Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • منفرد اور معنی خیز کام کرنے کا ثابت شدہ راستہ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    منفرد اور معنی خیز کام کرنے کا ثابت شدہ راستہ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    جون 2004 میں ، آرنو رافیل منککنن نے نیو انگلینڈ اسکول آف فوٹوگرافی میں مائیکروفون کی طرف قدم بڑھایا تاکہ تقریر شروع کی جا سکے۔ جیسا کہ اس نے فارغ التحصیل طلباء کی طرف دیکھا ، منککنن نے ایک سادہ نظریہ شیئر کیا جو کہ اس کے اندازے کے مطابق کامیابی اور ناکامی کے درمیان تمام فرق پیدا کرتا ہے۔ اس نے اسے ہیلسنکی بس اسٹیشن تھیوری کہا۔ منککنین ہیلسنکی ، فن لینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ شہر کے وسط میں ایک بڑا بس اسٹیشن تھا اور اس نے اپنی تقریر کا آغاز طالب علموں کو بیان کرتے ہوئے کیا۔ منککنین نے کہا ، "شہر کے مرکز میں ایک چوک میں کچھ دو درجن پلیٹ فارم رکھے گئے ہیں۔” "ہر پلیٹ فارم کے سر پر ایک نشانی ہے جو بسوں کے نمبر پوسٹ کرتی ہے جو اس مخصوص پلیٹ فارم سے روانہ ہوتی ہیں۔ بس کے نمبر مندرجہ ذیل پڑھ سکتے ہیں: 21 ، 71 ، 58 ، 33 ، اور 19۔ ہر بس کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ہی راستہ شہر سے باہر نکلتی ہے ، راستے میں بس سٹاپ کے وقفوں پر رکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، "اب ہم ایک بار پھر استعاراتی طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہر بس اسٹاپ فوٹو گرافر کی زندگی میں ایک سال کی نمائندگی کرتا ہے۔ مطلب تیسرا بس اسٹاپ تین سال کی فوٹو گرافی کی سرگرمی کی نمائندگی کرے گا۔ ٹھیک ہے ، تو آپ تین سال سے عریاں کے پلاٹینم اسٹڈیز بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اسے بس نمبر 21 کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "اس بار ، آپ چیری چننے والی کرین سے ساحل سمندر پر پڑے لوگوں کے 8 × 10 ویو کیمرہ کلر سنیپ شاٹس بنانے جا رہے ہیں۔ آپ اس پر تین سال اور تین بڑے خرچ کرتے ہیں اور کاموں کی ایک سیریز تیار کرتے ہیں جو ایک ہی تبصرہ کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا آپ نے رچرڈ مسراچ کا کام نہیں دیکھا؟ یا ، اگر وہ سیاہ اور سفید 8×10 کھجور کے درخت ہیں جو ساحل سمندر کے کنارے سے گزر رہے ہیں ، کیا آپ نے سیلی مان کا کام نہیں دیکھا؟ "تو ایک بار پھر ، آپ بس سے اتریں ، ٹیکسی پکڑیں ​​، دوڑ لگائیں اور نیا پلیٹ فارم تلاش کریں۔ یہ آپ کی تمام تخلیقی زندگی پر چلتا ہے ، ہمیشہ نیا کام دکھاتا ہے ، ہمیشہ دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ علیحدگی ہے جو تمام فرق بناتی ہے ، "منکنکن نے کہا۔ "اور ایک بار جب آپ اپنے کام میں اس فرق کو دیکھنا شروع کردیتے ہیں جس کی آپ بہت تعریف کرتے ہیں – اسی وجہ سے آپ نے اس پلیٹ فارم کا انتخاب کیا – اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی پیش رفت تلاش کریں۔ اچانک آپ کے کام پر توجہ دینا شروع ہو جاتی ہے۔ اب آپ اپنے طور پر زیادہ کام کر رہے ہیں ، اپنے کام اور اس سے کس چیز نے متاثر کیا ہے اس میں زیادہ فرق کر رہے ہیں۔ آپ کا وژن دور ہو جاتا ہے۔ اور جیسے جیسے سال بڑھتے جاتے ہیں اور آپ کا کام ڈھیر ہونا شروع ہوتا ہے ، ناقدین کے بہت زیادہ دلچسپی اختیار کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ، نہ صرف اس چیز سے جو آپ کے کام کو سیلی مان یا رالف گبسن سے الگ کرتا ہے ، بلکہ جب آپ نے کیا پہلے شروع کیا! ” "آپ حقیقت میں پورے بس کا راستہ دوبارہ حاصل کرتے ہیں۔ بیس سال پہلے بنائے گئے ونٹیج پرنٹس کا اچانک ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے اور ، اس کی قیمت کے لیے ، ایک پریمیم پر فروخت شروع کرتے ہیں ۔ لائن کے اختتام پر – جہاں بس آرام کے لیے آتی ہے اور ڈرائیور دھواں نکالنے کے لیے نکل سکتا ہے یا پھر بھی کافی کا ایک کپ – جب کام ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کے کیریئر کا اختتام یا اس معاملے کے لیے آپ کی زندگی کا اختتام ہوسکتا ہے ، لیکن آپ کی کل پیداوار اب آپ کے سامنے ہے ، ابتدائی (نام نہاد) تقلید ، کامیابیاں ، چوٹیاں اور وادیاں ، آپ کے منفرد وژن کی مہر کے ساتھ شاہکاروں کو بند کرنا۔ کالج کے اوسط طلباء ایک بار آئیڈیاز سیکھتے ہیں۔ کالج کے بہترین طلباء خیالات کو بار بار سیکھتے ہیں۔ اوسط ملازمین ایک بار ای میل لکھتے ہیں۔ ایلیٹ ناول نگار ابواب کو دوبارہ لکھتے ہیں۔ اوسط فٹنس کے شوقین ذہن کے بغیر ہر ہفتے ورزش کے ایک ہی معمول پر عمل کرتے ہیں۔ بہترین کھلاڑی فعال طور پر ہر تکرار پر تنقید کرتے ہیں اور اپنی تکنیک کو مسلسل بہتر بناتے ہیں۔ یہ نظر ثانی ہے جو سب سے اہم ہے۔ بس کا استعارہ جاری رکھنے کے لیے ، فوٹوگرافر جو کچھ سٹاپ کے بعد بس سے اترتے ہیں اور پھر ایک نئی بس لائن پر سوار ہوتے ہیں وہ اب بھی سارا وقت کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے دس ہزار گھنٹے دے رہے ہیں۔ وہ جو نہیں کر رہے ہیں ، تاہم ، دوبارہ کام کرنا ہے۔ وہ ایک ایسا راستہ ڈھونڈنے کی امید میں لائن سے لائن میں کودنے میں مصروف ہیں جس سے پہلے کسی نے سواری نہیں کی تھی کہ وہ اپنے پرانے خیالات کو دوبارہ کام کرنے کے لیے وقت نہیں لگاتے۔ اور یہ ، جیسا کہ ہیلسنکی بس اسٹیشن تھیوری واضح کرتا ہے ، کچھ منفرد اور شاندار بنانے کی کلید ہے۔ بس میں رہ کر ، آپ اپنے آپ کو دوبارہ کام کرنے اور نظر ثانی کرنے کا وقت دیتے ہیں جب تک کہ آپ کوئی انوکھی ، متاثر کن اور عظیم چیز پیدا نہ کریں۔ یہ صرف بورڈ پر رہ کر ہی مہارت خود کو ظاہر کرتا ہے۔ اوسط خیالات کو راستے سے ہٹانے کے لئے کافی وقت دکھائیں اور ہر وقت اور پھر باصلاحیت خود کو ظاہر کرے گا۔ ہم سب کسی نہ کسی صلاحیت میں تخلیق کار ہیں۔ مینیجر جو ایک نئے اقدام کے لیے لڑتا ہے۔ اکاؤنٹنٹ جو ٹیکس ریٹرن کے انتظام کے لیے تیز تر عمل بناتا ہے۔ وہ نرس جو اپنے مریضوں کے انتظام کا بہتر طریقہ سوچتی ہے۔ اور ، یقینا ، مصنف ، ڈیزائنر ، پینٹر ، اور موسیقار اپنے کام کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ وہ سب اپنے کام کے خالق ہیں۔ کوئی بھی تخلیق کار جو معاشرے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اکثر ، ہم ان ناکامیوں کا جواب ٹیکسی کو بلا کر اور دوسری بس لائن پر سوار ہو کر دیتے ہیں۔ شاید وہاں سواری ہموار ہوگی۔ اس کے بجائے ، ہمیں بس میں رہنا چاہیے اور اپنے نظریات پر نظر ثانی ، دوبارہ غور اور نظر ثانی کی سخت محنت کا عہد کرنا چاہیے ۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • حالات حاضرہ اور ڈاکٹر ساجد رحیم صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین۔

    حالات حاضرہ اور ڈاکٹر ساجد رحیم صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین۔

    خبر: وزیراعظم کا تین سالہ حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ۔

    تبصرہ: جناب وزیراعظم! عام عوام کیا جانے کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ کیا ہوتا ہے؟
    بھولے لوگوں کا کیا معلوم ٹریڈ ڈیفیسٹ کا؟
    فارن ریزرو کس جن کا نام ہے ان کی بلا سے۔
    عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ روز مرہ استعمال کی اشیاء جیسے گھی، چینی، آٹا، گیس، بجلی اور راشن میں موجود دیگر اشیا کی قیمتوں میں کب "منفی تبدیلی” آئے گی؟

    خبر: نوجوانوں کی ذین سازی کرنی چاہیئے۔ مریم صفدر
    تبصرہ: کسی بھی شخص میں جو کہ جھوٹ بولتا ہو، جعل ساز ہو، عدالتوں میں مجرم ثابت ہو چکا ہو اور ضمانتوں پہ گھوم رہا ہو، اسے یہ بات کرتے وقت بہت ہمت کی ضرورت ہے۔ اس سے ظاہر ہوا مریم بی بی بہت ہمت والی ہیں۔

    خبر: افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ افغان طالبان
    تبصرہ: حضور، عالی جناب، محترم، عزیزم! بس آپ اپنے لوگوں کو سنبھال کے رکھیں باقی پاکستان دیکھ لے گا۔ ذہن میں رہے ہم آپ کی ایک شاخ کے خلاف پہلے ہی رد الفساد کر چکے ہیں، ہمیں وہ دہرانے کا موقع نہ دیجئے گا بس۔

    خبر: اشرف غنی افغانستان سے جاتے ہوئے پیسوں سے بھرے بیگ بھی ساتھ لے گیا۔ افغان و بین الاقوامی میڈیا
    تبصرہ: اس خبر سے یاد آیا کہ پاکستان سے ایک حکمران 1999 میں جدہ بھاگا تھا تو اس کے سامان میں کئی بیگ ایسے تھے جن میں مبینہ طور پاکستانی عوام کے خون پسینے کی رقم تھی جو ٹیکس یا پھر کک بیکس کی مد میں جوڑی گئی تھی، اور چند سال پہلے سندھ میں ایک خاتوں جس کا سندھ کی ایک سیاسی جماعت سے "قریبی تعلق” تھا، ائیر پورٹ سے ڈالروں سے بھرے بیگ کے ساتھ دھر لی گئی تھی۔ کہانی ملتی جلتی ہے ان حکمرانوں کی۔

    خبر: لاہور واقعہ پاکستان کے "سارے مردوں” کی ذہنیت کا عکاس ہے۔ مشہور ٹی وی اینکر
    تبصرہ: لاہور میں ہونے والا واقعہ یقیناً بہت برا تھا، اس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا ہمیں سکے کا ایک رخ دیکھ کے اپنا فیصلہ سنا دینا چاہیئے؟
    چکیں اس کا پس منظر دیکھتے ہیں۔
    یوم آزادی سے چبد دن پہلے موصوفہ ٹک ٹاک "سٹار” اپنے "چاہنے والوں” کو بتاتی ہیں کہ مینار پاکستان میں ملاقات ہوگی۔ یاد رہے لاہور کے اس علاقے میں آوارہ گرد اور گھروں سے بھاگے ہوئے نوجوان عموماً اکثریت میں پائے جاتے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی سب لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ موصوفہ اپنے چند "دوستوں” کے ساتھ وہاں پہنچتی ہیں۔ اتنی زیادہ تعداد دیکھ کے ان کے ساتھ تصویریں بنوائی جاتی ہیں اور ایک دوسرے کو اشارے کئے جاتے ہیں۔ من چلی عوام خاتون کی طرف سے "رسپانس” ملتے ہیں اس کے پاس لپک پڑتے ہیں اور پھر اگلے مناظر ان بیان ایبل ہیں۔ اکیلی لڑکی اتنے سارے "فالورز” میں پھنس کے رہ جاتی ہے اور جس کا جہاں ہاتھ لگا اس نے حسب توفیق اس لڑکی کے جسم پہ اپنے درندہ صفت ہاتھ صاف کئے۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل ذمہ دار کون ہے؟
    وہ لڑکے جو موصوفہ کی دوعت پہ وہاں موجود تھے؟
    وہ ٹک ٹاک پہ رقص دکھا دکھا کے مشہور ہونے لڑکی جو چست لباس پہن کے وہاں آ دھمکی اور یہ سمجھتی رہی کہ میں سٹار بن چکی ہوں اور مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا؟
    یا ان دونوں جماعتوں کے والدین جنہوں نے اپنے بیٹوں کو یہ نہیں سکھایا کہ دوسرے گھر کی عورتیں بھی کسی کی ماں بہن بیٹیاں ہوتی ہیں، جا جنہوں نے اپنی بچیوں کو یہ نہیں سمجھایا کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں پہ مادر پدر آزادی نہیں ہے۔ خود کو ایسے بازار میں پیش کیا جائے گا تو یہاں ہوس کے پجاری آپ کے جسم کا ایک ایک حصہ نوچ کھائیں گے؟
    یا بطور معاشرہ ہم اخلاقیات میں اتنے گر چکے ہیں کہ ہمیں اب اچھائی اور برائی میں کوئی فرق بھی نظر نہیں آتا۔
    فیصلہ میں پاکستان کے غیور عوام پہ چھوڑتا ہوں۔

    اب ڈاکٹر ساجد رحیم صاحب کی غزل:

    ‏تو کیا چپ چاپ اجڑنا چاہیئے تھا
    ہمیں قسمت سے لڑنا چاہیئے تھا

    پرندے اس طرح رکتے نہ رکتے
    شجر کو پاؤں پڑنا چاہیئے تھا

    مجھے کچھ دیر ہونی چاہیئے تھی
    تمہیں مجھ سے جھگڑنا چاہیئے تھا

    ‏فلک روتا گلے لگ کر زمیں کے
    ہمیں ایسے بچھڑنا چاہیئے تھا

    یہ شجرے سے بغاوت ہے شجر کی
    اسے پت جھڑ میں جھڑنا چاہیئے تھا

    چھڑا کر ہاتھ جاتے بے وفا کا
    گریباں تو پکڑنا چاہیئے تھا

    ہمیں کب راس ہے خوش باش رہنا
    کہانی کو بگڑنا چاہیئے تھا

    اور آخر میں ایک مختصر نظم:

    ‏▪︎ عشق ▪︎
    درد سہنے والوں کا
    درد دینے والوں سے
    جو اٹوٹ بندھن ہے
    اس کو عشق کہتے ہیں

    @Being_Faani

  • پیار، محبت اور عشق میں فرق  تحریر محمد احسان ارشد

    پیار، محبت اور عشق میں فرق تحریر محمد احسان ارشد

    عنوان سے پتہ لگ گیا ہو گا آج کس پر تحریر لکھنے والا ہوں آج کے موضوع سے کچھ اپنے حقائق بیان کروں گا کہ پیار، عشق اور محبت کیا ہیں؟ کیا یہ ایک ہی احساس کا نام ہے؟
    آج لوگ ایک دوسرے کو پسند کرنے کو پیار عشق اور محبت کا نام دے دیتے ہیں جو کے مکمل طور پر بے بنیاد ہے اگر ان کے حقائق پر جائے تو بہت کچھ پتہ چلتا ہے جیسے
    پیار        مطلب       حاصل شدہ
    محبت    مطلب       رشتوں کا جوڑنا یا جوڑ دینا
    عشق      مطلب      لاحاصل
    1- پیار
    لفظ پیار اصل میں دانائی کے مطابق پیار کا مطلب حاصل شدہ مواد ہے جیسے کوئی چیز یا انسان کو پانے کی حد تک جدوجہد کرنا اس میں مخلص رہنا وہ سب کرنا جس سے اس کو پانے کی آرزو زیادہ ہو. لیکن حاصل ہونے والا  مواد یا انسان اس کے بعد اس رشتہ میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. اور یہ ایک عام بات ہے کیونکہ آپ نے وہ چیز پانےکی حد تک کا سفر کرنا تھا سفر بعد کا نہیں. اس پیار کو محبت کہنا غلط ہو گا
    2- محبت
    محبت ایک لفظ ہے اور جب آپ اس لفظ کا ستعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپکی اس لفظ سے آشنائی ہے. اگر یہ کہا جائے کہ بینائی کیا ہے؟ تو پھر اسکا جواب یہ ہے بینائی دیکھنے والی چیز ہے. اسی طرح محبت جو ہے وہ محبت ہے اگر آپ محبت کی تعلیم دے رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ محبت کی کوئی تعریف نہیں ہو سکتی. پہلی بات جو انسان محبت سے آشنا نہ ہو وہ سمجھنے سے قاصر ہے اور جو آشنا ہے اسے محبت کی سمجھ ہی نہیں آئے گی کیونکہ محبت کو آپ ماپ نہیں سکتے اور اس کی کوئی تعریف نہیں.
    جو محبت کی تعریف اور اس احساس کو جانتا ہے وہ محبوب سے دور ہے. بہر حال محبت میں ایک چاہنے والا اور ایک چاہا والا ہوتا ہے ان دونوں چاہنے والے اور چاہے جانے والے کے درمیان رشتہ کو ” محبت” کہتے ہیں. محبت میں دو انسان کا ہونا لازمی ہے ایک ” محب” اور دوسرا "محبوب” تب اس تعلق کا نام محبت بنتا ہے. مزید اگر محبت کو اپنی دانائی سے بیان کرو تو محبت کا مطلب جوڑنا یا جوڑ دینا بھی ہے محبوب اور محب کا ملنا ہی محبت نہیں بلکہ اس رشتہ کو اسی احساس سے لے کر چلنا اور اسی احساس میں محبت کے دائرے کو وسیع کرنا رستوں کے بندھن کو جوڑئے رکھنا اگر محبت کہا جائے تو غلط نہیں
    3- عشق
    کسی نے کسی سے دل لگی کی تو اس کو پیار عشق محبت کا نام دے دیا جاتا ہے. اصل میں عشق کے معانی ہی” لاحاصل” کے ہیں.
    لاحاصل مطلب کسی ایک انسان کی قربت اس کے احساس اس کے جنون اسکی محبت اسکی تمنا میں اپنے آپ کو فنا کر دینا زندہ رہنا باعث اس کے لیے دنیا کی دنیاداری سے الگ رہنا. عشق میں آپ کی زندگی ایک انسان کی قربت میں گرز جاتی ہے جسکا آپ کو ہر ایک اچھا پن یا برا پن ہونے کا احساس ختم ہو جائے وہ عشق ہے. اس کرہ ارض پہ ایک انسان آپ کی دنیا بن کے راہ جاتا ہے دنیا کے لیے چاہیے وہ فنا ہو چکا ہو آپ کے لیے آپ کے عشق نے اسے آب حیات جیسے پلایا ہو. جیسے عشق کی مثال دی جائے تو دیکھو ان فقیروں کو درویشوں کو ملنگوں کو بابا بلھے شاہ  ہیر رانجھا یا پھر لیلیٰ مجنوں کو. ان میں کسی نے انسانوں میں اپنا اپ فنا کیا اور کسی نےرب سے لو لگا کے فنا ہوئے لیکن اس عشق کی دوڑ میں کامیابی وہی پایا جس نے عشق اس پاک ذات سے کیا.
    سوال یہ ہے کیا پیار عشق محبت کرنا جائز ہے؟ تو جواب ہے اس میں گناہ نہیں شرط اگر من پاک ہے اگر محبت گناہ ہوتی تو نا کرتا میرا سوہنا رب اپنے محبوب سے اور نا بنتی اس کے عشق میں یہ کل کائنات.
    عشق اندھا ہے  محبت پاک ہے   پیار منزل ہے ارمان ہے
    اپنے مراسلے کے اختتام پر ایک پنجابی شعر لکھو گا

    لیلیٰ نے کیتا سوال میاں مجنوں نوں
    تیری لیلیٰ تے رنگ دی کالی اے
    دتا جواب میاں مجنوں نے
    تیری اکھ نہ ویکھن والی اے
    قرآن پاک دے ورق چٹے
    اتے لکھی سیاہی کالی اے
    چھڈ وے بلھیا، دل دے چھڈیا
    تے، کی کالی، کی گوری اے

    Twitter @OfficalihsanMg  

  • قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    برادرانِ اسلام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام بالکل محفوظ ، تمام تحریفات سے پاک ، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللّٰه کے رسولِ برحق پر اترا تھا ، اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدوحساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔ قرآن ان کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں ، اور اس کو لے کر اللّٰه تعالیٰ کی زمین پر اللّٰه کے قانون کی حکومت قائم کر دیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا ۔ وہ انھیں زمین پر اللّٰه کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ، مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گول کر پئیں اور ثواب کے لیے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
    اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ اللّٰه کے بندوں کے اورخوداپنےنفس کے حقوق پر ہم کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اطاعت میں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں خود اپنےاور انھی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو آج ہندستان میں چین اور جاوا میں فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمھیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ، ذلیل و بے حقیقت چیز میں مانگتے ہو تو ہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا ۔ یہ تمھارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو ، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
    حضرات ! جو تم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللّٰہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکه انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں ، بلکہ اس کو پاگل قرار دیں ۔ بتایئے ! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے ، یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بےنظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہورہا ہے اورکسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نخسہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں ، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے ۔

    @muhammadmoawaz_

  • عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    عورت کارڈ آخر کب تک تحریر: سیف الرحمان

    ’وجودِ زن سے تصویر کائنات میں رنگ‘
    کسی بھی معاشرے کے بنانے اور بگاڑنے میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہوا کرتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی خاتون معاشرے کی ترقی کا ستون ہوا کرتی ہے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت مرد کی نسبت عورت کی ذمہ ذیادہ ہوتی ہے۔ ویسے تو عورت اور مرد دونوں کا پڑھا لکھا ہونا معاشرے کیلئے اہم ہے لیکن خواتین کی تعلیم کو فوقیت نا دینا آنے والی نسل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
    گزشتہ چند سالوں سے الٹی گنگا بہنا شروع ہو رہی ہے۔ ہمارے معاشرے کی کچھ خواتین جہاں باقی خواتین کیلئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں وہاں وہ سوسائیٹی کے مردوں کیلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بات قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ لیکن چند لبرل خواتین عورت کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے نا صرف مردوں کو نہچا دیکھانے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں وہ ملک کیلئے بھی بدنامی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
    خواتین کے ساتھ ذیادتی کو بحثیت قوم ہم سب کو مل کر ختم کرنا ہو گا لیکن چند مردوں کی جہالت کو ساری قوم کی سوچ بنا کر پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ انسانی حقوق کی ساری تنظیمیں صرف سلیکٹٹڈ عورتوں کیلئے ہی آواز کیوں اٹھاتی نظر آتی ہیں؟
    ہم سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق ایسے لوگوں کی آواز بن جاتے ہیں جن کو یا تو مشہوری چاہئے ہوتی ہے یا پھر انکا مقصد ملک کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ عورت کی ہلکی سی چیخ مرد کی ہنستی بستی زندگیاجار سکتی ہے۔ لیکن مرد کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ ہمیشہ مرد کو ہی قصوروار کیوں سمجھا جاتا ہے؟
    پاکستانی معاشرے میں خواتین کا ایک مقام ہے۔ یہی عزت و احترام کی روایات ہمیں باقی معاشروں سے جدا کرتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ہمارا قانون عین اسلامی ہے۔ اسی لئے ہمارا آئین اور قانون بھی عورت کو پروٹکشن دیتا نظر آتا ہے۔
    خدا راہ ایک مرد کو لے کر سارے ملک کے مردوں کو بدنام مت کیا کریں۔ ایک عورت کیساتھ ظلم کو لے کر سارے ملک کی خواتین کو مظلموم بنا کر مت پیش کیا کریں۔ ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ لبرل لوگوں کی باتوں میں آ کر کسی ایک کیس کو انساتی حقوق کا مسئلہ بنا کر نہیں پیش کرنا چاہئے۔
    اپنی بیٹیوں/بہنوں کو ٹک ٹاک سٹار کی بجائے دینی اور دنیاوی تعلیم کا دیں ۔ انکی بچپن سے ہی اخلاقی تربیت سیکھائی جائے۔ اپنی تہذیب و ثقافت سے آشنا کیا جائے۔ جب ایسی تربیت والی بیٹی/بہن معاشرے میں آئے گی تو اسے عورت کارڈ کا سہارہ نہیں لینا پڑے گا۔
    عورت کو سماج میں ہر طرح کی آزادی ملنی چاہیے مگر وہ آزادی ایسی نہ ہو کہ جس سے اپنی تہذیب اور اخلاق میں گراوٹ آجائے۔ مغربی تہذیب کے زیرِ اثر عورت معاشرے میں جو مقام تلاش کررہی ہے وہ مشرقی تہذیب کے منافی ہے۔ اور اس سے صرف بربادی وجود میں آتی ہے۔
    قرآن کا ارشاد ہے ’’وہ (عورت) تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ قرآن کی یہ آیت سمندر کو کوزے میں بند کرتی ہے- اس کا تجزیہ کرنے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ عورت کی عفت و پاکبازی اور مرد کی پاکیزگی اور پاک دامنی ایک دوسرے پر منحصر ہے- علاوہ ازیں مرد و زن معاشرتی اور تمدنی زندگی کے اغراض و مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے محتاج ہیں-
    لہذا عورت کارڈ کھیل کر مردوں کو بدنام کرنے کا طریقہ واردات بند کیا جانا چاہئے۔ اگر کسی عورت کیساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرے اگر وہاں سے انصاف نا ملے تو پھر سوشل میڈیا پلیٹ فام استعمال کرے۔

    @saif__says

  • سچ کی طاقت تحریر : عدنان یوسفزئی

    سچ کی طاقت تحریر : عدنان یوسفزئی

    ایک  مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ جس شخص کے بارے میں دعا کردیتے تھے کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو، تین راتوں کے اندر اندر اس کو زیارت نصیب ہوجاتی تھی۔

    ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: حضرت! یہ مقام کیسے ملا؟ حضرت نے فرمایا کہ جس زبان سے جھوٹ نکلنا بند ہوجاتا ہے، اللہ تعالی اس زبان سے نکلی ہوئی ہر دعا کو پورا کردیتے ہیں۔

    انسان کے ہر قول اور عمل کی درستی کی بنیاد اس کے دل و زبان کی یکسانیت ہے۔ دل اور زبان کی باہمی مطابقت اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونے کا نام صدق یا سچائی ہے۔

    سچے انسان کے لیے نیکی کے حصول کا راستہ آسان ہوتاہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "سچائی نیکی کی راہ بتاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے”۔ سچائی کی عادت بہت سی برائیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ سچا انسان برائی سے پاک ہونے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اس کی دلیل کتب سیر میں مذکور یہ واقعہ ہے:

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں۔ بدکار ہوں، چوری کرتا ہوں، شراب پیتا ہوں، جھوٹ بولتا ہوں۔ ان میں سے ایک کو آپ کی خاطر چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ ارشاد فرمایا: جھوٹ نہ بولا کرو۔

    اس شخص نے جھوٹ نہ بولنے کا عہد کیا۔ جب رات ہوئی تو شراب نوشی کو جی چاہا، بدکاری کے لیے آمادہ ہوا تو اس کو خیال گزرا کہ صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پوچھیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی؟

    تو کیا جواب دوں گا؟ اگر ہاں کہوں گا تو شراب اور زنا کی سزا دی جائی گی اور نہیں کہنے کی صورت میں عہد کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ سوچ کر دونوں سے باز رہا۔ جب اندھیرا خوب چھا گیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا لیکن پھر پوچھ گچھ کے خیال سے ارادہ ترک کیا۔ صبح کو خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! جھوٹ نہ بولنے سے میری چاروں بڑی خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔

    سچ یا جھوٹ کی نوبت ہی اس وقت آتی ہے جب معاملہ پھنستا ہوا نظر آتا ہے، اور عموماً اس کے پیچھے کوئی ڈر اور کوئی خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔ کہیں مال کے ضا‏ئع ہونے کا ڈر، کہیں جان جانے کا ڈر، کہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا ڈر تو کہیں نوکری چلی جانے کا ڈر، اور ڈر کا یہ سلسلہ زلف جاناں کی طرح دراز ہے یہاں تک کہ کہیں والدین کا ڈر، کہیں بچوں کا ڈر، کہیں استاذ کا ڈر تو کہیں طلبہ کا ڈر، کہیں بیوی کا ڈر تو کہیں شوہر کا ڈر، کہیں ذمہ داروں کا ڈر تو کہیں کسی اور کا ڈر۔ اوریہ ڈر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے جانے یا انجانے میں کوئی ایسا عمل سرزد ہوجاتا ہے جس کا اظہار معیوب ہو، یا اس کی وجہ سے کسی پریشانی کا اندیشہ لاحق ہو۔ اور اس پریشانی سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تراشتا ہو۔

    کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لینا چاہتا ہو۔ ایسا کرنے پر وقتی طور پرتو وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے مگر جھوٹ تو جھوٹ ہے اس کا پردہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ضرور فاش ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے۔

    جھوٹ ایک فریب ہے، جھوٹ ایک دھوکہ ہے، جھوٹ ایک بیماری ہے، جھوٹ ایک نہایت ہی بری خصلت ہے۔ جھوٹ سے اعتماد کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جھوٹ سے آپسی تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں، جھوٹ سے انسان اخلاقی معیار سے نیچے گر جاتا ہے۔ جبکہ سچ ایک طاقت ہے، ایک اعلی ترین خصلت ہے۔ سچ سے انسان کو بلندی ملتی ہے۔ سچ انسان کو مضبوط بنادیتا ہے۔ سچ سے آپسی اعتماد بحال ہوتا ہے اس لیے جب انسان سچ کو اپناتا ہے تو فطری طور پر اس کے دل سے اللہ کے سوا تمام لوگوں کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے مجھے اس کے سامنے بھی جواب دینا ہے۔ ممکن ہے اس دنیا میں جھوٹ بول کر نکل جاؤں مگر کل قیامت کے میدان میں جب اللہ کے سامنے میری پیشی ہوگی تو کیا جواب دوں گا؟ نتیجتاً ایسا انسان برائيوں سے بچ جاتا ہے یا کوئی ایسی حرکت کرنے سے گریز کرتا ہے جس کے کرنے سے بعد میں ندامت ہو۔

    سچا انسان دل کا صاف ہوگا، ریاکاری اور منافقت سے دور ہوگا، خوشامدی سے اپنے آپ کو بچا کہ رکھے گا، دل و زبان میں یکسانیت اس کی شان ہوگی۔
    راست گوئی، ایمانداری، دلیری، ایفائے عہد ووعدہ، اعتماد اور عزت جیسی اخلاقی خوبیوں کے حصول کا آسان راستہ زبان، دل اور عمل کی سچائی ہے۔

    ہمیں چاہیے کہ آنے والی نسلوں کو سچ کی اہمیت سے آشنا کریں ، سچ کا سامنا کرنے کے گر سکھائیں۔ کیونکہ پرامن اور پر سکون معاشرہ تشکیل دینا، اخلاقی برائیاں ختم کرنا، آخرت میں صدیقین کا مقام حاصل کرنا اور جنت کی ضمانت فضل الہی کے بعد سچ کی طاقت سے ہے۔
    Twitter|
    @AdnaniYousafzai

  • خاتمے کی ابتدا تحریر:محمد وقاص شریف

    )

    ملکی حالات سے عوام الناس کی امیدوں پر تو پانی پھرا ہی ہے خود عمران خان کا دل بھی سوگوار ہے 22 سالہ کاوشوں کے بعد اقتدار ملا بھی تو کیا ملا سب سے پہلے تو صرف ایک صوبے میں واضح برتری ملی اور حکومت بھی بنی۔ سندھ بلوچستان بس حاضری لگی۔ پنجاب اور وفاق میں جس طرح حکومتیں بنائی گئی ہیں ان کے بارے میں سوچا بھی جائے تو چیخ نکل جاتی ہے۔ اگر مقتدر حلقے خاموش حمایت نہ کرتے جہانگیر کا جہاز نہ اڑتا تو خان صاحب کے پی کے میں کسی سنسان جگہ پر بیٹھ کر اللہ اللہ کر رہے ہوتے حالت یہ ہے کہ اگر ڈاکو اپنا ہاتھ کھینچ لے چپڑاسی ذرا پیچھے ہٹ جائے۔ سند ھ کے غدار آ نکھیں ماتھے پہ رکھ لیں تو پنجاب اور وفاق واپس نااہلوں چوروں۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کے پاس چلا جائے گا اور یہی نیب خوردبینیں لگا کے پی ٹی آئی کے لوگوں کی ایسی کی تیسی کرنے پر تل جائے گی یہی وجہ ہے کہ۔ ary۔ کے صابر شاکر کو یہ کہنا پڑا کہ عمران خان دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر جانے سے پہلے ناکامی کی آخری سٹیج دیکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس حکومت نے چارج سنبھالتے ہی سیاسی دشمنوں سے نمٹنے پر زیادہ توجہ دی۔ الیکشن سے پہلے کی گئی تقاریر میں عمران خان نے جن جن لوگوں سے دو دو ہاتھ کرنے کی بات کی۔ ان کو پہلے ہی سال جیل میں پہنچایا۔ سیاست میں اپنے آپ کو منوانے کا وقت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس تھوڑے سے وقت کو فضولیات میں برباد کر دیا جائے تو پیچھے پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ اپنا قیمتی ترین وقت سیاسی دشمنوں پر برباد کرنے کے بعد جب یہ لوگ عوام کی طرف لپکے تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی گھی۔ آ ٹا۔ چینی۔ دال۔ گیس۔ بجلی کی قیمتیں آ سمان سے باتیں کر رہی ہیں معاملات ہاتھ سے نکل چکے ہیں اتحادی اس واضح بربادی کو دیکھ کر پتلی گلی سے نکل رہے ہیں۔ حالات اتنی تیزی سے بدلیں گے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ایک عوامی حکومت عوام کی نظروں سے گر چکی ہے اگر عمران خان برباد کنندگان کو ڈھونڈنا چاہیں تو اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں آسانی سے مل جائیں گے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ تین سال میں ایک نئی اینٹ بھی نہیں لگ سکی۔ حالانکہ ان کو ایک رواں دواں اورورکنگ ملک ملا تھا۔ اس حکومت نے قیمتی ترین تین سال کرپشن کے رونے دھونے میں گنوا دیے۔ کرپشن صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں یہ تو انٹرنیشنل معاملہ ہے۔ جس چائنا کی مثالیں دیتے دیتے عمران خان تھکتے نہیں وہاں حال ہی میں کرپشن کی بنیاد پر متعدد لوگوں کو سرعام پھانسی دی گئی ہے۔ معاشروں میں موجود برائیاں بدتریج کم ہوتی ہیں انہیں بیک جنبشِ قلم ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر موجودہ حکومت پہلے دن سے ہی عوامی مشکلات پر کام کرتی تو آج منگائی پچھلے پچاس سال کا ریکارڈ نہ توڑتی۔ ساری توانائی کرپشن پر صرف کرنے اور خزانے پر سانپ بن کر بیٹھنے کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہوا۔ جسے ہوش ربا مہنگائی نے پر کر دیا اب یہ لوگ جتنا مرضی دیواروں سے سر ٹکرائیں نہ مہنگائی کم ہو گی اور نہ عوام ان کو خاطر میں لائیں گے یہ عوامی اعتماد کھو چکے ہیں ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والے خود خان صاحب کی گود میں بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف وہ جا نہیں سکتے۔ اتحادی آہستہ آہستہ سرک رہے ہیں۔ ان کو واپس لانے کے دروازے بھی بند ہورہے ہیں۔ تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے۔ کہ خاتمے کی ابتدا ہو چکی۔ انتہا بہت قریب ہے.
    @joinwsharif7

  • انسانی سمگلنگ بدترین جرم اور انسانیت کی تذلیل ہے تحریر:شمسہ بتول

    انسانی سمگلنگ بدترین جرم اور انسانیت کی تذلیل ہے تحریر:شمسہ بتول

    جبری مشقت یا جنسی استحصال جیسے گھٹیا مقاصد کے لیے انسانوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ عام طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک ان کی مرضی اور خواہش کے بغیر غیر قانونی طریقے سے منتقلی انسانی سمگلنگ کہلاتی ہے۔ یہ منشیات اور اسلحہ کی تجارت کے بعد دنیا کے سب سے منظم جرائم میں سے ایک بدترین جرم ہے۔ یہ ایک خطرہ بن گیا ہے بلکہ ایک عالمی مسٸلہ بھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دور جدید میں جب دنیا ایک گلوبل ولیج بن گٸی ۔ دنیا نے ٹیکنالوجی میں تعلیم میں غرض ہر شعبہ میں ترقی کر لی اور لوگ پہلے سے زیادہ با شعور ہو گٸے لیکن ان سب کے باوجود بھی اس مسٸلہ کا ابھی تک موجود ہونا ایک حیران کن بات ہے۔ اگر ہم اس کی وجوہات کا پتہ لگاٸیں تو معلوم ہوتا کہ یہ مسٸلہ زیادہ تر ترقی پزیر ممالک میں ہے جیسے کہ لاٸیبیریا، ساٶتھ سوڈان اور افریقی ممالک وغیرہ جو معاشی طور پر کمزور ہیں اور گلوبل مافیا ان کی اس معاشی کمزوری کا ناجائز فاٸدہ اُٹھا رہا ہےہیں۔ انہیں بہت سخت اور ناموافق حالات میں کام کرنا پڑا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان متاثرین کے ساتھ وہاں غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں نہ تو کوئی اجرت دی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی دیگر سہولیات جیسے کپڑے ، پناہ گاہ وغیرہ ان سے صبح سے شام تک کھانے کی خاطر کام لیا جاتا انہیں زدو کوب کیا جاتا لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں ابھی تک اس مسٸلہ کی روک تھام کے لیے کوٸی سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی ہیں۔
    مختلف ماہرین کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں بے روزگاری ، ناخواندگی اور بہت سے دوسرے مسائل انسانی اسمگلنگ کی بڑی وجوہات ہیں۔انسانی سمگلنگ کی ایک سب سے اہم وجہ غربت ہے۔اسے عام طور پر "جدید دور کی غلامی” کہا جاتا ہے۔ یہ جبری مشقت یا استحصال کے لیے انسانوں کی غیر قانونی تجارت ہے۔ غربت میں رہنے والے مرد ، عورت اور چھوٹے بچے عام طور پر اسمگلروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس معاملے کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی اور گلوبل مافیہ کو لگام ڈالنا ہو گی کیونکہ اس دنیا میں ہر
    ہر انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے اسے مذہب ، کلچر اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق دیا گیا ہے مگر افسوس کہ صرف معاشی کمزوری کی وجہ سے اس ترقی یافتہ طور میں بھی انسانیت کی دھجیاں اُڑاٸی جا رہی اور ان کا جنسی استحصال کیا جا رہا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنیں ہوٸیں اور ترقی یافتہ ممالک ترقی پزیر ممالک پر اپنی سخت پالیسیز لاگو کر کے ان کا مزید استحصال کر رہے۔
    پاکستان ہر قسم کے وساٸل سے مالا مال ہے لیکن وساٸل کا ضیاع اور قابل قیادت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بےروزگاری اور غربت جیسے مساٸل موجود ہیں اور اسکی وجہ سے پاکستان کو بھی کسی حد تک انسانی سمگلنگ کا سامنا ہے۔ ہر سال بہت سی نوجوان پاکستانی غربت سے تنگ آکر روزگار کی خاطر ایجنٹ کے زریعے غیر قانونی طریقے سے مڈل ایسٹ ممالک جیسے کہ عمان بحرین قطر اور ایران اور دبٸی وغیرہ میں سمگل کیے جاتے کچھ لوگ راستے میں ہی مار دیے جاتے اور کچھ جب اس مافیا کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کرتے تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ سنہرے مستقبل کے خواب دکھا کے انہیں غلام بنا دیا جاتا لیکن اگر انہیں اپنے ملک میں روزگار میسر آۓ اور غربت کا خاتمہ ہو جاۓ اور وہ ان کے جال میں نہ پھنسے ۔ ہمارے حکمرانوں کو سنجیدگی سےاس مسٸلہ کے حل کے اقدامات کرنے ہونگے تا کہ مزید اس طرح کے حالات پیدا نہ ہو سکیں۔ پاکستان اور انڈیا میں ہزاروں لوگ یورپ اور مغرب کا رخ کرتے ہیں بہتر روزگار کے لیے۔
    انسانی اسمگلنگ انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے جس نے پوری دنیا میں ان گنت زندگیاں برباد کر دی ہیں۔ اب یہ حکومتی عہدیداروں اور نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں۔ حکومت اور دیگر تنظیمیں جو معاشی فلاح کے لیے بناٸی گٸی ہیں کو روزگار کے کافی مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ بے روزگار لوگ اپنے آپ کو معاشی طور پر محفوظ محسوس کریں یہ واحد راستہ ہے کہ انہیں انسانی سمگلروں کے دھوکہ سے بچایا جاۓ۔

    @b786_s

  • مینار پاکستان پر بنت حوا کی عصمت دری ۔۔ اور ہمارے معاشرے میں لنڈے کے دانشور۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    مینار پاکستان پر بنت حوا کی عصمت دری ۔۔ اور ہمارے معاشرے میں لنڈے کے دانشور۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    مینار پاکستان پر چند انسانوں کے نام پر دھبوں نے ایک بنتِ حوا کی عصمت دری کی۔ پہلے کی طرح اس مقام پر بھی میں یہی کہوں گا کہ ہمیں پاکستانی قانون میں چند تبدیلیاں لانا ہو گی ورنہ کھبی بچوں کا کھبی بچیوں کی اور کبھی اس قوم کی دوشیزاؤں کا یہی عصمت دری والا رواج جاری رہے گا۔ بہتر حل یہ ہے کہ اس طرح کیسسز کے لئے اسلامی عدالتوں کو فعال بنا دیا جائے۔
    آج ہمارے اس مضمون کا موضوع قانون نہیں تو لہذا اس پر پھر کبھی بات کرینگے، آج کا موضوع ہمارا ان لوگوں کو سامنے لانا ہے جو اپنے منطقی دلائل سے ان درندوں کو جو اپنے ہوس کی بھوک مٹانے کے لیے سفید جسموں کا جیون سیاہ کرتے ، ان کو ڈھکے چھپے الفاظ میں جائز قرار دیتے ہیں۔
    ہوا یوں کہ مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی کی سینکڑوں کے اجتماع نے عصمت دری کی۔ ان درندوں کے تلاش میں ادارے لگے ہوئے ہیں اللّٰہ کرے مجرموں کو پکڑ کر سزا ہو جائے۔ لیکن یہ الگ بات ہے اصل بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے کئی لوگوں کی تحریریں میری نظروں کے سامنے سے گزری جو ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ لڑکی فحاشی پھیلا رہی تھی تو اگر ان لوگوں نے عصمت دری کی تو کیا ہوا۔ یاد رکھیں فحاشی پھیلانا اسلام میں جائز نہیں اور ہمیں اپنے بچیوں بہنوں اور ماؤں کو باپردہ رہنے کے تلقین کرنا چاہیے۔ ہر برے کام کے خلاف آواز بھی اٹھانا چاہیے اور برے کام کے خلاف کوشش کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ مفہوم ہے حدیث کا کہ برائی کو ہاتھ سے روک لے، اگر ہاتھ سے نہیں کرسکتے تو منہ سے روک لے اور اگر منہ سے بھی نہیں کرسکتے ہو تو دل میں ہی برا سمجھو اور یہ ایمان کا کمزور درجہِ ہے۔ لیکن اس حدیث کے مفہوم سے ہمیں یہ بات واضح ہے کہ برائی کو روکنا چاہیے لیکن اس مفہوم میں یا آگر ہم کسی اس طرح اور احادیث و آیات کے مفاہیم میں جائے تو کہی ہمیں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ کوئی گناہ کر رہا ہو تو اس کو گناہ کے زریعے روک دے۔
    کسی بھی جگہ یہ درس ہمیں نہیں ملتا ہے اسلامی تعلیمات میں کہ ایک لڑکی اگر فحاشی پھیلا رہی ہے تو مرد اس کی عصمت دری کرسکتے ہیں یہ کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔ اسلام بڑا واضح پیغام دیتا ہے کہ عورت پردہ کرلے اور ساتھ مردوں کو بھی نظر کی حفاظت کا حکم ہے۔ اسلام تو اس معاملے میں اتنا واضح پیغام دیتا ہے کہ مرد کیلئے یہ بھی ممنوع ہے کہ وہ طوائف کے پاس چلا جائے۔ اسلام میں کسی بھی صورت بغیر نکاح کے جسم کو مساء کرنا جائز نہیں۔ پھر آخر وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر لنڈے کے دانشور بنے بیٹھے ہیں کیوں اپنے منطقوں سے اس بات پر بضد ہیں کہ وہ لڑکی فحاشی پھیلا رہی تھی اس لیے یہ ہوا، خدارا اپنے بیانات پر زرا سوچیئے اگر لڑکی فحاشی پھیلا رہی ہو تو کیا مردوں کے پاس اس کی عصمت دری کا لائسنس آجاتا ہے؟؟
    اگر ایک عورت بدکار طوائف کیوں نہ ہو تب بھی نہ اسلام، نہ ہمارا ملک اور نہ اخلاقیات ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ اس کے جسم کو نوچ لیا جائے بلکہ جو لوگ اس طرح کے کاموں سپورٹ کر رہے ہیں دراصل یہ ان کے تربیت کا نتیجہ ہے۔ یہ اس تربیت کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ان درندوں کا ہوس بے لگام ہوگیا ہے۔
    ایک عورت ہو یا مرد غلط راستے پر ہو ہمیں اخلاق کے دائرے میں سمجھانا چاہئے اگر اس سے ٹھیک نہ ہو جائے تو پھر قانون کا سہارا لینا چاہیے لیکن ہر گز یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ دوسرے کے گناہ کو ثبوت بنا کر خود گناہ کرنے لگ جائے یا قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے کوشش کرلے۔
    یہ معاشرے کے مسائل ہے اور اس کے لئے ہم سب کو اپنا حق ادا کرنا ہوگا۔ قوم کی بیٹیاں اسلامی تعلیمات پر عمل کرلے کیونکہ اس میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے اور مرد حضرات خدا کا خوف کرلے کسی کے گناہ کو دلیل بنا کر مردوں کو گناہ کرنے کی لائسنس نہیں ملتا ہے۔ اگر ایک لڑکی چاہیے وہ جسم فروشی کیوں نہیں کر رہی ہو کسی مرد کو اسلام یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ اس کی عصمت دری کی جائے۔ اور جو لوگ سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کے سپورٹ میں دلائل پیش کر رہے ہیں یاد رکھیں آپ لوگ دوسروں کو غلط کام کرنے کے لائسنس دے رہے ہو برائے مہربانی گناہ کے زریعہ نہ بنے۔ ماں باپ سے یہ عرض ہے کہ اپنی بچیوں کی حفاظت کرلے اور ان کو اسلام سیکھائے اور اپنے بچوں کے تربیت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آج کسی اور کی بیٹی کی عصمت دری ہو رہی ہو کل خدا نہ کرے اپنے گھروں میں دیکھنا پڑے اور ساتھ ساتھ بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ بھی نظر رکھے کہ فرزند کیا کر رہا ہے۔
    اس معاشرے کے ہر شخص کی یہ زمہ داری ہے ۔
    اللّٰہ پاکستان کا اور امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہو۔ امیں۔

    ______________________

    twitter.com/IbnePakistan1

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : دوئم  تحریر : اے ار کے

    کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : دوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ کو خدا اوندی کے عطا کر دہ ہائی گریڈ کرومائیٹ کی مانگ پوری دنیا میں ہے
    چونکہ یہ عنصر اسلحہ سازی، جہاز سازی، ادویات اور لوہا سازی میں بھی بکثرت استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    ابھرتی ہوئی معیشت اور عالمی منڈی میں تیزی سے پیشرفت کرنے والاچین کرومائیٹ کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ وہاں ہزاروں فیکٹریوں میں یہ استعمال میں لایا جارہا ہے ۔
    کرومائٹ سے مالامال مسلم باغ زراعت اور فروٹ کی پیداوار میں بھی خاصا مقبول ہے۔
    زرعی پیداوار گندم مکئ اور زہرہ اہم فصلیں ہیں اور پھلوں کے حوالے سے مسلم باغ اچھی شہرت رکھتا ہے
    یہاں انگور سیب انار خرمانی انجیر ، الوچہ اور آڑو وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔
    آب پاشی کے قدرتی ذرائع بارش اور برف ہیں ٹیوب ویلوں کے علاوء مسلم باغ میں کاریز، بند اور چشموں کے روایتی طریقوں سے بھی کھیتوں اور باغوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔
    تحصیل مسلم باغ کے شمال میں افغانستان جنوب میں لورالائی و زیارت مشرق میں ضلع قلعہ سیف اللہ اور مغرب میں ضلع پشیں واقع ہیں۔
    مسلم باغ کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے۔ اس میں کوہ توبہ کاکڑی اور اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ کوہ کند اور کوہ سرغنڈ اہم پہاڑ ہیں۔
    کوہ کند کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر مطلع صاف ہو تو پہاڑ کی چوٹی سے قندھار شہر (افغانستان) نظر ا سکتا ہے۔
    جنوبی ایشیاء کا اونچا ترین ریلوے اسٹیشن بھی مسلم باغ( کان مہترزئی ) میں واقع ہے

    موسم سرما میں زیادہ سردی پڑتی ہے
    مسلم باغ اور کان مہترزئی میں کئی کئی فٹ برف پڑتی ہے۔ جس سے نیشنل ہائے روڈ بند بند ہو جاتا ہے اور مسلم باغ کا زمینی رابطہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے منقطع ہو جاتا ہے درجۂ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے منفی 16 تک نیچےگرجاتا ہے۔
    موسم بہار میں یہاں کا موسم انتہائی خوش گوار ہوتا ہے۔ باغات ہرے بھرے ہوتے ہیں۔ موسم گرما میں گرمی بڑھ جاتی ہے۔ درجۂ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ تاہم راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
    کرومائٹ کی کانکنی سے لے کر اسے چین اور یورپی ممالک کی عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں یہاں کے ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان میں مقامی اور غیر مقامی دونوں شامل ہیں۔
    مقامی مارکیٹ جہاں پر کرومائٹ کے ٹرک
    خالی اور لوڈ کیے جاتے ہیں یہاں کے مقامی لوگ اُسے ڈمّان (منڈی) کہتے ہیں۔
    ڈمّان میں اربوں روپے کا کرومائٹ پڑا رہتا ہے۔ یہاں پر اس کی پرسنٹیج کی شرح اور قیمتوں کا تعین ہوتا رہتا ہے۔ یہاں کی مارکیٹ ساکت نہیں رہتی اُتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔ کرومائٹ کی تجارت کیلیے یہاں ٹن کا پیمانہ استعمال ہوتا ہے۔ کرومائٹ کی اوسط قیمت فی ٹن اجکل45000 تا 52000 ( ہائی گریڈ 52%)روپے ہیں۔ تاجر منڈی میں ایک دوسرے سے خرید و فروخت کے عمل سے گزار کر متعلقہ کرومائٹ شہر کراچی میں موجود گوداموں تک پہنچاتے ہیں، جہاں سے یہ کرومائٹ چین اور یورپی ممالک کی منڈیوں میں پہنچتا ہے۔
    جاری۔۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan