Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ  رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی
    پاک فوج ملکی سلامتی کے ادارے پولیس ، اس وطن عزیز اوربسنے والے کروڑوں عوام کی خاطر شہید ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اورقومی سلامتی کے ادارے کئی محاذوں اورآزمائشوں سے گزر رہے ہیں ۔ دشمن کی بھاری تخریب کاری کا مقابلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کا کام عوام کے مسائل کو حل کرنا تھا مگروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے سیاستدانوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے باز پرس کون کرے گا؟ جو ان سے باز پُرس کرنے والے ہیں وہ ڈھول کی تھاپ پر ان کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں اوروقت آنے پر ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں ۔عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم بھی ہوتے ہیں اور غربت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے تخریب کاری بھی جاری ہے اوراقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے والوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

    قوم بے فکر رہے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے موجودہ فوجی جرنیل اور ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں بھارت کی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیں گے۔ قوم کو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں ،پولیس کے شہداء اور غازیوں جو مادر وطن کے لیے اپنا خون بہا چکے ہیں اور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے سینکڑوں ہزاروں ساتھی ملکی بقا اور سلامتی کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ ہماری افواج کے افسر اور جوان وطن عزیز اور کروڑوں عوام کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔

    ہمارے شہداء اور غازی اس بات کے حقدار ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں ۔ اپنی انائوں کی سولیاں اکھاڑ لیں جن پر مصلوب کرتے ہیں اور کبھی قوم کے مفادات کو قومیں کبھی دو عملی اوردو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتیں ۔ فوجیں کبھی قوم کی پشت پناہی کے بغیر فتح یاب نہیں ہوا کرتی۔ خود پسندی ، انا پرستی اور منافقت کو خیر باد کہہ کر قومی یکجہتی کے دھارے میں شامل ہونے کا لمحہ ہے ۔ ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف تخریب کاری۔ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے قوم کے مسائل کے حل کے لیے نفرتوں کو دفن کریں۔

  • میسی — ریاض علی خٹک

    میسی — ریاض علی خٹک

    میسی بھی حسب معمول ایک غریب والدین کا بچہ تھا. ارجنٹائن روزاریو کا یہ بچہ صرف گیارہ سال کا تھا جب اسے گروتھ ہارمون ڈس آرڈر کی بیماری تشخیص ہوئی. اس کا علاج بہت مہنگا تھا. اس کے والدین اسے لے کر سپین آگئے جہاں بارکا کلب نے اس کی فٹ بال صلاحیت پر اس کے علاج کا فیصلہ کیا.

    اور لیو میسی فٹ بال کی دنیا میں چھا گیا. اس سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ میرا ڈونا سے اپنا موازنہ کریں گے.؟ میسی نے کہا نہیں میں اپنا موازنہ کسی سے نہیں کرتا. میں اپنی الگ تاریخ بنانا چاہتا ہوں. تو دوستو میسی کی تاریخ ارجنٹائن اور سپین کا کلب بارکا ہے.

    آج قسم قسم کے لوگ آپ کو بتائیں گے میسی شیخ آرائیں جاٹ تو کوئی اسے میمن راجپوت بتائے گا. آپ نے بلکل نہیں ماننا کیونکہ یہ ہمارے برصغیر کا قومی مزاج ہے. ہم اپنی تاریخ خود نہیں بناتے بلکہ کسی اور کو پکڑ کر اپنی تاریخ میں لے آتے ہیں. اور اگر اپنی تاریخ بنانے کا کسی کو موقع مل بھی جائے تو وہ ذہین انسان تاریخ چھوڑ کر اپنی زندگی بنانے کیلئے یورپ امریکہ چلا جاتا ہے.

    اس مانگے تانگے کی تاریخ سے ہم سب ایڈجسٹ نہیں کر پارہے تو میسی کیا ایڈجسٹ کر پائے گا. میسی یا تو ارجنٹائن کا ہے یا بارکا سپین کا.

  • دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دراصل دوسری شادی عورت کی ضرورت ہے مرد کی نہیں، یہی بات عورتیں نہیں سمجھتیں تبھی اقبال نے کہا تھا

    تو ان کو سکھا خار شگافی کے طریقے
    مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

    اس درد کو سمجھنے کے لیے عورت کا کم عمری میں بیوہ ہونا یا ان کا طلاق ہونا ضروری ہے تب انہیں سمجھ آتا ہے کہ کوئی مجھے اپنی دوسری بیوی بنا لیتا اور عزت سے رکھتا میں کسی کی محتاج نہ رہتی نہ ماں باپ کی نہ بھائی بہن کی، ایک بیوہ کی پوری زندگی داؤ پر لگی رہتی ہے اور وہ شہر کی زندگی میں تو بہر حال محفوظ نہیں ہے اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اللہ نے قرآن میں مردوں کے لیے نکاح کے احکامات میں دو سے شروعات کی اور مرد پر ایک سے زائد نکاح کا بوجھ ڈالا گیا تاکہ اس کے مال سے دوسری عورت اور اس کے بچے عزت کی زندگی گزار سکیں یہ احکام عورتوں کی بھلائی کے لیے ہی دیا گیا تھا رسول اللہ ص اور ان کے صحابہ رض نے عملاً کر کے دکھایا ورنہ ان کے اتنا بڑا زاہد و عابد اور کون تھا؟ وہ اکثر اوقات ساری رات نمازوں میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ عورتیں رسول اللہ کے پاس شکایت لے کر آنے لگیں کہ میرے شوہر میرے بستر پر قدم کم ہی رکھتے ہیں۔

    کہتے ہیں اکثریت اقلیت کو کھا جاتی ہے آزادی کے پہلے ایک صاحب استطاعت مرد دو نکاح آرام سے کر لیتا تھا اگر کسی کی بیٹی و بہن بیوہ ہو جاتی تھی تو مرد حضرات ان کی توجہ ادھر مبذول کراتے تھے کہ اللہ نے تمہیں دو مکان اور دولت سے نوازا ہے فلاں کی بیوہ کو اپنے نکاح میں لے لو اور ان کے گھر والے بھی بیوہ و مطلقہ کا نکاح فورآ کر دیتے تھے حالات انگریزی دور حکومت میں بھی بہت اچھے نہیں تھے لیکن جب سے آزادی ملی تب سے جدید طرز تعلیم نے کفر کی آمیزش کر کے ایک خاص مزاج بنایا اور نئی نسل کو بالکل بگاڑ دیا اور اسلامی فکر سے دور کر دیا بلکہ سچ کہیں تو نماز و روزہ اور حج کے علاؤہ کچھ
    باقی نہ رہا اقبال نے اسی لیے کہا تھا ”

    تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو،
    ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر”

    سو بڑی محنت و یکسوئی سے اس کام کو کیا اور پوری طرح پھیر چکے، انہوں نے نئی تعلیم وضع کی اور اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں عورت اپنے شوہر کے ناجائز رشتے برداشت کرنے کو تیار ہے لیکن ایک عدد شریف سوکن قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اللہ و رسول کے احکامات سے کھلی سرتابی اور بغاوت ہے اور اس کا جو انجام ہونا چاہیے وہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    اس فکر کو عام کرنے کے لیے بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی لٹریچر پڑھانا چاہیے اور انہیں مردوں اور عورتوں کے حقوق بتانے چاہیں۔ ہم سب نے اسلام کبھی حلق کے نیچے اتارا ہی نہیں، عائلی قوانین تو حلق کے نیچے مرد و زن میں سے کسی کے کبھی نہ اتر سکا، لڑکے جہیز لیتے رہے کیا نمازی کیا پرہیزگار حالانکہ یہ انتہائی رذالت و ذلت کا کام ہے کہ تم کسی کی بیٹی بھی لو اور اس کے باپ سے پیسہ بھی لو؟

    لڑکیاں دوسرے نکاح کی مخالفت کرتی رہیں کیوں کے انہوں نے کبھی قرآن ترجمہ سے پڑھا ہی نہیں اس کے معنی و مطالب تفسیر پر غور و فکر بھی نہیں کیا.

    نتیجہ معاشرے میں کنواری عمر دراز عورتوں کی بھرمار اور بیوہ و مطلقہ کی بہتات ہے اور عورت کسی صورت مرد کے دوسرے نکاح کو راضی نہیں ہے چاہے عالمہ فاضلہ ہی کیوں نہ ہو؟ بس زنا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور عام اور آسان ہیں روز اس راستے کو ہموار کرنے کی فکر لیے ہوئے تہذیب کے آزر کام میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم سب نے مل کر جائز راستے بند کر رکھے ہیں اور محمد رسول اللہ کے دین کا تماشہ بنا رکھا ہے۔

  • سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    جنگ ہو، شطرنج کی بازی ہو، کرکٹ کا کھیل ہو یا انسان کی مکمل زندگی۔۔ ان تمام میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دو قسم کی اپروچ چلتی ہیں۔ ایک میں جزئیات پر فوکس ہوتا ہے جبکہ دوسری میں جزئیات کی گھمن گھیری سے اوپر اٹھ کر ایک بلند نکتہ نظر سے معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس بات کو تھوڑی دیر کے لیے یہیں پر روک دیتے ہیں۔

    سرچ انجن آپٹمائزیشن (ایس ای او) سے ویب سائیٹس یا یوٹیوب چینل چلانے والے افراد آگاہ ہیں۔ جس ویب سائیٹ یا چینل کو سرچ میں اوپر جگہ مل گئی وہ بیٹھے بٹھائے کامیاب ہو گیا۔ یہ کامیابی کی اور اس کے نتیجے میں پیسہ کمانے کی کلید ہے۔

    ہر ویب سائیٹ یا یوٹیوب چینل اس وقت سرچ انجن میں اپنی رینکنگ بڑھانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ ان کی تعداد دیکھی جائے تو اربوں میں چلی جاتی ہے۔ گوگل دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن اور یوٹیوب دوسرے نمبر پر بڑا سرچ انجن ہے۔ ٹریفک کا سب سے بڑا سورس بھی یہی دو سرچ انجن ہیں، اسی لیے فوکس بھی انہی پر رکھا جاتا ہے۔

    اب واپس آتے ہیں اپنی پہلی بات پر۔ زندگی کے دیگر میدانوں کی طرح سرچ انجن میں بلند رینک حاصل کرنے کے لیے بھی دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ ایک میں آپ ایس ای او کی ٹیکنیکس پڑھتے ہیں اور انہیں آزما کر سرچ میں اوپر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    گوگل نے خود بتایا ہے کہ وہ کسی بھی ویب سائیٹ کو رینک کرنے کے لیے دو سو سے زائد پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ ان تمام کو استعمال کرنا ناممکن ہے لیکن بیس پچیس پیرامیٹرز ایسی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیاب ایس ای او کیا جا سکتا ہے۔

    لیکن ان بیس پچیس ٹیکنیکس کو بھی استعمال کرنا ایک بہت مشکل، طویل اور مشقت طلب کام ہے۔ یہ دراصل جزئیات پر فوکس کر کے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے جس میں آپ سرچ کنسول جیسے ٹولز کو سمجھتے ہیں، گوگل انالیٹکس کے سمندر میں غواصی کرتے ہیں، بیک لنکس بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، کی ورڈ کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں، ان میں شارٹ کی ورڈز اور لانگ کی ورڈز کی کھوج میں لگے رہتے ہیں، اپنے میدان میں کامیاب ویب سائیٹس یا چینلز کا مطالعہ کرتے ہیں، ڈومین اتھارٹی بڑھانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی طویل راستہ ہے جس پر چلتے چلتے زیادہ تر لوگ تھک جاتے ہیں۔

    دوسری حکمت عملی وہ ہے جسے holistic اپروچ کہا جاتا ہے جس میں آپ جزئیات کو ایک طرف رکھ کر وسیع سطح پر پلان ترتیب دیتے ہیں اور اس پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔

    میں نے زندگی میں جتنی بھی ویب سائیٹس بنائی ہیں، ان تمام کو چند ماہ میں گوگل سرچ میں اوپر لے آیا ہوں۔ درجنوں ویب سائیٹس کو کامیاب کیا ہے اور کبھی بھی جزئیات میں نہیں گیا۔ حتیٰ کہ سرچ کنسول بھی بہت کم دیکھا ہے، گوگل انالیٹکس کو ذاتی ویب سائیٹس کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا، کی ورڈز پر زیادہ غور نہیں کیا، اس کے باوجود ہر ویب سائیٹ کامیاب رہی ہے۔ اس کامیابی کی وجہ گوگل کا مزاج شناس ہونا ہے۔

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب آپ ویب سائیٹ پر کام کریں تو ذہن سے قاری کو نکال دیں اور گوگل کو فوکس میں رکھ کر فیصلے کریں۔ اگر یوٹیوب چینل ہے تو اس میں صرف تھمب نیل بناتے وقت ویور کو ذہن میں رکھیں، باقی تمام پہلوؤں پر کام کرتے ہوئے یوٹیوب کے مزاج پر فوکس رکھیں۔

    یہاں سے میں صرف گوگل کی بات کروں گا لیکن یہ تمام اصول یوٹیوب پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ گوگل سرچ انجن بنیادی طور پر یہ تلاش کرتا ہے کہ کون سی ویب سائیٹ کسی بھی موضوع پر مہارت رکھتی ہے۔ یہ ایک بات تمام ایس ای او ٹیکنیکس پر بھاری ہے۔ اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی تو آپ کی ہر ویب سائیٹ کامیاب ہو جائے گی۔ آئیے اس بات کو سمجھتے ہیں۔

    فرض کریں کوئی شخص شہد کا آن لائن کاروبار کرتا ہے اور اپنی ویب سائیٹ کی سرچ رینکنگ بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیئے کہ گوگل کے سامنے خود کو اس موضوع پر ماہر ثابت کرے۔ اس کا سادہ سا طریقہ ہے کہ شہد کے مختلف ذائقوں، اس کی تیاری، اس کے فوائد، اس پر ہونے والی ریسرچ، اس کی اقسام، غرضیکہ ہر پہلو پر اپنی ویب سائیٹ پر معیاری آرٹیکلز شامل کرتا جائے۔ تین چار ماہ میں ہی گوگل اس ویب سائیٹ کو شہد کے شعبے میں ماہر سمجھنے لگے گا اور اس کی رینکنگ ایک دم سے بلند کر دے گا۔

    لیکن یہاں چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ ایک الٹے درخت کی صورت میں پلان تیار کریں۔ سب سے اوپر وہ آرٹیکلز ہوں جو بنیادی امور کے متعلق ہوں۔ جیسے شہد کی اقسام کے متعلق ایک آرٹیکل ہو، دوسرا اس کے فوائد کے متعلق، تیسرا اس کی تیاری کے متعلق۔۔ یہ اپنے موضوع کا جامع احاطہ کریں۔

    اس کے بعد ہر آرٹیکل کے ذیلی مضامین لکھے جائیں۔ شہد کی ہر قسم پر تفصیلی مضمون ہو، اس کے ایک ایک فائدے پر الگ سے آرٹیکلز لکھے جائیں، اس کی تیاری کے مختلف طریقوں پر مزید آرٹیکلز لکھے جائیں۔ جو مین آرٹیکل ہو، اس میں ان ذیلی آرٹیکلز کے لنکس دیے جائیں تاکہ جو بھی آپ کی ویب سائیٹ پر آئے وہ زیادہ سے زیادہ پیجز پر جائے۔

    یہ ویب سائیٹ کی دو سطحیں ہو گئیں، تیسری سطح میں ذیلی آرٹیکلز میں سے ایسے پہلو منتخب کریں جن پر مزید ذیلی لکھا جا سکتا ہو۔ یہ ایک درخت کی طرح ہو جس کی جڑ سے تنا نکلے، اس پر شاخیں پھوٹیں، ان شاخوں پر پتے نمودار ہوں۔

    لیکن پہلے گوگل پر تفصیلی ریسرچ کریں، کامیاب ویب سائیٹس کا مطالعہ کریں، ایک پلان ترتیب دیں، تینوں سطحوں پر جو بھی کام کرنا ہے اس کا پیپر ورک مکمل کریں، مختلف کی ورڈز استعمال کر کے گوگل کے نتائج دیکھیں اور ان کی ورڈز کو جمع کرتے جائیں جنہیں ہر آرٹیکل میں شامل کریں۔

    یہ کامیابی کا سب سے شارٹ کٹ نسخہ ہے، بے ترتیب ویب سائیٹس سے گوگل بہت خار کھاتا ہے، ایسی ویب سائیٹس جس میں ہر قسم کا مواد جمع کر دیا گیا ہو، ان کا رینکنگ میں آنا بہت مشکل کام ہے۔

    یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جو بھی مواد آپ ویب سائیٹ پر ڈالیں وہ آپ کا اوریجنل ہو، کسی اور جگہ سے چرایا نا گیا ہو، الفاظ آپ کے اپنے ہوں، خوبصورت انداز میں ترتیب دیا گیا ہو، اس میں انٹرنل لنکس ڈالے جائیں، جس بھی پہلو پر بات کریں اسے تشنہ نا رہنے دیں بلکہ ہر پہلو سے اسے کور کریں۔

    دوسری بات یہ ہے کہ جس موضوع پر بھی ویب سائیٹ بنائیں، اس کی گوگل میں سرچ لازمی ہو۔ اگر آپ کسی ایسے موضوع پر ویب سائیٹ بناتے ہیں جس کی ماہانہ سرچ ہی چند ہزار ہو تو پھر کامیابی نہیں مل سکے گی۔

    ایک اور اہم پہلو یہاں بتانا ضروری ہے تاکہ آپ گوگل کے مزاج شناس ہو سکیں۔

    وقت کے ساتھ ساتھ سرچ انجن کا طریق کار تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے جب ہم ویب سائیٹ بناتے تھے تو اس کے آخر میں کی ورڈز ڈال دیا کرتے تھے جس سے تیزی سے رینکنگ بہتر ہوتی جاتی تھی۔ اب یہ طریق کار الٹا نقصان دیتا ہے۔

    اب گوگل کسی بھی موضوع پر سرچ کرنے والے افراد کے رویوں کو دیکھ کر رینکنگ کا فیصلہ کرتا ہے۔ فرض کریں کسی نے سرچ میں آپ کی ویب سائیٹ کا لنک دیکھ کر اس پر کلک کیا اور چند سیکنڈ بعد وہ واپس آیا اور دوسرے کسی لنک پر کلک کیا تو گوگل سمجھ جائے گا کہ آپ کی ویب سائیٹ میں اسے مطلوبہ معلومات نہیں ملیں۔ اگر ڈھیروں لوگ یہی کام کریں گے تو آپ کی ویب سائیٹ کو گوگل بہت پیچھے دھکیل دے گا جہاں سے واپس آنا بہت دشوار کام بن جائے گا۔

    اس لیے اپنا مواد دلچسپ رکھیں، اس میں تصاویر شامل کریں، ممکن ہو تو ویڈیوز بھی ڈالیں کیونکہ اس وقت ٹیکسٹ سے زیادہ ویڈیوز کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی ہی ویب سائیٹ کے دیگر لنکس بھی اس میں شامل کریں تاکہ وزٹر آپ کی ہی ویب سائیٹ میں گھومتا پھرتا رہے، اسے واپس گوگل میں جا کر کسی اور لنک پر کلک کرنے کی ضرورت پیش نا آئے۔

    اگر اس طریق کار پر عمل کریں تو ویب سائیٹ تین ماہ سے چھ ماہ کے درمیان سو فیصد کامیاب ہو جائے گی۔ یہ ذاتی تجربہ ہے جو ہر بار کامیاب ہوا ہے۔

  • رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    کچھ کھیل بہت مہنگے ہوتے ہیں. جیسے گرم ہوا کے غباروں کی ریس ہو یا بادبانی کشتی کی دوڑ. بے شک ہیں تو یہ کھیل ہی لیکن ان کو کھیلنے کیلئے آپ کو پہلے لاکھوں روپے خرچ کر کے غبارہ یا کشتی خریدنی ہوگی. کچھ کھیل بہت سستے ہیں جیسے کُشتی یعنی ریسلنگ ہو یا رسہ کشی. ایک میں کوئی مخالف چاہئے تو دوسرے میں مخالف کے ساتھ ایک رسی بھی درکار ہوگی.

    اکثریت مہنگا کھیل ایفورڈ نہیں کر سکتی تو سستے کھیل عام ہیں. رسہ کشی عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے بھی مصر کی تہذیب میں کھیلی جاتی تھی. ان کی دیواروں پر اس کے نقش آج بھی موجود ہیں. کشتی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوگی. یہ اتنے عام کھیل ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی کوئی مخالف نہ ملے تو یہ ہم سے ہی کھیلنا شروع کردیتا ہے.

    تب دماغ میں ایک رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے. عقل شعور اور وقت کے تقاضے آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جبکہ دماغ کہتا ہے پہلے مجھ سے جیت کر دکھاو اور دماغ میں ایک میدان سج جاتا ہے. ہم خود سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں. اچھا ہر کھیل میں فریقین کی الگ پہچان بھی ہوتی ہے. اس رسہ کشی میں بھی ایک طرف دلیل ہوتی ہے تو دوسری طرف خوف اندیشے وہم ہوتے ہیں.

    ہر کھیل کی ایک تکنیک اور داو پیچ بھی ہوتے ہیں . جیسے دماغ اس خوف سے ڈراتا ہے جو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوتا. آپ کے ان اندیشوں ڈر و خوف پر آپ کو کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر پاتی. کیونکہ مستقبل پر ہم کبھی ختمی دلیل یا پیشن گوئی کر نہیں پاتے. لیکن آپ ایک کام کر سکتے ہیں. آپ رسی چھوڑ سکتے ہیں.

    رسہ کشی جب خوب گرم ہو اور کوئی ایک فریق رسی چھوڑ دے تو دوسرا اپنے ہی زور میں پیچھے گر جاتا ہے. چھوڑنے والے بھی آپ ہوں گے گرنے والے بھی آپ ہی لیکن انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے. جیسے گرم پانی کا غسل آپ کو وہی کیفیت دیتا ہے جیسے کسی محبت والے رشتے سے بغل گیر ہوگئے ہوں. انگریزی میں اسے کہتے ہیں let it go.. یعنی ہو جانے دو. آپ بھی رسی چھوڑ دیا کریں. بولو نہیں کھیلنا. یہ کوئی لاکھوں ڈالر کا گرم غبارہ یا سپیڈ بوٹ نہیں جو آپ ہارنے کی فکر کریں.

    کچھ رشتوں کچھ تعلقات اور کچھ خواہشات میں بھی اپنے ہاتھ لہولہان کرانے سے بہتر یہ رسہ چھوڑ دینا ہوتا ہے.

  • مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    انسان کو طبعی طور پر ایسی مشغولیت بھی درکار ہوتی ہے جس سے اس کو فرحت کا احساس ہو اور وہ ذہنی تھکن اور نفسانی بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس وقت بھی انسان اپنے معاصرین کے ساتھ زیادہ وقت بات چیت اور گپ شپ میں گزارتا تھا ۔ آج کا انسان بھی گپ شپ کو کام پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسی لیے سائنس انسان کے اس رویے کی وضاحت اسی انداز میں کرتی ہے کہ گپ شپ اور طنز و مزاح پسندی کا رویہ انسان کے آبا و اجداد سے genetically منتقل ہوا ہے ۔ خیر بات دوسری طرف چلی گئی اور اصل بات بیچ میں رہ گئی ۔ یعنی طنز و مزاح کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ لیکن اسلامی نکتہ نظر سے مزاح کی حدود و قیود ہیں ۔ اسلام مزاح کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح پر مبنی گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن موجودہ مزاح کی طرح نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہوتا نہ ہی مقابل کی تحقیر ہوتی تھی ۔

    نبی علیہ السلام نے جو مزاح فرمایا اس کی ایک مثال ذیل میں ہے ۔کہ آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے کہ کھجوروں کی گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی تمام گٹھلیاں حضرت علی رض کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ جب گٹھلیوں کا ڈھیر حضرت علی کے سامنے لگ گیا تو آپ علیہ السلام نے ہنستے ہوئے ہوچھا علی ساری کھجوریں تم ہی کھاگئے ہو ؟

    یہ بات علی رض نے سنی تو فورا جواب دیا یا رسول اللہ میں تو صرف کھجوریں کھاتا رہا ہوں باقی تو گٹھلیوں سمیت ہی کھا گئے ۔ یہ بات سنی تو رسول اللہ ص کھلکھلا کر ہنسنے لگے ۔

    اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں ۔ جس میں خوش طبعی پر مبنی مزاق بھی ہے اور دوسروں کی تحقیر بھی نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں جو مزاق کی صورتیں ہیں ان میں یا تو جھوٹ ہے یا فحاشی و عریانی پرمبنی باتیں ہیں اور یا دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے ۔

    اور نبی علیہ السلام نے تو یہ واضح فرمادیا کہ جس نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولا اس کے لیے ہلاکت ہے ۔

    اسی طرح دوسروں کی تحقیر کے حوالے سے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ تحقیر پر مبنی کلمہ سمندر میں ڈال دیا جائے تو سمندر کا پانی کڑوا ہوجائے ۔

    بحثیت مسلمان سوشل میڈیا کے توسط سے آج کا انسان بہت سارا مواد دیکھتا اور شیئر کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دیکھے کہ وہ جو کررہا ہے وہ اس کے شایان شان بھی ہے یا نہیں ۔

  • خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات پرانے یا نئے نہیں ہوتے، درست یا غلط ہوتے ہیں۔ ہر نئی چیز اچھی نہیں اور ہر پرانی چیز بری نہیں ہوتی۔ سخاوت ایک پرانا خیال سہی، مگر کردار کی عظمت کا نشان آج بھی بنتی ہے۔ بہادری کا لفظ پرانا ضرور، مگر دنیا آج بھی بہادروں کی عزت کرتی ہے۔

    چالاکی ہوشیاری مکاری جھوٹ فریب دغا، گو جدید دور میں نئے ناموں کے ساتھ لانچ کر دئیے گئے مگر آج بھی برے کے برے ہیں، دنیا نئے سیاروں پر چلی جائے، چاند پہ بسیرے کر لے، سورج پہ چھاوں تلاش کر لے، انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا ہی پڑے گی۔ فریب پوری تاریخ بدل جانے کے باوجود فریب ہی رہے گا، گھٹیا اور بودا ہی رہے گا۔ قابل احترام لفظ نہیں بن سکتا۔ قتل نفس مظلوم جرم تھا جرم رہے گا۔

    گویا کچھ تعلق نہیں نئے پرانے کی بحث کا اچھائی برائی کے ساتھ۔

    مسئلہ توحید ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک تروتازہ ہے، اہل توحید آج بھی اجنبی اور دشمنان توحید آج بھی خود کی عقل پہ نازاں۔ قوم نوح نے پانچ بت بنائے، کئی اقوام نے معبد خانے بھر دئیے، کئی شاہوں نے اپنی خدائی کا اعلان کیا اور مشرکین مکہ کے بت ہزاروں تک پہنچ گئے، کئی تہذیبوں نے ہر جاندار چیز کو خدا مانا اور کئیوں نے خود طاقت ور ہر مخلوق کے سامنے سر جھکایا، انکار خدا پر ان کے دلائل یہی ہوا کرتے کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا، غریبوں کو نبی بنا کر بھیج دیا، اس کے ساتھی غریب ہی کیوں ہیں،۔ہمارے اسٹیٹس کو پرابلم ہوجاتی ہے وغیرہ !

    دور جدید میں اسی توحید کے دشمنوں نے خدا کی وحدانیت کا عقیدہ چھوڑ کر انسان کو ہی خدا باور کرویا، گویا خدا کو سمجھانا پڑا کہ قبلہ آپ خدا ہیں۔ہے نا عجیب !

    پھر ایک خدا کو چھوڑ کر لاکھوں غیر مرئی طاقتوں پر ایمان لے آئے۔ پہلے مشرکین سے کہا جاتا کہ تمہارے بت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ جواب دیتے، تمہارا خدا بھی تو نظر نہیں آتا۔ آج کا جدید مشرک جب جواب دیتا تو بعینہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ خدا نظر کیوں نہیں آتا، بلیک ہول کے بعد تو دنیا ختم، وہاں تو خدا نہیں ہے۔ ان سے پوچھیں قوانین قدرت بھی تو نظر نہیں اتے، تس پہ جواب دیتا ہے کہ ان کے آثار تو بکھرے پڑے ہیں، جواب ہمارا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تمہارے جسم کے اندر کے نظام سے سمجھ آتا ہے، اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو، اگر کوشش ہی نا کرو تو بے شک پہاڑ الٹا دئیے جائیں، ہدائت تب ہی ملنی جب حکم خداوند قدوس کا آجانا ہے۔

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    آج جہاں پاکستان ہے وہاں 50 ملین سال پہلے ایک سمندر تھا جس میں ڈولفنز بھی رہا کرتی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سمندر سوکھ گیا اور چھوٹے بہاؤ کے راستے یا پھر دریا بچ گئے۔

    وہ ڈولفنز جو کہ کھلے سمندروں کی باسی تھی اور صاف پانیوں کی دلدادہ تھی وہ ایک گہرے گدلے پانی میں پھنس کر رہ گئی۔ اس سروائیول کے دوران ان ڈولفنز نے خود میں ارتقائی تبدیلیاں کروائی اور ان کی آنکھوں کے جینز سائلنٹ ہوگئے۔

    اور یوں یہ ہمیشہ کے لئے اندھی ہو کر رہ گئی۔

    وقت کی اس دوڑ میں فطرت سے یہ ڈولفنز جیت گئی مگر پھر انسانوں سے ہار گئی۔

    آٹھویں کلاس میں کہیں پڑھا تھا کہ انڈس ڈولفن ناپید ہو رہی ہے۔ بہت تجسس ہوا، سرچ کیا پتا چلا کہ انسانی آلودگی ان کے لئے نقصاندہ ہے مگر اس آلودگی کیساتھ ساتھ انسانی ذہنی آلودگی بھی ان کے ناپید ہونے کی طرف جانے کی وجہ ہے۔

    یہ جاننا میرے لئے ڈسٹربنگ تھا کہ،

    سندھی کلچر میں یہ سالوں پرانی روایت ہے کہ اگر آپ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کریں گے تو آپ کی مردانہ طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ مردانہ طاقت ہمارے معاشرے میں موجود واحد طاقت ہے جس کی کمی ہر مرد کو ہے اس لئے انہوں نے کئی سالوں سے ان معصوم مچھلیوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے کا ایک کلچر بنا لیا اور یہ ایک اچیومنٹ بن گئی کہ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کیا ہے۔

    اب اس بات کو آزادانہ سورسز تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ایک معاشرے کے فرد کو ان چیزوں کے نا ہونے پہ حیرت بالکل نہیں ہوتی کیونکہ یہاں پر گدھیوں، بکریوں اور ہرن تک کو جنسی زیادتی سے کوئی نہیں بچا سکتا بلکہ یہ بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر باقاعدہ لطیفے بھی بنائے جاتے ہیں۔

    خیر،

    اب چونکہ یہ آبی مخلوق تھی گدھیوں کی طرح یہ انسانی زیادتی اور انسانی آب و ہوا دونوں برداشت نہیں کر پاتی تھی اس لئے مرنا انکی قسمت ہوا کرتی تھی۔

    اب ماحولیاتی آلودگی اور انسانی آلودگی کی وجہ سے ان مچھلیوں کی تعداد کم ہو کر ہزار سے پندرہ سو رہ گئی ہے اور اگر IUCN درمیان میں نا آتا تو شائد اب تک ان ہزار باقی ماندہ کا بھی جنسی شکار کر لیا جاتا مگر اب یہ مشکل ہو چکا ہے۔

    لیکن ابھی بھی بہت سے دوسرے جانور انسانی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور چونکہ انکی زبان نہیں ہے اس لئے کوئی یہ نہیں جان سکتا۔ مگر یہ سچ ہے اور دیہات میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

    یاد رہے،

    اس ضمن میں یہ چیز فقط پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ موجود ہے یورپ میں سور اس بات سے نہیں بچ پاتے اور اس کراہت آمیز روایت/کلچر یا پھر شوق کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ابھی تعلیم اور شعور کے بعد یہ ٹرینڈ کم ہو چکا ہے لیکن یہ کراہت آمیز عمل انسانی معاشرے میں بخوبی موجود ہے۔

    انڈس ڈولفنز ارتقاء کی بہت اچھی مثال تھی مگر ہم انہیں تقریبا مکمل طور پر کھو دینے والے ہیں اور یہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے۔

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.