Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • معجزات  کا سال  — فرقان قریشی

    معجزات کا سال — فرقان قریشی

    annus mirabilis، یہ نام ایک مخصوص سال کو دیا گیا تھا ، سنہ 1905ء کے سال کو اور یہ نام دینے والی کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ دو سو سال سے لگاتار چھپنے والا ایک جرمن سائنس میگزین annalen der physik تھا ۔

    لیکن اس میگزین نے 1905ء کو معجزات کے سال کا نام کیوں دیا ؟

    کیوں کہ اس سال اس میگزین کے اندر آئین سٹائن نے اپنے چار ریسرچ پیپرز شائع کیے تھے جن میں سے ایک پیپر آج کے دن شائع ہوا تھا یعنی 21 نومبر 1905ء کو ، آئن سٹائن کا وہ پیپر جس میں اس نے E= Mc2 کی تھیوری پیش کی تھی ۔

    یہ وہ تھیوری ہے ، وہ equation ہے جس کی شکل سے آج دنیا کا تقریباً ہر شخص واقف ہے چاہے وہ اس کا مطلب جانتا ہے یا نہیں جانتا ، سائنس کی شاید سب سے مشہور تھیوری جس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    انفیکٹ وہ اوریجنل میگزینز جن میں یہ ریسرچ پیپر شائع ہوا تھا ان میں سے آج صرف تین میگزینز موجود ہیں جن میں سے ایک میگزین پچھلے سال ایک auction میں بارہ لاکھ ڈالرز کا بکا تھا ۔ لیکن اس تھیوری نے دنیا کو کیسے بدل دیا ؟

    کیوں کہ یہ وہ تھیوری ہے جس پر ایٹم بنا ہے ، یہ تصویر ٹاسک فورس ون کی ہے ۔

    امیرکن نیوی کی پہلی نیوکلیئر پاورڈ یونٹ جو دنیا کے سمندروں میں پینسٹھ دن تک گھومتی رہی تھی اور 1964ء میں کراچی بھی آئی تھی ، اس کے ڈیک پر E=Mc2 لکھا آپ کو صاف نظر آ ئے گا ۔

    اب یہاں تک تو ایک ایوریج انسان کا نالج ہوتا ہی ہے لیکن اس کے بعد کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں ہیں جو عموماً لوگ نہیں جانتے اور انہی دلچسپ باتوں میں سے ایک بات اس تھیوری پر ایٹم بم بنانے والے شخص dr. robert oppenheimer کی شخصیت ہے ۔

    ایک جینئس یہودی جس کا ہر چیز میں انٹرسٹ تھا ، اسے مشکل کام پسند تھے اور نیوکلیئر فزکس یا ایٹم بم بنانے جیسے کام اسے آسان لگتے تھے لہٰذا اسکی دلچسپی ان علوم میں ہو گئی جو عام لوگوں کے لیے نہیں ہوتے ، دوسرے الفاظ میں ’’مخفی علوم‘‘ ۔

    اس نے سنسکرت زبان سیکھی اور اوریجنل سنسکرت میں ہندو ٹیکسٹ یعنی ’’بھگود گیتا‘‘ اور ’’اوپانیشد‘‘ کو سٹڈی کیا۔ اس کے دوست اور کولیگ isidor rabi نے ایک مرتبہ dr. oppenheimer کے متعلق کہا تھا کہ …

    ’’وہ فزکس اور سائنس کے لیے بہت over educated ہے ، اسے سائنس کو سمجھنا بہت آسان لگتا ہے اس لیے اسے مذہب جیسی پراسرار سٹڈیز میں زیادہ دلچسپی ہو گئی ۔‘‘

    لیکن پھر بھی اپنے جینئس دماغ کی وجہ سے اوپن ہائمر امیرکہ کے لیے ایٹم بم بنانے والے پراجیکٹ یعنی the manhatten project کا ڈائریکٹر تھا اور اسی شخص نے بیسکلی ایٹم بم ڈیزائن کیا تھا ۔

    لیکن جو چند باتیں بہت دلچسپ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ oppenheimer نے ایٹم بم بنانے کے پراجیکٹ کی تقریباً ہر چیز کو ایک مذہبی رنگ دیا ہوا تھا مثلاً جس جگہ ایٹم بم نے ٹیسٹ ہونا تھا ، اس سائٹ کو اس نے trinity کا نام دیا ۔

    اور اس نے اپنی یہ انسپریشن 1633ء میں پبلش ہوئی انیس نظموں کے مجموعے میں سے ایک نظم batter my heart, three person’d god میں سے لی تھی ، جس میں خدا سے ڈائریکٹ بات کی جا رہی ہے ، ایک طرح کی دعا جس میں شدید قسم کی جنسی اور ملٹری superiority کی دعا مانگی گئی ہے ۔

    لیکن ایک اور بہت دلچسپ بات کہ اس نظم کے رائیٹر نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ایک بہت خاص پورٹریٹ بنوایا تھا ۔ ایک ایسا پورٹریٹ جس میں اس نے اپنے آپ کو کفن میں لپٹا دکھایا ہے کیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جس دن دنیا پر سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور اس دن میں اس کفن کے اندر لپٹا اٹھوں گا ۔

    اور جس وقت dr. oppenheimer نے انسانی تاریخ کا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جسے the trinity test کہتے ہیں ، اس وقت دھماکے کو دیکھتے ہوئے اس نے بھگود گیتا کی ایک لائن پڑھی تھی ۔

    ’’اگر آسمان میں ہزاروں سورج ایک ساتھ چمکیں ، تو وہ خدا کو دیکھنے جیسا ہو گا … میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    بعد میں اس نے ٹی وی پر یہ بات ایک بار پھر کہی تھی کہ …

    جب ہم لوگ اس دھماکے کو ہوتا دیکھ رہے تھے تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب دنیا بدلنے والی ہے … کچھ لوگ ہنس رہے تھے ، کچھ رو رہے تھے لیکن زیادہ تر لوگ خاموش تھے … دھماکے کے وقت وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہے تھے ۔

    لیکن dr. oppenheimer نے اس بھیانک دھماکے کو دیکھتے ہوئے گیتا کی یہی لائن کیوں پڑھی ؟

    کیوں کہ بھگود گیتا میں اس لائن کا context بہت عجیب ہے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ، جہاں ایک بہت بڑی جنگ یا جنگ عظیم چل رہی ہے یعنی مہابھارت …

    اور وشنو ، ارجن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ شروع کرے اور اس وقت وشنو اپنے آپ کو ایک خدا کے طور پر ڈکلیئر کر دیتا ہے … اور اپنے جسم سے کئی بازو نکال کر کہتا ہے …

    ’’اب میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سچائی .. کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے ، جیسے جیسے میری ریسرچ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے ، ویسے ویسے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان واقعات میں حیرانیوں کی کئی کئی تہیں چھپی ہوئی ہیں ۔

    اب آپ کو ایک بات تو سمجھ آ جانی چاہیئے کہ اس پیپر کو پبلش کرنے والے شخص آئن سٹائن نے ، جس نے اپنی زندگی میں ہمارے وقت کی دونوں بڑی جنگیں دیکھی ہیں ، اس نے یہ کیوں کہا کہ …

    پہلی ورلڈ وار رائفلز اور بندوقوں سے لڑی گئی ، دوسری جنگ عظیم ٹینکوں اور جہازوں سے لڑی جا رہی ہے … مجھے نہیں پتہ کہ تیسری جنگ عظیم کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی لیکن چوتھی جنگ عظیم لڑنے کے لیے … صرف ڈنڈے اور پتھر ہی بچیں گے ۔

  • خواتین پرگھریلو تشدد صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد ایک مجرمانہ فعل ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور جبر ناقابل برداشت ہے۔ معاشرے میں خواتین پر تشدد کے رجحان کو روکنا ہمارا فرض ہے۔ اسلام نے خواتین کو مساوی حقوق دیئے، خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ عورت پر تشدد کی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ،بدقسمتی سے قوانین کے باوجود آج بھی خواتین کو اس مشکل کا سامنا ہے چند وجوہات ایسے واقعات کا کم رپورٹ ہونا اور معاشرے کا اس طرز عمل کو قبول کرنا ہے عورت کی عزت اور زندگی اہم ہیں اس پر سمجھوتا نہ کریں

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر کہا ہے کہ عالم اسلام میں خواتین پر تشدد اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے اسلام نے خواتین کو جن حقوق سے نوازا کسی معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین پر تشدد ایک بڑا المیہ ہے ۔ خواتین پر گھریلو تشدد، جسمانی تشدد، جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے مسائل کے متعلق آگاہی اور شعور و بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں خواتین پر تشدد کے 63 ہزار سے زائد واقعات رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے اس پر حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے حکومتیں خواتین کے حقوق کے لئے تعلیم اداروں میں نصاب کو شامل کریں تاکہ معاشرے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے شعور پیدا ہو

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کادن منایا جا رہا ہے۔مقصد خواتین پر ذہنی اور جسمانی تشدد اور ان کے مسائل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔خواتین کو محفوظ اور تشدد سے پاک ماحول فراہم کرنا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

    عورت پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہی عورت کو عزت کے نام پر تشدد کیا جاتا ہے یا ان کو زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات تط ہی روح نما ہوتے ہیں جب عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس ظلوم کو برداشت کرتی رہتی ہے اور ایک دن یہ برداشت جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے جسے دوسروں خاندان والوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ یہ تشدد کے واقعات زیادہ تر پسماندہ علاقوں میں زیادہ رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسی خواتین کو نا صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکے عورتوں کے بنیادی حقوق سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔
    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرویڈیوز یا ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جس میں ایک شوہر نے اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی یا ہسپتال پہنچ گئی ,لیکن سوال یہ ہے کہ عورت یہ ظلم برداشت کیوں کرتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہے جو اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجور کر دیتی ہے مجبور عورتیں اپنے گھر کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کی خاطر یہ تشدد برداشت کرتی ہے نا ان کو اپنے میکے سے سپورٹ ملتی اور معاشرے میں طاق یافتہ کہلانے کا ڈر ایک مجبور عورت کو یہ گھریلو ظلم سہنے پر مجبور کرتا ہے۔گھریلو تشدد کا موضوع ایسا ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ جب بھی گھر کی چاردیواری کے اندر جب بھی خواتین پر تشدد کی جاتی ہے تو معاشرے میں ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت سے طرح طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے جب تھمارا شوہر مارتا تھا تب کیوں نہیں آئی؟ تب آواز کیوں نہیں اٹھائی کہ تم نے یہ پہلے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ ثبوت دکھاؤ کہ کیا تم پر واقعی تشدد ہوا ہے یا نہیں؟

    ایسے سوالات ایک کمزور عورت کو یہ سب تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ایک بے سہارا عورت آخر اپنے شوہر کا ہاتھ چھوڑ کر جائے گی کہاں؟ اس کو اپنے بچوں کو بھی چھوڑنا پر سکتا ہے۔اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر جانا چاہے تو اُس کو بھی ایک یہ بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ایک عورت ملازمت کرنا چاہے اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہئے تو تب بھی کہرام مچا دیا جاتا ہے اگر وہ اپنے میکےاپنے ماں باپ کو بتانا چاہتی ہے تو اس پر بھی اس کو روکا جاتا ہے یا وہ خود روک جاتی ہے گھر بتایا تو وہ پریشان ہونگے۔عورت کو یہ سمجھا کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ شوہر ہے چار دیواری کے اندر مسئلے کو حل کرو اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرو اچھے دن بھی آئیں گے اگر گھر چھوڑ دیا یا طاق ہو گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا کہاں جاو گی

    گھریلو تشدد  صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عملدآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو ہمیں ابھی ان چیزوں کے اوپر قابو پانا ہوگا۔خواتین کو ان قوانین استعمال کےلئے جو ان کو تحفظ دے گا شعور اجاگر کیا جائے اور ایک مضبوط عورت اس تشدد کے واقعات پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں اگر وہ یہ عزم کر لے کہ ظلم کو سہنا نہیں اپنے حق کے لئے لڑنا ہے تو ان واقعات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔

  • کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام دیکھنے کے لئے آپ کو ہالی وڈ کی ایک فلم سیریز دیکھنا پڑے گی جس کا نام Star Wars ہے۔ اس کے انڈر دس موویز اور چار سیزن ہیں۔

    اس سیریز میں آپ صرف مختلف کلچرز کو نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیسے بائیولوجیکلی مختلف سپی شیز ایک دوسرے کیساتھ امن و امان کیساتھ رہ رہی ہے۔ اور مختلف مواقعوں پہ کیسے ایک دوسرے کے کلچر کا احترام کر رہی ہیں۔

    اگر آپ کو یہ لگاتا ہے کہ آپ دنیا کی سب سے خاص قوم میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ کا کلچر حد سے زیادہ اہم ہے یا کسی اور قوم کا آپ سے بہتر ہے اور آپ کے کلچر کا اظہار غلط ہے تو آپ کو اپنے ذہنی علاج کے لئے ایسی فکشن ضرور دیکھنی چاہیے وہیں پر اپنا کلچرل ایکسپوژر وسیع کرنا چاہیے۔

    ہندوستان یا عرب کے کلچر میں کسی بدیسی کو مکمل شارٹ لباس پہن کر نہیں گھومنا چاہیے وہیں پر یورپ میں برقعے پہن کر گھومنا بھی انکے کلچر کی خلاف ورزی ہے سو ان چیزوں کو اپنی جگہ رکھ کر ہر جگہ کے کلچر اور روایات کا احترام کرکے زندگی انجوائے کرنی چاہیے۔

    ہماری قوم سمیت پوری دنیا میں موجود وسیع آبادی کا مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے ایک سے دوسری سٹیٹ نہیں دیکھی 9/5 جاب کر کر کے زندگی ختم کرنیوالوں کو چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھتی ہے۔

    حالانکہ

    قطر میں لباس پہ لگی ممانعت سمیت کسی اور ملک میں چہرہ ڈھانپنے والے حجاب پہ لگی ممانعت تک سب کچھ مقامی کلچرل ویلیوز کے لحاظ سے درست ہے اور وہاں وزٹ کے دوران انکا احترام کرنا چاہیے اور اگر اپنا کلچرل زیادہ عزیز ہے تو ایسی جگہوں کو وزٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    دو ماہ سے ایران میں خواتین کا احتجاج بلکہ خونی احتجاج جاری ہے جس میں ابھی تک بیسیوں شہری جان ہار گئے ہیں۔۔۔۔

    نوجوان خاتون "مہسا امینی” کے مظلومانہ قتل سے شروع ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے ۔اور آج ایران کے مذہبی رہنما اور رہبر خمینی کی سابقہ رہائش گاہ پر مظاہرین چڑھ دوڑے اور وہاں کچھ حصے کو آگ لگا دی ،اگرچہ ایرانی حکومت نے کسی نقصان کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔

    دو ماہ سے جاری اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز خواتین کے مظاہروں سے ہوا جو "زن ، زمین ، آزادی” کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ یہ خواتین مظاہروں میں اپنے حجاب جلاتی ہیں اور بال کاٹتی ہیں ، اور یوں ایران میں عائد مذہبی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے حکومتی احکامات سے بغاوت کا اظہار کرتی ہیں ۔

    بظاہر یہ لبرل ایران اور سخت گیر مذہبی انتظامیہ کا مقابلہ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ لوگوں کا غبار ہے کہ جو سخت پابندیوں کا ردعمل ہے ۔

    گو دو ماہ سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ، لیکن نہتے مظاہرین کے مقابل حکومتی مشینری کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ زیادہ ہوتے لیکن کبھی کبھی عوامی جدوجہد پچھاڑ بھی دیا کرتی ہیں جس کی موجودہ دور میں بیسیووں مثالیں موجود ہیں ۔۔۔ایرانی حکومت کے لیے اس میں ابھی تک طمانیت کا پہلو صرف یہ ہے کہ قلیل واقعات کے سوا مظاہرین کی طرف سے مسلح بغاوت کے انداز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ابھی تک اس احتجاج میں ایران مخالف طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کی آمریتیں ساری ایران دشمنی کے باوجود چاہتی ہیں کہ عوامی بغاوت کی کامیابی کا پیغام ان کے ملکوں کے عوام کو نہ جائے ۔

    اگر ایران اس عوامی بغاوت پر قابو بھی پا لیتا ہے تو بھی اس کے لیے اس میں سبق ہے کہ اب اس کی قیادت انقلاب دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اپنی جنگوں کو سمیٹنا شروع کرے۔ اور ملک میں موجود اپنے عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے ۔۔۔۔کہ ملکوں کی بقاء عوام کے اطمینان میں ہوتی ہے۔۔۔۔

  • ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کا آرٹیمیس پراجیکٹ جسکا مقصد 2024 میں دوبارہ سے انسان کو چاند پر بھیجنا ہے۔اس پراجیکٹ کے کئی مراحل ہیں جن میں سے پہلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ ہے جسکے ذریعے مستقبل میں انسانوں کو چاند اور دیگر سیاروں پر بھیجا جائے گا۔ اس پہلے مرحلے میں پچھلے ہفتے 15 نومبر 2022 کو چاند کیطرف ایک راکٹ کے ذریعے ایک سپیسکرافٹ بھیجا گیا۔ اس سپیسکرافٹ کانام اورآئن ہے۔ یہ سپیسکرافٹ زمین کے گرد چکر لگا کر تیزی سے چاند کیطرف گیا اور اب یہ چاند کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ سپیسکرافٹ چاند کے گرد مدار میں گھومے گا اور پھر کچھ دن بعد واپس زمین کی طرف لوٹے گا۔ اس سپیسکرافٹ میں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جنکی مدد سے اسکا سفر دیکھا جا سکتا ہے۔

    زیرِ نظر تصویر ناسا نے چند گھنٹے پہلے شائع کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سپیس کرافٹ چاند سے تقریباً 1700 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ پسِ منظر میں ہماری زمین ہے۔ نیلی شفاف زمین ، سورج کی روشنی میں نہاتی ہوئی اور سامنے چاند ہے۔ ایک نقطے سی دکھتی اس زمین پر ہم سب رہتے ہیں، ایک چھوٹا سا سیارہ، خلاؤں میں ایک ادنی سے ستارے جسے ہم انسان سورج کہتے ہیں کے گرد گھومتا ہوا۔

    مستقبل میں ہم انسان چاند کے علاوہ مریخ اور نجانے کون کون سی دنیاؤں پر بسیں گے۔ وہ نسلیں جو ہمارے بعد آئیں گی وہ شاید یہ جان ہی نہ پائیں کہ ہم نے کبھی اپنا سفر اس جگمگاتی زمین سے شروع کیا۔ ان میں سے کئی نے شاید اپنے اباؤ اجداد سے محض زمین کا نام ہی سنا ہو۔ انسان زمین سے نکل کر خلاؤں کی وسعتوں میں انسانیت کے بیج بوئے گا۔ یہ تصور کتنا خوابناک ہے اور رومانوی بھی۔

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.