا انہوں نے ہدایت کے سفر میں تمام تکلیفیں صبر اور اللہ کی مدد سے برداشت کی اور پھر اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں استقامت دی انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ یقیناً ان سب کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ کرتے، نہ ہم نمازیں پڑھتے۔ بےشک وہ اللہ ہی اول و آخر ہے۔ اس کی طرف سے ہم آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ ہی تو ہے جس نے زندگی جیسی دولت بخشی، وہی تو ہر چیز کا اصل اور ہمیشگی والا ہے۔ باقی سب تو فنا ہے۔ ہدایت بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔ انسان کے ذمے کوشش کرنا ہے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
    ترجمہ: انہیں ہدایت پر لاکھڑا کرنا تیرے ذمّہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالٰی دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ سورۃ البقرہ:272
    اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
    ترجمہ: گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کردے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔
    سورۃ النحل:37
    اللہ کے تمام انعام یافتہ، ہدایت یافتہ بندوں نے بھی ایک ہدایت یافتہ سوسائٹی کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے کبھی انفرادی طور پر زندگی بسر نہیں کی ہمیشہ انسانیت کی اصلاح کے لئے کوشش کی لیکن اللہ نے جسے چاہا ہدایت دی جسے چاہا گمراہ کردیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی ہدایت کے لئے بہت کوشش کی۔ ابو طالب کا آخری وقت تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ رہے تھے آپ کلمہ پڑھ لیں میں اللہ سے آپ کی سفارش کروں گا لیکن اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے اپنے باپ دادا کا دین۔ تو ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا اور اپنے اسی دین پر رہے حتی کہ دنیا سے چلے گئے۔ اسی حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی ازواج وہ کافر ہی رہی۔ حالانکہ نبی کی ازواج تھیں۔ اس طرح اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی۔ حالانکہ نبیوں نے ان کے لئے کوششیں کی لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انہیں بھی ہدایت دی جو لوگ گمراہ تھے۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ ہدایت دو چیزوں سے ملتی ہے۔
    1۔ قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے سے
    2۔ اور ہھر اس پر قائم رہنے سے
    یہ ہی ہدایت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہوا۔
    امام ابو تیمیہ رقمطراز ہیں:
    1۔ ‏جب انسان پروردگار کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے اور اس سے دعا کرتا رہے اور اس کے ساتھ ساتھ کلام اللّٰہ، احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مسلسل مطالعہ کرتا رہے تو اس کے لیے ہدایت کا راستا کھل جائے گا۔
    2۔ سچا مسلمان جب الله تعالی كی عبادت اس كی شریعت كے مطابق كرتا ہے تو الله تعالی جلد ہی اس پر ہدایت كے انوار كھول دیتا ہے۔3۔ اسلام میں صحابہ کرام ہر ایک علم ، نیکی، ہدایت اور رحمت کی اصل بنیاد ہیں۔
    4۔ ہدايت كا راستہ علم كے بغير نہيں مل سكتا اور اس پر ثابت قدمى صبر كے بغير ممكن نہيں۔
    ‏امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    کسی دوسرے کو راہ دکھلانا,علم کی بات بتانا,خیرخواہی کرنا,خود پرہدایت کادروازہ کھولنا ھے۔کیونکہ جزاء ھمیشہ عمل کے مطابق ھوتی ھے۔پس جو کسی دوسرے کو علم اور ہدایت کی راہ دکھلاتا ھےالله اسے علم اور ہدایت سے نوازتا ھے_
    رسالته الى أحد اخوانه ١٠
    انسان کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی طور پر ہدایت کے لئے کوشش کرے۔ دین کا علم حاصل کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کے لئے مدد مانگے۔ خود ثابت قدم رہنا اور پھر دوسروں لے لئے کوشش کرنا بہت اہم اور لازمی ذمہ داری ہے جو ترک نہیں کی جا سکتی۔
    اور جب انسان کوشش کرتا ہے تو اللہ ہدایت دیتا ہے، اللہ دل بدل دیتا ہے، گمراہ لوگ بھی بدل جاتے ہیں، آپ دیکھیں انبیا کے دور میں کیسے انقلاب آیا تھا۔ کیسے لوگوں نے اللہ کی مدد سے ہدایت کا سفر چنا۔ آپ بھی کوشش کریں اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔
    لیکن اگر انسان کوشش ہی نہ کرے اللہ کا دین ہی نہ سیکھے اور کہے کہ میرے نصیب میں گمراہی لکھ دی گئی ہے تو یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
    آیا تھا کیا کرنے اور کیا کر گیا؟
    دیکھیں سب نگہبان ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اللہ کے دین کو چھوڑ کر اگر آپ نگہبانی کریں گے تو کیا فلاح پائیں گے۔ میں ایسی ماؤں کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کی خوب نگہبانی کی انہیں خوب وقت دیا لیکن انہیں دین نہیں سکھایا یقین کریں میں نے ان بچوں کو بے راہ روی کی راہوں میں پایا۔ تو اللہ کے دین کا علم حاصل کرنا اس پر عمل کرنا یہ ہی ہدایت ہے اور اسے آگے پہنچانے کے لئے کوشاں رہنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ تو آئیے ذمہ داری کو خوب پورا کیجیے اور فلاح پائیے۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
    یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے۔
    جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • سیاحت اور پاکستان تحریر : نعمان سرور

    سیاحت اور پاکستان تحریر : نعمان سرور

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو خوبصورت ترین ہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو ہر طرح کے موسم اور علاقوں سے نوازا ہے،
    اسی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کی کئی بڑی ویب سائٹس نے پاکستان کو سیاحت کے حوالے سے اگلا بڑا ملک قرار دیا ہے،پاکستان میں ہر طرح کے علاقے پائے جاتے ہیں صحرا ہوں، سمندر ہو،دنیا کی بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیاں ہوں اللہ تعالی نے ہمارے ملک کو سب کچھ عطا کیا۔
    پاکستان مذہبی سیاحت کا بھی مرکز بن چکا ہے جس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے سکھ مذہب کے کئی اہم مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن میں سے ایک پر وزیراعظم عمران خان نے ایک سیاحتی اور مذہبی ہم آہنگی کا کاریڈور بنایا جسے کارتارپور کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی سے جانا گیا۔
    ہندو مذہب کی بات کی جائے تو چکوال میں کٹاس راج ہندو مذہب کے ماننے والے لوگوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
    بدھ مت کی بات کی جائے تو ٹیکسلہ کے آثار قدیمہ یہاں پر موجود ہیں،جو ڈھائی ہزار سال قبل کی تاریخ اپنے اندر سموئے بیٹھے ہیں کہا جاتا ہے کے مہابھارتہ کی نظم بھی سب سے پہلے اس علاقے میں پڑھی گئی تھی، یہ علاقہ ہندو اور بدھ مذہب دونوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔
    دین اسلام کی بات کی جائے تو ہمارے ملک میں کئی صوفی بزرگوں کے مزارات ہیں جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت سی ایسے مقامات ہیں جہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں۔
    پاکستان میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن کو دنیا کے آثار قدیمہ کا درجہ حاصل ہے اور کئی ایسے مقامات ہیں جو جلد اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔
    اگر پہاڑوں، قدرتی چشموں اور برف کے کھیلوں کی بات کی جائے تو دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کے پاکستان میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دنیا بھر کی سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے اور ہم اس شعبہ سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔
    دنیا کے کئی ممالک کی معشیت سیاحت پر چل رہی ہے امریکہ سیاحت سے 177 بلین ڈالر سالانہ کماتا ہے سپین 65 بلین ڈالر کماتا ہے تھائی لینڈ ہم سے 55 گنا چھوٹا ملک ہے 55 ارب ڈالر سیاحت سے کماتا ہے ترکی 20 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ ہم صرف 796 ملین ڈالر کما رہے ہیں اب حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کے 2025 تک ہم اس شعبہ میں اتنی اصلاحات کریں گے اور انفراسٹرکچر پر کام کریں گے کہ اس کو 6 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے جو انتہائی ضروری ہے۔
    سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہ راست لوگوں کا معیار زندگی بلند کر دیتا ہے اور اس سے کوئی بھی ملک باآسانی اپنے لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرسکتا ہے۔
    ہمارے ملک پاکستان میں قدرتی حسن کی کوئی کمی نہیں ہے ضرورت اصلاحات کی اور اقدامات کی ہے جن کو کرنے سے ہم اس شعبے کو مزید ترقی دے سکتے ہیں، جن میں کافی چیزیں ہونے والی ہیں سب سے پہلی چیز ہمارے قدرتی اور اہمیت کے حامل مقامات جو سیاحوں کو پاکستان لا سکتے ہیں ان کی دنیا بھر میں پرموشن ہے وہ سوشل میڈیا ہو یا دیگر ذرائع ابلاغ ان سب کے استعمال سے یہ ہوسکتا ہے دنیا بھر کی ائر لائنز میں چلنے والی وڈیوز ان کے ممالک کی سیاحت کے حوالے سے ہوتی ہیں ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ویب سائٹس بنا سکتے ہیں جن پر مکمل گائیڈ لائینز بھی موجود ہوں اور تمام گائیڈ لائنز ہر زبان میں دستیاب ہوں، اس میں ہر سہولت آ جاتی ہے ہوٹل کی بوکنگ، ریٹ، نقشہ ہر چیز وہاں دستیاب ہو اور یہ سرکاری سطح پر ہو تو زیادہ بہتر ہے اور اس کے علاوہ سیاحت کے محکمے کو اتنا پروفیشنل کیا جائے کے وہ سیاحوں کو پیش آنے والے واقعات پر ان کی مدد کرے۔
    دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے بڑی بڑی کانفرنسز ہوتی ہیں پاکستان میں اس طرز کی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے۔
    سیاحتی مقامات پر سہولتوں کو بہتر کیا جائے اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔
    نئے سیاحتی مقامات کو تلاش کیا جائے اور ان کو ترقی دی جائے تاکہ عوام کا رش ایک جگہ کے بجائے مختلف جگہوں پر تقسیم ہو جائے۔
    سیاحوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے۔
    دنیا بھر میں حکومتیں عوام کی چھٹیوں پر ان کو ہوٹلوں میں ڈسکاؤنٹ کی سہولیات دلواتی ہیں تاکہ سیاحت کا فروغ ہو۔
    سیاحت کے فروغ سے سب سے زیادہ مقامی لوگوں کو ہوتا ہے ان کے ہر طرح کے کاروبار چل پڑتے ہیں جس سے معاشی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو فائدہ دیتی ہے۔
    بہت سے سیاحتی مقامات پر اشیا بہت مہنگی دستیاب ہوتی ہیں اس طرح دیگر سہولیات جیسے کے ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بھی وہاں کے لوگ حد سے زیادہ لوٹ مار کرتے ہیں اس بات کو یقینی بنانا کے وہاں کسی سیاح سے زیادتی نہ ہو یہ حکومت کا کام ہے اس پر مزید کام ہونا چاہیے۔
    اس طرح بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن پر کام کرنے سے ہم اس شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں۔
    اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو: آمین

    ٹویٹر اکاؤنٹ
    @Nomysahir

  • خوشگوار زندگی گزارنے کے اصول تحریر خالد عمران خان

    خوشگوار زندگی گزارنے کے اصول تحریر خالد عمران خان


    دور حاضر ایک جدید ہے اور ہر شخص تیزی میں ہر شخص مصروف دکھائی دیتا ہے اور اس تیزی میں میں ہم اکثر اوقات اپنے آپ پر توجہ نہں دیتے یہ دے پاتے.ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کے ہم کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں؟؟
    اچھا اِسے ہم اس طرح دیکھ لیتے ہیں کے کیا آپ زیادہ تر صبح سست محسوس کرتے ہیں؟ کیا کیفین والے مشروبات دن بھر آپ کو طاقت میں مدد دینے کی ضرورت بن گئے ہیں؟ اگر یہ ایسا ہی ہے ، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپکو اپنی زندگی میں کچھ فوری اصلاحات کی ضرورت ہے. اگر آپ آنے جسم کے نظام کو چلانے کے لئے توانائی والے مشروب پر انحصار کرتے ہیں اسے ختم کریں ، اور اپنا قدرتی طریقے سے جسمانی طاقت لینے کا جامع پلان تیار کریں۔ ایسی تبدیلی ہمیشہ شروع کرنا مشکل لگتا ہے ، لیکن جلد ہی آپ خوش ، صحت مند اور زیادہ اچھے طرز زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے بعد آگے بڑھنے کے لئے تیار ہونگے.

