Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
    امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
    جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
    شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
    اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
    امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
    بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
    یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
    شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
    امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
     حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں  

    دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی  ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول 

    کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
    امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
    امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔ 
    آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
    دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
    @I_MJawed

  • مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    چیلنجز اور مسائل ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں ان کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے اور جن کو بھی مسائل کا سامنا ہوتا وہ انکو حل کرنا چاہتے ہیں اور خواہش ہوتی کہ کسی طرح سارے مسائل حل ہوجائیں اور زندگی پرسکون ہوجائے، لیکن ہر کوئی ان مسائل کو حل کر نہیں پاتا۔ زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شاید مسائل زندگی میں اتنی پریشانی پیدا نہیں کرتے لیکن اصل پریشانی تو وہ ردعمل ہے جو ہم کوئی مشکل پیش آنے پہ دیتے ہیں۔ اس کی اہمیت نہیں ہوتی کہ مشکل کتنی بڑی یا چھوٹی ہے بلکہ ہم اس مشکل پہ ردعمل کیا دیتے ہیں وہ اہم ہے۔ اگر ہمارا ردعمل بہتر نہیں ہوگا تو مسئلہ بڑھتا جائے گا اور اور چھوٹے سے مسئلہ کو بھی الجھا کر بڑا اور خراب کرلیں گے اور اصل مسئلہ کہیں درمیان میں ہی رہ جائے گا بلکہ ہمارے رویے کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ اس لئے کسی بھی مسئلہ کے درپیش آنے پہ ردعمل سوچ سمجھ کردینا چاہئے اور نہ ہی فوری ردعمل دینا چاہیے۔ کسی بھی مسئلہ کو پہلے اچھے سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر سوچ سمجھ کر ردعمل دیں گے تو مسئلہ حل کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ کوئی آپ سے کتنا بھی برا سلوک کرے لیکن کبھی بھی اس کے لیول تک نہ آئیں جواب ضرور دیں لیکن اس کی حد تک نہ گریں اور اپنے اعصاب کو مضبوط اور پرسکون رکھیں۔
    یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یا تو آپ مسئلہ ہیں یا مسئلے کا حل ہیں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا اس کے حل کا حصہ ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش آگیا ہے تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں کیونکہ زندگی ہے تو مسائل آتے رہیں گے لیکن اگر آپ روتے رہیں گے کہ میرے ساتھ یہ ہوگیا وہ ہوگیا مجھے حالات اچھے نہیں ملے، لوگوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اگر میں بھی کسی امیر گھر میں پیدا ہوتا تو میری بھی زندگی مختلف ہوتی اگر آپ پرابلم کے بارے میں سوچتے رہیں گے اور کچھ نہیں کرینگے تو آپ پرابلم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس لئے کسی مسئلہ کا حصہ بننے کیبجائے اس کے حل کا حصہ بنیں اور اس چیز پہ غور کریں کہ اس مشکل سے کیسے نکل سکتے ہیں اور حل کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
    اپنی زندگی کو بدلنے کا اختیار آپ کے پاس ہی ہے اور انسان خود ہی اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ کہ "اگر آپ غریب گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں لیکن اگر آپ غریب رہ کر ہی مر گئے ہیں تو یہ آپ ہی کی غلطی ہے” مطلب اگر آپ کی زندگی میں کوئی مشکل آگئی ہے تو مشکل ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی وجہ سے نہ آئی ہو کسی دوسرے کی غلطی کی وجہ سے آپ مشکل میں پڑ گئے ہوں لیکن اگر آپ اس مشکل سے نکل نہیں سکتے اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرتے اور اس میں ہی پھنسے رہتے ہیں تو پھر یہ آپ کی غلطی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، یہ ضروری نہیں کہ ہر تنقیدی بات کا جواب دیا جائے کچھ لوگوں کو کام ہی صرف تنقید برائے تنقید ہوتا ہے ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کردینا چاہئے۔ اگر کسی دوسرے کے ساتھ ایشو بن جائے یا کوئی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو لوگ عام طور پہ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں آپس میں اچھے قریبی تعلقات ہوں پھر بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کیبجائے دوسرے لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں آپس کے اختلافات کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں اور مزید غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لئے حالات جیسے بھی ہوں کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ایک دوسرے سے بات کریں۔ آپس میں بات کرنا کبھی بھی بند نہ کریں اس سے آدھے سے زیادہ مسائل ویسے ہی حل ہوجاتے ہیں۔
    ہماری زندگی میں کچھ ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہوتا یا کم از کم ہمارے پاس ان کا حل نہیں ہوتا کچھ چیزوں کو ہم نہیں بدل سکتے اگر کسی کا قد چھوٹا یے رنگ گورا نہیں ہے، کوئی غریب گھر میں پیدا ہوا ہے مڈل کلاس فیملی سے ہے کسی کے والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں بدل سکتا اور گر ان میں سے کوئی ایسی چیز آپ میں ہے تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونا آپ ان چیزوں کو نہیں بدل سکتے یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں اس لئے کوئی ایسا مسئلہ جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تو ہوسکتا ہے وہ مسئلہ ہو ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہو جس کو قبول کرکے ہی ہم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کو بدل نہیں سکتے ہیں اس لئے ایسی چیزوں کو قبول کرنا ہی بہتر ہے۔
    مسائل کے بارے میں ایک سنہری اصول ہے کہ یا تو آپ پرابلم کو حل کرلیں اور یا تو آپ اس سے چھوڑ دیں نظرانداز کردیں، کسی پرابلم کے ساتھ کبھی بھی زندگی نہ گزاریں اس کو یاد کرکے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس بوجھ کو اپنے ساتھ لے کر کبھی بھی نہ چلیں کیونکہ بوجھ کو اٹھا کر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے

    tweets @KharnalZ

  • بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    فحاشی اور بے حیائی معاشرے میں قائم کردہ اصولوں اور معیارات کی خلاف ورزی ہے. حالیہ برسوں میں یہ بہت سی شکلوں میں ظاہر ہوا ہے جیسے کہ ہمارے رویے میں، ہماری زبان میں، ہمارے ڈریسنگ میں، اور حتی کہ دوسروں کے لیے ہمارے اشاروں میں بھی. موجودہ دور کے فیشن میں ایک نہایت اہم بات قابل غور ہے کہ فیشن میں بے حیائی اعلیٰ درجہ کی علامت بن گئی ہے.
    نئے دور کے فیشن نے نئی اور نوجوان نسل کو ہپناٹائز کر دیا ہے. ایک چینی محاورہ فیشن کی تعریف کرتا ہے، جیسا کہ ’فیشن دکھانے کی خواہش ہے لیکن چھپانے کی مجبوری ہے؛ فیشن ایک ملین ڈالر کی صنعت بن چکا ہے. یہ ایک بڑے لوگوں کے گروہ کو روزگار فراہم کرتا ہے. یہ فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز کو مشہور شخصیت کا درجہ دیتا ہے.
    فیشن کا مقصد معاشرے کو خوبصورت بنانا ہے اور اس نے اس منصوبے میں جزوی کامیابی بھی حاصل کی ہے. فیشن انڈسٹری انسانی جسم کی قدرتی خوبصورتی کو پیش کرنے کے نام پر بے حیائی اور بعض اوقات بدصورتی کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے. انگریزی فلسفی جیم جوڈ نے کہا، "فن زندہ رہتا ہے اور کبھی بوڑھا نہیں ہوتا. یہ ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے. ظاہر ہے کہ چند ڈیزائن اس امتحان میں کامیاب ہوں گے. میں فیشن کی توہین نہیں کرتا، لیکن مجھے کسی نہ کسی طرح نیاپن لانے اور بنانے کی زیادہ تر کوششیں ناکام لگتی ہیں.”
    ہمارا پریس زیادہ تر اس طرح کے مواد سے بھرا پڑا ہے. بچے معاشرے کی جنریشن گیپ اور مغربی کاری کی وجہ سے بڑوں کی بات نہیں سنتے. بزرگ تب تک کوئی عجیب کام کرنے سے نہیں روک سکتے جب وہ خود کھلے عام اس طرح کے کام کرتے ہوں گے. یہ نئی نسل کے لیے ناقابل قبول ہو گا.
    بے حیائی پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے لیکن سوائے اپنے کندھوں کو ہلانے کے، ہم معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. بے حیائی معاشرے کی جڑوں میں گھس رہی ہے. یہ معاشرے کو اس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی علاج کام نہیں کرے گا.
    تاہم، ہمیں ایک حقیقت یہ بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ فحاشی اور بے حیائی صرف لڑکی کے لباس سے شروع نہیں ہوتی اور نا یہ اس کے ساتھ ختم ہوتی ہے. اسلام نے تمام عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے جبکہ تمام مردوں کو عورت کی عزت کرتے ہوئے اپنی نظریں نیچے کرنے کا حکم دیا ہے. مگر ہمارا معاشرہ بلکل الٹی سمت میں چل پڑا ہے. مغربی ممالک کے کلچر نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. عورتوں نے مغربی طرز کے لباس پہنا شروع کر دیے ہیں اور مردوں نے اپنی نظریں نیچے کرنا چھوڑ دیا ہے. اگر اس بے حیائی کی وجہ سے کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے تو قصور وار آخر پر ہر حال میں عورتوں کو ٹھہرادیا جاتا ہے. حالانکہ اس میں غلطی دونوں اطراف سے سرزد ہوتی ہے. اگر عورت پردہ نہیں کرتی تو اسکی غلطی ہے اور اگر مرد اپنی نظروں کو غلاظت سے پاک نہیں کرتا اور اپنے عمال درست نہیں رکھتا تو اسکی غلطی ہوتی ہے.
    معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ مرض ہم سب مل کر ہی روک سکتے ہیں. ہم سب کو اپنے آپ سے شروعات کر کے اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا ہو گا. بے حیائی کو چھوڑنا ہو گا. خود کو اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا. ہر قسم کے مغربی کلچر کو اپنے معاشرے سے اکھاڑ پھینکا ہو گا صرف تب ہی ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرہ بن سکتا ہے.

    تحریر: سیدہ بنت زینب
    @BinteZainab33

  • مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم ‏نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لندن میں سب سے مہنگے ہوٹل میں دھوم دھام سے ہورہی ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی کے لوٹے ہوئے پیسوں سے ۔جنید صفدر اور نواز شریف نے جو پگڑیاں لگائی ہوئی ہیں شادی کے موقع پر وہ مودی کی طرف سے چند سال پہلےکا ملا ہوا گفٹ ہے۔خود غرضی کی انتہا کہ جس عوام کو جلسوں میں بلا کرخوار کرتے تھے ایک پلیٹ بریانی پر ان کو اپنی خوشی میں شامل کرنا بھی یہ کرپٹ سیاستدان اپنی توہین سمجھتے ہیں اور
    بات کرتے ہیں” ووٹ کو عزت دو ” کاش پٹواریوں کو اتنی سمجھ آجائے انھیں یہ کرپٹ سیاستدان ایک ٹشو پیپر کی طرح استمعال کرتے ہیں ان کے دکھ دکھ مسئلے مسائل سے انھیں کوئی غرض نہیں آپ مریں جئیں آپ کے پیسوں سے یہ کرپٹ سیاستدان باہر کے ممالک میں عیش کی ذندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔۔!!اور آپ ایک ایک چیز کو ترس ترس کر ذندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔۔
    جب کروناوائرس پاکستان میں شدید زوروں پر تھا تومریم نواز نے اپنے خاص "مشیروں” کی مدد سے کوئی شہر ایسا نہیں چھوڑا جس میں جلسے نہ کیے ہوں اور نتیجآ پاکستان میں کروناوائرس سے جو تباہی ہوئی اگر خان صاحب بروقت حکمت عملی استمعال نہ کرتے تو پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں آجانا تھا اور ملک لوٹ کر نواز زرداریوں نے پہلے ہی ملک کا دیوالیہ نکالا ہوا تھا نہ ہسپتالوں میں یورپ جیسی سہولتیں نہ جدید مشینری کیسے اس صورتحال سے نبردآزما ہوتا پاکستان ۔۔میاں صاحب تو اپنے پورے خاندان اور اپنے حواریوں کےساتھ باہر بھاگ گے تھےملک سے لوٹے ہوئے مال و دولت سمیت تو ان کی طرف سے چاہے پورا پاکستان خدانخواستہ ختم ہوجاتا ان کا کیا نقصان تھا ۔۔نقصان غریب عوام کا تھا کہ کرونا کی شدید لہر کی صورت میں پھر سے کاروبار بند ہوجاتے غریب دہاڑی دار مزدور بھوکا مرجاتا ۔خان صاحب پورا ملک مجبورآ بند کردیتے لاک ڈاون کی صورت میں ۔اور جن کو شدید گرمی میں جلسوں میں نعرے لگوانے کے لیے مریم نواز کے لوگ گاڑیوں میں بھر بھر کر جلسوں میں لاتے تھے ایک ڈبہ بریانی ۔اور چند روپے کا لالچ دے کر ۔۔تو وہ سب سے ذیادہ متاثر ہوتے کیونکہ یہ مجبور طبقہ ہوتا ہے دو وقت روٹی سے بھی مجبور ان کا سیاست اور سیاتدانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا حالات کے پیسے ہوئے ان مجبور لوگوں سے بڑے لوگ بہت فائدے اٹھاتے ہیں۔۔۔!! تو بات کررہی تھی جلسوں سے کروناوائرس پھیلنے کی تو الحمدللہ ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ شکر ہے پھر کشمیر الیکشن ہوگے اور خان صاحب نے بھاری اکثریت سے الیکشن جیت لیا اور یوں اس ڈرامے کا” ڈراپ سین "ہوگیا اور مریم نواز کچھ مہنوں کےلیے کومے میں چلی گی ہیں تو عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔۔اب محرم میں مریم نواز نے اپنے بیٹے کی شادی کرکے عوام کو ایک اور پیغام دیا ہے کہ ان کو اللہ کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہیں رہی دولت کی پٹی نے ان کی آنکھیں چندیا دی ہیں ۔۔محرم میں تو اونچی آواز سے قہقہ لگانا بھی ہم مسلمان گناہ سمجھتے ہیں اور کہاں عوام کی لوٹی دولت سے لندن میں اربوں پاونڈز لگا کربینڈ باجوں سے شادی رچائی جارہی ہے وہ بھی محرم میں اور پاکستان میں اس لیے نہیں کی پتہ تھا لوگوں نے شادی کا سارا مزہ کرکرا کردینا ہے ایسا حال کرنا ہے ۔۔کہتے ہیں دنیا مکافات عمل ہے اور یہ بات سچ ہوتی تب دیکھی "جب بیٹا لندن شادی کروا رہا ہے اور اس کی اماں جان وڈیو کال میں شادی میں شرکت کررہی ہیں صرف عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے لیکن اب عوام اتنی بھی بےعقل نہیں جو ان کی مکاریاں سمجھ نہ سکیں ان کی سیاست کا اینڈ ہوچکا ہے بس دوسال اور ۔۔۔2023میں عوام ان کو بری طرح ریجیکٹ کردے گی اور پاکستان کی سیاست سے چلتا کرے گی کشمیر الیکشن تو ٹریلر تھا ۔۔!!
    پاکستان کے اچھے دن شروع ہوچکے ہیں ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان دن رات ملک کے لیے کام کررہے ہیں سب سے بڑی بات ان تین سالوں میں ملک میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ماضی میں جس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی تھیں۔کروناوائرس نے پورے یورپ کا سانس بند کیا ہوا تھا ملکوں کی اکانومی شدید متاثر ہورہی تھی تو ایسے وقت میں بھی پاکستان کے زرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ ہورہا تھا ہر ترقی یافتہ ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے ۔پاکستان میں اتنے سالوں سے بند پڑی صنعتیں پھر سے کام کرنا شروع ہوگی ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب ملک ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور خان صاحب کا خواب اللہ سچ ثابت کردے گا کہ لوگ باہر کے ممالک سے نوکری کرنے آیا کریں گے گرین پاسپورٹ کو عزت ملے گی لوگ فخر محسوس کریں گے اپنے گرین پاسپورٹ پر۔

    موضوع "

  • واقعہ مینار پاکستان

    واقعہ مینار پاکستان

    مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے

    ‏‎اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں

    ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا

    اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
    کروگے ویسا ہی بھرو گے

    میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں

    اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے

    ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
    مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
    تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیں

    جناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا

    گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے

    تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں

    دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے

    ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے

    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے

    یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو

    حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037

  • چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    عورت گھر کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہے آج کل کی عورت کو آگر کہا جائے گھر رہو تو وہ یہ سمجھتی ہے چار دیواری میں وہ قید ہو جائے گی یہ کوئی قید نہیں ہے عورت گھر سنبھالتے اچھی لگتی ہے اور مرد کماتے ۔ چار دیواری اس تَحفُظ کا نام ہے جو اسلام نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے۔ ضرورت اور مجبوری میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے ممنوع نہیں ہے ۔اسلام میں عورت کو حقوق دیے گئےہیں آزادی بھی دی ہے پر آزادی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بے حیائی پھیلائ جائے ۔ اتنی آزادی مل چکی ہے پھر بھی آزادی کے نعرے ختم نہیں ہورہے ۔ آج کل کی عورت کس قسم کی آزادی چاہتی ہے؟؟چار دیواری میں جتنی عورت محفوظ ہے اتنی کہیں بھی نہیں ۔ اپنی حفاظت خود کریں ۔معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔خواہشات کی تکمیل ہر کوئی چاہتا ہے کچھ بننے کی خواہش میں بھی عورتیں گھر سے باہر نکلنے کی خواہش مند ہوتی ہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حدود پار نہ کریں ۔بے شک گھر سے نکلے پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ آپ کی عزت داغ دار ہو۔گھر بیٹھ کے بھی آپ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور بہت سے کام موجود ہیں جو گھر بیٹھے آپ کما سکتی ہیں۔ پردے کا حکم بھی اسلیے ہے کہ کسی کی بری نگاہ آپ پہ نہ پڑے پردے میں رہ کے آپ گھر سے باہر کے کام سر انجام دے سکتی ہیں۔پردہ بھی ایسا ہو جس میں واقع لگے کہ آپ پردے میں ہیں آج کل کا پردہ بھی ایسا ہے کہ اتنا لوگ پردہ کے بغیر چلنے والی کونہیں دیکھتے جتنا پردے والی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ پردہ کے نام پہ فیشن کر رہی ہوتی ہیں ۔ پردے میں بھی حور پَری بن کے نکلو گی پھر کہو گی میرے ساتھ یہ ہوا !! جب تک آپ اپنا کردار صیحح نہیں کریں گی چاہے آپ پردہ میں ہو چاہے آپ گھر کی چار دیواری میں ہو آپ اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہونگی۔
    طوائف بھی ایک عورت ہی ہوتی ہے پر اسکا قصور یہ ہے وہ ایسی جگہ پیدا ہوجاتی ہے جہاں عزتیں محفوظ نہیں ۔ طوائف بھی اس معاشرے میں عزت چاہتی ہے وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے مگر اس معاشرہ میں اچھی بھلی عورت کو بھی برا بنا دیا جاتا ہے طوائف کو بُری نِگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے یہاں سر پہ چادر رکھنے والے کم نوچ کے کھانے والے زیادہ بستے ہیں ۔ جن لڑکیوں کو گھروں میں آزادی حاصل ہوتی ہے وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتی ہیں ٹک ٹاک کی دنیا بھی مجرہ بنی ہوئی ہےمشہور ہونے کے لیےشریف گھروں کی بگڑی اولادیں بھی اس کام میں مصروف ہیں۔ قیامت تو بعد میں آنی ہے تم لوگوں کی زندگیاں بھی عذاب بن جائیں گی ایسی حرکتیں عورتوں کو زیب نہیں دیتیں۔ حرکتیں ایسی نہ کریں کہ کچھ برا ہو ۔کچھ مرد حضرات ایسے ہیں کچھ بنتِ حَوا نے سر سے چادر تن سے لباس اتار پھینکا ہے حوس مارے پر نوچے گے نہیں تو کیا سر پہ چادریں دیں گے ۔میرا مقصد کسی پہ تنقید کا نہیں ہے یہی سچائی اور حقیقت ہے ایک ماں ہی بچے کی پَروَرِش کرتی ہے پر اگر ماں بہنیں ایسے کریں گی اور انکے باپ بھائ انکے منع نہیں کریں گے تو ایسے سب نظام درہم برہم ہوجائے گا پہلے بچوں کی تربیت اچھی کریں اچھے برے کا انکو بتائیں بے حیائ کے کاموں سے روکیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ٹک ٹاک پہ ناچ رہی ہوتی ہیں بڑی ہوکے پر وہ یہی کریں گی انکو پردہ کرنا سیکھائے انکو حدود میں رہنا بتائے چار دیواری میں رہنا کیا ہوتا ہے یہ بھی بتائے چار دیواری کوئی قید نہیں یہ وہ حدود ہے جس پہ عورت محفوظ ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے لیے کوئی قیدوبند نہیں۔

    @Hu__rt7

  • مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ   : تحریر ملک علی رضا

    مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ : تحریر ملک علی رضا

    پاکستان کے یوم آزادی پر مینار پاکستان لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ایک خاتون کیساتھ مبینہ طور پر قریب 400 لوگوں نے دست درازی کی جس پر اُس وقت کوئی نوٹس نہ لیا گیا مگر جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ بات وائرل ہوئی تو تمام میڈیا پلیٹ فارمز نے بنا تحقیق کیے بنا سوچے سمجھے اس معاملے کو اُٹھا دیا۔ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہوا اس کی پہلے دن سے میں مذمت کرتا ہوں جن لوگوں کو بلوایا گیا اور وہاں ان خاتون کیساتھ جو اپنے دوستوں کے ہمراہ وہاں کچھ ویڈیوز بنانے اور اپنے فینز سے ملنے گئیں تھیں جو کچھ بھی انکے ساتھ کیا گیا انتہائی غیر مناسب اور قابل مذمت اقدام تھا۔
    اب جب یہ سب کچھ ہوگیا ہے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ پاکستان غیر محفوظ ہے اور پاکستان میں عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا جا رہا انکو زیادتی کا شکار کیا جا رہا ہے طرح طرح کی باتیں ہونے لگ گئیں۔
    یاد رہے ایسا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس واقعے میں نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس تاک میں ہوتے ہیں کہ پاکستان مخالف بس کچھ میٹریل ملنا چائیے تا کہ اُسے فوری طور پر انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنایا جائے اور پھر پاکستابن مخالف پروپیگنڈہ کیا جا سکے ۔ اس معاملے کو لیکر بھی ایک منظم سازش پاکستان کیخلاف کی گئی اور جب تک اب یہ معاملہ میڈیاپر چلتا رہے گا یا جب تک کوئی نیا پروپیگنڈہ سامنے نہیں آجاتا تب تک اس معاملے کو ہوا میں اُرایا جاتا رہے گا اور اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے اس معاملے کے حق اور تنقید میں ہمیشہ کی طرح اس ایشو پر بھی بحث جاری ہے۔
    ایسے معاملات ہوتے کیوں ہیں اور ان کو اتنا کیوں اُچھالا جاتا ہے یہ معمہ ابھی تک معمہ ہی ہے لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عام پبلک کی نظر میں سوالیہ نشان ہیں جن میں سب سے پہلے قانون کی بالادستی کا نہ ہونا، لوگوں کو مکمل معلومات کا نہ ہونا ، مرد اور عورت کے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا نجانے کتنے ایسے سوالات ہیں جو لوگوں کے اذہان میں جمع ہیں
    اب اس معاملے کے اصل مُحرکات ہیں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنا جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے چکر میں ایک لڑکی نے اپنے شوہر کو مار دیا اور ڈرامہ کر دیا جس سے اس کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
    در اصل ایسے واقعات کا تسلسل کیساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب وہ بُرائیاں کُھل کر سامنے آنے لگی ہیں جو شاید پہلے کم ہوا کرتی تھیں اور رپورٹ بھی کم ہوتی تھیں ، قانون کی بالا دستی اور جلد انصاف کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات میں تسلسل آنے لگ گیا ہے۔ زینب قتل کیس کے بعد اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کوئی ایسی خبر نہ سُنی ہو۔
    ان سب کی اصل وجہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی چیز کی زیادتی ہے جب کوئی بھی چیز حد سے تجاوز کر جائے تو وہ نقصان دینا شروع کر دیتی ہے پھر چاہے وہ کوئی نشہ ہو ،انٹرنیت کا بے جا استعمال ہو، سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جس سے معاشرے میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوجائیں۔
    بحثیت ایک شخص میں اپنے گھر سے لیکر سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز اور دفاتر غرض کہ سڑک پر چلتے پھرتے بھی اپنی اخلاقیات کو نہیں بھولنا چائیے۔او یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انسان کی تربیت گاہیں انکو اپنی اقدار اور اخلاقیات کا سبق پڑھا کر گھر سے نکالیں گی، والدین کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی، سکول کے استادوں معاشرے کو بنانے کے لیے حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہی دو درس گاہیں ہیں جہاں سے معاشرے بنتے بھی ہیں اور بگڑتے بھی ہیں۔
    جب انسان اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چائیے کی وہ عقل کُل رکھتا ہے ۔ ہر لمحہ ہر گھڑی سیکھنے کا مرحلہ جاری رہتا ہے اب یہ انسان کی طبیعت پر منحصر ہے کہ وہ کیا سیکھتا ہے۔ ہم سب کو تنقید کا حق ضرور ہے مگر تنقید بھی تب ہوجب تنقید کرنے والوں کے پاس اس مسلے کا حل ہو تا کہ وہ حل بتا کر معاشرے کی بُرائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں طوئفوں کی بات سب سے سامنے زندہ مثال ہے جو سرعام مکروع دھندہ کرتی ہیں اور معاشرہ انکو بُری نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ کہتی پھرتی ہیں کہ کتنے راز ہیں ہمارے پاس اگر ہم کھول دیں بڑے بڑے پارسا بھی منہ دیکھانے لائق نہ رہیں۔تو پردہ رکھنے سے انکا کچھ نہیں جاتا مگر بڑے بڑے پارسا گریبان کھول کر گھوم رہے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی بہت بڑے تیس مار خان ہیں۔اس لیے معاشرے کو بنائیں نہ کہ بگاڑ پیدا کیا جائے۔

  • بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔   تحریر فیصل خالد

    بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔ تحریر فیصل خالد

    ملک کے ایک معروف اینکر نے مینار پاکستان حالیہ واقعہ کے تناظر میں یہ بات کہی ہے ٫٫شکر ہے اللہ نے مجھے بیٹی نہیں دی اور مجھے پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔؛
    موصوف نے یہ بات جس بھی پیرائے میں کی ہے عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ منہ کھولنے سے پہلے دماغ کی بتی کو روشن کرلینا چاہئے اور اول فول بکنے سے قبل ہزار بار نہ سہی کم ازکم ایک بار ضرور سوچ لینا چاہئے۔ مخصوص مقاصد کیلئے موقعہ محل کی نزاکت کو دیکھ کر ایسے بیانات داغنے والے اپنی شعلہ بیانی سے بلاشبہ من چاہے نتائج حاصل کر لیتے ہوں گے مگر ان کے ایسے پراپیگنڈے میڈیا کے اس دور میں کس قدر منفی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ نہیں۔ جس واقعہ کی پشت پر انہوں نے یہ بات کہی ہے اگر اسے بھی دیکھا جائے تو یہ ایسا معاملہ نہیں کہ آپ سارے معاشرے کو چند بے لگام مردوخواتین کے کرتوتوں کے حاصل کا ذمہ دار ٹھہرا دیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں جب بیٹیاں بوجھ ہوا کرتی تھیں۔ الحمد اللہ ہم صاحب اولاد ہیں اور ثم الحمد اللہ کہ ہماری اولاد میں بیٹیاں بھی ہیں۔ جہاں گھروں میں بیٹوں کے دم سے شرارتیں اور ہلہ گلا ہوتا ہے وہیں بیٹیوں کے دم سے جو رونق اور سکون ہوتا ہے انہیں کیا معلوم جن کو اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کی نعمتیں عطاء نہیں کیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ شفقت و محبت اور احترام کی خاندانی روایات ہیں کہ انہیں بیاہ کر پیا گھر سدھار جانا ہوجاتا ہے۔اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے عرب اور دیگر معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو منحوس اور شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، مگر اسلام نے بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دے کر معاشرے کو متوازن اور خوبصورت بنا دیا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں کی بہترین پرورش کا معاملہ کرنے والے والدین/ سرپرستوں کیلئے جہنم سے دوری کی بشارت دے دی۔ آپ نے فرمایا ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔ بیٹی کا معاملہ ہی دیکھ لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاطمۃ الزہرۃؓ سے اتنی محبت تھی کہ انھیں اپنے جگر کا ٹکڑا کہا کرتے، جب حضرت فاطمہؓ آپؐ سے ملنے آتیں تو آپؐ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے، کبھی ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے۔بیٹیوں کو وراثت کا حق دیا۔ بدقسمتی سے آج پھر معاشرہ ان بیٹیوں کو بوجھ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اسلام نے بیٹیوں کے معاملہ میں جو احترام ، محبت اور شفقت کے اصول وضع کردیئے تھے انہیں خرابی کی طرف لیجایا جارہا ہے۔ اللہ کی اس رحمت کو زحمت بنایا جارہا ہے۔ زمانہ جاہلیت کی طرح بیٹیوں والوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔ انہیں کمزور سمجھا جانے لگتا ہے۔ آج معاشرے کو بیٹی کے تصور سے خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ کمرشلائزیشن کے دور میں بیٹیوں کو مارکیٹنگ جنس بنادیا گیا ہے۔ میڈیا کی مدد سے آج کی بیٹی کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ڈراموں،فلموں کی کہانیوں میں معاشرے کی تصویر دکھانے کے نام معاشرے کو تباہی و بربادی کے ایجنڈے پر استوار کیا جارہا ہے۔ باپ اور بیٹی تک کے مقدس رشتوں کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ کہیں بیٹی کو مثبت معاشرتی اقدار سے باغی بننے کی تربیت کی جارہی ہے تو کہیں باپ کو بیٹی کا روپ بوجھ بتایا جارہا ہے۔ لوگوں کی بیٹیوں کو روپے پیسے اور مادیت کے لالچ میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔ رستہ سے بھٹک جانے والی بیٹیوں کی مدد سے دوسروں کی بیٹیاں خراب کی جارہی ہیں۔ بے لگام میڈیائی پراپیگنڈہ جس انداز سے ہماری بیٹیوں کو مشرقی روایات، ثقافت و مذہب سے دور کرنے میں مصروف ہے اس کی مثالیں سوشل میڈیا کے لچر پن ناچ گانے ٹک ٹاک کی بے حیائی میں نمایاں ہیں۔ والدین کا بیٹیوں بالخصوص بیٹوں کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لینا بیٹیاں سب کی سانجھی جیسی خوبصورت سوچ والے معاشرے کو غلط سمت پر لیجارہا ہے۔ مینار پاکستان واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ معروف اینکر پرسن کو بتایا جائے کہ یہ ٹک ٹاک اور دیگر ایسے پلیٹ فارمز پر رحجان پانے والی سرگرمیاں یہ ہمارے معاشرے کی عکاس ہر گز نہیں ہیں۔ اگر آپ ایسی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات کے بعد بھی ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے، دوسروں کی بیٹیوں کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہو تو سبھی معاشرے کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے مزید یہ کہ بیٹیوں اور پاکستان سے ہی پناہ نہ مانگی جائے کہ بیٹیاں اللہ کی بہت بڑی رحمت ہیں یہ تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہیں بس ان کی قدر کرنے اور اپنی اپنی اصلاح کی ضرورت باقی ہے-

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟  تحریر : محسنؔ خان

    پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟ تحریر : محسنؔ خان

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ دِنوں میں طالبان نے افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیا ہے جہاں پہ وہ اسلامی قوانین لانا چاہتے ہیں اور ہم پاکستانی عوام اسلامی قانون کی مکمل حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں جو نافذ کیا جا رہا ہے
    شریعت کا نفاذ افغانستان میں ہی کیوں کیا جائے وہاں بھی جمہوری نظام ہی رہے تو ٹھیک ہے ہم پاکستان خود کیوں شریعت کے نفاذ سے ڈر رہے ہیں ؟؟
    اس سوال کا جواب ہر ایک پاکستان کا خود کا ضمیر دے گا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں کیوں ہیں کیونکہ یہاں سب کچھ اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے اگر یہاں پر اسلامی شرعی اصول نافذ ہو گئے تو تمام ہیرا پھیریاں اور بے ایمانیاں ختم ہو جائیں گی ہر پاکستانی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بے ایمانی میں ملوث ہے.
    ہماری عدلیہ کا نظام سب سے گندا ہے جہاں ایک فیصلہ کیلیے سالوں سال تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں پولیس تھانوں میں بیٹھی الگ سے لُوٹ رہی ہے اور وکلاء اور جج الگ سے غریب طبقہ اپنے حق کے حصول کیلیے قبر تک پہنچ جاتا ہے اور اسے حق نہیں ملتا.

    اگر کوئی ہسپتال ہے تو اس میں ڈاکٹروں کو ہوش نہیں یے کہ کوئی مریض مر رہا ہے وہ صرف پیسے کیلیے کام کر رہے ہوتے ہیں

    یہی حال ہمارے سکولوں اور کالجوں کا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رشوت اور بے حیائی عام ہے
    مخلوط تعلیم کے زیر تربیت طالبعلم تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عورت کو پردے کی فکر نہیں نیم برہنہ کپڑے تعلیمی اداروں میں پہنے اور بازاروں میں بیچے جا رہے ہیں
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ یہاں پہ پیسے اور سفارش سے جان چھوٹ جاتی یے لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے حقدار کو حق ملتا ہے خواہ وہ جزا ہو یا پھر سزا
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ ہم رشوت اور لوٹ مار کے خاتمے کی وجہ سے ڈرتے ہیں اگر رشوت ستانی اور لوٹ مار ختم ہو گئی تو مالی نقصان ہوگا لیکن ہمیں دینی و روحانی نقصان کی زرا پرواہ نہیں ہے.
    طالبان حکومت کے خلاف بہت سے گروہ مہم جوئی میں مصروف ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کو (نعوزباللّہ) بدترین دین قرار دینا ہے اور اس مہم میں ہمارے کچھ اپنے ایمان فروش لوگ بھی شامل ہیں یہ لوگ طالبانوں کو ظالم اور مسلمانوں کے مذہب اسلام کو ظالم و بربریت کا دین قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں.

    شریعت نافذ ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی شخص چوری نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن ہم چوری نہیں چھوڑنا چاہتے اسی لیے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی شخص کسی کے مال پہ غاصبانہ قبضہ نہیں کرے گا کیونکہ اسلام میں دو ٹوک فیصلے کا حُکم ہے اس لیے مافیہ کا گروہ شریعت کے خلاف ہے اگر جمہوریت رہی تو جیبیں بھری رہیں گی

    سب لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں گے جیسے جنرل ضیاء کے دور میں صلوٰۃ کمیٹی نے کافی کامیابی سمیٹی لیکن ہم یہاں بھی ایمان کے کچے ہیں حالانکہ نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم لوگ نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہمارا نظریہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم قرآن سے زیادہ تعویز دھاگوں کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی عورت باپردہ نہیں ہوگی عورت کو اسلامی قوانین کے مطابق عزت اور آزادی حاصل ہوگی اور اسی بات پہ لبرل طبقہ اسلام کو عورت کیلیے غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اس کی تشہیر کیلیے عورت مارچ جیسے شیطانی مارچ کرتا یے

    اگر شریعت نافذ ہوتی ہے تو جرائم کی کمی ہو گی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کو لگام پڑے گی کیونکہ ہمارے لوگ اس کی عبرتناک موت سے ڈرتے ہیں.

    جہاں اسلام ایک مکمل دین ہے وہیں اسلام میں قوانین کے خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ہیں ہم جمہوری نظام کو ہی رکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم معاشرے سے گناہ کی گندگی ختم نہیں کرنا چاہتے رشوت, چور بازاری, زنا, جھوٹ, دھوکہ, فریب اور متعدد گندی بیماریوں میں اُلجھا ہوا یہ معاشرہ صرف افغانستان میں ہی شریعت کا نفاذ چاہتا ہے نا کہ پاکستان میں کیونکہ ہم اسلام سے ڈرتے ہیں اسلامی قوانین سے ڈرتے ہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم منافقت کے کس درجے پہ کھڑے ہیں.

    ہم سب کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو اسلام سے کیوں ڈرتے ہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی لیکن اس پہ عمل طالبان کر کے بازی کے گئے.

    اللّہ عالم اسلام کو تمام عالم پہ غالب کرے اور ہم مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ثم آمین