Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ قانون حرکت دریافت کیا-سیب قدرتی طور پر اس دوران اس کے سر پر گر گیا تھا-

    ڈیجٹل نسل کیلئے وضاحت کرتا چلوں کہ” کٹا “ میڈم بھینس“کے صاحبزادے کو کہتے ہیں اور” وچھا “ مس گائے کے بچے کا نام ہے-نیوٹن کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کٹے اور وچھے کی گہری دوستی ہو گئی – وچھا کٹے سے کہتا کہ “یار آؤ گلی میں چھلانگیں مارتے ہیں “ جبکہ کٹا ہر وقت اس موڈ میں ہوتا کہ “نہیں بھائی -دیوار کے ساتھ بیٹھ کر “جگالی” مارتے ہیں(یعنی چیونگم چباتے ہیں)”- یہیں سے کٹے وچھے کا قانون دریافت ہوا-

    آپ اگر غور کریں تو آپ کو کئی “کٹے “ اور “وچھے” انسانی روپ میں آپ کے گھر گلی محلے اور دفتروں میں نظر آیئں گے- انسان نما کٹے ہر وقت چینگم چبا رہے ہوں گے اور آپ کو کہیں گے”یہ مشکل ہے”، “تم بزنس نہیں گر سکتے”، “ایک دفعہ سرکاری نوکری مل جائے تو پھر ٹھنڈ ہی ٹھنڈ”، “میں سیلیکٹو سٹڈی کروں گا”، “مین یہ سمسٹر ڈراپ کر دیتا ہوں اگلے میں زیادہ تیاری کروں گا”،”میں سی ایس ایس نہیں کر سکتا”، “میری انگلش ٹھیک نہیں ہو سکتی”، حالات میرے بس سے باہر ہیں”،”یہ نظام کی خرابی ہے”، “ہمارے حکمران ہی نالائق ہیں”، وغیرہ وغیرہ-

    کٹوں کے سب سے پسندیدہ جملے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”اس کام پر میرا دل نئیں کررہا” یا “آج میرا موڈ نہیں” یا “تم یہ کام نہیں کر سکتے”-

    کٹے دن رات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو دیکھتے رہیں گے مگر جب کوئی گھر کا کامُ کہےگا تو انہیں سانپ سونگھ جائے گا-تھکاوٹ یاد آجائے گی- یہ ہر جگہ آپ کو اپنی” کٹا گیری” کرتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم کام کل پر ڈالیں گے اور دعا کریں گے کہ وہ کل کبھی نہ آئے- یہ ساری رات سمارٹ فون پر گزار کر دفتر میں اونگھتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم میٹنگ میں بغیر تیاری کے جایئں گے اور میٹنگ شروع ہونے تک ان کی خواہش ہو گی کہ اللہ کرے نہ ہی ہو-

    کٹے جم میں داخلہ کر سمجھیں گے کہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہی وزن کم ہو جائے گا-یہ آپ کو ڈیوٹی پر اونگھتے نظر آہیں گے – کٹوں کے بال بڑھے ہوں گے کئی کئی دن نہ نہانے کی وجہ سے ان کے جسم سے” کٹ سوری” کی مہک آرہی ہوگی-یہ رات والے کپڑے پہن کر دفتر آجائیں گے- یہ آپ کو ہر وقت سہولیات کی کمی اور کام کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے- ان کے خیال میں یہ غلط وقت پر غلط ملک اور غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں- یہ ہر وقت مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہوں گے-یہ دیر سے سویئں گے اور دیر تک سوئیں گے- ان کی تو ندیں نکلی ہوں گی اور یہ نماز میں بھی اپنے رب کے حضور کٹھے ڈکار مار رہے ہوں گے

    کٹوں سے بچیں – یہ مضر انسانیت ہیں- یہ سب آپ کے اندر کے وچھے کو ورغلا کر “او گل” (جگالی) پر لگانا چاہتے ہیں – حالانکہ آپ کے اندر کا وچھہ باہر کی دنیا میں چھلانگیں لگانا چاہتا ہے- آسمان کو چھونا چاہتا ہے- ہواؤں کو مسخر کرنا چاہتا ہے- پانیوں پر تیرنا چاہتا ہے-

    آپ کی جب بھی کسی وچھے سے بات ہو گی وہ کہے گا “تم یہ کرسکتے ہو”، “تم کسی سے کم نہیں”، “تمہارے اردگرد کی دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے”،”ہمارا ملک بھی کسی سے کم نہیں”، “”محنت ضائع نہیں جاتی” – وچھے کو جب بھی موقع ملے گا یہ چھلانگیں لگائے گا یہ سراپا توانائی ہوگا- اس کے زندگی میں بڑے بڑے گول(ارادے) ہوں گے- اسی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوگا – یہ کئی کٹوں سے بھی زندگی میں اپنی “وچھا ماری “سے بڑی بڑی چھلانگیں لگوانے کی کوشش میں ہوں گے-

    وچھوں کا پسندیدہ جملہ ہوگا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”ہم یہ کام کیسے نہیں کر سکتے؟” وچھے کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہوتا، اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ “پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروالو گے “ تو یہ کہیں گے کہ “ساڑھے سات کے دو نوٹ چاہئیں یا سوا تین کے چارنوٹ”

    دنیا کی ساری مادی ترقی وچھوں کی مرہون منت ہے- وچھوں کا سکرین ٹائم کم ہوگا-ان کے پاس فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ہو گا- ان کا اپنے رب سے بھی رابطہ برقرا ہوگا- یہ آپ کو مولا کی عنایتوں کا شکر ادا کرے نظر آیئں- یہ کم کھائیں گے- ان کے سونے اور جاگنے کے وقت مقرر ہوں گے- ان کا لباس صاف ہوگا – یہ آپ کو لوگوں کے ساتھ قہقہے لگاتے نظر آئیں گے- پارک میں واک کرتے نظر آیئںگے-

    اگلی دفعہ آپ کو اگر کوئی کٹا میکڈانلڈ میں بیٹھ کر ڈبل زنگر برگر کے بعد کوک سے ڈکار مارنے کی دعوت دے تو آپ اسے جم میں جاکر پش آپس لگانے کا پتہ پھینکیں- جب بھی آپ کسی کے منہ سے سنیں کہ “تم یہ کام نہیں کر سکتے “ “یا چھوڑو یار کل کریں گے” تو آپ زورُسے نعرہ لگائیں کہ ۰۰۰۰۰“کٹا ای اوئے” اور اس کی صحبت سے نکل جایئں ۰۰۰۰

    زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وچھے کی طرح اپنے آپ سے پوچھیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰“میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟” ۰۰۰۰۰۰۰ یہ “کیسے” کا سوال ہی آپ کو آپ کے اندر کے “وچھے“کی صلاحیتوں سے روشناس کروائے گا – جس نے اپنے اندر کو کھوج لیا وہ کامیاب ہوا- اس کی سب مرادیں بر آیئں-اسے اپنے دنیا میں آنے کا مقصد مل گیا- اسے نروان حاصل ہو گیا-

    آخر میں نیوٹن کا اصلی قانون حرکت بیان کرتا چلوں کہ

    ”اگر کوئی انسان حالت حرکت میں ہے تو وہ متحرک ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “کٹا” نہ ٹکر جائے ۰۰۰۰۰۰۰۰ اور اگر کوئی انسان حالت سکون میں ہے تو وہ ساکن ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “وچھا” نہ مل جائے”

    ویسے گورے یونہی تو گائے کا دودھ نہیں پیتے اور ہم بھینس کا؟”

  • حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    ہماری آنکھوں کے پاس بھی وہی ڈی این اے ہے جو ہمارے معدے کے پاس ہے لیکن ہماری آنکھیں آنسو خارج کرتی ہیں اور معدہ تیزاب۔

    یہ سب جیین ریگولیشن اور ٹرانسکپرشن کی مہربانی ہے جس کے نتیجے میں ہمارا ٍی این اے مخصوص حصے بنانے والے پروٹینز میں بدلتا ہے۔ اور یہ دو اہم کام ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کی بجاۓ HCl نہیں نکلواتے۔ورنہ ذرا سی گڑبڑ پہ صورتحال خطرناک حد تک بگڑ بھی سکتی ہے۔ اور ایسی بہت سی گڑبڑیں ہی وہ وجہ ہیں جن کے نتیجے میں اکثر مس کیرج ہو جاتی ہے۔

    ڈی این اے ریگولیشن ایک بہت ہی حساس کام ہوتا ہے کہنے کو تو ذمہ دار لوگوں کے لیۓ ہر کام ہی حساس ہوتا ہے لیکن ڈی این اے کے لیۓ تو یہ حد سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔لیکن یہ انتہائی تیز رفتاری اور پرفیکشن کیساتھ مکمل ہوتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ ایک گھنٹے میں پورے جسم کو بنانے والے تمام حروف کی کاپی کر سکتا ہے۔ اور یہ خود کو خود ہی چیک کرتا ہے۔ اگر یہ چیک اینڈ بیلنس خراب ہو جائے تو پھر اس کی وجہ سے کینسر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

    اسکے علاوہ،

    ایک ہیمو گلوبن مالیکیول میں صرف 0.3% آئرن ہوتی ہے لیکن یہی آئرن اسکے آکسیجن لیجانے کی صلاحیت متعین کرتی ہے۔ اگر یہ زرا سی بدل جائے تو سارا سسٹم خراب ہو سکتا ہے۔

    آپکے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹراڈول مالیکولز کے سٹرکچر میں چار ایٹمز پہ مشتمل صرف ایک میتھائل گروپ CH³ کا فرق ہوتا ہے لیکن اگر یہ میتھائل گروپ ہٹ جاۓ تو آپ لڑکی بن جاتے ہیں اور اگر لگ جاۓ تو آپ مرد بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ چار ایٹم آپ کی جنس کا تعین کرتے ہیں اگر دوران حمل ابتدائی ہفتوں میں ان کو بناتے ہوئے ان میں ہلکی سی اونچ نیچ ہو جائے تو آپ کی جنس تک بدل سکتی ہے۔

    بات ختم نہیں ہوئی بلکہ بات تو شروع ہوئی ہے کیونکہ تمام جانداروں (ایک گروپ کے) سیلز بائیوکیمیکل لیول پہ ایک ہی جیسے میٹیریل سے بنے ہیں لیکن ذرا سے جینز کی ہیر پھیر کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔اس بات کے آپ لوگ گواہ ہیں۔

    سادہ الفاظ میں ڈی این اے کے اجزاء تمام جانداروں میں تین ہی ہیں مگر ان تین کی ترتیب اور تعداد پورے کے پورے جاندار کی ہئیت کا تعین کر دیتی ہے۔ یہ بات ارتقاء کا بھی ثبوت ہے کہ تمام جاندار نفس واحد سے بنے۔

    ذہانت جسے بہت سے لوگ گاڈ گفٹڈ لیتے ہیں تازہ ترین ریسرچز کیمطابق پتا چلا ہے کہ کچھ جینز اسکو متعین کرتے ہیں مطلب کہ امکان ہے کہ ذہانت بھی وراثتی ورثہ ہے اور یہ بات حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جو جینز اس کو کنٹرول کرتے ہیں ان کی مجارٹی ماں سے ملتی ہے۔

  • مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مردوں کا عالمی دن آیا اور گزر گیا پر ایک بات کہنا چاہوں گا جس مرد سے طلاق کے بعد اسکے بچے کی کفالت کے ہر ماہ پیسے لیتی ہو اس مرد سے اپنی اولاد کو ملنے کا جائز حق بھی نہ چھینا کرو۔ ہماری عدالتیں خرچ نہ دینے پر باپ کی جائیداد نیلام کرنے اسکی تنخواہ ضبط کرنے سے لیکر اسے جیل میں ڈالنے کا تو حق رکھتی ہیں۔ مگر جو اپنی مرضی سے خرچ دے رہا ہو اسے اسکی اولاد سے اسکے اپنے گھر ملنے کا حق دلانے میں ناکام ہیں۔ کسی غریب کا اپنے بچوں سے اسکے گھر ملاقات کا شیڈول بن بھی جائے تو اس پر بھی اس سے اوپر کی عدالت سٹے آرڈر دی دیتی ہے۔

    لڑکی اور اسکے گھر والے بچوں کو والد سے اس لیے نہیں ملنے دیتے کہ انکی غیرت گوارہ نہیں کرتی جس نے طلاق دی اس سے بچے ملیں۔ تو تم لوگوں کی غیرت اس سے ہر ماہ پیسے لینے پر کہاں چلی جاتی ہے؟ طلاق دینے کے بعد وہ کوئی حیوان تو نہیں بن جاتا انسان ہی رہتا ہے اور ان بچوں کا باپ بھی رہتا ہے۔ اور اسکی ذہنی صحت بھی ماں سے اکثریت کیسز میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچوں کو ماں سے بدگمان نہیں کرتا جیسے ماں بچوں کے باپ کو ولن وحشی اور نجانے کیا کچھ بنا دیتی ہے۔

    آج ایک وکیل دوست کے آفس میں ایک عورت رو رہی تھی کہ میرے بچے دو دن کے لیے اپنے باپ کے گھر جا رہے ہیں۔ وہ اسٹے آرڈر لینا چاہتی تھی۔ جس پر اس نے اسے کہا کہ بچوں کو والد سے ملنے دو میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ میں نے پوچھا وہ خرچ دیتا ہے تو کہتی ہاں بھائی دیتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کے بغیر دو دن کیسے رہوں گی۔ میں نے کہا جیسے وہ رہتا ہے۔ بولی اتنا انکا سگا ہوتا تو طلاق ہی نہیں دیتا۔ میں نے کہا پیسے کس حق سے لیتی ہو بہن؟ بولی میں تو اسے جیل بھیجنا چاہتی ہوں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کچھ بھی کر لوں گی۔ خرچ بڑھے گا نہیں دے سکے گا تو جیل جائے گا۔ میں بچوں کو پال لوں گی۔

    یعنی نفرت ہے اور انا ہے کہ اسے نیچا دکھانا۔ اور انہی چکروں میں اپنی جوانی اور ذہنی صحت تباہ کر لینی۔ طلاق کی وجہ جو بھی تھی اب اس کو بھلا کر آگے بڑھنے کی بجائے نفرت کی آگ میں اپنا سکون ضرور برباد کرنا ہے۔ دوسری طرف لڑکے کی شادی ہو چکی ہے۔ اسکے دو بچے ہیں وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اسکی خوشی دیکھی نہیں جا رہی۔ وہ ترلے لے رہا کہ بچے واپس کر دو اور تم بھی شادی کرو۔ مگر نہیں۔ اکثریت میں طلاق شدہ خواتین کی یہی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ طلاق شدہ سے کوئی شادی نہیں کرتے۔ انکی سوچ تو دیکھو وہ کتنی ظالم اور سفاک ہو چکی ہوتی ہیں۔ جو آج انصاف نہیں کر رہی وہ آگے کیا کرے گی۔

    اکثریت خواتین بچوں کا خرچ چھوڑ دیتی ہیں کہ والد بچوں سے ملاقات یا انکی حوالگی کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

    اسکے برعکس بہت سے مرد خرچ نہیں دیتے وہ بچوں سے کیوں ملیں گے۔ وہ آج مخاطب نہیں ہیں۔ ذلیل ہوتے ہیں جیل کاٹتے ہیں اور عدالتوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔

    جو لڑکیاں بچے انکے باپ کے پاس چھوڑ دیتی۔ اور طلاق کے فوراً بعد شادی کر لیتی ہیں وہ اس خود ساختہ اذیت سے نکل جاتی ہیں۔ ورنہ نفرت حسد اور بغض کی آگ میں جلنا اور کورٹ کچہریوں میں خوار ہونے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ بات طلاق شدہ خواتین کو بڑی دیر بعد سمجھ آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔

  • کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے جنوبی قطب پر موجود چھٹا برِ اعظم انٹارکٹیکا جہاں سارا سال برف رہتی ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے وہاں کون رہتا ہے؟

    اسکا جواب ہے وہاں مختلف ممالک کے تحقیق کرنے والے اداروں کا عملہ اور سائنسدان رہتے ہیں۔ انٹارکٹیکا پر اس وقت مختلف ممالک کے تقریباً 90 ریسرچ سٹیشن قائم ہیں۔ ان میں انٹارکٹیکا کی گرمیوں میں (یعنی دسمبر میں) کم سے کم 4 ہزار افراد رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں (جون میں) یہ تعدا 1 ہزار تک رہ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں سیاحت کے لیے بھی گنے چنے لوگ آتے ہیں(یہاں سیاحت کے لیے جانے کے لئے جیب میں ہزاروں ڈالرز ہونا ضروری ہیں).

    انٹارکٹیکا پر دنیا کے قریب 46 ممالک کے سٹیشنز موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے "انٹارکٹکا ٹریٹی” پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ان میں دنیا کے تمام بڑے ممالک جیسے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی وغیرہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا پر بھارت کے ریسرچ سٹیشن کا نام ہے "بھارتی” جبکہ پاکستان کے رہسرچ سٹیشن کا نام ہے "جناح”. بھارتی سٹیشن 2012 میں قائم کیا گیا اور پورا سال فعال رہتا ہے جبکہ پاکستانی سٹیشن محض گرمیوں میں ہی کام کرنے کے قابل ہے۔ یہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پاکستان کی طرف سے انٹارکٹیکا پر ایک موسمیاتی سٹیشن بھی قائم کیا گیا جسے اقبال آبزرویٹری کا نام دیا گیا۔

    1993 کے بعد یہاں پاکستان کا کوئی عملہ، سائنسدان یا محقق انٹارکٹیکا نہیں گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ مہیا نہیں کی گئی۔۔2020 میں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت جسکے ماتحت یہ ریسرچ سینٹر ہے، نے ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان دوبارہ انٹارکٹیکا پر اپنی تحقیق شروع کرے گا مگر فی الوقت اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    بوٹسوانا کے گھاس کے میدانوں کے بادشاہ وہاں کے شیر ہوتے ہیں. لیکن شیر جوتے نہیں پہنتے اور ان میدانوں میں ببول کے لمبے اور تیز دھار کانٹے بھی ہوتے ہیں. تو کیا شیروں کو کانٹے نہیں چھبتے.؟

    بہت پہلے ایک ویڈیو کسی فوٹوگرافر نے بنائی تھی جس میں ایک شیر اپنے پنجے کو پہلے اپنی زبان سے چاٹتا ہے اور پھر ایک لمبا کانٹا اس میں سے اپنے دانتوں سے کھینچ لیتا ہے. شیر پھر چل دیتا ہے لیکن اس کی چال میں کوئی لنگڑاہٹ نہیں ہوتی. کیا درد بھی نہیں ہوتا ہوگا.؟

    ایوان گیٹس بیس بال کا امریکی چیمپئن اور مشہور ہٹر کیچر تھا. اس کی ایک تصویر چیمپین شپ کے بعد دیکھی جس میں وہ رو رہا تھا. اب جو ایوان گیٹس کو جانتا ہوگا اسے شائد یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس تصویر سے دس سال پہلے وہ نیویارک میں بے گھر اور انتہائی کسمپرسی کے دور میں ایک خوفزدہ ڈرا ہوا لڑکا تھا.

    شیر جوتے نہیں پہنتا لیکن ہم پہن سکتے ہیں. شیر اپنی کمزوری اپنا رونا بھی نہیں رو سکتا کیونکہ جہاں اس نے یہ دکھائی وہ اپنے غول میں بادشاہت کھو دے گا. لیکن ہم انسان اپنی ذات پر ہی بادشاہ ہیں. دل چاہے تو آج اپنے آنسو اپنا درد چھپا لیں اور دل چاہے تو کل جب وقت بھی ہمیں بادشاہ مان لے تو آنسو بہا دیں.

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    بہت سال قبل ہمارے جاننے والوں کے گاؤں میں ایک “عورت” کے بارے میں پتا چلا جو رشتے کروانے یعنی میریج بیورو کا کام کرتی تھی۔ رشتے کروانے کے بدلے میں علاقے کے لوگ اس کو کچھ پیسے دیا کرتے تھے، کچھ رشتہ ریفر کرنے پر، اور مزید رشتہ ہو جانے پر۔

    گاؤں والوں کے بقول حقیقت میں وہ عورت خنثی پیدا ہوئی تھی (جس کو عرف عام میں کھسرا یا خواجہ سرار کہہ دیا جاتا ہے)، اور اس کا زنانہ نام تھا۔ ظاہری طور پر بھی وہ سادہ سا لباس پہنتی تھی، جبکہ خنثی ہونے کی بنا پر ساری عمر شادی نہیں کروائی۔

    البتہ مشاہدے میں جو بات آئی کہ وہ ایک عام لوگوں کی طرح نارمل شخصیت ہی سمجھی جاتی تھی۔ کوئی اس پر نہ تو طنز کرتا تھا اور نہ ہی مذاق بناتا تھا۔

    اس کی بڑی وجہ یہ عورت خود تھی۔ نہ اس کو لوگوں سےتکلیف، نہ لوگوں کو اس سے تکلیف، نہ ہی اس کو رب سے گلہ۔

    وہ "مظلوم” بنے پھرنے یا بیہودہ حرکات کرنے کی بجائے عزت کی روزی کماتی تھی۔ لیکن وہ خوبی ، اس کی وہ خصلت جو پوری دنیا کے بدکاروں اور بدکاروں کے حمایتیوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ تھی وہ تھی اس عورت کا ایمان۔

    اس عورت نے میریج بیورو کے کام کے لیے لوگوں کے گھروں میں چکر لگا لگا کر جو حلال کی روزی کمائی ، اس روزی کو جوڑ جوڑ کر اس نے جو پیسے اکٹھے کیے ان پیسوں سے مسجد تعمیر کروا کر وقف کی۔

    اندازہ کریں، کہ لوگوں کی نظر میں اس خنثی عورت کی کیا عزت تھی، اور اس خنثی عورت کی اپنے رب کے بارے میں کیا عقیدت تھی کہ اس نے اپنی کل متاع مسجد بنانے پر خرچ کی؟
    نہ کوئی بیہودگی، نہ مظلومیت کا رونا، نہ ہی لوگوں کی طرف سے طنز، نہ ہی "حقوق حقوق” کی چیخ و پکار۔ اور نہ ہی رب کی بنائی گئی تقسیم پر شکوہ شکایت۔ ارے اس نے شکایت کیا کرنی تھی۔وہ تو رب کی رضا میں نہ صرف راضی تھی بلکہ اس نے تو مسجد بنا کر رب کو قرض دے دیا۔

    اللہ سبحان و تعالٰی اس کی قبر کو منور فرمائے۔ اس کا چہرہ اس دن روشن رکھے جس دن بدکاروں کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے۔

    ہمارا رب عادل ہے۔ عدل پسند فرماتا ہے۔ دنیا میں آزمائش پر جس نے صبر کیا، ہمارا رب اس کو آخرت میں ایسا اجر عطا فرمانے والا ہے کہ جس پر سب رشک کریں گے۔

    یہی ہماری روایت ہے، اور یہی ہمارا طریقِ معاشرت، اور یہی ہمارا ایمان۔

    قدرتی طور پر کسی کا خنثی پیدا ہو جانا ایک نہایت ہی شاذ و نادر واقعہ ہوتا ہے۔ یعنی ایسا لاکھوں بچوں میں کوئی ایک ہوتا ہے۔ جب کہ ننانوے فیصد سے بھی زیادہ "خواجہ سرا” کہلانے والے لوگ پیدائشی خنثی نہیں ہوتے ، بلکہ اصل میں جعلی ہوتے ہیں، یعنی ان کی جنس مکمل مرد ہوتی ہے۔ یہ سب خنثی نہیں بلکہ ٹرانس جینڈر ہوتے ہیں، یعنی اپنی پیدائشی جنس کے برخلاف روپ دھارے پھرتے ہیں۔

    کروڑوں کی آبادی میں چند درجن حقیقی خنثیوں سے ہمدردی کے بڑے بڑے دعوے، جبکہ حقیقت میں ان ہی خنثیوں کی شناخت کو ایکسپلائٹ کر کے بیچ کھانے والے ٹرانسجینڈرز اور پھر ان ٹرانسجینڈرز کے حمایتیوں کا مسلہ خنثیوں کے حقوق ہرگز نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ۔

    یہ خنثیوں کا عام انسانوں کی طرح سمجھنے کے قائل نہیں ۔ بلکہ یہ ٹرانس جینڈرز یعنی جعلی جنس اپنانے والوں کو عوام کے گلوں میں زبردستی اتارنے اور ان کو مقدس بنا کر پیش کرنے کے درپے ہیں۔

    معاشرہ خنثیوں کو اپنی معاشرت میں نارمل انسانوں کی طرح سمونے کا قائل ہے۔ جبکہ آپ ٹرانسجینڈرز کی طرف دیکھیں تو کوئی ناچنے گانے، تھرکنے، موت کے کنویں میں نیم برہنہ چھاتیوں سے تماشبینوں کا دل لبھانے اور دعوتِ گناہ دینے والی مخلوق ہے، اور س کا اس بدکاری کے سوا زندگی میں کوئی کام نہیں ہوتا؟

    Sexual objectification

    یعنی ان انسانوں کو محض جنسی لذت اور بدکاری کی شناخت تک ہی محدود کرنے کا کام ایک روایتی معاشرہ نہیں ، بلکہ وہی بدکار لوگ کر رہے ہیں جو ان کے حقوق کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔

    اگر واقعی کسی کو خنثیوں کے حقوق کا غم کھائے جا رہا تھا تو ان خنثیوں کو معاشرے میں نارمل افراد کے طور دکھانے کا طریقہ کیا ہوتا؟ وہ یہ ہوتا کہ
    مثلا:

    ۱۔ خنثی بزنس بھی کر سکتے ہیں
    ۲۔ خنثی نوکری پیشہ بھی ہو سکتے ہیں
    ۳۔ خنثی ڈاکٹر اور انجینیر بھی ہو سکتے ہیں۔
    وغیرہ۔۔۔

    لیکن اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
    اصل میں یہ واردات ڈالی جا رہی ہے کہ:

    ۱۔ دھوکے سے مخالف جنس اپنانے والے افراد یعنی ٹرانس جینڈرز کے بارے میں یوں تاثر دینا کہ جیسے یہ قدرتی خنثی ہیں۔
    ۲۔ پھر ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا رونا رونا۔
    ۳۔ٹرانس جینڈرز سے جنسی تعلق کا فروغ (یعنی ہم جنس پرستی)

    نتیجتاً ٹرانس جینڈرز کے شور میں حقیقی خنثی بیچارے کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے کہ جیسے کسی فائئو سٹار ہوٹل میں منرل واٹر پی پی اور پیزے کھا کھا کر غریبوں سے ہمدردی پر کانفرس منعقد کرنا، اور دروازے پر کوئی بھوکا غریب مدد طلب کر لے تو اس کو دھتکار کر “دفع” کر دینا۔

    یہ قدرتی خنثی بھی بیچارے وہی ہیں۔ ان کی شناخت کو بیچ کر کھا لیا گیا ہے۔

    مسلم معاشرے کی روایت خنثیوں کو نارمل انسان سمجھنا ہے۔

    جبکہ انسانیت کو مسخ کر کے رکھ دینے والی بدکاری کی منبع لبرل تہذیب خنثیوں کی شناخت کو ہائی جیک کر کے اس پر ان ٹرانس جینڈرز کا قبضہ کروا دیتی ہے جو خنثی ہوتے ہی نہیں، بلکہ پیدائشی مرد ہوتے ہیں۔

    اور پھر ان ٹرانس جینڈرز کو “پیار کی مستحق “ قرار دے کر مردوں کے ساتھ اس کے جنسی تعلق کی راہ ہموار کرنے پر زور لگایا جاتا ہے۔ (یعنی ہم جنس پرستی)

    اسی لیے ان کے میڈیا میں، ان کے احتجاجوں میں، ان کے ڈراموں اور فلموں میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی مرد کو کسی ٹرانس جینڈر عورت (جو کہ حقیقت میں ایک مرد ہی ہے) سے پیار ہو سکتا اور وہ اس سے جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اور یہ سب شیطانی کھیل پوری دنیا میں پائے جانے والے چند سو یا ہزار خنثیوں کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔

    وہی خنثی جو خود ایک جنسی پراڈکٹ کی بجائے عزت کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا جسمانی معذور شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کو معذور سمجھا جائے اور اس پر ترس کھایا جائے۔

  • زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانی نسل کو کئی قدرتی آفات کا سامنا صدیوں سے رہا ہے۔ ان میں زلزلے ، طوفان، سیلاب، آتش فشاں، وغیرہ سب شامل ہیں مگر دو قدرتی آفات ایسی ہیں جن سے روئے زمین پر پوری انسانیت کے مٹ جانے کا خطرہ ہے۔ ایک وہ جو خوردبین سے نظر آتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوربین سے۔

    لیڈیز اینڈ جینٹلمین !! میں بات کر رہا ہوں وائرسز کی اور شہابِ ثاقب کی۔ وائرسز سے پھیلنے والی وبائیں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہیں جیسے کہ پچھلے برسوں میں آنے والی کرونا وائرس کی وبا جس سے لاکھوں انسان زندگی کی بازی ہار گئے۔ بھلا ہو سائنس کا کہ اتنے کم عرصے میں ویکسین تیار کر لی گئی اور اس وبا پر قابو پا لیا گیا اور اب زندگی دوبارہ سے معمول پر آ رہی ہے۔

    اور دوسری آفت ہیں شہابِ ثاقب۔ (ویسے تیسری آفت بیگم بھی ہو سکتی ہیں اگر ااُنکا موڈ خراب ہو) ہماری زمین پر ہر سال کروڑ شہابیے گرتے ہیں مگر ان میں سے کئی دس گرام سے بھی کم ہوتے ہیں جبکہ کئی ایسے جو کافی بڑے ہوتے ہیں مگر زمین کی اوپری فضا سے رگڑ کھا کر بھی اتنے رہ جاتے ہیں کہ زمین پر گریں۔ ایسے شہابیوں کی تعداد ہر روز تقریباً 17 ہوتی ہے جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر میں آپ زمین کے گرد سیارچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اتنے بڑے ہیں کہ انہیں دوربین سے ماہرینِ فلکیات ٹریک کر سکتے ہیں۔ مگر کئی ایسے ہیں جو ہم زمین سے ٹکرانے کے شاید کچھ دن یا کچھ گھنٹے پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں ماہرین فلکیات اور فلکیات کے مشاہدات کا شوق رکھنے والے لوگ دوربینوں سے ایسے خطرناک سیارچوں کو ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ناسا کا 2002 سے چلنے والا پروگرام "سینٹری” یہ دیکھتا ہے کہ ٹریک کیے گئے سیارچوں میں کونسا اتنا بڑا ہے اور اسکا مدار زمین اور سورج کے درمیان کیسا ہے کہ یہ زمین پر گر کر ممکنا تباہی پھیلا سکے۔

    13 مارچ 2005 کو ایک ایسا ہی سیارچہ دریافت کیا گیا جسکا قطر تقریباً 50 میٹر تھا۔اسکا نام 2005 ED 224 رکھا گیا۔ سورج کے گرد اسکا مدار تقریباً 2.6 سال کا ہے۔ 2005 کی دریافت کے بعد اسے دوبارہ نہیں دیکھا جا سکا۔ لہذا اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اس وقت زمین سے کتنا دور ہے۔

    کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ یہ 11 مارچ 2023 کو یہ سیارچہ زمین سے 400 ملین کلومیٹر دور سے گزرے گا مگر چونکہ سائنسدان اسکے مدار کے متعلق مکمل نہیں جانتے سو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے ٹکرائے۔ کتنا امکان ؟ پانچ لاکھ میں سے ایک۔ یعنی 0.000002 فیصد۔ موازنے کے لیے امریکہ میں کار ایکسیڈنٹ میں مرنے کا امکان تقریبا سو میں سے ایک ہے۔

    لہذا” آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے”.

    یہ محض اس لئے بتا رہا ہوں کہ دراصل مستقبل میں انسانیت کو کسی بڑے سیارچے کے زمین پر گرنے سے خطرہ ہے اور اسی لئے اسی سال ناسا کا ڈارٹ مشن ایک سیارچے کے چاند کو تجرباتی طور پر ٹکرایا ہے تاکہ اسکے مدار میں تبدیلی لائی جا سکے اور یہ مشن کامیاب رہا ہے۔ سو یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی تباہی سے زمین کو ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

  • اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    کچھ جملے فیس بک اور یوٹیوب کی دنیا میں ویڈیو ٹائیٹل پر دیکھے تھے فلاں حضرت نے وہابیوں کی چھترول کی دی.. فلاں حضرت نے بریلویوں کی بینڈ بجا دی.. فلاں حضرت نے دیوبندیوں کے پھٹے اکھاڑ دیے.. فلاں حضرت نے شیعوں کی کلاس لگا دی.. حیاتی ممامتی ایک دوسرے پر چڑھ گئے وغیرہ وغیرہ

    وقت گزرنے کے ساتھ اسی مزاج کو اسلام کا مزاج سمجھ لیا گیا لیکن حقیقت میں اس کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ہمارے ہاں رائج فرقوں کا اسلام سے تعلق ہے

    اسی سلسلے کا ایک جملہ..

    فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا.. مغرب اور لبرلز کے منہ پر طمانچہ..

    یہ جملہ کوئی چھ سو مرتبہ پڑھ چکا ہوں.. سوچ رہا ہوں کہ اس ملائیت زدہ معاشرے کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت ہے؟ ان کے نزدیک قرآن مجید کا مقصد طمانچے لگانا ہے؟

    آئیے قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں

    قرآن کے نزول کا مقصد

    ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

    یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.

    ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔

    نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا مقصد

    وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ
    اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے ۔

    امت مسلمہ کا مقصد

    كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ

    تم بہترین امت ہو جو لوگوں (نفع رسانی) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو

    تبلیغ کا طریقہ

    قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

    آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے میں اور جو میری اتباع کرنے والے ہیں ـ اللہ کی طرف بلا رہے ہیں بصیرت کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔

    حکمت اور بصیرت اول ہے اگر قطر میں فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور شائقینِ فٹبال لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں تو بہت اچھا ہے یہی حکمت اور بصیرت ہے جس کا مظاہرہ قطر کے عوام اور وہاں کی انتظامیہ کر رہی ہے

    لیکن پاکستانیوں کے اس طمانچے والے رویے سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بدظن ہوتے ہیں اور مزید ہٹ دھرمی پر اترتے ہیں ان کی کیلکولیشن بھی کرتے جائیں..

    اپنے رویے کو تبدیل کریں.. انسان سے نفرت کو دل سے نکالیں..

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کے دوران ایک دشمن کو گرایا اس کا سر کاٹنے لگے تو اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر تھوک دیا.. آپ رضی اللہ عنہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس چل دیے.. اس نے اٹھ کر پیچھے بھاگ کر روک کر پوچھا کہ مجھے قتل کیوں نہیں کیا؟ فرمایا جب تو نے مجھ پر تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا.. میں تجھے اللہ کیلئے قتل کرنا چاہتا تھا لیکن جب میرا ذاتی غصہ شامل ہو گیا تو میں نے تجھے قتل نہیں کیا.. اس شخص نے کہا چلیں پھر یہی بات ہے تو مجھے بھی اس دین میں شامل کر لیں جس کے آپ ماننے والے ہیں..

    جنگ کیلئے آئے شخص کو کلمہ پڑھا دیا.. یہ ہوتی ہے حکمت اور بصیرت..

    وہ نہیں جو ہمارے فیس بک اور یوٹیوب کے مجاہدین لکھتے ہیں قرآن کی تلاوت سے آغاز اور زناٹے دار طمانچہ.. اسلام کی بات کرنے کیلئے الفاظ کا انتخاب درست کریں تاکہ آپ کی باتوں میں اثر پیدا ہو..

  • اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    سور یا خنزیر بنا ایسا ہے کہ وہ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ایسے ہی رشتوں میں کچھ ناسور ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے. سور پر تو قطعیت سے حرام کا حکم ہے اس لئے اس پر تحقیق کی ضرورت نہیں. لیکن اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے تعلق ہی ہوتے ہیں جو ہمیں یا تو بناتے ہیں یا بگاڑتے ہیں.

    کچھ لوگ آپ کو تکلیف بھی دیں گے اور آپ کو باور بھی کرائیں گے کہ غلطی بھی آپ کی ہے کیونکہ آپ زیادہ حساس ہیں.

    آپ کی یادداشت اور آپ کی عقل کو مشکوک بنا کر خود پر اعتماد کمزور اور اپنی ذات پر آپکا اعتماد لے کر جائیں گے.

    آپ کبھی ان کو اپنا کوئی مسئلہ بتائیں یہ فوری اس سے بڑا کوئی اپنا مسئلہ بتائیں گے. یہ نہیں چاہیں گے آپ کی توجہ خود پر جائے.

    یہ آپ کو احساس جرم میں رکھیں گے. اپنے چھوٹے چھوٹے احسانات کو بڑا بتا کر آپ سے بڑی قربانی کا تقاضا کریں گے.

    یہ آپ کو موٹیویٹ بھی کریں گے. مثلاً آپ بہت خوبصورت دل والے بہت خاص اور مہربان شخصیت ہیں. کیونکہ یہ اپنے لئے آپ کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں.

    انکا رویہ سب کے سامنے آپ کے ساتھ الگ اور تنہائی میں یہ الگ شخصیت رکھیں گے. کیونکہ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو بہت سے نقابوں میں چھپا کر رکھتے ہیں.

    کبھی آپ تنگ آکر لڑ بھی لیں تو یہ آپ کو مکمل نظر انداز کریں گے. جیسے مچھلی کا شکاری مچھلی کی مزاحمت پر ڈور چھوڑ دیتا ہے کہ کہیں کانٹا ہی نہ نکل جائے.

    یہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ان کی کامیابیوں کی داستانیں سب من گھڑت ہوتی ہیں ان کی مہربانیوں ان کی سٹرگل کی ساری داستانیں ان کی ذہنی پیداوار ہوتی ہیں اور آپ ایک نئی کہانی ایک نئے کردار سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ہوتے.

    لیکن آپ کی ایک اپنی کہانی ہے. بجائے دوسروں کی کسی کہانی میں ایک غلام کردار بننے کے اپنی کہانی میں ہی رہیں. ایسی ڈبہ فلموں سے فاصلہ رکھیں. ورنہ اپنی کہانی فلاپ کر لیں گے.