Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹاگرام اب دنیا بھر کے بےکاروں کے لئے نیا نہیں ہے۔ ہر روز لوگ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لئے لاکھوں لال گلابی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ثابت ہوا جب کہ فیس بک لوگوں کو اس پر گاگا بنا رہا تھا۔

    جس چیز نے انسٹاگرام کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے "رومانوی” بنایا وہ اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی انوکھی خصوصیت ہے ۔ یہ ایک براہ راست فارورڈ میڈیا شیئرنگ کی جگہ ہے جہاں صارفین کو پیغام رسانی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    مزاحیہ چیزیں :
    یہ سیکشن نہ صرف آپ کو انسٹاگرام پوسٹس کے حوالے سے حالیہ ٹرینڈز کے بارے میں بتانے جا رہا ہے بلکہ انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کرنے کے لیے کچھ مضحکہ خیز چیزوں کے بارے میں بتانے جا رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نیچے دی گئی چیزوں کو پسند کریں گے اور یہ آپ کے اکاؤنٹ پر انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں پر لائکس بڑھانے میں مدد کرے گا۔

    فننی اقتباسات:
    اگر آپ انسٹاگرام پر نیا اکاؤنٹ یا نیا صفحہ ترتیب دے رہے ہیں تو میرے خیال میں آپ کو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں سے شروع کرنا چاہیے اور وہ بھی مضحکہ خیز حوالوں سے۔ آپ انہیں پورے انٹرنیٹ پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اتنا مشکل ہے اور آپ ایسی تصویروں کے ذریعے کچھ کمال کریں گے۔
    یہ مضحکہ خیز اقتباسات کسی کے بارے میں یا صرف عام معنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کچھ ٹیکسٹ ایڈیٹنگ اور پھر امیج کی فارمیٹنگ کی مدد سے اپنے مضحکہ خیز اقتباسات بھی بنا سکتے ہیں۔

    ٹراول:
    سوشل میڈیا کے دیوانے لوگوں میں ٹرول ایک نیا مضحکہ خیز فن ہے۔ یہ صرف انسٹاگرام کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ دوسرے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوتا ہے جیسے ٹویٹر، فیس بک، اور سنیپ چیٹ وغیرہ۔ آپ دیکھیں گے کہ آج کی دنیا میں، اگر آپ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہیں، تو بس حالیہ ایونٹ کو ٹرول کریں۔

    میں کسی اچھی چیز کے لیے کسی مخصوص شخص کو ٹرول کرنے کی کھلے عام حمایت نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن اگر یہ کرنا قابل ہے تو کیوں نہیں؟ یہ کسی کے لباس، ظاہری شکل، فلموں، سیاست یا کسی اور چیز کے بارے میں ہوسکتا ہے۔

    طنزیہ تصاویر:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے اس قسم کی Funny چیزیں صرف مخصوص وقت کے لیے ہیں۔ جب بھی آپ کو لگتا ہے کہ کوئی واقعہ تمام تر قیاس کے قابل ہے تو آپ اس کے لیے کچھ طنزیہ تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے نہ صرف آپ کی سوشل میڈیا پر موجودگی بڑھے گی بلکہ آپ بڑے پیمانے پر سامعین پر ڈورے ڈال سکتے ہیں۔

    شارٹ کامکس امیجز:
    یہ آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوری مزاحیہ پوسٹ کرنا ناممکن کی طرح ہے جب تک کہ آپ اس کے لئے "مادر پدر” آزاد نہ ہوں یا آپ کے پاس بہترین ڈیٹا کنکشن ہو۔ ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے کہ آپ کے مداحوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ایک درمیانی راستہ درکار ہے اور یہ ایسی مثالوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    گفز:
    گرافکس انٹرفیس فارمیٹ یا GIFs شہر میں نئی ​​ٹرینڈنگ چیز ہیں۔ آپ انہیں "صاف” تصاویر یا مختصر ویڈیوز بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر "محو رقص” ہیں اور یہ موشن پکچرز آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کرنا واقعی حیرت انگیز ہیں۔

    مزاحیہ ویڈیوز:
    انسٹاگرام نے ویڈیو کی "قد وقامت” کی حد کو بھی 60 سیکنڈ تک بڑھا دیا ہے۔ لہذا، یہ آپ کے لیے کچھ حیرت انگیز طور پر مضحکہ خیز اور مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کا بہترین موقع بناتا ہے جیسا کہ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ویڈیوز کی طرح کچھ بھی مضحکہ خیز ہوسکتا ہے۔

    ظاہر ہے، تصاویر بھی مضحکہ خیز ہیں لیکن سامعین اور پیروکاروں تک جو چیز زیادہ پہنچتی ہے وہ یقینی طور پر ویڈیوز ہیں۔

    قصہ کوتاہ:
    ایک سے زیادہ تصاویر میں مختصر کہانی کافی عرصے سے انسٹاگرام نے صارفین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد تصاویر شیئر کرنے کی سہولت حاصل کی۔ اب، آپ اپنی گیلری سے 10 تک ایک سے زیادہ تصاویر اڑا سکتے ہیں اور اسے اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کر سکتے ہیں یہاں تک کہ فلٹر لگانے کے ساتھ بھی۔

    حرف "تاخیر”:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے واقعی مزاحیہ فننی چیزوں کا انتخاب کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے پیروکاروں میں اضافہ کرے گا بلکہ آپ کو مختلف لوگوں سے "جُڑنے” میں بھی مدد ملے گی۔ تفریح ​​​​ایک ایسی تفریق ہے جو کبھی بھی رجحانات سے باہر نہیں جاتی ہے۔ اور یہ وقت لوگوں کو اچھی طرح سے پلیجر دینے کا ہے۔

  • کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    آپ احباب نے بہت سے ناقدین کی زبان اور تحریر میں یہ اعتراض ضرور سنا یا پڑھا ہو گا ۔۔۔لیکن اس اعتراض میں وہی بودا پن پایا جاتا ہے کہ جو ان "کرم فرماؤں ” کے باقی اعتراضات میں موجود ہے ۔۔۔

    پہلی بات یہ ہے کہ احادیث میں جنسی مسائل کو ایک خاص حد سے زیادہ کھلے انداز میں بیان ہی نہیں کیا گیا ۔۔یہ جو شور کیا جاتا ہے کہ عریانیت ہے ، محض مبالغہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔۔۔

    دوسرا سوال ان احباب سے یہ ہے کہ جب جنسی مسائل ، سیکس کی حدود و قیود اور غسل جنابت کے فرض ہونے کی صورتیں بیان کرنا ہوں گی تو کون سی زبان لکھی جائے گی ؟

    اصل میں ہم سب کی نفسیات میں مقامی سوچ اتنی غالب ہے کہ شرم حقائق کو بھی چھپا لیتی ہے ۔۔جبکہ سیکس ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کھانے کی بھوک کی طرح ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے ۔۔لیکن جھوٹی شرم و حیا ہمیں مسلہ پوچھنے سے روک دیتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام عمر غسل جنابت کا درست طریقہ بھی جان نہیں پاتے ۔۔۔سیکس کے بہت سے حرام و حلال سے نا آشنا رہتے ہیں ، بہت سے امور جو جائز ہیں ان سے مقامی بے کار شرم و حیا کے سبب لطف اندوز نہیں ہو پاتے ۔۔۔۔اور بہت سے حرام کام کرتے ہیں اور جانتے ہی نہیں کہ یہ درست نہیں ۔۔۔

    ایک اور عجیب بات ہے کہ یہ معترضین حضرات قران کی ان آیت پر خاموش رہتے ہیں کہ جن اسی اسلوب میں انسانی تخلیق اور بعض مسائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔قران میں ہے :

    سورہ واقعہ میں ہے :

    فَرَاَيْتُـمْ مَّا تُمْنُـوْنَ (58)
    بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو

    اَاَنْتُـمْ تَخْلُقُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (59)
    کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔

    سورہ الطارق میں ہے :

    فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (5)
    پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

    خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ (6)
    ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

    يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ (7)
    جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

    اِنَّهٝ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8)

    سورہ التحریم میں ہے :

    وَمَرْيَـمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِىٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُـتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِيْنَ (12)
    اور مریم عمران کی بیٹی (کی مثال بیان کرتا ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی
    سورہ القیامہ میں ہے

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى (36)
    کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

    اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى (37)
    کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا۔

    دیکھئے کس بے تکلفانہ انداز میں تخلیق انسانی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور انسان کو غور فکر کی دعوت دی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔اور جب ان مراحل کے نتیجے میں ضروریات طہارت کا ذکر آتا ہے تو احباب کو برہنگی کا دکھ ستانے لگتا ہے ۔۔۔سوال شروع ہو جاتے ہیں کہ

    ” جی مولوی صاحب اپنی چھوٹی بیٹی کو یہ احادیث سنا سکتے ہیں ”

    بھائی بچہ تو پھر یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ ” مَّآءٍ دَافِقٍ ” کیا ہے ؟

    یہ پانی کیوں کر اچھلتا ہے اور کہاں کے چشمے سے نکلتا ہے ؟

    اور ہاں قران میں عورتوں کو کھیتی بھی تو کہا گیا ہے ۔۔۔اب بچوں کے سامنے ذرا اس آیت کی شرح کر دیجئے ۔ ۔

    نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّـٰى شِئْتُـمْ (223)
    تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔۔۔۔

    کوئی صاحب اس آیت کی شرح نہیں صرف ترجمہ کریں اور پھر احادیث پر اعتراض کو انصاف کے میزان میں رکھ کر غور کریں تو یقینا درست فیصلے پر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

    احباب ! وہ درست راہ یہی ہے کہ بے مقصد اور بے جا قسم کی حساسیت غیر متوازن رویہ ہے ۔۔۔

    عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت کہیں زیادہ ان معاملات میں حقیقت پسند اور صاف گو ہے ۔۔۔۔اور انکی زبان کی فصاحت بھی انکو ایسے معاملات کو بیان کرنے کے لیے بہت آسانی مہیا کرتی ہے ۔۔

    آب آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کو دیکھ لیجئے کہ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وجوب غسل کی صورت پوچھی گئی ۔ کیسے خوبصورت کنائے اور اشارے میں جماع کی صورت بیان کی گئی اور مسلہ بھی بتا دیا گیا ۔۔حدیث کے الفاظ ہیں :

    اذا جلس بین شعبھا الاربع و مس الختان الختان فقد وجب الغسل
    یعنی جب مرد عورت کی چاروں شاخوں میں بیٹھ جائے ۔۔اور ختنے سے ختنہ مل جائے ۔ ۔ . تب غسل واجب ہو جائے گا ۔۔۔

    کیا اس سے زیادہ اور حیا دار الفاظ سے اس منظر کا بیان ممکن تھا ؟

    اسی طرح ایک جگہ زنا کے جرم کی تفتیش مقصود تھی تو حدیث میں انسانی آلات تناسل کا ذکر کرنے کی بجائے سرمہ دانی کو بطور مثال بیان کیا گیا ۔۔۔کہ جسے اس کا دخول ہوتا ہے کیا ویسے ہوا تو سزا دی جائے ۔۔۔

    اس کے بعد کون سی عریانیت کا شور کیا جاتا ہے ؟

    ایک اور اہم معامله یہ بھی ہے کہ ایسی احادیث بغرض تعلیم کتب میں بیان کی گئی ہیں نہ بطور افسانہ ۔۔۔۔

    کبھی آپ میڈیکل کالج جائیں ۔۔یا بایو لوجی کے طلبا کی کتب اٹھائیں جن میں انسانی آلات تناسل کی باقاعدہ تصاویر بنی ہوتی ہیں ۔۔۔۔اور استاد دوران لیکچر بورڈ پر بھی کبھی ایسی تصاویر بنا چھوڑتا ہے ۔۔۔وہاں بچے اور بچیاں سب باہم مل بیٹھ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔اس پر کیا کہیں گے ؟

    چلتے ہوئے ایک سچا واقعہ سن لیجئے ۔۔حرم شریف کے صحن میں ایک حاملہ عرب عورت اپنے چھے سات برس کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔میری اہلیہ اس کے بچے کی طرف متوجہ ہوئی اور معصوم سے بچے سے پیار بھرے سوال جواب شروع کر دیے ساتھ اسکی ماں بھی شریک گفتگو رہی ۔۔. . بچے سے پوچھا گیا کہ کتنے بہن بھائی ہو ۔۔۔تو اس نے تعداد بتائی اور ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ایک آنے والا ہے اور یہاں ہے ۔۔۔۔سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت ان معاملات میں زیادہ حقیقت پسند اور فطری رجحانات کا حامل ہے ۔۔۔

    اور کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں آخری شریعت کے نزول کے مقاصد میں ایک یہ پہلو بھی رہا ہو گا کہ وہ ہر ہر پہلو پر سوال کرتے اور پھر جواب ہمارے لیے تعلیم کا سبب ہو گئے ۔۔۔۔ہمارے ہاں اسلام نازل ہوتا تو اس "شرما شرمی” میں کسی کو غسل کا طریقہ بھی شائد معلوم نہ ہوتا ۔۔۔۔

  • رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کمرے کے وسط میں رکھی میز پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک گورا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کل ہی دبئی کے راستے لاہور پہنچا تھا ۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹیکنیکل منیجر تھا اور آج اپنی کمپنی کے لئے اسے کچھ نئے انجنئیرز کا ٹیسٹ لینا تھا۔

    کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ لمبی سی میز پر کئی اقسام کے ٹول پڑے ہوئے تھے جو مشینوں کو کھولنے یا اسمبل کرنے میں استعمال ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے والے ہر انجنئیر سے گورے کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مجھے یہ مشین کھول کر دکھاؤ ۔

    ڈیل یہ تھی کہ جس انجُئیر نے اس مشین کو کھول لیا گورا اسے کمپنی کے لوکل آفس میں بہت اچھے پیکیج پر بھرتی کر لے گا اور اگر کسی نے مشین کو کھول کر اسے دوبارہ اسمبل بھی کر لیا تو اسے سیدھا انٹرنیشنل سٹاف کا حصہ بنا لے گا۔

    یہ 1998 کا سال تھا اور انجنئیرز کا سخت بے روزگاری کا دور چل رہا تھا۔ حکومت ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ملازموں سے جان چھڑوا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے انجنئیر کو کسی جگہ عام سی جاب کے لئے بھی بہت تگ ودو کرنا پڑ رہی تھی اور یہاں تو معاملہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کا تھا۔

    جو بھی انجنئیر کمرے میں داخل ہوتا وہ جاکر کوئی نہ کوئی پیچ کس نما ٹول اٹھاتا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنا انتخاب یقینی بنانے کے لئےمشین کے ساتھ کشتی لڑنے میں مصروف ہوجاتا لیکن کسی کی دال نہ گلتی۔ مشین نے نہ کھلنا تھا نہ کھل سکی۔ ایک دو ہٹے کٹے نوجوانوں نے تو زور زبردستی لگا کر مشین کا ایک آدھا پیچ وغیرہ کھول بھی لیا جس کی وجہ سے مشین کے پیچوں کی جھریاں بھی خراب ہو گئیں لیکن پھر تنگ آکر انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئے۔

    احسن بھی امیدواروں کی قطار میں بیٹھا کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی یوای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ کی تھی لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک اسے کوئی کام نہیں مل سکا تھا۔وہ ساری رات اس انٹرویو کی تیاری کرتا رہا تھااور اب اس عجیب و غریب مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں کورس کی کتابیں خاموش تھیں۔

    اپنی باری پر احسن کمرے کے اندر گیا تو گورے نے اسے بھی مشین کھولنے اور اسے دوبارہ اسمبل کرنے کا ٹاسک دیا اور خود آرام سے ایک طرف منہ کرکے کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ تاہم کبھی کبھار وہ عینک کے شیشے کے پیچھے سے اس کی طرف بھی دیکھ لیتا۔

    احسن نے سب سے پہلے تو مشین کے چاروں طرف گھوم پھر کر اس کا جائزہ کیا۔ اس کے پیچ اور سیلیں وغیرہ دیکھتا رہا اور پھر ٹولز والی میز کے قریب جاکر مشین کے پیچوں کی مطابقت رکھنے والا ٹول ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے استعمال کرکے مشین کھولی جا سکے ۔ تاہم باوجود تلاش کے اس طرح کے منہ والا ٹول اسے میز پر نظر نہ آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس ٹول کے بغیر اور کون سے ٹول سے مشین کھولی جا سکتی ہے لیکن اسے کوئی ملتا جلتا ٹول بھی وہاں نہیں دکھ رہا تھا۔ اوپر سے ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔اس نے آکر مشین کو دوبارہ چیک کیا اور پھر ٹولز کو دوبارہ دیکھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    جب اسے میز کے پاس کھڑے کافی دیر ہوگئی تو گورے نے گلہ کنگھار کر اسے کہا کہ مسٹر احسن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ جلدی سے مشین کو کھولنا شروع کریں۔ تب احسن نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سر مشین کو صحیح طریقے سے کھولنے والا متعلقہ ٹول میز پر موجود ہی نہیں اور دوسرے ٹولز کے استعمال سے مشین کے پیچ خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔

    گورے نے کتاب بند کی، عینک اتاری اور کرسی سے کھڑا ہوتے ہو ئے کہا “ کانگریجولیشنز ۔ یو آر ہائیرڈ” وہ دوست اب اس ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلی عہدے پر ہیں اور ماشااللّہ بہت خوش حال ہیں۔

    آج کل ڈیجیٹل سکلز سیکھنے ، سکھانے اور اس سے لمحوں میں دولت مند ہونے کا بہت رجحان ہے۔ یقینی بنائیے کہ آپ اپنا وقت اور پیسہ ایسے ٹول سیکھنے پر لگا رہے ہیں کہ جس سے آپ اپنے بہترمستقبل کی مشین کو آسانی سے کھول سکیں۔ بھیڑ چال میں الٹے سیدھے ٹولز کے استعمال سے سے اپنی ترقی کی مشین کو داغدار نہ کریں۔

  • دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سلیمان علیہ السلام نے ھدھد کے ذریعے ملکۂ سبا کو خط بھیجا جو پیغام رسانی کے طریقوں سے بالکل ہٹ کر تھا۔

    اس کی آمد سے پہلے اسکا عظیم الشان تخت منگوا لیا۔۔۔

    اسے اپنے عظیم الشان محل کی سیر کروائی جہاں وہ شیشے کے فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔۔۔

    مقصد کیا تھا؟

    یہ بتانا کہ اگر تو ملکہ ہے اور تیرے پاس دنیاوی عیش و عشرت کا سامان ہے تو ہمیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ دے رکھا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ زندگی کا اصل مقصد نہیں اور اصل مقصد کے آگے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اصل تو توحید ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ جس نے یہ سب عطا کیا ہے، اسے پہچان لو اور اکیلے اس ایک ہی کی عبادت کرو۔۔۔۔

    یہ دعوت کا ایک اسلوب تھا کہ ظاہری جاہ و جلال کے متوالوں کو دکھایا جائے کہ یہ چیزیں ہمارے پاس تم سے زیادہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک انکی کوئی اہمیت نہیں۔ اور پھر اصل اہمیت کی حامل دولت، یعنی توحید کی طرف دعوت دی جائے۔

    ظاہر ہے کہ یہ ایک اسلوب ہے، پر واحد اسلوب نہیں۔ داعی اپنے دور کے تقاضوں اور اپنی استعداد کے مطابق حکمت کے ساتھ کوئی بھی اسلوب اختیار کر سکتا ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ یہ پیغام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامعین تک پہنچا دے گا۔

    اصحاب الاخدود والے واقعے میں اس لڑکے نے ظالم اور مشرک بادشاہ پر واضح کر دیا کہ وہ اسے نہیں مار سکتا۔ ہاں اگر اللہ کا نام لے کر تیر چلائے تو کامیاب ہو جائے گا۔ اور یوں اس نے حق کا پیغام ایسے پہنچایا کہ پوری قوم مسلمان ہو گئی۔۔۔۔ اور ایسا ایمان لائی کہ آگ کی خندقوں میں چھلانگ لگا دی پر ایمان سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔

    اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضاء کے معجزات خاص طور پر فرعون کو مرعوب کرنے کیلئے عطا فرمائے۔ موسی علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اپنے معجزے کے اظہار کا مطالبہ کیا تاکہ (اللہ کی عطا کردہ) اپنی اس طاقت سے پوری قوم کو متاثر کریں۔ جادو گروں پر ثابت کیا کہ میرے پاس تم سے بڑی طاقت ہے، پر یہ اصل چیز نہیں۔۔۔۔ اصل تو وہ ذات ہے جس نے یہ عطا کی اور اسکا پیغام ہے جو میں لایا ہوں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ مصلوب ہونا قبول کر لیا پر ایمان کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔

    ہمارے سطحی سوچ والے اس دور میں ہوتے تو کہتے کہ سلیمان علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور وہ مومن و موحد لڑکا محض شو مار رہے ہیں۔۔۔۔ (نعوذباللہ)….

    اگر کوئی یہ بتا رہا ہے کہ میرے پاس تم سے بہتر بائیک ہے اور تم سے بہتر سٹائل ہے، لیکن یہ اصل نہیں۔ اصل وہ ہے جو میں تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔۔

    لیکن:

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
    غیروں نے آ کے پھر بھی اسے تھام لیا ہے ۔۔۔!!!

    یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ آجکل کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان دن بدن مولوی سے متنفر ہوتا جا رہا ہے۔

    میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی، ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہی طریقہ اختیار کرے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ جس طریقے کو مؤثر سمجھتے ہیں اور جس میں مہارت سے ابلاغ کر سکتے ہیں، اسے اختیار کریں۔۔۔۔ لیکن خدارا، پورے سیناریو کو سمجھے بغیر بلاوجہ کی تنقید سے باز آ جائیں۔ اس سے آپ جدید ذہن کو مزید اپنے سے دور ہی کریں گے اور یہ دین کی کوئی خدمت نہیں۔۔۔!!!

  • انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    2010 تک ایم بی بی ایس ایک عام سی ہی ڈگری ہوا کرتی تھی باقی ڈگریوں کی طرح جبکہ انجنئیرنگ 2004-2005 تک ایک عام سی ڈگری تھی.

    پھر یک دم انجنئیرنگ کا عروج آیا کیونکہ انجنئیرز کو بیرون ممالک اور اپنے ملک میں ایسی نوکریاں ملی مشرف کے دور میں کہ انجنئیرز کا قحط پڑھ گیا بندے مل نہیں رہے تھے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ فیلڈ کرنی چاہیے پیسہ ہی پیسہ ہے ہوا یہ کہ 2008 کے بعد سے ہر بندے نے پرائیویٹ کالج کھولنا شروع کیے پانچ سال 2008 سے 2013 تک انجنئیرنگ فل عروج پے رہی تاریخ کے بڑے بڑے انٹری ٹیسٹ ہوئے اتنی تعداد کبھی اس سے پہلے شامل نا ہوئی تھی اور پھر حالات بدلے وقت بدلا نوکریاں نا ملی انجنئیر بدنام ہوئے پرائیویٹ بزنس بند ہوئے کالجز میں ان ٹیک ختم ہونا شروع ہوئی 2017 کے بعد سے اب 2022 ہیں انجنئیرنگ کے تقریباً تمام پرائیویٹ کالج بند ہوچکے ہیں اور بڑی یونیورسٹی جیسے کامسٹ وغیرہ میں بھی داخلے کم ہیں سب پریشان ہیں۔۔۔۔

    اب اس فیلڈ کو پھر عروج آئے گا 2023 کے بعد 2030 تک ممکنہ طور پے فیلڈ اوپر جائے گی ۔۔۔۔۔

    اسی طرح میڈیکل 2010 تک ایک نارمل ڈگری تھی لیکن وقت بدلا انجنئیرنگ سے سارا رش اٹھ کے میڈیکل پے آنے لگا 2013 کے بعد عروج شروع ہوا اور 2017 تک تمام انجنئیرنگ کالج میڈیکل کالج میں بدلنا شروع ہوئے جن جن کے انجنئیرنگ کالج تھے انہوں نے ایم بی بی ایس نا کروا سکے تو الائیڈ ہیلتھ اور نرسنگ وغیرہ شروع کردی نتیجہ یہ نکلا کہ بزنس سارا شفٹ ہوگیا میڈیکل پے اور اسکے گریجویٹ 300٪ بڑھ گے جہاں 100 بچہ نکلتا تھا اب 400 نکلنے لگا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز دو تین سال بعد بند ہونا شروع ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔

    جو اس وقت عروج ہے وہ ہے کمپیوٹر سائنس کا ہر گلی میں ہر گھر میں ایک ادارہ کھل رہا ہے جو کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کروا رہا ہے اگلے دو سال بعد انتہائی زوال جو شروع ہونا ہے وہ کمپیوٹر گریجوایٹس کا ہے جنکے پاس ڈگری ہوگی پر فری لانسنگ کے لیے کوئی سکل نہیں مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہونگی فری لانسر کی مارکیٹ یہ خراب کریں گے سستے میں کام کر کے شدید مسائل اس فیلڈ کو آنے والے ہیں۔۔۔

    سمجھدار لوگ اپنے بچوں کو انجنئیرنگ میں داخل کروائیں ایف ایس سی پری انجنئیرنگ کروائیں کیونکہ اسکا پھر عروج آنے والا ہے ہاں البتہ میڈیکل ابھی اپنے زوال کو جائے گا جب پرائیویٹ کالج سسٹین نہیں کر پائیں گے وہ بند ہونگے لوگ داخلہ لینا چھوڑیں گے تو تقریباً 10 سے 12 سے آٹھ سال بعد ایک بار پھر اس فیلڈ کا عروج آئے گا۔۔۔۔

    فلوقت اگر کوئی والدین اپنی جائیداد بیچ کر بچے کو پرائیویٹ ایم بی بی ایس کروانا چاہتے ہیں تو ان والدین سے بے وقوف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    انہیں شدید غورو فکر کی ضرورت ہے.

  • سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ —  ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ — ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    مرد۔۔۔

    جسں کی زندگی کچھ ایفرٹس کے گرد گھومتی رہتی۔۔۔ جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے، اس معاشرے میں سروائیو کرنے کے لیے تگ و دوو کرنا ہوتی ہے۔۔۔!!

    عمر کا ایک ہندسہ عبور ہوتے ہی گھر والے باہر والے اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنا شروع ہو جاتے کہ بھئی کما کر لا۔۔۔ گھر چلا۔۔۔ وہ جس نے ہزار شوق پالے ہوتے، اپنی زندگی کے حوالے سے وہ معاشرے کے پریشر گھر والوں کے سوالات رشتہ داروں کے طعنوں کی نذر ہوتے چلے جاتے آخر کار سب خواب دفن کر کے کسی بھی اوکھلی میں سر دے دیتا جس سے چار پیسے آنے لگیں، معاشرے کے منہ پر مارنے کے لیے۔۔۔

    اگر کوئی متوسط طبقے سے تو بھائیوں کو لڑکپن سے ہی یہ بات سمجھانا شروع کر دی جاتی کہ گھر میں بہنیں ہیں۔۔۔بھائی بھلے چھوٹے ہوں بھلے بڑے انہیں ذمہ دار ہونا ہوتا۔۔۔ وہ باپ کے ساتھ کندھا ملا کر بہنوں کو عزت سے رخصت کرنے کی تگ و دوو میں جت جاتے، محنت مزدوریاں کرتے، گرمی سردی دھوپ جھڑ کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔

    پھر جب مرد کی شادی کی بات آتی ہے تو ایک بار پھر یہ معاشرہ منہ پھاڑے کھڑا ہوتا۔۔۔

    لڑکا اچا لما ہو۔۔ کھاتا کماتا ہو۔۔ یہ تو ایک لیول۔۔ پھر ایک لیول آتا لڑکے کے پاس اپنا گھر ہو۔۔ لڑکے کے پاس اپنی گاڑی ہو۔۔۔ اپنا ایسا کاروبار ہو۔۔اتنا بینک بیلنس ہو۔۔ اتنا زیور ڈالے۔۔۔فلاں فلاں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

    وہ جو پہلے کچھ ذمہ داریوں سے کچھ توقعات سے بندھا تیسری دہائی پوری کرنے کو ہوتا یہ ڈیمانڈز اس کی زندگی کے کئی سال مزید کھا جاتیں۔۔۔

    فکر معاش سے نکلتے نہیں کہ فکر قماش آن پڑتی۔۔۔

    اور سب سے مزے کی بات ان سب ایفرٹس کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا جاتا۔۔۔آپکے رشتے آپسے متعلقہ لوگ یہ بھول جاتے کہ مرد بھی انسان ہی ہوتا، اس کی کچھ ایموشنل نیڈز بھی ہوتیں ۔۔۔

    وہ جسے اس مہنگائی کے عفریت سے بھی لڑنا،جسے گھر کا چولہا بھی گرم رکھنا، جسے بچو کا پیٹ بھی بھرنا، جسے بچیوں کے ہاتھ بھی پیلے کرنے، جس نے گدھے کی طرح جتے رہنا مسلسل کب بال سیاہ سے سفید ہوئے، کب روٹی سے نکل کر بچوں کی تعلیم اور کب تعلیم سے نکل کر بچیوں کی شادیوں کی فکر آن سر ہوئی ۔۔کچھ معلوم نہیں کسی کو پرواہ بھی نہیں۔۔۔وہ مرد جو اس مشکل ترین دور میں گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے لیے اپنا خون پسینہ ایندھن بنائے رکھتا، جو معاشرے کے جھوٹے معیاروں کو پورا کرتے کرتے کمر دوہری کروا لیتا۔۔ جو اپنے سب شوق سب خواب بھینٹ چڑھا دیتا ۔۔جو رشتہ داروں کے طنز وتشنیع سے لے کر حالات کے تھپیڑوں تک سب برداشت کرتا۔۔۔
    وہ کئی بار ساری زندگی کی کمائی لٹا کر بھی اپنا آپ بیچ کر بھی ایک بیوی تک کو خوش نہیں کر پاتا ۔۔۔

    وہ جو سارے گھر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا،وہ ماں اور بیوی(ساس اور بہو) کے درمیان کی رسہ کشی میں ادھڑتا ریشہ ریشہ ہو جاتا۔۔۔
    جو زندگی کے مختلف سٹیجز میں کبھی بہنوں تو کبھی بیٹیوں کی ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے۔۔کہیں ماں کی خواہشات کا احترام کرتے کرتے۔۔۔ کہیں بیوی کی توقعات پر پورا اترتے اترتے۔۔ قبر کنارے جا پہنچتا۔۔۔

    اس مرد کو یہ عالمی دن نہیں چاہیئے ۔۔۔

    اس کے لیے ایک احساس کافی ہے اگر کیا جائے کہ جہاں عورت کو ایک محاذ درپیش ہوتا ازدواجی۔۔۔

    وہاں مرد کو معاشی اور ازدواجی دونوں پہلووں پر بغیر کسی بھی ہمدردری کے یکساں مشقت کا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ٹارچر سہہ رہا ہوتا۔۔۔ وہ گھر اور باہر دونوں جگہ پس رہا ہوتا، اس کے پاس سر رکھ کے رونے والا کوئی کندھا بھی نہیں ہوتا۔۔اس کے پاس مورد الزام ٹھہرانے کے لیے کوئی ولن بھی نہیں ہوتا۔۔ اس کی بھی کچھ ایموشنل نیڈز ہوتی ہیں۔۔۔اسے بھی کچھ سپورٹ کی ضرورت ہوتی، انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہوتی۔۔۔بس یہ احساس کافی ہے مرد کے لیے اگر ہو تو ۔۔۔!!

  • مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو کا مطلب ہے چھوٹا اور سیفلی کا مطلب ہے سر تو اس اصطلاح کا مطلب ہوا چھوٹا سر۔ یہ ایک نیورولاجیکل کنڈیشن ہے جس میں ماں کی کوکھ میں ہی یا پیدائش کے بعد بچے کا سر ایورج سے بہت زیادہ یا قدرے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اور پنجاب میں ان بچوں کو زمانہ جاہلیت میں "شاہ دولا پیر کے چوہے” کہا اور مانا جاتا تھا۔

    ان کو درباری ملنگ بنا کر ان کے ہاتھ میں کاسہ دے کر سبز کپڑے پہنا کر بھیک منگوائی جاتی تھی۔ یہ پریکٹس اب بھی خال خال دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ ان کو شاید ولی اللہ سمجھتے ہیں اور ان کو بھیک نہ دینا ان کا دل دکھا کر خود کو کسی مشکل میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان سے دعا بھی کرواتے ہیں۔ ان کی دعا میں وہی اثر ہے جو کسی بھی اور شخص کی دعا میں۔ پلیز اس غلط فہمی سے نکالیں خود کو باہر۔

    یہ سب جاہلیت ہے۔ ان کا کسی شاہ دولے پیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بچے پوری دنیا میں پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی وجوہات میں سے چند یہ ہیں۔

    1. حاملہ ماں کو متوازن غذا کا میسر نہ ہونا بچوں کی گروتھ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جہاں اور مسائل پیدا ہوتے وہیں مائیکرو سیفلی بھی اکثریت میں ماں کو اچھی غذا نہ ملنے سے رونما ہوتا ہے۔

    2. جنیٹک یا کروموسومل وجوہات بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔ جیسے ڈاؤن سنڈروم۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کا سر بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔

    3. حمل کے دوران حاملہ لڑکی کو ہونے والے انفیکشنز جیسا کہ زیکا وائرس، rubella, toxoplasmosis, cytomegalovirus, chickenpox وغیرہ

    4. دوران حمل بچے کے سر کو آکسیجن کا پورا نہ ملنا اسکی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اپنا ریگولر سکین ہمیشہ کسی ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروایا کریں۔ گائنی ڈاکٹر ریڈیالوجسٹ نہیں ہوتیں۔ وہ الگ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو صرف ایکسرے و الٹرا ساؤنڈ ہی کرتے ہیں۔

    5. حاملہ لڑکی کو (phenylketonuria (PKU ہونا۔ اس پی کے یو پر پھر کسی دن تفصیلی مضمون لکھوں گا۔

    6. بچے کی سر کی ہڈیوں کا وقت سے پہلے آپس میں جڑ جانا جسے ہم craniosynostosis کہتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا تو اس کے سر کی ہڈیوں ابھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو بعد میں جڑتی ہیں۔ مائیکرو سیفلی میں وہ جلدی جڑ جاتی ہیں۔ اور سر بڑا ہونے سے رک جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ کچھ ماحولیاتی عوامل بھی مائیکرو سیفلی کی وجہ بنتے ہیں۔ حاملہ لڑکی کا بہت زیادہ ادویات لینا، شراب یا نشہ آور چیزیں لینا الکوحل کا استعمال بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔

    مائیکرو سیفلی کے ساتھ مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    ڈویلپمنٹ کے پانچویں ایریاز بولنا، چلنا، سوچنا سمجھنا، اپنے کام خود کرنا، اور سوشلائزیشن میں واضح ڈی لے ہوگا۔ فزیکل گروتھ بھی ایورج سے کم ہوگی۔ یہ بچے عموماً آپ کو مجموعی طور پر دبلے پتلے سے چھوٹے قد کے ہی نظر آتے ہیں۔ سر کے ساتھ قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے جسے Dwarfism کہتے ہیں۔

    لرننگ ڈس ابیلیٹیز یا ڈفی کلٹیز ہو سکتی ہیں۔
    چلنے پھرنے اور چلنے میں بیلنس قائم کرنے کے مسائل ابتدائی عمر میں کافی شدید ہوتے ہیں۔
    بچے بہت زیادہ روتے رہتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ڈس فیجیا Dysphagia بھی ہوتا ہے۔ یعنی وہ کوئی چیز نگلنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ سماعت سے جزوی یا مکمل محرومی ہو سکتی ہے۔ نظر کم ہو سکتی ہے۔ اور ہائپر ایکٹویٹی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھیں گے۔ ان کی جان کو سکون نہیں ہوگا۔

    کچھ کیسز میں جہاں علامات شدید ہوں۔ ان بچوں کی چند دن یا چند ماہ میں ہی وفات ہو جاتی ہے۔ ہر مائیکرو سیفلی اپنی وجوہات اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

    کچھ مائیکرو سیفلی تو بلکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا آئی کیو اور باقی سب کچھ نارمل ہوتا ہے۔ بس سر چھوٹا ہوتا ہے۔

    اور اکثریت میں ان بچوں کی زندگی نارمل گزر سکتی ہے۔ ان کو بس رحم اور ترس سے نکال کر تعلیم و تربیت دی جائے۔

    جیسے ہی بچہ پیدا ہو تو ہر ماہ اس کے سر کی پیمائش کریں۔ گھر پڑا انچ ٹیپ ہی استعمال کریں اور سینٹی میٹرز میں سر کو ماتھے سے پیچھے کی جانب گول ناپیں۔ اور ایک چارٹ تیار کریں جس پر 36 ماہ تک یہ پریکٹس جاری رکھیں۔ وزن اور قد بھی اس کے ساتھ لکھتے رہیں۔ جہاں کوئی ریڈ فلیگ نظر آئے کہ سر نہیں بڑھ رہا یا قد نہیں بڑھ رہا وزن نہیں بڑھ رہا تو کسی چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔

    علاج کیا ہے؟

    اس کا دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہاں ان بچوں پر سالہا سال محنت کرکے ہم ان کے معیار زندگی کو بلند اور بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کو تعلیم دے سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ہنر سکھا سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ٹریننگ دے سکتے ہیں۔ اور یہ اپنی زندگی بڑی آسانی سے مالی خود مختار ہوکر گزار سکتے ہیں۔ شادی کرکے بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے سے پاس آؤٹ دو مائیکرو سیفلی بچے بلال اور احمد الحمدللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک آلو چنے کا اپنی ہی گلی میں اسٹال لگا کر روزانہ 1 ہزار روپے تک منافع کما لیتا ہے۔ اور دوسرا لڑکا ایک فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ویٹر ہے۔ جس کی تنخواہ اور ٹپ ملا کر کوئی 20 ہزار ماہانہ کما رہا ہے۔ دونوں نوشہرہ ورکاں میں ہیں کوئی دوست جب بھی چاہے ان سے آکر میرے ساتھ خود مل سکتا ہے۔

    اگر ایک بچہ مائیکرو سیفلی پیدا ہو جائے تو دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے کم سے کم پروفیسر گائنی ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔ورنہ 25 فیصد زیادہ چانسز ہونگے دوسرا بچہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ڈاکٹرز پہلے بچے کی وجوہات کا تعین کرکے گائیڈ کرتی ہیں کہ اگلے بچے کو اس سے کیسے بچائیں مگر انتہائی قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر ہی ان معاملات میں گائیڈ کر سکتی ہیں۔

    بھیک مانگنے والے مائیکرو سیفلی کو پلیز ان حرام خور پیشہ ور بھکاریوں سے آزاد کریں۔ وہ ان کو ٹھیکے پر لے کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ آپ ترس کھا کر ان کو دس بیس دے دیتے اور یوں ہی نسل در نسل یہ بھیک کی لعنت مائیکرو سیفلی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی۔

  • جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری کائنات میں ایک اندازے کے مطابق زمین پر ریت کے ذروں سے بھی 26 گنا زیادہ ستارے ہیں یعنی یہ تعداد کھربوں میں ہے۔ کائنات اربوں نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں ہر روز ہزاروں ستارے جنم لیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر سال تقریبا 150 ارب نئے ستارے جنم لیتے مگر یہ تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود 90 فیصد ہائیڈروجن گیس اب تک ستاروں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملکی وے میں سب سے پرانے ستاروں کی عمر کا تعین کر کے ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہماری کہکشاں کو بنے کم از کم 13 ارب سال ہو چکے ہیں۔ یعنی یہ کائنات کے بننے کے تقریباً 80 کروڑ بعد بنی۔ ملکی وے میں ہر سال سورج یا سورج سے بڑے تقریباً 7 ستارے جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح اوسطاً دو ستارے جو سورج سے ماس میں کئی گنا بڑے ہوتے ہیں وہ سپرنووا بن کر پھٹتے ہیں جبکہ ایک کم ماس کا ستارہ پلینٹری نبیولا میں تبدیل ہوتا ہے۔ اب یہ پلینٹری نبیولا کیا بلا ہے؟ جب سورج یا سورج سے کچھ بڑے ستارے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں تو یہ پھیلنے لگتے ہیں۔مستقبل میں سورج بھی اپنے موجودہ سائز سے پھیلتے پھیلتے تقریباً 300 گنا بڑا ہو جائے گا اور یہ عطارد، زہرہ، اور زمین سب کو نگل لے گا۔ اسکے بعد سورج کی باہری سطح میں موجود تمام مواد جس میں گیسیں اورخلائی گرد موجود ہو گی آہستہ آہستہ باہر خارج ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یوں سورج اپنے انجام پر ایک۔پلینٹری نبیولا بن جائے گا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ سورج اور نظامِ شمسی کے دیگر سیارے بھی ایسے ہی 4.6 ارب سال پہلے ماضی کے کسی ستارے کے انجام پر بننے والے نبیولا سے بنے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر بے حد دلچسپ ہے کیونکہ یہ جمیز ویب خلائی دوربین جو اس وقت زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے، اس سے کھینچی گئی ہے۔ اس تصویر میں ایک ایسے ہی نبیولا کی گرد میں ایک ستارے کی پیدائش کو ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ستارہ جو ابھی مکمل ستارہ نہیں بنا بلکہ بننے کے قریب ہے، اسے پروٹوسٹار کہتے ہیں۔ اس تصویر میں درمیاں میں ایک چھوٹی سی لکیر نظر ا رہی ہو گی جو گرد کے اس بادل کو دو حصوں میں "ریت کی گھڑی” کی طرح تقسیم کر رہی ہے۔ یہ لکیر دراصل اتنی چھوٹی نہیں بلکی یہ نظامِ شمسی کی سائز کی ڈسک ہے اور یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ستارہ بننے کا عمل جاری ہے اور ایک جگہ گیس اکٹھی ہو رہی ہے جو مستقبل میں گریویٹی کے زیرِ اثر اس قدر درجہ حرارت حاصل کر لے گی کہ اس میں فیوژن کا عمل شروع ہو جائے گا اور یوں ایک ستارہ بنے گا۔ یہ عمل ہونے میں کئی لاکھوں سےکروڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ فی الحال اس عمل کو شروع ہوئے اندازاً ایک لاکھ سال ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح اس نبیولا میں موجود گرد میں نئے سیارے بنیں گے جن میں شاید زمین جیسا بھی کوئی سیارہ ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے لی گئی یہ تصویر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے ہم یہ جان سکیں گے کہ ماضی میں ایسے ہی کسی عمل کے تحت ہمارا سورج اور نظامِ شمسی کیسے بنے؟

    یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدود

    صلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئے

  • سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں شہابِ ثاقب!!

    آج سے 114 برس قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ وہاں سے کئی سو میل دور تک لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی جنگلی جانور ہلاک ہو گئے اور دو ہزار مربع کلومیٹر میں موجود 8 کروڑ درخت جل کر راکھ ہوگئے۔

    مگر زمین سے کوئی شے نہ ٹکرائی۔ عینی شاہدین نے آسمان پر سورج سے بھی روشن ایک ہلے نیلے رنگ کی آگ برساتی گیند دیکھی اور پھر اس قدر شدید دھماکہ ہوا کہ انکے پاؤں زمین سے اُکھڑ گئے۔ یہ واقعہ 1908 میں پیش آئے۔ اس واقعے کو گزرے کئی سال بیت گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قدر شدید دھماکہ کس شے کا تھا۔

    پھر 1927 میں سوویت سائنسدانوں ں کے ایک ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ چونکہ سائبریا بے حد وسیع و عریض ہے اور یہاں دور دور تک آبادی کم کم ہی ہوتی ہے لہذا اُس علاقے تک پہنچنا جہاں یہ دھماکہ ہوا بے حد مشکل تھا۔ سائنسدان اس تلاش میں تھے کہ اگر یہ دھماکا کسی شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہوا ہے تو ضرور زمین پر کوئی بہت بڑا گڑھا بنا ہو گا۔ مگر اّنکو مایوسی ہوئی۔ زمین پر اس علاقے میں کوئی گڑھا موجود نہیں تھا۔ اس سے کئی تھیوریوں نے جنم لیا مثال کے طور پر یہ کوئی ایلنز کی سپیس شپ تھی یا کوئی منی بلیک ہول جو زمین کے اوپر سے گزرا وغیرہ وغیرہ ۔

    مگر آج سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ یہ دھماکہ شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہی ہوا۔ فرق بس اتنا تھا کہ وہ زمین کے بے حد قریب آنے کے بعد ہی ہوا میں مکمل طور پر جل گیا۔

    سائنسدان ایسا کیوں مانتے ہیں؟

    دراصل اسی جیسا ایک اور واقعہ 2013 میں روس کے علاقے چیلیابنسک میں پیش آیا۔ جب ایک قدرے چھوٹا شہابِ ثاقب اسی طرح زمین کے بہت قریب آ کر فضا میں پھٹا جس سے کافی نقصان ہوا مگر زمین پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔

    اس نئے واقعے سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ شہابِ ثاقب زمین کے بالکل قریب آ کر ہوا میں بھی تحلیل ہو سکتے ہیں۔
    مزید کمپیوٹر سملولیشنز اور ماڈلز کے ذریعے اس دھماکے سے ہونے والی تباہی اور تباہ شدہ علاقے کا ڈیٹا استعمال کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ چیلیابنسک میں 2013 میں گرنے والا شہابِ ثاقب دراصل کتنا بڑا تھا اور اس کے پھٹنے سے کتنی توانائی خارج ہوئی۔

    تو یہ شہابِ ثاقب دراصل 19 میٹر کے سائز کی ایک چٹان تھی جس سے 550 کلوٹن کا دھماکہ ہوا۔یاد ریے ایک کلوٹن دراصل ایک ہزار ٹی این ٹی آتشگیر مادے سے ہونے والے دھماکے کی شدت ہوتی یے۔

    اس واقعے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ اس طرح کے واقعات زمین پر دوبارہ کب ہو سکتے ہیں تو زمین کے گرد اور نظامِ شمسی میں موجود شہابیوں کی تعداد سے یہ انکشاف ہوا کہ اوسطاً ہر دس سے سو سال کے درمیان ایسا ہی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    لہذا ناسا اب ممکنہ طور پر زمین کو کسی شہابِ ثاقب کی تباہی سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے اور ایک ابتدائی مشن بھی بھیج چکا ہے جسکا مقصد ایک شہابئے کا رخ موڑ کر اسے زمین سے دور ہٹانا ہے۔

  • فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فلموں کی طرح ہیرو ہیروئن بن کر ایکدوسرے کو گلے نہیں مل لیتے تب تک پیار کنفرم نہیں ہو سکتا، مگر زندگی ایسے نہیں چلتی۔

    پیار کے اظہار کے کئی طریقے ہوتے ہیں جن میں جسم کا ملنا اہم نہیں ہوتا بلکہ کبھی چلتے چلتے بھیڑ والی جگہ میں اپنی پارٹنر کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے آگے چلنا بھی پیار کا اظہار ہوتا ہے۔

    وہیں پر مصروفیت سے بھرے دن میں رینڈم ٹیکسٹ کرکے پوچھنا کہ تم کیسے ہو یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔ اپنی پارٹنر کے لئے دروازہ کھولنا بھی پیار کا اظہار ہے وہیں پر اپنے پارٹنر کو فیملی یا دوستوں کے سامنے دنیا کا سب سے طاقتور مرد بتانا یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔

    دن بھر تھکاوٹ سے چور ہو کر واپس آنے پر اگر پارٹنر کو خوش دیکھیں اور اس کو بجائے اپنی پریشانی بتا کر خوشی زائل کرنے کے اس کی خوشی سن کر اپنی پریشانی بھول جانا بھی پیار کا اظہار ہے۔

    رینڈم باتیں کرتے ہوئے اپنے پارٹنر کو بتانا کہ وہ بہترین ہے اس سے بہتر اظہار نہیں ہوتا۔

    لیکن،

    ہمارے لٹریچر میں پڑھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کو میسر آئیں گے تو وہ قدر کم کرنا شروع کر دے گا جبکہ حقیقت میں قدر وہیں کم ہوتی ہے جہاں کبھی تھی ہی نہیں۔ جو آپ کے لئے بنا ہے وہ ہر وقت آپ کے میسر ہونے کے لئے بے چین رہے گا۔

    سو اپنے پارٹنر کیساتھ انجوائے کرنا سیکھیں۔ ایٹی ٹوڈز میں زندگی گزارنے والے لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہیں۔

    اسی طرح،

    مجھے دو طرح کے لوگ ایک برابر ناپسند ہیں ایک وہ جو اپنے ریلیشن شپس کی بری باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں دوسرے جو اچھی باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں۔

    مطلب مجھے اپنے پرسنل ریلیشن شپس ڈسکس کرنیوالے لوگ نا پسند ہیں۔

    بہت سے لوگ جو اپنے پارٹنر کیساتھ کسی اچھی جگہ کو وزٹ کر لیں کسی خوبصورت لمحے کو انجوائے کر لیں اس کو ہر کسی کے سامنے بیان کرنا فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

    وہیں پر،

    بہت سے لوگ اپنے پارٹنر کیساتھ ہلکے سے جھگڑے کے بعد اس کی برائیاں بیان کرنیوالے قصے سنانا بہت بڑی اچیومنٹ سمجھتے ہیں۔

    اور ان باتوں کو سوشل میڈیا نے مزید آسان بنا دیا ہے لڑائی ہوئی نہیں جھٹ سے سٹیٹس، پارٹنر کو جوک سنایا نہیں چیٹ کا سکرین شارٹ سٹیٹس پر، لیکن میرے نزدیک ایسی چیزیں دراصل آپکے پارٹنر کی توہین ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پہ پارٹنر سے لڑائی کے بعد دکھی روگ لگانا پسند کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کا پارٹنر انتہائی لو آئی کیو شخص ہے جسے آپکے احساسات کی پرواہ نہیں ہے اور آپ بھی شرم نہیں رکھتے کہ اپنے پارٹنر کی برائیاں پوری دنیا کو بتا رہے ہیں۔

    دنیا کا کوئی بھی رشتہ ہو بات چیت سے حل ہو جاتا ہے بس بات شروع کرنے والے بنیں۔ وہیں پر اپنے پارٹنر سے فلمی توقعات کی بجائے رئیلسٹک توقعات رکھیں۔ انسان کے موڈز خراب ہونا نارمل بات ہے۔ جھگڑے ہونا بھی، ان کو بنیاد بنا کر اپنے پرسنل ریلیشنز کی سوشل میڈیا پہ تشہیر مت کریں۔

    وہیں پر،

    اپنے پارٹنر کو بغیر کسی قصور کے بھی سوری کہنا سیکھیں، ریلیشن شپ میں سوری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کمزور ہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی اناء سے زیادہ رشتہ عزیر ہے سو اس کو عزیز جانیں۔ اگر آپ آج کی لڑائی آج حل نہیں کرتے تو کل کو یہ آپ کے رشتے کے لئے کینسر بن جائے گی اور پھر اس کو حل کرنا ناممکن ہوگا۔

    میری حلقہ اھباب میں بہت سے ایسے ہم عمر ہیں جنہیں یہ سادہ سی باتیں یاد رکھنی چاہیں انکے کام آنے والی ہیں۔ زندگی پیار بھرے احساس کا نام ہے مگر یہ ایک ہائی وے کا سفر نہیں بلکہ کچے راستے کا سفر ہے اس کو انجوائے کرنا سیکھیں۔

    بڑے بڑے کاموں میں پیار ڈھونڈنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پیار ڈھونڈنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی حقیقی پیار ہے۔