محرم الحرام یوم عاشور کے دن لوگوں کی بہت بڑی تعداد قبرستان میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔۔بچپن میں جب والد سے موت اور قبرستان کا پوچھتے تو وہ بتاتے مرنے کے بعد انسان قبر میں جاتا ہےاور اگر ہم گناہ کریں گے جھوٹ بولیں گے تو جب ہم قبر میں لیٹے گے تو اندر کیڑے مکوڑے اور بچھو ہوں گے اور اس ڈر سے بہت بار جھوٹ بولتے بولتے رک جاتے تھے۔اب سوچا جائے تو وہ ڈر خدا کا، قبر کا اور گناہوں کے بعد ملنے والی سزا کا تھا۔۔اور اسی محرم الحرام میں فیملی کے ساتھ قبرستان گئی چار سال کی بچی پہلے اغوا اور پھر جنسی تشدد کا شکار بنی۔۔اور سب سے حیرت کی بات کے ملزمان کی عمر تیرہ اور چودہ سال ہے یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔اور ایسی بہت ساری خبریں نظروں سے گزرتی ہیں جس میں بچے جنسی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔۔آج کوئی دن خالی نہیں جس میں یہ خبر سننے کو نہیں ملے کہ فلاں جگہ بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا کبھی قتل کر دیا گیا یا پھر کبھی آدھ موٸی حالت میں زندہ لاش ملی۔۔اور جب کوئی اس طرح کا واقعہ ہو تو کوئی طبقہ عورتوں کو گناہگار سمجھتا ہے اور کوئی مردوں کو حیوان کہتا ہے۔۔۔اسی مرد و عورت کی جنگ میں بچے روز اس درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ہم سب کو ڈر ہے اپنے بچوں کے لئے ۔۔لیکن کوئی بھی اس سب سے بچنے کے طریقے پر غور نہیں کر رہا۔۔یہ مرد و عورت کی جنگ میں سب سے زیادہ پِسے جا رہے ہیں تو صرف بچے۔۔۔جب ایک گھر میں سارا دن خبریں سننے کے بعد مرد عورت کو قصور وار ٹھہراۓ گا اور عورت مرد کو حیوان سے تشبیہ دے گی تو بچوں پر توجہ کون دے گا؟۔جب ایک ناپختہ ذہن بچہ باپ کے ساتھ بیٹھ کر سنے گا کہ عورت قصور وار ہے تو اس کے ذہن میں عورت کے لیے ویسا ہی عکس بنے گا۔۔۔اور اسے گناہ، گناہ نہیں لگے گا بلکہ عورت اس کی حقدار لگے گی۔۔۔اور دوسری طرف بیٹی سارا دن ماں کے ساتھ بیٹھ کر جب مردوں کے بارے میں برا سنے گی تو اسے ایک شریف النفس شخص بھی شیطان لگے گا۔۔جس کے نتیجے میں مادرپدر آزادی کے نعرے سننے کو ملتے ہیں۔۔۔اسی جنگ میں بچوں کی تربیت کون کرے گا؟انہیں اچھے اور برے ،نیکی اور گناہ ،عزت اور بےعزتی میں فرق کون سمجھائے گا؟ایک مرد ایک عورت کی گود میں سے بیٹے کی صورت میں نکلتا ہے۔۔اور ایک عورت ایک بیٹی کی صورت میں ایک مرد کے زیر سایہ پلتی ہے۔۔اگر والدین اس پر توجہ دیں ماں بیٹے کو سکھائے کہ صرف گھر کی عورت ہی عورت نہیں ہوتی بلکہ عورت ہر جگہ قابل عزت ہے۔۔اور مرد بیٹی کو بتائے کہ مرد ایک سائبان ہے باپ ہے بھائی ہے اور دنیا کے سب مرد ہی اتنی عزت اور وقار والے ہیں جتنے اس کے باپ بھائی۔۔تو پھر یہ مسئلہ ہی نہ ہو۔۔۔ ماں کو بیٹی سے اتنا بے تکلف ہونا چاہیے کہ وہ سمجھائے کہ good touchاور bad touch میں کیا فرق ہے..بیٹی کو سمجھائے کہ محرم اور نامحرم کیا ہوتا ہے کون سے رشتے کی کیا حدود ہوتی ہیں۔۔چھوٹی عمر میں ہی سمجھائے کے باپ اور بھائی کے علاوہ کوئی خیر خواہ اور ہمدرد نہیں ہوتا۔۔۔اور بیٹے کو بتایا جائے کہ بہن اپنی ہو یا کسی کی بہن، بہن ہوتی ہے۔بچوں پر نظر رکھیں دیکھیں وہ کن کاموں میں ملوث ہیں ان کا حلقہ احباب کیا ہے؟جب ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کی لت لگا دیں گے اور ساتھ بٹھا کر ایسے ڈرامے دکھائیں گے جہاں رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے جہاں محرم اور نامحرم کی تمیز ہی نہیں۔۔۔تو ان کے ناپختہ ذہن اس چیز کو کیسے سمجھ رہے ہیں اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔۔وہ تو تب ہونا جب ہم مرد و عورت کی لڑائی سے نکلیں۔۔۔انہیں سکول میں اخلاقیات اور رشتوں کے تقدس پر لیکچرز دیے جاٸیں۔۔۔انہیں سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جائے۔۔۔ورنہ حالات آپ کے سامنے ہے اور حالات کا رونا روتے ہوئے ہم لوگ ہیں۔۔اگر ہم نے تربیت پر توجہ نہ دی تو جانے کتنی دہائیوں تک ایسے ہی ایک دوسرے کو کوستے رہیں گے اور بچے جنسی درندگی کا شکار ہوتے رہیں گے.اور حکومت وقت اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ جب ایسے مقدمات آئیں تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ان انسانیت سوز عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔تاکہ وہ سب کے لئے نشان عبرت بنیں۔جب مقدمات درج ہونے کے باوجود ان درندوں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تو ایسے لوگوں کے دلوں سے خوف خدا پہلے ہی ختم ہوتا ہے تو اس طرح اداروں کا ڈر بھی ختم ہو جاتا ہے اور یہ ڈر ختم ہونا مزید برائی پر اکساتا ہے۔اگر فوراً قانون کی پاسداری ہو اور فل فور انصاف کی فراہمی ہو تو ہم پاکستان کوحقیقی معنوں میں ریاست مدینہ بنا سکیں گے..
Author: Baaghi TV
-

ریاست کا کیا قصور؟ تحریر : علی حیدر
یہ اس قوم کی ایک عجیب عادت بنی ہوئی ہے کہ جب بھی کچھ ہوجائے اس ملک میں تو بس سیدھا ریاست کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کسی کا ریپ ہوجائے تو ریاست کو گالیاں، کسی کی چوری ہوجائے تو ریاست کو گالیاں، کسی لڑکی کیساتھ کوئی بدتمیزی کرے تو ریاست کو گالیاں، کوئی سیاستدان چوری کرے تو ریاست کو گالیاں، آخر ریاست کا کیا قصور اس میں؟ کیا ریاست نے آپ کو بولا کہ کسی سیاستدان کو ووٹ دو، کیا ریاست نے آپکو بولا کہ کسی کے ساتھ بدتمیزی کرو، کیا ریاست نے آپ کو بولا کہ یہ کرو یہ نہ کرو۔ یہ عادت ہمیں بدلنی پڑے گی ، ہمیں ریاست کو ذمہ دار ٹھرانے کی بجائے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھنا ہوگا کہ آیا میں ایک ایسے خوبصورت آور آزاد ریاست میں رہنے کے قابل ہوں یا نہیں؟ ہم ہمیشہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس ریاست نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟. لیکن کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا ہے کہ میں نے آج تک اس ریاست کو کیا دیا ہے؟. اس ریاست نے ہمیں پہچان دی، اس ریاست نے ہمیں آزادی دی ، اس ریاست نے ہمیں تحفظ دیا، اور یہ ریاست تو شہیدوں کے خون سے قائم و دائم ہے، آپ کو اندازہ تک نہیں کہ اس ریاست کو آباد رکھنے کیلئے کتنی ماوں نے اپنے لعل قربان کئے ، کتنی بہنوں نے اپنے بھائی، کتنی بیویوں نے اپنے سہاگ اور کتنے بچوں نے اپنے والدین قربان کئے ہیں۔ اس وقت جب دنیا کی تمام مسلم ریاستیں تباہ ہوگئ ہے اور کچھ تباہی کے قریب ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا ریاست اس وقت امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ سب ہمارے ان شہیدوں کی وجہ سے جنہوں نے گمنام رہ کر اس ریاست پر اپنی جانیں قربان کردی۔ اس لئے ریاست کو بدنام کرنے یا گالیاں دینے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ اس ریاست کو قائم رکھنے کیلئے کتنی قربانیاں دے دی گئ ہے۔ ہر جرم پر ریاست کو بدنام کرنے سے پہلے اپنے آپ کو درست کرے، اپنے گریبان میں جھانکے کہ بطور شہری میں اپنا فرض ادا کررہا ہوں یا نہیں ۔ ہم میں سے ہر بندہ اگر اپنے آپ کو ٹھیک کریگا تو اس ریاست میں جرم ہونگے ہی نہیں آئیے اس ریاست اور اس پر قربان ہونے شہداء کی خاطر اپنا فرض نبھانا شروع کردے، اور اس ریاست کو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ اور سے پرامن ریاست بنائیں۔ کیونکہ یہ ریاست ہماری ماں ہے اور ہمارا گھر ہے، اس ریاست کو گالیاں دینا اپنے ماں کو گالیاں دینے کے برابر ہے اور اس ریاست کیخلاف سازش کرنا اپنے ہی گھر کو خود اجھاڑنے کے برابر ہے۔ آج کل ہمارا ناپاک دشمن ہمارے کچھ جوانوں کو پیسے دے کر ہمارے ریاست میں بدامنی، انتشار اور بے حیائی پھیلانے پر تُلے ہوئے ہیں اور انکا مقصد اس ریاست کے لوگوں کے دلوں میں اس ریاست کیلئے نفرت پیدا کرنا ہے اور اس ریاست کے لوگوں کو افواج کیخلاف کھڑا کردینا ہے. وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ریاست کیخلاف کھڑے ہوں تاکہ کسی نہ کسی طرح اس ریاست کو کمزور کیا جائے۔ ہمیں اس وقت ریاست کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہنے کی ضرورت ہیں، تاکہ ہمارا ریاست خوب پھلے پھولے اور ترقی کی آخری حدوں کو بھی چھوسکے۔ مجھے اپنے ملک کے لوگوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ دشمنوں کی چالوں کو ناکام بناکر اپنے ریاست کی دفاع کرینگے۔ باقی یہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ریاست تاقیامت تک قائم و دائم رہیگی انشاء اللہ
Name Ali HaiderTwitter username @da_watan_lewany
-

حوصلے کیوں بڑھتے ہیں ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر
ارشاد باری تعالی ہے
"جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔”
سورة المائدة 33
گذشتہ چند روز سے تسلسل کے ساتھ دل دہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں کبھی کسی نواجوان لڑکی کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے کبھی مینار پاکستان پر ہجوم خاتون کے ساتھ دست درازی کی خبر ملتی ہے کم سن بچیوں کے ساتھ درندگی اور چنگ چی رکشہ پر بیٹھی خواتین کے ساتھ چلتی سڑک پر بھیڑیا نما انسانوں کی چھیڑ خانی کی واردت ۔ان سب لرزہ خیز وارداتوں نے بیٹیوں والوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں کہ اس غیر محفوظ معاشرے میں اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔۔۔
سوال یہ ہے کہ ان درندوں کے حوصلے کیوں بڑھ گئے ہیں ان کو کیوں پکڑے جانے اور سزا کا خوف نہیں
۔۔؟
وجہ صرف اور صرف لاقانونیت پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کی مکمل ناکامی اور غیر مساوات پر مبنی فیصلے ہیں ہمارا انصاف کا نظام امیر آدمی کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرتا ہے بڑے آدمی کو اگر ماتحت عدالتیں سزا بھی دے دیں تب بڑی عدالت کی مداخلت سے وہ مکھن سے بال کی طرح سرخرو ہو کر نکل جاتا ہے ۔نیب ملزمان کو بڑے بڑے اسکینڈلز میں گرفتار کرتا تو ہے لیکن کمزور تفتیش اور پراسیکیوٹرز کی وجہ سے چند ماہ بعد وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے نظام کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے۔ مرضی کی جعلی میڈیکل رپورٹس تیار ہو جاتیں ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جیل بند مجرم کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے کر بیرون ملک فرار ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے چھٹی والے دن ضمانتیں منظور کر لی جاتیں ہیں ۔ عدالت کو بتائے بغیر ملزم کو دوبارہ گرفتار نہ کرنا کا حکم دیا جاتا ہے۔ ایم پی اے اپنی گاڑی کے نیچے ٹریفک پولیس کے اہلکار کو کچل کر بھی سزا سے بچ جاتا ہے ۔جب عام عوام انصاف کا یہ عالم دیکھتے ہیں تو سفاک مجرموں اور شوقیہ جرم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے ہیں اور وہ درندگی پر اتر آتے ہیں انسانوں پر کھلے عام تشدد کرتے ہیں شرفا کی عزتیں پامال کرتے ہیں اور پھر ان سے نہ کسی کی بیٹی محفوظ ہوتی ہے نہ بہن ۔ ہمارے ہاں پتا نہیں کیوں پبلک میں سرعام سزا دینے سے گریز کیا جاتا ہے اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں لیں جن ممالک میں سرعام لٹکانے کوڑے مارنے اور سر کاٹنے کی سزا پبلک میں دی جاتی ہے وہاں پر جرائم کی شرح بہت کم ہے۔
کسی معاشرہ میں جب انصاف کا نظام زمین بوس ہوجائے پھر وہاں لاقانونیت اور انارکی کا راج ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گھناونے اور انسانیت کے خلاف جرائم بارے سخت قانون سازی کی جائے خصوصی عدالتوں کے ذریعے تیز ترین کاروائی سماعت کرکے پبلک میں سزاوں کا نفاذ کیا جائے تاکہ بیمار ذہن درندوں کو عبرت حاصل ہو۔ قرآن نے معاشرے میں فساد پھیلانے والے سفاک مجرموں کو قتل کربے سولی چڑھانے ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے ،اور انہیں جلاوطن کرنے کا حکم دیا ہے ۔تاکہ مسلم معاشرے انسانیت سوز جرائم سے محفوظ رہیں ۔
@Educarepak -

کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز
زیست و حیات کا سفر محنت و مشقت سے عبارت ہے اور دشوار گزار مراحل کو مشقت و جانفشانی کے بل بوتے پر ہی تحمیل پز یر کیا جاسکتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی اس سے منفر نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ان ٹھن مراحل کو ایک ٹیبل ٹینس کے کھیل سے بہ آسانی تعیہ دے سکتے ہیں جہاں پر گیند کو ہر جانب سے پیا جا تا ہے ۔آخر ہمیں اپنے دور حیات میں نا کا میوں سے ہمکنار کیوں ہونا پڑتا ہے۔ یہ سوال دل کو بار باغیرمطمئن کرتارہتا ہے۔ ہراشرف المخلوقات خدا کی عطا کی ہوئی بہترین نعمت ہے۔ ہمیں قدرت کی جانب سے عقل وفراست اور شعور عطا ہوا ہے۔ ہمارے اندر مہارتیں اور ہنر مندیاں ہیں، کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں پر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں چینج، پریشانیوں یا مصائب زدہ مسائل کوحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہرانسان امن وسکون ،خوشحالی بنشرت اور کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کی جستجو میں در بدر کی ٹھوکر میں کھارہا ہے، لیکن اپنے گردوپیش کا مشاہدہ میں تاتا ہے کہ کامیابی یافت مندی بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ میں ایسے بے شارانسانوں سے واقف ہوں جو کہ کامیابی اور مسرت حاصل کرنے کی دھن میں اپنی زندگی کو بر بادکر بیٹھے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں ان کی زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔لکر، مایی ، تاؤ زدہ ماحول کے جال میں وہ پوری طرح الجھ چکے ہیں۔جس کے سب غصہ نگی ، مای ، یاسیت اور نا کا میابی ان کا مقدر بن چکی ہے۔اس گر دش دوراں سے کیاوہ نکل پائیں گے؟ کیوں نہیں نکل پائیں گے۔ بے شارافراد کے خواب بڑے اعلی قسم کے ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے لازمی ہمت ،مضبوط قوت ارادی قلبی استقلال نظم وضبط مستحکم
ارادے ان مسائل کا میں یکسر فقدان پایا جا تا ہے ۔ چندلوگ تقذ یر پرانحصار کرتے ہیں اور بعض افراد خدائی دین پر اور پر ضروری کوشش کرتے ہی نہیں۔خداتو اس کی مد دکرتا ہے جو جہد مسلسل سے کام لیں۔ اگر جہد وٹل میں جذ بہ دل شامل نہیں ہوتا کوئی پھر لا کھ چا ہے ئیدعا حاصل نہیں ہوتاہر با کمال انسان میں ایک جذ بہ مشتر کہ ہوتا ہے اور وہ بندمی کی فرسودہ فکر سے انحراف اور کچھ نیا کر دکھانے کی آرزو می تمام یا تیں نا کام انسان یکسرفراموش کر بیٹھتا ہے۔ لہذانا کا میوں اور مایوسیوں کے گھنگھور اندھیروں میں گھر جا تا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک کھل منصوبہ بند طریقے سے لائھ مل کو ترتیب دینے اور یح و مثبت سمت میں سفر کا تعین کرنے کی ضرورت اور ہمت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ریاضت ہے جس کے لئے آپ کا قلب جسم، دماغ اور روح کا ہم آہنگ ہونا از حد ضروری ہے۔جسم، ذ ہن ودماغ اور روح میں رہ نہیں ہوگا تو متوقع کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکیں گے ۔ ا دوستو! اپنے ضمیر سے واقفیت یا تلاش نفس یا خودی کی تلاش ایک عظیم انقلاب کی علامت ہے۔ جس کی بناء پر میرا اپنادور حیات کی جانب دیکھنے کا نظریہ ہی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بدلاؤ یقینا تسلی بخش اور مسرت آمیز ثابت ہوا۔اپی بالذات کی آزمائش کے بناء پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ میں آج بھی بڑے حیرت وتعجب کے سمندر میں موجزن ہوں کہ اس سے قبل میں نے ان راہوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ ان راستوں سے میں لالم کیوں تھا؟ میرا اپنا تجر بہ و مشاہدہ آپ کے ساتھ بانٹا ہے ۔
@Hi_Awaiz -

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدین کاسفر اور نکاح تحریر اکرام اللہ نسیم
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ ملاقات اور اسکے بیٹی سے نکاح
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب اسکے گروہ والے نے مدد مانگی فرعونی گروہ والے کے خلاف تو موسیٰ علیہ السلام نے فرعونی گروہ والے کو گھونسا مارا وہی پر کام تمام کردیا
اسکے بعد آپ بہت پریشان تھے
آپ نے اللہ پاک سے مغفرت طلب کی ان الفاظ میں ،،قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ انه ھو الغفور الرحیم ،، ترجمہ:کہا اے میرے رب میں نے اپنے اوپرظلم کرلیا سو تو مجھے بخش دے اس پر اللہ نے انکو معاف کر دیا بلاشبہ وہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے
تو رب کریم نے موسی علیہ السلام کو معاف فرمایا
پھر آپ نے عہد کیا آج کے بعد کسی مجرم کا ساتھ نہیں دونگا لیکن دوسرے دن وہی اسرائیلی قبطی سے لڑ رہا تھا موسی علیہ السلام سے اسرائیلی ڈر گیا کہ کل جس کے ساتھ میں لڑ رہا تھا جب میں نے موسی علیہ السلام سے مدد مانگی تو موسی علیہ السلام نے اسکو جان سے مارا دیا آج میں پھر لڑ رہا ہوں موسی علیہ السلام کے دل میں یہ بات آئے گی کہ یہ روز لڑتا ہے آج مجھے جان سے مار دے گا اسی ڈر کی وجہ سے اس اسرائیلی لڑکے نے کہا موسی کل تو نے فرعونی گروہ کے لڑے کو نان مارا تھا ساتھ کھڑے لوگوں نے سن لیا کے قبطی قبیلے کے لڑے کا قاتل موسی ہے اسکے بعد قبط کے سرداروں نے فرعون سے کہا کہ بادشاہ سلامت ہمیں موسی علیہ السلام سے قصاص لینی ہے
اسکے بعد فرعون کے دربار میں موسی علیہ السلام سے قصاص لینے کے بارے میں مشورہ ہو رہا تھا
اسی مجلس میں۔ بیٹھے شخص نے آکر سارا واقعہ موسی علیہ السلام کو بتایا پھر اسی شخص نے حضرت موسی علیہ السلام کو
امدین جانے کا مشورہ دیا موسی علیہ السلام نے
مشورے پر عمل کرکے بغیر کسی تیاری کے مدین کی طرف چلے گئے یہاں فرعون کی پولیس آپ علیالسلام کو اپنی حدود میں ڈھونڈ رہی تھی مگر آپکو نہ پکڑ سکی اور واپس چلی گئی اور فرعون کو بتایا کہ موسی علیہ السلام نہیں مل رہے وہاں موسی علیہ السلام مدین کے سفر پر تھے جو کہ آٹھ دن تک جاری رہا موسی علیہ السلام چونکہ بغیر تیاری کے سفر پر روانہ ہوئے تھے ساتھ کچھ کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا پتے وغیرہ کھاتے رہے اسی پر گذارا کرتے رہے جب مدین پہنچے
جسکا ذکر قرآن میں یوں ہیں
ولما توجه تلقاء مدین قال عسی ربی ان یھدینی سواء السبیل
ترجمہ جب موسی علیہ السلام نے مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے میرا رب مجھے سیدھی فاہ چالائے گا
جب آپ کنویں کے پاس پہنچے تو وہاں لوگ جانوروں کو پانی پلارہے تھے دوسری طرف دو عورتیں کھڑی انتظار کر رہی تھی آپ نے پوچھا کیا حال ہے
انہوں نے کہا کہ یہ جب اپنے جانوروں کو پانی پلا نہیں دیتے تب تک ہم کھڑے رہتی ہیں پھرانکا بچا ہوا پانی جانوروں کو پلاتے ہیں کیونکہ ہم کنویں سے پانی نہیں نکال سکتے ہمارا والد بوڑھا ہے ہمارے گھر میں کوئی دوسرا مرد نہیں جو اس کنویں سے پانی نکالے اور جانوروں کو پلئے اس کے بعد موسی علیہ السلام نے کنویں سے پانی کا ڈول نکالا جانوروں کو پلایا جب جانوروں نے پیا خوب سیراب ہو اور ادھر
لڑکیاں جب معمول سے پہلے گھر گئی یاد رہے یہ لڑکیا شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں تھیں شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا اتنی جلدی کیسے تو لڑکیوں نے مسافر کا تمام حال سنایا
شعیب علیہ السلام نے مسافر کو حاضر کرنے کا کہا جب مسافر یعنی موسی علیہ السلام حاضر ہوئے تو اپنا پورا واقعہ سنایا کہ میں آدمی مارا وہاں فرعون نے مجھ سے قصاص لینا چاہا میں یہاں تو شعیب علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا گھبرانے کی ضروت نہیں اور ان کو تسلی دی اور کہا ابھی آپ ظالموں کے پنجے سے چھوٹ آئے ہیں
حضرت شعیب علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے انکو ایک طاقتور اور امین نوکر کی ضرورت تھی تاکہ بکریوں کا دیکھ بھال بھی کرے اور دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ نکاح بھی کریں
نکاح میں مہر آٹھ سال کی خدمت مقرر ہوئی اور دس سال کی مہلت ملی اور یہ شرط بھی لگائی ہم آپ سے سخت سے پیش نہیں آیئنگے جسکو بخوشی موسی علیہ السلام نے قبول کیا اسکے بعد حضرت موسی علیہ السلام کا نکاح مبارک صفورا سے ہوا جوانی کبھی کبھی مراد کو پہنچ جایا کرتی ہےکہ اس نے چند سال شعیب علیہ السلام کی دل و کال سے خدمت کی -

پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان
کچھ دن سے سوشل میڈیا کی ہر ویبسائٹ پر ایک عورت مشہورِ ہوئی وی ہے ۔۔۔۔انسٹا فیسبک ٹوئیٹر یہاں تک کہ واٹساپ کے اسٹیٹس دیکھو تو وہاں بھی اس ہی کا ذکر نظر آرہا!!! پہلے ایک دن تو ٹوٹلی جسے دیکھو پاکستانی ہونے پر شرمسار نظر آرہا تھا!!!!
تو اول تو یہ کہ بھائی ذرا ٹھنڈے رہئے میں بھی پاکستان کی شہری ہوں اور میں ایک عورت ہوتے ہوئے اس قلعے کے تحفظ کو محسوس کرسکتی ہوں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے کہ کسی شمر نے میرے کاندھوں سے آنچل نہیں کھینچا ۔۔۔۔۔ آپ ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کے ڈرامے سے اپنی سر زمین پر کیسے نادم ہیں آخر کیسے؟؟؟
ایسا نہیں ہے کہ مجھے واقعے پر شرمندگی نہیں ہے بلکل میں ہوں شرمندہ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات پر شرمندہ ہوں کہ چند لوگوں نے وطن عزیز کو اسکی سالگرہ پر یہ گھٹیا تہمت تحفے میں دی اور ہم انکے ساتھ اپنے وطن پر گندگی اور کیچڑ اڑانے میں آگے آگے رہے ،میں شرمندہ ہوں اسلئے کہ میرا پاکستان بے انصاف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔یہاں اگر پہلی بچی یا پہلی عورت کے مجرم کو سرعام سزا ہوتی تو آج یہ دو ٹکے کا بدمعاش طبقہ میرے وطن کے خلاف یہ گھناؤنا کھیل نہ کھیل پاتا۔۔۔۔وہ عورت اور اسکے ساتھی اپنی گندگی کو میرے وطن کے سر نہ کرپاتے ۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے بہن تم کس منہ سے خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہو؟؟ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ الااللہ ہے اور یہ اسلام پر چلنے والوں کو ایک تجربہ گاہ چھین کر دی ہے قائد اعظم نے کہ جہاں مسلم عورتوں کے سروں سے کوئی چادر نہ کھینچ سکے جہاں ایک مسلمان بیٹی ،ایک پاکستان کی بیٹی آزادی سے باہر نکلے مگر نہیں میرے اس جملے میں موجود لفظ آزادی کا مطلب آپنے اس ہی حساب سے لینا ہے جو مغرب سے عورتوں کے ذہنوں میں بٹھایا جارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو اسلام ہے نہ یہ ایک نظام کا نام ہے جو عورت کو سکھلاتا ہے محرم کے ساتھ نکلو، راستے میں بیچ میں نہ چلو، ایک طرف ہوکر چلو ، اپنی زینت چھپاؤ، اب یہ جاہلیت لگنے لگے گی ؟؟ بہن جاہلیت وہ تھی جو اسلام آنے سے پہلے تھی جو آج بھی یورپ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میں اس پاکستان ( عورت کیلئے غیر محفوظ ملک) میں جب باہر نکلتی ہوں تو مجھے راستہ دیا جاتا ہے بابا یا بھائی کے ساتھ نکلوں تو انکے پیچھے پیچھے چل کر جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مجھے وہ آپ یورپ میں یا اس واک میں جو آپنے گریٹر پارک میں کی محسوس نہیں کرسکتیں ۔۔۔ یہاں کے وحشی جانور مرد( أپکے اور آپکے فینز کے گھٹیا ڈرامے کے بعد یہی پہچان بنی ہے ) کبھی باجی اور کبھی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور نقاب میں دیکھ کر اوروں سے زیادہ عزت دیتے ہیں کبھی چیز لینے بھی گئی ہوں برقعے میں تو دکان پر گاہک سائڈ پر ہوکر آگے جگہ دیتے ہیں کہ پہلے میں خرید لوں ۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں یہ والی گمنامی بہتر ہے یا وہ گندی مشہوری جو آپ کو حاصل ہوئی ۔۔۔۔ اسلام نے جو مجھ پر لاگو کیا وہ میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے گرد لوگ بھی ایسے ہی پائے ہیں جو مجھے عزت دیتے ہیں ایک بہن ایک بیٹی کی حثیت سے اور یہی آزادی ہے ۔۔۔۔۔
ہم بینک سے بڑی رقم اور جیولر سے جیولری نکلوا کر جب باہر آتے ہیں تب ہم اسکو اچھی طرح چھپا کر نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ کسی ریکیی کرنے والے کو علم نہ ہوسکے کہ میرے پاس کچھ ہے یا میں نے کچھ نکلوایا یہاں سے ۔۔۔۔۔ پھر یہاں آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائیں کہ آپ ایک عورت ہیں۔۔۔اور عورت ہے ہی ایک چھپانے کی چیز جسے مختلف لوگوں کی نظریں گندا کردیتی ہیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا جب آپ اسکے اصول ہی لاگو نہیں کر رہیں پھر؟؟ پھر کیسے پاکستان کی بیٹی؟؟ یہ ایسا ہی ہے میں بلی کو گوشت دکھاؤں اور کہوں یہ جھپٹا نہیں مارے گی ۔۔۔۔۔۔ اب میری بات بھی مرد پر آگئی تو ایک بات یہ کہ مرد وہ بلی نہیں ہوتا جو گوشت پر جھپٹے وہ بھیڑئے تھے جو اس ویڈیو پیغام کے ذریعے بلائے گئے تھے وہ بھی مذہب اور اسلام کے اصولوں سے ناآشنا میراثی تھے میرے ملک کا چہرہ نہ تھے میرے ملک کا چہرہ وہ لوگ ہیں جو عورت سے بات کرتے ہیں تو نظریں جھکا کر چاہے عورت بے حجاب ہو یا باحجاب ۔۔۔۔۔ وہی مرد پاکستان کا فخر ہیں وہ جنھیں آپ لائیں وہ گندگی تھے وہ مرد نہیں تھے ۔۔۔۔ کچھ اور گندی مخلوق تھے جو آج کل ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو پر پیدا ہورہے اور صرف یہی نہیں میرے ملک میں اگر گندگی ہے تو وہ چینلز اور یہ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو۔۔۔۔ چینلز پر گند دکھا دکھا کر لوگوں کی ہوس جگائی جاتی ہے باقی کی کمی ٹک ٹاک پر مجرے پوری کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور بلکہ میری تو گزارش ہے کہ قارئین میں اگر کوئی صحافی ہے تو جیسا کے عورت کے کیس ختم کرنےکی نیوز آرہی ۔۔۔تو صحافی حضرات کو چاہیے کہ جہاں ایسے تمام کیسز پر جلدی کی تاریخیں لیکر مجرموں کو سزا سنائی جائے وہیں اس عورت، ریمبو اور دو صحافیوں پر ہتک عزت کا کیس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی اگر پہلے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا ہوچکی ہوتی تو آج یہ لوگ یہ گندہ ڈرامہ رچانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔۔۔ بس اب جلدی کسی ایک ایسے مجرم کو سرعام سزا ہو تا کہ آگے حقیقی واقعات میں بھی کمی واقع ہو ۔۔۔۔ باقی یہ کہ پردہ تحفظ ہے ان واقعات کی روک تھام کیلئے اسے بھی رائج کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مغرب جانتا ہے کہ مسلمان عورت کیا ہے مگر مسلمان عورت اپنے آپ سے ،اپنی اہمیت سے ناآشنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مذہب پر عمل نہ دقیانوسیت ہے نا ہی جہالت ہے اور مذہب پر چلنے والے ہی میرے ملک کا اصل چہرہ ہیں ۔۔۔۔۔ہمیں آزادی ملی ہے تو ہم نے اسکا کچھ اور ہی مطلب لیا ہے ۔۔۔۔پوچھیں انڈیا یا مغرب کی مسلمان عورتوں سے انھیں چہرہ ڈھانپنے کی آزادی نہیں وہ یہ آزادی چاہتی ہیں کہ انھیں چہرہ ڈھانپنے سے کوئی نہ روکے تو وہ مروہ الشربینی کی طرح شہید کردی جاتی ہیں ان سے وہ چادر چھینی جاتی ہے جو انھیں تحفظ کا احساس دلائے ۔۔۔۔۔اور یہاں آپ اپنے برہنہ سر کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہوتے ہوئے میں زیادہ بہتر وہی جانتی ہوں جو مجھ پر لاگو ہوتا ہے ۔۔۔۔ بس آخر میں اتنا کہونگی کہ ظاہر ہے قصور وار وہ 401 تھے تو ساتھ ہی ساتھ وہ صحافی بھی قصور وار ہیں جو بجائے اسکے کے گیم سامنے آنے کے بعد وہ ان سے متعلق سوالوں کے جواب دلوائیں ان لوگوں سے بلکہ وہ اب یہ کہ وہ ہمیشہ ٹھیک تھے اور انہوں نے اس عورت کے گیم کا حصہ بنکر بلکل ٹھیک کیا یہ ثابت کرنے کیلئے وہ اور گھٹیا گھٹیا واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر میڈیا پر چلوارہے اور میرے وطن عزیز پر اور کیچڑ اچھال رہے اور جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک ساری سازش جس کھیل کا حصہ بتائی جارہی تب تو میرا یہ کہنا ہے کہ اور جتنے جنسی زیادتی کے واقعات ہیں ان میں سے 75٪ واقعات قوم کی معصوم بیٹیوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رونما کئے گئے ہیں عدلیہ سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کے مجرموں کو جلد سزا دے اور پاکستان کو گندہ کرنے میں شریک کار نہ بنے۔۔۔۔ میرا پاکستان میرے لئے تحفظ کا ایک قلعہ ،ایک احساس ہے
اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کے اپنا وقار برقرار رکھئے کردار کی پستیوں میں نہ گرئیے
پاکستان کا جو خاکہ آپ دنیا کو پیش کر رہے وہی آپکا حوالہ ہے ۔۔۔۔۔۔
Twitter handle: @Amk_20k -

ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان
جب دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں کوویڈ 19 وبائی مرض کا پہلا کیس آیا تو چین میں تعلیمی ادارے سمیت ہر چیز بند کردی گئی اور سفری پابندیاں لگا دی گئی۔ جیسے جیسے کوویڈ 19 کے کیسز دوسرے ممالک میں سامنے آتے گئے تو ہر ملک میں تعلیمی ادارے بند کردئے گئے۔ اس دوران ہزاروں طلباء جو چین میں زیرتعلیم تھے جو چین کے مختلف یونیورسٹییز سے BS, MS اور PhD کی ڈگریز کر رہے تھے وہ پاکستان آئے جو آج تک اس انتظار میں ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے کلاس رومز، ریسرچ لیبز اور لائبریری کا پڑھائی والا ماحول کبھی دیکھیں گے۔ 19 ماہ سے لے کر آج تک چین کا ویزا ملنا ان پاکستانی طلباء کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔
پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں کچھ ایسے بھی ہے جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے یونیورسٹیوں میں داخلہ ملا ہے۔ ان نئے طلباء نے ابھی تک اپنی یونیورسٹی کا ماحول دیکھا بھی نہیں۔ چین میں زیر تعلیم بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء کو پاکستان میں پھنسے 19 ماہ ہو چکے ہیں اور انکو ویزا نہیں مل رہا۔ یہ طلباء پاکستانی حکومت کا بے بسی کے علم میں 19 ماہ سے دروازہ کھٹکھٹکا رہے ہیں لیکن زرائع کے مطابق کوئی حکومتی رہنما ان کی مدد کیلئے آواز نہیں اٹھا رہا۔ البتہ اپوزیشن سیاسی جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا مشہود احمد خان اور ایم پی اے بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان طلباء کو ہر قسم کی مدد کا یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ 16 جولائی 2021ء کو ن لیگ کے پنجاب کے نائب صدر و پنجاب اسمبلی کے ممبر رانا مشہود احمد خان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ٹویٹر بیان میں طلباء کیلئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ 17 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں پاکستان کے طلباء کو پیش انے والے مسائل کیلئے آواز اٹھائی۔
پارٹ 1
چین کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان اور چین میں کورونا کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد انہیں واپس یونیورسٹیوں میں جا کر تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ ان کی ویکسینیشن بھی ہوچکی۔@Ali06741258 #takeusbacktochina— Rana Mashhood Ahmad khan (@ranamashhood) July 17, 2021
22 جولائی 2021ء کو ٹویٹر پر پنجاب اسمبلی کے لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں کہ طلباء پر سفری پابندی کا معاملہ نہ صرف اسمبلی میں بلکہ ہر جگہ اٹھاؤنگا۔ ساتھ میں انکا یہ بھی کہنا تھا کہ چائنیز قونصلیٹ سے طلباء کے مسئلے کیلئے رابطہ کیا ہے اور ان کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی۔
29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے پاکستان میں پھنسے چین میں ریز تعلیم طلباء کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے رہنما طحیہ نون اور خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے لیگی رہنماؤں نے طلباء کے مسائل سنے اور ان کیلئے آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ اس موقع پر رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اس معاملے میں طلباء کی کوئی مدد نہیں کر رہی اور انہوں نے طلباء کو یقین دہانی کروائی کہ ہم طلباء کے تعلیمی مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دیں گے اس کے لیے جس فورم پربھی آواز اٹھانی پڑی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی میں ان طلباء کےمستقبل کےلیے آواز اٹھائیں گے۔
نائب صدر مسلم لیگ ن پنجاب رانا مشہود احمد خاں کی چین کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء سے ملاقات۔ ملاقات میں ممبران صوبائی اسمبلی طحیہ نون اور خواجہ سلمان رفیق بھی موجود تھے۔ pic.twitter.com/7vG79KaERP
— Rana Mashhood Ahmad khan (@ranamashhood) July 29, 2021
29 جولائی 2021ء کو ن لیگ کی خاتون رہنما اور پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی اور طلباء سے کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ طلباء کے ساتھ اس ملاقات کی تصدیق کی۔ لیگی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں طلباء کے ساتھ یہ عزم کیا کہ پنجاب اسمبلی میں سفری پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء کا مسئلہ اٹھائیں گے۔
اپوزیشن چیمبر میں سٹوڈنٹس سے ملاقات
سٹوڈنٹس کااہم مسئلہ ہے کہ یہ چین میں تعلیم حاصل کررہے تھے پاکستان آئے تو کروناوائرس کی وجہ سے پاکستان سے چین جانے کیلئے مشکلات ہےحکومت اور ایمبسی مدد نہیں کررہی اس مسئلہ کو پنجاب اسمبلی میں اٹھایا جائے گا تاکہ سٹوڈنٹس اپنی تعلیم مکمل کرسکیں pic.twitter.com/69mDHyyRFn— Senator Bushra Anjum Butt (@bushraanjumbutt) July 29, 2021
29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اور بشری انجم بٹ نے پنجاب اسمبلی میں پاکستانی طلباء کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے قرارداد اور تحریک التوائے کار جمع کرا دی جسکی تصدیق مسلم لیگ ن کے پنجاب کے نائب صدر نے اپنے ٹویٹر بیان میں کی۔
مسلم لیگ ن حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں تعلیمی میدان اور طلباء کے بہتر مستقبل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔حکومت وقت چین کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء جو دسمبر 2019 سے آج تک مسائل کا شکار ہیں کی مدد کرنے سے قاصر ہے #takeUsBackToChina pic.twitter.com/lnDBLm5tax
— Rana Mashhood Ahmad khan (@ranamashhood) July 29, 2021
19 اگست کو رانا مشہود احمد خان اپنے ٹویٹر بیان میں لکھتے ہیں کہ میری قیادت میں طلباء کا ایک وفد چینی کونسل جنرل سے ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ 20 اگست 2021ء کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد خان نے طلباء کے ایک وفد کو ساتھ لے کر چینی کونسل جنرل سے ملاقات کی۔ پنجاب اسمبلی کے ن لیگی ایم پی اے نے اپنے ٹویٹر پر جاری کردا بیان میں چینی کونسل جنرل لانگ ڈنگبن سے ملاقات کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس ملاقات میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن نے رانا مشہود احمد خان کو یقین دہانی کروائی کہ آئیندہ ماہ ستمبر میں شروع ہونے والے سمسٹر سے قبل تمام طلباء کے مسائل کو اولین بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ طلباء اپنے تعلیمی سال کو مکمل کر سکے گے۔ رانا مشہود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن کے ساتھ ملاقات کے کچھ تصاویر بھی شیر کئے ہیں جس میں چین میں زیرتعلیم طلباء ان دونوں چینی و ن لیگی رہنماؤں کے ملاقات میں موجود ہیں۔
مسلم لیگ ن نے ہمیشہ تعلیم کی روشنی عام کرنے کیلئے انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے۔آج اپوزیشن میں بھی ہم ان ہزاروں طلباء کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، جو چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور COVID-19 کی وجہ سے دو سال پاکستان میں ہی ہیں، ان طلباء کو واپسی کا ویزہ نہیں مل رہا۔۔ pic.twitter.com/PyrfHEVw7O
— Rana Mashhood Ahmad khan (@ranamashhood) August 20, 2021
Twitter: @RealYasir__Khan
-

ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان
ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔
ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔
۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔
بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔
مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
@FarooqZPTI
-

پٹھان اور پاکستان تحریر:: طاہر علی
14 اگست 1947 کو وجود میں آنے والا ملک پاکستان بے شمار لوگوں کی قربانیوں سے معرضِ وجود میں آیا، پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں اپنی ایک شاندار تاریخ رکھتی ہیں، ان ہی میں ایک غیور قوم پٹھان بھی ہے جو اپنی سادگی، حبُ الوطنی اور غیرت مند قوم کے نام سے جانی جاتی ہے، آٸیے آج کچھ پٹھان قوم کے حوالے سے اہم باتیں جانتے ہیں۔
فارسی میں پشتون، مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان کہا جاتا ہے۔ یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوٸی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے،جن میں پاکستان ، افغانستان اول نمبر پر ہیں۔
دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ لفظ پشتون کا مطلب غیرت و وفا والا ۔
پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے اور ایک چھوٹی سی اقلیت کو چھوڑ کر وہ سنی مسلمان ہیں۔ حال ہی میں ، افغانستان کی قبائلی بادشاہت کو کنٹرول کیا ، اور کچھ ادوار کے دوران پٹھان یا افغان بادشاہوں نے ہندوستانی میدانی علاقوں پر اپنا راج قائم کیا۔ پشتو بولنے والوں کی 1984 کی آبادی تقریبا 20 ملین تھی۔ اس میں پاکستان کے 11 ملین اور افغانستان میں 9 ملین شامل ہیں۔ 1979 سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 20 لاکھ پٹھان پناہ گزین بن کر پاکستان چلے آۓ۔ پٹھان افغانستان کی 50 سے 60 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ سب سے بڑے اور بااثر نسلی گروہ کے طور پر ، پٹھانوں نے پچھلے 200 سالوں سے اس ملک کے معاشرے اور سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ افغانستان میں دیگر اہم نسلی اقلیتوں میں ہزارہ ، تاجک اور ازبک شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد سے ، پٹھان پاکستان کا دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ پاکستان کی 1981 کی مردم شماری کے مطابق ملک کے 13 فیصد خاندان پشتو بولنے والے ہیں۔
پٹھان علاقوں کے دیہات حال ہی میں بڑی حد تک خود کفیل رہے ہیں۔ روایتی طور پر تجارت اور یہاں تک کہ کاشتکاری بھی پٹھانوں کی سرگرمیوں کو نظرانداز کیا گیا جس کے باعث انھوں نے چھاپہ مار ، اسمگلنگ اور سیاست کو عزت کے حصول کے طور پر دیکھا۔ ایسے علاقوں میں جہاں اس طرح کے رویے برقرار رہتے ہیں ، غیر پٹھان (اکثر ہندو) دکاندار اور پیڈلرز یا خانہ بدوشوں کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ ان روایات کے باوجود ، بڑے شہروں اور شہری علاقوں میں پٹھانوں نے کامیاب تاجروں اور تاجروں کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔پٹھانوں کی زندگی میں اسلام ایک لازمی اور متحد موضوع ہے ، اور یہ پٹھانوں کو مومنوں کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ پٹھانوں کی بھاری اکثریت حنفی لیگل سکول کے سنی مسلمان ہیں۔ کچھ گروہ ، خاص طور پر پاکستان کی کرم اور اورکزئی ایجنسیوں میں ، شیعہ اسلام پر عمل پیرا ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پٹھان قوم کا بڑا عمل دخل ہے مگر کچھ لوگ اس بات کو اب بھی
پوری طرح تسلیم نہیں کرتے۔۔۔ *مگر پٹھانوں نے پاکستان کے لئے 1947 میں ووٹ پٹھان قوم نے دیا۔
*1948میں آذاد کشمیر کا تحفہ پٹھان قوم نے دیا۔
*1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ پٹھان لڑے۔
*1969 میں دیر سوات اور چترال کی پشتون ریاستیں بلا مشروط پاکستان میں شامل ہوئیں۔
*1971 کی جنگ میں پٹھان قوم نے پاکستانی فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔
*1979 میں جب روس نے پاکستان کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب دیکھا توان کے اس خواب کو پٹھان قوم نے مٹی میں ملا کر اپنے خون سے پاکستان کادفاع کیا۔
*1999 میں کارگل جنگ میں کرنل شیر خان جیسے بہادر پٹھان نے پاکستان کا دفاع کیا.
* دہشتگردی کے پندرہ سالہ جنگ کے اس ادوار میں پٹھان قوم نے اپنے جان، مال اور اولاد تک کی قربانی بے دریغ دے کر صرف پاک فوج اور پاکستان کا ساتھ دیا۔
*کچھ لوگوں نے پشتون قوم کا روپ دھار کر ملک و فوج کے خلاف محاذ کھڑا کیا،لاشوں پر سیاست کر کے فوج اور پاکستان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی مگر یہاں بھی اس غیرت مند قوم نے ملکر ان کے خلاف آواز اٹھاٸی اور ان سے ہر طرح کا باٸیکاٹ کیا گیا اور یہ ثابت کیا کہ غیرت مند پشتون اپنے ملک و ملت کا وفادار ہوتا ہے۔
آٸیے ہم سب مل کر دنیا کو بتاٸیں کہ یہ ایک امن پسند، محبِ وطن، اپنی روایات سے محبت کرنے والی اور اپنے ملک و ملت پر جان قربان کر دینے والی قوم ہے۔@TahirAli_Twitts
-

بچوں کی تربیت میں والدین و اساتذہ کا اولین فریضہ تحریر: خالد عمران خان
بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوںگے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔
تربیت‘‘ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔بنیادی طور تربیت کی دو اقسام ہیں 1-ظاہری تربیت اور 2- باطنی تربیتظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش وغیرہ کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔
ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنہیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔
بچوں کی تربیت میں اساتذہ کا کردار
جس طرح رزق کا دانہ پانی ہوتا ہے اسی طرح علم کا بھی دانہ پانی ہوتا ہے یہ جس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے یہ اس کو مل کر رہتا ہے ۔ اگر سیکھنے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو جس استاد کے ساتھ نصیب جڑا ہو وہ استاد اچھا بھی لگتا ہے اور اس سے سیکھنے والا اس سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ بعض اساتذہ بچوں کے لیے آئیڈیل ہوتے ہیں لیکن ہر استاد بچوں کے لیے آئیڈیل نہیں ہو سکتا۔ ایک بچے کی نظر میں بعض اساتذہ کی مثبت تصویر ہوتی ہے اور بعض کی منفی۔ ایک اچھے استاد کو پڑھانے کا شوق ہوتا ہے اسے ناصرف اپنی بات کی سمجھ ہوتی ہے بلکہ اپنی بات کو سمجھانا بھی آتا ہے۔ایک استادکی تربیت بچے کی زندگی کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی تبدیلی رسول پاک ﷺ سے آئی،آپﷺاستاد تھے ۔آپﷺ کی شان ہے کہ آپﷺ نے ان لوگوں کے کردار کو بدل دیا جو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ آج انہیں لوگوں کا ادب سے نام لیا جاتا ہے اور انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہا جاتاہے ۔آج ہر کوئی ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قدموں کی خاک بننا چاہتا ہے یہ ایک استاد کا کمال تھا ۔مائیکل ہارٹ جب “The Hundred” کتاب لکھتا ہے تو حضور اکرمﷺ کے نامِ مبارک کو پہلے نمبر پر رکھتا ہے۔ تاریخ میں بڑی بڑی تبدیلیاں اساتذہ کی وجہ سے آئی ہیں یہ ان کے کردار ہی تھے جو تبدیلیوں کے باعث بنے۔ایک بندے کا ویثر ن ہوتا ہے اور پورا زمانہ بدل جاتا ہے ایک اقبال ؒ کا خواب ہوتا ہے اور پاکستان بن جاتا ہے ۔
استاد کاایک پیکج ہوتا ہے اس کی ایک متاثرکن شخصیت ہوتی ہے۔اس میں اخلاقیات ہوتی ہیں۔اس میں برداشت ہوتی ہے۔ اس میں ظرف ہوتا ہے۔ اس کے پاس علم ہوتا ہے۔ اپنے مضامین پر عبور ہوتا ہے۔ اس کو انسانی نفسیات کا اور انتھرا پالوجی کا پتا ہوتا ہے۔وہ انسانی مزاج سے واقف ہوتا ہے۔اسے علم ہوتا ہے کہ کن بچوں کو دیکھنے سے سمجھ آتی ہے کن کو سننے سے سمجھ آتی ہےاور کن کو محسوس کرنے سے سمجھ آتی ہے۔ اس کی شخصیت سے لوگوں کو فائدہ ملتا ہے اشفاق احمد فرماتےہیں” شخصیت کے چبنے والی خامیوں کو گول کریں تا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے اور وہ خوبیاں جن سے دوسروں کو فائدہ ہو ان کو پالش کریں ۔” استاد ایک اچھا موٹیویٹر اور کونسلر ہوتا ہے اس کی باتیں سن کر لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آتی ہے اور وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہےحضرت مولانا روم ؒ کے آخری ایام میں کسی نے آپؒ سے کہا کہ” آپ تو رخصت ہو رہےہیں” آپؒ نے جواب دیا ” نہیں میں دنیا کی مسند سے اتر کر لوگوں کے دلوں کی مسند پر بیٹھنے جا رہا ہوں ۔”
استاد کا سب سے بڑا اور سب سے مقدس فرض یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کر کڑے امتحان کے لیے تیار کرے۔ اس کے لیے نہایت ضروری ہے کہ بچے کی علمی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی عملی زندگی پر بھی نظر رکھی جائے جس کے لیے اساتذہ کو والدین کی مدد اور ان کے اشتراک و تعاون اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سکول میں اساتذہ بہت تھوڑے وقت کے لیے بچوں سے ملتے ہیں جس کےباعث بچے استاد سے مکمل طور پر بے تکلف نہیں ہوپاتےلہذا ان کی پوری زندگی استاد کے سامنے بے نقاب نہیں ہوسکتی۔انسان ایک سماجی حیوان ہے مل جل کر رہنا اس کی فطرت میں ہے۔ انسان کی معاشرتی زندگی بہت پہلے شروع ہوئی اور اس کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب انسان نے آنکھ کھول کر یہ دیکھا تھا کہ وہ انفرادی طور پرآفات ارضی و سماہی سے نپٹنے کے قابل نہیں ہے۔انسان کی گروہی جبلت نے اسے سمجھایا کہ تنہا رہنے میں نقصان اور مل جل کر رہنے میں فائدہ ہے اور یوں معاشروں کی تشکیل ہوئی۔
اختتام میں یہ باور کروانا ضروری ھے کہوالدین اوراساتذہ کے مقدس فرائض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کو معاشرتی زندگی کا درست تصور دیں اور ا نہیں معاشرے کا احترام کرنا سکھائیں۔ ہمارے کچھ افعال تو محض انفرادی ہوتے ہیں لیکن کچھ کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمارے ارد گرد کے لوگوں پر پڑتا ہے، یعنی ہمارے بعض افعال اجتماعی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ سماجی نفسیات اس چیز کی متقاضی ہے کہ بچے کی گروہی جبلت کی درست تربیت کی جائے تاکہ وہ اپنے اردگرد کی دنیا کے ساتھ صحیح طریقے پر ہم آہنگ ہوسکے اور بڑا ہوکر ایک کامیاب شہری بن سکے۔
Written By : Khalid Imran Khan
Twitter ID :@KhalidImranK
