Baaghi TV

وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

تجزیہ شہزاد قریشی

پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

More posts