Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سمت درست ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ کیا ملک سے آئین ، قانون اور اخلاقیات ،اصول ختم ہونے جا رہے ہیں۔کیا ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو اپنے اوراپنی جماعت کے ذاتی مفادات عزیز ہیں ؟ پاکستان بطور ریاست اور24 کروڑ عوام کے مفادات کو دفن کرکے کس جمہوریت کی خدمات سرانجام دی جار ہی ہے۔ ؟اور کس جمہور کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ آج عوام کی معاشی حالات بدسے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بے روزگار نوجوان سڑکوں پر دھکے کھا رہاہے ۔ بے روزگاری سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخلاقیات کا تو جنازہ نکال دیاگیا ہے ۔ آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل نے معاشرے کی نوجوان نسل کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہماری پرانی نسل کے کامیاب سیاسی رہنما چاہے ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رہا ہو وہ اپنی ایمانداری اخلاق کی بدولت عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں آج بھی دلوں پر راج کررہے ہیں ۔خدارا عوام شیخی باز اور مغرور اور متکبر بداخلاق سیاستدانوں سے دور رہیں اور بالخصوص وطن عزیز کے نوجوان اپنے آپ کو ان سے دوری اختیار کریں۔ دورحاضر کے سیاستدانوں کو پرانی نسل کے سیاسی قدرآور لیڈران جیسا کردار اد ا کرنا چاہیئے ۔

    اس ملک اور نوجوان نسل کو مسخر ے سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔ نرم دل و نرم گفتار شخصیت کے حامل سیاسی رہنمائوں کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے آئین کو توڑنے آئین شکنی پر سیاستدانوں کو ہیرو قرار دیا جار ہا ہے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے ، عدلیہ کو متنازعہ بنانے والوں کو قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ۔ صد افسوس ریاستی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر متنازعہ بنا کر ہم کون سا قومی فریضہ ادا کررہے ہیں؟ آج بھی وقت ہے سیاستدان ملک و قوم کی خاطر درست سمت کا تعین کرلیں ورنہ تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی انسان دنیا سے چلا جاتا ہے اُس کا کردار زندہ رہتا ہے۔

  • ملکی وقار  اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی فضائوں میں ایک طرف الیکشن اور دوسری طرف کسی قومی حکومت کی بھی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ اس قومی حکومت میں شمولیت کے لئے سبھی جماعتیں تیار یں۔ یعنی نیا دام لائے پرانے شکاری ۔ لیکن افسوس کہ اب پرانے شکاریوں کے پاس نہ کوئی نیا دام ہے نہ پرانا دام ہے سب دام تار تار ہو چکے ہیں عوام سب داموں کو خوب جان چکے ہیں اب ان کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے جال کو خوب پہچان چکے ہیں ۔ آج کل پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمان والے نوحہ کناں ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑی تنخواہیں ہیں ہماری تنخواہیں آج کے مہنگائی کے دور مین بہت کم ہیں۔ کیا پارلیمنٹ ہائوس تک اور پھر وزارتیں ریاستی پروٹوکول اختیارات دلوانے والے عوام کا کبھی خیال آیا جن کی تنخواہیں 15 ہزار یا 20 ہزار ان کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہوگی ؟ بے بس عوام جو ووٹر ہے زندگی کاکوئی راستہ نہ پاکر خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ تاہم موجود سیاسی ماحول نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قانون کی حکمرانی کانعرہ لگانے والوں کے قلب وروح کو زخمی کردیا ہے ۔ ملکی سیاست ایک معمہ بن چکی ہے ۔ حالات کب کون سا رُ خ اور رنگ اختیار کرلیں کب سیاسی بساط پر مہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی بازی ہار میں تبدیل ہوجائے یہ کوئی نہیں جانتا اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے ۔

    بے چینی بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جار ہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کے جملہ اداروں کے خلاف سلیکٹڈ کا نعرہ لگانے والے اور پھر امپورٹڈ کا نعرہ لگانے والوں نے جو زبان استعمال کی اُسے کسی طرح درست قرار نہیں دیاجا سکتا اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے آخر ملکی وقار اورعزت بھی کسی چیز کا نام ہے خدارا ہوش کریں۔

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    کیا آئین معطل ہو چکا، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    معروف آئینی اور قانونی ماہر سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں اس وقت غیر آئینی نگرانی حکومتیں ہیں۔ آئین کے مطابق ان کی معیاد پوری ہوچکی ہے۔ قارئین آئین کے مطابق پنجاب اور کے پی کے کی نگران حکومتیں ماہرین کے مطابق غیر آئینی ہیں تو پھر کس حیثیت سے یہ ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں؟ کیا ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ختم ہوچکی ہے؟ کیا آئین معطل ہوچکا ہے؟ حیرت ہے ایک طرف ملک میں جمہوریت کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف پنجاب اور کے پی کے میں غیر ائینی حکو متیں ریاستی امور سرانجام دے رہی ہیں۔ پاکستان بطور ریاست اور اس کی عوام مہنگائی کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ معاشی بحران نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند شخصیات نے اس ریاست کو اپنی ذاتی سلطنت میں تبدیل کردیا ہے

    ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے آئین کو روندا جارہا ہے ووٹ کی بجائے طاقت کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ آئین پر عمل کرنے کی بجائے ڈکٹیٹر ذہنیت کے حامل افراد اس وقت ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں۔ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنمائوں کو ملک اور 23کروڑ عوام کی کوئی پرواہ نہیں قانون اور آئین کی کوئی حکمرانی نہیں خواہشات کی تکمیل کے لئے قانون کی حکمرانی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو دفن کردیا گیا۔ بظاہر مارشل لاء تو نہیں لیکن جمہوریت کے لبادے میں آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا اصل بھیانک روپ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں‘ مقتدر قوتیں ملک و قوم کو بند گلی سے نکالنے کے لئے فوری مذاکرات کریں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں ذاتی خواہشات کو دفن کریں۔ انتقامی کاروائی سیاست میں تشدد ہٹلر اور چنگیز خان کا مذہب ہے اسے دفن کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آڈیو اور ویڈیو جیسی گندی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔ دنیا ہمارے سیاستدانوں کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ عوام کی کھانے تک رسائی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔ آئین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے آئین پر عمل کریں عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کا احترام کیا جائے۔

  • کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

    (عالمی یوم کتاب کے حوالے سے)

    حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں
    کتابیں روشنی ہیں، دوست ہیں اور رہنما بھی ہیں
    کسی منزل پہ جانا ہو
    کسی رستے پہ چلنا ہو
    کتابیں مشعلیں بن کر
    اندھیرے راستوں کو جگمگاتی ہیں
    کتابیں ہاتھ تھامے منزلوں تک لے کے جاتی ہیں
    کتابوں میں دفینے ہیں، جواہر ہیں، خزانے ہیں
    دفینے علم و حکمت کے، جواہر عشق و مستی کے
    خزانے شاعری کے اور ہر اس حسن و خوبی کے
    جنہیں اپنا کے ملتی ہے کچھ ایسی سروری جس سے
    خدا انسان کی تخلیق پہ خود ناز کرتا ہے
    کتابیں جس بھی صورت میں ملیں
    تہذیب کا اک خوبصورت استعارہ ہیں
    نشانِ منزلِ مقصود ہیں اپنی
    سو تم دیکھو اگر کچھ قافلے ایسے
    جو اپنی منزلوں سے دور بھٹکے پھر رہے ہوں
    اور ایسے راستوں پہ گامزن ہوں
    جو فقط تاریکیوں کی سمت جاتے ہیں
    تو ان کا ہاتھ تھامو اور
    ان کا رخ کتابوں کی طرف موڑو
    کتابیں ان کو ان کی منزل مقصود تک پہنچا کے آئیں گی
    قیامت تک رفیقِ خاص بن کر دوستی کا مان رکھیں گی
    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں۔ فنون لطیفہ،حالات حاضرہ,قومی و بین الاقوامی,بین البر اعظمی,سیاسی,معاشرتی,سماجی,معاشی اور مذہبی امور,بین الکائناتی ابلاغ میں جس قدر وسعت الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اسی قدر تمام پیرایوں میں انسانیت اور کائنات کی تذلیل کی بھی مثال نہیں ملتی۔ آزادی ء اظہارِ رائے اور ذریعہ ابلاغ ہونے کی آڑ میں صرف اور صرف کاروبار کیاجا رہا ہے جس نے تمام انسانی و اخلاقی پہلوؤں کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ تماشا کرنا اور تماشا لگانا جانتے ہیں انہیں برقی ذرائع ابلاغ میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے بر عکس معاشرے کو سدھارنے والے,انسانیت کا سینے میں درد رکھنے والے اور توازن قائم رکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا ہی حیف ناک امر واقع ہوا ہے کہ دین بھی اسی کاروبار کی زد میں ہے۔ اور بیچنے والے یہی کلمہ گو مسلمان بلکہ علامہ اور مفتی کی ڈگریاں لینے والے لوگ ہیں۔
    خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    پروفیسر حمیداللہ ہاشمی علامہ اقبال کے اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: علامہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان زبان سے کلمہ توحید پڑھ بھی لے اور خدا کو الٰہ مان بھی لے تو اس سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دل سے بھی اس کا اقرار نہ کیا جائے۔ اقرار دل سے مسلمان کی نگاہ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور یہی مقصود مسلمانی ہے۔ آج کا مسلمان زبان سے تو کلمہ پڑھتا ہے لیکن اس کا دل اور اس کی نگاہ اس کلمے کے مطابق نہیں ہے۔
    پاکستان میں آغازی نشریات میں جب بہت کم نجی برقی ادارے ہوتے تھے تو اس وقت تماش بین بھی شاذ و نادر ہی میسر تھے۔ یا شاید آپ یوں کہہ لیں کہ ان اداروں کو چلانے والوں کے دلوں میں ایمان باقی تھا۔ اس وقت زیادہ تر پروگرام اسلامی,فلاحی اور تربیتی ہوا کرتے تھے۔ رمضان شریف میں قیام الیل کے وقت مسجد نبوی اور حرم میں ہونے والی عبادت کی ریکارڈنگز کو چلایا جاتا تھا۔یا قرآن کی تلاوت چلا دی جاتی تھی جو سحر تک چلتی تھی۔ اذانوں کے وقت اذانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے سن کر بہت سے لوگوں نے یاد کی اور اس جیسی صداکاری بھی سیکھی۔ لیکن اب ٹی وی چینلز بھی بڑھ چکے ہیں۔ تماش بین بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کی قابلیت یا علم کا معیار کچھ معنی نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر انہیں سننے والوں کی تعداد حجم رکھتی ہے۔ یہ شاید ساتواں رمضان المبارک ہے جس میں سحر و افطار کے وقت پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس کا میزبان بڑا تماشا اور مہمان اس سے بھی بڑے ایکٹرہیں۔

    یہ تو شکر ہے کہ یہ پروگرام عدالت عالیہ نے ان تماش بین عورتوں سے واپس لئے ہیں جن کے سامنے اللہ کا حکم پردہ اور پاکبازی کے بارے میں سنایا جا رہا ہوتا تھا اور وہ اس حکم کو بھی کاؤنٹر کر رہی ہوتیں تھیں۔لاحولا ولاقوۃ! اور پچھلے سال ان پروگراموں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا عدالتی حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ اس رمضان المبارک میں بھی تمام قومی چینلز پر ایسے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ ان میں شمولیت کرنے والے لوگوں کا حال علامہ اقبال کے شعر سے ہٹ کر کچھ نہیں۔ کاش یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوتے اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوتے کم از کم ان کے دلوں کے حالوں بارے کسی گمان یا تجسس کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
    حال ہی میں ایک قومی ٹی وی چینل کے پروگرام میں موضوع دیا گیا کہ فرقہ واریت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے!مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے عالم لوگ بیٹھے تھے اور انہوں نے موضوع کی بجائے اپنی بین سنانی شروع کر رکھی تھی۔ یہ بھی دور جاہلیت کی ایک قسم سمجھیں جس میں ایمان حلق سے نیچے اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے یہ بات نہیں کی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی فرقہ یامسلک کے ساتھ منسلک ہونے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے قرآن سے اللہ کا حکم نہیں سنایا کہ ابراہیم و موسی،عیسی و مریم، ذکریا و داؤد، یعقوب و یوسف،و آدم و اسماعیل، یونس و دانیال علیہم السلام الغرض کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے اور نبی اکرم محمد رسول اللہ و خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان تھے۔ان کے ماننے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور اس پر بات کرنی چاہئے کہ اللہ کے نذدیک صرف ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ اور اسلام کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ قرآن کا یہ حکم کیوں نہیں سنایا گیا کہ فرقوں میں مت پڑو اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ جو تفرقہ کرتا ہے یا فتنہ پھیلاتا ہے اس سے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعلق نہیں۔یہ کونسے عالم ہیں کہاں کے عالم ہیں جو اپنی ناقص عقل کی تاویلیں پیش کرتے ہیں مگر اللہ کا حکم پیش نہیں کرتے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جن آئمہ کی پیروکاری کا یہ دعوی کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں کہا ہوگا کہ تم فرقوں میں بٹ جاؤ۔ ایسا کونسا عالم ہو سکتاہے جو ایسی بات لکھے یا ایسا فتوی جاری کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ساتھ ٹکرا جائے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں شرم کرنی چاہئے,حیا کرنی چاہئے!!۔

    ایک اور نجی قومی ٹی وی چینل پر ایساہی پروگرام ہوتا ہے جس میں مختلف فروحی موضوعات پر بحث کروائی جاتی ہے۔ تمام مسالک کے علماء سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے فقہ کا کیا مؤقف ہے اور دوسرے کے فقہ کا کیا مؤقف ہے۔ یہ کہاں سے آگیا بھائی۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موضوع کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کیا ان علماء کے فقہی دلائل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بڑھ کر ہیں؟؟ اور یہی حال باقی تمام چینلز کے پروگراموں کا بھی ہے۔ یہ کونسا طریق ہے جس سے امت متحد ہو سکتی ہے؟ یہ تو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔
    اگر ٹی وی چینلز ان مذہبی موضوعات کو متنوع سمجھتے ہیں اور ان مسلکی تقسیم کرنے والوں سے ڈرتے ہیں تو انہیں ایسے پروگرامز بند کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ پہلے ہی ثواب یا نیکی کی نیت سے نہیں بلکہ پیسوں کیلئے کر رہے ہیں۔ اور اگر ہمت کرنی ہی ہے تو صرف قرآن و حدیث کے درس تک محدود رہنا چاہئے جو صرف مستند عالم ہی دے سکتا ہے۔ عوام اور مقتدر حلقہ اس بارے میں سوچے! پاکستان کی عوام بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کو اب روکا جانا چاہئے

  • سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی ہنگامے میں جماعت اسلامی کا کردار، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور عمران خان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس عید کے بعد بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق موجودہ سیاسی ہنگامے میں جو کردار ادا کرنے جا رہے ہیں مجھے نواب زادہ نصراللہ مرحوم کی یاد آ رہی ہے نوابزادہ جمہوریت کے دیوانے تھے وہ جمہوریت کا علاج جمہوری مزاج رکھنے والے سیاست ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے ۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے موجود کو لازم سمجھتے تھے نواب زادہ نصراللہ کی قیادت میں کئی تحریکوں کا آغاز ہوا او ر وہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی آج کی سیاسی جماعتوں میں میں دوغلے پن سیاستدانوں کی اکثریت موجودہے مگراسکے ساتھ چور راستوں کا انتخاب کرنا بھی بھی آج کی سیاست کا ایک مشغلہ ہے۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی – آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کوئی معنی نہیں رکھتی سیاست کو ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا گیا ۔ مولانا سراج الحق بلا شبہ ایک در توثیق انسان ہے جماعت اسلامی والے درویشی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے آج کی ٹونٹی سیاست واٹس اپ سیاست آڈیو اور ویڈیو جیسے گندے کھیل کی سیاست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا آگے آکر کر دار ادا کرنا اور کامیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔

    کیاسیاسی جماعتیں جماعت اسلامی کی تجویز کو قبول کریں گی اس وقت جو سیاسی ہنگامہ برپاہے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے میں جماعت اسلامی کا میاب ہو جائے گی ؟ موجودہ دور کے سیا ستدانوں سے اور سیاسی دوغلے پن رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس جمہوریت کا پردہ چاک ہو کر عوام کے سامنے آچکا ہے عوام کی اکثریت کو لاتعداد مسائل میں الجھا دیا لگا ہے۔ سیاسی اختلاف رائے کو دشمنی اور انتقام میں بدل دیاگیاہے ، جماعت اسلامی کے امیر عجزو انکساری والے ایک دوریش انسان ہیں امید ہے سیاسی جماعتیں تاریخ سے سبق سیکھیں گی اور جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرکے ملک وقوم کو مسائل سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے گی۔

  • کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    کوکلا چھپاکی جمہوریت، تحریر،حسین ثاقب

    ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

    کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

    کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

    آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو "پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

    میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔ اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔

    عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین "مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔ ایک پارٹی لائن "عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔ جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔

    میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے "لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں.

  • احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار
    ثوبان ارشد
    رمضان المبارک کے بے شمار اور لاتعداد فضائل ہیں۔انہی فضائل کی وجہ سے اس مہینے میں لوگوں میں نیکی کا جذبہ بڑھ جا تا ہے،مساجد کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں ،جگہ جگہ دروس قرآن اور ترجمہ قرآن کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رمضان المبارک کی بڑی فضلیت ہے۔اس سلسلہ میں بہت سی احادیث مذکور ہیں۔روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔حدیث رسول ﷺ ہے اللہ کہتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر ہوں۔ایک اور حدیث ہے کہ روزہ جہنم سے بچائو کے لئے ڈھال ہے۔بلاشبہ روزہ رکھنے کا اجر عظیم ہے ۔ لیکن جس اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کا تحفہ دیا وہ اس سے بھی عظیم تر ہے روزہ رکھنے سے جہاں انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہاں انسان جسمانی طور پر بھی صحتمند رہتا ہے ۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی مسلمان روزہ افطار کرواتا ہے تو جتنا اجر روزہ رکھنے کوملتا ہے اتنا ہی اجر روزہ افطار کروانے والے کو بھی ملتا ہے۔چنانچہ ماہ رمضان میںلوگ بڑے ذوق و شوق سے سحر وافطار کا اہتمام کرتے اور کرواتے ہیں اجتماعی افطاریوں کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں ساڑھے چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے۔یہ خوبصورت روایت اسلام کا حسن ہے ۔رمضان کے مہینے میں عالمگیر سطح پر افطاریوں کا اہتمام صرف اسلام کا خاصہ ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس طرح کی رواداری اورایثار کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔

    رمضان البارک اور قرآن مجید کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مسلمانوں کا قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ بھی تعلق ، ربط اور شغف بڑھ جاتا ہے وہ بڑے شوق سے قرآن مجید پڑھتے ، سنتے اور سناتے ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ اس ماہ مبارک کی رونقوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ قرآن مجید میں مومن کے صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو بھوکوں کو کھانے کھلاتے اور ضرورتمندوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اس کا عملی جذبہ رمضان المبارک کے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ہر مسلمان اپنے وسائل کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر وافطار کااہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    امسال رمضان المبارک میں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب وافراد کیلئے ایک شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف اخبارات اور جرائد میں کام کرنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس پروگرام کے میزبان ڈ اکٹر سبیل اکرام تھے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام ہمہ جہت صفات کے حامل ہیں ، وہ جوا ں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ان کی شخصیت کا ہر پہلو قابل ذکر ہے ۔وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے نواسے ہیں ، مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور میں امام تراویح ہیں ،جبکہ اس مرکزکے خطیب علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید کے فرزند علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر بھی اپنے باپ کی طرح شعلہ نوا مقرر اور خطیب بے بدل ہیں۔ مرکز قرآن وسنہ کی بنیاد ڈاکٹر سبیل اکرام کے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید نے رکھی تھی ۔اگر آج اس مرکز کا شمار لاہور کے چند اہم ترین بڑے دینی مراکز میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خانوادہ علامہ احسان الہیٰ ظہیر کو دین کے ساتھ محبت اور دین کی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملاہے ۔ اس خاندان کی خوبی یہ ہے کہ ہر فرد قرآن مجید کاحافظ ہے ، جیسا کہ ڈاکٹر سبیل اکرام ہیں ان کے سینے میں بھی اللہ نے اپنی مقدس ترین کتاب محفوظ کردی ہے بلاشبہ اس خاندان پر اللہ کا یہ خاص فضل وکرم ہے ۔یوں اس خاندان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام معروف کاروباری شخصیت اور سیاسی وسماجی رہنما ہیں، مردم شناس ہیں، مہمان نواز اور بندہ پرور ہیں ۔ ملک کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ، کسی بھی معاملے میں ان کی رائے بہت جچی تلی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی ایک بہت ہی خوبصورت پروگرام تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سبیل اکرام نے صحافیوں اور جرنلسٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ اللہ کاخاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں حق بات کرنے کی توفیق دی ہے ، حق کا علم سربلند کرنے کی یہ خوبی مجھے اپنے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید اور میرے ماموں علامہ ابتسام الہی ظہیر کی طرف سے وراثت میں ملی ہے ۔ حق کی سربلندی ۔۔۔۔یہ ایک عظیم وراثت ہے جس پر بجا طور پر مجھے فخر ہے اس اعتبار سے ایک ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ، ملک کی تعمیر وترقی اور قوم کی فلاح وبہبود کیلئے مقدور بھر اپنا کردار ادا کروں ۔اس لئے کہ یہ ملک ہمارا وطن ہی نہیں ہمارا گھر بھی ہے ۔ اس گھر کی اچھائی بھلائی کیلئے سوچنا اور کوشش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ اس بات میں ہر گز دو آراء نہیں کہ ہمارا ملک سنگین اور گھمبیر قسم کے مسائل کا شکار ہے ، کہنے کی حدتک ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں لیکن ہم لسانی ، برادری اور جغرافیائی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں ۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایسی لیڈر شپ سے محروم ہیں جو ہمیں تقسیم کے ان دائروں سے نکال کرفکری اعتبار سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کرسکے ۔ پاک بھارت میچ کے علاوہ ہم کسی بھی پوائنٹ پر اکٹھے نہیں ہوتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی شانداراسلامی روایات اور کلچر کو بھول گئے ہیں ۔ تقسیم در تقسیم اور اختلافات نے ہمیں کمزور کردیا ہے ۔ میں چاہتاہوں کہ ہم سب بحیثیت پاکستانی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی بقا اور قوم کے اتحاد کیلئے سوچیں ، اتحاد امت قائم کریں اور فرقہ واریت سے باہر آجائیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا بند کردیں ۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا یہ ملک ہمارے پاس اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اس نعمت کی ہم نے قدر نہ کی توہم سنگین قسم کے حالات اور خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ملک سنگین ترین حالات سے دوچار ہے ان حالات میں خاموش رہنا میرے لئے ممکن نہیں ۔ ملک کو خطرات سے نکالنے اور امن واستحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے میں نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مجھے شعبہ صحافت سے وابستہ مخلص دوست واحباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتاہوں کہ ہم بے لوث طریقے سے اس ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور الحمدللہ خود کو ان سیاستدانوں سے بہتر سمجھتے ہیں کہ جو لوگوں سے کہتے ہیں ہمیں ووٹ دوگے تو ہم تمہاری خدمت کریں گے ۔ گویا ان کی عوامی خدمت ووٹ کے ساتھ مشروط ہے ۔ جبکہ ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ہم کہتے ہیں کہ کوئی ووٹ دے یا نہ دے ہم بہر صورت عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے اسلئے کہ ہمارا اس بات پریقین ہے کہ مخلوق کی خدمت عبادت ہے ، جب کوئی انسان اللہ کے بندوں کی خدمت کرتا ہے تو اس کااجر اللہ دیتا ہے ۔سیاستدانوں نے اپنے مقاصد کی خاطر قوم کو تقسیم کردیا ہے جس کا نہ صرف ملک بلکہ قوم کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑرہاہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب اس تقسیم کو ختم کرنے اور اتحادواتفاق کی فضا قائم کرنے کا وقت آگیا ہے اس سلسلہ میں ہم عید کے بعد ایک جامع پروگرام کریں گے اور مربوط لائحہ عمل پیش کریں گے ۔ہمارے پاس ایسی ٹیم ہے جن کے پاس ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی ومعاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے آئیڈیاز ہیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں اس عظیم کام کو سرانجام دینے کیلئے ہمیں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام نے اس موقع پر شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اور کالم نگار معاشرے کے کان اور آنکھیں ہیں اس بنا پر یہ معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ان کے قلم میں طاقت ہے ، انہیں چاہئے کہ جہاد بالقلم کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کریں ۔