Baaghi TV

نازک سیزفائر، گہری بداعتمادی ایران امریکہ مذاکرات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

بالواسطہ سفارتکاری یا تعطل؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشمکش

پاکستان بطور ثالث عالمی امن کی امید یا ایک اور سفارتی امتحان؟

تجزیہ : شہزاد قریشی

ایران امریکہ کشیدگی نازک سیزفائر اور غیر یقینی سفارتکاری،عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی وقتی سیزفائر کی صورت میں تو تھمتی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ خاموشی کسی پائیدار امن کی ضامن نہیں بلکہ ایک عارضی توقف کا منظر پیش کرتی ہے۔ بظاہر مذاکرات کا در کھلا ہے، مگر باہمی بداعتمادی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہر پیش رفت ایک نئے تعطل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

واشنگٹن کی خواہش ہے کہ معاملات کو براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جبکہ تہران اس کے برعکس بالواسطہ سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تضاد محض حکمتِ عملی کا فرق نہیں بلکہ اعتماد کے شدید بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کو اندیشہ ہے کہ براہِ راست مکالمہ اسے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اسے سفارتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی کا باعث سمجھتا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بطور ثالث، اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ایک محتاط توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا امتحان ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کا بھی مظہر ہے۔ تاہم، یہ عمل کسی آسان سفارتکاری کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں اطراف اپنے اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ مزید برآں، امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتا ہے۔ جب تک ان امور پر کسی حد تک لچک پیدا نہیں کی جاتی، مذاکرات کی رفتار سست اور غیر مؤثر رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

موجودہ حالات میں ایک دیرپا اور قابلِ اعتماد امن کا قیام فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم اسے یکسر خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فریقین تحمل، تدبر اور سفارتی فراست کا مظاہرہ کریں، اور ثالثی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے، تو کسی حد تک پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ نازک سیزفائر کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ بالآخر، یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔

More posts