Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتاتے پھر رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت 1.2 کروڑ ڈالر کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو گفٹ کیا تھا۔نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اوراخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں:

    1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھامگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔

    2۔قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے Designated افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر مذکورہ تحائف (قواعد کے مطابق) توشہ خانہ میں جمع کراتامگر آپ اسے اپنے ذاتی luggage کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے اسٹاف کو ان تحائف کی شکل تک دیکھنے نہیں دی ۔

    3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ بطور Recipient مذکورہ تحائف کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتےمگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

    4۔تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15روز میں (رولز کے مطابق خط بھجواکر) ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے اپریزر بلاتا جو مذکورہ تحائف کا ایگزامینیشن اور پرائس ایویلیوایشن کرکے مارکیٹ نرخوں کے مطابق قیمت کاتعین کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ مذکورہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے اور آپ کی ہدایت پر بغیر اپریزل کے مذکورہ تحائف کی Retaining کی رسمی کارروائی پوری کی گئی۔

    5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی Retaining Fee مارکیٹ پرائس کے 20 فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کردی تھی مگر 2019میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaing کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کرکے جو قیمت متعین کی وہ 10کروڑ روپے تھی اس کے برعکس آپ کی طرف سے Retaining Fee محض دو کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کرکے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔

    7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے (1.2 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ مالیت کے) ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaning کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔

    8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ (جس میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی ،دو کف لنکس اور ایک قلم شامل تھا) اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون وبیرون ملک کی مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت Recipient کو اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر Recipient کو Retaining کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔

    9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک اسمگل کروایاجس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔

    10۔عمران خان کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

    کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟

    خیراندیش…رانا ابرار خالد

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔ (جی آپ خوبرو ہیں) اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔

    سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟

    چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہے.

    ڈی این اے
    فیول
    70-100 مائٹوکانڈریا

    بس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔ یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

    یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔

    ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟

    ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔

    وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

    سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔

    ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔

    ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔ تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟

    قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔

  • نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    صاف لگتا ہے ۔۔۔ نسلِ آدم کی خوب تراش خراش ہوتی رہی ہے۔

    ناٹے قد بت کے انسان، لمبے اور زور آور انسان ۔۔۔ اور پھر رنگا رنگ مزاج کے انسان: جنگجو، فتنہ جُو، صلح جُو، نرم خُو انسان. دانائی سے لبا لب بھرے ہوئے سمجھدار انسان، تخلیق کار انسان ۔۔۔

    شقاوتِ قلب والے بےلچک انسان ـــــ جن کے دل شیطانی قوت و طاقت کی مستقل آماجگاہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الناس کی آخری آیت میں ‘مِن الجنۃِ وَالنّاس” کہہ کر ہمارے گردوپیش میں ایسے ہی افراد کی موجودگی کو highlight کیا گیا ہے۔ اِنہیں شیاطین کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ گویا خود اِن کو شیطان قرار دیا گیا ہے، اور اِن سے اللہ کی پناہ طلب کرنا سکھایا گیا ہے۔

    فطرت کا اپنا ایک بیوٹی پارلر ہے، ابتدا سے ہی سرگرمِ عمل ہے۔

    اللہ اس فطرت کا خالق ہے، اور تخلیق کار ہمیشہ نئے تجربے کرتا رہتا ہے۔اپنی تخلیق میں نئے نئے رنگ بھرتا رہتا ہے۔

    اللہ نے بھی بےشمار تجربے کیے ہیں۔ عقل کے سافٹ ویئر کو بھی لاکھوں رنگ رُوپ بخشے ہیں، یعنی ایک تو جبلّت ہے: بھوک، پیاس، جنسی لذّت، حسد، عزّت و جاہ کی طلب وغیرہ۔ ساتھ میں یہ تِھنکنگ مشین الگ سے وجود رکھتی ہے۔ یہ برین پاور ایک الگ فینامینن ہے۔ جیسے عقاب کی عقلمندی، بعض مچھلیوں کا عجیب و غریب ذہنی رویہ، بعض جانوروں میں حیرت انگیز دور اندیشی! اور پھر حضرتِ انسان کی عقلمندی اور اِس کے پینترے تو خیر اخیر شے ہے ۔۔۔

    اللہ کہتا ہے ‘تمہیں از سرِ نو بنا لینا، اٹھا کھڑا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا اِن ستاروں اور سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کے پیچیدہ نظام کو؟’

    یعنی ایک انسان کو حیاتِ نو بخشنا میرے لیے معمولی کام ہے!

    خیر، اب تو Terminator جیسی فلموں میں دکھائی جا رہی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی بھی اشارے دے رہی ہے کہ کیسے چند کیمیکلز سے بنا انسان ازسرِ نو اُسی شکل و شباہت اور قد بُت میں متشکّل ہو کر جیتے جاگتے وجود کی صورت دوبارہ و سہہ بارہ سامنے آ سکتا ہے۔

    گویا انسان کے مقابلہ میں لاکھوں گنا بڑے، لاکھوں ٹن وزنی، پیچیدہ کیمیائی مرکٗبات اور اُن کے آپسی تعامل پر مبنی ایک ستارہ بنانا زیادہ مشکل ہے۔

    اس سے بھی زیادہ مشکل ایک سو ملّین ستاروں والی ایک چھوٹی کہکشاں ۔ پھر اس سے زیادہ مشکل کام ایک ٹرلین ستاروں والی بڑی کہکشاں۔ پھر اس سے بھی زیادہ مشکل کام ایسی لاکھوں، کروڑوں کہکشاؤں کو آپس میں مربوط کرنا، انہیں برقرار رکھنا۔ ردّی کی ٹوکریاں یعنی بلیک ہولز بنا کر رفتارِ سیارگان کو متاثر کرتے اضافی فلکی اجسام کو ٹھکانے لگا دینا ۔۔۔

    ایسا کیوں نہیں کہ اللہ نے اپنی اِن تخلیقات میں سےچند ایک کے نام بتا کر، خوب جتا کر، اس پیچیدہ و حسین انتظام کی تعریف و تحسین کا حکم دیا ہو ۔۔۔؟

    تھوڑا بہت ایسے کلمات مل جاتے ہیں جن میں اللہ کی کاریگری اور حسنِ انتظام کی تحسین کے اشارے موجود ہیں۔ تاہم، اللہ کی طرف سے موصول ہوئے خطوط / پیغامات میں تاکیدی زور کسی اور بات پر ہے۔

    اِس بات پر کہ تم سب کی نظریں میرے محمدؐ پر فوکس رہیں!

    اِس شخص کو کاپی کرو، اِس کی بات مانو، اِس کے باطنی اور ظاہری manners کو اپناؤ، اِس صاحبِ عزّت و تکریم کی کوئی ایک ادا، کوئی ایک انداز اپناؤ ۔۔۔ اپنے معاملات اِس کے کہے اور کیے کی روشنی میں درست کر لو۔ اِس کے حق میں ہر روز کئی مرتبہ سلیوٹ بجا لاؤ۔ اِس پر درود و سلام بھیجو۔

    مختصر وقفہِ حیات میں اِس محمّدی discipline code پر رہ کر وقت گذار جاؤ تو ایسی مہیب، حسین، پیچیدہ کہکشائیں، یہ خصوصی انتظام پھر تمہارا منتظر ہے۔ ذرا زیادہ اچھے بندے کے لیے جنت الفردوس والی بزنس اِیلیٹ کلاس میں luxury apartments تیارپڑے ہیں۔ کیا سے کیا سُوپر سونک برّاق اور اڑتے قالین بھی ۔۔۔۔ اُن کی تمنّا کرو، انہیں اچِیو کرنے کی سعی کرو ۔۔۔! جبکہ اِس دنیا میں جو کچھ ہاتھ لگے، اُسے دوسروں پر نثار کرتے چلو۔ امن و آشتی کا خیال رکھو۔ لالچ اور حسد سے پرہیز کرو۔ مادّیت پرستی کے خول میں جکڑے جانے سے بچو۔ معاف کر دو، انتقام نہ لو ۔۔۔ یہی میرے محمّدؐ کا طرزِ حیات تھا، یہی محمّدیؐ کوڈ آف ڈسپلن ہے۔

    اِس عارضی قیام گاہ میں خواہ تم ایک ریڑھی بان ہو، کوئی سرکاری ملازم، یا امیر کبیر تاجر پیشہ۔ یہاں جس حال میں بھی ہو، اپنے دائرہ کار میں میرے محمّد کے دئیے ہوئے ضابطہِ حیات کو تھامے رکھو:

    کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

    یومِ اقبالؒ پر لکھی ایک نامکمل تحریر جسے آج مکمل کر ڈالا ۔۔۔ جَسٹ سَم رینڈم تھاٹس۔

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

    انگلینڈ پڑھائی کے دوران دنیا بھر سے آئی لڑکیوں سے گھلنے ملنے (معروف معنوں میں ہی لیا جائے) کا اتفاق ہوا۔ ہاسٹل میں ساتھ رہتی تھیں۔ کچن میں چائے، کھانا بنانے، برتن دھونے کا کام اکٹھے کرتے کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں تھیں کہ صنف نازک انداز دلربائی بھی جانتی ہے۔

    یونان سے آئی پینی میرے ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں رہتی تھی۔ دن رات کا ساتھ تھا۔ بحثوں اور باتوں کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ رات گئے تک پڑھائی کرتے جب ہم بور ہو۔جاتے تو کافی کے دو مگ بنا کر کچن ٹیبل پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے مسائل حل کرتے۔

    پینی کے ساتھ اس طرح رہتے میرے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ یورپی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنا آسان ہے۔ کوئی نخرہ نہیں، مردوں کی طرح گھر باہر کے کاموں میں ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ آپ سے بطور مرد کوئی فیور بھی نہیں مانگتیں۔ اپنے سارےکام خود کرتیں ہیں حتی کہ شاپنگ بھی جلدی نمٹا لیتی ہیں۔

    مگر یہ فسوں بس اس وقت تک قائم رہا جب تک پینی کو راج پسند نہیں آ گیا۔ راج ایک انڈین لڑکا تھا جو میتھ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جینئس تو تھا ہی بلا کا وہمی اور پاکستانیوں سے الرجک بھی تھا۔

    درمیان کی تفصیل فضول ہے، مگر آپ۔میں سے جو دلچسپی رکھتے ہیں انکے لیے بتا رہا ہوں، کہ ایک پورا سیمیسٹر پینی راج کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود اسکی طرف سے پہل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔ بالاخر راج نے پینی کو ڈیٹ پر جانے کے لیے پوچھ لیا۔

    اس روز پینی کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کا ریلیشن شپ شروع ہوا اور پینی ہر دوسرے روز راج کے ہاسٹل میں وقت گذارنے لگی اور راج کبھی کبھار پینی کے کمرے میں نظر آنے لگا۔

    میں نے حیرت سے نوٹ کیا کہ پینی راج کے ساتھ ٹیپیکل گرل فرینڈ بنی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ مارکسزم اور فیمنزم پر گھنٹوں بحث کرنے اور صبر سے دلائل کے علاوہ طعن و تشنیع سن کر کبھی کبھی مان کینے اور اکثر ڈٹ جانے والی پینی راج کے ساتھ دوسرے جملے پر ناراض ہو۔جاتی۔

    راج دیر سے کیوں آیا۔ راج نے ایسا کیوں کیا۔ راج نے ویسا کیوں کیا۔ بالاخر میں نے پینی کو ایک روز بازوؤں سے پکڑ کر سنجیدگی سے جھنجھوڑ ڈالا۔

    یہ سب کیا ہے؟، میں نے حیرت سے سوال کیا۔

    کیا سب؟، اس کی ذہین آنکھوں میں حیرت تھی۔

    یہ ۔ ۔ یہ راج کے ساتھ تمہاری شکایات، سلوک؟ کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم تو باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ۔ ۔ ہو نا؟

    میری شکایات؟ وہ۔حیرت سے چلائی، تم نے اس الو کی حرکتیں دیکھی ہیں؟ ۔ ۔ ۔

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ؟؟ میں نے سوالیہ اسکو گھورا

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ہمممم ۔ ۔ ۔ مثلاً وہ اکثر میری بات توجہ سے نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ لاپرواہ ہے، میری۔باتیں بھول۔جاتا ہے، ۔ ۔ ۔

    پینی! میں بھی اکثر تمہاری بات پر توجہ نہیں دیتا۔ لاپرواہ ہوں، اور تمہاری اکثر باتیں بھول۔جاتا ہوں۔

    تم۔ ۔ ۔ ؟؟ وہ حیرت سے چلائی ۔ ۔ ۔ تم میرے بوائے فرینڈ تو۔نہیں ہو۔نا ۔ ۔ ۔ اس نے قہقہہ لگایا۔

    مگر، ۔ ۔ میں کنفیوز ہو۔کر بولا، ۔ ۔ ۔ کیا بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ نہیں ہونا چاہیے؟

    ہونا چاہیے، مگر ۔ ۔ ۔ پینی ہنستے ہوئے یکدم رک کر سوچنے لگی ۔ ۔

    واقعی ۔ ۔ ۔میں تمہارے ساتھ زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ ہوں۔ ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ وہ الٹا مجھے سے سوال کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹانے لگی۔

    اسکو بات سمجھتے دیکھ کر میں پرجوش ہوگیا، اپنی بات مزید سمجھانے لگا۔

    دیکھو! تمہارا ریلیشن شپ کمال کا ہو سکتا ہے اگر تم اسکے ساتھ ویسا سلوک رکھو جیسا مجھ سے رکھتی ہو۔ نخرے وخرے مت کرو۔ انسان سمجھو وغیرہ ۔ ۔ ۔ وہ اسکول گوئنگ بچی کی طرح سر ہلانے لگی ۔ ۔ ۔ تصور میں وہ خود کو راج کے ساتھ ‘دوستی’ کرتے دیکھ رہی تھی۔

    یکایک وہ جھرجھری لے کر اپنے خیالات سے بیدار ہوئی، اور قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔ ۔ ۔ نہ نہ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا راج سے دوستی ووستی ۔ ۔ ۔ وہ میرا بوائے فرینڈ ہے، ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی ٹھیک ہے۔

    کیا؟ میں ہر۔بات کو۔منطق میں تولنے والی پینی کو گھور رہا تھا۔ ۔ ۔ ایسا کیوں؟

    نہ نہ ، اس خیال سے ہی عجیب کریپی فیلنگ آتی ہے، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ۔ ۔ اب تم میرے بوائے فرینڈ کیسے ہو سکتے ہو ۔ ۔ ۔ اس نے بات کو الٹا دیا۔ ۔ ۔ ایسے ہی میرا بوائے فرینڈ ۔ ۔ تم۔کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے رات تین بجے میں کافی بنانے اٹھ سکتی ہوں، ۔ ۔ ۔ مگر وہ میرا بوائے فرینڈ ہے۔ ۔ اسکو رات دو بجے میرے لیے برگر لانے جانا ہی پڑیگا۔ ۔ ۔

    مجھے تب ہی سمجھ آ گئی،

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

  • کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خدا انسانوں پر ہونے والے ظلم کو کیوں نہیں روکتا، لہذا خدا موجود ہی نہیں۔ میں نہیں سمجھا کہ آخر اس شکوے کو نام کیا دیا جاوے۔

    یا تو مانو کہ وہ نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو ظلم نا روکنے کا شکوہ کس سے کیا جا رہا ہے، اسی خداوند قدوس سے، جس کا وجود ہی نہیں۔ اور یا مانو کہ وہ ہے، مگر ظلم کو روکتا نہیں ہے، پھر تمہارا سوال بجا ہوجائے گا کہ کیوں نہیں روکتا۔ لیکن اس سوال سے پہلے کا سوال یہ ہوئے گا کہ آخر ظلم نام کس بلا کا ہے، جس کو خدا روکتا نہیں ہے۔

    آپ کہتے ہیں کسی جان کو بے وجہ قت۔ل کرنا تو ظلم ہے۔ ہم کہتے ہیں بجا فرمایا، مگر کس کے لئے؟ مٹی کی ایک سرحد نامی لکیر پاس کرنے پر دوسرے ملک کا سولجر اسے گولی سے بھون دیتا ہے تو ظالم کون ہوا؟ ایک ملک والے جانے والے کو شہی۔د اور دوسرے ملک والے مارنے والے کو غازی بنا دیتے ہیں، اب جس کو ظلم کہنے پر تم متفق ہی نہیں، اسے خدا کیوں روکے؟

    بالفرض انڈیا اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور خدا ان کی بندوقوں میں کیڑے ڈال دیتا ہے، ان کے گھوڑے خراب کر دیتا ہے، اور تمہاری بندوقیں بمنزلہ ٹینک بنا دیتا ہے تو انڈیا والوں کے نزدیک تو خود خدا ظلم کی طرف کھڑا ہوگا اور تمہارے نزدیک وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا، بعینہ یہی قصہ مخالف سمت میں ہوجاتا ہے، تمہاری بندوقوں میں کیڑے اور مخالفین کی بندوقوں میں گولے بھر دے تو پھر تم خدا کو کیا کہو گے؟ گویا جو چیز تمہارے ہاں ظلم ہے، تمہارے ہمسائے کے ہاں حق کی فتح ہے۔

    تم کہتے ہو کسی کے پیسے ہتھیا لینا ظلم ہے، لہذا خدا کو روکنا چاہئے، تو گویا خدا کو سود کے پیسوں کو آگ لگا دینی چاہئے، پھر تم سود پر لڑو گے کہ کون سے سود والے پیسوں کو آگ لگائے، غامدی صاحب کی تعریف سود کے مطابق یا روایتی مولوی کی تعریف کے مطابق؟

    ہمیں لگتا ہے کہ ٹیکس انسانیت پر ظلم ہے اور تم کہتے ہو کہ ملک کی معیشت چلانے کے لئے ٹیکس کا لینا فرض و واجب اور ٹیکس دینے والا تمہارا ہیرو ہے۔ اب بتاو وہ ٹیکس لینے والے کو روکے یا ٹیکس نا دینے والے کو روکے؟ کون سے والے ظلم کو روکے؟

    جانور کو ذبح کرنا ایک جیتی جان کو مار دینا ظلم ہے یا نہیں ہے؟
    انسانوں پر دواوں کے تجربات کرنا ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    اللہ کی زمین ہر لکیریں کھینچ کر اسے اپنی ملکیت قرار دینا اور پھر اس پر اپنا حق یوں جتانا کہ وہاں قدم رکھ دینے والا غدار کہلایا جائے، جاسوس کہا جائے اور پھر اسے جان سے جانا پڑے ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    سوال تو پھر سوال ہے، پیدا ہوگا تو جواب لے کر لوٹے گا کہ وہ کس ظلم کو روکے؟ کون سی چیز ہے جس کو ظلم کہنے پر تم انسانوں کا اتفاق ہوچکا ہے۔ اور اسے کس چیز کو روکنا ہوگا؟

    جان لو کہ پوری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اور اس نے اپنی اس مخلوق کو بہ طور امتحان دنیا میں بھیجا ہے۔ اب یہاں جو جس پر ظلم کرتا ہے، خدا کی رضا سے نہیں کرتا، بلکہ اس کے روکنے کے باوجود کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ ہر ظلم کا بدلہ دیا جائے گا، کل اس کی عدالت میں کھلے گا کہ کیا چیز ظلم تھی اور کیا چیز جہ۔اد تھی، فساد کیا تھا مظلومیت کیا تھی، جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا۔ تب جب دلائل وافر ہوں گے تو ان تمام چیزوں کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یہی اس کا اصول ہے اور یہی اس کے اصولوں کے قرین قیاس ہے۔

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