Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    دنیا نے ایسے فاتح نہیں دیکھے ہوں گے۔ خدا کے سامنے جھکنے والی گردنوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھکا سکی۔ ان کی فتح کا راز یہ ہے کہ وہ دنیاوی طاقتوں کے سامنے سر کو جھکانے کی بجائے ایک اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے جھکتے ہیں۔ اور پھر رب تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی ایسی لاج رکھتا ہے کہ وقت کے فرعون صفت متکبر سُپر طاقت اپنا سامانِ جنگ چھوڑ چھاڑ کر اور دم دبا کر بھاگ کھڑی ہوئی ہے۔ اور صرف 15 دن میں پورا ملک فتح کرنے کے باوجود عاجزی کا یہ عالم ہے کہ زمین پر بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے ہیں۔
    یہاں بات اس انٹرویو کی کرتے ہیں جو کہ ملا عمر نے وائس آف امریکہ کو دیا تھا۔ جس میں ملا عمر نے کہا تھا ” میرے سامنے دو وعدے ہیں ایک وعدہ بُش کا اور دوسرا وعدہ میرے اللہ کا۔ میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ میری زمین بہت بڑی ہے اگر تم اس زمین پر کسی بھی جگہ جاؤ وہاں سکونت اختیار کر سکتے ہو اور تمہاری حفاظت کی جائے گی۔ دوسری جانب بُش کا یہ وعدہ ہے کہ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں تم چھپ سکو اورہم تلاش نہ کر سکیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کون سا وعدہ پورا ہوتا ہے”۔ اور آج اللہ کا وعدہ پورا ہوا ور سُپر پاور بھی کچھ نہ کر سکی اور امارت اسلامیہ کا اعلان ہو گیا۔
    ایک اور سوال کے جواب میں ملا عمر نے کہا” ہم مسلمانوں کی مدد اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ کفار سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ پاور کے اعتبار سے امریکہ بہت پاور فل ہے۔ اگر وہ اس سے بھی دو گنا زیادہ پاور فل ہو جائے تو بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا مالک ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں کوئی بھی دنیا کی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی” اور آج یہ بات بھی ملا عمر کی سچ ثابت ہوئی جب دنیا کی سُپر پاور فوج نے بھی انکے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

    دنیا کو آخر طالبان سے ڈر کیوں ہے؟ کس وجہ سے امارت اسلامیہ سے ڈرتے ہیں؟ کیا یہ طالبان سے ڈرتے ہیں؟
    نہیں بلکل نہیں کیونکہ ہم گناہ کرنے سے نہیں بلکہ اس گناہ کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ ہم زنا سے نہیں ڈرتے بلکہ کوئی اس کی سزا اسلامی نظام کے مطابق دے اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم چوری کرنے سے نہیں ڈرتے بلکہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ ہماری عورتیں کم لباس پہننے سے نہیں ڈرتی بلکہ اسلامی نظام کے مطابق لباس پہننے سے ڈرتی ہیں۔ اور برملا طور پر کہتی ہیں کے اس سے ہمارا دم گھٹتا ہے اور ہمیں آزادی دو۔ ہم کسی کا قتل کرنے سے نہیں بلکہ اسلام میں قتل کے قصاص کی بات ہوئی اور اس قصاص کو دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم حرام کی کمائی کے خاتمے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سنت کے مطابق اپنے چہرے بنانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم داڑھی رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم اوقات نماز کاروبار بند کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم چھوٹے بچوں سے زیادتی سے نہیں ڈرتے بلکہ اسکی سزا اسلامی نظام سے ہو اس سے ڈرتے ہیں۔ الغرض ہم طالبان سے نہیں ڈرتے بلکہ اسلامی نظام سے ڈرتے ہیں جسمیں ہم سب کیلئے بھلائی ہے۔ اور جہاں تک بات امارت اسلامیہ کے حصول کی ہے تو یہ اسلامی نظام کے مطابق ساری سزائیں ہو گی جس وجہ دنیا پریشان ہے۔
    مگر میرے اللہ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے میرے اللہ چاہیں ذلیل و خوار کریں مگر اب کی بار اللہ نے عزت مجاہدین کو دی اسلام کی فتح ہوئی اللہُ اکبر کی صدائیں بلند ہوئی۔
    جیسے ہر ملک کی اپنی پالیسی یہی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کسی کی دخل اندازی نہیں برداشت کرتا تو پھر طالبان چاہیے زورِ بازو سے حکومت لے چکے لیکن یہ بات یاد رکھیں جب انہوں نے کابل لیا کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور اقتدار لینے کے بعد ذمہ واری کا ثبوت دیتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا۔ تو دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کو تسلیم کرے۔

  • (محبت  امام حسین ) حضور نبی کریم (ﷺ) کی حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے محبت تحریر چودھری عبداسلام

    (محبت امام حسین ) حضور نبی کریم (ﷺ) کی حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے محبت تحریر چودھری عبداسلام

    محرم الحرام کا نام آئے اور نواسہ رسول (ﷺ)،جگر گوشہ بتول، لختِ جگر حیدرِ کرار سید الشھداء امام حسین ؓ کی لازوال قربانی کا تصور قلوب و اذہان کو چُھو کر نہ گزرے؛ مسلمان سے اس بات کا تصور ممکن نہیں-آپ ؓ اللہ تعالیٰ کی وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کا اسم مبارک آسمانوں پہ (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس سے منظورہوکر)رکھاگیا،آپ ؓ کی نہ صرف قبل از ولادت و قبل از شہادت خبریں مشہور ہوئیں بلکہ دنیا میں ہی جنتیوں کا سردار ہونے کا لازوال شرف حاصل ہوا- حضور نبی کریم (ﷺ) آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور اپنی امّت کو بھی اپنے اہلِ بیت سے محبت کرنے کی تلقین فرمائی اور محبتِ اہلِ بیت کو اپنی محبت کے حصول کا ذریعہ بھی قرار دیا۔

    حضرت اُم الفضل بنت حارث (رضی اللہ عنہ)، رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، یارسول اللہ (ﷺ)! میں نے گزشتہ رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے، آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا: مَا هُوَ؟(وہ کیاہے؟) اس نے عرض کی: وہ بہت خطرناک ہے،آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا: ’’مَا هُوَ؟‘‘ آپ (رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: مَیں نے دیکھا ہے کہ آپ (ﷺ) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے- رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’رَأَيْتِ خَيْرًا‘‘’’تم نے یہ اچھاخواب دیکھاہے‘‘ (اس کی تعبیر یہ ہے کہ )ان شاءاللہ (سیدہ )فاطمہ(رضی اللہ عنہ)کے ہاں بچہ پیداہوگا اور وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا-چنانچہ سیدہ فاطمۃ الزہراء (رضی اللہ عنہ) کے ہاں حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کی ولادت ہوئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان کے مطابق وہ میری گود میں دئیے گئے- (المستدرک علی الصحیحین ،باب:اَوَّلُ فَضَائِلِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الشَّهِيدِ (رضی اللہ عنہ)

    آپ ؓ کی ولادت با سعادت ہجرت کے چوتھے سال، 5 شعبان کو(مدینہ منورہ) میں ہوئی-( سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ)

    حضرت علی بن طالب ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت حسن ؓ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین ؓ کی ولادت ہوئی تو میں ان کا نام ان کے چچاکے نام پہ ’’جعفر‘‘رکھا-آپ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا:

    ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اپنے ان دونوں بیٹوں کے نام تبدیل کروں‘‘- (حضرت علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: ’’اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‘‘-اللہ اوراس کارسول بہتر جانتے ہیں؛ پھر آپ (ﷺ) نے ان کے نام مبارک حسن اورحسین رکھے-( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،كِتَابُ الْأَدَبِ)

    ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : ’’مَیں نے ان (شہزادوں )کے نام حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد کے نام پر ’’ شَبَّر، وَشَبِير، وَمُشَبّر‘‘رکھاہے ‘‘-( باب:الحسین بن علی(رضی اللہ عنہ) أسد الغابة فی معرفة الصحابة)

    حضرت امام حسین ؓ کے فضائل و مناقب احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں :

    آپ ؓ کی ذاتِ مبارک کے فضائل و مناقب انسانی بساط لکھنے سے قاصرہے ،حصول برکت کے لیے چندروایات رقم کرنے کا شرف حاصل کیاجاتاہے –

    حضرت ابو ایوب انصاری (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اس حال میں کہ امام حسن وحسین (﷠) آپ (ﷺ)کے سینہ مبارک پہ کھیل رہے تھے،تو مَیں نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! ’’کیا آپ (ﷺ)ان دونوں سے محبت کرتے ہیں؟ توآپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا :میں ان سے محبت کیسے نہ کروں، یہ دونوں دنیاکے میرے دوپھول ہیں‘‘- ( سیراعلام النبلاء ،الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ ؓ)

    ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
    ’’جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے وہ ان دونوں شہزادوں سیدنا امام حسن ؓ اور سیدنا امام حسین ؓ سے محبت کرے‘‘-
    (مسند أبی يعلى،باب :مسند عبداللہ بن مسعود)

    ’’حضرت ابوجعفر ؓ سے مروی ہےکہ ایک مرتبہ رسول اللہ (ﷺ) انصار کی مجلس سے گزرے اس حال میں کہ آپ (ﷺ) دونوں شہزادوں کو (اپنے کندھوں پہ) اٹھائے ہوئے تھے،تو لوگوں نے عرض کی:کتنی اچھی سواری ہے! تو آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں ‘‘- (مصنف ابن ابی شیبہ،باب: مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)

    حضرت یعلیٰ عامری ؓ سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی کریم (ﷺ) کے ساتھ ایک دعوت میں شرکت کے لیے نکلے راستے میں حضرت امام حسین ؓ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے،پس آپ (ﷺ)باقی لوگوں سے آگے تشریف لے گئے اور(حضرت امام حسین ؓ کو پکڑنے کے لیے )آپ (ﷺ)نے اپنادستِ اقدس بڑھایا،لیکن آپ ؓ کبھی اِدھربھاگ جاتے کبھی اُدھر اور حضور نبی کریم (ﷺ) خوش ہو رہے تھے یہاں تک حضور نبی کریم (ﷺ) نے آپ ؓ کو پکڑ لیا اور آپ (ﷺ)نے اپنا ایک ہاتھ مبارک آپ ؓ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا گردن پہ رکھاپھرآپ (ﷺ)نے اپناسرمبارک جھکاکر اپنا دہن مبارک حضرت امام حسین ؓ کے دہن پہ رکھا اور انہیں بوسہ دیا اور پھر آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:

    ’’حسین مجھ سے ہیں اورمیں حسین سے ہوں یااللہ تواُس سے محبت فرما جوحسین سے محبت کرے،حسین (میرے) نواسوں میں ایک نواسہ ہے‘‘ – (مصنف ابن ابی شیبہ،باب: مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)

    حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

    ’’(حضرت)حسن ؓ و حسین ؓ میرے بیٹے ہیں جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اللہ اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ فرمائے گا اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اللہ اس سے ناراض ہوگا اور جس سے اللہ ناراض ہوگا اسے جہنم میں داخل کرےگا‘‘-یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہےلیکن ان (شیخین) نے اس کو ذکر نہیں کیا- (المستدرك على الصحيحين،وَمِنْ مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنِي بِنْتِ رَسُولِ اللہِ(ﷺ)

    حضرت علی المرتضےٰ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضوان اللّٰہ علیھم کے ہاتھ کو پکڑا اورارشاد فرمایا:

    ’’جس نے مجھ سے، ان دونوں سے،ان دونوں کے والد (محترم) سے اور ان کی والدہ (محترمہ) سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا‘‘-(سنن الترمذی، کتاب المناقب)

    ’’ایک مرتبہ حضورنبی کریم (ﷺ) سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے گھرسے سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓ کے گھرکی طرف تشریف لے گئے اور آپ (ﷺ)نے سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے رونے کی آواز سنی تو آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا :
    ’’کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ ان کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے؟‘‘

    حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سجدہ فرما رہے تھےحضرت حسن یاحضرت حسین ؓ تشریف لائے اور حضور نبی کریم (ﷺ)کی پیٹھ مبارک پہ سوار ہو گئے تو آپ (ﷺ) نے سجدہ کو لمبا فرما دیا، عرض کی گئی یارسول اللہ (ﷺ)! أَطَلْتَ السُّجُودَ؟ آپ (ﷺ)نے سجدہ بہت لمبا کیا ہے؟ تو رسول اللہ (ﷺ)نے ارشادفرمایا :
    ’’میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تو میں نے اسے جلدی سے اتارنا پسند نہ کیا‘‘-( مسند أبی يعلى الموصلی،باب: ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسٍ)

    حضرت زید بن ارقم (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی المرتضیٰ، سیدہ فاطمۃ الزہراء اور حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) سے ارشادفرمایا :جو تم سے جنگ کرے گا مَیں اس سے جنگ کروں گا اور اس سے صلح کروں گا جوتم سے صلح کرے گا‘‘- ( سنن الترمذی ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا)

    صحابۂ کرام اور ادبِ حضرت امام حسین(رضی اللہ عنہ):

    (جب مسلمانوں کو خوشحالی ہوگئی) حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جب و ظائف مقرر فرمائے، غزوہ بدرمیں شریک حضرات کے لیے پانچ پانچ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا اور بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ کے صاحبزادوں کے لیے دو دو ہزار وظیفہ مقررفرمایا سوائے حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنھم کے – ’’رسول اللہ (ﷺ) کی قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے حسنین کریمین (﷠) کاوظیفہ ان کے والد حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) جتنا (پانچ ہزار) مقررفرمایا- (حالانکہ آپ (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے بھی تین ہزار وظیفہ مقرر فرمایا )‘‘-( الطبقات الکبرٰی لابن سعدؒ،باب: ذِكْرُ اسْتِخْلافِ عُمَرَ )

    امام زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضور نبی کریم (ﷺ)کے اصحاب (﷢) کو جب کپڑے دیئے (تو آپ کی سوچ کے مطابق ) ان کپڑوں میں حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین(رضی اللہ عنھم) کی شان کے مطابق کوئی کپڑانہ تھا؛ ’’تو آپ ؓ نے ایک شخص کو یمن بھیجا وہ ان دونوں شہزادوں کے لیے لباس لے کرآیااور(جب کپڑے آگئے تو)آپ ؓ نے فرمایا :اب میرادل خوش ہوگیا‘‘- ( مسند أمير المؤمنين أبی حفص عمر بن الخطاب ؓ، (لابن کثیرؒکتاب الجھاد)

    حضرت مدرک بن عمارہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو دیکھا وہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنھم) کی سواری کی لگام پکڑئے ہوئے ہیں- آپ سے عرض کئی گئی :کیا آپؓ حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) کی سواری کی لگامیں تھامے ہوئے ہیں حالانکہ آپ (رضی اللہ عنہ) ان سے بڑے ہیں ؟توآپ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:

    ’’بے شک یہ دونوں رسول اللہ (ﷺ)کے نواسے ہیں تو کیا یہ میرے لیے سعادت نہیں کہ میں ان کے سواری کی لگام کو تھاموں‘‘- ( تاریخ دمشق لابن عساکر،باب: الحسين بن علی بن أبی طالبؓ)

    ’’حضرت عمروبن العاص ؓ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے جب آپ نے حضرت حسین بن علی ؓ کو آتے ہوئے دیکھاتو آپ ؓ نے فرمایا:
    ’’یہ ہستی آج مجھے زمین و آسمان میں سب سے زیادہ محبوب ہے‘‘- (تہذیب التہذیب للعسقلانیؒ،باب:الحاء)

    حضرت ابوالمہزم ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوھریرہ ؓ اپنے کپڑے کے کنارے سے سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ) کے قدمین شریفین سے مٹی جھاڑ رہے تھے تو حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا: اے ابوھریرہ! آپ یہ کیاکررہے ہیں؟ تو حضرت ابوھریرہ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:

    ’’مجھے چھوڑدیجیے،اللّٰه رب العزت کی قسم !اگر لوگوں کو آپ کے بارے میں وہ علم ہوجائے جومیں جانتاہوں تو وہ آپ کو اپنے کندھوں پہ اٹھالیں ‘‘- ( الطبقات الکبرٰی کتاب:الحسين بن علیؓ)

    اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار بالخصوص حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائیں کہ آپ کی محبت سے ہی حضور نبی کریم(ﷺ) کی محبت اور رضا حاصل ہوتی ہے۔ اور ہمیں یزید ملعون اور اس کے کے ساتھ مل کر حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے جنگ کرنے والوں اور بے وفائی کرنے والوں کے گمراہی والے راستے پر چلنے سے بچا کر رکھے۔ آمین۔

    @ChAbdul_Salam

  • تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ  تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    حیا کیا ہے کوئی بھی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے قبل دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہوتی ہے اسے حیا کہتے ہیں۔ اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ اپنے رب سے تعلق میں مضبوط ہو گا اور گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا کی صفت نمایاں تھی ہمیں آج سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے احساس پسند تھے کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے تھے یہ درس ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے۔ آپﷺ نے گناہ میں گواہ بنانے سے سخت منع فرمایا.

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق میں بھرپور ادب نظر آتا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد محترم کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزار سکے مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔ اپنی رضاعی حضرت والدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں کا احترام فرماتے ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے اور اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے مراد با ادب با مراد۔
    ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت اور احساس جیسی اعلی عادات بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ بھلا کسی کی کیا احساس کرے گا؟
    خدمت خلق اللہ تعالٰی کا یہ پسندیدہ عمل ہے۔ جس ستمے تکبر کا عنصر ختم ہوتا اور احساس کو فروغ ملتا ہے اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ صفت نمایاں تھی۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی رب العالمین کی رضا کے لیے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے اور ترغیب دیتے تھے۔ آج اس عمل کی اشد ضرورت ہے.

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے. پاکیزگی کے عمل پر زور دیا اور فرمایا اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اس سے مراد من کی خوبصورتی ہے اعمال کی پاکیزگی کی ناکہ رنگت کی. کیونکہ اللہ کریم پسندیدہ بندوں میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں جس سے رنگ کے امتیاز کی نفی کی گئی ہے. آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ منع فرما دیا اور کہا شخص نماز نہ پڑھائے۔ پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب الہی ہوتا ہے۔ کتنی خوبصورتی سے امت کو پاکیزگی کا درس دیا گیا ہے آپ ﷺ کے بے شماد مزید فرامین موجود ہیں. جن سے مقصد زندگی اور اصول زندگی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے

    اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اصول زندگی سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں!تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں!تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    "ہمارا بچہ تو ہماری سنتا ہی نہیں”۔۔۔”بے کہنے کا ہو گیا ہے”۔۔۔”نہ تووقت پے سونا ہے نہ وقت پراٹھنا”۔۔۔” پڑھنا لکھنا ہے نہیں بس سارا دن موبائل ہے”۔۔۔”ہر ایک سے بدتمیزی اب تع محلے سے بھی شکاتیں آرہی ہیں”۔۔
    یہ ہیں وہ جملے اور آوازیں جو آجکل تقریبا ہر گھر سے سنائ دی جا رہی ہیں ۔۔۔ ماں باپ بچوں کی شرارتوں اور منفی روئیے سے بے حد پریشان نظر آتے ہیں۔۔۔پرائیوٹ اسکولوں کی بھاری بھاری فیسیں دے کربھی بچہ نہ تو پڑھ پارہا ہے اور نہ ہی کوئ تربیت حاصل کر پارہا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ ٹیوشن کا بوجھ الگ ہے لیکن بچے ویسے ہی بدتمیز_بے سلیقہ اور بد تہزیب۔۔۔ایسا کیوں ہے۔۔۔؟؟
    دراصل آج کل کی مصروف زندگی میں والدین نے اپنی زمہ داریاں بھی اسکول اور ٹیوشن کی ٹیچر پر ڈال دی ہے ان کو یہ بات معلوم ہی نہیں کہ بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں اور بچوں کی سب سے بڑی تربیت گاہ اس کا اپنا گھر ہے اور اس کے گھر کا ماحول جیسا ہو گا بچہ بھی ویسے ہی ڈھلے گا یاد رکھئے آپ کا بچہ جو آپ کو دیکھ کر سیکھ سکتا ہے وہ کوئ دوسرا سکھا ہی نہیں سکتا یہ ایک ایسا خودکار عمل ہے جس کو سمجھنے کے لئے کوئ روکٹ سائنس نہیں۔۔۔
    مجھے یاد ہےجب ہم چھوٹے تھے ۔۔تو جیسے ہی ازان کی آواز آئ ابا جی نےٹیلی ویژن بند کر دینا تھا اور فورا نماز کے لئے چلا جاتےتھے جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے تو ازان ہوتے ہی ہم بھی ٹی وی بند کر دیتے اور نماز کے لئے مسجد کی دوڑ لگا دیتے تھے مجھے یاد نہیں کہ کبھی ابا جی نے ہمیں نماز کی سختی کی ہو ہم ابا جی کے طرزعمل کو دیکھ دیکھ کر اتنے عادی ہو چکے تھے کہ نماز چھوٹتی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ میرے والد صاحب جب گھر میں داخل ہوتے تو پہلے دروازہ کھٹکھٹاتے اور داخل ہو کر باآواز سلام کرتے تھے اور امی سے مسکراتے ہوئے بات کرتے۔۔۔ آہستہ آہستہ یہ عادتیں ہم سب بہن بھائیوں میں بھی منتقل ہوئیں سب بہن بھائ بناء دستک دئے اپنے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اور داخل ہوتے ہی باآواز ہو کے سلام کرتے اور امی کے پاس بیٹھ کر پہلے گپ شپ۔لگاتے پھر دیگر کاموں میں لگتے تھے۔۔۔۔
    مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ابا جی جب آفس سے گھر آتے۔۔۔ تو پہلےدادی جان کے پاس بیٹھتے اور ان کا ہاتھ چومتے تھے۔۔۔ابا جی کی یہی عادت ہم سب بہن بھائیوں نے بھی پائ۔۔۔ گھر آتے ہی امی کے پاس بیٹھتے کوئ ان سے لپٹ کر اپنی محبت کا اظہار کرتا توکوئ ان کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جاتا اور کوئ تو باقاعدہ پیار کرنا شروع کر دیتا تھا۔۔۔
    اس کے علاوہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اکثر ابا جی گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے اگر امی کپڑے دھو رہی ہوں یا کھانا پکا رہی ہوں تو وہ بھی انکی مدد کرتے تھے۔۔۔بالکل یہ ہی عادتیں کم و بیش ہم سب بھائیوں میں منتقل ہوئیں ہم سب کام کاج میں اپنی بیگمات کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔۔۔
    علاوہ ازیں ہم نے ہمیشہ امی کو پنجگانہ نماز پڑھتے دیکھا کبھی سر سے دوپٹہ نہیں اترتا تھا ۔۔۔صبح صبح اٹھ جانا ۔۔فجر سے فارغ ہو کر تلاوت کلام ان کا معمول تھا ۔۔۔اور آپ یقین جانئے میری تمام۔بہنیں بالکل امی کی طرح ہی صبح سویرے اٹھتی ہیں اور وہی معمولات زندگی اپنائ ہوئ ہیں جو میری والدہ کے تھے۔۔۔۔
    ہم نے تو کبھی اپنے والدین کو لڑتے ہوئے بھی نہیں دیکھا لڑنا تو دور کی بات ہماری امی جی ابا کے آگے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتی تھیں۔۔۔ہمیشہ اہل محلہ کے دکھ درد میں شریک رہتی تھیں ۔۔۔محلے میں کسی کے گھر کوئ تقریب ہو ہمارا بیٹھک والا کمرہ شادی کی تقریب والے محلے داروں کو دے دیا جاتا تھا ۔۔۔جہاں ان کے مردمہمانوں کا انتظام ہوتا تھا۔۔۔اور امی اور ابا دونوں ان کے لئے ایسے بڑھ چڑھ کرکام کرتے تھے جیسے وہ محلے دار نہیں رشتہ دار ہوں۔۔۔اب تو سارے محلے کے گھر ہی بڑے ہو چکے ۔۔۔لیکن پھر بھی ان کے دکھ سکھ میں ہم سب ان کے ساتھ ویسے ہی کھڑے ہوتے ہیں جیسے ہمارے والدین ہوتے تھے۔۔۔
    اچھا ہمارے گھر میں ایک اور اچھی بات تھی کوئ بھی بات ہو۔۔۔مسئلہ ہو۔۔۔یا کسی کے رشتے وغیرہ کی بات ہو۔۔ابا جی ہم سب سے مشاورت ضرور کرتے تھے۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں کافی چھوٹا تھاجب میری بڑی بہن کا رشتہ آیا تو ابا جی نے مجھ سمیت سب بہن بھائیوں سے مشورہ کیا تھا۔۔۔ اکثر دیگر امور میں بھی وہ ہمیں مشاورت میں شامل رکھتے تھے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میں بھی اپنے گھر میں کسی بھی امور پر اپنی فیملی سے مشاورت کرتا ہوں اور ہمارے گھر میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں باہمی رضامندی سے ہی ہوتے ہیں۔۔۔
    ایک بات اور۔۔۔میرے گھر میں صفائ کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا والدہ بغیر ہاتھ دھوئے کچن میں بھی نہیں جاتی تھیں اور ہمیں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔گھر ہمیشہ شیشے کی طرح دمکتا رہتا تھا۔۔۔ جھوٹ بولنے کو اور گندے الفاظ کے استعمال کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔۔۔اور اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ ہی عادت ہم سب بہن بھائیوں میں بھی ہے سب کے گھر صاف ستھرے روشن ۔۔اور ہمیشہ ہی سچ اور ستھرا ہی بولتے ہیں۔۔۔۔
    تو دوستوں! یہ تمام عادات جو ہمیں اپنے والدین سے ملیں اور ہم نے بھی وہی طرز زندگی اپنے انفرادی گھرانے میں بھی اپنائ ہے۔۔۔اب ماشاء اللہ میری اولاد بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہے۔۔۔ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے والدین نے ہمیں سرکاری اسکولوں میں ہی پڑھایا اور بڑے نے چھوٹے کو پڑھائ میں رہنمائ کی اور اس نے اور نیچے والے کو ۔۔اس طرح ٹیوشن سے بھی دور رہے۔۔۔ ہماری تربیت توازخود ہی ہوتی رہی۔۔۔ نہ کوئ بھاری فیس والا اسکول ۔۔۔اور نہ کوئ قیمتی ٹیوشن۔۔۔ سب بہن بھائ ماشاءاللہ اس معاشرے میں ایک کامیاب باعزت زندگی بھی گزار رہے ہیں۔۔اور اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے ہمارے گھر سے ایسے جملوں کی آواز بھی نہیں آتیں جن کا زکر میں نے مضمون کے شروع میں کیا ۔۔

    @Azizsiddiqui100

  • عمران خان ، پاکستان اور افغانستان تحریر ملک منیب محمود

    ۔ افغانستان جو 1980 کی دہائی سے جنگ زدہ ملک ہے ، طالبان کے ایک اور ممکنہ قبضے کی طرف بڑھ رہا ہے ، جیسا کہ اس نے 1996 میں کیا تھا۔ پاکستان نتائج اور ایک اور ممکنہ خانہ جنگی سے پریشان ہے۔ دوحہ معاہدے کے بعد امریکی اور نیٹو افواج تیزی سے افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگست تک اپنی فوجیں نکال لے گا۔ یہ موقع دیکھ کر طالبان نے بڑی تعداد میں اضلاع پر تیزی سے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین سیاسی تصفیہ کے بغیر افغانستان سے نکل رہا ہے جسے جلد شروع کیا جانا چاہیے جو کہ افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔
    پاکستان اس صورتحال سے پریشان ہے اور پرامن اور سیاسی طور پر مستحکم افغانستان چاہتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں ، اور تین دہائیوں تک 30 لاکھ افغان مہاجرین کی خدمت کی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے مہاجرین کی ایک اور لہر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے اور عمران خان کیا سوچتے ہیں ، ہم بات کریں گے۔ پاکستان کیا چاہتا ہے؟ بھارت ، ایک انتہا پسند وزیر اعظم کی سربراہی والا ملک ، پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے اور پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ ایک وسیع حقیقت ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قندھار اور کابل میں بھارتی قونصل خانے درحقیقت پاکستان میں دہشت گردوں کی نگرانی کے مراکز ہیں۔
    پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین خطے میں اپنے مفادات کے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی اس کے لوگوں کے خلاف کسی کے ہاتھوں۔ پاکستان دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کو برداشت کر رہا ہے اور کئی فوجی کارروائیوں کے بعد بالآخر امن بحال ہوا ہے۔ پاکستانی چاہتے ہیں کہ یہ امن قائم رہے اور کسی کی سرزمین سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر طالبان لڑائی کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ اس کے دشمنوں کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ افغانستان کی زمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔ دراصل پاکستان اپنے لوگوں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں کون حکومت کرے گا یہ پاکستان کا کاروبار نہیں ہے۔ پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو افغان عوام کے لیے قابل قبول ہو۔
    اگر طالبان افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ممکنہ طور پر خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ ماضی کی طرح خطے میں پناہ گزینوں کے بحران کا باعث بنے گا۔ پاکستان اپنی کمزور معاشی صورتحال کے باوجود تقریبا 3 30 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ اور مہاجرین کی ایک اور لہر ، جو کہ تقریبا 7 7 سے 8 لاکھ لوگ ہیں ، پاکستان برداشت نہیں کرے گا۔ عمران خان کا افغانستان کے بارے میں نظریہ امریکہ ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے افغانستان سے نکل رہا ہے ، جو 2001 کے بعد پرامن حل کا پہلا آپشن ہونا چاہیے تھا۔ جب امریکہ جنگ میں گیا تو یہ تباہ کن تھا کیونکہ پورے خطے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو فضائی اڈے دیے جس سے افغان آبادی میں نفرت پیدا ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر دوڑ گئی۔
    عمران خان پاکستان کی واحد سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے 2001 سے فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی تصفیے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت عمران خان کو سیاسی تصفیے سے متعلق اپنی پوزیشن کے لیے "طالبان خان” کہا جاتا تھا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان صحیح تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ، خان نے امریکیوں اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی نشست کا استعمال کیا۔ عمران خان سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتے ہیں۔ ماضی کے برعکس ، بطور وزیراعظم عمران افغانستان پر حکمرانی کے حق میں نہیں ہیں۔ عمران جو چاہتے ہیں وہ افغانستان میں حکومت ہے جو افغانوں کے لیے قابل قبول ہے۔ کون ہوگا ، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ طالبان کی حکومت ہے تو یہ پاکستان کے لیے قابل قبول ہوگا اگر افغان عوام اسے قبول کریں۔
    عمران افغانستان میں شورش اور خانہ جنگی کی مخالفت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اگر طالبان تشدد کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے تو پاکستان اپنی سرحد بند کر دے گا۔ یہ مہاجرین کی ایک اور لہر کو خانہ جنگی سے ابھرنے سے روکنا ہے۔ کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے پاکستان پناہ گزینوں کے ایک اور بحران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عمران خطے میں معاشی روابط بڑھانے کی کوشش میں پاکستان کو جیو پولیٹکس سے جیو اکنامک پالیسیوں میں بھی منتقل کر رہے ہیں۔ عمران وسطی ایشیا کو پاکستان کے لیے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے ایک بڑی منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک وژن بھی رکھیں جو ان ممالک کے درمیان مضبوط معاشی بندھن بنائے گا اور یہ پورے خطے کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہوگا۔ لیکن اس کا انحصار افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر ہے۔ جب اشرف غنی افغان امن عمل میں پاکستان کے "منفی کردار” کے بارے میں بات کرتے ہیں تو عمران نے موقع پر ہی واضح کر دیا کہ منفی کردار پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، پھر ہم اس کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟ پاکستان طالبان اور دیگر گروہوں کے ساتھ سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ عمران یہ بھی چاہتا ہے کہ جو بھی افغانستان پر حکمرانی کرے وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کرے۔ خاص طور پر بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری پر۔ وہ ایک سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتا ہے ، جو تجارتی اور اقتصادی تعلقات اور ترقی پر توجہ دے۔ اور یہ خطے میں کسی کے مفادات کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کے لیے تیار رہنا چاہیے اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے ایک مشکل دن آگے ہے ، اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ عمران خان کا افغانستان کا وژن مثبت سمت میں آگے بڑھے گا اور افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی اور سیاسی تعلقات بنائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا ، ورنہ یہ خطے میں ایک نئی تباہی کا آغاز ہوگا۔

  • صرف خواب نہ دکھائیں… تحریر جام محمد ماجد

    مملکت خداداد
    پاکستان کو ایک عظیم فلاحی اسلامی ملک بننا تھا لیکن یہاں جو بھی حکمران برسراقتدار آیا اسلام بیزار اور امریکہ اور یورپ کا وفادار طبقہ ہی مسلط رہا جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا یہ مذہب بیزار طبقہ جن کا مفاد امریکی غلامی سے وابستہ رہا اس لئے کسی بھی حکمران نے کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی کیوں کے پاکستان کو قائم ہوے ستر سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن عوام کی حالت جوں کی توں ہی ہے کیوں کے آج تک کسی حکمران یا پارٹی نے کبھی سنجیدہ ہو کے عوام کے بارے میں اصلاحاتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جس وجہ سے پاکستانی قوم کو جو بھی حکمران آتا ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتا اور محرومی کی چکی میں پسی عوام پھر سے اسی امید پر سہانے خواب سجا لیتی کیوں کے یہاں یہ رواج عام ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ عوام کو سنہرے خواب ضرور دکھائے جاتے ہیں جن پر یہ بھولی بھالی عوام گزشتہ ستر سال سے یقین کرتی چلی آرہی ہے لیکن بد قسمتی سے خواب ہیں جو پورے ہی نہیں ہو رہے خوابوں کی تعبیر کے پیچھے بھاگتی بھاگتی جب پاکستانی عوام اپنا سفر طے کرکے مطلوبہ مقام پر پہنچتی ہے تو اسے یہ دیکھ کر شدید حیرانی اور پریشانی ہوتی ہے کہ وہ جسے منزل مقصود کا آب حیات سمجھ رہی تھی وہ تو دراصل ریت پر مشتمل ایک ریگستان ہے جسے سراب کہہ سکتے ہیں۔
    ستر سالوں سے منز ل مقصود کی متلاشی پاکستانی قوم کسی رہبر کی تلاش میں ادھر ادھر سرگرداں نظر آتی ہے لیکن طویل تر سفر کے باوجود وہ بالآخر نقطہ آغاز پر واپس پہنچ جاتی ہے گول دائرے میں ایک عرصے سے جاری ہماری قوم کایہ سفر صفر سے شروع ہو کر بالآخر صفر پر ہی پہنچ جاتا ہے اور حکمران عوام کو ایک اور خواب کے پیچھے لگا دیتے ہیں جس کی منزل ہی نہیں ہوتی خدا جانے ہم کب تک اس سراب کے پیچھے بھاگتے اور اپنے لیڈروں سے دھوکا کھاتے رہیں گے؟میرا خیال ہے کہ جب تک کرپشن اور پیسے کی بنیاد پر استوار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا موجودہ گلا سڑا اور بد بو دار نظام تبدیل نہیں ہوتا اور ایک فلاحی اسلامی نظام جب تک رائج نہیں ہوتا پاکستان جو کے اسلام کا قلعہ ہے تھا اور رہے گا حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا کیوں کے اسلامی نظام ہی وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں پاکستان کی ترقی اور بقا وابستہ ہے کیوں کے ایک اسلامی نظام اور معاشرا ہی واحد حل ہے اور جب تک مساوات پر لوگوں کو انصاف اور حق نہیں ملتا وطن عزیز حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔
    اس کے لئے ضروری ہے کے پاکستان کو قائد اور اقبال کے نظریہ فلسفہ اور سوچ کے مطابق ڈھالا جائے حقیقی فلاحی اسلامی مملکت بنایا جائے کے جس میں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں اور سب شہری آزادی سے چاہے وہ کسی بھی رنگ نسل اور مذہب کا ہو بے خوف و خطر زندگی گزار سکیں
    پاکستان زندہ باد ہمیشہ پائندہ باد…
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں ….
    @Majidjampti

  • عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    میں آج بات کر نا چاہتی ہوں’’ کمز ورعورت‘‘ کے بارے میں ۔’’کمز ورعورت‘‘ ہمارے معاشرے کا دیا گیا عورتوں کو ایک ایسا لقب ہے جسے ہمارے معاشرے کی خواتین نے دل کھول کر قبول بھی کیا ہے یہ چ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتی ہے مرد کے ایک تھپٹر سے گر جاتی ہے۔ وہ روحانی لحاظ سے بھی کمزور ہوتی ہے۔ اپنوں کی جھوٹی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے والدین کی عزت کی خاطر اپنے حقوق بھلا دیتی ہے، بھائی کی غیرت کی خاطر اپنی خواہشوں کو مار دیتی ہے۔

    سرال کی نا انصافیاں، ظالم شوہر کی مار پیٹ صرف اس رشتے کو بچانے کی خاطر سہتی جاتی ہے اپنی زبان سی لیتی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی کیونکہ ماں باپ نے تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا ہے کہ یہی نصیب ہے تمہارا اس کے ساتھ گزارا کرو اس طرح وہ پوری زندگی ظلم سہتی سہتی بوڑھی ہوجاتی ہے۔اپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا آپ مٹادیتی ہے ۔چ ہے وہ بیٹی بن جاۓ یا بہن بیوی بن جاۓ یا بہو یا پھر وہ ماں ہی کیوں نہ بن جاۓ ہر رشتے میں ہر صورت میں وہ کمزور ہی تو ہوتی ہے لیکن کیاوہ پیدائشی کمزور ہوتی؟ یا پھر اللہ نے ہی اسے کمزور پیدا کیا ہے؟ کیا وہ خدا کی اتنی ہی کمزور مخلوق ہے؟ میں نے اسکا جواب ڈھونڈ نے کی کوشش کی مگر کہیں بھی کسی بھی کتاب یا قرآن کی کسی بھی آیت میں مجھے ایسا کہیں کچھ نہیں ملا جس کی تفسیر کہتی ہو کہ عورت غیرت کے نام پر قتل ہونے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورے شوہر کی مار پیٹ اور سسرال کے طعنے سنے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورت اپنے بچوں کی نافرمانی برداشت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں نے کہیں یہ لکھا ہوانہیں پڑھا کہ وہ تمام ظلم اور زیادتیاں خاموشی سے سہنے کی پابند ہے۔

    اسلام میں کہیں بھی ایسا کوئی ذکرنہیں تھا اسلام کہتا ہے کہ وہ پردہ کرنے کی پابند ہے ، وہ اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوۓ زندگی گزارنے کی پابند ہے،

    کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کالج جاۓ گی تو بگڑ جاۓ گی، ایسا کیوں ہوتا ہے یہ صرف تربیت پر منحصر ہوتا ہے، اگر عورت پسند کی شادی کرنے کا حق رکھتی ہے تو پھر کیسے کوئی اپنی جھوٹی غیرت کا مسئلہ بنا کر اس سے چھین لیتا ہے؟ وہ اپنے شوہر سے عزت کی حقدار ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ شو ہراسے مارنے پیٹنے کا حق رکھتا ہے؟ وہ اپنی اولاد کی جنت ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ اولاد اپنی جنت سے نافرمانی کرسکتی ہے؟ تو کیا عورت واقعی کمزور ہے یا اسے کمزور بنایا گیا؟ پیدائش کے پہلے دن سے اسکے پاؤں میں اصولوں کی زنجیر ڈال دی جاتی ہے، جھوٹی غیرتوں کی بیڑیاں ڈال کر اسے کمزور بنا دیا گیا۔ وہ بچوں کی پیدائش کے اگلے ہی دن پورے گھر کا کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ پھراسے کہا گیا کہ وہ کمزور جسم کی مالک ہے وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر دیتی ہے۔ وہ جواپنے شوہر کی خوشی کے لئے اپنا آپ لٹا دیتی ہے، وہ جواپنی اولا دکا پیٹ بھرنے کے لئے خود بھوکی سوجاتی ہے، اس اولا د نے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جانے کے بعداسکی جانب دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ تو کیا عورت کمزور تھی؟

    نہیں!! اسے کمزور بنایا گیاہے وہ کمزور نہیں تھی۔ وہ آج بھی کمزور نہیں ہے، عورت تو بہادر ہوتی ہے، عورت تو طاقتور ہوتی ہے، وہ جب اپنے لئے قدم اٹھاتی ہے تو راستے خود ہی بنتے چلے جاتے ہیں ۔وہ جب ان تمام مظالم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ظالم خود ہی کمزور ہونے لگتے ہیں۔ وہ جب اپنے حقوق حاصل کر نے پر آتی ہے تو اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

    حقیقت یہی ہے کہ اس اللہ نے عورت کو کمزور نہیں بنایا۔ اس نے اسے خاص بنایا ہے۔

    تحریر: مریم وحید

    @meryamWaheed

  • قاسم علی شاہ تحریر-محسن ریاض

    قاسم علی شاہ تحریر-محسن ریاض

    تمام پاکستانی جو سوشل میڈیا کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہوں گے یا استعمال کرتے ہوں گے وہ یقیناً اس نام سے واقف ہوں گے- قاسم علی شاہ ایک معلم ، موٹیویشنل سپیکر ہیں اور پوری دنیا میں ان کو مثبت سوچ پھیلانے کا باعث بننے کی وجہ سے بہت زیادہ سراہا جاتا ہے اس وقت پاکستان میں ان کی فاؤنڈیشن بھی فعال ہے جس کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو اس طرح تیار کرنا ہے کہ وہ ایک ایسی زمدگی بسر کریں جس کا انہوں نے خواب دیکھا ہو-اس وقت وہ بارہ کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی کتاب بڑی منزل کے مسافر نے سیل کے کئی ریکارڈ بنائے ہیں سوشل میڈیا اس وقت ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو ہر انسان کے ہاتھ میں ہے اور وہ بنا سوچے سمجھے چلا رہا ہے کئی بار تو اس کو درست استعمال کیا جاتا ہے مگر کئی دفعہ اس کو غیر مناسب انداز میں استعمال کیا جاتا ہے ایسی ایک مثال آپ قندیل بلوچ کے حوالے سے سیکھ سکتے جس کو آخر کار موت کی وادی میں سونا پڑا ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا جب کسی نے قاسم علی شاہ کی چند ایسی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال دیں جس میں انہوں نے قمیض نہیں پہنی ہوئی تھی اس پر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا -لوگوں نے بغیر کچھ جانے یا سوچھے طرح طرح کی باتیں بنایا شروع کر دی غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں-ٹویٹر پر ایک صارف واصف نے یہ لکھا کہ ابھی تو اصل کھیل شروع ہوا ہے آپ انتظار کریں تھوڑی دیر بعد قاسم علی شاہ کی ویڈیو اپلوڈ کروں گا جس میں وہ رنگرلیاں منا رہے ہیں اور کئی عورتوں کے ساتھ ناچ رہے ہیں ایک اور صارف عدنان نے لکھا کہ یہ قاسم علی شاہ ایک بہروپیہ ہے جس نے دانائی کا بھیس بدلا ہوا ہے جبکہ یہ ایک درندہ ہے جس نے کئی لڑکیوں کی زندگیاں بربا د کی ہیں اور آواز اٹھنے پر ان کو پیسے دے کر یا پھر طاقت کے زور پر دبا دیا گیا ہے اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ ٹرینڈنگ میں چلنے لگا اور قاسم علی کو خود آ کر ان تصویروں کے معاملے کی وضاحت دینی پڑ گئی-قاسم علی شاہ نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری فیملی یہ دیکھ کر ہنس رہی ہے کہ لوگ کیا کیا کہہ رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ تصویریں ان کے گھر کہ اندر کی ہیں اور انہوں نے خود بنائی ہیں اور تین سال پرانی ہیں انہوں نے اپنے گھر کی موجودہ تصویریں بھی شیئر کی اور دیکھایا کہ جو بیک گراؤنڈ تصویروں میں ہے وہی اب بھی ہے اور وہ اکثر کھر میں دھوتی اور بنیان میں ہوتے ہیں اس دن بھی میں ایک ایسے ہی لباس میں ملبوس تھا -اس کے علاوہ انہوں نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جو لوگ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ ابھی ویڈیوز آنے والی ہیں شائد وہ مایوس ہوں گے کیونکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے-اس کے علاوہ انہوں نے تصویریں لیک ہونے کے بارے میں بتایا کہ موبائل میں خرابی کے باعث اسے مکینک کی پاس بھیجا گیا اور وہاں سے یہ تصویریں لیک ہوئی جن کی وجہ سے یہ سارا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے آخر میں قاسم علی شاہ نے رب کی رضا کے لیے ان تمام لوگوں کو معاف کر دیا جو اس پراپیگنڈے میں شامل تھے اور ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے تھے -اب آتے ہیں اس طرف کہ یہ معاملہ کیوں پیش آیا یوں تو اس کی کئی وجوہات ہیں مگر جو اہم ہے وہ ہماری دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے سب سے پہلے مکینک نے کوتاہی کرتے ہوئے تصویریں لیک کی اس کے بعدلوگوں نے بغیر کسی ثبوت کے باتیں بنائی شروع کر دی اور عزت اچھالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا -کاش ہم ایک بہتر معاشرے کی تخلیق کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مہنگائی اور حکومت تحریر:محمد وقاص شریف

    کہا گیا تھا کہ مہنگائی حکومت میں بیٹھے مافیا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو اپنے مفاد کی خاطر ذخیراندوزی کرتے ہیں اور پھر قلت کا فائدہ اٹھا کر منہ مانگے داموں پر اشیاء فروخت کرتے ہیں
    کہا گیا تھا کہ قرض کرپشن کک بیک اور بھتہ خوری کے لیے لیا جاتا ہے۔
    کہا گیا تھا کہ بیروزگاری ناقص حکومتی پالیسوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
    کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینا غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہے تاکہ ملک غیروں کا ہمیشہ کے لئے محتاج رہے اور ان کی ڈکٹیشن پر چلے
    کہا گیا تھا کہ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھو حکمران کرپٹ ہیں
    کہا گیا تھا اسٹاک ایکسچینج گرجائے تو اس کی وجہ حکومتی ناقص معاشی پالیسی ہوتی ہے
    کہا گیا تھا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین سفید ہاتھی منصوبے ہیں۔
    کہا گیا تھا کہ موٹروے انڈرپاس اس اوورہیڈبرج اور فلائی اوور سے قوم نہیں بنتی
    کہنے والے جب یہ سب کہہ رہے تھے تو شاید ان کو یہ پتہ نہ تھا
    کہ بہت جلد ان کا کہا انہیں کے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔ اور انہیں اپنے ایک ایک کہے پہ ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درج بالا نکات میں سے ایک نکتہ بھی ایسا نہیں جن کو دو یا چار سے ضرب دیکر
    عوام کے آگے نہ رکھا گیا ہو۔ اقتدار سے باہر رہ کر زبان چلانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ملک خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا یہاں سو طرح کے حقیقی مسائل ہوتے ہیں
    اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں نئے مسائل بھی جنم لے لیتے ہیں۔ حکومت ایسا جال ہوتا ہے جس میں سانس تو لی جا سکتی ہے۔ مگر باہر نہیں آیا جا سکتا۔ پی پی پی اور مسلم لیگ پر لعن طعن کرنے والوں کو اقتدار میں آکر پتہ چل گیا ہے۔ کہ اگر ہم سچے تھے تو جھوٹے یہ بھی نہیں تھے۔ پچھلی دونوں حکومتیں اتحادیوں کے زور بازو پر ضرور بنیں۔ مگر ان کے پاس سادہ اکثریت ذاتی طور پر موجود تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک ایک دن گن کے گزارا اور جیسے تیسے مدت پوری کی۔ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو ذاتی طور پر سادہ اکثریت ہے۔
    اور نہ ہی ایسے اتحادی ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ان کے لیے فطری حثیت رکھتے ہو ں ایک اتحادی بھی سلپ ہوگیا تو خان منہ کے بل گر جائے گا۔ مہنگائی کا طوفان ان کے اپنے لوگوں نے برپا کیا ہوا ہے۔ تیاری اگلے الیکشن کی ہو رہی ہے اگر مافیا کو من مرضی نہ کرنے دی گئی
    تو جہانگیر کا تیز ترین جہاز نہیں اڑ سکے گا۔ اور اگلا الیکشن خطرے میں پڑ جائے گا۔ آنکھیں بند کرکے مہنگائی کی اجازت چند ہفتوں کے لیے دی گئی ہے۔ تاکہ اگلے الیکشن کے لیے فنڈز کا مسئلہ حل ہو جائے۔ یہ مسئلہ حل ہوتے ہی ستمبر کے آخر تک
    روزمرہ استعمال کی گیارہ اشیاء کو معمول پر لایا جائے گا۔ اور کامیابی کا جشن منایا جائے گا
    کہ مہنگائی کنٹرول ہو گئی۔ غریب عوام کے ساتھ بہت بڑا ہاتھ کیا گیا۔ کتیا چوروں کے ساتھ مل چکی ہے۔ مڈٹرم الیکشن کا فیصلہ اندریں خانہ ہوچکا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ بیساکھیوں سے جان چھوٹ جائے اور ایک مضبوط حکومت دوبارہ بنائی جائے تاکہ اتحادیوں کی بلیک میلنگ سے نجات مل جائے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ عوام پر جو پچھلے اٹھارہ ماہ سے ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے
    یہ کرب ان کے دل و دماغ بلکہ خون کا حصہ بن چکا ہے۔ جسے کسی بھی لالی پاپ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے جو بربادی کرنی تھی کر چکی۔ اب عوامی ردعمل کا ٹائم ہے۔ اب عوامی سونامی تیار ہو چکا ہے
    عوام حکومتی نااہلی سے واقف ہو چکی ہے۔ تالیاں بجانے والے بھی نادم ہیں۔ اور تھپکی دینے والے بھی شرمندہ ہیں۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ غلط گھوڑے پر ہاتھ رکھ بیٹھے ہیں
    میدان خالی کرانے والے بھی تیار ہیں۔ اور گھوڑا بھی بھاگنے پہ راضی ہے عوام تو پیں نکال کر انتقام نہیں لیتی۔ جس طرح لاتی ہے اسی طرح بھگا دیتی ہے.
    @joinwsharif7

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05 تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 4 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے ملاوٹ اور دھوکا دہی سے کماۓ پیسے انسانی زندگی کو فلوج کیا ہوا ہے یہ معاشرے کا ایسا ناسور ہے جس کو ختم کرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتے جب تک انسان کی سوچ نہیں بدلتی ۔ اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا یہ سب دھندے عروج پر ہیں

    سبزیوں پر رنگ کرنا:
    سبز پتوں والی سبزیاں صحت کیلئے قیمتی ہوتی ہیں، لیکن اب ان میں بھی اصلیت نام کی حد تک محدود رہ گئی ہے ۔ کیمیکل کی مدد سے ان کی پیداوار بڑھائی جارہی ہے اتنا ہی نہیں کریلے، بھنڈی، بیگن، ہری مرچ اور مٹر سمیت بہت ساری سر سبز سبزیوں کو ہرا اور تازہ رکھنے کے لئے سینتھٹک رنگ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہی حال پھلوں کا بھی ہے، پھلوں کو تازہ، میٹھا اور چمک دار بنانے کے لئے کیمیکل کا استعمال بے روک ٹوک ہورہا ہے۔ ہری سبزیوں کی قدرتی پیداوار کے ساتھ ملاوٹ کا دھندہ عروج پہ ہے اسی طرح سبزیوں کو کیمیکل کی مدد سے ایک ہی رات میں کافی بڑا کردیا جاتا ہے، جن میں لوکی، کریلا، تربوز، خربوز، کھیرا ککڑی سمیت دیگر سبزیاں شامل ہیں بہت سارے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جس کھیرے اور ککڑی کو وہ سلاد میں استعمال کرکے کھارہے ہیں وہ صرف ایک ہی رات میں 10 سے 12 گھنٹے میں پوری طرح تیار ہو جاتے ہیں۔

    پیٹرول میں گندا تیل:
    پاکستان میں ہر جگہ ملاوٹ ہو رہی ہے تیل کے ملاوٹ سے ہم جو موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ اثر انداز ہو رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موٹر سائیکل یا گاڑی میں ڈالا گیا تیل ملاوٹ سے پاک ہے یا نہیں تو کس طرح چیک کر سکتے ہیں
    1- سب سے پہلے ایک سفید رنگ کا کاغذ لیں اور اس کے اُوپر چند قطرے پٹرول کے ڈال دیں اِس کے بعد اُس پٹرول کو منہ سے پھونک نکال کر خشک کریں اگر پٹرول خالص ہوا تو ہوا میں اُڑ جاۓ گا اور سفید پیپر بالکل صاف ہوگا اور اگر پٹرول ملاوٹ شدہ ہوا تو وہ داغ چھوڑ جاۓ گا اس کا مطلب یہ ہوا جو ہم پٹرول استعمال کر رہے ہیں اس میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کی گئی ہے
    2- پٹرول میں کچھ لوگ ریزن کا استعمال بھی کرتے ہیں یہ ٹھوس اور مائع دونوں حالتوں میں دستیاب ہوتا ہے اس کو جلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس کو چیک کرنے کیلئے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی ہے کہ نہیں اس کیلئے ایک پیالی لیں اس میں تھوڑی سی مقدار میں پٹرول ڈال دیں اب اس پٹرول کو آگ لگا دیں اگر آگ لگنے کے بعد پٹرول کے ساتھ پیالی کے پیندے کو بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ کالی ہو گی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی گئی ہے اسی طرح اگر وہی پٹرول ملاوٹ سے پاک ہوگا تو اس پیالی کے پیندے کو صاف ستھرا پائیں گے

    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل:
    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل کا بہت استعمال کیا جا رہا کھانے کی اشیاء سے لے کر کھیلنے کی ایشیاء تک ہو ہر ایک چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے اور بچے کھیلتے وقت کھیلونوں کو منہ میں ڈال لیتے ہیں جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اس لئے بچوں کو جو کھلونے دیں ان کو روزانہ کی بنیاد پر اچھی طرح اچھے محلول سے دھو کر دیں (جو جراثیم وغیرہ سے بھی پاک ہو)

    گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا:
    جیسا کے آپ سب جانتے ہیں گوشت ہر گھر کی ضرورت ہے اور لوگ بڑے شوق سے بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے جس جانور کا گوشت آپ لے رہے ہیں کیا وہ تندرست ہے یا بیمار یہ ہمیں پتا نہیں چلتا اسی طرح کیا گوشت میں پانی کے انجیکشن لگاۓ جارہے ہیں کہ نہیں
    ایسی ملاوٹ کی روک تھام کیلئے فوڈ سیفٹی اتھارٹی موجود ہے لیکن تمام زمہ داری تاجروں پہ ڈال دی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رشوت خور رشوت لےکر اپنا کام ایمانداری سے سرانجام نہیں کرتے
    کسی بھی جانور کے گوشت میں پانی کے انجیکشن سے مراد ہے کہ جس جانور کو صبح ذبح کرنا ہو اس کو رات کے وقت ہی نتھنوں سے ایک ٹیوب گزار کر جسم میں پانی بھر دیا جاتا ہے یہ عمل جانور کیلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور پھر وہ پانی نظام انہضام کے ذریعے جانوروں کے خون اور خلیوں میں شامل ہو جاتا ہےاس سے گوشت کے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح کرنے سے جانور زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا اس لیے ذبح کرنے سے کچھ گھنٹے پہلے اس طرح کا عمل کرتے ہیں
    زندہ جانوروں میں پانی لگانا نہ صرف ظالمانہ ہے ، بلکہ ہمارے ملک کے متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور کھانے کی حفاظت میں بھی بہت سے خطرات سامنے آتے ہیں

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح لوگ بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مردہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں تاکہ عوام باخبر ہو اب تو لوگوں کا شیوہ بن گیا ہے دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کے لین دین سے خفیہ طریقے سے پیسے کمانا لیکن لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی ہے کہ ہم کہاں ملاوٹ کر رہے ہیں اس ملاوٹ کو دور کریں اور اپنے بچوں کو حلال روزی کھلائیں یاد رکھیں ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو ضرور دیکھنا چاہیے ہم کیا ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ؟ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha