Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اردو میٹھی زبان تحریر۔۔فرزانہ شریف

    اردو میٹھی زبان تحریر۔۔فرزانہ شریف

    ہر پاکستانی کی طرح میرا دل بھی شدت سے چاہتا ہے کہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ان کی زبان بولی جاتی ہے ویسے ہی ہمارے ملک میں ہماری ذبان بولی جائے اتنا میرا ملک ترقی کی منازل طے کرلے کہ پھرمیرے ملک میں رہنے والوں کو اردو زبان بولتے ہوئے شرم نہ آئے یا احساس کمتری کا احساس نہ ہو یہ بات بیرون ملک آکر میں نے بہت شدت سے محسوس کی کہ ہم خود کو بڑا ایڈوانس اور کوئی اونچی شے شو کرنے کے لیے اپنے بچوں کو فل انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلواتے ہیں اور فخر سے اپنے رشتےداروں کو بتاتے ہیں کہ جہاں ہمارا بچہ پڑھ رہا ہے وہاں مکمل آکسفورڈ کا نصاب ہے اردو کی بکس نہیں تو یہاں سے ہی ہماری قومی زبان کی بے حرمتی شروع ہوجاتی ہے ہمیں سب کو انفرادی طور پر اپنا آپ بدلنا ہوگا اگر چاہتے ہیں کہ ہماری ذبان کو بھی عزت ملے ۔مانتی ہوں انگلش انٹرنیشل زبان ہے بعض جگہ پر بولنی ضروری بھی ہوجاتی ہے اپنا پیغام کو بہتر انداز سےرسائی دینے کے لیے۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی زبان کو بھول ہی جائیں ہمارے بچے انگلش میں بات کرنی ذیادہ آسان سمجھیں بنسبت اردو کے ۔اور ہم اپنے بچوں کو فر فر انگلش بولتے ہوئے دیکھ کر واری صدقے جانا شروع ہوجائیں ۔۔ا
    پاکستان کا ماحول ہی ایسا بن چکا ہے بچے تو بچے بڑے بھی اردو کے بجائے انگلش میں بات کرنا ذیادہ آسان سمجھتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ سامنے والا انھیں کوئی بہت اونچی چیز سمجھ رہا ہے بڑا پڑھا لکھا سمجھ رہاہے ۔۔اور تو سکول میں بچوں کو کلاس میں بھی سختی سے انگلش میں بات کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے توان بچوں نے پھر انگلش میں ہی بات کرنی ہے ناں جیسا ماحول ویسی تربیت ۔۔۔!!
    اور اگر خوش قسمتی سے بچہ سرکاری سکول۔کالج میں داخل کروا دیں تو وہاں بھی دوسری قوموں کی غلامی کرنے پر ہماری پاکستانی قوم نمبر ایک پر ہی آئے گی فارسی ۔عربی کو لازمی نصاب میں شامل کیا ہوتا ہے ان مضامین میں پاس ہونا لازمی ہے ۔انگلش تو ہے ہی لازمی ۔اردو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے مطلب اس مضمون میں فیل بھی ہو جاو گے تو بھی کوئی بات نہیں آپ کو فیل نہیں مانا جائے گا بس انگلش میں پاس ہونا ضروری ہے ۔۔!!
    افسوس ہم احساس کمتری کے ماری قوم ہمیں اپنی پہچان پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے دوسروں کی پہچان کا رنگ اپنے اوپر حاوی کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ہمارا پھر وہ حساب بن جاتا ہے۔۔
    "کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ”
    بس یہ ہی کہنا چاہوں گی کہ ہمیں اپنی زبان کو ذندہ کرنا ہوگا ہر صورت ۔ہرقیمت پر ۔ہمیں طے کرنا ہوگا ہماری قومی زبان ہی ہماری دفتری زبان ہے یہ نہیں جس ملک سے ہمیں بھیک کے نام پر امداد مل جائے اسی کے گن گانے لگ جائیں اور اپنی روایات بھول جائیں اور اسی ملک کی زبان کے رٹے لگانے شروع کردیں
    تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے کہ کتنے ملک پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے تھے آج وہ ملک ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوچکے ہیں ہمارے ملک کو سب نے اپنے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا تھا ۔خوب نوچا گھسوٹا اور دوسرے ممالک میں بھاگ گے ۔ایک وقت تھا جرمنی نے پاکستان سے قرض لیا تھا آج جرمنی کہاں اور ہم کہاں ۔۔!!ابھی بھی ملک کی تباہی نکل جاتی اگر اللہ تعالی پاکستان کو صادق وآمین ملک کا سربراہ عنائت نہ فرما تا صد شکر ۔۔تو بات کررہی تھی اردو زبان کی ۔جو سکون بھری راحت میں اردو میں محسوس کرتی ہوں اپناناپن محسوس ہوتا ہے ایسا دنیا کی کسی زبان میں محسوس نہیں کیا میری کوشش ہوتی ہے کم ازکم اپنے پاکستانیوں سے اردو میں بات کروں غیر ملکیوں سے ان کی زبان میں بات کرنا ہماری مجبوری ہے ورنہ میرا بس چلے تو انھیں بھی اپنی زبان سکھا دوں ویسے کافی غیرملکی لوگوں کو جن کے ساتھ میری اچھی دعا سلام ہے ان کو السلام علیکم بولنا سکھایا ہے ۔۔۔
    ہماری پاکستانی عوام کو اب غفلت کی نیند سے جاگ جانا چاہئیے اپنے بچوں کو اپنے کلچر کے بارے میں بتاتے رہنا چاہئے ۔ اپنے بچوں کو بتانا چاہئیے کہ اردو بولنی کیوں ضروری ہے اردو زبان سے ہمارا کیا رشتہ ہے ۔اور اردو بولنا جہالیت نہیں اردو ہماری قومی زبان ہے ہمارا فخر ۔۔میں دوسروں کی کیا بات کروں میں اپنی کزنز سے کبھی وٹس آپ پر بات کروں تو وہ جواب انگلش میں دیتی ہیں اور میں دل میں کہتی ہوں ” ایڈی تسی انگلش دی جانشین "جیسے میں تو آپکو جانتی ہی نہیں ہوں ۔۔!!
    پھر میں تو اردو میں ہی جواب دیتی ہوں کبھی احساس کمتری محسوس نہی ہوا اپنی زبان بولتے ہیں الحمدللہ ۔
    اب پاکستان کے حالت بدل چکے ہیں ۔اب ہمیں اپنے گلے سے غلامی کا طوق اتار کر پھینک دینا چاہئیے کنویں کے مینڈک بن کر بہت ذندگی گزار لی اب اس حصار سے خود کو نکالنا ہوگا بحثیت قوم ہمیں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہونا ہوگا خود سے ابتدا کرنی ہوگی اور ایک تندرست معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اپنے لیڈر قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا۔۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    "نہیں بدلی کبھی ان قوموں کی حالت
    جن کو خیال نہیں آتا اپنی حالت خود بدلنے کا ۔۔ !!

  • غلط کو غلط کہیں گے  اور متحد رہیں گے انشاء الله –  تحرير حمیرا راجپوت

    غلط کو غلط کہیں گے اور متحد رہیں گے انشاء الله – تحرير حمیرا راجپوت

    ‏حالات وواقعات کی موجودہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پر لکھنے سے پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھ کر دھرانا ضروری سمجھتی ہوں کہ جیسا سب ہی جانتے کہ آجکل جنگوں کو طاقت کے زور پر لڑنے سے پہلے دنیا کو اپنا اچھا چہرہ دکھانا بھی ضروری ٹھہرتااور موجودہ دور ہی پروکسیز کی طاقت پر ملکوں کا معیار گرانا اور معیشت کو سنبھلنے نادیتے ہوئے چہره اتنا مسخ کردینا کہ دوسرے ممالک بھی بڑھ جڑھ کر حصہ لیں اور اسی ایماء 3طرح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے
    1 دنیا کی نظر سافٹ کارنر ہوکر اپنی پاور دکھانےکااثر ملتا ہے
    2 دوسر ے ممالک پر اپنی سپرویژن دکھا کر قدر بڑھانےکاموقع
    3 دوسرے ممالک کی طاقت اور پیسہ استعمال ہوجانے سےاپنے ملک کا پیسہ بچالیاجاتا ہے اب سب ہی جانتے کہ اچھےحالات وترقی میں بہتری سے وہی روکتے ہیں جو دشمن ہوتے ہیں اور اسلام مخالف قوتیں پاکستان مخالف طاقتیں ہر کمزور پہلو سے فائده اسی طرح اٹھاناچاہتی ہیں جس طرح تاریخ کا حوالہ دوں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منافقین کا سامنا رہا یاصلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں یاورلڈ وار 2 ہمیشہ سے میر جعفر و میر صادق جیسے لوگوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ کی بنیاد بنا کر جب سے معرض وجود ھمارا ملک آیا ہے دشمنان نوجوان اسلام کو بھٹکانے اخلاقی دینی اور اصلاحی معیار گرانے کے پیچھے پڑے ہیں کبھی جذبات کے نام پر بھٹکا کر بے چینی اور نقصان کا سبب بنا دیا جاتا ہے کبھی ڈس انفاریشن کی جنگ سے اب جب دھشت گردی الحمد الله 2001 سے 2012 والا وه اثر نہیں رکھتی اور جو ازلی دشمنوں کو15اگست کے دن ضرب لگ چکی اس تکلیف کا اثر ہے کہ یہاں معاشرے کے ایک کمزور پہلو کو اٹھا کر اپنے مقاصد کا حصول شروع کردیا گیا اور مستقبل میں بھی کمزور پہلو پرہی وار کیا جائے گا کیونکہ براہ راست ون آن ون الجھنے کے باجود اتحادیوں کی طاقت مدد کا ہونا سود مندی اور قابل یقین جیت سمجھی جاتی ہے اور انہیں واقعات کا فائده اٹھاکر اب مردو خواتین سوشل میڈیا یا عام زندگی کے حصوں میں بٹے جارہے ہیں یا بانٹ دیا گیااور یہاں آپس کے الجھاؤ سے فائدہ وه اٹھانا چاہتے ہیں جو عوت کیلئے صرف8 مارچ کو نظر آتے ہیں معاشرے کے اس بگاڑ میں سب سے بڑی کمزروی میڈیا کی ہے جو اپنی ریٹنگ کے چکر اسلامی اور اصلاحی پروگرامز اور اچھے مقرررین ہر مسلک کے وه عالم جو تفرقہ کی بات نہیں کرتے انہیں موقع کیوں نہیں دیتے کہ آئیں اور پروگرامز کا حصہ بنیں معاشرے کی اصلاح کیلئے اصلاحی پروگرامز صرف رمضان ٹرانسمشن کا حصہ نہیں 24 گھنٹے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ایسے پروگرامز کو دینا ہی ہوگا یہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وه بچے یا بچی کی خوشی ٹکٹاک جی آفت سے اصلاح کے دائرے تک رکھیں وہیں حکومت وقت بھی اگر اس ٹکٹاک کو بند نہیں کرتی تو خصوصی اس کے قوانین اور بھاری جرمانے عائد کرے تاکہ کوئی بے حودگی اور بگاڑ کے چانسز کم سے کم تر کئے جاسکے اور جذباتی حضرات میں شامل ہونے سے بہتر کہ جہاں جس کی غلطی ہو وہاں اسی کو قصوروار ٹھہرائیں بجائے کسی ایک کی طرف داری پر اپنا موقف دیکر اس پر قائم ہوجائیں حقیقت کھلنے پر بجائے عزیمت اٹھانی پڑے اور قوم کو اصلاح بھرا کچھ کہہ کر صحافت کا معیار بلند کرنے کو اپنے موقف پر انا بنا کر کھڑے رہنا انتہائی افسوس کا مقام بنتا ہے اور یہی بگاڑ کی وجوہات بھی بنتی ہیں آخر میں ایسے جذباتی حضرات کو سانحہ موٹروے یاد کروادیتی ہوں جس پر اب تک کسی نے موازنہ نہیں کیا کہ وہ بھی ایک عورت ہی تھی لہذا مردو خواتین کو معاشرے کے چند حیوانوں کی وجہ سے ملک اور معاشرےسےمتنفر کرنے والے اپنی توانائی معاشرے کے سدھار کیلئے استعمال کریں الحمد الله نامم بے چین ہونگے نامتنفر نا کسی کے غم تکلیف میں استعمال ہوکر ملک کا چہرہ بگاڑیں گے اللّه پاک قوم کو اپنے اسلامی معاشرے پر فخر سے کیساتھ ھمیشہ متحد اور ملک کوکام یابیوں کی جانب گامزن رکھے🤲آمین
    تحریر…
    ‎@humiraj1

  • خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جسے دنیا میں اپنی ایک مثال قائم کرنی تھی اور پوری دنیا ہمارے اس معاشرے کی تعریف کرتی اور ہمیں سراہتی دنیا بھر میں یہ بات واضح ہوتی اور ہر کوئی اس کو تسلیم کرتا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین محفوظ ہیں، اگر ہم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرتے،
    لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے اعمال سے ہم اس معاشرے کو دنیا میں تنقید کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں،
    مجھے نہیں پتا معاشرے کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے خوش خیالی اور بے انتہا آزادی کا نتیجہ ہے،

    تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ آزادی ہر عورت کا حق ہے وہ جس لباس میں چاہے جیسے چاہے اور جہاں چائے جا، آ، سکتی ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی نامناسب حرکات کرے،
    ہم بحثیت مشرقی اقدار سب سے بڑھ کر ایک مسلمان معاشرے کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں،
    یہاں ہمارے اعمال اور ہمارے طور طریقے اور ہماری تہذیب اور ہماری اقدار کو مناسب رویوں کے ساتھ ہے ہمیں اپنانا ہوگا۔
    ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور نامناسب رویوں کا بڑھتا ہوا اضافہ ہمارے لئے انتہائی شرم کا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،
    اور ہمیں پھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دنیا ہمارے اس عمل سے ہماری سوچ ہماری اقدار ہماری روایات کو برا سمجھتی ہے۔
    اور ہمارے لوگوں کا شمار دنیا کے بدترین لوگوں میں کیا جاتا ہے، ہمیں اپنی اس روایات کو بدلنا ہوگا جو ہم نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لی، ہمیں اپنے معاشرے اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کو تار تار ہونے سے بچانا ہوگا۔
    کسی بھی بچے، بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کی تباہی اور بربادی کو آواز دینے جیسی ہے،
    بطور ماں باپ بطور اساتذہ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہیں انہیں یہ سکھانا بہت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب واحترام اور شرم و حیا کا خاص خیال رکھنا ہے دین کے ساتھ جڑے رہنے سے ہم شیطانی وسوسوں سے دور رہ سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں،
    ورنہ ہمارے معاشرے کی اس بگڑتی صورتحال کو جلد کنٹرول نا کیا گیا تو ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا جو معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،
    اللّٰہ ہماری ماؤں بہنوں کو شرم والی چادریں نصیب کرے اور ہمارے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی شرم و حیا دے کہ وہ معاشرے کی دوسری خواتین کو اپنی مائیں بہنیں سمجھے اور انہیں عزت و احترام دیں اور معاشرہ ایسے جرائم اور ایسے واقعات سے محفوظ ہو جائے،
    سزا و جزا کے عمل کو ریاست ہے بہتر بنائے اور درندہ صفت انسانوں کو جو کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے انہیں ہمارے معاشرے ہماری اصلاح اور ہماری روایات کا قتل ہرگز نہیں کرنے دینا چاہیے انہیں ان کے ہر برے کام پر ان کو بدترین سزا سے گزارا جائے تاکہ اگر انسان بن سکتے تو بہت ہی اچھا ہو گا اگر نہیں تو وہ اسی طرح اور ہمیشہ کے لئے سزا کے مستحق ہیں،
    آئین پاکستان کی رو سے شہریوں کی عزت و ناموس ان کی جان اور ان کے مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ،
    اور ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے ایسے عمل سے ہمیشہ کے لئے باز رہے ہیں،
    اللہ ب ہدایتوں کوہدایت دے، آمین

