Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.

  • صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    مٹی ملے گدلے پانی کو کسی برتن میں رکھ دیں اسے کچھ وقت دیں تو اس کی مٹی آہستہ آہستہ تہہ پر بیٹھ جاتی ہے. آپ زندگی کی سائنس اگر جانتے ہوں تو یہی کام پھٹکری یعنی ایلم زیادہ جلدی کر لیتا ہے. کیونکہ ایلم پانی کی اساسیت سے مل کر ایک جیلیٹن ایفیکٹ بناتا ہے جو پانی میں موجود ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر تہہ پر بیٹھ جاتا ہے.

    یہی صبر اور شُکر ہے. زمین پر موجود ہر مسافر انسان کے اس سفر کا زاد راہ ہے. صبر ہمارے پر اُمید انتظار کا نام ہے اور شُکر بندگی کی سائنس ہے. صبر ہمیں وقت سکھا دیتا ہے لیکن شُکر ہمیں خود سیکھنا ہوتا ہے. ہماری اکثریت شُکر پر بلکل ویسے ہی کنفیوز ہوتی ہے جیسے یہ سائنس پر ہو جاتی ہے. شکر کوئی قرض نہیں ایک احسان ہے.

    قرض ایک حساب ہے. جبکہ احسان ایک احساس ہوتا ہے. قرض بھلے کوئی مال ہو اسباب ہو خدمت ہو اسکا حساب ممکن ہے. اور لوٹایا بھی جا سکتا ہے. احسان جب کے بس ایک احساس ہوتا ہے جو ہم تسلیم کر لیتے ہیں. جیسے ماں باپ کی اپنی اولاد سے محبت ایک احسان ہے. آپ زندگی بھر یہ احسان اتار ہی نہیں سکتے.

    ہمارا یہ تسلیم کرنا شکر ہے. جب ہم اللہ رب العزت کے خود پر احسانات شمار کرنے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بے حساب ہیں. یہی احساس ہماری ذات کی پوشیدہ بنیادوں میں وہ کیفیت تخلیق کرتی ہے جو سوچ و شخصیت کے آلودہ ذرات کو صاف کر کے ہماری سوچ کو شفاف بنا دیتی ہے. یہی شفافیت وہ فوکس یا ارتکاز دیتی ہے جو روح کو سیراب و مطمئن رکھتی ہے.

    قرآن سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 147
    مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا ۞

    اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

  • دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

    مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

    دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

    مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

    پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

    کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
    ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

    آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

    امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

    کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

    اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

  • جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) —  خطیب احمد

    جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) — خطیب احمد

    بوہ لیگز Bow legs بچوں میں ایک ایسی حالت ہے۔ جس میں ان کی ٹانگیں تیر کمان کی طرح گھٹنوں سے باہر کی طرف ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً تب دیکھا جاتا ہے جب بچہ چلنا شروع ہوتا ہے۔ میڈیکل یا ہڈی جوڑ کی فیلڈ سے وابستہ افراد جلد ہی یہ چیز دیکھ لیتے ہیں۔ چلتے ہوئے اگر پاؤں ساتھ جڑتے ہیں۔ گھٹنے ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ٹانگوں کا نچلا حصہ گھٹنوں والی جگہ سے ایک دوسرے سے دور ہے تو آپکے بچے کو "جینو ویرم” ہے۔

    یہ مسئلہ ایک ٹانگ میں اور دونوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اکثریت میں دونوں ٹانگیں ہی باہر کو مڑی ہوتی ہیں۔

    ماں کی کوکھ میں کچھ بچوں کی پوزیشن نارمل پوزیشن سے الٹ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر کوکھ میں بچے کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوتے ہیں مگر کچھ بچوں کا سر اوپر اور پاؤں نیچے بھی ہو سکتے ہیں۔ آخری دو تین ماہ یہ پوزیشن رہے بچہ تھوڑا صحت مند ہو (وزن 3 کلو سے زیادہ) تو بچے کی ٹانگیں ٹیرھی ہو سکتی ہیں۔ اکثریت میں پیدائش کے بعد 18 ماہ کی عمر تک یہ مسئلہ خود سے ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    ویسے بھی 18 ماہ کی عمر تک ٹانگوں کا ٹیڑھا پن نارمل ہے۔ اگر تین سال کی عمر کے بعد بھی ٹانگیں ٹیڑھی ہی رہتی ہیں تو ہڈیوں کے ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔

    جنیو ویرم کی وجوہات کیا ہیں؟

    1. اسکی پہلی وجہ Blount’s disease ہے۔ ہماری پنڈلی میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ بڑی مین ہڈی کو Tibia اور اسکی مددگار ہڈی کو fibula کہتے ہیں۔ ٹیبیا یعنی بڑی ہڈی کسی بھی ڈیویلپمنٹل ابنارملیٹی کی وجہ سے وہ باہر کو مڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً "بوہ لیگز” بنا دیتی ہے۔

    2. دوسری بڑی وجہ Rickets ہے۔ بچوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی وجہ سے ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں۔ اور جب ٹانگوں پر وزن پڑتا تو ٹانگیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔

    3. آپ نے دیکھا ہوگا بونوں یا لٹل پیپلز کی ٹانگیں عموماً ایسی ہی ہوتی ہیں؟ باہر کو مڑی ہوئی۔ کہنیوں سے بازو بھی باہر کو مڑے ہوتے۔ Dwarfism بھی بوہ لیگز کی وجہ بنتا ہے۔ بونا پن ایک جنیٹک ڈس آرڈر یے جس میں cartilage سے ہڈیاں بننے میں کوئی خرابی ہوجاتی یے اور پورے جسم کی ہڈیوں کی گروتھ خراب ہوجاتی ہے۔

    4. بچوں کا چھوٹی عمر میں جنک فوڈ کولڈ ڈرنکس آرٹیفیشل جوسز یا چینی کے شربت کھانے کی وجہ سے بہت موٹا ہوجانا بھی ان کی ٹانگوں کو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں تمیز اور بیلنس بچوں کو بچپن میں سکھائیں کہ بھوک رکھ کر سب کچھ کھانا ہے ورنہ بڑے ہو کر بھی جانوروں کی طرح ہر جگہ کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ جو بچے بچپن میں ہی گھر باہر ہر جگہ ہر کھانے والے شے کا اجاڑا کر دیتے ہیں وہ بڑے ہو کر بھی اسی تربیت کا مظاہرہ ساری عمر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    5. اگر بچپن میں ٹانگ کے نچلے حصے میں کوئی شدید چوٹ لگ جاتی ہے۔ اور ہڈی ٹوٹ کر ٹھیک سے جڑ نہیں پاتی۔ تو اسکی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل ہو کر باہر کو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ عطائی ہڈی جوڑ والوں کے بجائے کوشش کریں کسی ماہر آرتھوپیڈک سرجن سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑوائیں۔

    6. جو پانی ہم پیتے ہیں اس کوالٹی کی ہے؟ اس میں فلورائیڈ Flouride اور لیڈ lead کی مقدار کتنی ہے؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانی میں لیڈ یعنی تیزابیت زنگ وغیرہ کی نارمل مقدار µg/L۔ 15 ہے۔ اس سے زیادہ نہ ہو۔ گندہ پانی حاملہ ماں پئیے یا نومولود بچہ ٹانگوں کے ٹیڑھا پن باعث بن سکتا ہے۔ اپنا پانی پہلی فرصت میں لیبارٹری ٹیسٹ ضرور کروائیں کہ اس کا ٹی ڈی ایس 1 ہزار سے زیادہ نہ ہو۔ فلورائیڈ اور لیڈ کی آمیزش نارمل کے آس پاس ہو۔ فلورائیڈ کی پانی میں نارمل مقدار ہے ppm۔ 1 – 0.5

    چھوٹے بچوں میں جینو ویرم کی تشخیص کے طریقے

    1. ایک سال کے چھوٹے بچے کی ٹانگیں بلکل سیدھی کریں اگر گھنٹوں میں وقفہ نارمل سے زیادہ لگے بوہ لیگز ہونگی۔

    2. 18 ماہ کی عمر میں ٹانگوں کے نچلے حصے کے ڈیجیٹل ایکسرے کی مدد سے اس مرض کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ کہ ہڈیوں کی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل تو نہیں۔

    3. خون کے ٹیسٹ میں ہم وٹامن ڈی کی مقدار دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیرم alkaline phosphatase کا لیول اور فلورائیڈ و لیڈ کی مقدار بھی خون سے دیکھ کر اس مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

    ماہرین عموماً بچے کی پاجامی اتار کر تھوڑا دور پر چل کر آنے کا کہتے ہیں۔ فرنٹ اور بیک پر کھڑے ہو کر دیکھتے اور اپنے تجربے کی بنا کر فزیکلی بھی دیکھ لیتے کہ مسئلہ کس حد تک ہے۔

    اس کا علاج کیا ہے؟

    عموماً تین سال کی عمر تک یہ مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو اور بڑھتا ہی جائے تو ہم مرض کی شدت اور اسکی وجہ کو دیکھتے ہوئے اسکے علاج کی طرف جاتے ہیں۔

    1۔ فزیکل تھراپی سے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو کہ عموماً ٹھیک ہو بھی جاتا ہے۔

    2. مسئلہ فزیکل تھراپی سے ٹھیک نہ ہو تو ٹانگوں پر بریس لگا دی جاتی ہے۔ جو ٹانگوں کو سیدھا رکھتی ہے۔ یہ ایک دو سال تک لگانی ہوتی۔ کئی کیسز میں کئی سال تک لگائے رکھنا ہوتی۔

    3. وٹامن ڈی اور کیلشیم بطور فوڈ سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔ صبح سورج نکلنے کے بعد 8 بجے اور شام سے کچھ دیر قبل سورج کی دھوپ میں چھوٹے بچوں کو پلیز کھیلنے دیا کریں۔ یہ دھوپ وٹامن ڈی ان بچوں کے جسم میں داخل کرنے کا قدرتی سب سے بڑا سورس ہے۔ یورپ میں آپ دیکھتے کہ بھائی اور آپیاں ساحل سمندر پر چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر لیٹے ہوئے سورج کی دھوپ لے رہے ہوتے۔ وہ اصل میں جسم میں وٹامن ڈی کی نارمل مقدار کو نیچرلی پورا کررہے ہوتے۔

    سورج کی دھوپ میں موجود ultraviolet B (UVB) ہمارے جسم میں موجود کولیسٹرول کو نیچرلی پراسس کرکے وٹامن ڈی میں بدل دیتی ہے۔ بچوں کو بھی اور خود بھی صبح اور شام کی کچھ دھوپ ضرور دیا کریں۔

    4. سرجری سب سے آخر میں آتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ بھی کارگر نہ ہو رہا ہو تو ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس سرجری کو ہم osteotomy کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ bone grafting اور کئی بچوں کی ٹانگوں میں سٹیل کا راڈ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    سرجری آخری آپشن ہو تو چار سال کی عمر تک کروا لینے سے ہم بہتر طریقے سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

    عموماً سرجری کے بعد بھی کوئی بریس کا میٹل کا فریم کچھ ماہ کے لیے ٹانگوں کے ساتھ لگایا جاتا کہ ٹانگیں وزن پڑنے پر پھر سے ٹیڑھی نہ ہو جائیں۔

    اس مسئلے کی روک تھام کیا ہے؟

    1. بچہ جب چلنے لگے تو گھر میں موجود نوک دار جگہوں ہر فوم لگا دیں۔ بچے کی کسی طرح کوئی ہڈی نہ ٹوٹنے پائے۔ بیڈ کے بیک کے علاوہ ہر طرف نیچے فوم بچھا کر اوپر کارپٹ ڈال دیں۔

    2. پانی میں فلورائیڈ اور لیڈ کی مقدار نارمل رکھیں۔ اپنا پانی فوراً چیک کروائیں۔

    3۔ بچوں کو وٹامن ڈی اور کیلشیم والی نیچرل غذائیں دیں۔ دھوپ میں کھیلنے دیں۔ ماں ممکن ہو تو ضرور اپنا دودھ بچے کو پورے دو سال پلائے۔ یہ خدا کا حکم بھی یے۔ پاوڈر دودھ کی بجائے بکری یا گائے کا دودھ بچوں کو پلائیں۔

    اگر اس مسئلے کو حل کیے بنا چھوڑ دیں تو بچپن میں ہی بچوں کو ایک دائمی مرض Arthritis لگ جاتی ہے۔ گھنٹوں اور پاؤں میں سوجن اور شدید درد جو کبھی جان نہیں چھوڑتا۔

    اپنے آس پاس اس طرح کا کوئی بچہ دیکھیں تو اس کے والدین کو یہ آرٹیکل ضرور پڑھائیں۔ اور مستقبل میں والدین بننے والے لوگ ان سب باتوں کا خاص خیال رکھیں۔

  • ماں — نعیم گلزار

    ماں — نعیم گلزار

    بائیس تئیس برس قبل کی بات ہے۔ ماں جی سے لڑائی کے نتیجے میں گھر سے بھاگا اور لاہور جا نکلا۔ وہاں کچھ عرصہ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے ہتھے چڑھا رہا۔ پھر کچھ اس ماحول سے اکتاہٹ، کچھ لاہور شہر کی نفسا نفسی اور پھر ماں جی کی یاد۔۔ ان تمام عوامل نے مجبور کیا تو واپس گھر بھاگ آیا۔

    واپس آکر دوبارہ نئے سکول میں داخلہ لیا تو میرا تعارف وکی سے ہوا۔ وکی کا گاؤں میرے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وکی خبطی سا تھا۔ جلدباز طبعیت، ہر وقت کھپتے رہنا، باتیں زیادہ اور پڑھائی کم کرنا، اسکے مزاج کا حصہ تھا۔ البتہ اسکو پیسہ کمانے کا بڑا شوق تھا۔ مجھے جتنی اس سے چڑ ہوتی تھی۔ وہ اتنا ہی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ مالی حالات بھی اسکے مخدوش سے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ کالج نہ جا سکا۔ جبکہ ہم آگے ایف ایس سی میں چلے گئے۔ بعد میں ہنگامہ زیست میں کبھی اسکی خبر ہی نہ لگی کہ وہ کن حالات میں ہے۔ بیس سال بعد اک شادی پہ ملاقات ہوئی تو ایک عدد کار کے ساتھ وہ اب سر ملک وقاص بن چکا تھا۔ شاید کہیں اس نے مقولہ پڑھ لیا تھا۔

    ” علم بڑی دولت ہے۔”

    پھر اسی مقولے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے کوئی پرائیویٹ سکول بنایا اور بعد میں بناتا ہی چلا گیا۔ استفسار پہ پتہ چلا چھ کے قریب پرائیویٹ سکول اس وقت چلا رہا ہے۔ پیسے کی طلب اب بھی اسکی گفتگو میں واضح جھلک رہی تھی۔ اور بیس سال کے بعد بھی اسکی جلدباز طبعیت میں کوئی ٹھہراؤ نہیں آیا تھا۔ رہائش بھی بیوی بچوں سمیت اس نے شہر میں رکھ لی تھی۔ البتہ اسکی ماں اب بھی گاؤں میں ہی رہ رہی تھی۔

    آج میں اپنے گاؤں سے متصل قصبہ کے مین اڈے پہ کھڑا کچھ خرید و فروخت کر رہا تھا۔ کہ یکایک اک کار میرے پاس آ کر رکی۔ ٹو پیس سوٹ کے ساتھ ملک وقاص صاحب اندر سے برآمد ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی جپھی ڈالی اور کہنے لگا:

    نیمے یار۔۔ اچھا ہوا تو مل گیا۔ مجھے بہت جلدی ہے۔ ماں جی ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔ انکو گاؤں پہنچانے کے لیے کوئی رکشہ کروا دو۔ کچھ دفتری امور نپٹانے ہیں، میں واپس جا رہا ہوں۔ تین سو روپیہ کرایہ میں نے ماں جی کو دے دیا ہے۔

    یہ سن کر میری آنکھیں تو ساکت رہیں البتہ میں نے کار میں جھانکا تو ماں جی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔۔!!!!

  • جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    پانچ چیزیں جب آپ اپنے جسم میں محسوس کریں تو آپ کو ترازو پر کھڑا ہو جانا چاہئے.

    آپ کی کمر چالیس انچ سے نکل گئی.

    آپ کو بتایا جاتا ہے آپ رات میں خراٹے لیتے ہیں اور صبح آپ تازہ دم نہیں ہوتے.

    اکثر آپ کا دل جلتا ہے. جوڑ درد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو تھکا دیتے ہیں. آپ ترازو پر کھڑے ہو جائیں آپ کا وزن بڑھ چکا ہے.

    اگر آپ نا اُمید مایوس چڑچڑے رہتے ہیں. دل میں ایک بے چینی اور بے زاری ہے تو بھلے اوپر درج کوئی علامت بھی آپ خود میں نہ پائیں پھر بھی آپ کا وزن بڑھ چکا ہے. بس اوپر کی علامات جسمانی وزن کی ہیں اور نیچے ذہنی اور نفسیاتی بوجھ ہے. دونوں سے چھٹکارے کا راستہ بھی تقریباً یکساں ہے. آپ کو اپنا لائف سٹائل بدلنا ہوگا.

    آل یہود ارض قدس میں ایک دیوار کے سامنے روتے ہیں. اسے دیوار گریہ کہتے ہیں. آپ کبھی اسے قریب سے دیکھیں تو اس کی ہر درز ہر دراڑ میں بہت سی پرچیاں کاغذ ٹھونسے ہوئے ہیں. یہ اُن لوگوں کی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات و ارمان لکھ کر دیوار کے حوالے کیں اور خود ایک یقین کے ساتھ ان کو پانے کیلئے نکل گئے. لیکن جو دیوار کے سامنے رونے کو ہی حل سمجھتے ہیں وہ پھر روتے ہی رہتے ہیں.

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ دونوں آپ کی زندگی مشکل بناتے ہیں. جسمانی وزن میں آپ کی سانس ہانپ جاتی ہے جبکہ ذہنی بوجھ میں آپ سے وابستہ رشتوں تک کا دم گھٹنے لگتا ہے. اوور ویٹ لوگوں کا اکثریتی مسئلہ ہے کہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اپنی سرحدیں پار کر چکے ہیں. جسمانی وزن چند ماہ کی مشقت ہے تو ذہنی بوجھ کیلئے تو روتے ہوئے کچھ سجدے ہی بہت ہوتے ہیں.

  • تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    اٹک میں موجود ختم نبوت ہوٹل اکثر ہماری چائے کی بیٹھک کی جگہ ہوتی ہے کہ یہاں کی چائے بہت معیاری ہوتی ہے اور دوسرا یہاں کا کھلا ماحول آپ کی طبیعیت کی بیزاری کو دور کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

    آج بھی ہم نے چائے پینے کا ارادہ بنایا تو ختم نبوت ہوٹل کو ہی چل دیئے چائے ابھی پہنچی نہیں تھی ہم گپ شپ میں مصروف تھے کہ میرے بائیں بیٹھے بھائی نے مجھے متوجہ کر کے کہا کہ یہ ساتھ تیسرے ٹیبل پر بزرگ بیٹھے ہیں ان کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ویٹر کو کہہ رہے تھے کہ میرے پاس 40 روپے میں مجھے روٹی کھلا دو تو ویٹر نے کہا کہ بابا جی 40 روپے میں تو چائے نہیں آتی کھانا کیسے آپ کو کھلاؤں؟؟؟ یہ سب گفتگو میرے ساتھ بیٹھے بھائی نے سنی تو مجھے کہا کہ جا کر کاؤنٹر پر بتا دو کہ ان بابا جی کو کھانا کھلا دیں رقم کی ادائیگی ہم کریں گے۔ ان شاءاللہ

    کاؤنٹر پر جا کر میں انہیں کہہ کر آیا کہ بابا جی کو کھانا دیا جائے، ساتھ ہی چائے پلانے کا بھی کہہ دیا واپس آکر کہا کہ بابا جی یہ چالیس روپے جیب میں ڈالیں روٹی آپ کو دے دیتے ہیں بابا جی منہ سے کلمہ شکر نکلا اور برکت کی دعا دی لیکن آنکھوں سے یاسیت کی کیفیت نہ گئی اور کہنے لگے میں تو کھا لونگا لیکن میرے بچے جو کل سے بھوکے ہیں وہ کیا کریں گیں؟ ایڈریس کی بابت پوچھا تو کہنے لگے کہ حاجی شاہ رہتا ہوں کل کسی سیاسی شخصیت کا نام لیکر کہتے ان کے پاس گیا کہ کچھ کھانے کیلئے دے دو تو مجھے کہا گیا کہ صاحب موجود نہیں بعد میں آنا کا کہہ کر ٹال دیا گیا۔

    ساتھ موجود دوسرے بھائی نے 300 روپے بابا جی کو کرایہ کی مد میں پیسے دیئے اور کہا کہ آپ رکشہ میں بیٹھ کر مرکز مصعب بن عمیر پیپلز کالونی پہنچیں ہم آپ کے بچوں کیلئے راشن کا بندو بست کرتے ہیں۔ مقامی بھائی نے مدرسہ میں فون کر کے ایک راشن پیک تیار کرنے کو کہا جو کہ مدرسہ کے بچوں کے راشن سے ہی بننا تھا۔ میں نے بابا جی کو مرکز کا ایڈریس سمجھایا اور اپنا نمبر انہیں دیا کہ وہاں پہنچ کر مجھے فون کریں۔

    ہمارے چائے پینے کے بعد مرکز پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی مجھے ایک غیر مانوس نمبر سے کال آئی میں نے السلام علیکم کہا تو وہی مانوس سی نحیف آواز سنائی دی
    "پتر میں اوہ بابا بول رہیا آں جسان تساں روٹی کھوائی اے میں ماشاءاللہ سی این جی ت بیٹھا آں”
    میں نے بابا جی کو کہا کہ بابا جی آپ وہیں بیٹھیں میں آیا میں نے راشن اٹھایا اور ایک بھائی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ماشاءاللہ CNG پر پہنچا ان باباجی کو سامان دیا اور ان کو دعاؤں میں یاد رکھنے کا کہا تو بابا جی نے فقط نم آنکھوں کو چھلکنے سے روکا ورنہ وہ چھلکنے کو بے تاب تھیں۔ کہنے لگے مستریوں کے ساتھ کام کرتا ہوں بازو کمزور ہوگئے کہ اب مزدوری نہیں کر سکتا تین بچیاں اور ایک چھوٹا بچہ ہے۔

    ہم نے بابا جی کو نماز پڑھنے اور رب سے دعا کرنے اور محتاجی دور کرنے کی دعا مانگنے کی تلقین کی اور سب کیلئے دعا کی تلقین کی اور کہا کہ بابا جی پوری کوشش ہوگی کہ آپ کو ماہانہ معقول راشن پہنچایا جا سکے، اور جلدی موٹرسائیکل کو واپس موڑا کہ کہیں بابا جی کی آنکھیں چھلک نہ پڑیں۔ اور واپسی پر سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کیسے کیسے مجبور لوگ ہیں اور سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور ان کا حق پیشہ ور مانگنے والے دست سوال دراز کر کے کھا جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کہ اس نے دینے والا اور تقسیم کرنے والا بنایا کہ اس نے اپنے علاؤہ کسی کا محتاج نہیں بننے دیا۔

  • عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فیمن ازم سے دانستہ یا نادانستگی میں متاثرہ خواتین کو ان احادیث پر شدید اعتراض ہے:

    "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”. رواه البخاري (بدء الخلق/2998) .

    ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ”. رواه البخاري.(النكاح/4795)

    ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا”. رواه مسلم. (النكاح/1736)

    ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

    "وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”. رواه الترمذي”. ( الرضاع/ 1080)

    ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)

    اوپر سے مغربی فیمنسٹس نے میریٹل ریپ کی جو اصطلاح نکالی ہے، وہ جلتی پر تیل ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو اور شوہر تشدد کے بغیر بھی ہمبستری کر لے ( مثلاً کوئی نشہ آور دوا دے کر) تو یہ بھی ریپ ہے اور بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے۔۔۔

    اسکے برعکس یہ دیکھیں کہ بیشمار تحقیقات کے مطابق خواتین میں سب سے زیادہ پائی جانے والی "فینٹسیز” میں سے ایک ریپ ہے۔۔۔۔!!! جی ہاں، بہت سی خواتین اپنے ساتھ زبردستی سیکس کے منظر کو تصور میں لا کر خود لذتی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ کئی سیکشوؤلوجسٹس کا کہنا ہے کہ عورت کی جنسی تسکین کا اصل محرک اسکا مرد سے تعلق یا محبت نہیں بلکہ اسکا راست تناسب مرد کے اندر اپنی خاطر "ہوس” کی مقدار کے ساتھ ہے۔ جی ہاں، اسے دوبارہ پڑھیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی گہری بات ہے۔

    البتہ یہ حقیقت فیمنسٹس کیلیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ نیو یارک میں ایک فیمنسٹ، یونیورسٹی پروفیسر، مارٹا مینا، کہتی ہیں کہ مجھے افسوس اور مایوسی کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے کہ جتنا لٹریچر عورت کی جنسیت کو اسکے جذبات اور محبت سے جوڑتا ہے، اسکے بالکل برعکس عورت کی جنسی تسکین کا (مرد کیلئے) اسکی محبت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسکی زنانہ "نرگسیت” کا ایک مظہر ہے۔ "چاہے جانا” ہی اسکا کلائمیکس ہے۔ "خود سے محبت” کے اپنے جذبے کی مرد کے ذریعے تصدیق اور مرد کے اندر اپنی خاطر جذبات کی آگ کو بھڑکتے دیکھنا ہی اسکی جنسیت کا نکتہ عروج ہے، خواہ اسکے دل میں اس مرد کی خاطر کوئی محبت ہو اور نہ اس سے کوئی تعلق ۔۔۔۔!!!

    ان سب باتوں کا مقصد کسی صورت میں بھی کسی غیر خاتون کے ساتھ جبری جنسی تعلق یا ریپ کو جسٹیفائی کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

    البتہ کوئی شوہر اگر اپنی تسکین کیلئے بیوی کو زبردستی مجبور کرتا ہے، اور کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچاتا تو مذہبی حکم سے قطع نظر، اسے تو اپنی فینٹسی پوری ہونے پر خوش ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر وہ موڈ نہ ہونا، سردی میں نہانا، کسی ناراضگی کی وجہ سے شوہر کو سزا دینا، جیسے بہانوں کی قربانی دے دے تو یہ تو گویا سونے پر سہاگہ ہے۔۔۔

    پر برا ہو اس موئے فیمن ازم کا جو نہ عورت کو زندگی کا لطف لینے دیتا ہے اور نہ اسکے شوہر کو۔۔۔۔

    (انتہائی اہم) نوٹ: اس تحریر میں وہ "مظلوم” شوہر مراد ہیں جو اپنی بیویوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں لیکن انکی کچھ عادات یا دوسرے (مالی/خاندانی) مسائل کی وجہ سے بیویاں ان سے نالاں رہتی ہیں اور قریب نہ پھٹکنے دے کر انتقام کا نشانہ بناتی ہیں اور ظاہر ہے دوسری شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ "بیچارہ” اپنی ضرورت وہاں سے پوری کر لے۔۔۔

    رہے وہ شوہر جو حقوق بھی پورے نہیں کرتے اور بات بہ بات ہتک اور تشدد پر اتر آتے ہیں، وہ میری طرف سے جائیں بھاڑ میں۔۔۔

  • مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے غریب کان کنوں کو سونے کی تلاش میں ایک کنویں میں کام کرتے اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کا پہلا ردعمل ہوگا کیا یہ پاگل ہیں.؟ یہ نہ صرف انتہائی محنت و مشقت کا کام ہے بلکہ یہ موت کے ساتھ کھیلنا ہے. سونا دریا کے نشیبی علاقوں میں دستیاب ہے جہاں تھوڑی کھدائی کرتے ہی اطراف سے پانی رسنے لگتا ہے. نیچے کیچڑ بنتی ہے اور کنوئیں کی دیواروں سے مٹی گرتی ہے. اسے لکڑیاں لگا کر یہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں.

    نیچے بہت سا کیچڑ نکال کر وہ چٹانی ٹکڑے ملتے ہیں جن کے ساتھ تھوڑا بہت سونا چپکا ہوتا ہے. سونا اتنا ہی ملتا ہے جو بمشکل دیہاڑی پوری کر پاتا ہے. پھر یہ پاگل پن کیوں؟ تو اس کیوں کا بہت سادہ جواب ہے کہ پھر یہ کریں تو کیا کریں؟ یہی مزدور سیزن میں کوکوا کے فارمز پر جاتے ہیں اور سخت گرمی میں دنیا کے چاکلیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کوکوا چنتے ہیں. یا پھر ان کنوؤں میں اترتے ہیں.

    یہ کنویں اس لئے آباد ہیں کہ ان کے ساتھ امیدیں اور خواب جوڑ بنا لیتے ہیں. کسی دن کوئی ایک بڑا سونے کا ڈلا اگر مل گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے. ان ہی خوابوں کی تعبیر کیلئے مزدور کسی بھی وقت زندہ دفن ہونے کیلئے ان میں اتر جاتے ہیں. آئیوری کوسٹ کے کنویں میں اترنے والوں کی وجہ پھر سمجھ آجاتی ہے.

    لیکن مایوسی کے کنویں میں اترنے والے کی سمجھ نہیں آتی. آئیوری کوسٹ کے مزدور تو ایک ٹیم بنا کر یہ کام کرتے ہیں اور مایوسی کے کنویں میں اترنے والا تنہا ہوتا ہے. ایک کے پاس سونے کے کسی بڑے ڈلے کی اُمید اور خوبصورت زندگی کے خواب ہوتے ہیں. جبکہ دوسرا اپنی امید اور خواب باہر چھوڑ کر اندر اتر جاتا ہے.

    یہ مایوس موت کی منتظر قبریں پھر سمجھ نہیں آتیں. اپنی مایوسیوں کو کلمہ پڑھا لیں. کیونکہ مسلمان مایوس نہیں ہوتا.

  • آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    تحقیقات بتاتی ہیں کہ ACTL6B نامی جین کی میوٹیشن آٹزم، مرگی اور تقریباً تمام اقسام کی دانشورانہ پسماندگی Intellectual disability کی وجہ بنتی ہے۔ جنیٹک انجینرنگ نے ابھی اتنی ترقی دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں کی کہ اس معلوم شدہ جینیاتی مرض کو درست کرکے والدین سے اگلی نسل میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔

    اب ایشیاء میں غلطی یہاں ہوتی کہ جب اوپر بیان کردہ تینوں کنڈیشنر معلوم بھی ہو چکی ہیں تو مانا ہی نہیں جاتا۔ پڑھے لکھے والدین ایسے بچوں کو قبول کرتے ہیں ان پڑھ کہتے ہیں ہمارے بچے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اپنی من مرضی سے اسے بھوت پریت یا کسی اور وجہ سے جوڑ کر ساری عمر علاج کے نام پر دم درود تعویز گنڈے کرانے کو در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے۔ اور پھر ایسے افراد کی معذوری چھپا کر یا کم بتا کر شادیاں کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اور وہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی۔

    ان تینوں اقسام میں والدین کے پاس تو متاثرہ جین ہوتا ہے۔ جس کے اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونے کے چانس 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی دو میں سے ایک بچہ اسی کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوگا۔ اور جہاں بھی شادیاں ہوئی ہیں بلکل ایسا ہی ہوا بھی ہے۔ آپ بے شمار مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔

    جنکا ایک ہی بیٹا ہوتا وہ یہ کہہ کر اسکی شادی کرتے کہ ہماری نسل نہ ختم ہو جائے۔ اور کچھ ایسے مرد جنکی غربت یا کسی اور وجہ سے شادی نہ ہو رہی ہو۔ وہ ان تینوں کنڈیشنز سے کم درجے کی متاثرہ لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں۔ کہ اولاد ہوجائے گی۔ اور اگلی نسل میں معذوری ٹرانسفر ہو جاتی۔ ہاں مرگی سے متاثرہ لڑکی کے ماں بننے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں اگر وہ ریگولر دوا کھا رہی ہے۔ ظاہر ہے دوا چھوڑے گی تو پھر دورے پڑیں گے۔

    شادی ہو اور اولاد پیدا نہ کی جائے تو ان میں سے کم درجے یعنی معمولی معذوری کے حامل افراد کی شادی کرنے میں حرج نہیں ہے۔ مگر یہاں تو شادی کرنے کا پہلا مقصد کی اولاد ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی وجہ ان افراد کی شادی کے لیے نہیں ہوتی۔ تو شادیاں کرنا ان افراد کو اور خود کو مزید مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شادیوں سے پرہیز ہی کریں۔ ان افراد کو اپنی کئیر کرنا اور خود کو سنبھالنا یا اگر ممکن ہو تو مالی طور پر خود مختار کرنا سکھایا جائے۔ تاکہ اپنی زندگی بغیر کسی سہارے کے گزار سکیں۔