    اپنی توانائی کو بڑھانے اور خوش ، صحت مند ، زیادہ پیداواری زندگی گزارنے کے لیے ان تجاویز پر عمل کریں:
    1. صحت مند کھانا کھائیں۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ صحت مند غذا صحت کے لیے اہم چیز ہے ، پھلوں اور سبزیوں کم چکنائی والی غذائیں اور دودھ اور سارا اناج جو آپ کو زیادہ سے زیادہ توانائی فراہم کرتے ہے اور ہمارے جسم کی ضرورت ہیں. مختلف قسم کے کھانے کھائیں تاکہ دن بھر آپ کو توانائی بخش سکے۔ تازہ پھل اور سبزیوں کا انتخاب کریں ، خاص طور پر غذائیت سے بھرپور سیاہ ، پتوں والی سبزیاں اور بروکولی ، نیز سبزیاں ، بشمول گاجر اور ۔ صحت مند پروٹین والی غذائیں مچھلیوں اور پھلوں والی غذائیں اپنی روزمرہ زندگی میں لازمی شامل کریں اور اپنے جسم کے کیے ضروری توانائی جو کے آپ سوفٹ ڈرنک سے لے رہے تھے قدرتی طور پر خوراک میں پائی جانے والی توانائی سے حاصل کریں.

    جسم میں توانائی کا توازن برقرار رکھنے میں کم سے کم 8 گھنٹے کی نیند لینا بہت اہمیت رکھتا ہے.
    زیادہ نیند لینا ایک صحت مند عادت ہوتی ہے۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں ہر رات کم از کم سات گھنٹے سونے کی ضرورت ہے؟اگر آپ اپنی نیند پوری نہں کرتے تو اس کے بارے میں سوچیں کہ آپ اپنی نیند کی سب سے بڑی رکاوٹ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اور نیند کی کمی صحت کے بہت نقصان دے ہے اور اس کے سنگین نتائج ہیں آپ کے مزاج کی خرابی صبح اٹھنے میں سستی کی ایک اہم وجہ اور یہ حوصلہ افزائی اور توانائی کی سطح پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ نیند کو ترجیح دینا ایک بہترین کام ہے جو آپ اپنے آپ کو ایک کامیاب ، توانائی بخش دن کے لیے ترتیب دے سکتے ہیں۔

    اچھے لوگو میں اٹھنا بیٹھنا رکھیں.ایسے لوگو کے ساتھ جو اچھائی پھیلاتے ہیں.
    زیادہ سے زیادہ وقت آپ ایسے لوگوں کے ساتھ گزاریں. جنہیں کے آس پاس رہنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا جو مثبت چیزوں اور باتوں کو پھیلاتے ہیں اور اسی طرح کی دلچسپیاں رکھتے ہیں آپ کو پرجوش اور متحرک کریں گے۔ دوسری طرف ایسے لوگو سے تعلق کم رکھیں جن لوگوں کا منفی نقطہ نظر ہے ، اکثر شکایت کرتے ہیں یا ناقص انتخاب کرتے ہیں وہ صرف آپ کی توانائی خراب کرتےہیں.

    باقاعدہ ورزش کریں چہل قدمی کریں۔ورزش تناؤ جسمانی اور ذہنی تناؤ کو دور کرتی ہے ، پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور برداشت کو بڑھاتی ہے ، جو آپ کے جسم کو دوسرے جسمانی کاموں یا سرگرمیوں کے دوران زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔
    زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں لا کر آپ اپنی زندگی کو بہتر اور خوشگوار انداز سے گزار سکتے ہیں.

