Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مومن حیا دار ہوتا ہے  تحریر:  نصرت پروین

    مومن حیا دار ہوتا ہے تحریر: نصرت پروین

    عورت کی حیا حجاب میں ہے۔
    اور مرد کی حیا نظر کی پاکیزگی میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اوصاف سے نوازا۔ ان اوصاف میں سے ایک بہترین وصف حیا ہے۔ حیا سے مراد دل کا برائی سے پردہ کرنا ہے۔ حیا کردار کی اکائی ہےاور حیا کا ایمان سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حیا کی وجہ سے انسان میں تقوی پروان چڑھتا ہے اور وہ گناہ سے باز آتا ہے۔ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    حیا کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور ہے۔ جب دل میں حیا پیدا ہوتا ہے تو انسان ہر حالت میں تنہائی میں یا لوگوں کے سامنے غرضیکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہے۔ وہ برائی سے اجتناب کرتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا وصف ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ اور باحیا اور باپردہ دین والے ہی پاکیزگی کی اعلی مثال ہوتے ہیں۔ اگر حیا رخصت ہوجائے تو باقی تمام خوبیوِں پر خود ہی پانی پھر جاتا ہے۔ انسان ذلت و رسوائی میں پڑ جاتا ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ برائی کے کام سرکشی کے ساتھ کرتا چلاجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔
    یہ ایک المیہ ہے کہ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں حیا کا سر چشمہ مرد اور عورت دونوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
    "بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر مرد میں حیا نہ رہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان بن جاتا ہے۔ اور اگر عورت سے حیا اٹھ جائے تو نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ اور جب کسی سر زمین پر بے حیائی پھیل جاتی ہے تو وہاں سے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے وہاں طرح طرح کے عذاب آتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے حیائی کے پھیلانے میں اہم کردا اد کر رہاہے۔ اس میں میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک جیسی فحاشی سے بھرپور ایپلیکیشنز جو معاشرے سے حیا کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی ہم مشرقی تہذیب کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہمارے مرد و خواتین شرم و حیا کا پیکر ہوتے تھے۔ لیکن پھر جدیدیت کے نام پر بے حیائی کی ایسی ہوا چلی جو ایمان کو بہا لے گئی۔ آج بے حیائی بھی عام ہے۔ اس کو سراہا بھی جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی راغب کیا جاتا ہے۔ ان سب کی جیتی جاگتی مثال 14 اگست کے دن مینارِ پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہے یقیناً یہ واقعہ ایک عام انسان کے لئے جب پہلی بار سنے تو دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے خود جب پہلی بار سنا تو بہت ہمدردی ہوئی لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پتہ چلا کہ سارے واقعے کی جڑ ٹک ٹاک نے ہماری تہذیب کا ایسا جنازہ نکالا کہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ بے حیائی بھی گولہ نما ہوتی ہے جس کو جتنا پھیلایا جائے اتنی ہی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اور بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حیائی اللہ کی حدود سے تجاوز کر کے برائی کا نام ہے جس ہر اللہ کا عذاب تو ہوتا ہی ہے لیکن دنیاوی طور پہ بھی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ بہت تکلیف دہ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ دیکھیں اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہو جائیں تو بھی اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے اور مرد کا نگاہیں جھکانا ہی حیا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیاء کا درس دیتا ہے۔ اور حجاب ہی عورت کا حیا ہے۔ اور جب دونوں یعنی مرد کی نظر کی حیا اور عرت کا حجاب باقی نہ رہیں تو اذیت ناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بےحیائی پھیلانے والوں کے متعلق فرمایا
    ‏بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (سورۃ النُّوْر، 24 : 19)
    آج جائزہ لیں تو
    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حیا کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
    1۔ ‏لوگوں میں سب سے کامل زندگی اس کی ہے جو حیا میں کامل تر ہے۔ حیا کی کمی آدمی کی زندگی کی کمی ہے۔
    2۔ ‏حیا لفظ حیات سے مشتق ہے
    پس جس میں حیا ہے وہی درحقیقت
    حیات ہے۔
    3۔ ‏حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔
    4۔ تمام اخلاق و صفات میں سے سب سے افضل اور قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے، جس شخص میں حیا نہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔
    5۔ اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے۔
    6۔‏جتنا دل توحید میں کمزور اور شرک میں مضبوط ہوگا وہ دل اتنا ہی بے حیا اور حیا باختہ ہوگا۔
    7۔ ‏معاصی کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیا جو قلب کا اصلی جوہر حیات ہے، فنا ہو جاتی ہے حالانکہ ہر خیر و فلاح کی اصل جڑ شرم و حیا ہی ہے۔ جب یہی فنا ہو جائے تو خیر و فلاح کی امید ہی نہیں قائم کی جاسکتی۔
    دیکھیں دنیا ایک ظاہری زیب و زینت پر مشتمل گھاٹے کا سودا ہے۔ جس میں بے حیائی کے کئی رنگ ہیں۔ لہذا ان رنگوں میں گم ہو کر اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔ دین اسلام کا تو مزاج ہی حیا ہے۔ حیا کا ایمان، ادب اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ بطور مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دیکھیں۔ وہ کیسے شرم و حیا کا پیکر تھے۔ صحابہ کی زندگیاں پڑھیں جس طرح ہم مغرب ہیروز کو پڑھتے ہیں ایسے ہی اسلامک ہیروز کی حیات کا مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے کو جو گھن لگ گیا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری بےحیائی ہے جو مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اور مومن کبھی بھی بےحیا نہیں ہوتا ایمان کے دعوے دار تو ہم سب ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے ایمانی لیول کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اور پھر حیا کو اپنانا اور معاشرے مین پروان چڑھانا ہمارا فریضہ ہے۔
    اللہ رب العزت ہم سب کو ایمان اور حیا کی بہترین حالت میں رکھیں۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    ہمارے ملک میں ایک رونا دھونا یہ رہا ہے کہ سرمایہ دار اس ملک کو کھا گئے۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمیں لوٹ کر دولتمند ہوگئے ہیں۔
    سرمایہ دار کون ہوتا ہے؟ ایسا اشخص جس کو کاروباری طریقے آتے ہوں اور وہ تیزی سے ترقی کرتا ہے۔ جس معاشرے کا مجموعی ڈھانچہ دیانتداری کی بنیاد پر استتوار ہو وہاں کاروبار دینانتداری سے ہوتا ہے لیکن اگر معاشرے میں بد دیانتی کا راج ہو تو کاروبار میں بھی اس کے اثرات اتے ہیں۔ لیکن جو بھی صورت حال ہو، کاروباری شخص معاشرے کا ایک بہت مفید رکن ہوتا ہے اور اس کی برکت سے بے شمار لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ وہ جان مار کر کماتا ہے لیکن کھاتا کم ہے۔ اس کی بچت اس کے اپنے کام کم آتا ہے اور دوسروں کے زیادہ۔
    1890 کے لگ بھگ موجودہ انڈیا کے صوبے گجرات میں حبیب اسمٰعیل نام کا ایک خواجہ لڑکا برتنوں کی دکان میں ملازم ہوا اور چند سالوں کے اندر یہ اس کاروبار کا پارٹنر بن گیا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1941 میں اس نے جنیب بنک کی بنیاد رکھی۔ آج اس خاندان کا کاروبار نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ سینکڑوں کمپنیوں پر مشتمل کئی گروپ ہیں جو دنیا کا کم و بیش ہر کام کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ یہ ملکی خزانے کو اربوں روپے ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں اور ان کے فلاحی کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ سکولوں کے ایک سلسلے کے علاوہ ایک بہت ہی معیاری یونیورسٹی یہ لوگ چلا رہے ہیں۔
    جب پاکستان بن رہا تھا تو قاید اعظم نے اسمٰعیل حیبیب کو پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔ جب ملک قائم ہوا توخزانے میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔ اوپر سے انڈیا نے ہمارے حصے کا پیسہ دینے سے انکار کردیا۔ ایسے میں قاید اعظم نے اسمٰعیل حبیب سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ رقم مملکت کو قرض دے سکتے ہیں؟ حبیب اسمٰعیل نے خالی چیک پر دستخط کرکے قاید اعطم کے سامنے رکھ دیا جس پر انہوں نے 8 کروڑ روپے نکال کر حکومت کا کام چلا لیا۔
    بعد کی حکومتوں نے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں کارٹل کہا گیا تو کبھی بائیس خاندان۔ اب ان کا نیا لقب مافیا رکھا گیا ہے۔
    ایک زمانے میں ان سب کا کاروبار زبردستی سرکاری قبضے میں لے لیا گیا۔ بیس سال بعد کارخانے کاٹھ کباڑ کا روپ اختیار کر گئے تو کہا گیا کہ واپس خرید لو۔ 90 کی دھائی میں کراچی میں اسی طرح کی ایک آئل ملز خسارے میں جاکر بند ہوگئی تو اس کے سابق مالک سیٹھ ولی محمد کو واپس لینے کی پیشکش کی گئی۔ اس نے جواب دیا کہ "ظالمو! دو سال اور میرے پاس رہنے دیتے تو میں اس کا مین گیٹ سونے کا بنوانے والا تھا۔ اب زنگ خوردہ کباڑ کا کیا کروں گا؟” یہ بات کارخانے کا سرکاری ملازم منیجر بتا رہا تھا۔
    ہمارے ملک کے پسماندہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی ترقی سے حسد کرتے ہیں۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    پہلے بتاتا چلوں پاکستان تحریک طالبان پاکستان نہ کبھی طالبان تھے اور نہ ہی مجاہدین۔ یہ پی ٹی ایم کی پرانی مسلحہ شکل تھی جو صرف اور صرف بھارت کے کہنے پر پاکستان کو بنیاد پرست اور عسکریت پرست باور کروانا چاہتے تھے۔ مُلَّا فضل اللّہ انتہائی ظالم شخص تھا اور اسکا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن صرف حمایت حاصل کرنے کے لئے اس عسکریت پسند گروپ کا نام تحریک طالبان پاکستان رکھا گیا
    اس بات کی وضاحت خود اس گروپ کے ترجمان احسان اللّہ احسان نے گرفتاری کے بعد کی کہ ہماری فنڈنگ بھارت سے ہوتی ہے اور افغان طالبان کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس بات کو بہت ناپسند کیا ور ہمارا داخلہ افغانستان میں ممنوع قرار دیا لیکن کیونکہ افغانستان میں بھارت امریکہ کے ساتھ ملکر سازش کررہا تھا تو اس لئے پاکستان تحریک طالبان افغانستان آتے جاتے رہتے تھے اور ظاہر کرتے تھے کہ انکا رابطہ افغان طالبان ساتھ ہے جو کہ بلکل جھوٹ تھا
    اب آتے ہیں اصل بات پر
    افغان طالبان جو کہ مجاہدین بھی کہلاتے ہیں یہ "طالبان” کیوں کہلاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شروع سے موجود ہیں جو کہ بلکل غلط ہے
    سویت یونین سے لڑائی میں جو افغان جنگجو تھے انہیں "مجاہدین” کہا جاتا تھا اور تب انکے چھوٹے چھوٹے گروپس بنے ہوئے تھے لیکن صرف لڑائی کی حکمت عملی کے لئے
    ان گروپس میں کسی کا نام بھی طالبان نہیں تھا حتی کے اسکا وجود ہی نہیں تھا۔ ان گروپس کی آپس میں مخالفت شروع سے تھی وہ بھی فنڈنگ پر جسکو پاکستان نے بہت کوشش کی کہ ختم ہو مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ حقانی جیسے گروپس اسی قسم کی حکمت عملی کے تحت وجود میں آئے تھے۔
    تب اس لڑائی کے دوران افغان لوگوں کو تعلیم اور رہائش دینے کے لئے پاک افغان بارڈر پر مدرسے قائم کیے گئے جن میں ان لوگوں کو بطور ٹیچر بھرتی کیا جاتا تھا جو جنگ کے دوران زخمی ہوجاتے تھے یا ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے۔ ان میں مُلَّا عمر بھی تھا کیونکہ جنگ کے دوران اسکی ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی تو مزید اسے جنگ نہیں لڑسکتا تھا
    اسے ایک مدرسے کا ہیڈ بنا دیا گیا۔ روس جب واپس چلا گیا تو جہاں جہاں مجاہدین کا جو گروپ تھا وہ اس علاقے کا حکمران بن گیا۔ ان میں سے کچھ حکمران بہت ظالم بھی تھے جو لوگوں کو اغوا کرتے ریپ کرتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ اسی دوران ایک حکمران کے کچھ لوگوں نے مُلَّا عمر کے مدرسے کے ایک بچے کو اغوا کرلیا۔ مُلَّا عمر نے کوشش کی کہ پرامن طور وہ بچہ واپس مل جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پھر اس نے اپنے مدرسے اور اسکے آس پاس کے مدرسوں کے طلبا کا ایک چھوٹا سا لشکر بنایا اور بچے کی بازیابی کو نکل پڑے۔ انکے پاس زیادہ طاقت تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی انہوں نے بزور طاقت اس بچے کو چھڑوا لیا۔ اب اس دیکھا دیکھی میں اور بھی بہت سے لوگ انکے لشکر میں شامل ہونے لگے اور درخواست کی کہ ہمارے حکمران ہم پر ظلم کرتے ہیں تو آپ ہماری بھی مدد کریں۔ اسطرح لشکر بڑھ کر اتنا بڑا ہوگیا کہ ایک مضبوط گروپ کی شکل اختیار کرگیا۔ تبھی اسے انکو "طالبان” کہا جانے لگا کیونکہ یہ سب ایک مررسے کے طالبعلم تھے۔
    مُلَّا عمر نے پاور میں آنے کے لئے مزید گروپس کو اپنے ساتھ شامل کرنا شروع کیا اور پہلی بار افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ اب یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے جو فنڈنگ روس کے خلاف جنگ میں شروع کی تھی وہ روک لی کیونکہ وہ افغان طالبان کی حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر بنی تھی۔ امریکہ کی فنڈنگ روکنا ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی جس پر افغان طالبان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ رونما ہوا
    کیونکہ اب امریکہ کا افغانستان میں مفاد ختم ہوچکا تھا تو اس لئے اس نے افغان طالبان کو دہشت گرد ڈکلئر کرکے اس پر حملہ کردیا
    اس وقت سے اب تک بھی طالبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ اب انہوں نے امریکہ کو بھی شکست دی ہے۔

    @AtiqPTI_1

  • روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    کینیڈین سیاح اور وی لاگر روزی گیبریل نے لاہور سے گوادر تک کا سفر بغیر کسی سیکورٹی کے اکیلے کیا اور دنیا کو اپنے یو ٹیوب چینل سے یہ میسج دیا کہ پاکستان بہت محفوظ جگہ ہے اور پانچ ماہ کے سفر وسیاحت میں ایک مرتبہ بھی پاکستان کے کسی بھی مقام پر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی علاقہ جات کا بھی سفر کیا اور یہ بتلایا کہ جہاں بھی وہ گئیں، ان کی عزت کی گئی۔ ان کی بائیک خراب ہوئی تو فری ٹھیک کر دی گئی۔ کہیں رات پڑ گئی تو فیملی نے مہمان نوازی کی۔ اس خاتون نے 14 ماہ پاکستان میں گزارے۔ اس قدر متاثر ہوئی کہ اسلام قبول کیا اور ایک پاکستانی سیاح سے شادی بھی کر لی۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ ایک ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرام 14 اگست 2021ء کو مینار پاکستان کے ساتھ ملحق گریٹر اقبال پارک میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنانے جاتی ہے اور ایک ہجوم اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اس کو ہراساں کرتا ہے اور تقریبا اڑھائی گھنٹے تک اس کے جسم سے کھیلتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔ البتہ اس نے یہ بیان دیا ہے کہ اس کو بالکل برہنہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن واقعے کی جو ویڈیوز اور امیجز موجود ہیں، ان میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔ مبینہ ذرائع کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی سلیفیاں لینے کے لیے دھکم پیل ہوئی اور اس دھکم پیل میں اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر ٹچ کیا گیا ہے۔ اس پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ لی ہے۔

    روزی گیبریل اور عائشہ اکرام دونوں میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے پردہ نہیں کیا ہوا تھا اور دونوں اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں لیکن ایک کو معاشرے نے عزت دی اور دوسری کو ذلیل کر دیا۔ اس میں فرق کیا ہے۔ اس میں فرق عورت عورت کا ہے۔ روزی گیبریل پورے پاکستان کا اکیلے سفر کرتی ہے اور کوئی اسے دن کیا رات میں بھی ہاتھ تک نہیں لگاتا اور دوسری طرف ایک لڑکی کو دن دیہاڑے لاہور شہر کے ایک معروف پارک میں چار سو افراد کتوں کی طرح پڑ جاتے ہیں۔ آپ ان دونوں کیسز کی ویڈیوز اور امیجز دیکھیں گے تو فرق کھل کر سامنے آ جائے گا۔

    روزی گیبریل جہاں گئی، اس نے مردوں سے فاصلہ برقرار رکھا اور انہیں واضح میسج دیا کہ ہمارے درمیان ایک حد قائم ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون تھی اور سچی آرٹسٹ تھی۔ اسے مرد کی نظروں سے نہیں، سیاحت میں دلچسپی تھی لہذا لوگوں نے اس کی اور اس کے فن کی قدر کی۔ اس نے ہمیشہ بچوں اور عورتوں کے ساتھ تصاویر کھچوائیں اور انہیں پبلک کیا۔ دوسری طرف عائشہ اکرام کے بارے مبینہ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ وہ ٹک ٹاکر تھی، اسے فالوورز چاہیے تھے۔ جس کو وہ ہجوم کہہ رہی ہے، یہ ہجوم نہیں تھا، اس کے فالوورز تھے جنہیں اس نے خود وہاں بلوایا تھا۔ اور پھر یہ ناخوشگوار واقعہ ہوا کہ جس کے بعد ایک دن میں اس کے فالوورز کی تعداد پچاس ہزار بڑھ گئی۔

    تو بھئی عورت عورت کا فرق ہے۔ اس معاشرے کے مردوں کو عورت کے باہر نکلنے پر اعتراض نہیں اور نہ ہی اسے عزت دینے میں مسئلہ ہے۔ لیکن یہ معاشرہ اسی عورت کو عزت دیتا ہے جو خود سے عزت چاہتی ہو۔ جو عورت پہلے ہی مردوں کے ہاتھوں کھلونا بننے کو تیار ہو، ان کی گود میں چڑھ کر یا گلے میں بانہیں ڈلوا کر تصویریں کھچوائے۔ اور پھر سامنے موجود بعضوں کو کہے کہ تم صبر کر کے دیکھتے رہو تو مرد ایسی عورت کی عزت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی فالووننگ سے ہی اس کی فیم کی جبلت پوری ہوئی ہے تو اب وہ چاہتے ہیں کہ بدلے میں وہ ان کی جبلت پوری کرے۔ یہ تو لین دین کا سودا ہے۔ اور یہی سب کچھ مبینہ ذرائع عائشہ اکرام کے حوالے سے نقل کر رہے ہیں۔

    وینا ملک، قندیل بلوچ، حریم شاہ اور عائشہ اکرام کا رستہ بے حیائی کا رستہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ مشہور ہونا چاہتی تھیں یا فیم چاہتی ہیں۔ حریم شاہ کو بھی دیکھ، آج کل شیشہ پیتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد دیگر منشیات اور ڈرگز کی بھی عادی ہو جائے گی کہ اس رستے کا انجام ہی یہی ہے حالانکہ یہ مدرسے کی پڑھی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے حسن وخوبصورتی میں لوئر مڈل کلاس کی خواتین کو بھی وہ فیم اور فالوونگ دلوا دی ہے جو کبھی ایلیٹ کلاس کی خواتین کا مقدر ہوا کرتی تھی تو لوئر مڈل کلاس کی لڑکیاں عورتیں اس فیم اور فالوونگ کے پیچھے پاگل ہو گئی ہیں۔

    پہلے وقتوں میں ایلیٹ کلاس کی عورتوں کو یہ فیم اور فالوونگ اپنے حسن وجمال یا آرٹ کی وجہ سے حاصل ہوتا تھا لیکن اب یہی فیم اور فالوونگ معمولی حسن رکھنے والی لڑکیوں کو مردوں کو لبھانے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسی عورتوں کی بڑی فالوونگ معاشرے کا رذیل مرد ہوتا ہے جو ان کے وجود کو تک کر اپنی آنکھیں سیکتا رہتا ہے۔ اور ان عورتوں کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی مرد ان کا فالوور ہے اور جس درجے کا یہ حسن رکھتی ہیں، اس میں ایسا ہی فالوور مل سکتا ہے اور اسی کو لبھا کر ہی فیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ تو یہ ساری گیم مشہوری کی ہے اور سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی ہے۔ کبھی معاشرے پر شیروں کا راج ہوتا تھا لیکن بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جس نے گیڈروں کو بھی شیروں کی کھال پہنا دی اور انہوں نے اپنے آپ کو شیر سمجھ بھی لیا اور اب یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ ہماری شیر کے جیسی عزت کیوں نہیں کرتے ہیں۔

    بھئی، کیا بات کرتے ہو، مغرب کا معمولی درجے کا حسن تو وکٹم کو اب ریپ کی بھی یہ خوبصورت تاویل سجھا رہا ہے کہ میں اتنی خوبصورت تھی تو تبھی تو مرد اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پایا اور زبردستی پر آمادہ ہوا یعنی یہ میرے حسن کا کمال ہے کہ جس نے مرد کو جانور بنا دیا تھا۔ مردوں میں سیکس کی جبلت اور عورتوں میں مردوں کے لیے سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت، نہیں معلوم کہ کون سی زیادہ ہے اور کون سی کم۔ دونوں جبلتوں کو جب جب اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک رشتہ ازدواج کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشرے میں خیر پھیلا۔ اور جب جب ان دونوں جبلتوں کو مذہب اور اسلام سے آزاد کیا گیا تو اس اس وقت معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جتنا مرد کا اپنی سیکس کی جبلت کو آزاد چھوڑ دینا فتنہ ہے، اتنا ہی عورت کا اپنی سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت کے لیے کچھ بھی کر گزرنا باعث فساد ہے۔ اور یہاں روزی گیبریل اور عائشہ اکرام کے واقعے میں تقابل کرتے ہوئے قرآن مجید کی ایک آیت سچ صادق آتی ہے: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ۔ ترجمہ: خبیث مرد، خبیث عورتوں کے لیے اور خبیث عورتیں، خبیث مردوں کے لیے۔ اور پاکیزہ عورتیں، پاکیزہ مردوں کے لیے، اور پاکیزہ مرد، پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ جو لڑکی حریم شاہ بننا چاہتی ہے تو اسے اس معاشرے میں ہر مرد بھی مفتی عبد القوی جیسا ہی ملے گا۔ تو پاکیزہ زندگی گزارو، تمہیں مرد بھی پاکیزہ ہی ملیں گے جیسا کہ روزی گیبریل کو پاکستان میں کوئی ایک مرد بھی ہراساں کرنے والا نہ ملا۔

  • مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر طنز مزاح شائستگی اور فکر سے لبریز ایک ڈرامہ سیریل ’’گیسٹ ہاؤس’’ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔معروف ترین کرداروں میں باؤ نوید ، مراد اور خوش نامِ زمانہ ریمبو کا کردار تھا ، جو یقیناً افرنگی تمثیل نگاری کے دبستان ہالی ووڈ کی ایک فلم کے کردار سے مملو تھا، اس کردار کو پاکستان کی تہذیب شناخت اور ثقافت میں ڈھالنے کا سہرا پی ٹی وی ہی کے نام ہے، معروفِ زمانہ کردار ریمبو کا تکیہ کلام ’’ مائی نیم از ریمبو ریمبو جان ریمبو کاکروچ کلر‘‘ تھا،شگفتگی شائستگی اور بے ساختہ اداکاری نے افضل خان کا اصل نام منہا کردیا، ایک زمانےتک بزرگ اور بچوں کی زبان پر یہی مکالمے ہوتے تھے۔۔۔ پی ٹی وی کے ڈرامے اس قدر پراثر اور تربیت افزا ہوتےتھےکہ کسی معروف ڈرامہ سیریل کے وقت میں شہر کی سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں،ڈرامے تو خیرڈرامے ہی تھے ٹی وی پر آنے والے اشتہارات بھی ہماری تہذیب اور اقدار کا پتہ دیتے تھے۔ وقت کروٹیں بدلتا رہا، پی ٹی وی کا شعبہ تمثیل نگاری(ڈرامہ) آہستہ آہستہ اپنی وقت کھونے لگا، کیوں کہ متبادل کے طور پر نجی ٹی وی چینلوں نے ناظرین کے ذہنوں پر اپنے پنجے گاڑنے شروع کردیے تھے، مسابقت اور جدت کی اس دوڑ نے ہماری تہذیب ثقافت اور تربیت میں بگاڑ لانا شروع کیا، ہیجان انگیز موضوعات ، ذو معنی جملوں اور نیم لباسی کی جانب رواں دواں ملبوسات نے ابتدا میں معاشرے کے افراد کو ذہنی اذیت دینا شروع کی، اس بے سروپا نام نہاد فیشن اور تہذیب وثقافت سے دوری پر ناظرین کی جانب سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں مگر انہیں اسی دلدل کے منفعت پرستوں نے ’’ نہیں دیکھنا تو کوئی اور چینل دیکھ لو، ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہے چینل بدل لو’’ کا نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ خاموش اور بعد ازاں عادی کردیا، یوں نئی مسلط شدہ جدت اور فیشن نے پیاز کی پرتیں اتارنی شروع کردیں،۔۔میری اس بات سے اختلاف رکھنے والے دوست زرا شکیب جلالی کا نوحہ تو سن لیں۔۔۔

    کیا کہوں دیدۂ تر ، یہ تو مِرا چہرہ ہے
    سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

    بیس بائیس سال کی مسلسل مغربی تہذیبی یلغار نے ہماری تہذیب ثقافت کا چہرہ نوچنا شروع کردیا،بعد ازاں موبائل فون کے پردہ ٔ سیمیں نے ہر ایک گوشہ عافیت کو اپنے رنگ میں رنگنا شروع کردیا اور ماں باپ کی طرف سے ملنے والی تربیت بھی مفقود ہوتی گئی، رہی سہی کسر مائکرو بلاگنگ، فیس بک، یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیو نے پوری کردی، یہاں میں کئی ایسی ایپلیکیشنز کا ذکر قصداً نہیں کررہا ہوں کہ انسانی تجسس کہیں کچے ذہنوں کو اس غلاظت کی جانب نہ لے جائے جہاں مردو و زن کے پوشیدہ امور محض پیسوں کے لیے براہِ راست نشرکیے جاتے ہیں، بیس سال کی مسلسل عدم توجہی اور بے جاآزادی نے نئی نسل کو موج مستی مذاق شہرت اور اضافی آمدن میں مبتلا کرکےہمیں فکری طور پر کھوکھلا کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹک ٹاک یا اس جیسی دیگر ایپس نے نشے کی طرح نئی نسل کے دماغوں پر قابو پالیا، اب معاملہ ہیپٹانزم کے عامل اور معمول والا ہی رہ گیا ہے، ایک دوسرے سے مسابقت طے کرنے میں نئی نسل کے مرد و زن کونہ تہذیب کا خیال رہا نہ ہی قومی و مذہبی اقدار کا، حال ہی میں پاکستان کے یومِ آزادی پر ایک اندوہناک سانحہ ہوا، جو کسی بھی طور قابلِ معافی نہیں،۔۔۔

    ایک تو عین پاکستان کے جشنِ آزادی کے دن واقعہ رونما ہوا دوم یہ کہ جائے واقعہ قراردادِ پاکستان کے سینے کی میخ یعنی مینارِ پاکستان کے احاطہ میں ہوا، واضح رہے یہ خبر تین روز تک پوشیدہ رہی، عین اس وقت جب ہم پاکستان کا جشنِ آزادی منارہے تھے پڑوسی ملک افغانستان میں انتقالِ اقتدار کا مرحلہ طے ہورہا تھا، پندرہ اگست کو تقریباً پورا افغانستان نئی حکومت کے زیرِ انصرام آچکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب اففانستان میں پاکستان کے خلاف بھارت کے لگائے ہوئے اربوں ڈالر کی روایتی اور انسانی مشینری کو دھچکہ پہنچا تھا، پاکستان میں عوام الناس بھارت کی اس خفت پر خوب لتے لے رہے تھے، بھارتی عوام ، عنان حکومت اور مین اسٹریم میڈیا اپنے یومِ آزادی کی بجائے افغانستان میں ہونے والی خفت کو مٹانے کی کوشش کررہا تھا، یہ صورتحال پاکستان دشمنوں اورنام نہادلبرلوں جنہیں خونی لبرل کہنا زیادہ درست ہے کو ایک آنکھ نہ بھایا،یوں عین ایامِ عزا میں ساتویں محرم کو لاہور مینارِ پاکستان پر ہونے والے سانحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اور ساتھ ساتھ مین اسٹریم میڈیا کے افراد کی کمک بھی دستیاب ہوئی، عام آدمی کتنا ہی محتاط اور تحقیق طلب کیوں نہ ہو ایسے مواقع پر جذباتی ہوجاتا ہے، یہی ہوا پاکستان اور پاکستان سے باہر بسنے والے عوامِ پاکستان اس معاملے پر اشتعا ل میں آگئے یوں یہ خبر واقعہ کے عین تین روز بعد سوشل میڈیا ٹرینڈنگ کرتی ہوئی عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی جاگزیں ہوئی، زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے مرد و زن نے اس واقعہ کی نہ صرف مذمت کی، اپنے جذبات کا اظہار کیا بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا، جب ہمیں یہ خبر موصول ہوئی تو ہمیں آئندہ کے سوشل میڈیا موضوع کا عندیہ بھی دے دیا کہ قوم اب افغان ہندوستان موضوع کو چھوڑ کر اس جانب پر تولنے کو ہے، جذباتی تو ہم بھی ہوئے مگر مینارِ پاکستان کا نام آتے ہی شکوک نے جنم لیا، تیس گھنٹوں تک ہم خاموشی سے اس خبر اور اس خبر سے جڑی ہوئی تفصیلات کھوجنے میں مصروف رہے، اس دوران عوام میں تین طبقاتِ فکر نے دھڑے بندی مکمل کرلی تھی، ایک جو جذباتی ہوکر عائشہ اکرم بیگ سے ہونے والی بدسلوکی اور زیادتی پر مجرموں کے لیے سزاؤں کے طالب تھے، دوسرا طبقہ فکر محدودات کے تتبع میں خاتون ٹک ٹاکر کی حدود سے باہر نکل کر ویڈیو بنانے اور عوام کو رجھانے پر طعنہ زن تھے، عین اس وقت تیسرا طبقہ فکر بھی میدان میں کود پڑا جنہیں ہمیں عرفِ عام میں فیمینسٹ کہتے ہیں، اس تیسرے طبقہ فکر نے اپنے ہم خیالوں کی آشیر باد سے معاملہ کو ملکی و بین الاقوامی میڈیا تک پہنچایا، بھارت کے وہ مخصوص چہرے جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف عف عف بھو بھو کرتے رہے انہوں نے شہ سرخیاں جمائیں، ۔۔

    پاکستان سے محبت رکھنے والے افراد جو کسی وجہ سے ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا سبق جذبات سے مغلوب ہوکر بھول بیٹھے تھے انہیں اچانک وہ سبق یاد آگئے بھارت کے کود پڑنے ، نام نہاد لبرلوں ، فیمینسٹ گروپ اور ملکی میڈیا میں موجود ملک کی بےعزتی کرنے کو کوئی موقع ہاتھ نے نہ جانے دینے والوں کی سرکوبی کے لیے نوجوان سراغ رسانوں نے تلاش بسیار کے بعد کچھ ایسے حوالے کھنگال ہی لیے جن سے یہ پورا معاملہ مشکوک ٹھہرتا ہے، اول تو خاتون عائشہ اکرم بیگ کا وہ ویڈیو جس میں ایک اکاؤنٹ سسپینڈ ہونے کا نوحہ اور ان کے ساتھی ریمبو (جس کے لیے ہم نے تمہید باندھی) کا سرپرائز دینے اور فین فالوئنگ کو مینارِ پاکستان پر ملاقات اور سیلفی کی نوید دی گئی تھی، دوم یہ کہ خاتون نے واقعہ کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نہ کوئی ذکر کیا بلکہ ہنستے کھیلتے کئی تصاویر بھی شائع کیں، مزید یہ کہ درجن بھر افراد کی ٹولی جو خاتون کے بقول پارٹنرز تھے کے ساتھ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے گزارے، عینی شاہدین اور اقبال پارک کی انتظامیہ کے بیانات سے ثابت ہوا کہ خاتون کو جانے کے کئی مواقع ملے مگر انہوں نے فین کو ہوائی بوسے ارسال کرنے میں وقت گزارا، سوم یہ خبر کے سامنے آنے والی رات اچانک دو یوٹیوبر بشمول میڈیا اینکر اس خاتون کی داد رسی کو پہنچے اور اور معاملے کی باگ اپنے ہاتھ کرلی، اس خبر کے پھیلنے کے بعد ٹک ٹاکر کے اکاؤنٹ پر ایک لاک سے زائد افراد نے رجوع اور فالو کیا،پولیس کے عام تفتیشی اصول پر بھی پرکھا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ واقعہ کا فائدہ کسے ہوا، یوں عائشہ نامی خاتون کے ساتھی ریمبو دی فالورز کلیکٹر کی ملی بھگت کا سراغ ملتا ہے، واضح رہے موضوع سے متعلق تمام مواد اس وقت سوشل میڈیا پر عوامی تبصروں کے ساتھ پھیل چکا ہے یعنی ہماری بات کی تصدیق کے لیے آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں،۔۔

    اس طویل دورانیے کے ڈرامے میں ان سطور کے قلمبند ہونے کے دوران خاتون کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا، اور ساتھ ساتھ یہ خبر بھی سامنے آئی کے عائشہ اکرم بیگ اور ان کا ریمبو پولیس نے شاملِ تفتیش اور حوالات میں ہے، واقعہ کا اثر ایسا تھا کہ خبر اور رائے کے اختلاف میں ہماری نسل نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ کر اختلافِ رائے رکھنے والوں کی ذاتی کردارکشی بھی شروع کردی، ایک عجیب طوفانِ بدتمیزی نے جنم لیا نہ تو مرد وزن کی تفریق رہی اور نہ ہی پیر و جوان کی، جس کے جو منھ میں آیا اسے انگلیوں کی حرکت سے سوشل میڈیا کے صفحات میں انڈیل دیا گیا، خیر قصہ کوتاہ پولیس کو کیس پر کام نہ کرنے کا عندیہ دینے کے بعد عائشہ اکرم بیگ کا کردار مزید مشکوک ہوگیا، بعد ازاں سرکار کی مدعیت میں کیس کااندراج ہوا لیکن خاتون نے اپنا رہائشی پتہ غلط لکھوا کر کارِ سرکار میں رکاوٹ کا ذمہ بھی اپنے سر لے لیا، میری اولین دانست اور اس کیس کے بغور مشاہدے کے بعد میں تاحال اس معاملے میں پورے معاملے کو مشکوک گردانتا ہوں، بنیادی وجہ پاکستان کی جگ ہنسائی ہی ہے، کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل امر ہرگز نہیں، میڈیکو لیگل کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے جسم پر ضربوں اور زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، تین گھنٹے سے زائد طوالت کی ویڈیوز میں خاردار تاروں کو پھلانگنے اور بھیڑ کے دباؤ کے تحت کوئی بھی زخمی ہوسکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ خاتون بے ہوش اور بے لباس ہوچکی تھی کسی بھی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا، مخصوص طبقہ نے جو ویڈیو وائرل کی اس میں زد و کوب کا عنصر تو شامل ہے مگر بے لباسی و دیگر الزامات کی نفی ہوتی ہے، اس پورے واقعے میں ایک اور بدترین کردار سوشل میڈیا صارفین کا رہا جنہوں نے اس حادثے پر چٹخارے دار وی لاگ جذبات برانگیختہ کرنے والے عنوانات اور تصاویر سے اپنے یوٹیوب چینلوں پر عام عوام کوتماش بینوں کی طرح جمع کیا۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ڈالروں کے حصول کی دوڑ میں مبتلا افراد نے اس ہیجان سے جہاں فائدہ اٹھایا وہیں مین اسٹریم میڈیا نے اپنی ریٹنگ (ٹی آرپی) کے حصول کی جنگ میں عشرہ محرم کے تقدس کو بھی پامال کیا، وہ لمحات جو خانوادۂ رسول ﷺ کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور ظلم و جبر سے ٹکرانے کے درس کے حصول کے تھے ان لمحات کو ایک مشکوک خبر کی نذر کردیا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاستی ادارے فوراً حرکت میں آتے اور اس معاملے پر قوم کو آگاہ کرتے مگر ہمیشہ کی طرح دیر سے خبر پہنچی، کیا یہ محض اتفاق ہے کہ عین اس دن جب موجودہ حکومت کو ٹھیک تین سال مکمل ہورہے تھے اور عوام حکومتی کارکردگی پر گفتگو کرتے، وہ وقت اس چومکھی جنگ کی طرح پھیلی خبر کی نذر ہوا، افغانستان میں انتقالِ اقتدار ، بھارت کی سبکی، عشرہ محرم اور حکومتی کارکردگی پر سوال جواب کا دورانیہ بلکہ امروز پائلٹ آٖفیسر راشد منہاس شہید کا دن بھی اس تاحال مشکوک رہنے والی خبر کی نذر ہوگیا، اربابِ اقتدار ہوں یا احبابِ فکر و دانش امید ہے کہ ان چار عوامل پرآپ اپنی نگاہ کیجے گا اور اس معاملے کی شفافیت اور حساسیت کو نظر انداز نہ کریں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومتی نمائندے اس معاملے میں عوام کو درست اقدامات اور خبر سے خود آگاہ رکھیں گے تاکہ معاشرے میں پھیلی بے چینی کا زور ٹوٹ سکے۔۔۔

    (انصافستان)

  • پراپرٹی کا عروج تحریر: نوید خان

    پراپرٹی کا عروج تحریر: نوید خان

    میں اسلام آباد میں عرصہ تین سال سے پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہوں، میں نے لوگوں کو بہت کم وقت میں اس کاروبار سے شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔
    لوگوں کی رہنمائی کے لئے میں اپنی قیمتی رائے سے سب کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

    یہ میری سوچ، میرا ذاتی تجربہ ہے ضروری نہیں کہ سب میری سوچ سے متفق ہو۔
    میں جو بہتر سمجھتا ہوں وہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
    جُڑواں شہروں کی سب سے کامیاب سکیموں کی ترتیب کچھ اس طرح ہیں

    ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی DHA
    بحریہ ٹاؤن
    ملٹی گارڈن B-17
    گُلبرگ گرین
    ٹاپ سٹی
    فیصل ہلز
    وغیرہ ہیں۔
    پراپرٹی دورِ حاضر کا ایک بہترین کام سمجھا جا رہا ہے،
    اس لئے بہت سے لوگ اس شعبہ سے وابستہ ہو رہے ہیں،

    اس شعبے میں باقاعدہ پیشہ ورانہ صلاحیتیں رکھنے والے لوگ موجود ہیں
    جن میں زیادہ تر پراپرٹی ڈیلرز بہت دیانتداری اور خلوص سے کام کرتے ہیں، ان کے اپنے اعلیٰ اخلاقی ضابطے اور خوبصورت رکھ رکھاؤ ہیں۔ یہ بہترین آفس بنائے ہوئے ہیں،ان میں سے زیادہ تر پراپرٹی ایسوی ایشن سے رجسٹرڈ ہیں۔
    اب فائل ہے کیا، فائل دراصل ڈویلپر اور خریدار کے درمیان ایک معاہدہ ہے کہ آپکو اس سائز کا پلاٹ سوسائٹی کے فلاں حصے میں دیا جائے گا، کچھ ساتھ میں ٹائم بھی لکھتے ہیں لیکن زیادہ تر ٹائم بھی نہیں لکھتے،
    کچھ وکیل حضرات تو فائل کو یکترفہ معاہدہ کہتے ہیں۔

    کچھ سوسائٹیز میں فائل پر اون یا پرافٹ کسی جواء کی طرح اوپر نیچے ہوتا رہتا ہیں، ایسا مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی والے فارمولے کے تحت ہوتا ہے، اگر ڈیمانڈ زیادہ ہیں اور فروخت کرنے والے کم تو پرافٹ اوپر ہی اوپر جائے گا اسی طرح اگر ڈیمانڈ کم اور فروخت کے لئے فائلز زیادہ دستیاب ہیں تو ریٹ نیچے جانا شروع ہو جاتا ہے۔

    کچھ سوسائٹیز کی ڈیویلپمنٹ اتنی اچھی اور بر وقت ہوتی ہیں کہ اُن کا ریٹ ہمیشہ اُوپر ہی جاتا ہیں ایسی مارکیٹ میں بہت زیادہ پیسہ روٹیٹ ہونا شروع ہو جاتا ہیں اور تقریباًسب ہی فائدے میں رہتے ہیں، بس فروخت کرنے والا یہ افسوس کرتا ہے کہ اُس نے جلدی سیل کر دیا جبکہ انویسٹر حضرات اپنے پیسے کو دو گُنا اور کچھ چار گُنا کردیتے ہیں۔
    جیسا کہ ہر کام میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایسے ہی پراپرٹی میں بھی آپکو بہت
    سارے دھوکے باز اور نان پروفیشنل لوگ ملیں گیں، آپکو ان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔
    یہ چلتے پھرتے کاروباری ہوتے ہیں، اِن کا نا کوئی مستقل ٹھکانا ہوتا ہیں اور نا ہی آفس،
    اِن کا مقصد صرف کمیشن ہوتا ہے کمیشن کے چکر میں یہ حضرات آپکا سرمایہ کسی ایسی جگہ پھنسا دیتے ہیں جہاں سے آپکو کافی ٹائم کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
    اگر ہم اسلام آباد اور راولپنڈی کی بات کریں تو یہاں پرانے ائرپورٹ کے پاس ملک ریاض جبکہ نئے ائرپورٹ کے پاس چوہدری عبدالمجید کو سب سے بااعتماد سمجھا جاتاہیں۔
    ملک ریاض کی زیادہ تر سوسائٹیز آباد ہیں اور ایک بہت بڑی ایلیٹ کلاس اِس میں رہ رہی ہیں
    جبکہ زون ۲ اسلام آباد میں چوہدری عبدالمجید کی سوسائٹیز بہت تیزی سے آبادی کے عوامل سے گزر رہی ہیں
    میں پراپرٹی کے حوالے سے اِن دونوں مارکیٹوں کو پاکستان کی سب سے کامیاب مارکیٹ سمجھتا ہوں
    جہاں آپکا سرمایہ مکمل محفوظ اور اچھے ریٹرن ویلیو کے ساتھ آپکو واپس ملتا ہے۔
    میرا آپکو مشورہ ہے، کسی بھی سوسائٹی میں سرمایہ کاری سے پہلے اُس کا حکومت سے منظور شُدہ NOC ضرور چیک کرے، اور یہ بھی دیکھے کہ اُس سوسائٹی کے پاس زمین کتنی موجود ہے
    اسلام آباد سے 60 یا 70 کلو میٹر دور چکری روڈ پر موجود بہت ساری سکیمیں جوکہ اسلام آباد کا نام لے کر لوگوں کو فائلز کی مد میں لوٹ رہی ہیں
    جن کے پاس نا حکومتی NOC ہیں اور نا ہی مکمل زمین، اگر ہیں تو صرف سبز باغ اور 3D ویڈیوز باقی نا ہی پلیننگ ہے اور نا ہی کوئی پائیدار منصوبہ بندی
    ایسے چکریوں سے خود کو بچائے اور اِن کے دھوکے میں ہر گز نا آئے۔

    Name: Naveed Khan
    Twitter: @Naveedmarwat55

  • لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ  تحریر فرید خان

    لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ تحریر فرید خان

    ام رباب کا کیس زیادتی سے بھرا پڑا ہے لیکن مجال ہے کہ ان دو ٹھکے صحافیوں اور لبرلز کو کوئی خبر بھی خبر ہو مجال ہے کہ اقرار یا یاسر ان کے گھر جائیں ۔ نور مقدم کا قتل جوہوا یہ وہ کیس ہے جس سے منہ پھیرنا واقعی میں ایک بہت بڑی زیادتی ہے اسی طرح مختلف واقعات ہوتے لیکن لبرلز اور عورت مارچ والوں کے لیے ان میں کوئی سکورنگ نہیں ملتا اور دو ٹھکے کی صحافی جن کا سب کو پتا ہے کہاں رہتے کس کا کھاتے ان کو ریٹنگ اس میں نہیں ملتا تو پھر ان واقعات میں ہاتھ ڈالتے جو کہ ان کے لیے فائدہ مند ہے، مینار پاکستان پر واقعہ چودہ اگست کو ہوا اور اس کے بعد لڑکی بلکل ٹھیک تھی کام ٹھیک چل رہا تھا اور جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی تو مظلوم بن گئی۔ مظلوم ہوگی واقعی میں ہوگی اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہوا کیوں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ لبرلز اور ناکام صحافیوں کو یہ موقع کیوں بخشا ؟جب کیس کی کاروائی ہی روکنی تھی تو پہلے معاملے کو یہاں تک کیوں پہنچایا؟۔ کیوں ہوا کی بات کریں تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لوگوں کو بلایا کیوں ؟ یہ حملہ اگر رینڈم ہوتا بھی تو کوئی جواز بنتا جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ ٹک ٹاک بے حیائی ہے اور بے حیائی کے فینز بے حیا ہی ہو سکتے اور پھر ان بے حیاوں کو بلا لینا اپنے پاس یہ خود جرم کو دعوت دینا تھا۔ دعوت کیوں دیا اپنی شہرت کے لیے اس پر تبصرہ کرنا نا ممکن ہے کیونکہ اللہ جانتا ہے یہ سب لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بے وقوفی تھی جس کی خمیازہ پھر مرد اور عورتوں کے نفرت کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ اس واقعے کے مجرمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا یہ حکومت جانتی ہے سزا ملتا نہیں ملتا یہ عدالت کا کام ہے ، اگر واقعی جرم ہوا ہے تو سزا ملنی چائیے لیکن اس وقعے سے یہ صورت حال بننا جس سے معاشرے کو ایک دفعہ پھر نقصان پہنچانے کی کوشش جو ہر سال مارچ میں ہوتی اس کا کون ذمہ دار؟ ملک دشمن قوتوں کو ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھیار مہیا کرنا اس کا کون ذمہ دار؟ دنیا کو یہ دیکھانا کہ پاکستان عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اس کا کون ذمہ دار؟ حالانکہ صورت حال تو یکسر مختلف ہے، عورتیں محفوظ ہیں ہر وہ عورت جو اپنی عزت کو اہم سمجتا وہ محفوظ ہے لیکن وہ عورتیں جو خود گلی کوچھوں میں بے حیائی اور جرم کو دعوت دینے کے لیے نکلتے ان پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مہذب لوگ جو پاکستانی معاشرے کو جانتے وہ اج بھی ان ٹک ٹاک وغیرہ کو ناسور سمجھ رہے لیکن اگر ٹک ٹاک پر بھی پابندی کی کوئی بات کی جائیں تو یہ لوگ بھی صف اول میں اختلاف کرتے حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف مرد استمال کرتا بلکہ عورتیں بھی کرتی ۔ اچھا جی تو لبرلز اور ناواقف لوگ جو سنسنی خیز باتوں پر انکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں وہ اب بھی اس واقعے پر تبصرے کرتے نظر ارہے ہیں جبکہ نیوز کے مطابق لڑکی نے کیس بند کرنے کی اسدعا کی ہے۔ کیوں خاموش نہیں ہورہے ہیں یہ لبرلز اور عورت مارچ والے؟ کیوں کہ ان کو مارچ میں خواتین کے عالمی دن کے بعد ان کو اس طرح کی واقعوں کا انتظار رہتا۔ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی وہ نہ ملک کو دیکھتے اور نہ ہی دین کو ان کو اپنی روزی حلال کرنی پڑتی لیکن اس میں نقصان ان لوگوں کو ہوتا جو جذباتی ہوتے جن کو یہ امیج دکھایا جاتا کہ پاکستان واقعی میں عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اور یہ دیکھایا جاتا کہ دین میں عورت کو وہ مقام نہیں جو مرد کو ہے۔ ناواقف لوگ موجودہ واقعے پر رنجیدہ ہو کر ان کو سنتے ہیں جبکہ یہ لوگ اپنا کام کر جاتے ہیں اور دنیا کو دکھا دیتے کہ جی ایسا ہے سب ۔ الحمداللہ عورتیں بلکل محفوظ ہیں ، جو جرم ہوتا عورتوں کے ساتھ جو کرتے ہیں وہ جانور ہوتےہیں۔ جن کا دفاع نہ اسلام کرتا نہ پاکستان کی قانون کرتا اور نہ ہی کوئی مہذب انسان اور نہ ہی یہ معشرہ لیکن یہی معاشرہ پھر سازش کو بھی سمجھتا یہی معاشرہ پھر گھناونے کام بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ملک دشمن قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر اسلام مخالف قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر غیر ملکی این جی اوز کے لیے کام کرنے والوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ضمیر فروشوں کو بھی جانتا۔ عورتوں کی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے حکومت کوشاں ہے، اس وقعے کی تمام وزراہ نے مذمت کی ہے خود وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا ہے۔انسانی حقوق کی خاتوں وزیر نے بھی معاملے کو نوٹس میں لایا ہے ۔ اس وقعے میں جرم ہوا ہے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ بے شک لڑکی روکنے کی کوشش کریں لیکں ان مجرموں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی اڑ میں ملک اور دین اور اس کے اقتدار کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے رکاوٹ بننا ہمارے لیے ضروری ہیں ۔ اللہ اس ملک پر رحم کریں پاکستان زندہ باد
    twitter @Faridkhhn

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر : اسامہ خان

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو جلا دیا جاتا تھا اور زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا درجہ بتایا اور بتایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اس کے گھر اللہ پاک کی طرف سے رحمت نازل ہوگی ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی وہ اپنے ساتھ رحمت اور رزق لے کر آئے گی اور جس کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کو کہا جائے گا کہ جاؤ اپنے والد کے ساتھ ہاتھ بھٹو۔ اسلام سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود مثال پیدا کرنے کے لیے طلاق یافتہ عورتوں سے بھی شادی کی اور دوسروں کو بھی ہدایت بھی کہ وہ بھی طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ ضرور شادی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا۔ جب اسلام آیا تو عورت اور مرد دونوں مسجدوں میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب دیکھا گیا اب ہمیں اپنی عورتوں کو گھر تک محدود رکھنا چاہیے تو حکم دیا گیا اے عورتوں اپنی عبادات اپنے گھر میں بیٹھ کر کرو۔ تاکہ تمہیں کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ اگر باہر نکلنا ہے تو اپنے جسم کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلو تاکہ غیر محرم مرد کی نظر تمہارے جسم پر نہ پڑے۔ اور اس وقت کی عورتیں اس بات پر عمل بھی کرتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہم پتا نہیں کس دنیا میں جی رہے ہیں اور کس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اسلام تو عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس کا ایک بال بھی غیر محرم کو نظر نہ آئے اور وہی اسلام مرد کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم کے پاس نہ جائے۔ بے شک مردوں نے اپنی آنکھوں کا حساب دینا ہے اور عورتوں نے اپنے کپڑوں کا حساب دینا ہے۔ آج عورتیں سب کام کر رہی ہے جو اسلام میں منع کیا گیا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلام جیسا انصاف دیا جائے جب آپ اپنے لئے اسلام جیسا انصاف طلب کرتی ہیں تو کیوں نہ آپ اسلام پر عمل بھی کریں آج عورت ذات کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنا اور اپنی تصویریں وہاں لگانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ میں اس بات کے خلاف نہیں ہو کہ عورت گھر سے باہر کیوں نکلتی ہے میں اس بات کے خلاف ہو کہ عورت وہ سب فحاش کپڑے کیوں پہنتی ہے جو اسلام میں منہ کیے گۓ ہیں۔ اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی لیکن ہائے افسوس صد افسوس ہماری آج کل کی لڑکیاں اس بات کو سمجھ ہی نہ پائی۔ آج اگر مرد ایسے فحاش کپڑے پہننا شروع کر دے تو یہی وہی عورتیں ہوں گی آزادی مارچ والی جنکی تنقید ہی ختم نہیں ہوگی اور اس وقت ان کو اسلام یاد آ جائے گا۔ آج یہ سب عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں ملتا درحقیقت اصلیت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت ذات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ہمارے کلچر میں بھی اور ہمارے قانون میں بھی اگر عورت ذات کسی چیز کی کمپلینٹ درج کرواتی ہے تو بے شک اس میں مرد کی غلطی ہو یا نہ ہو قانون عورت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی خوش نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کو تو فحاش کپڑے پہننے کی عادت ہو چکی ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا کہ مرد کوئی رپورٹ نہیں ہے اگر آپ فحاش کپڑے پہنے گی تو اس کا ری ایکشن آئے گا۔ اور مجھے اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ کچھ لڑکیاں اور کچھ لڑکے صرف پبلک سٹی کے لیے ایسی ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی شرم آتی ہے۔ اللہ پاک ہم مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی ہدایت دے کر سیدھے راستے پر چلائے اور نامحرم سے دور رہیں اس کو ہاتھ لگانے کی بات تو دور کی ہے۔ مسلمانوں آج بھی وقت ہے اسلام پر چلو اور اسلام کے بتائے گئے طریقوں پر تاکہ تم اسلام جیسا انصاف پاسکو
    Twitter : @usamajahnzaib

  • تصویر کا دوسرا رخ   تحریر: احسان الحق

    تصویر کا دوسرا رخ تحریر: احسان الحق

    شاید ہی کوئی ایسا سورج طلوع ہوا ہو جس دن ملک عزیز میں کسی عورت کے ساتھ جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد نہ کیا گیا ہو یا کسی بچے یا بچی کو جنسی حیوانگی کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو. اکثر کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی رہتی ہے. کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ہر واقعہ المناک اور افسوس ناک ہے. اس طرح کے واقعات میں کوئی شکوک وشبہات یا دوسری رائے کا ہونا ناممکن ہے مطلب کسی بھی صورت میں ان واقعات کا دفاع نہیں کیا جا سکتا. ان واقعات میں ملوث تمام انسانی درندوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے.

    دوسری طرف خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے متضاد حقائق سامنے آتے رہتے ہیں. آج ہم خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جنسی اور جسمانی تشدد یا بلیک میلنگ کے واقعات کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے تمام ناخوشگوار واقعات کی تصویر کا ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھا جاتا ہے. حالانکہ بعض اوقات ان واقعات کے حقائق ہماری قائم کردہ رائے یا سوچ سے مختلف برآمد ہوتے ہیں. ہم ایک جذباتی قوم ہیں، بغیر سوچے سمجھے کسی کو مظلوم اور کسی کو ظالم تصور کر لیتے ہیں. بالخصوص جہاں مرد اور عورت فریق ہوں وہاں ہمارے خیال میں عورت ہی مظلوم اور مرد ہی ظالم ہے. حالانکہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس تھا. خیر، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب تک تفتیش کے بعد معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کے متعلق رائے قائم نہیں کرنی چاہئے.

    راقم کی ذاتی سوچ اور ذاتی مشاہدے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی نوعیت اور صورت چار طرح کی ہوسکتی ہے. پہلا یہ کہ واقعتاً اور حقیقتاً متاثرہ عورت معصوم اور مظلوم ہوتی ہے. اس طرح کے واقعات میں کلی طور پر مرد یا مردوں کی طرف درنگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور عورت بے چاری لاچار اور مجبور ہوتی ہے.

    دوسری صورت میں مرد اور عورت برابر کے گناہ گار اور ذمہ دار ہوتے ہیں. اکثر اس طرح کے واقعات میں مرد اور عورت کے درمیان ناجائز اور غیرشرعی مراسم ہوتے ہیں. ان ناجائز تعلقات کے نتائج ہمیشہ افسوس ناک ہوتے ہیں اور کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے. ہمارا جھکاؤ مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ عورت کی طرف ہوتا ہے اور ہم عورت کو مظلوم ثابت کر گزرتے ہیں. اس طرح کے واقعات کافی رونما ہو چکے ہیں.
    حال ہی میں پیش آنے والے دو انتہائی افسوس ناک واقعات کو مثال کے طور پر دیکھتے ہیں. ان واقعات کی بنیاد غیرشرعی اور غیر اخلاقی تھی اور نتائج بھی انتہائی بھیانک نکلے. پہلا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا. عثمان مرزا نامی ساتھیوں کی مدد سے ایک جوڑے کو زدوکوب کرتا ہے، کیمرے کے سامنے کپڑے اتارنے اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لئے زبردستی کرتا ہے. مجرم عثمان مرزا اور ساتھیوں نے انتہائی غلط کام کیا، اس فعل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. اب سوال یہ ہے کہ وہ جوڑا کون تھا؟ کہاں تھا؟ کیا کر رہا تھا؟ ان کے درمیان کیا تعلقات تھے؟
    مبینہ طور پر لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھر سے دور کسی دوست کے فلیٹ پر انتہائی شرمناک اور قابل اعتراض حالت میں عثمان اور ساتھیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور انہوں نے جوڑے کو کیمرے کے سامنے وہ سب کرنے کو کہا جو وہ کیمرے کے پیچھے کر رہے تھے. پوری قوم، سارا میڈیا، حکومت اور پولیس جوڑے کی حمایت میں آ گئے اور مجرمین کی مخالفت میں. آج تک اس جوڑے کے درمیان قائم غیراخلاقی تعلقات کی مذمت کسی نے نہیں کی. میرے خیال میں اس واقعے کا ہر کردار گناہ گار ہے. عثمان مرزا اور ساتھیوں سمیت اس جوڑے کو بھی سزا ملنی چاہیے تھی.
    اس طرح کا دوسرا افسوس ناک واقعہ بھی اسلام آباد میں پیش آیا جس کی بنیاد بھی مبینہ طور پر غیر اخلاقی تھی. بغیر نکاح کے ان کے مراسم تھے اور نتیجہ نکلا ایک عورت کے قتل کی صورت میں. پہلے واقعے میں ایک جوڑے کی عزت گئی اور دوسرے واقعے میں ایک جوڑے کی زندگی گئی.
    تعلقات غلط، نتائج غلط.

    تیسری صورت میں عورت اپنا عورت کارڈ استعمال کر رہی ہوتی ہے. مردوں پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں. یہاں بھی ہماری جذباتی قوم عورت کی حمایت اور وکالت میں یکجا ہو جاتی ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر الزامات بے بنیاد تھے. مگر اس وقت تک اس مرد کا گھر عزت اور بعض دفعہ نوکری بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے.
    ذیل میں کچھ واقعات دیکھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت ہمیشہ مظلوم یا سچی نہیں، کبھی کبھی عورت عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے. علی ظفر اور میشا شفیع کا واقعہ سب کو یاد ہوگا. جس میں میشا شفیع نے بے بنیاد الزامات لگائے بعد میں عدالت نے بھی ان الزامات کی تردید کی اور میشا شفیع پر سزا اور جرمانہ عائد کیا. لاہور میں ایک طالبہ اپنے پروفیسر پر الزام لگاتی ہے، الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے مگر وہ پروفیسر خودکشی کر کے اپنی جان لے چکا ہوتا ہے. اسی طرح ایک لڑکی دو یا تین پولیس والوں پر الزام لگاتی ہے، عدالت ان کو سزا سناتی ہے، نوکری سے برطرف کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک کی بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ الزام جھوٹا تھا.

    خواتین سے متعلقہ واقعات کی چوتھی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے جس میں عورت شہرت حاصل کرنے یا مرضی کی شادی کرنے کے لئے ڈامہ رچاتی ہے. اس نوعیت کے بھی متعدد واقعات ہیں بالخصوص ٹک ٹاکر لڑکیوں کے غیراخلاقی سیکنڈل سامنے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد صرف شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے. کچھ دن پہلے اسی طرح کا لاہور میں مینار پاکستان پر واقعہ پیش آیا. ابھی تک اس کے متعلق متضاد خبریں ہیں. راقم کے ذاتی خیال میں یہ واقعہ بھی شہرت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے. والله اعلم
    کچھ ماہ قبل ایک لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب اس نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کے لئے مجھے ڈرامہ کرنا پڑا، ویڈیو میں اس لڑکی نے شادی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کو بھی دکھایا. پچھلے سال کراچی میں ایک لڑکی کے اغوا ہونے کا واقعہ وائرل ہوا. کچھ دنوں بعد وہی لڑکی تیسری گلی کے ایک چوبارے سے ملی جہاں وہ اپنے محبوب کے ساتھ رہ رہی تھی.

    ارشاد نبویؐ ہے کہ
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچائے”
    بحیثیت مسلمان اور ایک قوم ہمارا اخلاقی اور شرعی فرض ہے کہ جب تک معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کو قصور وار اور گناہ گار نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اسی طرح نہ کسی کو معصوم اور مظلوم. سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے. آپکی فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ بہت دور تک جاتی ہے.

    #mian_ihsaan

  • تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ،اس ملک کی بنیاد ہی کلمہ پر رکھی گئ ،یہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا پاکستان پر تنقید کا کوئ بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ پھر اسلام کو بھی لازمی حدف تنقید بنایا جاتا ہے
    کبھی انڈیا میں کوئ واقعہ رونما ہوتو کوئ یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا ہندو مذہب ہے یا کسی دوسرے ملک میں کوئ واقعہ ہو تو اس واقعے کی بنیاد پر اس ملک کے مذہب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا
    لیکن منافقت دیکھیں پاکستان میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آجائے اس کا تعلق ہمیشہ پاکستان اور اسلام سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام میں ہمارے کئ پاکستانی بھی عالمی دنیا کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں
    اب حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ پر وہ طوفان برپا کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آیا وطن کی بدنامی ہوئ اور دنیا نے خاص طور پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے نزدیک پاکستان غیر محفوظ ملک بن گیا ہوگا
    مینار پاکستان جیسے واقعات کی کوئ عقل شعور رکھنے والا بندہ حمایت نہیں کرسکتا اور اس واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم نے احتجاج بھی کیا حکومت نے بھی فوری طور ایکشن لیا سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افرار کو سخت سے سخت سزا دی جائے
    لیکن کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے دنیا میں ہماری بہت حد تک رسوائ ہوئ ،ہونا تو اس طرح چاہیے تھا کہ جب تک اس واقعے کی مکمل تحقیقات نا ہوجاتی حقیقت کیا تھی وہ سامنے نا آجاتی تب تک اس واقعے کو اتنا ذیادہ اچھالا نا جاتا کہ دنیا میں ہماری جگ ہنسائ ہوتی
    حکومت اچھی طرح اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اس میں جتنے لوگ ملوث نکلیں گے یقینن ان کو سزا بھی ہوگی لیکن خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کوئ مشہوری کے لئے ڈرامے کے طور پر رچایا گیا ہو تو کیا پاکستان کی جتنی بدنامی ہوئ وہ عزت واپس آسکے گی؟ہم کس طرح دنیا کو سمجھائیں گے کہ یہ واقعہ کوئ ڈرامہ تھا اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا کتنا مذاق اڑایا گیا ،دنیا میں اسلام کو کس حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے
    حالانکہ اگر مکمل اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد ہوتا تو شائد وہ لڑکی اس طرح لوگوں کے ہجوم میں کبھی نا جاتی اور اگر چلی جاتی تو شائد وہ مرد اس کی طرف کسی گندی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت تک نہیں کرتے ،اسلام نے جتنی عزت اور مقام عورت کی دی ہے اتنی کسی اور مذہب میں نہیں
    جس طرح کسی بھی دھشتگرد کا تعلق کسی مذہب یا رنگ نسل سے نہیں اسی طرح ایسے کسی انفرادی عمل کا بھی ذمہ دار نا اسلام کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی اس ملک پاکستان کو
    اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ہمیں چاہیے ہم مثبت تنقید کریں اور معاشرے کی بہتری کے لئے خود سے شروعات کریں تو یقینن ہر طرف بہتری آجانی ہے
    اور خاص طور پر وہ افراد جن کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے وہ ایسے چند واقعات پر مکمل تحقیقات کے بغیر کسی ایسی بات کرنے سے لازمی گریز کریں جس سے پاکستان اور اسلام پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملے
    اور بڑھ چڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے معاشرے کی اصلاح ہو اسلام کے حقیقی احکامات سے عوام کو آگاہ رکھیں کسی بھی برائ کو پاکستان یا اسلام سے جوڑنے کی بجائے اس برائ کے خلاف جو اسلامی احکامات ہیں وہ قوم کو بتائے جائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کسی گندگی سے پاک ہو اسلام کی سربلندی ہو اور پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہو
    اللہ پاک ہمیں مکمل اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے ملک پاکستان کو مزید پرسکون اور محفوظ بناسکیں آمین