Baaghi TV

پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

عالمی وقار بمقابلہ داخلی اسکینڈلز پاکستان کے امیج کو دوہرا چیلنج

سفارتی کامیابیاں یا گورننس کا بحران؟ غیر قانونی تعمیرات نے سوالات کھڑے کر دیے

وقار کی تعمیر، اعتماد کی شکست بااثر شخصیات اور غیر قانونی فلیٹس کا تنازع

تجزیہ شہزاد قریشی

پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ
بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ریاست کی ساکھ محض سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ داخلی طرزِ حکمرانی، شفافیت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک فعال اور ذمہ دار ریاست کا تاثر دینے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر ریاستی اداروں کی مربوط کاوشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر علاقائی کشیدگیوں میں ثالثی اور توازن کی پالیسی نے اسے ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کیا۔

تاہم اسی مثبت بیانیے کے ساتھ ایک متوازی اور تشویشناک حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی ان میں شمولیت۔ اربوں روپے مالیت کے فلیٹس اور ان میں اعلیٰ شخصیات کی سرمایہ کاری کے انکشافات نے نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے لیے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ تضاد پاکستان کے امیج کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف ریاست خود کو شفافیت، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر ایسے اسکینڈلز اس بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے صرف معاشی اعداد و شمار نہیں دیکھتے بلکہ گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کو بھی بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے اسکینڈلز داخلی سطح پر بھی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عام شہری، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، جب دیکھتا ہے کہ طاقتور طبقے قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، تو ریاستی نظام پر اس کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہ عدم اعتماد طویل المدتی طور پر سماجی استحکام اور ریاستی رٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات کم اہم نہیں۔ جب ایک ملک بیک وقت مثبت سفارتی کردار اور داخلی بدعنوانی کے الزامات کا حامل ہو، تو عالمی بیانیہ غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، وہ سفارتی کامیابیاں جو بڑی محنت سے حاصل کی جاتی ہیں، ایسے تنازعات کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل محض تردید یا وقتی بیانیے میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ شفاف تحقیقات، بلاامتیاز احتساب، اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واضح کارروائی نہ صرف داخلی اعتماد بحال کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے سکتی ہے کہ پاکستان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی کارکردگی اور اس کی قیادت کی دیانت داری میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی تضادات کو مؤثر انداز میں حل کر لیتا ہے، تو اس کی سفارتی کامیابیاں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکیں گی۔

More posts