کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
تحریر-محسن ریاض
ٹویٹر-mohsenwrites@
Author: Baaghi TV
-

تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض
-

بد دعائے محبت تحریر؛بسمہ ملک
کزن یار, یہ الفاظ کبھی مجھے سخت ناپسند تھے۔اور کہنے والا بھی ۔ مگراب یہی الفاظ میرا سرمایہ حیات ہیں۔میری سماعتوں میں آج بھی یہ الفاظ گونجتے رہتے ہیں۔میرا نام نوشین ہے گھر والے سب نوشی کہتے ہیں۔مگروہ مجھے ہمیشہ کزن یاپھر کزن یار، ہی کہتا تھا۔وقت وقت کی بات ہے کبھی وہ مجھے سخت ناپسند تھا اور اس کے یہ الفاظ بھی۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ مجھے اس سے نفرت ہی تھی۔اس کے کزن یار کہنے سے میں چڑجاتی تھی۔اور اسے خوب بےعزت کرتی تھی۔اسے بات بےبات بےعزت کرنا اور اس کی عزت نفس مجروح کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔اوریہی مشغلہ اب میرا عمر بھرکاپچھتاوا۔ بلکہ روگ بن گیا ہے۔وہ جو محبت پہ ہنستا تھاپھر اسے آ لیا محبت نے۔یہ شعر مجھے اسی نے سنایا تھا۔وہ اکثر مجھے شعر سنادیتا تھا۔اسے شاعری سے لگاؤ تھا ۔اور مجھے شاعری سخت ناپسند تھی۔مگراب مجھے بہت سی غزلیں اور شعر یاد ہیں وہ سب شعر بھی یاد ہیں جو اس نے مجھے اکثر بیشتر سناۓ تھے۔وہ میرے ماموں کا بیٹا تھا۔نام تو اس کا عدنان تھا۔مگرسب اسے عادی کہتے تھے۔سواۓ میرے۔میں نے اسے کبھی نام سے بلایا ہی نہیں تھا۔اور نہ کبھی اسے انسان سمجھا تھا۔میں ہمیشہ اسے اوۓ یا اوۓ پینڈو کہہ کر ہی بلاتی تھی۔وہ ہماری گاڑی چلاتا تھا جس کی وجہ سے میں اسے اکثر ڈرائیور بھی کہہ دیتی تھی۔اس سے میرا مقصد فقط اس کو ذلیل کرنا ہوتا تھا۔مگراس نے کبھی مجھ سے شکوه نہیں کیاتھا۔اور نہ ہی کبھی ناراض ہوا تھا۔وہ نویں کلاس میں تھا جب ماموں فوت ہوۓ۔گھر میں سب سے بڑا ہونے کے ناطے ساری ذمہ داری عادی کے کندھوں پر آپڑی تھی۔اس نے سکول کو خیرآبادکہا اور محنت مزدوری کرنے لگا۔ہمارے سمعیت عادی کے باقی رشتےدار بھی اچھے بھلے کھاتے پیتے تھے۔مگرکسی کو بھی اتنی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ کوئی ان کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا۔سب اپنی اپنی دنیامیں مست تھے۔وقت گزرتارہا عادی نے اپنے بہن بھائیوں کو پڑھایا اور جیسے تیسے گھر کا خرچ بھی چلایا۔پتہ نہیں اس نے کب اور کہاں سے ڈرائیوری سیکھی۔؟؟؟وہ لوگ کبھی کبھی ہمارے گھر ہم سے ملنے آجاتے تھے۔مگرہم لوگ کبھی ان کے گھر نہیں گئے تھے۔امی ایک دوبار گئی تھیں باقی کوئی نہیں جاتا تھا۔اب کی بار عادی اپنی امی کے ساتھ آیا تو ابونے اسے گھر ڈرائیور کی آفر کی جس کو اس نے قبول کرلیا۔ابو نے گھر میں کوئی ڈرائیور نہیں رکھا تھا۔وہ خود ہی مجھے اور میری چھوٹی بہن ثمرین کو کالج یونیورسٹی چھوڑنے جاتے تھے۔عادی کے آنے سے ابو بےفکر ہوگئے تھے۔میں جانتی تھی عادی مجھے پسند کرتا ہے ۔مگرمیں نے کبھی اس پر توجہ ہی نہیں دی تھی۔یوں کہہ لیں کہ میں اسے توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھتی تھی۔پھر ایک دن اس نے ہمت کرکے اپنی پسند کا اظہار کرہی دیا۔اس نے کہا تھا نوشی میں تمہیں بچپن سے پسند کرتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں
مگر یہ دل کے فیصلے ہیں اس پر کسی کا زور نہیں چلتا
تم کسی قابل نہیں ہو میں نے اسے کہا تھا
ویسے فیصلے دماغ کرتا ہے دل نہیں
بشرطیکہ کسی کے پاس دماغ نام کی کوئی چیز ہو میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا
محبت کے فیصلے دل کے ہی ہوتے ہیں کزن
عادی نے دھیمے سے لہجے میں کہا
محبت میں اگر فیصلے دماغ کرنے لگے تو محبت، محبت نہیں رہتی مفاد پرستی بن جاتی ہے
بے خطر کود پڑا اتش نمرود میں عشق
عقل محو تماشا لب بام تھی ابھی
اس نے حسب حال اپنی بات کی دلیل میں شعر بھی سنا دیا اس کے اظہار کے بعد تو مجھے جیسے اس سے خدا واسطے کا بیر ہی ہوگیا تھا
میں نے جان بوجھ کر اسے یہاں تک بھی کہہ دیا تھا کہ وہ مجھے محبت کے چکر میں پھنسا کر امیر ہونا چاہتا ہے اس نے کہا تھا کہ شادی اور محبت دو الگ چیزیں ہیں
ضروری نہیں کہ ہم جس سے محبت کریں اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے مگر یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی
میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا مگر کسی بھی بات پہ سہی مجھے تو اس کو ذلیل کرنا تھا
اس کے بعد جب جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بے عزت کیا میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا بہت ہی بے حس تھی میں۔
دولت کی فراوانی سے مجھ میں تکبر انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کروایا
میری دوست اس کی محبت اور غربت پر طنز کرتی رہیں
عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔!
کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگر اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعی سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا ہے
اور ہم نے اس بات پہ بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا
میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانہ تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آ گیا منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر گیا شاید اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتا ہے دیکھ سکتا
وہ تین چار دن بعد واپس آیا تھا
اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دیکھائی اور کہا کے دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتے ہاں یار میں جانتی ہوں تم میرے لیے جان بھی دے سکتے ہو۔۔۔
(جاری ہے)
@BismaMalik890
-

اپنوں سے محتاط رہے اپنوں کے تیر ہمیشہ نشانے پر لگتے ہیں تحریر: ملک ضماد
زندگی میں یہ بات یاد رکھنا یہ دنیا ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے جب تک تم کچھ بنو گے نہیں تب تک نہ تمہیں کوئی عزت دے گا اور نہ تمہاری سنے گا سب کچھ ٹھیک ہونے کا انتظار کرو گے تو بس انتظار کرتے رہ جاؤ گے انتظار کرنے والوں کو وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والے چھوڑ جاتے ہیں
اس لئے خود اٹھو ہمت کرو اور سب کچھ ٹھیک کر کے دکھاؤ کبھی ہار بھی جاؤں تو پھر سے کوشش کرنا کیوں کہ آپ سال یا دن ہارتے ہیں زندگی نہیں پروبلم ہارنے میں نہیں ہار ماننے میں ہے اس لیے بس تم ہار نہ مانو اور کوشش کرتے رہو پھر دیکھنا کون تم سے آگے نکل پاتا ہے زندگی چھوٹی نہیں ہوتی لوگ جینا ہی دیر سے شروع کرتے ہیں جب تک راستے کی سمجھ آتی ہے تب تک لوٹنے کا وقت ہو جاتا ہے صحیح فیصلہ بھی غلط ہو جاتا ہے اگر وہ دیر سے لیا جائے
مشکل نہیں ہے اس دنیا میں تو زرا ہمت تو کر خواب بدلیں گے حقیقت میں تو ذرا کوشش تو کر آندھیاں سدا چلتی نہیں مشکل سدا رہتی نہیں ملے گی تجھے منزل تیری تو ذرا کوشش تو کر
اگر کوئی آپ کے بغیر خوش ہے تو اسے خوش ہی رہنے دو جو جا رہا ہے اسے جانے دو وہ آج رک بھی گیا تو کل چلا ہی جائے گا آپ رشتے بنا کر بھی کیا کرو گے جب سامنے والے کا ارادہ نہ ہو نبھانے کا تو آپ قدم برھا کر بھی کیا کر لوگے چھوڑنے والے چھوڑ ہی جاتے ہیں مقام کوئی بھی ہو نبھانے والے نبھا جاتے ہیں حالات کیسے بھی ہوں
اس لئے زندگی میں اس بات کا خیال رکھنا جہاں قدر نہیں وہاں جانا نہیں جو سنتا نہیں اسے سنانا نہیں جو سمجھتا نہیں اسے سمجھانا نہیں موسم کی طرح جو بدلے اسے دوست بنانا نہیں جو دل توڑ کر چلا جائے اسے واپس بلانا نہیں جو نظروں سے گر جائے اسے اٹھانا نہیں جو سچ بولنے پر بھی روٹھ جائے اسے منانا نہیں زندگی جینے کا سلیقہ پرندوں سے سیکھو جو کورے میں پڑا ہوا گندم کا دانہ بھی ڈھونڈ نکالتا ہے
اس لیے ہمیشہ اپنی نظر لوگوں کی اچھائیوں پر رکھو برائیوں پر نہیں عمر ضائع کر دیں لوگوں نے دوسروں کے وجود میں نقص نکالتے نکالتے اگر اتنا ہی خود کو تراشا ہوتا تو آج فرشتے ہوتے جن کا وقت خراب ہے ان کا ساتھ ضرور دو لیکن جن کی نیت خراب ہے ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے
بھروسہ اور پیار بہت ہی مہنگے تحفے ہیں اس لیے سستے لوگوں سے کبھی ان کی امید مت رکھنا جب کوئی ہاتھ اور ساتھ دونوں چھوڑ جائے تو خدا کسی نہ کسی کو آپ کا ہاتھ تھامنے کے لیے ضرور بھیج دیتا ہے
@MalikZamad_
-

لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل
لونڈیاں اور غلام اسلام یا اسلام کی تعلیمات کا کوئی حصہ نہیں ہیں۔ یہ دنیا میں ایک مصیبت موجود تھی اور صدیوں تک موجود رہی۔ یہ کیسے پیدا ہوئی اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے اُس کے بعد پھر جاگیردرانہ تمدن پیدا ہوا بڑی بڑی ذمہ داریاں آ گئیں اور ایک زراعی زندگی پیدا ہوئی، اور اس کے بعد انڈسٹریل ریوولوشن ہوا اور آہستہ آہستہ دنیا کے اندر ایک تیسرا دور شروع ہو گیا۔ اب ٹیکنالوجی اور خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک چوتھے دور کی ابتدا کر دی ہے۔
جب قبائلی زمانہ تھا اس میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چراگاہیں حاصل کرنے کے لیے،نخلستان حاصل کرنے کے لیے ، یہاں تک کے پانی ختم ہو جاتا تو حملہ کر دیتا تھا۔ جب کوئی کسی دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیتا تو حملہ آور کو اگر شکست ہو جاتی تو جنگی جرم میں اس کے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ یعنی غلامی کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔ اس کو کسی پیغمبر نے آ کر شروع نہیں کیا۔ لوگوں نے اپنی لڑائیوں میں جارحیت کرنے والے کوسزا دینے کا یہ طریقہ استعمال کیا کہ اگر تمہارا قبیلہ ہم پر حملہ آور ہوا تو ہم تمہارے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے۔
جس وقت آپﷺ کی آمد ہوئی اس وقت عرب کی پوری معیشت غلاموں پر منحصر تھی۔ یعنی جو صورت اِس وقت سود کی ہے، آپ دیکھیں تو اس وقت سارا بینکاری اور انشورنس کا نظام سود پر کھڑا ہے۔ اگر میں یا آپ کوئی آدمی یہ کہے کہ سود بُری چیز ہے، ظالمانہ چیز ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ اس کا کوئی متبادل لائیں پھر ہی اس کا خاتمہ ہو گا ورنہ تو معیشت ختم ہو جائے گی، دوسرے دن سارا سسٹم درہم برہم ہو جائے گا۔ تو جو اِس وقت بینکاری کے نظام کا معاملہ ہے گلی گلی بینک قائم ہیں بالکل یہی صورتحال آپﷺ کے دور میں غلامی کی تھی۔ ہر گھر میں غلام تھے ،وہی گھروں کے کام کرتے تھے، وہی کھیتوں میں کام کرتے تھے، وہی تجارت کے قافلے لےکر جاتے تھے۔ یہ برسوں سے لوگوں کے پاس تھے اور اُن کو بیچ بھی دیا جاتا تھا۔
قرآن مجید نے اس کو دو طرف سے ختم کرنے کا آغاز کیا۔ کسی بھی چیز کو ختم کرنےکے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز جہاں سے پیدا ہو رہی ہے اس کو بند کیا جائے، دوسری یہ کہ جتنی پیدا ہو چکی ہے اس سے نمٹا جائے۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔
سورۃ محمد کو نکال کے دیکھیں، جتنے بھی غلام بنتے تھے جنگ میں بنتے تھے۔ یعنی جنگ ہوتی، قیدی پکڑے جاتے، عورتیں اور مرد غلام بنا لیے جاتے۔
پہلی جنگ جب مسلمانوں کو پیش آنے والی تھی تو بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا کہ یہ جنگ پیش آنے والی ہے اور اس جنگ کے بعد جب قیدی پکڑ لیے جائیں گے تو ان کے معاملے میں غلامی کا کوئی تصور نہیں ہو گا۔ اس کے بعد دو ہی طریقے جائز رہے، ایک یہ ہے کہ آپ فدیہ لے کے اُن کو آزاد کر دیں، دوسرا یہ کہ احسان کے طور پر چھوڑ دیں۔ اس طرح سے غلامی کے پیدا ہونے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
اب صرف وہ غلام بچے جو پہلے سے غلام تھے، لوگ ان کو پہلے ہی خرید چکے تھے اور وہ ان کے گھروں میں برسوں سے تھے۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا کہ آج کے بعد سب آزاد ہیں، تو آپ جانتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ غلام عورتیں اور مرد بے گھر ہو جاتے، کسی کے پاس چھت نہ رہتی، کسی کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہ رہتی کیوں کہ ان کی ساری زندگی کا انحصار اُن کے مالکوں کے اوپر تھا۔ عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتیں اور مرد بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے۔
تو اس کے لیے اسلام میں کیا طریقہ استعمال کیا گیا؟
قرآن مجید میں بتایا گیا کہ سب سے بڑی نیکی غلاموں کو آزاد کرنا ہے۔ تاکہ لوگ اس کو نیکی سمجھ کر غلاموں کو آزاد کر دیں ۔ اور ایسا ہی ہوا لوگ غلام آزاد کرنے لگے یہاں تک کہ زیادہ نیکی حاصل کرنے کے لیے غلام خرید کر آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا جو موجودہ غلام تھے ان کی آزادی کی ایک تحریک چل پڑی۔
اس کے بعد قرآن مجید نے ایک دوسرا حکم دیا اور آپﷺ نے اس کو نافذ کیا۔ وہ حکم یہ تھا کہ نفسیات کو بدلا جائےاور یہ کہا گیا کہ اب غلام اور لونڈی کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کی جگہ مرد اور عورت کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جتنے بھی ذی صلاحیت غلام ہیں ان کی شادیاں کروائی جائیں۔ تاکہ ان کے گھر آباد ہوں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔
پھر مذہبی لحاظ سے لوگوں سے جتنے گناہ ہو جاتے تھے ان کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر وہ وقت آ گیا جب یہ حکم دے دیا گیا کہ جو خود کھاؤ گے ان کو کھلاؤ گے اور جو خود پہنو گے وہ ان کو پہناؤ گے۔مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ نہیں کر سکیں گے تو غلام آزاد کر دیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے چلے جائیں۔
اس کے بعد لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ جن لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی ہے اور وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تو ان سے شادی کر لیں۔قرآن مجید میں سورۃالنساء میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔
اس طرح کی اور بہت سی اصطلاحات کرنے کے بعد آخر میں سورۃالنور میں یہ حکم دے دیا گیا کہ اب ہر لونڈی اور غلام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مالک سے یہ درخواست کرے کہ مجھے ایک سال یا چھ مہینے، جتنا وہ مناسب سمجھیں اس کی مہلت دے دی جائے، تاکہ اس عرصے میں وہ کما کر اپنی قیمت ادا کر دیں۔
کوئی غلام اپنی کمائی کا مالک نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی گویا ان کی آزادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں پکڑا دیا گیا کہ اپنی تقدیر کے پروانے پر خود دستخط کر لو۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس مہلت میں پتا چل جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ طریقہ اسلام نے اختیار کیا یعنی ایک طرف غلام بنانے پر پابندی لگا دی اور دوسری طرف آزادی کی راہ اس طرح کھول دی۔ کیااس سے بہتر کوئی طریقہ بُرائی کو ختم کرنے کا ہو سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں فخر کے ساتھ اس کو بیان کرنا چاہیے۔twitter.com/iamasadlal
@iamAsadLal -

محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود
محرم الحرام جو کہ ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے جہاں سے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے اور حرمت کے چار مہینوں، جن میں ذوالقعد، ذوالحج اور رجب کے بعد محرم الحرام بھی ان میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تعالی نے اشہرُ الحُرُم کے نام سے بھی نوازا ہے۔ محرم الحرام جو کہ اسلامی تاریخ میں حرمت و ادب کے اعتبار سے اپنی الگ پہچان تو رکھتا ہی ہے لیکن اگر ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سے ایسے اہم واقعات ملتے ہیں، جو کہ اس حرمت کے مہینے محرم الحرام میں پیش آئے ہیں۔
اور انہی پیش آنے والے اہم واقعات میں سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جب ابلیس کے اکسانے پر غلطی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم پہ جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کی اللہ تعالی سے کی گئی بہت سی دعاؤں اور معافیوں و استغفار کے بعد پھر جب اللہ تعالی اُن کی توبہ کو قبول فرمایا تو تب محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا۔
اور پھر جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کے بعد جب میدانِ عرفات میں جبل رحمت کے مقام پر اُن کی ملاقات حضرت اماں حوّا سے کروائی، تو تب بھی 10 محرم الحرام ہی تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پہ جب اللہ تعالی کے حکم سے عذاب نازل کیا گیا جس کو طوفانِ نوح بھی کہتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو اور جانوروں و پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ تو اس طوفان کے تھمنے کے بعد جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پہ جا کر ٹھہری، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔
اللہ کے ایک اور پیارے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کلیم اللہ کا لقب بھی حاصل ہے۔ تو جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پہ ایمان لے کر آنے والے ان کے ساتھیوں کا پیچھا کر رہا تھا لیکن پھر اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے انھوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو سمندر کے پانی نے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو گزرنے کے لیے راستہ دیا اور پھر فرعون اپنے لشکر سمیت اُسی سمندر میں غرق ہو گیا تھا، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔
پھر ایک اور اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام جب اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش کے طور پہ چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد جب اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے باحفاظت باہر آئے، تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔
پھرحضور اقدس جناب محمد رسول اللہ کی اللہ سے دعاوں کے زریعے مانگي گئی مراد اور تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی حرمت کے مہینے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہی ہوئی تھی۔
تو اب آتے ہیں اُس عظیم اور دلوں کو چیر دینے واقعے کی طرف جو 10 محرم الحرام کو ہی پیش آیا تھا۔ لیکن ان سب بڑے بڑے تاریخی واقعات پہ اپنی عظمت کی وجہ سے چھا گیا۔ اللہ کے سب سے پیارے نبی و رسول اور نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی اور جنت کی تمام عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے چوتھے اور آخری خلیفہ اور اللہ کے شیر کا لقب پانے والے جناب حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نواسہ رسول و جگر گوشہ بتول اور نبی مکرم ﷺ سے شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت حسین علیہ السلام نے جب اپنے اہلِ و عیال، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت تقریباً 72 افراد نے (جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے)۔ جب کربلا کے میدان میں ظالم و جابر یزید اور اس کے لشکر کے ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ظالم آپ علیہ السلام سے اپنی حکمرانی کو قبول کرنے کے لیے بیعت لینا چاہتا تھا۔
اور اس سے پہلے بھی اور تب بھی اس ظالم یزید نے اپنی بیعت کروانے کے بدلے میں حضرت حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی جان بخشی کرنے اور انہیں بہت سے دنیاوی انعام و اکرام سے نوازنے کی بھی مسلسل پیش کشیں کیں۔ لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اُس ظالم و جابر یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سمیت کربلا کی تپتے ہوئی ریت والے ریگستانوں میں اُس ظالم اور اُس کے لشکر کے خلاف ڈٹے رہنے کے بعد شہادت کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش فرمائے۔
اور شہادت کی ان عظیم مثالوں کے زریعے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینِ اسلام میں ایک نئی روح پھونکی اور اسلام پہ چلنے والے مسلمانوں کے لیے حق کی راہ میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جانوں تک کو قربان کر دینے سے بھی نہ کتراتے کی عظیم مثال قائم کی، جو کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پہ بھی یاد رکھی جائے گی۔
اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کی اِس عظیم مثال سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی اور اُس کے رسول ﷺ اور اسلام کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز جاننا چاہیے اور حق بات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی ظالم یا جابر سے ڈر کر اپنی جان بچانے کی خاطر کبھی اُن کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ وقت پڑنے پر حق تعالی کی خاطر جان کی بازی تک لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو حضرت حسین علیہ السلام کی قائم کی ہوئی اس عظیم مثال پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
Author Name: Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK
-

باعث شرم واقعات اور ہماری تقسیم تحریر-سیدلعل حسین بُخاری
چودہ اگست کے روز مینار پاکستان میں ہونے والے افسوسناک واقعہ کی ابھی دُھول بھی نہیں بیٹھی تھی کہ چنگ چی رکشے والا شرمناک واقعہ رونما ہوگیا۔بد قسمتی سے یہ واقعہ بھی اسی روز ہوا۔جب
بظاہر انسان نُما ایک شخص نے کُتے کی طرح لپک کر رکشے پر بیٹھی لڑکی کے ساتھ وہ حرکت کی،جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔
اس جانور کی حرکت دیکھنے والے کچھ بزدل وڈیو بناتے رہے،کچھ بے شرموں کی طرح دانت نکالتے رہے اور کچھ بے غیرتی میں حصہ ڈالتے ہوۓ ہنس ہنس کر محظوظ ہوتے رہے۔
ان میں سے کوئ مائ کا لعل ایسا نہیں تھا جو اس لعنتی کو پکڑ کر دو چار لگا سکتا؟
اگر اتنا نہیں کر سکتے تھے تو کم ازکم اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے ہی کر دیتے۔
یہ بےحسی کی انتہا ہے۔
جب ہم ایسے معاملات پر خاموش تماشائ بن جائیں گے تو ایسے زلیل لوگوں کے حوصلے بڑھیں گے۔
ان معا شرتی ناسوروں کے ہاتھوں کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔
ایسے لوگوں کو پٹہ ڈال کر زنجیر سے باندھنا ضروری ہے۔
جہاں ایسے واہیات اور ننگ انسانیت لوگوں کی سرکوبی حکومت کی زمہ داری ہے،
وہیں ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں۔ہماری آنکھوں کے سامنے ایک مردود ہماری ایک بیٹی کے ساتھ اس قسم کی گھناؤنی حرکت کرے اور ہم خاموش تماشائ بنے رہیں،
کہاں کی مردانگی ہے یہ؟
کہاں ہے ہماری غیرت؟
اس واقعہ میں نظر آنے والی لڑکی ہم سب کی بیٹیوں یا بہنوں جیسی تھی تو پھر لوگ محض تماشا کیوں دیکھتے رہے؟
کیوں سب نے خاموش تماشائ کا کردار ادا کیا؟
بیٹیاں ،مائیں اور بہنیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔
آج اس قسم کا واقعہ ایک لڑکی کے ساتھ ہوا ہے،جس سے ہمارا خونی رشتہ نہ سہی،مگر انسانیت کا رشتہ تو ہے !
کل کلاں اس قسم کا واقعہ کسی ایسی بچی کے ساتھ ہو سکتا ہے،جو ہماری اپنی ہو،ہوسکتا ہے ہماری رشتہ دار ہو۔
تو آئیے ملکر ایسے گندے انڈوں کے خلاف منظم مہم کا آغاز کریں۔
ایسی حرکت کرنے والے جہاں نظر آئیں،اُن کے ہاتھ روکیں۔ان کو نشان عبرت بنانے کے لئے اداروں سے نہ صرف تعاون کریں بلکہ اجتماعی طور پر ایسا کرنے کے لئے ان اداروں پر دباؤ بڑھائیں۔
اگرہم ایسا نہیں کریں گے تو معاشرہ تباہی کی طرف مزید کھسکتا رہے گا۔
بربادی ہمارے اور قریب آتی جاۓ گی۔
ایسے واقعات کی روک تھام کی بنیادی زمہ داری تو حکومت کی ہوتی ہے۔
مگر بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ بزدار حکومت ان معاملات پر ستو پی کر سوئ ہوئ ہے۔
حکومت کو جاگنا ہو گا،
کیونکہ ایسے واقعات سے عمران خان اور پی ٹی آئ کے نظریے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اسے حکومت کی ناکامی کے طور پر لیا جا رہا ہے،اور لیا بھی جانا چاہیے۔
ہر چیز،ہر بیماری اور ہر مسئلے کو پچھلی حکومتوں پر ڈال کر جان چھڑا لینے کی روش اب ختم ہونی چاہیے۔
کب تک آپ لوگ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرتوتوں کے پیچھے چھپتے رہیں گے۔تین سال بہت ہوتے ہیں۔اپنے بلند و بانگ دعوووں کی کوئ جھلک تو دکھائیں عوام کو۔عوام نے مہنگائ برداشت کر لی مگر آپ معاشرے کے ان بگڑے دگڑ دلوں کو تو نتھ ڈالیں،جنہوں نے بہنوں اور بیٹیوں کا گھروں سے نکلنا محال کر رکھا ہے،اور ہر جگہ دندناتے پھرتے ہیں۔
نئے پاکستان میں پرانے نقائص ختم کئے جائیں ورنہ لوگ پھر پرانے پاکستان ہی میں واپس جانے کو ترجیح دیں گے۔
پولیس ابھی تک عوام کو روایتی طور طریقوں سے ہانکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مگر اب عوام اس قسم کے لولی پاپ سے مطمئن ہوتی نظر نہیں آتی کہ آپ کچھ افسران کو معطل یا ٹرانسفر کر کے لوگوں کی جھوٹ موٹ اشک شوئ کر دیں۔
غفلت برتنے والے اہلکاروں کے لئے یہ کوئ سزا نہیں ہے۔اگر کسی کو اسکی نااہلی اور فرائض سے چشم پوشی کی سزا دینا ہی ہے تو انہیں نوکروں سے برطرف کر کے جیلوں میں ڈالیں۔
مینار پاکستان واقعہ میں کل کچھ افسران کو معطل اور ٹرانسفر کر کے وہی پرانا ڈرامہ دہرایا گیا۔
مگر اس ڈرامے کو پزیرائ نہیں ملی۔
ایسے ہونے والے پے در پے واقعات کا تسلسل سے ہونا،
جہاں صوبائ انتظامیہ کی نااہلی ہے،
وہیں ہماری تقسیم کا بھی نتیجہ ہے۔
اب انہیں واقعات کو لے لیں،
علامہ اقبال گریٹر پارک والے واقعہ میں کچھ لوگ ٹک ٹاک والی متاثرہ لڑکی کے پیچھے پڑ گئے،
کچھ نے اقرار الحسن کو ٹارگٹ کر لیا۔
کچھ ان سینکڑوں افراد کو برا بھلا کہتے رہے،جنہوں نے لڑکی کو زدوکوب کیا،
اور اسے بر ہنہ کر کے اچھالتے رہے۔
جب لوگ اس طرح بٹ جائیں اور راۓ عامہ تقسیم ہو جاۓ تو انتظامی مشینری کو کُشن مل جاتا ہے۔
وہ اسی سپیس کا فائدہ اٹھا کر پتلی گلی سے نکل جاتی ہے کہ لگے رہو تم سب آپس میں،
ہم یہ گئے۔
یہی لمحہ فکریہ ہے ہمارے لئے۔
ہم غلط کو غلط تو کہتے ہیں پر اپنی مرضی کا رنگ دیکر۔
ہم تو یہاں تک سوچتے ہیں کہ کس سائیڈ پہ لکھنے کی وجہ سے ہمیں زیادہ لائیک ملیں گے۔
ضروری نہیں،
جو زیادہ لوگ کہہ رہے ہیں ،
وہی سچ ہو۔
ہمیں خصوصا” سوشل میڈیا پر ان معاشرتی برائیوں پر لائیکس اور ریٹویٹس کے لئے نہیں بلکہ معاشرے سے ان برائیوں کو خاتمے کے لئے لکھنا چاہیے۔
ہو سکتا ہے سچ لکھتے وقت آپ کی تائید میں کم لوگ ہوں۔
اس بات کی پرواہ مت کریں کہ آپ سچ لکھ کر اکیلے ہیں۔
جھوٹ خواہ کتنا بھی زیادہ ہو،مگر جیت ہمیشہ سچ ہی کی ہوتی ہے۔
گزشتہ روز چنگ چی رکشے پر بیٹھی بچیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا،
اُس نے صرف میرا ہی نہیں بلکہ ہر زی شعور شخص کاسر شرم سے جھکا دیا۔
میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اُس نُطف نا مراد کے خلاف کچھ کر سکوں۔
اتنی غلیظ حرکت وہ بھی سر بازار اور چودہ اگست ہی والے دن۔
مگر میری افسوس اور حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی،جب میں نے کچھ لوگوں کو رکشے میں بیٹھی بچیوں کو اس واقعہ کا مورد الزام یہ کہہ کر ٹھہراتے دیکھا کہ جی ان لڑکیوں کا لباس بھی ٹھیک نہیں تھا؟
حد ہوتی ہے،منفی سوچ کی۔
اور اپنا وکھرا لُچ تلنے کی۔
پہلی تو بات یہ ہے کہ مجھے ان بچیوں کا لباس قطعا” نامناسب نہیں لگا۔
اور اگر اس میں کسی قسم کی کمی بیشی رہ بھی گئی ہو تو کیا ہم آوارہ نسل کے پاگل کتوں کو اجازت دے دیں گے کہ وہ لپک کر ان لڑکیوں کا بوسہ لیں؟
یہ کونسا فلسفہ ہے،
جو ہمیں اس قدر محدود سوچ کی طرف لے کر جا رہاہےکہ ہم ایک چھوٹی سی غلطی کو پکڑ کر بلنڈر کرنے والوں کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
خدا کے لئے بس کردیں اپنی پروفیسریاں،
نکلیں ان خود ساختی فتووں سے۔
اور پیچھا کریں معاشرے میں بڑھتے ہوۓ ان درندوں کا۔
ان وحشیوں کا،جو نہ صرف ہماری ماوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھنبوڑ رہے ہیں بلکہ
اسلام اور پاکستان کا نام بدنام کرنے پر بھی تُلے ہوۓ ہیں۔#تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari -

واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ
گزشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں ایک ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اس بات پر یقین کرنا میرے لئےانتہائی مشکل ہے۔ دل و دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ چار سو مرد ہوں اور سب کے سب ایک ہی کام میں لگے ہوں۔ مشاہدہ میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر ایک لڑکی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو مرد ان دو لڑکوں کی ٹھکائ کرنے فوراجمع ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو بنا تصدیق کئے باقی تمام مرد اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے اورجب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ بے چارہ ہجوم سے پٹتا ہی رہے گا۔
ہم وہ جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے،جڑ نہیں پکڑتے شاخوں پرچھولتے رہتے ہیں ۔ اگر چار سو مرد حضرات نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے اور یہ بات کہنے بھی کوئ عار نہیں کہ وہ لوگ مرد تھے ہی نہیں مرد ہوتے تو ایسا کام نہیں کرتے۔
لیکن دوسری جانب یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو سٹریمنگ کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہے اور عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چندلائکس شیئر اور فالوورز کے چکر میں سر راہ ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس زیب تن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کرانا تو پھرسستی شہرت حاصل کرنے کی چاہ میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑے گا۔اگر آپ حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر مل ہی جانے ہیں۔ شہد کو کھول کر رکھنے کے بعد یہ توقع کرنا کہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھیں کیسے ممکن ہے۔گھر کی دیوار کو اگر چھوٹا رکھا جائے گا یا دروازہ کھلا رکھا جائےگا توچوری تو ہو گی ہی۔
وہ مردبھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کیلئے بھی ۔۔اس ٹک ٹوک اور اس جیسی ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ جن خواتین کو گھر یا خاندان کا کوئی ڈر ہے تو وہ صرف اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر موجود کمنٹس پڑھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں۔یہ سب کیا ہورہا ہے؟ عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ جائے۔۔ جس نے آنے والی نسل کو پالنا ہے اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔
کیا ہے یہ سب ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟ بڑے بڑے شاپنگ مال ہوں یا کوئی بھی جگہ ، مارننگ شو ہو یا پھر کوئی پروگرام ۔ عورت کو ایک ٹول کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔۔ یہ سفر کہاں کا ہے ؟کہاں ختم ہو گا؟پتہ نہیں !
اچھا پھر ہوتا کیا ہے کہ مبینہ طور پرآپ ایسی سستی شہرت تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن بعدمیں ایسے واقعات ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو ایسے واقعات کو نمک مرچ کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمارے جزباتی دوست بناء سوچے سمجھے اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ بن جاتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں چل پاتا کہ وہ کتنی خوبصورتی سے دشمن کی سازش کا شکار ہو گئےاورخود ہی سوشل میڈیا پردشمن کے خلاف چلنے والے ٹرینڈ ختم کرکے اپنے ہی ملک کے خلاف ٹرینڈ شروع کر دیتے ہیں کبھی سوچئے گا کس کمال مہارت سے دشمن نے آپ کے ہی ہاتھوں موضوع بدلوا دیا اور پھر ایسی کیمپین چلائ کہ لگاپاکستان سے غیرتمند مرد ہی ختم ہو گئے ہیں۔ جب کہ آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ آج بھی دیگرمعاشروں سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔ یہاں آج بھی بیٹی اور بہن کی عزت ہے ۔ اس کے محافظ موجود ہیں ۔
میری رائے میں اسلامی قانون کا نفاذ ہی ان مسائل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے ۔اس کام میں تو ابھی وقت لگے گا لیکن ان ایپس پر تو فوری پابندی عائد کی جاسکتی ہے جو اخلاقیات کے جنازے نکال رہی ہیں اورپابندی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ذہن سازی بھی ہونی چاہئے تاکہ ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کچھ کرنے کیلئے کوئی مثبت راستے مل سکیں اور وہ اس طرح کی ایپس وغیرہ اور سستی شہرت سے دور رہ سکیں ۔ لیکن یہ سب ہو گا کیسے ہمیں توصرف شور مچانے کی عادت پڑ چکی ہے ۔۔
اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔ آمین@Azizsiddiqui100
-

اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے. تحریر: احسان الحق
جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے، اور انسان ہمیشہ اسی کام میں رہے گا اور روز قیامت اسی کام کو سرانجام دیتے ہوئے زندہ کیا جائے گا. اعمال کی مقبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ان مقبول اعمال کا فائدہ بندے کے خاتمے پر منحصر ہے. اگر کوئی بندہ ساری زندگی اعمال صالحہ کرتا رہے اور خدانخواستہ اس کا خاتمہ اچھا نہ ہو تو ان اعمال کا فائدہ نہیں ہوگا. اگر کوئی بندہ نیک اعمال نہیں کرتا مگر اس کا خاتمہ باالخیر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فلاح پا جاتا ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
بعض اوقات تم جس بندے کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی بنیاد پر جنتی سمجھ رہے ہوتے ہو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوتا ہے اور معصیتوں اور برے کاموں کی بنیاد پر جس بندے کو تم جہنمی سمجھ رہے ہوتے ہو بعض اوقات اس کا ٹھکانہ جنت میں ہوتا ہے.
مندرجہ بالا ارشاد عالیشان سے مراد یہی ہے کہ خاتمہ ہر حال میں خیر پر اور بہتر ہونا چاہئے.شریعت نے ایسے امور کی راہنمائی فرمائی ہے جو اچھے خاتمے کا سبب بنتے ہیں. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ.
"اللہ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا فرماتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی” یہاں قول ثابت سے مراد لا اله الا الله مطلب توحید ہے. بندہ صحیح معنوں میں توحید پر ڈٹا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت کے متعلق ثابت قدمی عطا فرماتے ہیں.
دوسرے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے اس وقت تم گمراہ نہیں ہونگے، ایک قرآن اور دوسری حدیث.خاتمے کی بنیاد پر جنتی یا جہنمی کا فیصلہ ہو جاتا ہے. اس حوالے سے متعدد صحیح واقعات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں.
ایک غزوہ میں ایک آدمی بڑی شجاعت اور جوانمردی سے کفار کا قتال کر رہا تھا. کفار کی جس صف میں گھستا سب کو موت کے گھاٹ اتار کر واپس نکلتا. صحابہ کرامؓ فرماتے کہ قتال، شجاعت اور بہادری میں اس دن اس سے کوئی بڑا نہیں تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں میں سے کسی نے جہنمی کو دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو.
صحابہ کرامؓ یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ اتنی بہادری سے کفار کا قتل عام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا. ایک صحابی اس آدمی کے تعاقب میں رہتے ہیں. وہ بندہ اسی شجاعت اور جوانمردی سے قتل پہ قتل کرتا جا رہا ہے. آخرکار وہ شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تکلیف کو برداشت نہ کر پایا. اپنی تلوار کا دستہ زمین پر لگا کر اپنا سینہ تلوار پر رکھ کر جھول گیا اور تلوار دو کندھوں کے درمیان پشت سے آرپار ہو گئی اور وہ حرام موت مر گیا. ساری زندگی اچھے کام کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آخری جنگ میں شریک ہو کر کفار کا قتل عام بھی کیا مگر خاتمہ اچھا نہیں ہوا.نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت کے دن شہید کو لایا جائے گا، اس کی شہہ رگ کٹی ہوئی ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا. خون کا رنگ تو لال ہوگا مگر اس سے جنت کی کستوری والی خوشبو آ رہی ہو گی. جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے وہ کام کرتے ہوئے اس کو زندہ کیا جاتا ہے.
ایک محدث رحمتہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ سلف صالحین کی آنکھوں کو جس بات نے سب سے زیادہ رلایا وہ خاتمے کے متعلق ہے. وہ اس بات پر روتے رہتے تھے کہ خاتمہ کس صورت اور کس حال میں ہوگا.صحیح بخاری میں ایک شخص کا قصہ مزکور بے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کر رہا تھا. طواف کرتے ہوئے تلبیہ پڑھ رہا تھا. کہیں اس کی سواری کا پاؤں کسی ناہموار جگہ یا کسی بل میں چلا گیا، جس سے اونٹنی اپنا توازن کھو بیٹھی اور آدمی گردن کے بل گر گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے احرام کی چادروں کو نہ بدلو، اسی احرام کی چادروں میں دفن کرو. اس کا سر نہ ڈھانپو، دوران حج احرام میں سر ننگا ہوتا ہے. اس کو خوشبو بھی مت لگاؤ کیوں کہ احرام کی صورت میں خوشبو لگانا منع ہے. یہ بندہ حالت حج کی ادائیگی میں فوت ہوا اور قیامت کے دن اسی طرح حج کرتے ہوئے اٹھے گا.بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے کہ 100 بندوں کے قاتل کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیتے ہیں. کیوں اس بندے کا خاتمہ خوف الٰہی کی وجہ سے توبہ کی تلاش پر ہوا. وہ بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر توبہ کی غرض سے دوسری بستی جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں موت واقع ہو جاتی ہے.
کفل کا واقعہ بھی ہم سب جانتے ہیں، آخری درجے کا زانی اور شرابی تھا. ایک رات برائی کرتے وقت دل میں خیال آیا اور عورت کو مقررہ رقم دے کر واپس بھیج دیا. خوف خدا دل میں آیا اور توبہ کی اور اسی لمحے فوت ہو گیا. اللہ تعالیٰ نے اس کے دروازے پر لکھوا دیا کہ کفل کو معاف کر دیا گیا ہے.صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت محمد رسولﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی موت کے وقت اسکو لا اله الا الله کا علم ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا. موت کے وقت خالی کلمہ کے ورد کا فائدہ نہیں، لا اله الا الله میں توحید ہے. اس میں ایک اثبات اور نفی ہے. اس کلمے کی بنیاد پر مرنے والے شخص کا خاتمہ ہونا چاہیے. اللہ کے رسولﷺ نے تبلیغ کے ذریعے تمام لوگوں تک توحید کا پیغام پہنچا کر حجت قائم کر دی. بندے کے خاتمے اور ٹھکانے والا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دیں اور خاتمہ باالایمان عطا فرمائیں.@mian_ihsaan
-
معاشرے میں تربیت کا فقدان تحریر: حمزہ احمد صدیقی
لفظِ ”تربیت“ اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے۔ سادھے الفاظ میں ”تربیت“ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ برے اخلاق وعادات اور غلط اور غیر مثالی ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک مثالی اور پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ”تربیت“ ہے۔
تربیت کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور تربیت کے بغیر انسانوں کا معاشرہ نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔ تربیت کے فقدان کےباعت ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے
ماضی میں ہمارے اجداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تھے اسکے باوجود بھی وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے ادب و آداب پر خاص توجہ دیتے تھے اور اپنے بچوں کو سیکھتے تھے کہ بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کیسے کی جاتی ہے مگر افسوس اب ہمارے معاشرے میں تربیت کا فقدان واضح نظر آتی ہے۔
بچے مستقبل میں قوم کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت و تعیلم دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک بہترین اور مضبوط معاشرے کیلٸے ایک صحیح بنیاد ڈال رہے ہیں۔ اپنے بچوں کی بہترین تعليم و تربیت سے ایک بہترین اور مثالی معاشرہ وجود میں لاسکتے ہیں کیونکہ ایک بہترین پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔
توجہ فرماٸیں!!
اپنے بچوں کی شخصیت میں اخلاقی بحران اور تہذیبی اقدار کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ہماری غفلت ہوتی ہے۔ ہم اپنے مسائل و مصائب میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم تیزی سے دوڑتی زندگی کے چیلنجز اور مشکلات سے نمٹنے میں اپنے بچوں کو فراموش کرجاتاہے ہمارا اور اپنے بچوں کے درمیان رابطوں کا یہ فقدان بعض اوقات وہاں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی ہےاس لیے ہمیں اپنے بچوں کو وقت دینا چاہیے، انہیں زندگی گزارے کے طور طریقے سیکھاٸیں، انہیں صحیح اور غلط کی تمیز سیکھاٸیں، انہیں دین کی جانب راغب کریں، انہیں بتاٸیں کہ عورتوں کے ساتھ احسن طریقے پیش آنا چاہیے اگر معاشرے کوٸی جانور عورت پر ظلم و ستم کر رہا تو اس کو روکے اور اسکی ڈھال بنیں ۔ بچوں کو سیکھاٸیں کہ بزرگوں اور بڑوں کا احترام و تکریم سیکھاٸیں، بچوں کو دین پر چلنا اور اللہ اور اسکے ارشادات پر عمل کرنے والا بناٸیں، والدین کے ساتھ احسن سلوک کرنا سیکھاٸیں، حلال کماٸی کی جانب راغب کریں، حیا اور بےحیاٸی میں فرق کرنا سیکھاٸے اور اپنے بچوں وہ سب سیکھاٸیں ،جو ایک مثالی معاشرے کی اہم ضرورت ہے
قارئين !!ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہی اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، اپنے بچوں کو تعلیم کیلٸے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں داخل کراتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کیا ان اداروں میں آپ کے بچے کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی جاٸیں یا نہیں۔ اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو معاشرہ ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ سکتا۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی انداز میں کریں کہ اگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل بھی ہوں تو معاشرے کی آلودگی ان کو متاثر نہ کرسکے۔
دعا ہے کہ اللہ ﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین!
@HamxaSiddiqi
-
ایک برگزیدہ خاتون کی داستان تحریر:محمد سدیس خان
حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ بلندی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ، آپ کے والد کا آپ کے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا، آپ کی والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنا اور اپنے یتیم بچے کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ جب یہ بڑے ہونے لگے تو ماں ڈرگئ کہ اب میرا بچہ بڑا ہورہا ہے، گلیوں میں کھیل رہا ہے کہیں یہ غلط لڑکوں کے ساتھ بگڑ نہ جائے۔
لوگوں سے مشورہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے وہاں ایک بڑے شیخ ہیں وہاں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ اللّٰہ کے ولی بن جاتے ہیں، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو وہاں داخل کرادو، بیوہ ماں اپنے یتیم بچے کو لیکر اس مدرسہ میں پہنچی ، وہاں کے شیخ سے ملاقات کی ، تعارف کرایا کہ حضرت میں ایک غریب بیوہ عورت ہوں، محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتی ہوں۔
اس یتیم بچے کو ساتھ لائی ہوں، یہ گلیوں میں کھیلنے لگا، مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں بگڑ نہ جائے، میری تمنا یہ ہے اور میرے مرحوم شوہر کی بھی یہی تمنا تھی کہ میرا بچہ عالم ربانی بنے، دین کا خادم بنے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں پھیلائے، آپ اس بچے کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور اس کو ایسا عالم بنا دیجیئے کہ یہ نائب رسول بن جائے اور اللّٰہ کو پسند آجاے۔
وہ بزرگ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ تم اس بچے کو چھوڑ جاؤ، میں جو کچھ کرسکا وہ کروں گا۔ مگر یہی نہیں جاتے جاتے اس اللّٰہ کی بندی نے ایک درخواست اور کی کہ حضرت! یہ بچہ پہلی مرتبہ گھر سے نکل رہا ہے، اس کو میری یاد بھی بہت آئے گی ، مجھے یاد کرکے روئے گا ، گھر آنے کی اجازت مانگے گا مگر مگر یہ گھر آئے گا تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور یہ وہ نہیں بن پائے گا جو میں اسے بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اس کو میرے پاس تب ہی بھیجئے گا جب یہ عالم بن جائے۔
وہ بزرگ حیران رہ گئے کہ اس بیوہ عورت کی کیا ہمت اور کیا تمنائیں ہیں، بزرگ فرمانے لگے جاؤ دعاؤں سے میری مدد کرنا، مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا وہ میں کروں گا۔
وہ بیوہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئیں، بچے کی تعلیم وترتیب کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بچے نے کچھ کچھ مہینوں تک صبر سے کام لیا۔
بالآخر بچے نے آکر استاد سے کہا کہ مجھے اپنی امی کی بہت یاد آرہی ہے، مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیجئے ، میں گھر چلا جاؤں۔
اب استاد بہت پریشان کہ چھٹی دیتے ہیں تو اس کی والدہ سے کیا ہوا وعدہ ٹوٹتا ہے اور اگر چھٹی نہیں دیتے تو اس معصوم بچے کا دل ٹوٹتا ہے، اللّٰہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ اللّٰہ اس مسئلہ کا حل فرما دیں۔
اللّٰہ نے مدد فرمائی، دل میں ایک ترکیب آگئ اور فرمایا کہ میں تمہیں سبق دیتا ہوں، جب تم اسے یاد کرکے شام تک سنادوگے تو میں تمہیں چھٹی دیدوں گا۔ بچہ خوش ہوگیا، استاد نے سبق دیا اور جان بوجھ کر اتنا دیا کہ کہ وہ شام تک یاد ہی نہ ہوسکے۔
جب بچے نے سبق کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سبق تو شام تک یاد نہیں ہوسکے گا۔
اب بچہ حیران کہ میں کیا کروں، دوبارہ استاد کے پاس جاکر سبق کم کرنے کی درخواست کروں تو یہ استاد کی بے ادبی ہو جائے گی۔ اب ماں کو ملنے کو بھی بہت جی چاہ رہا ہے، استاد صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں رات کو تکیہ پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں حالانکہ میں کافی دیر تک منہ چھپائے روتا رہتا ہوں۔
ایک ترکیب ذہن میں آئی ، اس نے کتاب کو ادب کے ساتھ رحل پر رکھا اور اللّٰہ سے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللّٰہ! میں نے یہی سنا ہے کہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کی قدرت سب سے زیادہ ہے اے اللّٰہ ! آج مجھ یتیم بچے کی دعا قبول کرکے اپنی قدرت کو استعمال کردیجیۓ۔
آج شام تک یہ سبق یاد کروا دیجئے ، اے اللّٰہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی امی کی یاد میں کتنا تڑپ رہا ہوں، اے اللّٰہ! میرے ٹوٹے دل کو سکون دیجئیے۔
میرے ابو زندہ ہوتے تو وہ آجاتے، میں ان کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا، خوب یقین کے ساتھ دعا کی اور پھر سبق یاد کرنے بیٹھا، شام تک اسے سبق یاد ہوگیا۔
استاد کو یقین تھا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنا سبق بچہ ایک دن میں یاد کرلے، بچے نے سبق سنانا شروع کیا اور پورا سبق سنادیا، استاد سمجھ گئے کہ اس بچے کا معاملہ کچھ اور ہے، اب استاد نے گھر جانے کی اجازت دی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا، بچہ خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
ہنستا کھیلتا جارہا ہے کہ میں یوں امی سے ملوں گا، آواز دوں گا، پھر چھپ جاؤ گا ، پھر امی سے لپٹ جاؤں گا، پھر امی مجھے کھانا کھلائیں گی، مجھے امی اپنے پاس سلائیں گی کہ کب سے امی کی خوشبو نہیں سونگھی، انہی خیالوں میں وہ معصوم بچہ گھر کی طرف رواں دواں ہے۔
گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ بند تھا ، آواز دی لیکن جواب نہیں ملا، پھر آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟
بچے نے باہر سے جواب دیا امی میں آپ کا بچہ بایزید ہوں، اندر سے جواب آیا کون بایزید، میرا بچہ بایزید تو گھر تب آئے گا جب وہ اللّٰہ کا ولی بن جائے گا، بس وہ بچہ وہیں کھڑے کھڑے روتا رہا۔
وہ سمجھ گیا کے میری امی نہیں چاہتیں کہ میں ابھی ان سے ملوں۔ یوں روتے روتے وہ واپس چلا اور استاد کو سلام کیا، استاد نے پوچھا تم واپس کیسے آگئے خیریت تو ہے؟
اب بچہ نے جواب دینے کے لیے جو اپنا چہرہ اوپر اٹھایا ، استاد نے دیکھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ استاد نے بچہ کو گود میں لیا ، اپنے عمامہ کے پلو سے اس کے آنسو پونچھے ، گھر کا واقعہ سنایا۔
استاد نے فرمایا یہ بات بتاؤ کہ تم اپنی امی سے ناراض ہوکر تو نہیں آئے؟
بچے نے کہا میرا دل ٹوٹا بہت ہے ، میری آنکھیں بہت روئی ہیں لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میں ہزار خوشامد کروں مجھے چھٹی نہ دیجئے گا اور میری درخواست ہے کہ مجھے ویسا بنا دیجیئے جیسا میری امی چاہتی ہیں اور یہ درخواست بھی ہے کہ دعا فرمادیجئے میری امی بیمار رہنے لگی ہیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، مجھے ڈر ہے کے کہیں ان کی زندگی کا چراغ گل نہ ہو جائے۔
ان کی زندگی میں وہ برکت ہوکہ وہ مجھے وہ بنا ہوا دیکھ لیں جس کی وہ چاہت رکھتی ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہی ہیں ، استاد نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روزانہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتا رہوں گا ۔
پھر بچے کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، دل کے کانوں سے سنو کہ اگلے ١٦ سال تک یہ بچہ اپنی ماں کے پاس نہیں گیا، اس عرصہ میں بچہ نے چھٹی بھی نہیں مانگی ، پھر کیا ہوا۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی عمر جب تقریباً ٢٢ سال کی ہوگئی تو ایک مرتبہ خواب میں استاد کو بوقت تہجد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان بایزید تمہارے پاس زیر تربیت ہے اس کو ولایت کبریٰ کا جھنڈا دے دیا گیا، اللّٰہ کے ہاں فیصلہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے دنیا میں دین کا کام ہوگا، جاؤ اسکو خوشخبری سنادو اور روانہ کردو۔
استاد صاحب اٹھے ، تازہ وضو کیا، شاگرد کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے بیٹھ گئے، جب بایزید نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ادھر آؤ، سینے سے لگایا اور فرمایا تمہاری ماں کی قربانی رنگ لائی ہے ، تمہارے باپ کی تمنا پوری ہوئی اور تمہارا مجاہدہ اللّٰہ کے ہاں قبول ہوگیا۔
جاؤ اللّٰہ کے دین کی خدمت کرو، اپنا عمامہ اتار کر شاگرد کے سر پر باندھا، یوں استاد نے دعاؤں کے ساتھ روانہ کردیا۔
وہی راستہ وہی گھر تھا، انہی گلیوں میں پھرتے ہوئے وہ گھر پہنچے، دیکھا کے دروازہ بند تھا ، آواز دی تو ماں دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو سینے سے لگایا ، وہ نوجوان مسنون لباس سے آراستہ تھا، ماں نے بلائیاں لیں۔
بچہ ماں کے قدموں میں گرنے لگا تو ماں نے جلدی سے اٹھالیا اور اپنے کلیجے سے لگا لیا اور بستر پر بٹھایا کہ تھوڑی دیر میں تمہیں گرم گرم کھانا کھلاؤں گی۔
پہلے اللّٰہ کا شکر تو ادا کرلوں، پرانا بوریا بچھایا اور ماں نے دو رکعت کی نیت باندھی۔ پھر دعا کی کہ اے اللّٰہ! مجھ بیوہ کا شکر قبول کرلیجئے، آپ نے میری دعا قبول کرلی، میرے مرحوم شوہر کی تمنا پوری کردی۔
سلام ہو بایزید بسطامی پر اور سلام ہو ان کی جلیل القدر ماں پر، وہ عظیم بیوہ عورت کی عظمت و ہمت کو دیکھئے۔
جب عورت کی تمنائیں درست ہوتی ہیں تو امت کو بایزید بسطامی ملا کرتے ہیں۔
Twitter : @msudais0