    تحریر
    خالد عمران خان

    Twitter Handle
    ‎@KhalidImranK

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو ہم اپنے مسائل کا حل ادھر ادھر کیوں ڈھونڈتے ہیں؟
    اغیار نے وہ تمام چیزیں اپنا کر کامیابیوں کے زینے طے کر لئے،
    وہ چیزیں ہم نے اپنانے کے بجاۓ چھوڑ دیں اور خواب غفلت کا شکار ہو کر نہ ادھر کے رہے اور نہ ادہر کے
    بقول شاعر
    نہ خدا ہی ملا،نہ وصال صنم
    نہ ادھر کے ہوۓ نہ ادھر کے
    رہے دل میں ہمارے یہ رنج والم،
    نہ ادھر کے ہوۓ،نہ ادھرکے
    ہم نے دوسروں کی تقلید کی بھی تو غلط کاموں میں۔
    انہوں نے محنت،سچ اور ایمانداری کا راستہ اپنایا تو ہم بھٹکی روح کی طرح جھوٹ،مکرو فریب اور شارٹ کٹ کے پیچھے لگ کے ہر وہ کام کرنے لگے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔
    لوگ آج چین ،جاپان اور کوریا جیسے ملکوں کی ترقی کی بات کرتے ہیں۔
    وہ لوگ جس کام میں لگ جاتےہیں،
    اس کو پایہ تکمیل تک پہچا کر چھوڑتے ہیں۔انکا پر عزم ہونا ہی انکی کامیابی کی دلیل ہے۔
    ان کے ہاں جھوٹ موٹ کی بیماری کا بہانہ کر کے ڈیوٹی سے چھٹی کا تصور بھی نہیں،
    جبکہ ہمارے ہاں اکثریت ایسا کرتی ہے۔ہم سب ایسی بیماریوں کا شکار ہیں۔
    جو لوگ اپنے اپنے اداروں پر احسان کر کے دفاتر میں چلے جاتے ہیں۔
    اُن میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ڈیوٹی کے پورے اوقات کار میں کام کرتے ہیں۔
    میرے خیال میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
    آجکل ہم جس سنگین مسئلے سے دوچار ہیں،وہ خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی ہے،جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے۔
    کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگادی جاۓ،
    کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز پر ایسے تفریحی مقامات پر داخلے پر پابندی عائد کر دی جاۓ۔
    کوئ بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم سب اپنے اوپر ان ضابطوں کا اطلاق کر لیں ،جو ہمارے پیارے مذہب نے ہمارےلئے بناۓ ہیں۔
    ایسا کرنے سے سب مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
    سب کی عزت نفس بحال ہو سکتی ہے۔سب کو شرم وحیا کے پہروں تک رسائ ہو سکتی ہے۔
    کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
    ٹک ٹاک جیسی اپلی کیشن پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں۔
    ہمیں اپنے اندر چھپے ہوۓ شیطان پر پابندی لگانا ہو گی۔
    اس میں کوئ دو راۓ نہیں کہ
    ٹک ٹاک فحاشی پھیلانے کا زریعہ بن رہا ہے۔
    مگر اسکا انحصار بھی ہماری سوچ پر مبنی ہے۔
    ہر چیز کا مثبت اور منفی استعمال ہماری اپنی سوچ اور اپروچ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
    ہو سکتا ہو کہ یہی ٹک ٹاک کسی کے رزق کمانے کا زریعہ ہو اور وہ بھی گندگی کے عنصر کے بغیر۔
    جس طرح کچھ لوگ آجکل یو ٹیوب اور فیس بُک جیسی اپلی کیشنوں یا سوفٹ وئیرز سے کمائ کر رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ٹک ٹاک سے بھی اسی طرح کچھ لوگوں کی روزی روٹی منسوب ہو
    مگر یہ کہنے کے باوجود ،رزق کا معاملہ اپنی جگہ،
    کسی بھی اپلی کیشن کے زریعے عریانی اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔
    نہ ہم اور نہ ہمارا معاشرہ اسکا متحمل ہو سکتاہے۔
    اس سارے رولے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیا کا مسئلہ کچھ اور ہے۔
    انہیں نہ ہماری معاشرتی اقدار سے کوئ غرض ہے اور نہ ہی پاکستان کی بہتری سے۔
    بلکہ اگر یوں کہا جاۓ کہ اس
    بےراہ روی میں ٹک ٹاک سے زیادہ منفی کردار اسی موم بتی مافیا کا ہے تو قطعا” غلط نہ ہو گا۔
    یہ مٹھی بھر عناصر ہر وقت انتشار کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
    چونکہ انکی ڈوریاں کہیں اور سے ہلتی ہیں اور انکے ڈانڈے بھی کہیں اور جا ملتے ہیں۔
    اسلئے یہ ہمیشہ وہی کریں گے،
    جو انہیں اپنے آقاؤں سے کرنے کو کہا جاۓ گا اور جو کرنے کے انہیں ڈالرز ملتے ہیں۔
    مجھے جو تجویز مناسب لگتی ہے ،
    وہ یہ ہے کہ کچھ پارکس اور تفریحی مقامات کو صرف فیملیز یا خواتین کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    وہاں چھڑوں کو جانے کی اجازت نہ ہو۔
    ساتھ ہی ایسی جگہوں پر آنے والوں کے لئے قواعد وضوابط بنا دئیے جائیں کہ وہ ان جگہوں کے اندر ٹک ٹاک جیسا ٹھٹھا لگانے سے نہ صرف گریز کریں گے بلکہ ایسی جگہوں پر آنے کے لئے مناسب لباس کی بھی پابندی ہو گی۔
    اسی طرح کچھ جگہوں کو صرف مردوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    اس طرح ہر کسی کو تفریح بھی مل جاۓ گی اور مینار پاکستان جیسے واقعات بھی رونما نہیں ہوں گے۔
    گلف ممالک میں یہی فیملیز اور بیچلرز کے الگ الگ تفریحی مقامات کا فارمولہ کامیابی سے چل رہا ہے۔
    ہم جیسے ملکوں کا ایک اور بھی مسئلہ ہے،وہ ہے قانون کی عملداری کا نہ ہونا،
    یہاں قانون تو بن جاتے ہیں،مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔
    یہی مسئلہ سب برائیوں کی جڑ بھی ہے،
    رشوت اور سفارش سے سب ناجائز کام جائز ہو جاتے ہیں۔
    اب جس طرح یہ تجویز سامنے آرہی ہے کہ کچھ تفریحی مقامات کو صرف فیملیوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    اب اگر ایسا کر بھی دیا جاۓ تو اس بات کو کون یقینی بناۓ گا کہ ان مقامات پر کھڑے سیکورٹی اہلکار رشوت لیکر بیچلرز کو ان پارکس میں داخل نہیں کروائیں گے۔
    اسکو چیک کرنے کے لئے بھی کوئ میکانزم بنانا ہوگا۔
    ان سب تدابیر کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اجتماعی زمہ داری ہے کہ لوگوں کی زہن سازی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو اس بات کا شعور دیں کہ ہمارا مذہب ہمیں کس طرح کی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے ؟
    اگر ہم آج بھی اسلام کے بتاۓ ہوۓ قوانین اور ضابطوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو دنیا کی کوئ طاقت ہمیں ایک باشعور اور باوقار قوم بننے سے نہیں روک سکتی،
    اسی نظام میں ہماری بقا اور کامیابیاں پنہا ہیں#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ‏ماحولیاتی تبدیلی ہمیں تباہ کررہی ہے” تحریر:حسنین احمد

    ‏ماحولیاتی تبدیلی ہمیں تباہ کررہی ہے” تحریر:حسنین احمد

    دنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات میں ماحولیاتی تبدیلی بڑے خطرے کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی بڑے عرصے کیلئے زمین کے درجہ حرارت،ہواوں کے رخ،ہواوں کی رفتار میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی اس کرہ ارض کا خاصہ رہی ہے اور اس کی پیدائش سے لیکر اج تک یہاں بے شمار تبدیلیاں ائی ہیں لیکن اس کی رفتار نہایت سست رہی ہے تاہم 18ویں اور 19ویں صدی میں صنعتی انقلاب انے کے بعد عالمی درجہ حرارت میں تقریبا 30فیصد تک تبدیلی ائی ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے.جون میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ دنیا کا مجموعی درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری زیادہ ہوچکا ہے اگر یہ درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھ گیا تو اس کے خطرناک نتائج برامد ہونگے اور کم وبیش چالیس کروڑ افراد کو ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر دنیا کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو انے والی دہائیوں میں انسانوں سمیت دنیا پر رہنے والی مختلف مخلوقات کی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونگے۔
    اس وقت خلا میں گرین ہاوس گیسوں کا اخراج معمول سے بہت بڑھ گیا ہے جو گلوبل وارمنگ کا باعث بن رہا ہے جو دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث ہے۔دنیا کے درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہورہی ہیں اور دنیا کے بہت ساحلی شہر جیسا کہ شنگھائی،ہنوئی(ویت نام)،کولکتا،بنکاک وغیرہ 2050ء تک زیر اب آنے کا خطرہ ہیں۔ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو شدید سیلاب پہلے ایک صدی میں ایک بار اتے تھے کچھ شہروں میں ائندہ ہر سال انے لگیں گے۔اس کے علاوہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آبی ذخائر کم ہورہے ہیں جو انے والے سالوں میں خشک سالی کا باعث بنے گے۔
    ماحولیاتی تبدیلی مستقبل قریب میں تیسری دنیا کے ممالک کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہونگے جس سے وہ یہ خطرہ ٹال سکے۔ان تیسری دنیا کے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی جانب سےجاری کردہ عالمی ماحولیاتی اشاریے میں پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ملکوں میں کیا گیا ہے جو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر دس ممالک کے فہرست میں سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے جوکہ دو دہائیوں پہلے آٹھویں نمبر پر تھا۔پاکستان میں مسلسل جنگلات کی کٹائی جاری ہے جس کی وجہ سے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ مسلسل بڑھ رہا ہے جو درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔2015 میں شائع ہونے والی حالیہ قومی جنگلاتی پالیسی کے مطابق پاکستان میں لکڑی کی مانگ اس کی ممکنہ پائیدار فراہمی سے 3 گنا زیادہ ہے۔ اس پالیسی میں کہا گیا کہ ملک میں سالانہ تخمینہ لگ بھگ 66 ہزار 700 ایکڑ درخت ضائع ہوجاتے ہیں۔جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی گلوبل کلائیمیٹ انڈیکس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 1998 سے 2017 تک آٹھویں نمبر پر تھا، وہ اب 1999 سے 2018 تک رونما ہونے والے موسمیاتی واقعات کے باعث دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔
    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اس عرصے کے دوران پاکستان میں موسمیاتی واقعات کے باعث 10 ہزار اموات ہوئیں اور ملک کو تقریباً چار ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔پورے خطے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جس کی وجہ جنگلات کا رقبہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھوٹان میں کل رقبے کے 25 فیصد پر جنگلات ہیں جبکہ پاکستان میں تین سے چار فیصد پر بھی جنگلات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں گنجان آبادی کے باعث بھی مسئلے پیدا ہو رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں زرخیز زمین اور پانی آدھا رہ جائے گا اور آبادی دگنی ہو جائے گی اور صورتحال بہت گمبھیر ہو جائے گی۔
    لہذا دنیا کو انے والے اس شدید خطرے سے نمٹنے کیلئے ابھی سے ہی اقدامات کرنے چاہیے مگر بدقسمتی سے اس بارے میں عالمی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر کچھ ہو بھی رہا ہے تو وہ صرف کانفرنس تک محدود ہے۔دنیا کے بڑے ممالک جیسا کہ چین،امریکہ اور انڈیا وغیرہ سب سے زیادہ ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر ان کے اقدامت قابل ستائش نہیں۔ان بڑے ممالک کے برعکس بھوٹان جیسے چھوٹے ملک نے اقدامات کرکے خود کو کاربن فری بنا دیا ہے۔ان بڑے ممالک کو یہ مسئلہ سنجیدگی سے لے کر سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے چاہیے۔ایک تو دنیا کو گاڑیوں سے پیدا ہونے والی الودگی کو کم کرنے کیلئے الیکٹرانک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،ایسے فورمز بنانے چاہیے جس میں تمام عالمی لیڈران اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرسکیں،امیر ممالک غریب ممالک کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مالی امداد دے،زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائے تاکہ ماحولیاتی الودگی کو کم کیا جاسکے۔اس کے علاوہ ہر ملک کو انفرادی اقدامات کرنے چاہیے۔
    پاکستان اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کافی اقدامات کررہا یے جوکہ قابل ستائش ہے جس میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ سرفہرست ہے۔ مگر اس کے علاوہ درختوں کے تحفظ کیلئے بھی اقدامت کرنے چاہیے،تمام شہریوں میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اگاہی پھیلانی چاہیے اور ٹمبر مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات تیز کرنے چاہیے۔حکومت کے ساتھ ساتھ ہم یعنی شہریوں کی بھی ذمی داریاں ہے۔ہمیں نئے درخت لگانے چاہیے،درختوں کی کٹائی سے گریز کرنا چاہیے اور پرانے درختوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اسی طرح ہم سب باہمی اتفاق سے ہی اس خطرے سے چھٹکارا پاسکتے اور اپنی خوبصورت دنیا کو بچا سکتے ہیں۔

  • اسلام ہمارے تمام مسائل کا بہترین حل ہے تحریر:شمسہ بتول

    اسلام ہمارے تمام مسائل کا بہترین حل ہے تحریر:شمسہ بتول

    اسلام کا مطلب ہے تسلیم کر لینا یعنی کہ رب کی اطاعت کرنا اور اس کے ہر حکم کو دل و جان سے تسلیم کرنا اور اسکا ایک اور لفظی معنی ” سکون“ بھی ہے۔
    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔اسلام ہمارے کردار کو اعلیٰ ، پاکیزہ اور عمدہ بناتا ہے اسلام ہمیں خدا سے خوفزدہ کرتا ہے۔ اسلام انسانی سرگرمیوں کے ہر شعبے میں تجارت ، سیاست ، ذاتی تعلقات ، تعلیم وغیرہ میں ایمانداری پر عمل کرنا ممکن بناتا ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ یہ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
    ڈاکٹر اقبال شاہ نے درست کہا :
    "اسلام ایک سماجی ڈھانچہ ہے ، جو ایک قانونی نظام کے ذریعے باقاعدہ اور مخصوص اخلاقی نظریات کا نام ہے”۔
    اسلام اس دنیا میں ہمارے دنیاوی معاملات ، ہمارے اعمال اور اعمال کی بنیاد واضح کرتا ہے۔ یہ دنیاوی زندگی پھر ایک تیاری بن جاتی ہے دوسری دنیا کی ابدی زندگی کے لیے۔ اس جدید صدی میں اسلامی دنیا کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ، جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ مسائل آسانی سے حل نہیں ہو سکتے اور ان مسائل کو اسلامی قوانین اور ضابطوں کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔
    اسلام ہمارے تمام مسائل کو جواز کے ساتھ حل کرتا ہے ، لیکن دور حاضر میں مسلم اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ مسلم ممالک کو درپیش مساٸل کو باہمی اتفاق راۓ سے حل کیا جا سکے۔
    لیکن افسوس مسلم اتحاد فرقوں ، نسلوں اور رنگوں کے فرق میں پھنس گیا ہے۔ اس طرح بہت سے مذہبی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہم آہنگی ، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہیے۔ خدا نے قرآن پاک میں کہا ہے "اور تم لوگ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“
    ہمارے سیاسی مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔ہمیں ایک منظم سیاسی نظام کی ضرورت ہے اور اسلام سے بہتر منظم سیاسی و معاشی نظام کی مثال کہیں نہیں ملتی مگر ہم اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں جسکی وجہ سے ہمیں دسواٸی و زلت کا سامنا ہے دیگر اقوام کے سامنے۔
    اسلامی ریاست میں اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے اور تمام حکمران اللہ کے ایجنٹ ہیں اسلیے دیانتداری اور ایمانداری سے ریاست کے تمام فراٸض ادا کریں۔
    کشمیر ، فلسطین ، اور ہندو مسلم کے حالیہ سیاسی مسائل کو اسلامی قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر انسانی حقوق کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ وہ ایک معاشرے میں رہتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہو تو وہاں بہت سی دوسری برائیاں اور خطرناک مسائل ابھر سکتے ہیں ۔ اگرچہ اسلامی ممالک ماضی کے مقابلے میں جدید اور مہذب ہیں پھر بھی لوگ انتشار ، نفرت اور رنگ و نسل میں فرق، زات پات کا فرق، اور دیگر تباہ کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مسائل خودغرضی ، منافقت، اقربا پروری ، رشوت ، بے حیائی اور فحاشی سے پیدا ہوتے ہیں اسلام لوگوں کو ان تمام منفی اقدار سے منع کرتا ہے۔ اگر لوگ اسلامی قوانین اور قوانین پر عمل کریں تو وہ ان تمام سماجی مسائل کو حل کر سکیں گے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، لیکن بدقسمتی سے بہت سےاسلامی ممالک اپنے مذہبی تنازعات کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ اگرچہ بہت سے اسلامی ممالک خوشحال ہیں اور مضبوط معاشی اور انفرادی قوت رکھتے ہیں پھر بھی وہ معاشی مسائل کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جیسے کہ اسمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی اور خام مال کی تجارت وغیرہ۔
    اسلام نے بین الاقوامی سطح پر بھی سیاسی ، سماجی اور معاشی مساٸل کو حل کرنے کے لیے ایک بہترین فریم ورک دیا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی اقتصادی بلاک کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ دوم ، ان تمام معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے بے لوث ، عقیدت مند اور تجربہ کار ماہر معاشیات کو فروغ دینا ہوگا۔
    آج کل ہمارا معاشرہ تعلیمی مسائل سے دوچار ہے۔ تعلیم دوسری قوموں کی نظر میں انسانی وقار کو فروغ دینے کی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نئے اور جدید نصاب کی وجہ سے ہم اسلامی کتابوں میں دلچسپی نہیں لے رہے یہاں تک کہ بعض اوقات ہمارے اساتذہ اسلامی قوانین کی روشنی میں سماجی ، اقتصادی ، اخلاقی یا دیگر مسائل کے حل کی وضاحت نہیں کرتے۔ لہذا مذہبی اور عمومی علوم کے درمیان توازن ہونا چاہیے ۔اسلام نے ہمارے سائنسی مسائل حل کیے ہیں۔ ماضی میں مسلمان سائنسدان قرآن مجید کی بنیاد پر بہت سی سائنسی چیزیں ایجاد کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ مغربی سائنس دان بھی اسلامی الہامی کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نئی ایجادات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہاں تک کے اسلام زندگی کے ہر پہلو کے متعلق راہنماٸی دیتا ہے۔
    محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا: ” کہ مجھے اخلاقیات کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے“
    اخلاقی رویے کا معاشرے پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردانہ اور عقیدت مند ہونا چاہیے۔ اسلام منع کرتا ہےلوگوں کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے۔ اب ہمارے معاشرے میں سب سے بڑھتے ہوئے مسائل مغرب کی ثقافت اور آداب کی موافقت ہیں۔ اس طرح ہماری تعلیم ، سیاست ، معیشت ، معاشرہ ، فن وغیرہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح اسلام مسلمانوں کو اسلامی روایات اور رسومات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام حقیقی امن ، انصاف اور مساوات کا مذہب ہے ۔ یہ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے حق کے احترام کے بارے میں واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ایک حقیقی اور ترقی یافتہ اسلامی ریاست کی مثال ہمیں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم اور ان کے بعد چاروں خلفاۓ کرامؓ کی زندگی سے ملتی ہے اسلامی ریاست کے حکمرانوں کو ان ہستیوں کا مطالعہ کرنا ہو گا تا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ ریاست کی بنیاد رکھ سکیں ۔ یہ ہمیں اس دنیا کے ساتھ ساتھ اگلی دنیا میں بھی کمال کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے✨

    ‎@b786_s

  • تمباکو نوشی اور کئی امراض  تحریر  : راجہ ارشد

    تمباکو نوشی اور کئی امراض تحریر : راجہ ارشد


    اسلام کے نزدیک تمباکو نوشی حرام ہے یا مکروہ ہے؟
    اس سے انسانی صحت اور مستقبل پر کیا اثرات ہیں؟
    لوگ اس کے عادی کیوں ہوتے ہیں؟
    یہ دنیا اور حکومتیں کیوں بے بس ہیں؟
    جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ عالمی ادارئے کیوں نہیں کر رہی؟
    سگریٹ کے کارخانداروں کے ہاتھ میں انسان یرغمال کیوں ہے؟

    علما حضرت کو تو چھوڑیں جن ڈاکٹروں نے مشاہدے، تجربات اور سالہا سال کے واضح ریکارڈ کے بعد یہ دیکھ لیا ہے کہ یہ کتنی جان لیوا عادت ہے، وہ بھی اس کو خیرباد کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
    انسان کا عمل ہلاکت خیز کیوں نہ ہو، عادت بن جانے کے بعد سوبہانے تراشتا لیتا ہے کہ جو کچھ کر رہا ہوں بالکل ٹھیک ہے۔

    1996 میں ملایشیا میں ڈاکٹروں کی کانفرنس ہوئی وہاں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی بار، رائل کالج آف فزیشنز برطانیہ تمباکو نوشی پر خطاب کر رہے تھے انہوں نے سعودی عرب کی ایک بچی کا ذکر کیا جس کے والد نے اس کو بچپن سے شیشے "چلم” کا عادی بنایا تھا۔ عین جوانی میں 19 سال کی عمر میں سینے کے کینسر سے اس کا انتقال ہوا۔ الم ناک موت کا منظر تصاویر کی شکل میں دکھا بھی رہے تھے۔ اس وقت انھوں نے بتایا کہ 16 لاکھ افراد اسی طرح تمباکو نوشی سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔تمباکو نوشی کے نقصان دہ ہونے میں کوئی دو رائے نہیں، تمباکو نوشی کے صحت پر بُرے اثرات جذام، طاعون، چیچک،تپ دق اور ہیضے سب کے اکٹھے خطرات سے بھی زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات بڑے خوف ناک ہوتے ہیں لاکھوں انسان ہر سال تمباکونوشی کی وجہ سے مر رہے ہیں، جب کہ کروڑوں انسان تمباکو نوشی کی وجہ سے کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوکر کرب اور اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
    اس سے لاحق ہونے والے مختلف امراض میں
    "نظامِ تنفس میں”
    "پھیپھڑے کا کینسر”
    "گلے کا کینسر”
    "نمونیا”
    "ضیق دم”۔ دل و گردشِ خون کے نظام میں دل کا انجماد
    "اچانک موت” اعضا میں دورانِ خون کا انجماد۔ نظامِ ہضم میں۔
    منہ،ہونٹ، گلے، معدے،نرخرے اور آنتوں کا کینسر۔ "نظامِ بول” مثانے کے زخم اور کینسر "گردن کا سرطان”
    حاملہ عورت اور بچے میں حمل کا کثرت سے ساقط ہونا، بچے کا وزن کم ہونا، موت ہوجانا، نمونیا۔دیگر امراض میں آنکھوں کے عضلات میں سوزش، اندھاپن ، دمہ، جِلد کی سوزش، ناک، کان اور گلے کی بیماریاں، بلڈپریشر کے خطرات، شوگر، کولسٹرول کا اضافہ، موٹاپا وغیرہ شامل ہیں۔

    پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کہتے ہیں کہ پنڈلیوں کی شریانوں کے بیماروں میں 955 فیصد تمباکونوش ہوتے ہیں۔ امراض میں تمباکو نوشوں کا مبتلا ہونا 10گنا زیادہ ہے اور اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہرتین تمباکو نوشوں میں سے ایک کی موت تمباکو نوشی سے واقع ہوتی ہے۔
    پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز سامی پروفیسر امراضِ سینہ اور میڈیکل کالج قاہرہ یونی ورسٹی کے پرنسپل کہتے ہیں کہ تمباکو نوشوں کے ساتھ رہنے والا ایک گھنٹے میں جتنا تمباکو سونگھتا ہے، وہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ انھوں نے درجنوں امراض کی ہلاکتوں کی توثیق کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شریف عمر جراحتِ سرطان کے شعبے سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوش عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے دوران اموات دوسری خواتین کی نسبت 68 فیصد زیادہ ہوتی ہیں۔ ناڑ کے ذریعے مضر اثرات بچوں میں منتقل ہوتے ہیں، اور یہ اثرات پیدائش کے بعد 11 سال تک رہتے ہیں۔

    دنیابھر کے طب کے ماہرین ان تمام اثرات کی تائید کرتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سگریٹ نوشی کو ممنوع قرار دینے کے لیے فتویٰ 26 مئی 2000 کو جاری کیا۔ اس کے ساتھ تین آرڈی ننس جاری کیے گئے جو تشہیر اور عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کی ممانعت سے متعلق ہیں۔پان، حقہ،نسوار اور سگریٹ وہ مشہور جانے پہچانے طریقے ہیں جن میں تمباکو استعمال کیا جاتا ہے۔ یا یوں کہ لیں کہ انسانی صحت کو تباہ کیا جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی کی شرعی احکام کی پانچ نوعیتیں ہیں۔حُرمت، کراہت، استحباب،وجوب اور اباحت۔ ان میں سے کسی حکم کے تحت لانے سے متعلق کوئی صریح نص نہ ہونے کی وجہ سے فقہا میں اختلاف تھا۔ کچھ نے تمباکو نوشی کو حرام، کچھ نے مکروہ اور کچھ نے اس کو مباح کہا ہے۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ حکم کچھ بھی ہو، انسداد ضروری ہے۔
    تمباکو نوشی حرام ہے۔ حرام سے مراد ایک ایسا معاملہ ہے جس کے نہ کرنے کا بندے کو حکم ہے۔ اور اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے۔ اس کی ممانعت کی گئی ہو اور اس کے کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہو۔ شرط یہ ہے کہ کتاب اللہ کی ایسی دلیل سے ثابت ہو جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہو، یعنی اس سے کسی چیز کے حرام ہونے کے سوا کوئی دوسرا مفہوم لینے کا امکان نہ ہو۔ اس کے کرنے سے کئی خرابیاں اور نقصانات ہوتے ہوں، جیسے زنا، چوری، سود، شراب، خون کے پینے اور لوگوں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانے کی حُرمت ہے۔ ان کے بارے میں صریح احکامات قرآن میں موجود ہیں۔

    حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ خود کو ضرر دو اور نہ دوسرے کو ضرر دو
    "ابن ماجہ، دارقطنی، مرفوعاً، جب کہ مالک سے مرسل”
    لاضررا کا عام مفہوم یہ ہے کہ نقصان نہ پہنچاؤ۔ مریض کے لیے پانی مضر ہو تو وضو معاف، مسافر کے لیے روزہ معاف،احرام کی پابندیاں معاف، حلق "سرمنڈوانا” کے بجاے فدیہ دے دے۔ حضرت عباسؓ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا دین اللہ کو پسند ہے تو آپؐ ﷺ نے فرمایا: آسان حنفیت۔ ضرر کا شریعت میں وجود نہیں اور ممنوع ہے۔ اس لیے تمباکو نوشی سے جان کو نقصان دینا حرام ہوگا کیونکہ خود کو اور دوسروں کو ضرر دینا ممنوع ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم امین

    ‎@RajaArshad56

  • وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ہمیشہ چلتی رہتی ہے کبھی ایک اسٹیشن سے دوسرے پر تو کبھی دوسرے سے تیسرے پر- بہت سے مسافر اس ریل گاڑی پر سفر کرتے ہیں کوئی اپنے مقررہ سٹیشن پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو کوئی اپنے اسٹیشن کا انتظار کر رہا ہوتا ہے لیکن ریل گاڑی اپنا سفر جاری رکھتی ہے- جیسے ریل گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر جا کر ٹھہر جاتی ہے بالکل اسی طرح زندگی کا بھی آخری اسٹیشن آتا ہے جہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہ ایسے لمحے ہوتے ہیں جب انسان کے جسم میں نہ طاقت رہتی ہے اور نہ باقی رہتی زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش رہتی ہے- یوں تو پوری زندگی انسان اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے لیکن خود کے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور جب خود کے لیے وقت ملتا ہے تو تب انسان کی زندگی ریل گاڑی کی طرح اپنے آخری اسٹیشن پر کھڑی ہوتی ہے- بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد انسان کے پاس اپنی پوری زندگی میں گزارے وقت کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا- انسان کی زندگی میں بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انسان منہ نہیں موڑ سکتا اور بڑھاپے میں آنے کے بعد جب تک انسان اس دنیا میں حیات رہتا ہے تب تک وہ بوڑھا ہی رہتا ہے –
    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے- اور یہ کب ہاتھ سے نکل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا- یہ وقت ہی ہوتا ہے جو انسان کو گزری زندگی سے سبق دیتا ہے- اس دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو وقت کا وقت پر صحیح استعمال کر پاتے ہیں- وقت کی رفتار کو سمجھنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور جو لوگ وقت کی رفتار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے وہ لوگ اپنی زندگی کی خواہشات اور ارادوں کو مقررہ وقت پر ہی سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں وقت ضائع نہیں کرتے- اور جو لوگ اس وقت کی اہمیت اور اس کی رفتار کی نوعیت کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے سبق حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ زندگی میں سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے اور آج کے کام پر ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور کل پر ڈالتے ہیں اور روزانہ اسی سوچ کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں کہ اپنے کام کو کل پورا کریں گے- وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی زندگی کبھی روکتی ہے- زندگی گزر ہی جاتی ہے جیسے انسان اپنے بچپن کے دنوں میں سوچتا ہے کہ شاید وہ پوری زندگی بچہ ہی رہے گا اور کبھی جوان نہیں ہوگا لیکن بچپن گزر جاتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے دور میں قدم رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایک بار پھر اپنی سوچ کو دہراتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ اسی طرح تندرست اور جوان رہے گا لیکن بالآخر انسان کی یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے آخری حصہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہر جاتی ہے- انسانی زندگی میں صحت و تندرستی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مصروف زندگی میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نکالیں اور جتنا ہوسکے دوسروں کی مدد کریں اور آسانیاں پیدا کریں- اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا-

    Twitter: ‎@AfaqHussainKhan

  • پاکستانی مرد تحریر:حفصہ قاسم


    مصروف زندگی میں فراغت کے چند لمحات میں جب موبائل فون کو دیکھتی ہوں تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی داستان جنگل میں آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ مرد ! درندہ ہے جانور ہے، بےحس ہے بے غیرت ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی لیکن اسی عنوان کے ساتھ۔ یہ سب دیکھ کے میرا دل دکھتا ہے۔ ہاں میں خود تو ایک لڑکی ہوں لیکن مردوں کے خلاف کچھ برا سن کے اچھا محسوس نہیں کرتی۔

    کہنے والے کہتے ہیں کہ مرد کو صرف اپنے گھر کی عورت ہی قابل عزت لگتی ہے لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک بیکری پر جانے کا اتفاق ہوا کاؤنٹر پر مردوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن ایک لڑکی کو دیکھتے ہی سب نے اسے آگے بڑھ کے چارجز ادا کرنے کا موقع دیا۔ وہاں سے نکل کے جب رکشہ لیا تو رکشے میں اگلی سیٹ پر ہم دو لڑکیاں تھیں راستے میں کئی لڑکے اور مرد ملے جن کو تیسری سیٹ پر بیٹھایا جا سکتا تھا لیکن معمولی رکشہ چلانے والے نے اپنا نقصان کر لیا لیکن کسی لڑکے کا لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک کو پار کرنا تھا۔ میں سڑک کے کنارے پریشان کھڑی تھی کیونکہ وقت کم اور رش بہت زیادہ تھا۔ جیسے ہی مجھے سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا تو دور سے آنے والے مرد جن میں کچھ گاڑیوں پر اور کچھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، سب نے اپنی سپیڈ آہستہ کر دی اور میں نے پر سکون ہو کر سڑک کو پار کیا۔

    اب بات کر لیتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی۔
    تھوڑے سے فاصلے پر کچھ آدمی ایک لڑکے کو پیٹ رہے تھے وہ اسے تھپڑوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نواز رہے تھے۔ مجمع بکھرا کچھ رش کم ہوا تو جاننے میں آیا صاحب کسی خاتون کو پریشان کر رہے تھے اسی وجہ سے انکی عزت افزائی تھپڑوں اور گالیوں سے کی جا رہی تھی۔ یہ میں اپنے گھر کے مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی ان مردوں میں سے کسی کے گھر کی عورت کی بات کر رہی ہوں۔

    میں پاکستان میں رہتی ہوں اور صرف پاکستانی مرد کو ہی جانتی ہوں ایک ہی دن میں مختلف جگہوں پر میں نے مختلف مردوں کو دیکھا میرا تجربہ ایسا ہی رہا کہ مرد عورت کی عزت کرتا ہے لیکن اس کے بعد کچھ ایسے آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں جو ناقص تربیت اور شر پسند طبیعت کی وجہ سے عورت کو نشانہ بناتے ہیں ایسے حالات میں بھی اکثر دوسرے مرد عورت کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

    اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ہی جنس کو ٹارگٹ کرکے بار بار مرد کی غیرت کو للکارنے سے ہم انھیں بےحس بنانے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کا اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے جب کسی انسان کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےضمیر بھی ہوجاتا ہے۔

    ظلم وزیادتی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ ایک دفعہ اپنے گریبان میں ضرور جھانک لیں کہ آپ ان حالات میں اپنا کردار کیسے نبھا رہے ہیں۔ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں اور پھر اپنے گھر سے۔

    یاد رہے معاشرے میں کچھ ہوس پرست لوگ ضرور موجود ہیں لیکن سب کو نشانہ مت بنائیں۔ اپنی حفاظت خود کرنا سیکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مردوں کو جو ہوس پرستی کے اس دور میں بھی عورت کی عزت کرتے ہیں۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستانی مردوں کو۔

    ‎@hafsaaqasim