Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

  • اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول
    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا) لاہور میں نہایت کامیاب اور عظیم الشان ادبی تقریبات اور ورکشاپس منعقد کرواتی رہی ہے سال 2022کی آخری تقریب کے لیے اپووا نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کا انتخاب کیا ،سرگودھا ادب کا گہوارہ ہے اور ادب کے بہت سے درخشندہ ستارے اپووا کو وہاں لے جانے کا سبب بنے ۔بہت سے قدآور علمی ادبی اور خوبصورت شخصیات اور چمکتے ناموںکو ایک چھت تلے اکٹھا کرنے کا بیڑہ اپووا نے اٹھایا اور بلاشبہ اسے پار بھی لگایا۔تقریب کے انتظامات کو مکمل کرنے کے لیے راقم اور تنظیم کے بانی و صدر ایم ایم علی ایک دن پہلے سرگودھا پہنچے ۔ چونکہ یہ تقریب سول ڈیفنس ہال میں ہونا تھی اس لئے سرگودھا پہنچتے ہی پہلی میٹنگ چیف وارڈن سول ڈیفنس محترمہ سائرہ خان سے ہوئی ۔ انہوں نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروای ۔ اور اپنےعملے کو طلب کرکے ہمارے ساتھ مل کرانتظامات مکمل کروانے کی ہدائت کی ۔کالمنگار اور سماجی کارکن طیب نوید نے بھی ہمیں جوائن کیا اورانتظامات کوحتمی شکل دینے میں ہماری مدد کی ۔ہال میں انتظامات سےفارغ ہو کر طیب نوید نے ہمارے اعزاز میں ڈنرکا اہتمام کیا۔ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ جو کہ تنظیم کی لیگل ایڈوائزر بھی ہیں اور اس تقریب کی میزبان بھی تھیں سعدیہ آپی نے میزبانی نبھای اور خوب نبھائی۔ ہمیں بہت اپنائیت کا احساس دلایا،ہمارے لیے سرگودھا میں قیام وطعام کی تمام ذمہ داری بہت اچھے طریقے سے نبھائی۔24دسمبر کی صبح 9بجے سول ڈیفنس ہال میں ادبی کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں ۔معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوچکا تھا ۔لاہور سے اپووا کے دو کارواں بھی پہنچ چکے تھے ۔ ایک کارواں کی قیادت تنظیم کے سنئیر نائب صدر حافظ محمد زاہد کر رہے تھے ان کے ساتھ لیجنڈ اداکار راشد محمود ، معروف ڈرامہ نگار شگفتہ بھٹی ،ینگ ڈرامہ نگار زید بلوچ،نائب صدر اسلم سیال سیکرٹری انفارمیشن سفیان فاروقی،ہارر رائٹر فلک زاہد،ڈبیٹر حفصہ خالد شامل تھیں ۔جبکہ دوسرے کارواں کی قیادت خواتین ونگ کی نائب صدر ریحانہ عثمانی کررہیں تھیں ،ان کے ساتھ ہر دلعزیز شاہین اشرف آپا،دلشاد نسیم ،ثمینہ سید،علیمہ جبیں،نرگس نوراور مریم راشد شامل تھیں۔نمرہ ملک خصوصی طور پر تلہ گنگ سے جبکہ شانیہ چوہدری سیالکوٹ سے تشریف لائیں۔ اس بار سحرش خان ،ثمینہ طاہر بٹ زرش بٹ اور عبداللہ لیاقت کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اپووا کے یہ متحرک ممبران اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے ادبی کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔

    ہال کے اندر تمام تر چیزوں کو مینج کرنے کی ذمہ داری انچارج سوشل میڈیا ساجدہ چوہدری کے ذمہ تھی۔ جبکہ تقریب کی نقابت کی ذمہ داری راقم نے نبھائی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری عمر دراز خان کی دلسوز تلاوت سے ہوا ۔ جبکہ نعت رسول مقبول اقراء افضل پیش کی ۔ دیگر مہمان گرامی میں ، وفاقی وزیر مملکت تسنیم قریشی ،لیجنڈ اداکار راشد محمود،معروف بزنس مین اور مصنف زبیر انصاری ،اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی،معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ، چیف وارڈن (اسلام آباد) مہر شاہد اقبال، چیف وارڈن (سرگودھا) سائرہ خان، معروف دانشور ہارون رشید،معروف شاعر حیات بھٹی،لیکچرار و شاعرمرتضی حسن شیرازی،پرنسپل لاکالج ظفر اقبال،شاعر ممتاز عارف، معروف ڈرمہ نگار جہانزیب قمر اور شگفتہ بھٹی، ثمینہ گل،منزہ گوئیندی،منزہ احتشام ،نجمہ منصور،جاوید آغا،معروف ڈائجسٹ رائٹر اور مصنفہ نایاب جیلانی اور لیکچرار وشاعرہ ثمینہ سید تھے ۔علمی وادبی شخصیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ادب کو زندہ رکھنے کی یہ کاوش موجودہ حالات میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔لکھاری کو چاہیے کہ وہ حق اور سچ لکھے۔ ایک لکھاری ہی کسی بھی معاشرے کی اچھائی اور برائی دونوں موضوعات پر روشنی ڈال سکتا ہے ۔اور معاشرے کی مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں اس نوعیت کی یہ پہلی ادبی کانفرنس ہے۔مقررین کی طرف سے اپووا کے سرپرست اعلی اور بانی و صدر کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا ۔ دوران تقریب مہمانوں میں ،ایوارڈز،میڈل اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر معروف پنجابی شاعر حیات بھٹی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آخر میں اپووا کے سنئیرنائب صدر حافظ محمد زاہد نے تقریب میںتشریف لانے پر معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیا ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیئے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔یوں اپووا ادبی کانفرنس بہت ساری خوبصورت یادوں کے ساتھ ہمارے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوگئی ۔

  • ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    تحریر ؟ اکمل خان قادری

    پاکستان میں تقریباً 12سو بچے روزانہ سموکنگ لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ اسی کی وجہ سے ہر سال 1لاکھ66 ہزارلوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بات پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے کہی ہے۔مگر افسوس کہ ان کی روک تھام کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں جس سے صورتحال سنگین سے سنگین تر ہو رہی ہے ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں سموکرز کی کل تعداد 31 میلن تک پہنچ چکی ہے جو خطرے کی بڑی علامت ہے۔ اور اس میں مزید بڑھنے کے امکانات اس لیے موجود ہیں کہ حکومت کا دھیان ہی نہیں جاتا اس طرف۔
    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے نہ صرف صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ پاکستان کی اقتصاد کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تقریباً615ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں جو پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے 1.6کے برابر کا حصہ ہے جبکہ تمباکو صنعت سے اس کی صرف اور صرف 20فیصد ریونیو آ رہی ہے جو کل 1ارب اور 23کروڑ روپے بنتے ہیں باقی اس کا 80 فیصد جو 4 ارب اور 92 کروڑ روپے بنتے ہیں قومی خزانہ پر بوجھ ہے جس سے اقتصادی اور مالی اشاریوں میں منفی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔سپارک کے ہیڈ ملک عمران نے کہا ہے کہ پاکستان تمباکو مصنوعات کی وجہ سے مالی خسارہ کا شکا ر ہو رہا ہے اس خسارے کی تلافی کرنے کے لیے انڈسٹری کو پابند کیا جائے تاکہ مالی اور اقتصادی مشکل حالات سے دوچار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ تمباکو سے پیداہونے والی بیمایوں پر سالانہ تقریباً615 بلین روپے خرچ ہو رہے ہیں جو ایک خطیر رقم ہے اس لیے تمباکو پیداوار پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے جو اغراض و مقاصد پورا اورحاصل کیاجاسکے۔

    2019میں وفاقی کابینہ نے تمباکوکے مصنوعات پر ٹیکس لاگو کرنے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ تمباکو کے استعمال میں کمی لائی جاسکے جس سے سالانہ 60ارب ریونیو لائی جا سکتی تھی مگر بد قسمتی سے مافیا نے حکومت پر دباو ڈال کر وہ بل پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہونے دیا۔جن کی وجہ سے اقتصادی اور حفظان صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کا پرائمری ہدف کم امدنی والے لوگ اور بچے ہیں کیونکہ اس میں دو باتیں ہیں ایک تو یہ بہت سستا ملتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بہت اسانی سے ملتا ہے یعنی ہر کسی کی پہنچ میں ہے اور یہی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دونوں مسئلے حل ہو جائے بچوں اور کم امدنی والے لوگوں کی پہنچ سے دور کرنا یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے وہ بل پاس کرے جو تاحال پینڈ نگ پڑا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تمباکو صنعت پر بھی کڑی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوانین پر من و عن سے عمل در امد ہو۔

    کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شارق محمود نے کہا ہے کہ تمباکو پر دنیا میں سب سے کم ٹیکس پاکستان میں لاگو ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرے تاکہ پبلک ہیلتھ سروسز کے لیے زیا دہ سے زیادہ ریونیو جمع کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ہیلتھ لیوی لاگو کرنے سے نہ صرف پاکستان کی اقتصادکو بہتر بنایاجا سکتا ہے بلکہ اس کے زریعے بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ Vulnerable بچے ہیں۔ بچوں کو اس لعنت سے نکالنے اور پاک کرنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ پینڈ نگ بل پاس کیا جائے اور تمباکو صنعت پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کیاجائے۔

    سپارک کے ممبر بورڈ اف ڈائریکٹر خالد احمد نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 45 فیصد حصہ 18سال سے کم بچوں پر مشتمل ہے اور ان کی بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس کے علاوہ پاکستان نے مختلف بین الا اقوامی فورمز جیسے UNHCR،SDGsاور دیگر فورمز پر باقاعدہ معاہدے کیے ہیں کہ بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت کر ینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو ایک Pandemicہے جس سے براہ راست بچوں کے بنیادی حقوق جیسے صحت، تعلیم، ترقی،زندگی، صاف جگوں تک رسائی اور سرسبز پبلک مقامات تک رسائی متاثر ہو تے ہیں۔اس کے علاوہ صحت کے عالمی ادارہ (WHO) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں پر پیکٹ پر 30فیصد اضافہ کرے تاکہ ان کا استعمال کم کیاجاسکے کیونکہ سستا اور آسانی مل جانے کی وجہ سے روز بروز اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہاں ایک امر قابل زکر ہے کہ صحت کے عالمی ادارہ پاکستان کے عوام کو اس لعنت سے بچنے کے لیے اتنا سنجیدہ ہے مگر مجال ہے کہ پاکستان کی حکومت ٹس سے مس ہو جائے۔حکومت تمام اعدادو شماریات پر مبنی حقائق کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے اپنی نااہلی کا ثبوت دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی شہریوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں حکومت اپنی استعداد کار دکھانے میں مکمل طورپر ناکا م ہو چکی ہے۔بات صرف اقتصادیات اور صحت کی نہیں ہے بلکہ صاف ستھرا ماحول بھی اس لعنت کی وجہ سے گندا ہو رہا ہے جس سے دوسرے وہ لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں جو تمباکو نوشی کے عادی نہیں ہیں۔ترقی کے پائیدار اہداف (SDGs)میں پاکستان اہم سگ نیٹری ہے جن کا مقصد انے والی نسل کو اس زمین کو صاف ستھرا ماحول کی صورت میں دینی ہے۔مالی طورپر بد حال اور بیمار معاشرہ ایک اسودہ حال اور صحت مند معاشرے کی داغ بیل نہیں ڈال سکتا۔

    اس لعنت کو کم کرنے اور باقی ماندہ بچوں اور لوگوں کو بچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کے تمام ادارے، ملک میں تمام سرگرم فلاحی اور سماجی تنظیمیں اور دیگر ارگنائزیشن متفقہ طورپر میدان میں نکلے یہ کسی ایک ادارے یا تنظیم کی ذمی داری نہیں بنتی کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اج کے بچے ہمارے اس ملک کے کل کے معماران ہیں انہی معماران قوم کو تیار کرنے میں ہم سب کا اخلاقی،دینی سماجی اور آئینی فریضہ ہے کہ ان کو تیار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیاجائے بلکہ اس کا ر خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ڈاکٹر فرہاد نے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے مختلف امراض کی مختلف ریشو ہے جن میں پھیپھڑوں اور منہ کی کینسر کے ساتھ ساتھ دل کے امراض اور بلڈ پریشر بھی انہی کی مرہون منت لاحق ہو تی ہیں۔ حکومت پاکستان کودفاتروں میں اور سرکاری ملازمین پر سخت پابندی عائد کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایک بچہ ایک ڈاکٹر،ایک استاد، یا ایک آفیسر کو دیکھے اور وہ سگرٹ نوشی کر رہے ہوتو ضرور بچے رنگ پکڑلیں گے۔کیونکہ اس سے انہیں ڈھٹائی ملتی ہے۔

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    پرندے پالنے والا ایک شخص اپنے پنجرے کا دروازہ کھول دیتا. پرندے ہوا میں اڑنے لگتے وہ انکا بڑا سا پنجرا صاف کرتا پانی اور دانہ ڈالتا اور پرندے سارے واپس پنجرے میں آجاتے. یہ دروازہ بند کر لیتا. میں نے ایک بار پوچھا ان کو یہ عادت کیسے دی.؟ اُس نے بتایا پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے انکا پیٹ نہیں بھرا جاتا. یہ خالی پیٹ جب اڑتے ہیں تو بھوک ان کو یاد دلاتی ہے کہ پیٹ بھرنے کا سامان پنجرے میں ہے. یہ واپس آجاتے ہیں.

    یہی حال ہماری عادتوں کا بھی ہوتا ہے. قرآن شریف میں ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷) یعنی” آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو” جلد بازی کا عنصر ہماری فطرت کا عنصر ہے. ہم اپنے فیصلے فوری نتائج فوری تسکین اور فوری تسلی اطمینان کیلئے کرتے ہیں. اور یہ پھر ہماری عادت بن جاتی ہے.

    عادتوں کے اس حصار کو آپ پنجرا کہہ لیں اسے کمفرٹ زون کہہ لیں یا اپنی شخصیت ہم جب اس کے قابو میں آتے ہیں تو یہ ہم سے صبر اور اپنے نفس کے خلاف مزاحمت چھین لیتی ہے. ہم ان خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں جو وقتی تسکین تو بن سکتی ہیں لیکن دوررس کامیابی نہیں. ہم خود بھی اسے مانتے ہیں لیکن خود سے جیت نہیں سکتے.

    پرندے بھی تیار دانہ چھوڑ کر تلاش کی ہمت چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے اس پنجرے کو اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. ہم بھی عادات کی فوری تسکین چھوڑ کر نئی تلاش اور اس کی ہمت و مشقت سے گھبرا کر واپس اپنے حول میں بند ہو کر اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. عادت کے قیدی کے پاس نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے یہ صبر و ہمت کا راستہ ہے.

  • کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ آیت 143 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط “بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔

    ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔

    کسی شخص یا گروہ کا اس دُنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔

    اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اِس اُمّت کو بھی تمام دُنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتا ؤ ، ہر چیز کو دیکھ کر دُنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔

    پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، اُسی طرح دُنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت ، جو تیرے رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بُری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔

    ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دُنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، اُن سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔

    ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دُنیا میں معصیت ، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں تھے۔
    (تفہیم القرآن)

  • پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    ایک انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 30 جوڑ اور 100 پٹھے، Tendons اور ligaments ہوتے ہیں۔ پٹھے یعنی مسلز تو آپ نے قربانی کرتے ہوئے جانوروں میں دیکھے ہوں گے۔ یہ ایک طرف ہماری ہڈیوں اور دوسری طرف اسکن کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پٹھے کا رنگ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ہڈی کے ساتھ جو چیز اسے جوڑتی اسے ٹینڈن tendon کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کا چھوٹا سا حصہ ہوتا جو مسل اور ہڈی کا مضبوط کنکشن بناتا ہے۔ Ligaments کو آپ ایلاسٹک کہہ سکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ہمارے جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اور مطلوبہ حرکت کے بعد واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔ جوڑوں کی حرکت میں لچک ان کی ہی وجہ سے ہے۔

    پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ بچوں کے پاؤں میں ہڈیاں پوری 26 ہی ہوتی ہیں۔ مسلز بھی پورے ہوتے ہیں۔۔ بس Achilles tendon کا سائز کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاؤں کی پوزیشن نارمل نہیں رہتی۔ اور پاؤں اندر یا نیچے (in and under) مڑ جاتا ہے۔ اسے ہم کلب فٹ کہتے پیں۔ یہ سو فیصد ایک قابل علاج کنڈیشن ہے۔ اگر بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ بچہ بلکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    ہر سال پاکستان میں تقریباً 6 ہزار بچے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ 1 ہزار میں سے 1 بچہ اس کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ہر تین متاثرہ بچوں میں سے دو لڑکے اور 1 لڑکی ہوتی ہے۔ یعنی لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت ڈبل ہے۔ متاثرہ 100 بچوں میں سے 50 کا ایک پاؤں ٹیڑھا ہوگا اور باقی پچاس کے دونوں پاؤں۔ یہ ٹیڑھا پن تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے یا تو اندر کی طرف ہوتا ہے یا پاؤں نیچے مڑا ہوتا ہے ایڑھی زمین پر نہیں لگتی۔ کچھ کیسز میں پاؤں کی ہتھیلی پیچھے کو بھی مڑی ہو سکتی ہے۔

    ان بچوں کی متاثرہ پاؤں والی ٹانگ بھی دوسری سے معمولی سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چلتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے نہیں بھی محسوس ہو سکتی۔ اور متاثرہ پاؤں دوسرے پاؤں سے 1 یا آدھا انچ چھوٹا رہ سکتا ہے۔ یعنی بڑے ہوکر بھی ایک پاؤں میں جوتا 40 نمبر اور دوسرے میں 39 آئے گا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی سب سے بڑی قسم Idiopathic Clubfoot ہے۔ اس میں پیدائشی طور پر بچے کا ایک یا دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ اسی قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی کوئی مستند معلوم وجہ نہیں ہے۔ دوران حمل والدہ کا سگریٹ یا شراب پینا، بچہ دانی میں حمل کے شروع سے ہی امنیاٹک فلیوڈ Amniotic fluid کی مقدار بہت کم ہونا، والد یا والدہ کو یہ مسئلہ ہونا یا انکے خاندان میں کوئی ہسٹری ہونا اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ چاند گرہن کسی عورت کے سائے، اٹھرا وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری قسم میں Neurogenic Clubfoot آتا ہے۔ اگر بچہ سپائنا بیفیڈا یا سیری برل پالسی کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو امکان ہیں بچے کو کچھ عرصہ بعد کلب فٹ بھی ہو جائے گا۔ سپائنا بیفیڈا میں جب آپریشن ہوتا ہے تو بہت سی نسیں دب یا کٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پوری ٹانگ بشمول پاؤں کے مسلز و نسیں کھچ جاتی ہیں اور پاؤں مڑ جاتے ہیں۔

    تیسری قسم میں Syndromic Clubfoot ہوتا ہے۔ بونے بچوں میں بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جن سنڈرومز کے ساتھ کلب فٹ ہو سکتا وہ یہ ہیں
    arthrogryposis, constriction band syndrome, tibial hemimelia and diastrophic dwarfism.

    علاج کیا ہے؟

    اس کی روک تھام تو ابھی تک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ مگر اسکا علاج انتہائی سستا اور آسان ہے۔ بروقت علاج سے سو فیصد بچے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاج میں دو سٹیجز ہیں۔ پہلی میں متاثرہ بچوں کو پیدائش کے دوسرے ہفتے میں ہی پاؤں کی پوزیشن کو سیدھا کرکے اوپر پلستر لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچوں کے مسلز اور ٹینڈن اتنے لچکدار ہوتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی موڑ لیں بچے کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے پروفیشنل Ponseti Serial Casting کہتے ہیں۔ یہ پلستر ہر 7 سے 10 دن بعد بدل دیا جاتا ہے۔ عموماً چھٹے پلستر میں اگر Achilles tendon بقدر ضرورت لمبے نہ ہوئے ہوں تو پاؤں میں ایک چھوٹے سے بلیڈ سے کٹ لگا کر ایک دوائی لگا کر آخری پلستر کر دیا جاتا ہے جو دو سے تین ہفتے تک رہتا ہے۔ اور پاؤں بلکل سیدھا ہو جاتا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں اس سیدھے پن کو قائم رکھنے کے لیے Bracing کی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے والدین لاپرواہی کر جاتے ہیں۔ اور پاؤں پھر سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے جس کا آپریشن سے بھی کئی بار علاج ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایسا جوتا پلستر والا کام ختم ہونے کے اگلے دن سے ہی بچے کو پہنایا جاتا ہے۔ جس میں پاؤں کی پوزیشن چلتے پھرتے ایک جیسی رہے۔ یہ جوتا شروع میں 2 ماہ تک چوبیس میں سے 23 گھنٹے پہننا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد مزید دو سال رات کو وہی جوتا پہنا کر بچے کو سلانا ہوتا ہے۔ دن میں چلتے پھرتے تو پاؤں ٹھیک رہتا ہے۔۔ رات کو وہ بریس نہ پہنی ہو تو پاؤں اپنی خراب حالت کی طرف واپس مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی لاپرواہ قسم کے والدین معاملہ اللہ کی سپرد کرکے رات کو بریس نہ پہنا کر سارے کیے کترے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    یوں سمجھیے کہ تین سے چار سال کی محنت جس میں کوئی زیادہ پیسے نہیں لگ رہے۔ آپ کے بچے یا بچی کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔

    میں دیکھتا ہوں بے شمار نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ ہیں۔کئی آپریشن کروا چکے ہیں۔ جو فرق پیدا ہونے کے فوراً بعد علاج سے پڑنا تھا وہ اب نہیں پڑ سکتا جو مرضی کر لیں۔ جتنی تاخیر سے علاج شروع ہوگا اتنے ہی کم چانسز ہیں کہ پاؤں سیدھا ہوجائے گا۔ آپ صرف دو چار ماہ تاخیر کردیں تو پاؤں سو فیصد ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ سالوں کی تاخیر تو کبھی بھی ریکور نہیں ہو سکتی۔

    ایسے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے رشتے کرنے میں بھی والدین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان افراد کو ساری عمر امتیازی و ناروا سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ایک ٹیڑھے پاؤں والی لڑکی میرے سرکل میں باٹنی کی لکچرر تھی۔ نین نقش عقل شکل کد کاٹھ حسب نسب سب کچھ اچھا تھا۔ مگر کلب فٹ کی وجہ سے بلکل گئے گزرے لوگ اسے قبول کرتے تھے۔ کوئی بھی مناسب سا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ ان پڑھ و لالچی قسم کے لوگوں کے رشتے آتے تھے جن کی بظاہر نظر لڑکی کمائی پر ہوتی تھی۔ کوئی پڑھا لکھا شخص اسے قبول نہ کرتا تھا۔

    اسکی شادی شدہ بہن کی اکٹوپک حمل کی وجہ سے وفات ہوگئی اور اسی جگہ اسکا نکاح ہوگیا۔ اپنے ایک بیٹی کے ساتھ بہن کے بھی دو بچوں کو پال رہی ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے 6 سال اپنے رشتے کی وجہ سے جس ناقابل برداشت رجیکشن کا سامنا کیا اس کی وجہ سے اسکی شخصیت کس قدر تباہ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ کسی سے بلکل رابطے میں نہیں ہے۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بہت روتی تھی کہ مجھے وہ بندہ نہیں پسند مجھ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مگر گھر والوں نے زبردستی کر دی کہ اور تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ مل نہیں رہا۔

    ایسے ہی جوڑ اس کنڈیشن والے لڑکوں کی شادی کے وقت بنتے ہیں۔ساری عمر بظاہر مکمل ہو کر بھی ایک ادھورے پن میں گزرتی ہے۔

    اسکا علاج ملک بھر میں کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ آرتھوپیڈک سرجن سے کروایا جا سکتا ہے۔ مگر پیدائش کے فوراً بعد بغیر کسی بھی تاخیر کے۔

  • بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ اور مشتری کے بعد سائز میں دوسرے نمبر پر۔ قدیم زمانوں سے انسان اس سیارے کو دیکھتے آئے جو اسمانوں میں چمکتا اور سال بھر اپنی جگہ بدلتا۔

    مگر جب سترویں صدی کے آغاز پر دوربین ایجاد ہوئی اور اسے دیکھا گیا تو اس سیارے کے ساتھ بڑے علاقے تک پھیلے روشن رِنگز تھے۔ زحل دراصل گیس جائینٹ ہے۔ اسکی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے۔ یعنی یہ گیسوں سے بنا ہے۔ ویسے ہی جیسے مشتری ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنا ہے۔

    ہماری زمین کا محض ایک چاند ہے جبکہ زحل کے چاند ہیں 83۔ ان میں سب سے بڑا چاند کے ٹائٹن۔ یہ زمین کے چاند سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ گو زحل پر زندگی ہونا ناممکن ہے مگر اسکے مختلف چاندوں پر پانی اور نامیاتی مالیکولز ملے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

    زحل کے رنگز دراصل مختلف سائز کی خلائی چٹانیں ہیں جنکا سائز زمین پر کسی اوسط پہاڑ کے سائز سے لیکر چند سینٹی میٹر تک ہے۔ یہ رنگز زحل سے 2 لاکھ 82 ہزار کلومیٹر اوپر تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ زحل کے رنگز کائناتی عمر کے اعتبار سے ابھی ابھی بنے ہیں۔ یعنی محض چند کروڑ سال قبل۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کمپیوٹر ماڈلز اور ان چٹانوں کی ساخت کو جان کر۔

    زحل اپنے مدار میں ایک چکر 10.7 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے گویا اس پر ایک دن زمین کے آدھے دن سے بھی کم ہے۔ جبکہ سورج کے گرد یہ ایک چکر 29.4 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ زحل کی کثافت پانی سے کم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زحل کو زحل سے سائز میں بڑے کسی سمندر میں پھنیکا جائے تو یہ تیرنے لگے گا۔

    2004 تک ناسا کے تین سپیس کرافٹ زحل کے قریب سے گزرے اور اسکی تصاویر زمین تک بھیجیں۔ مگر 2004 میں ناسا کا کاسینی سپیس کرافٹ زحل کے مدار میں داخل ہوا جسکے بعد سائنسدانوں کو زحل کا بہتر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ اس سپیس کرافٹ کے ساتھ ایک سپیس پراب ہیوگن بھی تھا جو 2005 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن ہر اُترا۔ اس پر کئی سائنسی الات نصب تھے اور یہ انسانوں کا کسی دوسرے سیارے کے چاند پر پہلا کامیاب مشن تھا۔ یہ پراب محض 72 منٹ تک ٹائٹن کی سطح پر کام کرتا رہا۔ البتہ کاسینی سپیس کرافٹ 13 سال تک زحل کے گرد مدار میں رہا اور اسکی فضا کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ ستمبر 2017 میں یہ اپنے مدار سے نکلا اور زحل کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اب 2026 میں ناسا زحل کے اس چاند ٹائیٹن تک ایک اور سپیس کرافٹ بھیجے گا جسکا نام ڈریگن فلائی ہو گا اور یہ 2034 میں اسکی سطح پر اُترے گا اور یہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

  • پاکستانی اداکارہ کا  ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    پاکستانی اداکارہ کا ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    ( کسی بھی اداکارہ سے خوبصورتی کا راز پوچھیں تو وہ ہمیشہ ,, اندر کی خوبصورتی اور ڈھیرا سارا پانی بتاتی ہیں ، مجال ہے جو حقیقت بتا دیں ۔ ایک ایسی ہی سلیبرٹی کا انٹرویو پڑھیے )

    *آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو اس خوبصورتی کا راز بتانا چاہیں گی ؟
    کوئی راز نہیں ڈئیر

    *نہیں! آپ کے پرستار جاننا چاہتے ہیں ۔

    کوئی خاص راز نہیں، Its peace of mind actually

    *تو کیا باقی لڑکیاں مینٹل ڈس آرڈر کا شکار ہیں یا انھیں مرگی کے دورے پڑتے ہیں؟

    اوہ نو ۔۔۔ ایسا تو نہیں ، ایکچویلی دن میں پندرہ سے بیس گلاس پانی بس۔۔۔

    * یہ پانی جاتا کہاں ہے؟ مطلب بیس گلاس پانی پی کر آپ ہل جل کیسے لیتی ہیں ؟ شوٹنگ کب کرتی ہیں اور لیٹرین کتنی بار جاتی ہیں
    یہ تو مینج کرنے پہ ہے نااا سویٹ ہارٹ

    * کیسے مینج ہوتا ہے، ہماری خواتین آدھا گلاس پانی پی لیں تو تین بار بس رکواتی ہیں ۔ آپ کا پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ہے کیا؟

    نو ، نو ایکچوئیلی میں کھانے میں صرف سبزیاں اور دالیں لیتی ہوں بس ۔۔۔۔ اس لیے سکن گلو کرتی ہے۔

    *ادھر شلجم ، گوبھی اور ثابت مسور منہ کو آ جاتی ہیں مگر مجال ہے جو منہ پر رونق آئے ۔ کیا آپ سبزیاں ” Tony & Guy” سے لیتی ہیں؟

    او مائی گاڈ۔۔۔ یہ سب نیچرل بیوٹی ہے ، بالکل قدرتی

    *آپ کی نیچرل ہے تو کیا باقی لڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہیں ؟ بتا کیوں نہیں دیتی آپ

    کیا بتاوں ۔۔۔ رئیلی کچھ بھی نہیں لگاتی ، یہ سب انر بیوٹی ہے ڈارلنگ !

    مان لیتی ہوں میم ۔۔۔

    اوکے میری شوٹنگ کا وقت ہوگیا ، چلتی ہوں ۔ بااائے

    *ارے ، ارے ۔۔۔ سنیے ! آپ کا بیگ میرے دوپٹے سے الجھ کر الٹ گیا ہے ، رکیے

    اوہ سوری ۔۔ یہ تو سب چیزیں بکھر گئیں مائی گاڈ

    *کوئی بات نہیں میڈم ، میں اٹھا دیتی ہوں ۔۔۔

    یہ رہا آپ کا مسکارا ، یہ بلش آن ، اور یہ فاونڈیشن، کنسیلر ، فیس پاوڈر ۔۔۔ یہ میز کے نیچے فیس پرائمر ، آئی پرائمر ، لپ گلوس ، آئی شیڈوز’ ہائی لائٹر ، برونزر بھی پڑے ہیں ، یہ لیجیے ۔۔۔ یہ واقعی ” Inner beauty ” ہی ہے کیونکہ پرس سے نکلی ہے ۔

    غازے کی تہہ نے ڈھانپ لیں چہرے کی سلوٹیں،

    تازہ پلاسٹر میں ۔۔۔۔۔۔ عمارت قدیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!