    @zsh_ali

  • پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور   تحریر  نسیم کھیڑا

    پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور تحریر نسیم کھیڑا

    یہ خبر آج کل ہر چینل کی زینت بنی ہوئی ہے ہر کوئی اس کی coverage کرکے اپنے آپ کو انسانی حقوق, خواتین کے حقوق کا علم بردار ثابت کرنے کی کوشیش کر رہا rating بڑھ رہی ہے اور خوب رونق لگی ہوئی ہے اور ہم بھولے بھالے عوام گوں مگوں کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ کس کو سچ مانیں اور کس کو چھوٹ.
    جو ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے.
    خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
    آج کے جدید دور کو, جسے ہم ترقی یافتہ دور بھی کہتے ہیں حالانکہ ترقی مادی لحاظ سے ہے روحانی طور پر ہم ہم تنزلی کی جانب گامزن ہیں اس میں کوئی خبر چاہے چھوٹی ہو یا سچی, چُھپ نہیں سکتی اور اس خبر کے حوالے سے مزید خبریں ,تبصرے, آراء اور ہمدردیاں سامنے آتی ہیں. یہ بات ازل سے ثابت ہے کہ خیر اور شر دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اچھائی نہ ہو تو برائی کی پہچان ممکن نہیں برائی نہ ہو تو اچھائی کی شناخت کرنا ممکن نہیں
    اب آتے ہیں اس خبر کی طرف خبروں سے خبریں نکلتی ہیں اور ان خبروں سے حقائق سامنے آتے ہیں پنجابی میں کہاوت ہے.
    ” کملا گل کرے ,سیاڑاں قیاس کرے ”
    یہ لڑکی جو خود کو مظلوم کہتی ہے اور جس کے ساتھ ان اوباش نوجوانوں نے جو کچھ کیا کسی طور بھی اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا. ہم اس لڑکی کی بد کرداری , بدچلنی یا کسی بھی قسم کی کردار کشی کا گھر بیٹھ کر کوئی جائزہ فتویٰ یا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہمیں ہمارا مزہب اور قانوں اجازت دیتا ہے. لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس پورے معاملے میں لڑکی معصوم نہیں. اس نے خود اپنے fans / follower کو بلایا کہ ہم سب یومِ آزادی کو مل کر منائیں گے تم سب میرے دیوانے پروانے آجاؤ تمارے درمیان میں اپنی tik tok بناؤں گی اور مشہور ہوجاؤں گی. لیکن………… جناب گیم ہوگئی الٹی. وہ سب social media کے فرینڈز جھلائے ہوئے کتوں کی طرح اس پر چڑھ دوڑے
    "بھیڑ جب بھیڑیوں میں جائے گی تو کیسے جان کی امان پائے گی”

    اور اس بہتی گنگا میں جس نے نہیں بھی ہاتھ دھونے تھے دھولئے . اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اس نیک پروین لڑکی نے کسی تھانے میں اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شکایت نہ کی لیکن جب بد سلوکی کی وڈیو تشتِ ازبام ہوئی تو تیسرے دن اس نے یاسر شامی اور اقرار الحسن سے رابطہ کیا کہ مجھے آپ بھائی لوگ انصاف دلائیں. یہ اور اس قسم کے کئی لوگ تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ:
    ” کوئی خبر لگے اور ہمارا دھندہ چلے ”

    اس کے پیچھے کیا اسباب, واقعات اور حقائق ہوتے ہیں ؟ اس بات سے انھیں کوئی غرص نہیں ہوتی.
    بس اِس کے بعد کیا ہوا میں آپ تین چار روز سے دیکھ رہے ہیں نیوز چینل, انسانی حقوق, عورت فاؤنڑیشن, اداکار, اداکارئیں اینکرز غرض جس کو نہیں بھی بولنا بول رہا ہے اور اس واقعہ کی آڑ میں پوری دنیا کو بتا رہا ہے کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ دنیا کا غلیظ ترین معاشرہ ہے یہاں بائیس کروڑ انساں نہیں بلکہ بھیڑے رہتے ہیں . اور ہماری بُزدار حکومت( فارسی میں بُز’ بکری’ کو کہتے ہیں ) کی دوڈیں لگی ہوئی ہیں. ہماری پنجاب پولیس افراد کے نامعلام جم غفیر کی تلاش میں سرگرداں ہیے اور ایک 79 سالہ بزرگ کو بھی شاملِ تفتیش کرلیا ہے اور جلد مجرموں کو کیفرے کردار تک پہنچائے گی.
    پیڑاں ہور تے پکھیاں ہور.
    میں آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں برے لوگوں کے ساتھ اچھے بھی لوگ ہیں عورتوں کا ادب احترام کرنے والے بھی ہیں ہمارا معاشرہ اتنا بھی گندہ نہیں جتنا ہم اسے ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں. ہر خبر کو دیکھیں سنیں لیکن یقین سمجھ بوجھ سے کریں
    ‎@Naseem_Khera

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • عمر خیام کون تھا؟  تحریر: آصف شاہ خان

    عمر خیام کون تھا؟ تحریر: آصف شاہ خان


    ہمارے ہاں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جن کی اصل شہرت ہم نہیں جانتے ہیں اور ہمیں ان شخصیات کے صرف وہی کارنامے جانتے ہیں جو ان شخصیات کی زندگی اور ان کی شہرت میں ثانوی مقام رکھتے ہیں۔۔۔
    آؤ چلتے ہیں تخیلات کی دنیا میں اور عمر خیام پر اپنی بحث شروع کرنے سے پہلے ایک مثال لیتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو دیکھیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام سن کر ہمارے ذہنوں میں شاعری آتی ہے، اس میں شک نہیں کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری لاجواب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کو بھی جس وجہ سے شہرت حاصل ہے وہ اس کا فلسفہ ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ بیک وقت ایک عظیم فلسفی، ایک کامیاب وکیل⁦، ایک باستقامت رہنما اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں کے ذہنوں میں صرف اس کی شاعری ہے۔
    بالکل اسی طرح معاملہ عمر خیام کے ساتھ بھی ہے۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ پر پھر کبھی بات کرینگے آج چلتے ہیں عمر خیام کے بیت النجوم میں اور عمر خیام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔۔۔
    جیساکہ اوپر زکر کیا ہے عمر خیام کے ساتھ بھی علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا معاملہ ہے⁦، عمر خیام ایک عظیم ماہر فلکیات، ماہر علم نجوم، عظیم ریاضی دان اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا۔۔۔
    عمر خیام 1048ء میں نیشاپور کے ایک خیمہ ساز کے گھر میں آنکھ کھلی۔ ابتدائی تعلیم زمانے کے عرف کے مطابق حاصل کی۔ علمی و تحقیقی مضامین کی طرف ملن زیادہ تھا اس وجہ سے باپ کا پیشہ اختیار نہیں کیا بلکہ علمی دنیا میں سفر جاری رکھا۔۔۔۔
    جوانی میں عمر خیام باپ کے سایے سے محروم ہوگیا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم و تحقیق سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ۔۔۔۔
    سلطان الپ ارسلان کے روم کے خلاف ملاذگرد کی جنگ میں عمر خیام کی ملاقات سلطان الپ ارسلان کے بیٹے سلطان ملک شاہ سے ہوا اور اس کو تین پیشنگوئیاں کیں کہ جنگ میں فتح سلطان الپ ارسلان کی ہوگی لیکن بعد میں شہنشاہ روم اور سلطان الپ ارسلان فوت ہو جائینگے ۔۔۔۔
    خدا کا کرنا بھی ایسا ہوا۔ اس وجہ سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم نجوم پر کافی یقین پیدا ہوا، سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم سے کافی متاثر تھے۔
    اس جنگ کے بعد عمر خیام سلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں ریاضی کے ایک ماہر استاد سے ریاضی پڑھنے لگا۔ اس کے استاد نے اس کے اندر چھپی صلاحیتیں دیکھیں اور اس نے نظام الملک طوسی کو ایک خط بیجھا کہ عمر خیام میں بہت صلاحیتیں ہیں اگر اس کو موقع دیا جائے یہ بہت کچھ کر پائے گا۔ نظام الملک طوسی سلطان ملک شاہ کا وزیراعظم تھا اس نے عمر خیام کے بارے میں سلطان ملک شاہ کو بتایا۔ ملک شاہ پہلے سے عمر خیام کے علم کا گرویدہ تھا اس لیے بنا وقت ضائع کیے عمر خیام کو ایک تجربہ گا تعمیر کروایا عمر خیام کی خواہش پر جو "بیت النجوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ وہاں وہ مختلف تجربات و مشاہدات کرتا تھا۔ اور بعد میں سلطان ملک شاہ نے اس کو دربار میں منجم خاص کے عہدے سے نوازا۔۔۔۔۔
    عمر خیام کے وہ کارنامے جس کی وجہ سے ان کو شہرت ملی تھی ہم میں سے اکثر کو معلوم نہیں وہ صرف شاعری نہیں تھی بلکہ اس کے یہ کارنامے علم فلکیات، فلسفہ اور ریاضی کے شعبوں میں ہیں۔۔۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ شمشی کیلنڈر میں ہر چار سال بعد فروری 29 دن کا ہوتا ہے اور اس طرح سال 366 دن کا۔ یہ عمر خیام کا کارنامہ ہے عمر خیام نے سلطان ملک شاہ کے دور میں بیت النجوم میں سات سال کی مشکل محنت کے بعد یہ اندازہ لگایا تھا کہ سال میں 365 دن نہیں بلکہ 365 دن اور 6 گھنٹے ہوتے ہیں جو کل ملا کر چار سال میں ایک دن بنتا ہے۔ اس لیے سلطان ملک شاہ کے لئے نئے کیلنڈر کو اس نے جو ترتیب دیا تھا اس میں عمر خیام نے یہ فرق مٹایا تھا۔ یہ وہ کارنامہ ہے کہ آج کے جدید دور کی سائنس بھی اس کو درست مانتی ہے حالانکہ اس زمانے میں یہ جدید آلات نہیں تھے۔۔۔۔
    ریاضی کے شعبہ میں اس کے بھی بڑے بڑے کارنامے ہیں مثال کے طور پر الجبرا میں اس کی مشہور کتاب الجبرا و مقابلہ، جس سے آج کے دور میں بھی الجبرا پڑھنے والے مستفید ہوتے ہیں۔ اس طرح الجبرا میں اس نے چھ نئی کلیے دریافت کیے ہیں۔ مسلہ دو رقمی (بائنمیل تیورم) کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے ۔۔۔۔
    عمر خیام 1131ء میں وفات پائی۔ وفات ہونے سے پہلے عمر خیام نے ایک دفعہ پھر بڑی مشکل زندگی گزاری تھی۔ ہوا یوں کہ عمر خیام نے ایک نظریہ دیا تھا جو آج کل سارے لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن اس زمانے میں عمر خیام کو اس کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ سورج دنیا کے گرد نہیں گھومتا ہے بلکہ اس کے برعکس دنیا سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک کفریہ سوچ تصور کیا جاتا اور لہذا اس وجہ سے سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد عمر خیام پر مقدمہ چلایا گیا اس میں بڑے بڑے علماء جیسے کہ امام غزالی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اور بڑے بڑے قاضیوں نے شرکت کی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عمر خیام کو قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کی تصانیف کو جلایا جائے، اس کی تصانیف کو مدراس میں نہیں پڑھایا جائے گا اور اس کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی تکمیل کیلئے اس کو نیشاپور سے نکال دیا گیا اس کی تصانیف اور ایجادات کو اگ لگائی گئی اور مدارس میں بھی اس پر پابندی لگ گئی۔ ۔۔
    عمر خیام کی شاعری کا زیادہ حصہ اس نے اس کے بعد مرنے تک لکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔

  • اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو "گھبرانا نہیں ہے” فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ”کا نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بھی بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل تو کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر یہاں کی واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہ چل پائے گا اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے ۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں کے نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔
    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا "خوشحال گڑھ”

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ” نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل ، کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر اس واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہیں چل پائے اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔ اگر یہاں کا نوجوان اب بھی نہ جاگا تو پھر دینا سے 50 سال پیچھے اس خوشحال گڑھ میں ہماری نسلیں، پسماندگی کو دیکھ کر ہمیں ضرور کوسیں گی۔

    @EjazulhaqUsmani

  • بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    لفظ عورت کا مطلب "پوشیدہ” اور "چھپا کر رکھنے” کے ہیں زمانہ جاہلیت میں عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا مگر اشاعت اسلام کے بعد عورت کو جو حقوق اور عزت ملی انہی کو استعمال کرتے ہوئے آج عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
    اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق و حیات اور دین فطرت ہے جس کا ہر قانون کردار کی تشکیل کے ساتھ ساتھ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کوسکون بھی فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذالعمل ہیں عورت کے لیے متعین کیے گئے احکام و قوانین میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ‘حجاب’ یعنی پردے کا حکم ہے اور قدرت کے ہر اصول میں حکمت پوشیدہ ہے جس کا فائدہ انسان کو ہی ہوتا ہے اسی طرح پردے کا حکم دراصل عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنایاگیا
    اسلام میں عورت کو گھر کی زینت قرار دیا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنی قیمتی چیز کو چھپا کر اور سنبھال کر رکھتا ہے نہ کہ اسکی نمائش کرتا ہے اسلام عورت کو بننے سنورنے پر روکتا نہیں بلکہ پردے اور حدود میں رہ کر سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے عورت کا حقیقی زیور شرم و حیا ہی تو ہے جسے زیب تن رکھنے کی اشد ضرورت ہے
    آج کے ماڈرن دور میں عورت بالخصوص مسلمان عورت کو مغربی فتنے سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے ‘فیمینزم’ کےنام پر مغربی لباس پہننا مغربی اقدار کو اپنانا میرے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے جسکی روک تھام بہت ضروری ہے اس معاشرے میں جب بھی عورت کے کردار پر بات ہوئی تو تو سب سے پہلے اسکے حجاب اور لباس پر تنقید شروع ہوئی کیونکہ جب مسلمان عورت نیم عریاں لباس پہن کر چادر تو دور دوپٹہ تک اوڑھنا مناسب نا سمجھے اور باہر پبلک پلیسز پر نکلے گی تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے گی کیا آج کی مسلمان خواتین بھلا چکی ہیں خاتونِ جنت حضرت فاطمہ س اور خاندان مصطفی حضرت محمد ص کی باقی تمام پاک بیبیوں کی تعلیمات کو اور جن کے صدقے میں عورت کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا گیا یا پھر اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کہیں گم ہو کر رہ چکی ہیں
    مجھے پیار آتا ہے ان بہنوں پر جو آج بھی ایمان کے درجے پر ڈٹی ہوئی ہیں چاہے پھر وہ نقاب ہے, حجاب ہے یا چادر اوڑھنا ہے اور چاہے پھر وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں یا مغرب میں جو آج بھی اپنے باپ اور بھائی کے سامنے چادر لئے بغیر نہیں جاتیں ماڈرن بنیں مگر ان شعبوں میں جن سے ملک و قوم ترقی کرے معاشرے کے دیگر افراد کو گناہ اور گمراہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ عورت اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے اور اپنی نسل کی بہترین تربیت کرے اور اسکے لئے پہلے اسے خود کو مثال بننا ہوگا کیونکہ ایک ماں ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے

  • رحمت تحریر:افشین

    رحمت تحریر:افشین

    جب اللّلہ پاک خوش ہوتے ہیں تو وہ اہل خانہ کو بیٹی سے نواز دیتا ہے مگر اس جدید دور میں بھی بہت سے گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اولاد اللّلہ پاک نوازتے ہیں چاہے بیٹا ہو یا بیٹی اللّلہ پاک کی مرضی اس میں شامل ہوتی ہے مگر کچھ گھرانوں میں نا شکری عروج پہ ہوتی ہے اور وہ بیٹی کو رحمت نہیں زحمت سمجھ لیتے ہیں اور الزام ماں پہ ڈال دیتے ہیں کہ بیٹی کیوں پیدا ہوگئ ۔ اس میں اب ماں کا کیا قصور جب دینے والی رب پاک کی ذات ہے ۔ بیٹی رحمت ہے نہ کہ زحمت ۔ لوگوں کو بیٹی کی پیدائش پہ اعتراض ہوتا کیوں ہے ؟؟ کیوں کہ بہت سے گھرانوں میں یہ سوچا جاتا ہے بیٹی پرائی ہوتی ہے اور بیٹے سہارا بن سکتے ہیں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اسلئے کہ ایک دن انکی شادی کرنی پڑے گی جہیز دینا پڑے گا اکثر خاندان جائیدادیں بیٹیوں کو دینا پسند نہیں کرتے وہ سوچتے ہیں جائیداد گھر سے باہر نہ جائے یا تو بیٹی کی شادی خاندان میں کردی جاتی ہے۔ یا پھر کی ہی نہیں جاتی اسکو ساری زندگی کنوارہ بیٹھائے رکھتے ہیں ۔ تاکہ جائیداد کا بٹوارا نہ ہو اسکو خود غرضی کہا جائے یا کیا کہا جائے؟؟اگر بیٹی خود اپنی خوشی تلاش کرنے کی ہمت کرے خاندان سے نکلنے اور کہیں باہر شادی کرنے کا سوچ بھی لے یا کوشش بھی کردے اسکو قتل کر دیں گے مگر اسکو جینے نہیں دیں گے ۔بیٹی کو جائیدادیں نہیں چاہیے ہوتیں پیار محبت توجہ اچھا برتاؤ چاہیے ہوتا ہے ایک تو ایسے گھرانے میں بچیوں کو ساری زندگی کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور دوسرا بیٹے کو ہی اہمیت دی جاتی ہے کہ سب کچھ بیٹے کا ہی ہے سب چیزوں، خوشیوں پہ اسی کا حق ہے ایسے بچیاں احساسِ کَمتَری کا شکار ہو جاتی ہیں ۔آخر کیوں ایسا سوچا جاتا ہے؟؟ بیٹی ہونا جرم نہیں ہے آخری لمحات میں یہ بیٹیاں ہی کام آتی ہیں بیٹیاں وقت پڑنے پہ ماں باپ کا بیٹے کی طرح سہارا بن سکتی ہیں انکو حقیر نہ سمجھا جائے وہ برابر توجہ کی مستحق ہوتی ہے۔ خوشیاں ان کو بھی چاہیے ہوتی ہیں وہ بھی انسان ہوتی ہیں انکے پاس بھی دل ہوتا ہے جو کہ دھڑکتا ہے مردہ دل نہیں رکھتی کہ جینا چھوڑ دیں ۔بیٹی پیدا ہو جائے نا شکری نہ کریں اللّلہ کی رضا پہ راضی رہا کریں ۔بیٹی کی جب شادی کی جاتی ہے اسکی مرضی پوچھنی چاہیے مگر اکثر خاندانوں میں اسکی مرضی نہیں پوچھی جاتی آخر بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کیوں کی جاتی ہے ؟؟اگر بیٹے اپنی مرضی کر سکتے ہیں بیٹیوں کا بھی حق ہے ۔بیٹی ہونا جرم نہیں جو ساری زندگی محرومیوں میں جینے کے لیے سزا سنا دی جاتی ہے۔بیٹیاں بہت معصوم ہوتی ہیں ۔ بہت سی تلخیوں دشواریوں کے ساتھ زندگی آخرکار گزر ہی جاتی ہے۔ یہ ہے تو ایک تلخ حقیقت مگر محرومیوں میں جینا آسان نہیں ۔ فقط بیٹی رحمت ہے کوئی گناہ نہیں ۔بیٹی کو محبت و شفقت دیں اس کو بھی ہر وہ چیز دیں جو بیٹے کو دیتے ہیں اسکو بھی تعلیم دلوائیں کیونکہ تعلیم پہ بیٹیوں کا بھی حق ہے آپکی ناقدری آپ کو مہنگی پر سکتی ہے ۔ اولاد کو برابر حقوق دیں خاص طور پہ بیٹیوں کے ساتھ نرمی برتیں ۔کوشش کریں انکی ہر جائز خواہش پوری کریں ۔ اور بیٹیوں کو جہیز جائیدادیں نہیں دینی مت دیں مگر اپنے پیار سے محروم مت رکھیں ۔


    ‎@Hu__rt7

  • حالات حاضرہ اور افضل سراج صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین

    خبر: تبدیلی کے تین سال، غریب عوام کے لئے ظلم کی تین صدیاں، شہباز شریف۔
    تبصرہ: اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن کیا جناب بتانا پسند کریں گے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
    کیا آپ نے اپنے تیس سالہ عہد سلطانی میں کوئی ایک ادارہ ایسا چھوڑا جو منافع دے رہا ہو؟ کیا کبھی آپ نے اتنا ٹیکس اکٹھا کیا جتنا خود کے لئے پیسے اور کک بیکس؟ میٹرو بس اور اونج ٹرین جیسے ذہر بھرے لقمے حکومت کے گلے میں ڈال کے چلے گئے جو نہ نگلے جا رہے ہیں نہ تھوکے جا رہے ہیں اور حکومت ہر سال اربوں روپے ڈال کے خالی بسیں بھی چلا رہی ہے اور ان کا قرض بھی دے رہی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے ہوئے قرض چکانے کے لئے حکومت کے پاس مہنگائی اور ٹیکس لگانے کے علاوہ کیا راستہ تھا؟؟
    لیکن آپ کو احساس پروگرام، کامیاب جوان پروگرام، بلین ٹری سونامی، کوئی بھوکا نہ سوئے، پناہ گاہیں اور لنگر خانے نظر نہیں آئیں گے جو غریب کا پیٹ پھرتے ہیں۔ تف ہے آپ کی سوچ پر۔

    خبر: جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے، اخباری ذرائع
    تبصرہ: آپ کو بتاتے چلیں کہ موصوف پر اوقات (آمدن) سے زائد اثاثے بنانے کا کیس اور منی ٹریل پیش نہ کر سکنے کا ٹرائل سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی چل رہا تھا، اب جبکہ موصوف خود بھی اس کونسل کا حصہ بن بیٹھے ہیں تو بھولی عوام کا اس ملک کے عدالتی نظام پہ اور بھی یقین مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ جیسی بلی کو دودھ کی رکھوالی سونپ دی گئی ہو۔ سب کہیں سبحان اللہ

    خبر: ججوں اور بیوروکریٹس کو قرعہ اندازی سے ملنے والے پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    تبصرہ: یقین نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ سے سامنے آ رہا ہے اور اتنے حیران کن ریمارکس سن کے طبیعت حیران پریشان ہو گئی ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس تقسیم میں "کرپشن اور جرائم” میں سزا پانے والے ججوں کو بھی پلاٹ ملے۔ چلیں آج اتنا تو سمجھ میں آیا کہ اس ملک کے منصف بھی راشی اور جرائم پیشہ ہیں۔ پھر یہاں انصاف کی امید لگانا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟

    خبر: سعودی عرب میں سکیورٹی اہلکار کے قاتل کا سر قلم، اخباری ذرائع
    تبصرہ: جرائم کی روک تھام تب تک ممکن نہیں جب تک جزا و سزا کا نظام پوری طرح کاآمد نہ ہو۔ جب یہ خبر پڑھی تو میرے ذہن میں پاکستانی نظام انصاف گھعمنے لگا جہاں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پاتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک سیاستدان دن دیہاڑے ڈیوٹی دیتے ایک سرکاری پولیس والے کو نشے کی حاکت میں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے لیکن عدالت اسے بھی ضمانت پہ رہا کر دیتی ہے۔ ایک امریکی دن دیاڑے تین پاکستانیوں کو گولی سے بھون دیتا ہے لیکن ہم "قوم کے وسیع تر مفاد میں” اسے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ جہاں چند سیاستدان ملک کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالتے لیکن عدالتیں انہیں چھٹی کے دن بھی ضمانتیں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
    جناب من! جب تک بنیادی انصاف کا نظام بہتر نہیں ہوگا، آپ ایسے ہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    اور اب افضل سراج صاحب کی ایک غزل:

    ‏اِدھر ہے آنکھ چوکهٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
    لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

    ترے آنے سے پہلے ہی، تجهے پہچان لیتا ہے
    مہکنے خود ہی لگتا ہے، مرا دالان آہٹ پر

    اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بهی خبر لے لے
    جہاں وہ بهول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

    ‏بہت مانوس ہیں تم سے، مرے گهر کی سبھی چیزیں
    چہک اٹهتے ہیں پردے، کهڑکیاں، گلدان آہٹ پر

    بڑی حسرت سے تکتے ہیں تمهاری راہ دن بهر یہ
    لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پر

    بنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکهوں میں
    چمک اٹهتے ہیں پل بهر میں کئی ارمان آہٹ پر

    ‏ڈیوڑهی، صحن، خلوت خانہ، پائیں باغ، بیٹھک تک
    چہکتی پهرتی ہے گهر بهر میں اک مسکان آہٹ پر

    کشن، فٹ میٹ، ٹیبل، کرسیاں، قالین، ترپائی
    امڈ آتی ہے ہر شے میں انوکهی شان آہٹ پر

    ہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے
    کوئی دیکهے کہ ملتا ہے انبہیں کیا مان آہٹ پر

    ‏یہی ہے وقت آنے کا، بڑی بےتاب دهڑکن ہے
    "نکلتی جا رہی ہے لمحہ لمحہ جان آہٹ پر”

    ٹهٹهرتا رات دن افضل میں سُونے گهر میں رہتا ہوں
    بهڑک اٹهتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پر

    آخر میں آج کا شعر:

    وہ مجھے روز بلاتا ہے تماشے کے لئے
    روز میں خاک اڑاتا ہوا آ جاتا ہوں

    @Being_Faani