Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں  تحریر: آصف گوہر

    معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں تحریر: آصف گوہر

    "آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن ( یعنی جن کی مخالفت ) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالٰی نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔”
    سورة الأنعام 151
    گزشتہ چند روز میں دو واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے ہمارے خاندانی معاشرتی نظام بارے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پہلا واقعہ ایک ایلیٹ کلاس کی نوجوان لڑکی جو اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پر
    سربریدہ پائی گئ مذکورہ واقعہ کا فوری نوٹس لیا وزیر اعظم عمران خان نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے خود ہدایات جاری کیں ملزم گرفتار ہوا اور اب زیرتفتیش نے ۔ اس بارے کوئی ابہام اور دو رائے نہیں ہے کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ۔ اب اس واقعے کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ والدین نے اپنی بچی کو اتنی آزادی کیوں دی کے وہ ایک غیر محرم کے ساتھ انتہائی میں وقت گزارے اس چیز کی اجازت نہ تو ہمارا معاشرہ دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب ۔ اس پر جب سینئر صحافی عمران ریاض نے یہی بات کی کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا اس کے قاتل کو کڑی سزا دی جائے لیکن اس میں قصور والدین کا بھی ہے کہ کیوں اپنی بیٹی کی تربیت نہیں کہ ہمارا معاشرہ نامحرم کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیتا یہ غلط ہے عمران ریاض کا اتنا کہنا ہی تھا کہ خونی لبرل نے ان پر ہر جانب سے ہدف تنقید بنا لیا۔دوسرا واقعہ اقبال پارک لاہور میں چودہ اگست جشن آزادی والے روز سامنے آیا واقعہ کے دو روز گزرنے کہ بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مردوں کا بےقابو ہجوم کہ نوجوان لڑکی سے دست درازی کر رہا ہے۔ انتہائی شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے ملوث افراد کو نشانہ عبرت بنایا جائے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے نوٹس لیا مقدمہ درج ہوا متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کی اور پولیس کے اعلی آفیسرز کو غفلت برتنے پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے مزید جدید ذرائع سے پولیس اور نادرا حکام کی ملزموں کی شناخت کے بعد گرفتاریاں جاری ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ لڑکی ٹک ٹاکر ہے اور اس نے اپنے ساتھی لڑکے سے مل کر لوگوں کو چودہ اگست والے روز مینار پاکستان آنے کی دعوت دی کہ ہم کچھ خاص کرنے جا رہے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق پہلے وہاں پر فلائنگ کسز کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان حالات میں نوجوانوں لڑکوں اور مردوں کو موقع خود فراہم کیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود اس میں کوئی اگر مگر لیکن نہیں ہجوم کو کوئی حق نہیں کہ خاتون سے دست درازی پر اتر آئے مذکورہ بالا دونوں واقعات نے سوسائٹی کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا دونوں طبقات ان واقعات کی شدید مذمت تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ ان دالخراش واقعات کے محرکات پر بھی غور کیا جائے کہ کیوں یہ واقعات پیش آئے کچھ لوگ اس کیوں کو "متاثرہ کو مورد الزام ” ٹھہرانا کہ رہے ہیں اور سوال کرنے والوں کے لتھے لے رہے ہیں ۔
    گذشتہ رات ایک نیوز کاسٹر سے صحافی بننے والی خاتون نے نئ بحث چھیڑ دی کہ ماں باپ اپنے لڑکوں کو” Consent” کے بارے بتائیں کہ رضامندی کے تحت جو چاہیں وہ صنف مخالف کے ساتھ کر سکتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور اسلام نے زنا بالجبر اور زنا بالرضا دونوں کو حرام قرار دیا ہے ۔کبھی بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے اور تعلقات رکھنے بارے بات کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ سامنا آ چکا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خونی اور متشدد لبرل بن چکے ہیں جو اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی رائے کو سننے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔
    پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا یہاں پر اسلام نے آباد رہنا ہے اس لئے جو بھی ہماری معاشرتی اقدار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا عوام اس کا محاسبہ بھی کریں گے اور ان کے پوشیدہ عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
    @Educarepak

  • جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے  تحریر : آصف شہزاد

    جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے تحریر : آصف شہزاد

    وادئ سوات پاکستان کا وہ سیاحتی علاقہ جوکہ قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش وادیوں کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے یہاں بدھ مت اور ہندو شاہی کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کے دونوں اطراف مختلف ادوار کے باقیات اور آثار نمایاں طور پر سیاحوں کو اپنی اپنی طرف راغب کرتے ہیں

    مخدوش حالات اور فوجی اپریشن کے بعد جب سوات میں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی تو یہ علاقہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا پر سوات کے حوالہ سے گاہے گاہے خبروں نے اس علاقہ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ کردیا جس سے ملک بھر کی عوام کا تجسس وادئ سوات اور یہاں سے جڑے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کیلئے بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ جب فوجی اپریشن اختتام پزیر ہوا اور حالات بہتر ہوئے تو سوات کے لوگوں نے انتہائی مثبت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحت کی فروغ میں اپنا حصہ شامل کردیا، نئے سیاحتی مقامات کے دریافت سے لیکر بین الاقوامی معیار کی سہولیات تک سوات کی وادیاں سیاحوں کیلئے پر کشش بنادی گئیں جن سڑکوں کو خراب حالات اور سیلاب کی وجہ سے نقصانات پہنچے تھے چند سال گزرنے کی بعد ان پر تعمیری کام کا آغاز ہوا جس سے سوات کی سیاحت کو مزید ترقی مل گئی جبکہ کالام اور ملم جبہ کی سڑکیں بن جانے سے یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے۔

    ملم جبہ چیئر لفٹس بحال ہوئے ،تباہ شدہ ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوئے ، مزید بے شمار ہوٹل بن گئے جبکہ نو ہزار فٹ زیادہ کی بلندی پر واقع وادئ ملم جبہ میں طرح طرح کے بین الاقوامی معیار کے کھیلوں کی داغ بیل ڈال دی گئی جس سے ملم جبہ کی وادی میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان کھیلوں میں حصہ لینے پر مجبور ہوگئے، ملم جبہ میں سیمسنز کمپنی کے انتظامیہ نے اس ضمن قابل تحسین کردار ادا کیا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار موجودہ حکومت نے سوات ایکپریس وے کی تعمیر کی شکل میں ادا کیا جس سے سفر میں آسانی اور وقت کی بچت نے سیاحوں کو سوات کی جانب راغب کیا۔

    عزیزان من !
    پورے ملک کے سیاحوں کو تو وادئ سوات نے اپنے سینے پر جگہ دیدی جوکہ یہاں کے عوام کیلئے کافی خوش کن تاثر کا سبب ہے تاہم لانگ ویکینڈ اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے مقامی لوگوں کو سیاحت کا جو موقع میسر تھا اب وہ نہیں رہا !

    کیونکہ ان مخصوص دنوں میں سیاحوں کی جو جم غفیر وادئ سوات پہنچتی ہے اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور چند کلومیٹر کے سفر میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ پورے ملک سے بالعموم جبکہ خیبر پختونخواہ سے بالخصوص سیاح سوات کی طرف امڈ آتے ہیں جبکہ ان مواقع پر سوات کی انتظامیہ اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان سیاحوں کیلئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی مرتب نہیں دیتے اسلئے یہاں کی تنگ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔

    حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بڑی عید کی چھٹیوں میں اسی ہزار سے زائد گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں لاکھوں افراد سوار تھے اور متوسط اندازہ ہے کہ ان گاڑیوں میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سوات میں داخل ہوئے، جوکہ ظاہری طور پر ایک بڑی تعداد ہے اسی طرح یوم آزادی کی چھٹیوں میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ محرم کی چھٹیوں میں کالام سمیت ضلع بھر کے سولہ سو ہوٹل سیاحوں کیلئے کم پڑگئے اور لوگ ٹینٹوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوگئے یعنی مشاہدہ کے مطابق سوات کی موجودہ سڑکیں ، ہوٹلز ، اور ریستوران اس تعداد کو سنبھالنے کا متحمل نہیں !

    اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک جام سے مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب کسی مریض کو ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو اور ہسپتال پہنچانا ہوتا ہے تب مذکورہ ٹریفک جام میں پھنس کر خطرات کا شکار ہونا یہاں کے باسیوں کیلئے معمول بن گیا ہے، جن مقامی تاجروں کے گھر کالام روڈ پر واقع ہیں اور کاروبار مینگورہ شہر میں ہیں ان کیلئے مذکورہ دنوں میں چند کلو میٹر کا فاصلہ کوہِ گراں کو عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے شہر پہنچنے کیلئے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور پھر واپسی پر اسی وبال کا سامنا کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کا صبر کے علاوہ کوئی حل ان کے پاس موجود نہیں ہے
    دوسری جانب یہ بات قطعی طور پر نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ان مخصوص دنوں کی چھٹیاں کبھی تفریح کا موقع ہوا کرتی تھیں لیکن اب سیاحوں کے اس جم غفیر میں ان مقامی لوگوں کی چھٹیاں گھروں پر ہی گزرتی ہیں کیونکہ اگر مقامی لوگ بھی مذکورہ رش میں شامل ہوجائے تو ممکنہ طور پر سیاحوں کیلئے مزید پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں اسلئے اب سوات کے باسی پختون روایات کے مطابق سوات آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ان مخصوص دنوں میں اپنی تفریح کی قربانی دیتے ہیں اور سیاحوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں اور اپنی چھٹیاں گھروں میں ہی گزارتے ہیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آیام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں ٹریفک وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولیس سر فہرست ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ٹورسٹ پولیس غیر فعال ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔جس کے نقصانات یہ برآمد ہوئے کہ جگہ جگہ شدید ٹریفک جام کیساتھ ساتھ سوات کی تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا اگرچہ مقامی پولیس کیمطابق سیاحوں کو لوٹنے والے گروہ تو گرفتار کرلئے گئے ہیں تاہم مقامی پولیس کی غیر فعالی اور مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے ایسے واقعات کو جنم دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سوات ایکپریس وے کے فیز ٹو کیلئے فنڈز ریلیز کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ سفری آسانی یقینی بنائی جاسکے اور سوات میں معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کو چاہئے کہ ٹورسٹ کیلئے مرتب دئے گئے پولیس دستہ کی فعالی اور بہتری میں کردار ادا کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ھدایات جاری کریں کہ مذکورہ بالا حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے ، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیاحتی مقامات کی صفائی اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ سیاحوں کی تعداد ان وادیوں کے قدرتی حسن پر اثر انداز نہ ہو ، دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے بہہ جانے والے درجن بھر پُل تاحال تعمیر نہیں ہوسکے جس سے نئے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے لہٰذا ان پُلوں کی تعمیر سے ملم جبہ اور کالام پر سیاحوں کا رش کم کیا جاسکتا ہے جس سے ٹریفک کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کافی کمی آسکتی ہے ، کالام سے کمراٹ تک باڈگوئی پاس پر سڑک کی تعمیر سے دیر اور سوات کی سیاحت کو مزید ترقی ملیگی جس سے دیر کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن ہے۔

  • غنی دربدر سے غنی برادر تک تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    "مجھے نفرت ہے ان لوگوں سے جو ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں” یہ تاریخی الفاظ ہیں سابق صدرافغانستان کے جو اب خود ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں اور پوری دنیا میں دربدر ہے۔
    بہتر سالہ اشرف غی 2014 کے اوائل میں امریکی آشیرباد سے افغانستان کے صدر بنائے گئے وہ ایک سیاستدان، تعلیمی اور معاشی ماہر سمجھے جاتے تھے جنہوں نے 2014سے15 اگست 2021 کے درمیان افغانستان کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ مجوزہ طور پر بھارت کے بہت نزدیک شمار کئے جاتے تھے اور پاکستان مخالف بیانات اور سازشوں میں ان کا کوئ ثانی نہ تھا۔ پھر اللہ کا کرناایسا ہوا کہ امریکہ نے افغانستان کی طویل ترین جنگ سے جان چھڑانی چاہی تو اپنی فورسز کو افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا امریکی اعلان کے ساتھ ہی وہاں موجود طالبان نے بھی افغانستان پر قبضے کی کوششیں تیز کر دیں اور جیسے جیسے امریکی فورسز افغانستان چھوڑتی رہی ویسے ویسے طالبان افغانستان پر قابض ہوتے گئےاور بالآخر 15اگست2021 کو تمام تر بھارتی جنگی ساز وسامان اور بھارتی تربیت کی موجودگی میں افغان فورسز کو بناء مزاحمت کے طالبان نے پچھاڑ کے رکھ دیا اور افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا جب کہ اشرف غنی مجوزہ طور پر افغانستان سےفرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اشرف غنی کے بارے میں اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ ڈالروں سے بھری تین گاڑیاں بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ جب اشرف غنی فرار ہو کر تاجکستان پہنچےتو تاجکستان میں موجود افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے کہا کہ وہ عوامی فنڈز غبن کرنے پر اشرف غنی کوگرفتار کرے پھر اشرف غنی پہلے اومان پہنچے پھر خبر آئ کہ قطر ہوتے ہوئےمتحدہ عرب امارات پہنچ گئےاور آخری خبریں آنے تک وہیں موجود ہیں۔
    افغانستان پر طالبان کی تیز ترین فتح کے بعد پوری دنیا نے اپنے ممالک میں ہنگامی اجلاس کا آغاز کر دیا اورطالبان کے موجودہ سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ نےتین رکنی مزاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی جو مشاورت کے بعدانتقال اقتدارکے عمل کو ممکن بنائے گی۔
    اب تک کی اطلاع کے مطابق ملا عبدالغنی برادراخوند ممکنہ طور پر افغانستان کے نئے صدر ہو سکتے ہیں ملا عبدلغنی برادر ایک افغان جنگجو رہے ہیں جو افغانستان میں طالبان کے بانیوں میں سے ہیں اور طالبان کے موجودہ سربراہ ملا ہیبت اللہ کے نائب امیر بھی ہیں جو مزاکراتی کمیٹی کے نگراں کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ موجودہ جنگ بندی پر امریکہ سے مزاکرات میں بھی پیش پیش رہے۔ملا غنی برادر طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کے نائب بھی رہ چکے ہیں اور ملا عمر نے ہی انہیں "برادر”کا لقب دیا تھا جس کا مطلب بھائ کے ہیں۔ ملاغنی برادرافغان طالبان کے لئے تمام دنیا سے مزاکراتی عمل میں بااثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
    یہ بات پوری دنیا کے لئے بہت خوش آئند ہے کہ طالبان نے افغانستان میں فتح حاصل کرنے کے بعد مخالفین کے ساتھ جو برتاو کیا ہے وہ بہت قابل ستائش ہے اور امید کی جاسکتی ہے ملا غنی برادر کی سربراہی میں ایک پر امن افغانستان اس خطے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور
    غنی دربدر کے بجائے غنی برادر پاکستان کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے امن و سلامتی کے ضامن بنیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • اللّٰہ کو راضی کرنے کا آسان اور انمول طریقہ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    اللّٰہ کو راضی کرنے کا آسان اور انمول طریقہ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کے زمہ عبادت کی زمہ داری دی ہے. اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا.
    "ہم نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا.”
    اگر غور کیا جائے تو اسی مقصد کے لیے اللہ رب العزت کے حضور بہت سے فرشتے بھی اس کام کے لیے منتخب ہیں اور اس کام کو انجام دے رہے ہیں.
    ایک جماعت مسلسل قیام دوسری رکوع تو تیسری سجدے کا شرف حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کر رہی ہے.
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے سر اشرف المخلوقات کا سہرا بھی سجا رکھا ہے. اور دیکھا جائے تو اوپر مذکورہ عبادت میں مشغول فرشتے بھی تو مخلوق ہی ہیں. تو پھر عبادت کے ساتھ ساتھ کونسی ایسی چیز انسان کے زمہ ہے جسے نبھایا جائے تو انسان اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہوتے ہیں.وہ انمول صفت احساس کی ہے دوسری مخلوقات میں اس صفت کو اس انداز میں ممتاز نہیں کیا گیا جس انداز میں انسان میں رکھا گیا ہے. انسان اور جانور میں فرق کرنے والی خصوصیت بھی یہی ہے.جانور زیادہ تر اپنی بقا آور ضرورت کی سوچ لیے ہوتا ہے. جبکہ انسان کو احساس اور ایثار کی دولت سے نوازا گیا ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا احساس کے لیے وسیع دولت لازمی ہے؟
    بلکل نہیں احساس حقوق العباد کا ایسا رکن ہے جس میں ہر جگی دولت ضروری نہیں. بعض اوقات کسی کو آپکی اچھے گفتگو اس کے اعصابی دباؤ کو کم کر دیتی ہے. بعض اوقات آپ کی خوش اخلاقی اس کے لیے دردِ دوا بن جاتی ہے. کوئی شخص پریشان ہو اس کو اس کی ہریشانی سے نکال دینا بھی تو نیکی ہی ہے.
    آئیے اس کو ایک شریعت کے اوراق سے دیکھتے ہیں.
    ایک دن نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مخاطب ہوے اور کہا کہ مانگو عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کیا مانگتی ہو. دریائے رحمت کو اس قدر جوش میں دیکھ کر اجازت طلب کی کہ میں اپنے والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ نا کر لوں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور اجازت دے دی. سوال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی دانشوری سے سوال تجویز کیا کہ پوچھو کہ واقع معراج النبی میں جب اللہ سے ملاقات ہوئی تو اس وقت کچھ راز و نیاز کی باتیں ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بات بتا دیں.حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال لا کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں رکھ دیا. حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور جواب ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ میں سب سے زیادہ خوش اس شخصیت سے ہوتا ہوں جو کسی کے ٹوٹے ہوے دل کو جوڑے.وعدے کے عین مطابق جب سوال کا جواب لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جناب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور جواب سے آگاہ کیا تو جواب سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار مسکراے اور پھر رونے لگے. حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے وجہ پوچھی تو جواب دیا کہ میں مسکریا اس لیے کہ کائنات کا مالک کسی بندے کے بظاہر اتنے چھوٹے سے عمل سے سب سے زیادہ راضی ہو جاتا ہے. لیکن رویا اس لیے کہ اگر کسی سے کسی کا دل ٹوٹ جاے تو رب العالمین کتنا ناراض ہو گا اس بد بخت انسان سے.
    تو پتا چلا کہ حقوق العباد صریحاً کنجی _ رضا _ رب العالمین ہے.
    خدارا اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو حقوق العباد کے بظاہر اس معمولی لیکن انتہائی اہم پہلو کو نظر انداز مت کیجئے. اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں سے اچھی گفتگو کیجیے اگر ممکن ہو تو ان کے مسائل کا حل تجویز کیجیے مخلوق کی اللہ کی رضا کے لئے خدمت کیجیے تا کہ اللہ ہم سے راضی ہو.

    @EngrMuddsairH

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ 1997 کے عام انتخابات، جو پی ٹی آئی کے پہلے انتخابات تھے، میں پارٹی نے کوئی بھی نشست نہ جیتی۔یعنی عمران خان کو پزیرائی نہ ملی

    پاکستان تحریک انصاف چونکہ کوئی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی تو کچھ ریٹائرڈ فوجی جو پارٹی کا حصہ تھے اور کچھ تجربہ کا منجھے ہوۓ سیاستدانوں نے پارٹی یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ عمران خان کسی کی بھی بات نہیں سنتے۔ حالانکہ پارٹی چھوڑنے کیوجہ یہ نہیں تھی پارٹی ان سب نے اس لئے چھوڑی کہہ اس پارٹی میں رہ کر وہ اقتدار میں تو دور کی بات کبھی اسمبلی حال کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے

    پھر جب 1999 میں الیکشن ہوۓ تو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان جنرل پرویز مشرف کی کچھ کچھ اور کہیں پر حمایت کرنے لگے اور سابق فوجی جنرل کے تحت ہونے والے 2002 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک نشست، جو کہ عمران خان کی تھی وہ نشست جیت لی۔

    مگر پھر عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف پاکستان جس کے وہ خود چئیرمین بھی ہیں نے ان پر 2007 میں کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 2008 کے انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ایک باوردی صدر کے ماتحت منتخب پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں تھی

    اس طرح پاکستان تحریک انصاف نے 2008کے عام انتخابات جو جنرل پریز مشرف کی صدارت میں ہوۓ ان میں بھی حصہ نہ لیا اور 2008کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف کا کوئی ممبر اسمبلی میں نہ جا سکا

    2007 کے تقریباً درمیان میں میں وکلاء کی ایک تحریک چلی جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس میں عمران خان نے بھی حصہ لیا اور پرویز مشرف کے کریک ڈاؤن میں پہلی دفع عمران خان کو بھی اس وقت گرفتار کر لیا گیا بجب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک مظاہرے کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیشک اس گرفتاری کا دورانیہ بہت ہی مختصر تھا اگر ہم بینظیر بھٹو کے قتل کی بات کریں تو عمران احمد خان کا شمار بھی ان شخصیات میں ہوتا ہے جہنوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے

    پھر2011 میں عمران خان کو لوگوں نے پھر ایک بار سیاست میں سرگرم دیکھا۔ عمران خان نے کراچی اور لاہور میں بہت بڑے بڑے جلسے کئے جن میں عوام نے بھر پور شرکت کی اب یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی

    اس کے باوجود 2013 کےعام انتخابات میں بھرپور مہم چلانے کے باوجود تحریک انصاف پاکستان عمران خان کی پارٹی مرکز میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 32 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ گئی۔

    لیکن عمران خان کی پارٹی خیبر پختونخواہ میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئ جاری ہے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • طالبان اور مستقبل   تحریر : نواب فیصل اعوان

    طالبان اور مستقبل تحریر : نواب فیصل اعوان

    اب جب طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں تو عالمی دنیا اس کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ امریکہ جو سپر پاور کہلاتا ہے وہ بیس سال افغان جگ میں ضاٸع کرنے کے بعد ناکام و نامراد لوٹ گیا ہے .
    افغان طالبان نے جہاں عام معافی کا اعلان کیا تھا وہیں امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانی کابل اٸیرپورٹ سے امریکی جہاز میں چڑھ گیۓ اس خوف سے کہ طالبان ان کو نشان عبرت بناٸیں گے مگر طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور تمام افغانیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ملکی سالمیت و تعمیرو ترقی میں اب کردار ادا کریں ..
    امریکی جہازوں میں چڑھنے والے چھ سو کے قریب افغان باشندے قطر اٸیرپورٹ پہ اتار لیۓ گیۓ ہیں جنکو دو چار دن تک ڈی پورٹ کر دیا جاٸیگا .
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سرپرستی میں کام کرنے والے افغانیوں کو امریکہ نے بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے .
    اپنے ملک و قوم اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف پیسوں کے عوض کام کرنے والوں کا یہ حال ملک دشمن عناصر کیلۓ عبرت کا نشان ہے .
    امریکہ نے دو ٹریلین ڈالر افغان جنگ میں جھونکے مگر وہ طالبان کے آگے سوویت یونین کی طرح ڈھیر ہوگیا .
    امریکی سابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ
    امریکہ کو بیس برس بعد شکست ہوگٸ عبرت ناک شکست .
    الغرض دنیا مے دیکھ لیا اور تسلیم بھی کیا جا رہا ہے کہ سوویت یونین کے بعد امریکہ بھی افغانستان سے ناکام و مراد لوٹا ہے ۔
    اب پاکستان اور چاٸنا مزید معاشی قوت بنیں گے استحکام ہوگا چاٸنہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قاٸم رکھنے کا خواہاں ہے کیونکہ چاٸنا کے بہت مفادات جڑے ہیں پاکستان سے افغانستان میں پاٸیدار امن کے ساتھ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی .
    افغان طالبان نے بھارت کو بھی شٹ اپ کال دی ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی کارواٸ سے باز رہے ورنہ برے نتاٸج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے علاوہ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب ان کی اگلی منزل کشمیر ہے ۔
    اس وقت بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے بعض بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان پاکستان اور چاٸنہ مل کر بھارت سے جنگ کر سکتے ہیں ایسا بھی ہوسکتا کہ بھارت کو کشمیر سے ہی ہاتھ دھونا پڑجاٸیں .
    بھارت جو امریکہ کی طرح افغانستان میں کافی ڈویلپمنٹ کر چکا جس میں انفراسٹکچر کے علاوہ ڈیم بھی شامل ہیں جس کا اس کو طالبان کے کنٹرول کے بعد کوٸ فاٸدہ نہ ہوگا اس وقت بھارتی اربوں کھربوں کی انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے بھارت میں طالبان کو لے کر کافی تشویش پاٸ جا رہی ہے بھارت کیلۓ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے .
    دوسری جانب طالبان کی حکومت کو مستقبل میں عالمی دنیا تسلیم کر لے گی کیونکہ طالبان سے اختلاف بہت سے ممالک کے مفاد میں نہ ہوگا .
    جبکہ طالبان کیلۓ سوشل میڈیا کے دروازے بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے کہ تمام پیغام رسانی والی ایپس کو افغانستان میں بند کیا جاۓ جن میں سرفہرست واٹس ایپ فیس بک ٹوٸیٹر اور انسٹاگرام شامل ہیں .
    اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان میں کب تک حکومت فعال ہوتی ہے اور افغانستان کی فلاح و بہبود کیلۓ کیا اقدامات کیۓ جاسکتے اور عالمی دنیا کے ساتھ کیسے روابط رکھے جا سکتے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا .

  • منشیات اور تعلیمی ادارے تحریر- محسن ریاض

    منشیات اور تعلیمی ادارے تحریر- محسن ریاض

    منشیات کا استعمال اس وقت ملک کے طول وعر ض میں پھیل چکا ہے اس کو مکمل روکنا تو ایک لحاظ سے ناممکن ہے مگر کسی حد تک اس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے شروع شروع میں تو اس کی چکھنے کی حد تک یہ صرف مختصر وقت کی لذت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہ مجبوری بن جاتی ہے اور اس سے جان چھڑانا ایک لحاظ سے ناممکن ہو جاتا ہے اس وقت پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں منشیات کا گڑھ بن چکا ہے شہریار آفریدی کے بقول اسلام آباد کے سکولوں میں نوے فیصد کے قریب بچے آئس کے نشے میں مبتلا ہیں یہ ایک انتہائی گھمبیر صورتحال ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار موجودہ ایک وزیر کے ہیں-آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کو استعمال کرنے کے بعد انسان اپنی جاگنے کی مقررہ حد سے کئی زیادہ وقت چاک و چوبند رہ سکتا ہے مگر جس وقت اس کا نشہ اترتا ہے تو اس وقت ان افراد کی حالت قابل ترس ہوتی ہے-آئس بیچنے والوں کے باقاعدہ طور پر سکولوں اور کالجوں میں نیٹ ورک موجود ہوتے ہیں جن کا کام نئے لوگوں کو گھیر کر نشے کا عادی بنانا ہوتا ہے اور باقاعدہ طور پر ان کو اس کام کی تنخواہ دی جاتی ہے اس کام کو بخوبی سرانجام دینے کے لیے ان سٹوڈنٹس کو یہ بات کہہ کر اس طرف راغب کرتے ہیں کہ اس کو استعمال کر کہ آپ بہت زیادہ وقت آسانی سے جاگ سکتے ہیں اس طرح آپ اپنی پڑھائی کو زیادہ وقت دے کر اچھے گریڈز حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح یہ سٹوڈنٹس کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں اس کے علاوہ اور کئی طرح کے نشے مارکیٹ میں اس وقت باآسانی دستیاب ہیں جن میں چرس ،افیون ، شراب اور ایم ڈی ایم شامل ہیں جن کے بارے میں حکومت جانتے بوجھتے ہوئے کوئی قدم اٹھانے میں بے بس نظر آتی ہے سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد نشے کی عادی ہوچکی ہے اور ان کے عادی ہونے کی بنیادی وجوہات میں سے امتحانات میں فیل ہو جانا ، گھر والوں کا دباؤ ، بے روزگاری ، نوکریوں کو تناسب کم ہونا اور اس کے علاوہ بہت زیادہ پڑھائی کا پریشر ہونا اور اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ نشے میں سکون تلاش کرتے ہیں میری ایسے ہی ایک طالبعلم شاہزیب عارف سے بات ہوئی جو جامعہ پنجاب میں قانون کا طالبعلم ہے اور اس نے بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے نشہ کرنا شروع کر دیا اور اس میں وہ سکون حاصل کرنے لگا-شائد نشہ کرنے والے افراد یہ بات سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ اس کا انجام بہت برا ہو گا یا پھر وہ یہ بات سمجھتے ہوں مگر وہ اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر پاتے ہوں کہ وہ اس کو ترک کر سکیں مگر حقیقت میں اس کے اثرات بہت برے ہوتے ہیں جن میں بعض اوقات بات خودکشی تک جا پہنچتی ہے قائداعظم یونیورسٹی کےطالبعلم وسیم عباس نے گزشتہ سال منشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کی کوشش کی مگر قسمت نے یاوری کی اور وہ محفوظ رہا مگر ہر کسی کی قسمت وسیم جیسی نہیں ہوتی اس کے علاوہ منشیات کے نقصان میں غربت ، بے ردزگاری ، وقت کا زیاں اور سرمائے کے نقصان کے علاوہ اور کئی طرح کے عیب شامل ہیں اس لیے طالبعلموں کو چاہئے کہ اس سے جہاں تک ہو سکے اجتناب کریں اس کے علاوہ حکومت کو بھی چاہیے کہ اس طرح کے قانون بنائے جائیں جو تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی کو روک سکیں – موجودہ اعداو و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں چالیس لاکھ کے قریب منشیات کے عادی افراد موجود ہیں اور ان میں طالبعلموں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ان افراد کی بحالی کے لیے سینٹرز بنائے جائیں جہاں ان کو بحالی کے عمل سے گزار کر ایک باعزت شہری بنایا جا سکے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • سورۃ کہف فضائل، عبرت و نصیحت۔ تحریر: نصرت پروین

    سورۃ کہف فضائل، عبرت و نصیحت۔ تحریر: نصرت پروین

    سورۃ کہف قرآنِ کریم کی عظیم سورت ہے۔ کہف غار کوکہتے ہیں اس سورت میں غار والوں کے قصے کی مناسبت سے اسے "کہف” کہتے ہیں۔ یہ سورۃ اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں پر اہلِ مکہ کا ظلم وستم انتہا کو پہنچ رہا تھا تا کہ اصحابِ کہف کا واقعہ سنا کر مسلمانوں کی ہمت افزائی کی جائے وور انہیں بتایا جائے کہ ان سے پہلے مسلمانوں پر اس سے زیادہ ظلم کیا گیا۔ ان کے پائے استقامت میں تزلزل نہیں آیا۔ (تیسیرالرحمن:832/1)
    یہ سورت بہت سے فضائل پر مشتمل ہے۔
    سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لیں، وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم:1883)
    جو اس کی تلاوت کرے گا آئندہ جمعے تک اس پر خاص نور اور روشنی باقی رہے گی۔ (صحیح البانی، صحیح الجامع الصغیر:6470)
    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ نے صفد کے قاضی محمد ابن عبدالرحیم العثمانی کی تحریر دیکھی جس میں لکھا تھا:
    مجھے امیر سیف الدین الحسامی نے بتلایا کہ میں ایک دن صحرا کی طرف نکلا تو علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللّٰہ کو ایک قبر پر کھڑے دیکھا؛
    وہ روتے ہوئے پڑھ رہے تھے اور اور دعا کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ تو فرمایا: اس قبر میں مدفون شخص میرا شاگرد ہے اور مجھ سے پڑھا کرتا تھا؛
    اس کی وفات ہوگئی تو رات مجھے خواب میں ملا ؛ میں نے حال احوال دریافت کیا تو کہنے لگا: جب آپ لوگوں نے مجھے قبر میں دفنایا تو ایک دھاری دار کتا آ دھمکا، جیسے کوئی درندہ ہو؛ وہ مجھ پر غرانے لگا جس سے میں بری طرح خوف زدہ ہو گیا۔ اتنے میں بہت ہی خوب صورت حلیے والا ایک بڑا مہربان سا شخص آیا اور اس کتے کو دھتکار کر وہاں سے بھگا دیا ۔ میں نے پوچھا: آپ کون؟ تو کہا: میں تیرا وہ ثواب ہوں جو تو جمعے کے دن سورت کہف کی تلاوت کر کے کماتا تھا۔
    (الدرر لابن حجر، 5: 325؛ البدر الطالع للشوکانی، 2: 213)
    اس کو پڑھنے سے گھر میں سکینت اور برکت نازل ہوتی ہے۔ سیدنا براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سورۃ کہف پڑھی ان کے گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا۔جو بدکنے لگا تو انہوں نے سلام پھیرا (کیونکہ وہ نماز میں تلاوت کر رہے تھے) کیا دیکھتے ہیں کہ ابر ہے جو سارے گھر میں چھا گیا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں تو قرآن پڑھتا رہ یہ سکینت ہے۔ جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے اتری۔ (صحیح بخاری:3614) سورہ کہف جن واقعات پر مشتمل ہے وہ بہت ہی قابل اور عبرت و نصیحت والے ہیں۔ اللہ نے چار واقعات کے زریعے چار اہم اسباق دئیے ہیں۔
    1۔ دین میں فتنے سے محفظ رہنے کے لئے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ہے۔
    2۔ مال کے فتنے سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی حقیققت کو پہچانے کہ یہ دنیا بہت ہی معمولی اور حقیر شے ہے۔
    3۔ علم کے فتنے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی مخلوق کے ساتھ تواضع و انکساری اختیار کرے۔
    4۔ سلطنت کے فتنے سے بچنے کے لئے انسان یاد رکھے کہ دولت فانی ہے ایک دن ختم ہو جانی ہے۔ کبھی بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ملتی۔
    پہلے واقعہ میں غار والوں کا ذکر ہے یہ چند توحید پرست نوجوان تھے۔ جو ایک ظالم بادشاہ کے سامنے حق کا پرچم لئے ڈٹ گئے۔ ایک ظالم و جابر بادشاہ تھا جو اپنی قوم کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا
    چنانچہ چند نوجوان جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ اس بادشاہ کے خلاف کھڑے ہو کر حق کی آواز بلند کی۔ اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے اصحابِ کہف نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے کوشش کی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے اللہ کی پناہ طلب کی اللہ نے انہیں پناہ دی اور وہ غار میں 309 سال تک پڑے رہے۔ اور جب وہ بیدار ہوئے تو پورا ماحول بدل چکا تھا وہاں کے لوگ جو بت پرستی اور شرک میں مبتلا تھے توحید کے پرستار بن چکے تھے۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ جو کوئی اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کی لئے فرار ہوتا ہے تو اللہ اسے فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جو اللہ سے پناہ طلب کرتا ہے اللہ اسے پناہ دیتا ہے اور اسے دوسروں کے لئے ہدایت کا زریعہ بنا دیتا ہے۔
    سورہ کہف میں ایک واقعہ مال کے فتنے کے بارے میں ہے جس میں اللہ نے باغ والے کو بہت سی نعمتوں اور رزق کی فراوانی سے بخشا اس نے ناشکری کا اظہار کیا اسے ایک اللہ کا بندہ نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا کہ ماشاءاللہ اور لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا؟ لیکن اس نے مال و دولت پر غرور کیا تو اللہ نے اس کے باغات کو تباہ کر کے سامانِ عبرت بنا دیا۔
    تیسرا واقعہ علم کے فتنے کے بارے میں ہے اللہ نے اپنے نبی موسی کو اس فتنہ سے محفوظ رکھنا چاہاجب بنی اسرائیل نے ان سے پوچھا سب سے بڑا عالم کون ہے انہوں نے کہا میں ہوں ان کا جواب بر حق تھا اللہ نے انہیں تورات عطا فرمائی اللہ کی طرف سے انہیں نو واضح نشانیاں ملیں۔ اور وہ ظالم بادشاہ فرعون سے برسر پیکار تھا۔ جس نے رب ہونے کا دعوی کیا تھا لیکن ان سب کے باوجود اللہ نے ان کی سرزنش کی اور بتایا کہ ہمارا بندہ خضر ہے جو علم اس کے پاس ہے وہ تمہارے پاس نہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام اس عالم سے ملاقات کے لئے 80 سال چلتے رہے۔ لہذا علم کے فتنے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے لئے تواضع اور خاکساری اختیار کرے اور ہمیشہ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھے کہ تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔
    چوتھے واقعے میں اللہ کے نیک بندے ذوالقرنین کا ذکر ہے جسے اللہ نے مشرق سے لے کر مغرب تک حکمرانی اسباب اور وسائل دیئے۔ اور اس بندے نے زمین میں تکبر و فساد کی بجائے عاجزی اور اصلاح سے کام لیا۔ لوگوں کو ظالموں کے شر سے بچایا۔ لوگوں کو یاجوج ماجوج کے شر سے بچانے کے لئے ایک قلعہ بند تعمیر کیا اور یاجوج ماجوج وہاں قید ہوگئے اور قیامت تک رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ انہیں نکلنے کی اجازت دے دے۔
    اس سورۃ کے تمام واقعات پر غور و فکر کریں۔ اور عبرت و نصیجت حاصل کرنی چاہیے ۔ بالخصوص اس سورۃ کی جمعۃ المبارک کے دن تلاوت لازمی کیجئے۔ اور پہلی دس آیات لازمی حفظ کر لینی چاہیے۔ تاکہ فتنہ دجال جو سب سے بڑا فتنہ ہے اس سے محفوظ رہیں۔
    اللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم کی بہترین سمجھ اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • افغانستان کا پر امن مستقبل وقت کی اہم ضرورت۔  تحریر: محمد بلال

    افغانستان کا پر امن مستقبل وقت کی اہم ضرورت۔ تحریر: محمد بلال

    افغانستان کا پر امن مستقبل اب دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے جو اعلی انسانی اقدار سے لے کر علاقائی اور عالمی امن اور اقوام متحدہ کی ساکھ تک ہے۔ایک طرف چار دہائیوں سے لگاتار دو سپر پاورز کی مسلح مداخلت اور افغانستان میں خانہ جنگی کی وجہ سے ہونے والی تباہی افغانیوں کے اپنے گھروں کو واپس آنے اور امن سے رہنے کے منتظر ہے۔ دوسری طرف ، خطے میں ایسے ممالک ہیں جو اپنے پڑوس میں دیرینہ بدامنی کا شکار ہیں۔تیسری طرف پاکستان جیسا ملک ہے جو افغانستان کے حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ چوتھی طرف وہ طاقتیں ہیں جو افغانستان میں تشدد اور اس کے پڑوسیوں پر منفی اثرات دیکھتے ہیں ، جبکہ خطے کی حالت ایسی ہے کہ اس کا امن اب افغانستان میں آتش فشاں کے جلنے کے ہولناک اثرات برداشت نہیں کر سکتا۔یہ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کی جدید تاریخ میں افغانستان واحد ملک ہے جو تقریبا نصف دہائی سے جنگ کا شکار ہے۔ افغانستان میں جنگ روسی مداخلت سے شروع ہوئی۔ روس کے انخلاء کے بعد طالبان اور دیگر افغان مسلح گروہوں کے درمیان طاقت کی جنگ شروع ہو گئی۔ طالبان نے خانہ جنگی جیتی اور 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی۔11 ستمبر کا سانحہ طالبان حکومت کے دوران پیش آیا ، جس کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج نے افغانستان میں ایک نئی جنگ شروع کی۔ جنگ تقریبا دو دہائیوں کے بعد طالبان اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی ہے۔اس معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہوا اور اب افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا تقریبا مکمل ہو چکا ہے۔
    طالبان ملكی دارالحکومت کابل سمیت اب تک 34 میں سے 25 صوبائی دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

    طالبان حکومت کے سابقہ ​​تجربے کی بنیاد پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ طالبان حکومت کے تحت شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔اگرچہ ، طالبان ترجمان ان تمام امکانات کو مسترد کر رہے ہیں اور اس بات کی یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ ان کی حکمرانی کے دوران خواتین کی تعلیم سمیت کوئی انسانی اور شہری حقوق نہیں چھینے جائیں گے ، لیکن دنیا اس حوالے سے ماضی کی تلخ یادوں کو مٹانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
    لیکن اس بار اگر طالبان اقتدار میں آتے ہیں تو یہ بہت ممکن ہے کہ ان کا طرز حکمرانی ماضی سے تھوڑا مختلف ہو۔ اس کے علاوہ ، افغان طالبان ، یقینا ، اب سیاسی قوتیں ہیں ، ان کا طرز حکمرانی ماضی سے مختلف ہونے کا امکان ہے ، گزشتہ دو دہائیوں کی جنگ ، بین الاقوامی رسائی اور بین الاقوامی تنقید کے پیش نظر۔
    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغانستان میں مقامی مسلح گروہ جیسے ذوالفقار امید گروپ ، عبدالغنی علی پور گروپ وغیرہ اور اس طرح کے درجنوں دیگر مسلح گروہ طالبان کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں۔ افغانستان کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اس لیے اس کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
    اور صحیح کام یہ ہے کہ طالبان سمیت تمام فریق ایک نیا افغان آئین لے کر آئیں۔یہ یقینی طور پر دونوں فریقوں کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا ، کیونکہ اس طرح کا معاہدہ لامحالہ دونوں فریقوں کے لیے نقصان کا باعث بنے گا ، لیکن اس کی قیمت ویسے بھی ایک نئی جنگ سے کم ہوگی۔ اگر فریقین اس طرح کے معاہدے سے اتفاق نہیں کرتے تو پھر 1990 کی طرح طاقت افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ اور آخر میں ، یہ نوٹ کیا جانا چاہیے کہ ، وقت یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ افغان تنازعہ بغیر کسی تاخیر کے حل کیا جائے۔ بصورت دیگر صورتحال مزید خراب ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • مشہوری، مینارپاکستان، بیہودہ لباس!!!!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    مشہوری، مینارپاکستان، بیہودہ لباس!!!! تحریر عقیل احمد راجپوت

    14 اگست کا دن تھا لوگ پاکستان کا جشن آزادی دھوم دھام سے منا رہے تھے کراچی میں لوگ مزار قائد اور لاہور میں مینار پاکستان کا رخ کرتے ہیں ویسے میں ذاتی طور پر اس چیز کے حق میں نہیں ہوں بہرحال مینار پاکستان لاہور میں ایک لڑکی اپنے کچھ جاننے والوں کے ہمراہ جشن آزادی کی خوشیاں منانے پہنچی کہا جارہا ہے کہ وہ خاتون کسی سوشل میڈیا ایپ کے لئے ویڈیوز بنانے کے لئے وہاں آئی تھی

    پھر ہوا یہ کہ وہ لڑکی انسان نما درندوں کو گوشت کا لوتھڑا نظر آنا شروع ہوئی بقول کچھ لوگوں کے وہ ایسا لباس زیب تن کئے ہوئی تھی جو نا مناسب تھا ان کے لئے عرض ہے نامناسب لباس پر تنقید کرنے والوں نے وہ لباس دیکھا کیسے کیوں کہ مسلمان کے لئے تو نگاہوں کو نیچے کر کے چلنے کا حکم ہے خیر نامناسب لباس پر تنقید کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ لباس نامناسب تھا تو اس کو اتار کر خاتون کے جسم کی رونمائی کرنا جائز کیسے ہوگیا؟

    پوری دنیا سے جمع ہونے والے ریپ اور زیادتی کے واقعات میں امریکہ 84767 واقعات کے ساتھ پہلے ساؤتھ افریقہ 66196 کیس کے ساتھ دوسرے اور ہندوستان 22172 کیس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے اب یہ کیس آفیشل طور پر انہی حکومتوں نے جاری کئے ہیں تو جو لوگ مینار پاکستان پر ہونے والے واقعات کو بیان کرنے والوں کو بیرونی سازشوں کا حصہ اور اپنے ملک کو بدنام کرنے کی کوششیں کرنے والا بنا کر محب وطن بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ان کو بتاتا چلوں غلط کو غلط نا بولنے والے ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتے پوری دنیا میں رونما ہونے والے اس طرح کے واقعات پر آواز اٹھانے والی قوموں کو دنیا تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھتی ہیں کہ وہ ایسی قوم تھی ایک واقع ہوا تھا پوری قوم ملکر سڑکوں پر نکل آئی اور ایسے قانون نافذ کروائے کہ اب لوگ جرم اور ایسی حرکتیں کرنے سے پہلے ایک ہزار بار سوچتے ہیں

    خیر ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے مگر ایک عورت پر وہشیوں کی طرح ٹوٹنے والوں کا دفاع کرنے والے معزرت کے ساتھ ایک بار صرف ایک بار یہ سوچئے کہ اگر وہ خاتون آپکی بہن بیٹی یا بیوی ہوتی تو کیا تب بھی آپکا ردعمل ایسا ہی ہوتا جیسا کہ اب ہے کہنے والے کہہ رہے ہیں کے کچھ دیر پہلے کی ویڈیو دیکھیں خود لوگوں کو جمع کیا جارہا ہے تو ان کی اطلاع کے لیے بتاتا چلوں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت سے چند منٹ پہلے کی ویڈیو دیکھیں جہاں محترمہ گاڑی میں عوام کے نعروں کا جواب دے رہی ہے اور چند ہی منٹوں میں فائرنگ اور دھماکے نے پاکستان کی سیاست کا رخ ہی پلٹ کر رکھ دیا اگر محترمہ کو چند منٹ بعد ہونے والے واقعات کا علم ہوتا تو وہ آج ہمارے درمیان موجود ہوتیں یہ بات صرف اپکو چند منٹ پہلے اور بعد میں کیا ہوسکتا ہے کے ریفرنس کے طور پر پیش کی ہے

    تو چند منٹ بعد کیا ہونا تھا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو دنیا میں حادثات اور ناگہانی واقعات رونما ہونا ہی بند ہو جائے گے وہ لڑکی کیا جانتی ہوگی کہ اب سے کچھ منٹ بعد کیا ہوگا اگر جانتی تو سینکڑوں کے بیچ میں ننگا ہونے سے مشہور ہونے والی سوشل میڈیا ایپ پر گھر پر ننگا ہوکر بھی تو مشہور ہوسکتی تھی سوچئے گا ؟