Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    انسان جہاں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط وہاں پہ ایک تنکے سے زیادہ کمزور بھی ہے۔
    اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت پیدا کیا مرد اور عورت۔ پھر ان میں ایک دوسرے کیلئے راحت اور سکون رکھا یعنی انکو ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ بنایا۔
    جب دونوں عاقل بالغ ہو جائیں تو نکاح کریں اور حلال طریقے سے ایک دوسرے سے راحت حاصل کریں۔ اس کے علاوہ اسلام نے ہر طریقے اور کام کو حرام قرارا دیا جس سے جنسی تسکین کا سامان پیدا کیا جائے۔
    اللہ نے انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کا شرعی حل بھی ساتھ دے کر دنیا میں بھیجا۔ سیدھا راستہ دکھانے کیلئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ ہر پیغمبر نے اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو بخوبی احسن طریقے سے اپنی قوم تک پہنچایا۔
    ہماری رہنمائی کیلئے اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اور دنیا کے ہر کام کی تعلیم دی اور اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو قول اور فعل سے امت تک پہنچایا۔
    ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری تعلیمات انسانیت اور ایک اچھے معاشرے کا بقاء ثابت ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دین اسلام پوری انسانیت اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے اور اسکی بقاء کا ضامن ایک خوبصورت تحفے کے طور پر دیا۔
    اسلام کے آنے کے بعد انسانیت کی ایک بہترین صورت سامنے آئی۔ انسان کو جینے کا شعور اور زندگی گزارنے کیلئے ایک بہترین راستہ عطا کیا۔
    اسلام کا ہر حکم ہر طریقہ معاشرے اور انسانیت کی خوبصورتی کا ضامن ہے۔
    اسلام کے آ جانے سے معاشرے سے جھوٹ فراڈ سود جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کے احکامات آئے جس سے معاشرہ میں اخلاقی توازن آیا۔ اسلام نے حلال اور حرام کی تمیز سکھائی اور جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے انسان کو انسان کی طرح زندگی گزارنے کا شعور اور سلیقہ سکھایا۔
    اسلام نے سکھایا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو کیوں نہ پھر وہ ایسے کام۔کرے جس سے وہ سب سے منفرد اور ممتاز نظر ائے۔
    اسلام کے آ جانے سے عورت کو جینے اور زندہ رہنے کا حق دیا گیا ورنہ اسلام سے پہلے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کو دفنا دیا کرتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث شرم اور ذلت سمجھا جاتا تھا اور نحوست مانا جاتا تھا لہذا پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
    اسلام کے آتے ہیں اس فرسودہ اور غیر انسانی روایت کو ختم کر دیا گیا بلکہ اللہ کے عذاب کا سبب بتایا گیا اور بیٹی کو اللہ کی رحمت کا نام دیا گیا۔ عورت کے مقام کو سمجھایا گیا اور لوگوں کو عورت کے ہر روپ کی قدر و منزلت سمجھائی گئی۔
    ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی بیٹی کو اللہ۔کی رحمت کہا گیا عورت کے حقوق مقرر کیے گئے عورت کو جائیداد میں حق دار قرار دیا۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی اور عظیم درسگاہ بنا دیا گیا ماں کے پیار کو بچے کیلئے شفا بنا دیا ماں کی دعاوں کو اولاد کی کامیابی کا ضامن کہا ماں باپ کی نافرمانی سے روکا گیا سخت وعیدیں سنائی گئیں۔
    جہاں عورت کو یہ وقار اور رتبہ دیا وہاں پہ اس کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ تعلیمات دی گئیں جن کا مقصد عورت کی حفاظت اور اس کو پاک دامن رکھنا ہے۔ وہ تعلیمات دی گئیں جن سے عورت کی عزت کو چار چاند لگ گئے اور عورت کا مقام عزت اور رتبہ اور بڑھ گیا۔
    اسلام نے عورت کو اپنا جسم چھپانے کی تعلیم دی تاکہ اس پہ کسی کی بری نظر نہ پڑے اور ساتھ ہی مردوں کو حکم دے دیا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کی طرف نظر نہ اٹھائیں یہاں یہ قید مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے کہ دونوں اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔ مرد کو عورت کی طرف دیکھنے سے منع کر دیا۔ اور عورت کو اپنے جسم کو چھپانے کا حکم دے دیا۔ تاکہ کسی کی نظر اگر پڑے بھی تو پردے کی وجہ سے کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔
    پردہ عورت کی حفاظت کا ضامن ہے اس کا لباس ہی ایسا ہو گھر سے باہر نکلتے وقت کہ اس پہ کسی کی نظر رک نہ پائے کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ یہ کس عمر کی عورت جا رہی ہے؟
    انسان کمزور ہے گناہ کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے پھر شیطان بھی انسان کے ساتھ ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں مرد اور عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں نظریں جھکا کہ چلیں تاکہ کوئی بھی فتنہ انکے دل و دماغ میں داخل نہ ہو۔
    کرنے اور کہنے کو یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں پردہ کرنا اور نظریں جھکانا لیکن یقین جانیں برائی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی دو چیزیں ہیں۔
    جب نظریں نہیں جھکیں گی تو لازمی حرام کی طرف بھی نظر جائے گی اور اگر پردہ نہیں ہو گا تو لازمی بات ہے کہ خرابی پیدا ہو گی۔
    انسانی کمزوریاں غالب آ جائیں گیں۔
    آج جو کچھ ہمارے ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے مردوں کی بڑی تعداد کا بناو سنگھار غیر محرم لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہوتا ہے اور اس طرح کچھ عورتوں کے بناو سنگھار کا مقصد بھی صرف غیر مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے تو اس صورت میں ہمارا معاشرہ کس سمت جائے گا؟
    اسلام قوانین کا احترام کسی کے دل میں نہیں ہے تو معاشرے سے یہ ناسور کیسے ختم ہو گا؟
    دور جدید میں جہاں انٹرنیٹ نے ہماری زندگی میں بےشمار سہولتیں لائیں وہاں کچھ مصیبتیں بھی ہمارے گلے پڑیں جنہوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ آج دیکھا جائے معاشرے میں جنسی درندگی کے بڑھتے واقعات کا ایک سبب یہ انٹرنیٹ بھی ہے۔
    اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے لیکن دینی تعلیم فرض ہے۔ اس فرض کو اچھے طریقے سے نبھائیں اور بچوں کا انسان بنائیں وحشی درندے نہیں جو ماوں بہنوں کی عزت کے محافظ ہوں عزتوں کو تار تار کرنے والے جانور نہیں۔
    اللہ ہماری ماوں بہنوں کو شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
    ﺁﻣــــــــــــــــــﻴﻦ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِـــــــــﻴْﻦ
    https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09

  • خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    پاکستان بے پناہ جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے دنیا کی تین بڑی سپرپاورز انحصار کرتی ہیں خوبصورت علاقوں اور مقامات کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں اہم مقام رکھتا ھے آج کی تحریر پاکستان کے اہم علاقے ” خنجراب” سے متعلق ھے۔۔۔

    خنجراب کیا ھے؟
    خنجراب پاکستان کے شمال میں واقع سرسبز میدان،ہرے بھرے کھیت،باغات،میٹھے پانی کے چشموں، بے پناہ قدرتی خوبصورتی،وسائل اور معدنیات سے مالامال ایک مقام شمار مواقع موجود ہیں۔ یہاں بلند وبالا برف پوش ،وسیع و عریض پہاڑی سلسلوں کے علاوہ بے شمارسرسبز میدان، گلیشیئرز، آب شاریں، چشموں کی جھیلیں اور ہری بھری وادیاں دعوتِ نظارہ دینے کو موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیاح اور کوہ پیماء قدرت کے اس عظیم الشان شاہکار کو دیکھنے کے لئے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

    درہ خنجراب کی جغرافیائی اہمیت

    درّہ خنجراب، سلسلہ کوہ قراقرم میں ایک بلند پہاڑی درّہ ہے، جس کی بلندی 4693 میٹر یا 15397 فٹ ہے۔ پاکستان اور چین کو آپس میں ملانے والے اس درّے کو (world’s roof) یعنی دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔درہ خنجراب ایک اہم فوجی مصلحتی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے بہترین دوست چین کو ملانے والا خنجراب پاس بھی واقع ہے اس کے علاوہ 952 کلومیٹر تک پھیلی طویل پاک چائنہ بارڈر کی لمبائی ہے چین کے ساتھ ہونے والی تمام تجارت خنجراب پاس کے زریعے ہی ہوتی ھے۔

    خنجراب اور شاہراہ قراقرم

    قراقرم (قومی شاہراہ ) پاکستان کو چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ ہے۔ اسے قراقرم ہائی وے اور شاہراہ ریشم بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہے۔ درہ خنجراب کے مقام پر سطح سمندر سے اس کی بلندی 4693 میٹر ہے۔ یہ چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔

    خنجراب پاکستان کے لئے انتہائی اہم ھے مستقبل قریب میں یہ علاقہ علاقہ تجارت کے لئے اہم "گیٹ وے” تصور کیا جائے گا اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر اہم اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بھرپور فائدہ حاصل کیا جاسکے دنیا بھر کے ممالک ایسے جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے اپنے علاقوں پر اربوں ڈالر خرچ کرکے ان کو دنیا بھر میں اسٹیبلش کروا کر بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اگر کوئی بھی حکومت بہتری کے اقدامات کرتی ھے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم آج بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔سیاسی قیادت کو ملکی بقاء اور ترقی کے لئے مل بیٹھ کر سوچ بچار کرکے اقدامات کرنے چاہئیں اور سب سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے یہی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز ہے اور یہی ہمارے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا پاکستان کے لئے سب کو ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا۔
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    آلودگی کا لغوی معنی اس چیز کی موجودگی ہے جو نقصان دہ ہے یا ماحول پر برا اثر ڈالتی ہے۔ آلودگی قدرتی ماحول میں منفی تبدیلیوں کا اسباب بن سکتی ہے۔ صاف ستھری فضا اور تازی ہوا ہماری بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی زمینی فضا کو کافی حد تک نقصان پہنچاتی ہے اور اسکے نتیجے میں منفی ماحول زندگی کیلٸے نقصان دہ نہیں ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہمارا موجودہ رہہن سہن ہے ۔ اس سے کچھ ایسی نقصان دہ تبدیلیاں ہوئی ہیں جو ہمارے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔ آلودگی کی اہم وجہ بہت مختلف قسم کے فضلہ مواد ہیں۔ آلودگی ماحول اور ماحولیاتی نظام کے توازن میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ ترقی اور جدیدیت نے آلودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے اور اس نے مختلف انسانی بیماریوں کو جنم دیا ہے اور سب سے المنگ بات یہ ہے کہ اس سےگلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان دنیا کا وہ خوش قسمت ملک ہے، جسے قدرت نے حسین وادیوں، اونچے کُہساروں، سمندر، بندرگاہوں،صحراؤں، اور وسیع میدانی خطّوں سے نوازا ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملک بدترین ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے، جس سے شہریوں کی صحت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    عالمی ادارے صحت کا کہنا ہے، پاکستان کا شمار ایشیا کے آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ اوربھی ہےکہ لوگ ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں.

    پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضاف، بنیادی خوراک اور رہائش کی طلب میں اضافے کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی تیز ہوگئی ہے۔ انسانوں کے ذریعہ پھیلائی ہوئی زہریلی گیس جیسے کہ، کاربن مونو آکسائڈ مٹی ، ہوا اور پانی کی آلودگی کا سب سے بڑی وجہ ہے۔

    پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان، خصوصاً پنجاب کی فضا میں اسموگ کا مسلہ بہت ہی سنگین ہوگیا ہے اور ان علاقوں میں رہنے واے لوگ سانس کے مسئلہ کا شکار ہوجاتے ہیں ، ان کے پھیپھڑے بھی اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ نیز، ملک کے دیگر شہروں، جیسے کراچی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، کوئٹہ اور پشاور میں بھی فضائی آلودگی کی مقدار بین الاقوامی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ فضائی آلودگی سے نہ صرف فصلوں بلکہ درختوں پر انتہائی بُرے اثرات مُرتب ہورہے ہیں

    لہذا پاکستان کے بڑے بڑے شہروں پر نظر ڈالیں، تو ہر جگہ گندگی غلاظت ، اور کوڑے کرکٹ کے اَنبار نظر آتے ہیں۔ پولیتھین بیگز، سیوریج لائن بلاک کا سبب بنتے ہیں، جس کیوجہ سے نالوں کا پانی روڈز پر پھیل جاتا ہے اور اُن پر بیٹھنے والی مادھوں مکّھیاں اور دیگر رینگے والے حشرات مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ پھر ملک پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب دھواں پھیلانے والے کارخانے بھی ہیں، جن پر کوئی حکومتی محکمہ ایکشن نہیں لیتا ہے.

    اگرچہ حکومتیں ان مسائل سے نمٹنے کیلٸے بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔ البتہ، پاکستانی عوام پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کوششوں میں حکومتیں کا ساتھ دیں کہ ماحولیاتی آلودگی کسی ایک کا نہیں،بلکہ ہم سب کا سنگین مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

    ‎@JahantabSiddiqi

  • پیش بندی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    دوستوں اب ہم دجالی دورمیں قدم رکھ چکے ہیں،یہ دجالی دورآنے والے دنوں میں ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا ایک کرونا ہی دکھا کر پوری دنیا کو کیسا گھما دیا گیا ہے جس کا ادراک تو ہو جکا ہو گا اور ابھی تک دنیا کو کچھ سمجھ نہیں آپارہا ہے کہ کیا کرے۔بالکل اسی طرح آگےآنے والے دور کے فتنے اس سے بھی زیادہ سخت ہونگے اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے ایک توتمام حالات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں دوسرا یہ کہ ان سب حالات کی خبر ہمارے سرکار دو عالم نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ سب ہو کر رہے گا، اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا، دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا.اس لیے اب ایمانی، جسمانی، روحانی اور اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے، اگر زندہ رہنا ہے اور ان تمام فتنوں سے بچنا ہے تو اب ذرا جاگ جائیں…!
    اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں…
    جسمانی طور پر، ذہنی طور پر اور روحانی طور پر بھی…
    ان کو اردو انگریزی اور عربی زبان لازمی طور پر سکھائیں، اسلامی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں ،مزہبی طور پر مضبوط بنائیں اوراپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں، کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
    جیسے سلطان عبد الحمید ثانی جوسلطنت عثمانیہ کے 34ویں فرماں روا تھے لیکن وہ ایک بڑھئ کا ہنر جانتے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا ، جسے آج بھی استنبول کے یلدز محل ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کےچھٹے فرمانروا تھے۔ان کے پاس خطاطی کا ہنر تھا انہوں نے متعدد قرآن پاک کے نسخے تحریر کیے۔ اس کے علاوہ انبیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں
    حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری، حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت،حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ بکریاں چراتے،حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام زِرَہ(جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا) بناتے،حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنانے کا فن جانتے تھےاورہمارے پیارےآقا احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاتھا گویا
    اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔اپنے اجداد کی طرح ہنر مند ہونے کی ضرورت ہے
    بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی ایسا بالکل نہیں ہوگا اب آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے، اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی..
    اپنے بچوں کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازماً ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں، جس طرح اسکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہےبالکل ویسے ہی جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔ساری صلاحیتیں آپ کے بچے میں بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئے۔گو کہ آج کل ہمارے بچے بہت ہی آرام طلب اور نازک ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں بچوں کو ایسا تعلیمی نظام دینا ہوگا جیسے ماضی میں دیا جاتا تھا جب بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھایاجاتا تھا، تمام مسلمان اپنے ہاتھوں میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے…
    کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا، کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری.کا بلکہ انکی کاسٹ بھی ان کے پیشے سے ہی منسوب ہوتی تھی۔اس زمانے میں کسی کو نوکری تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی سب ہنر مند تھے۔یاد رکھئےآپ کی ہنر مندی ہی آپ کو کامیاب بناسکتی ہے اور خود کفالت تک لے جاسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔دوستوں! جو آپ کے پاس ہے اس سے ہی استفادہ کرنے کی عادت ڈالیں اور کوشش کریں کہ غیر ضروری درآمد نہ کی جائے زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش کریں اور اپنی ہنر مندی کی بدولت اپنے منفرد کام کو دنیا کو برامد کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک میں زر مبادلہ آسکے۔دوستوں یاد رکھنا ایک وقت آئیگا سب کو اپنے وطن واپس لوٹنا پڑے گا کوئ ملک کسی دوسرے ملک کے شہری کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا عملی مظاہرہ شروع بھی ہو چکا ہے تو بہتر یہ نہیں ہے کہ ہم پہلے سے ہی پیش بندی کر لیں۔سب ایک ساتھ بھائ چارگی سے اللہ کے دئے گئے وسائل سے استفادہ کریں ۔اسراف نہ کریں۔سادگی کو شعار بنالیں۔اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    @Azizsiddiqui100

  • تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    لفظ پاکستان بولنے سے جیسے اپنائیت کا احساس آ جاے جیسے روح کو تازگی مل جاے.
    لیکن کیا ہم عملی طور پر اس کی قدر کر رہے ہیں. کیا ہمارے اعمال اس بات کی سے اس بات کی اکاسی ہوتی ہے؟ کیا پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی ہم عملاً پورا کر رہے ہیں؟
    پاکستان جس کے لیے ماؤں نے اپنے لعل کٹواے، بہنوں نے اپنے بھائی گنواے. باپ نے اپنا بڑھاپے کا سہارا کھویا. بیٹی کے سر کا سایا گیا تو بیوی کا سہاگ. اتنی قربانیاں پاکستان کے لیے دے دی گئیں لیکن 75 سال میں ہم قوم ایک مہذب نا بن سکے. ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ رائیگاں کر دیا گیا. پاکستان مملکت تو مل گئ لیکن ہم اس کی صحیح قدر نا کر سکے. یہ کیسی آزادی ہے جہاں بچیوں کا ریپ کیا جاے، رکشے میں جاتی بچیوں کے ساتھ دست درازی اور بے حرمتی. دوسری جانب عورتیں نیم برہنہ لباس پہن کر خود پر فخر محسوس کریں اور اسے آزادی اظہارِ رائے کا نام دین، کسی کی بہن بیٹی کی عزت اجاڑنا اپنا سٹیٹس سمجھا جائے، کسی کو نوکری دے کر اس اپنا غلام سمجھا جائے، کسی کی مدد کر کے اسکی غریبی یا تنگدستی کا مزاق اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کیا جاے پھر اس کی تشہیر سے خود کو خدا ترس باآور کرایا جائے. کیا یہ مقصد تھا قیام پاکستان کا؟
    کیا ہم بحیثیت پاکستانی پاکستان کا حق ادا کر پا رہے ہیں.
    ہاے افسوس!
    ہم نے ملاوٹ کا بازار گرم کر رکھے، اپنے ساتھ والے کو دھوکا دے کر فخر سے سینہ چوڑا کرتے اور خود کو عقلمند اور اسے بےوقوف ثابت کرتے. کمزور کا حق کھا کر اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرتے ہیں لیکن یہ ہم اسطرح پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے.خدارا ہوش کے ناخن لیجئیے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ہم اپنا اخلاق اچھا بنائیں اپنا کردار اچھا بنائیں تاکہ دنیا میں اپنا کھویا وقار بحیثیت قوم دوبارہ حاصل کر سکیں
    قائد اعظم محمد علی جناح کے منشور کو سمجھیں ایمان اتحاد اور تنظیم سے اپنے پاکستان کے رنگوں کو دوبارہ تازگی بخشیں. دین کی سربلندی کے لیے اپنے کردار کو عملی نمونہ بنا کر ایک مثال بنا کر معاشرے میں پیش کریں تاکہ پاکستانی اور سچے مسلمان کی حقیقی معنوں میں پہچان ہو سکے. ہمیں آج خود سے عہد کرنا ہے. پاکستان اور اسلام سے وفا کرنی ہے خود کو بدلنا ہے اور اپنی ایک نئی پہچان بنانی ہے جو کہ حصول پاکستان اور اسلامی تہذیب کی اصل بنیاد ہے.
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ نے ہمیں نا صرف یہ تحفہ پاکستان عطا کیا بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی بتا کر گئے ہیں آج ان کے فرامین کو فراموش کر ہے ہم مذید پستی کا شکار ہو چکے ہیں ہمیں خود کو پہچاننا ہو گا آج کی تحریر میں میں ان کے فرامین کو دوبارہ شامل کروں گا.
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کے ایک جلسے میں 28 دسمبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے* ”
    پھر لاہور کے ایک جلسے میں 30 اکتوبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی* ”
    پھر 15 جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے* ”
    11 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں ارشاد فرمایا.” *انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔* ”
    1944 میں مسلم یونیورسٹی یونین میں خطاب کیا اور فرمایا
    ” *دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔* ”
    چٹاگانگ کے جلسے میں 23 مارچ 1940 کو فرمایا. ” *پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔*”
    ڈھاکہ جلسے میں خطاب 21 مارچ 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا. ” *یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیر دیا جاناچاہئے۔* ” یہی وہ کامیابی کے راست ہیں جو اس قوم کو عمل کرنے سے بدل سکتے ہے ہمیں انہیں سمجھ کر ان پر عملی طور پر خود کو ڈھالنا ہوگا
    کیونکہ شاعر. مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*

    @EngrMuddsairH

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__

  • کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض

    کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض


    کسی بھی ملک کی ترقی میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان کو ایک زرعی ملک کی حثیئت سے جانا جاتا ہے اس وقت پاکستان کی چالیس فیصد لیبر زراعت کے شعبے میں اور باقی دوسرے تمام شعبوں سے منسلک ہے کسی ملک کی ترقی کا ماپنے کے لیے جی ڈی پی کو دیکھا جاتا ہے یعنی یہ ملک معاشی لحاظ سے کتنی ترقی کر رہا ہے اس وقت پاکستان کی جی ڈی پی میں بیس فیصد حصہ زراعت کا ہے یعنی یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر اس شعبے کو ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسان بدحال سے بدحال ہوتا گیا اور سرمایہ دارکا سرمایہ زیادہ سے زیادہ ہوتا گیا -پاکستان میں جو اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں ان میں کپاس، گندم ، چاول اور مکئی شامل ہیں کپاس کے لیے جنوبی پنجاب کی آب وہوا موزوں ترین تھی اور یہاں سے بہت زیادہ مقدار میں کاٹن پیدا کی جاتی تھی مگر گزشتہ ادوار کی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے شوگر ملوں کو اس علاقے میں شفٹ کر دیا گیا اور جب کسانوں نے دیکھا کہ انہیں اس فصل میں مناسب مصاوضہ مل رہا ہے تو انہوں نے گنے کی فصل لگانا شروع کر دی اور اس طرح یہاں سے ایک لحاظ سے کپاس کی فصل کو تقریباً ترک کر دیا گیا حالانکہ ارباب اختیار کو چاہیے تھا کہ اس علاقے کو کاٹن زون ڈکلئیر کرتے اور شوگر ملوں کو یہاں منتقل ہونے سے روکتے مگر شائد ان کی ملی بھگت شامل تھی اس کے بعد گندم کی فصل کا ذکر کرتے ہیں جس میں پاکستان کچھ عرصہ پہلے تکا خودکفیل تھا مگر گزشتہ سال سے ناقص انتظامات کی وجہ سے اس کا بحران پیدا ہو رہا ہے اس کی ایک وجہ تو نااہلی اور بد انتظامی ہے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا اور دوسری اہم وجہ مناسب معاوضہ نہ ملنا اور فصل پر زیادہ اخراجات ہونا ہے اسی لیے کسان دلبرداشتہ ہو کر اپنی زمینیں بیچ رہے ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاری کے لیے زمین کی کمی ہو رہی ہے اور اس پر ہاوسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں اس سے ملک میں کسی بھی فصل کی اوسط کم ہو رہی ہے اور ہمیں اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے جس سے ملکی ترقی کی رفتار سست ہے اس کے بعد مکئی کی فصل کی جانب آتے ہیں سارا سال اس کی قیمت پندرہ سو روپے کے قریب ہوتی ہے مگر جب کسانوں سے خریدنے کا اقت آتا ہے تو اس کو قیمت گر کر سات سو کے قریب آ جاتی ہے کیونکہ کسان کے پاس تو اتنا سرمایہ نہیں ہوتا اس نے یہ فصل بیچ کر اگلی فصل کاشت کرنی ہوتی ہے لہذا سارا منافع سرمایہ دار لے جاتے ہیں – اس کے بعد چاول کی فصل کی جانب آتے جو کہ ملکی زراعت میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ اس کو ملکی ضروریات پورا کرنے کے بعد بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی کسان کو خون پسینے کی کمائی کی صورت میں چند ٹکے ہی میسر آتے ہیں اس فصل کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہی اور ڈیزل کو موجودہ قیمت ۱۲۰ روپے کے قریب ہے جس کی وجہ سے کسان کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اس میں خرچ ہو جاتا ہے اس کے بعد کھادوں کا نمبر آتا ہے موجودہ حکومت نے کسانوں کے لیے سبسڈی کا آغاز کیا ہے مگر اس کا طریقہ کا بہت پیچیدہ ہے جس کے لیے کارڈ کا اجرا کروانا پڑتا ہے مگر اکثر لوگ اس سے ناواقف ہیں اور وہ اس آفر سے محروم ہیں اس کے علاوہ کھاد کی موجودہ قیمت چھ ہزار تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے اس دور حکومت میں تو کسانوں کی خوشحالی کا کوئی امکان نہیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    ہمارے معاشرے کی لبرلز خواتین مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتی اور کہتی ہے کہ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، جہاں ہمارے معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ خواتین بھی ہیں۔ جہاں خواتین دکھ ، درد سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ ، درد جھیلنے پڑتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات اظہار بھی نہیں کرتا اور مجھے خواتین کی نسبت مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم و معصوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے زمانے کی ہر غلط بات کو چپ چاپ سہتا ہے کیونکہ اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاتون کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد حضرات ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کیلٸے صبح سے رات تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے خاندان کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا اور اپنے گھر چلانے کیلٸے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔۔

    مرد والد کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا محافظ اور سائبان ہے۔ والد جو زمانے کی ہر تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ زمانے کی تلخیوں و دشواریوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں اور لبرلز کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی گرا نہیں سکتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو والدین کیلٸے سہارا بن جاتا ہے، اگر یہی مرد شوہر کے روپ میں ہو تو بیوی کی ڈھال بن جاتا ہے ۔۔

    مرد کو اگر اس لئے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی بہن ، بیٹی پہ کوئی گندی نظر نہ پڑے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بہن ، بیٹی زمانے کی ہر مکاریوں اور چالاکیوں سے بچے ، وہ چاہتا ہے کہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین کریں یہ مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی خاتون سے پوچھ لیں۔

    یہ لبرل ازم کے چکر میں خواتین خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ یہ لبرلز جان بوجھ کے مرد حضرات کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔

    خواتین کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد حضرات کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور اور سمجھدار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط نہیں کہ باہر کی دنیا کا مقابلہ کرسکوں ، یا زمانے کی تلخیوں اور مصاٸب کو برداشت کر سکوں ۔۔ یہ سب کام ایک مرد ہی کرسکتا ہے عورت نہیں۔

    میں اتنا کرسکتی ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے خاندان کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر اپنے گھر سے نکلنا سراسر میری کم عقلی ہے ۔ جب اللہ رب العزت نے مجھے مرد کی صورت میں سائبان و محافظ دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔

    کبھی بیٹھ کر سوچیں لبرلز خواتین کیا مرد حضرات ، آپ کے والد محترم ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے کوئی حقوق نہیں ؟ کیا ان کے ساتھ کبھی کہیں کوئی انصافی نہیں ہوئی ؟ اپنے بھائی کو دیکھیں جب آپ کا بھاٸی جو گھر میں سب سے بڑا ہو اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خوشی کیلئے انھیں پڑھانے لکھانے کیلئے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھوں سے روندتا ہے اور اپنی ساری زندگی بہن بھائیوں نام کر دیتا ہے .کبھی آپ نے ایسے اپنے بڑے بھائی کیلٸے کچھ لکھا ، کچھ پڑھا ؟ کیا کبھی ان کے حق میں کوئی ریلی نکلی ؟ کبھی کوئی فلم یا کوئی ڈرامہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تخلیق کیا؟

    وہ جو آپ کے والد محترم اور شوہر کے ساتھ چلتی ہیں تو آپ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو لے جاتی ہے مارکيٹ اور خود کو محفوظ سمجھتی ہے کہ میرا بھائی ساتھ ہے ، پھر انکی شدید مخالفت میں لکھا ہوٸے الفاظ کیسے پڑھ لیتی ہے ؟ انکے بارے میں ہوئی تلخ باتیں کیسے سن لیتی ہے۔۔

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ مرد حضرات کے ہر روپ کا احترام کریں کیونکہ یہ میرے دین اسلام نے یہی سکھایا ہے

     

                            

    Mahrukh Azam

    Mahrukh Azam is a  Freelancer, journalist Columnist. ,She is associated with many leading digital media sites in   Pakistan To find out more about him visit his twitter @AriesMaha_

     

    https://twitter.com/AriesMaha_

     

  • ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے  تحریر:محمد جاوید حقانی

    ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے تحریر:محمد جاوید حقانی

    امام غزالی رحمۃ اللہ الباری پانچویں صدی ہجری کے بالاتفاق مجدد مانے جاتے ہیں ۔
    آپ کی شخصیت کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں
    آج تک امام غزالی کی شخصیت کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے
    انکی ذات گرامی پہ تبصرے تجزئیے کیئے جاتے ہیں۔
    امام غزالی نے بہترین زندگی جینے کا فلسفہ بہت ہی مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے
    آپ کئی کتابیں تصنیف کیں
    ان کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں
    آج کے ترقی یافتہ یورپ نے بھی "فلسفہ” امام غزالی سے سیکھا۔
    آپ ایک کتاب "تبلیغ دین” میں دنیاء کی حقیقت کے موضوع پر لکھتے ہیں۔
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا۔
    دیکھو او ہریرہ یہ ہے دنیاء کی حقیقت ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں، آرزوئیں، جوش میں تھیں اور حرص و حوس سے لبریز تھیں اور آج کس حال میں کوڑے پر پڑی ہیں یہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا۔
    اور یہ دیکھو یہ غلاظت و فضلہ جو تم کونظر آرہا ہے یہ تمہاری غذاء ہے جس سے پیٹ کوبھرنے میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایک دن تھا کہ رنگ برنگے کھانے کی شکل میں یہ تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے کے ڈھیر پر کس گندگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے بھاگتے گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چھیتڑے کسی وقت تمہاری چمک و دمک والے لباس تھے
    اور آج انہیں ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھر رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔
    اور یہ دیکھو! یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جان دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔

    اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ دنیاء کی حقیقت ہے
    جس کا قابل عبرت انجام دنیاء میں ظاہر ہوگیا۔
    پس! جس کو رونا ہو روئے۔۔۔۔۔
    اس حدیث پاک کے بعد امام غزالی مزید لکھتے ہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن دنیاء کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بد صورت بڑھیا بناؤ سنگھار کئے ہوئے زیور و پوشاک پہنے ہوئے بنی ٹھنی بیٹھی ہے۔
    آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا توں کتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار لوگوں سے۔
    آپ نے پوچھا کہ ان شوہروں کا انتقال ہوچکا یا تجھے طلاق دے چکے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ طلاق کی ہمت کس کو ہوتی ہے میں نے سب کومار ڈالا۔۔۔
    یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تیرے موجودہ شوہر پر افسوس ہے کہ جسے تیرے سابقہ شوہروں کے انجام سے عبرت نہیں۔۔۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ الباری تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    مسلمانوں!
    سمبھل جاؤ اور ہوشیار ہوجاؤ اور جان لو کہ یہ دنیاء بڑی بے وفاء ہے اس سے بچو
    اس کا جادو ہاروت و ماروت ( دو فرشتے ہیں جن پر جادو نازل ہوا) کے سحر سے زیادہ اور جلد اثر کرتا ہے اگر سے پرانا نمک جو کی روٹی کے ساتھ کھا کر اور ٹاٹ پہن کر زندگی گزارو گے تب بھی گزر جائیگی مگر آخرت کی فکر کرو کہ وہاں کی رتی برابر نعمت کا نہ ملنا بھی بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ اسی موضوع جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں
    بعض لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بدن کتنا ہی مصروف رہے مگر ہمارا دل دنیاء کی محبت سے خالی رہتا ہے
    یاد رکھو!
    یہ شیطانی وسوسہ ہے بھلا کوئی شخص دریا میں چلے اور پاؤں نہ بیگے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
    اگر تم کو دنیاء کی طلب ہوگی اور ضرورت سے زیادہ دنیاء کمانے کی تدبیریں کرنے لگو گے تو ضروری بات ہے کہ پریشان رہو گے اور دین کو ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔
    یہ بھی جان لو کہ دنیاء کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی
    اور اسکی طلب ہمیشہ بڑھتی رہے گی
    کیونکہ دنیاء کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے جتنا پیو گے اتنی ہی پیاس بڑھتی جائیگی۔۔۔
    ‎@JavaidHaqqani

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore