عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔
دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔
مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔
