Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے آج کی سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں خلیج اتنی وسیع ہے کہ ہوس اقتدار میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا مشکل ترین نظر آرہا ہے ۔ کسی زمانے میں سیاستدان ملک اور قوم کی خاطر جمہوریت کی خاطر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے افراد شامل ہو چکے ہیں اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ان کو اہمیت دینے لگا ہے جن کی زبانوں سے گالی گلوچ اور من گھڑت الزامات کے علاوہ کچھی نہیں ہوتا۔ ملک کے جو حالات ہیں اور عوام پر جو گزر رہی ہے ایسے سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر ملک وقوم کے بارے سوچ رکھتے ہوں۔

    اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھارسے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو پاکستان روانہ کیا تھا مگر ملکی سیاسی انتسار اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسحاق ڈار بہت کچھ کرنے کے باوجود ڈوبتی معیشت کو سہارا تو دے رہے ہیں اورساتھ اپنے بیانات کے ذریعے اپوزیشن کو باور کروا رہے ہیں کہ ملک وقوم کی خاطر اپنی زبانوں کو لگام دیں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی ڈیفالٹ کیا نہ کرے گا۔ مگر سیاسی انتشار اور ہوس اقتدار نے سیاستدانوں کو ملک کے وقار اورعزت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ موجودہ حالات میں فہم وفراست اور سوچ بوجھ کا مظاہرہ بنا سکتا ہے ۔ باقی تمام راستے غلط ہیں جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہاہے وہ راستہ جمہوری نہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا ، وی لاگرز کوبھی وطن عزیز کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا قوی مفادات اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا ۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالادستی ، منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں پر چلنا چھوڑ دیں ملک وقوم کی خاطر انتقامی سیاست کو دفن کریں ملکی بقا و سلامتی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردارادا کریں۔

  • میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں ان کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش پر مبارک بعد کے لیے بیٹھا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے سامنے دنیا جہان کی چیزیں لا کر رکھ دیں۔ یہ میری ان دونوں سے دوسری ملاقات تھی جو اسی جگہ ان کے گھر ہوئی تھی۔ ان دونوں سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈرائنگ روم میں تقریباً اس ملاقات سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ لیکن وہ ملاقات بہت تلخ ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں میری تحاریر پڑھتے تھے اور مجھے جانتے تھے ۔

    میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ لڑکی کے والد سے میری شناسائی تھی اور ان کے کہنے پر ہی میں ان کے ساتھ ان دونوں سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اب اس پر کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ عورت جانے کے لیے ساری پیکنگ پہلے ہی کر چکی تھی اور طلاق کے کاغذات تیار کروا چکے تھے۔

    میں نے ان دونوں سے صرف ایک گزارش کی تھی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بے شک الگ ہو جائیں لیکن ابھی طلاق کے کاغذات پھاڑ دیں اور چھ ماہ کے بعد اگر ضرورت رہی تو یہ کاغذات میں خود آپ لوگوں کو تیار کروا دونگا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا، میرا اس میں کوئی مفاد نہیں تھا لیکن بس ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ان کا گھر بچ جائے۔

    تقریباً بیس منٹ رہنے والی اس تلخ ملاقات میں ان دونوں نے بمشکل میری یہ بات مان لی تھی، طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے تھے اور لڑکی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر اس گھر سے اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ چار ماہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ان کی بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور پھر اگلے ماہ وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔ یوں ان کا گھر بچ گیا تھا۔

    اب میری ملاقات ہوئی تو انھیں یوں خوش دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔ وہ بھی شکر گزار تھے کے اس دن جلد بازی میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیتے تو اب وہ بھی پتہ نہیں کس حال میں ہوتے اور بچے بھی رل جاتے۔

    میاں بیوی میں اختلافات ہو جانا ایک نارمل بات ہے لیکن کبھی بھی حالات آخری سٹیج تک نہ لے کر جائیں۔ اگر بہت زیادہ بگڑ جائیں تو پھر بغیر طلاق کے ہی کچھ وقت کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں تاکہ دونوں کو اندازہ ہو جائے کہ علیحدگی کے بعد کی زندگی کیسی ہے۔

    یاد رہے کہ جلد بازی میں دونوں کو لگ رہا ہوتا ہے کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں لیکن میاں بیوی میں قربت قدرتی ہے اور کچھ وقت الگ بتانے سے دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوتا ہے اور قربت کے لیے بھی دل کرتا ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نارمل حالات میں بھی تین چار ماہ بعد عورت کو میکے لازمی جانا چاہیے تاکہ میاں بیوی کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی کمی محسوس کر سکیں۔ اس سے پیار محبت بڑھتی ہے۔ میاں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ کیسے اس کے کام بہترین ہو رہے ہوتے ہیں اور چند دن بیوی کے نہ ہونے سے گھر کا نظام کیسے درہم برہم ہو جاتا ہے۔

  • گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم اور آپ ہر روز گوگل میپ کے استعمال سے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اپنے موبائل فون میں گوگل میپ کی ایپ نکالی، لوکیشن آن کی اور ایک جگہ کا راستہ لکھا تو ترنت گوگل۔میپ نے اپکو راستہ بتا دیا۔ فرض کریں آپکو لاہور میں "شاہ دی کھوئی” سے لمز یونیورسٹی جانا ہے۔ تو آپ کسی لاہوری سے راستہ پوچھنے کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپکو لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچا دے گا۔ تو آپ نے گوگل میپ پر لمز کا ایڈریس ڈالا اور گوگل نے آپکو راستہ بتا دیا اور ساتھ ہی ڈائریکشنز بھی کہ کونسی جگہ ِرنگ روڈ لینا ہے، کہاں سے رنگ روڈ سے اُترنا ہے، کہاں لالک چوک پر مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    مگر گوگل آپکو یہ سب کیسے بتاتا ہے؟ اسکا جواب ہے جی پی ایس سسٹم کے ذریعے۔ اب یہ جی پی ایس کیا بلا ہے؟

    جی پی ایس دراصل مخففففف(یہ لفظ پتہ نہیں کس نے نکالا تھا اتنے سارے ف ف ف والا) ہے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کا۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم کیا ہے؟ بھلا ہو امریکیوں کا کہ انہیں نے آج سے 44 سال پہلے اس سسٹم کا آغاز کیا۔ یہ سسٹم دراصل خلا میں 31 سٹلائٹس (اس وقت فعال) کا نیٹ ورک ہے جو زمین سے تقریباً 20200 کلومیٹر اوپر خلا میں زمین کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت پہلا سٹلائٹ 1978 میں بھیجا گیا جبکہ بعد میں تواتر سے مزید سٹلائٹس بھیجے گئے۔ ان میں سے جب کچھ سٹلائٹ پرانے یا ناکارہ ہو جاتے ہیں تو انکی جگہ نئے سٹلائٹس بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک کل ملا کر 77 سٹلائٹس اس سسٹم کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔

    خیر اب یہ موئے سٹلائٹ کرتے کیا ہے؟ ان سٹلائٹس میں ایٹامک کلاکس لگی ہوتی ہیں یعنی ایٹمی گھڑیاں جو نہایت ایکوریسی سے وقت کا حساب رکھتی ہیں۔ یہ سٹلائیٹس ہر لمحے اپنی جگہ اور مقامی وقت کو ریڈیائی لہروں کے ذریعے زمین پر ریڈیائی سگنلز کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سٹلائٹس سے بھیجے گئے سگنلز کو آپکے فون میں لگے جی پی ایس ریسور موصول کرتے ہیں جس سے زمین پر یہ اپنی جگہ معلوم کرتے ہیں جیسے کہ آپکا فون آپکو ان سگنلز سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کو استعمال کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ آپ اس وقت لکشمی چوک پر ہیں جہاں آپ تو دیسی ککڑ کی کی دیسی گھی میں بنی کڑاہی رگڑ رہے ہیں مگر بیگم کو آپ نے بتایا ہے کہ آج گھر کام کی زیادتی کیوجہ سے گھر دیر سے آئیں گے۔

    مگر آپکا فون آپکی یہ لوکیشن معلوم کیسے کرتا ہے؟

    ہم جانتے ہیں کہ ریڈیائی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ سو جب ہمارے فون کو سٹلائیٹ سے ایک سگنل موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے 8 بج کر 10 منٹ تو ہم یہ جان جاتے ہیں کہ سٹلائیٹ نے یہ سگنل 8 بج کر 10 منٹ پر بھیجا۔ اب ہمارا فون یہ بھی جانتا ہے کہ اس وقت فون پر کیا وقت ہوا ہے کیونکہ فون کے اندر بھی ایک گھڑی ہے۔ تو اگر آپکا فون یہ دیکھے کہ سگنل موصول ہوا ہے8 بج کر 10 منٹ اور 1 سیکنڈ بعد(ویسے ایک سکینڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے مگر سمجھانے کے لیے) تو موبائل فون کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ سگنل پہنچنے میں محض ایک سیکنڈ لگا ہے۔ اب اسے روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو آپکو معلوم ہو جائے گا کہ سٹلائیٹ آپکے فون سے کتنی دور یے۔ یعنی آپ ایک سفئیر(آپ اسانی کے لیے دائرہ کہہ لیں) میں ہیں جسکا رداس اس فاصلے جتنا ہے جو آپکے فون نے معلوم کیا ہے۔ مگر آپ اس سفیئر میں آپ کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ (وضاحت کے لیے تصویر دیکھیں).

    مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپکی لوکیشن کہاں پر ہے۔ اسکے لیے اگر آپکے موبائل فون کو کم از کم تین سٹلائٹس سے بیک وقت سگنلز موصول ہوں(عموماً چار سے زیادہ بہتر لوکیشن ملتی ہے) تو اس سے تین سفیئرز بنیں گے جناک رداس ہر اُس فاصلے جتنا ہو گا جو آپکے فون نے معلوم کیا۔اسکا مطلب یہ کہ آپ ان تمام سفئیرزمیں بیک وقت ہونگے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ آپ یاک کی صورت ان سب میں ہونگے یعنی ان تمام سفیئرز کے مشترکہ مقام یا سنگم پر۔ یوں آپ کا فون آپکو اپنی ایگزیکٹ لوکیش بتانے کے قابل ہو جائے گا۔اس اُصول کا ایک مشکل سا سائنسی نام بھی ہے جسے ٹرائلیٹریشن(Trilateration) کہتے ہیں۔

    اب آپکی لوکیشن کو استعمال کر کے گوگل میپ پہلے سے بنائے گئے زمین کے نقشے میں آپکی لوکیشن کے حساب سے آپکی منزل مقصود تک کا راستہ آپکو بتائے گا۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ سٹلائیٹ زمین سے اوپر خلا میں اتنہائی تیزی سے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وقت کسی شے کی رفتار کے مطابق بہتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ گریویٹی کی وجہ سے وقت سست روی سے بہتا ہے۔ اور سٹلائیٹ چونکہ زمین سے دور ہوتے ہیں تو ان پر زمین کی گریویٹی کا اثر کم ہوتا ہے۔ لہذا سٹلائیٹس پر وقت تیزی سے گزرتا ہے بنسبت زمین کی سطح پر۔ یہ سب ہمیں آئن سٹائن کی ریلیٹویٹی تھیوری بتاتی ہے(جی سائنس میں تھیوری عام فہم والی تھیوری نہیں بلکہ ثابت شدہ تھیوری کو کہتے ہیں جسکا کوئی استعمال بھی ہو)۔ لہذا اگر ہم وقت کے سٹلائیٹ پر تیزی سے گزرنے کے عمل کو لوکیشن معلوم کرنے میں شامل نہیں کریں گے تو سچ میں آپ لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں قصور کسی بیچارے لاہوری کا نہیں ہوگا بلکہ آپکا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کی تھیوری از جسٹ تھیوری۔

  • بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    آپ بازار جانے کیلئے جیب میں پیسے ڈالتے ہیں اپنی ضروریات کی چیزوں کی ایک لسٹ سوچتے ہیں اور گھر سے نکل جاتے ہیں. بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے قیمت اور کہاں سے خریدنا ہے پہلے طے کیا ہو. اکثریت بس سوچتی ہے جہاں سے بہترین معیار اچھی قیمت ملی خرید لوں گا.

    دکاندار بھی جب دکان صبح کھولتا ہے تو اسے کوئی گارنٹی نہیں ہوتی آج کیا اور کتنی فروخت ہوگی. کون آئے گا کون نہیں.؟ بازار اندازے پر چلتا ہے. گاہک کے پاس قوت خرید ہو اور دکاندار کے پاس چیز اور دروازہ کھلا ہو تو کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے.

    بازار میں گاہک بھی بہت ہوں اور دکانیں بھی بہت لیکن کسی ایک دکان پر زیادہ گاہک جا رہے ہوں تب ہم کہتے ہیں اس پر اللہ کا خصوصی کرم ہے. کیونکہ اس کی کوئی ایک ادا دوسروں سے بہتر ہوتی ہے. معیار اخلاق قیمت فروخت یا سروس آپ اسے کچھ بھی بول دیں لیکن جب گاہک گھر سے نکلتے فیصلہ کر لے کہ فلاں دکان پر جانا ہے تو یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے.

    اللہ رب العزت کی نعمتیں دنیا میں بکھری پڑیں ہیں. نعمتیں بھی بے شمار تو مخلوق خدا بھی بے شمار ہے. لیکن ہم جب اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو کسی ایک کے پاس نعمتیں دوڑ دوڑ کر آرہی ہوتی ہیں اور کسی کی آنکھیں انتظار میں ترس جاتی ہیں. تب اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں. گلے شکوے کرتے ہیں. جن پر نعمتوں کی برسات ہو ان سے حسد کرتے ہیں.

    کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اداؤں پر غور کرتے ہیں. جو سوچتے ہیں ان پر کرم کیوں نہیں ہو رہا. دنیا ان سے راضی کیوں نہیں ہو رہی.؟ کیا نعمتیں بانٹنے والا اس سے راضی ہے.؟ یہی خود احتسابی یا Audit ہمیں پھر ہماری کمی کوتاہیاں دکھاتا ہے. اور یہی کمی بیشیاں جب درست ہو جائیں تو کرم کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللہ رب العزت اپنے سب بندوں کا ایک یکساں پروردگار ہے. ہم بندوں میں البتہ بندگی کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں.

    ریاض علی خٹک

  • کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر ماہرین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن مذہبی علماء اس بات پر مصر ہیں کہ زیادہ بچوں کی پیدائش فضیلت کا سبب ہے جس کے بارے متعدد احادیث بھی مروی ہیں ۔ یہاں پر ایک فقہی قاعدے کا انظباط ضروری ہے کہ بعض چیزیں علت و معلول کے تعلق سے لاگو ہوتی ہیں ۔

    چناچہ عہد نبوی میں مسلمانوں کی عددی قوت کی غرض سے یہ احکام لاگو ہوئے لیکن موجودہ دور میں آبادی بجائے فائدہ کے ایک درد سر بنی ہوئی چانچہ جنگ یا عددی قوت کی علت نہیں رہی تو زیادہ اولاد کی صورت معلول بھی نہیں رہے گا ۔ اس صورت حال کو آپ مندرجہ ذیل تحریر سے بھی سمجھ سکتے ہیں جو کہ حالیہ طور پر روسی حالات کے بارے لکھی گئی ہے دوسری جنگ عظیم میں بہت سارے روسی سپاہیوں کی ہلاکت کی وجہ سے روس نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماوں کو انعامات سے نوازا بعد ازاں اس سلسلے کو روک دیا گیا تاہم حالیہ روسی جنگ کے تناظر یہ اعلان دوبارہ گیا ۔

    عہد نبوی ص میں کثرت اولاد کا حکم بھی کچھ اسی تناظر میں تھا لیکن جب حالت امن ہو ضرورت نہ ہو ۔ اور کثرت آبادی بذات خود مسئلہ بن جائے تب اولاد کی کثرت پر اسلامی حوالے سے اصرار کرنا محل نظر ہے ۔ تاہم اگر معاشی حالات مستحکم ہوں تو حالات کی نوعیت بدل جائے گی ۔ ذیل میں روس سے متعلقہ رپورٹ ملاحظہ ہو ۔

    روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔

    دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

     روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو  دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے  بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    خیر عرصہ قبل ہم پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے تو لگ ہی چکے تھے البتہ آج نیا اور دلچسپ فتویٰ لگا.. جلن کا فتویٰ..

    کچھ باتیں کلئیر کر دوں کچھ دوست باتوں کی گہرائی کو سمجھے بناء کمینٹ کرتے ہیں اور پھر جواب لیے بناء بلاک کرکے نکل جاتے ہیں جس کی ہمیں قطعاً پرواہ نہیں ہے لیکن باقی دوستوں کیلئے سرِ دست عرض یہ ہے کہ مجھے کسی بھی مسلم ملک کے سسٹم سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ جیسا بھی سسٹم اپنائیں ان کا حق ہے..

    سعودیہ تاریخی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، ترکی عرصہ سو سال سے لبرل ہے، ایران کٹر مسلکی مذہبی ریاست ہے، افغانستان ایک الگ سکول آف تھاٹ کے سسٹم گزر رہا ہے.

    ہر سسٹم کی کچھ مثبت چیزیں ہوتی ہے اور کچھ منفی.. سو فیصد درست کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہوتا البتہ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں قطعاً عار نہیں ہے کہ مذکورہ بالا تمام ممالک کا سسٹم ہمارے ملک سے کہیں بہتر ہے وہاں سسٹم خرابیوں کے باوجود اپنی عوام کو کچھ نہ کچھ دے رہا ہے لیکن ہمارے ہاں کا سسٹم عوام کو دینا تو کُجا.. دن بدن عوام سے چھین ہی رہا ہے..

    عوام کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا تمام ممالک کے عوام مجموعی طور دینی اقدار میں ہم سے کہیں آگے ہیں انفرادی اعمال میں کہیں بہت زیادہ آگے ہیں اجتماعی معاملات بھی ہم سے کہیں بہتر ہیں.

    حکومتوں کی بات کی جائے تو ان کے ہاں ایک پالیسی ہے جسے ہر حال میں اپلائی کرتے ہیں اور پورے ملک کے سب ادارے اسی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں یعنی کہ ڈسپلن سب پر لاگو ہے..

    2000 سے پہلے قطر کی طرف کوئی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا لیکن پھر انڈسٹریل انقلاب نے قطر کا رخ کیا اور دنوں میں قطر اس خطے کی معاشی طاقت بن گیا..

    صرف یہ کہ نیک نیتی اور درست پالیسی.. انہوں نے بڑی بڑی کمپنیوں سے معاہدے کیے جنہوں نے انڈسٹری لگائی اور ابتدائی چند سال کی انکم ان کمپنیوں نے لی.. اس کے بعد وہ انڈسٹری ریاست قطر کی ملکیت میں چلی گئی..

    ان لوگوں کی کام سے لگن کا اندازہ اس بات سے لگائیں میں 2016 میں قطر گیا تب وہاں فیس بک پر 2022 کے ورلڈ کپ کے ایڈ دیکھنے کو ملا کرتے تھے.

    پچھلے سال میں قطر ایئرویز کی فلائٹ سے 28 نومبر کو اسلام آباد سے نجف براستہ قطر گیا تو فلیٹ میں دیے گئے کھانے کی پیکنگ پر فیفا ورلڈ کپ 2022 کا اشتہار تھا یہاں تک چاکلیٹ پر بھی چاکلیٹ کے ذریعے ہی لوگو بنایا ہوا تھا جس کی تصویر لگائی ہے.. مطلب کہ جس کمیٹی کے سپرد یہ فیفا کپ 2022 کی ایڈوائزنگ کا کام تھا انہوں نے کوئی راستہ خالی نہیں چھوڑا پوری تندہی سے کام کیا..

    دوسری طرف پاکستان کو 2 لاکھ ملازمین کی خدمات اس موقع پر فراہم کرنے کا کہا گیا تھا جس میں پاکستان اس بیروزگاری کے دور میں صرف 43 ہزار افراد بھیج سکا.. وہ بھی ایسے لوگ جو خود تگ و دو کرکے ایجنٹوں کو پیسے دے کر چلے گئے حکومت نے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی…

    یہاں تک ہو گئی ایک بات.. دوسری بات یہ کہ مجھے قطر میں آنے والے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے یا ان کے اسلام قبول کرنے سے یا شراب کے متعلق اقدامات لینے سے کوئی جلن نہیں ہے لیکن اس معاملے کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں..

    پہلی بات تو یہ کہ قطر اور دیگر عرب ممالک کا رویہ پاکستان کے بارے میں انتہائی دوہری پالیسی پر مبنی ہے.. چیدہ چیدہ بتاؤں تو

    پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ترجیح دینا، پاکستان کے کرپٹ عناصر سے تعلقات رکھنا انہیں سہولت کاری فراہم کرنا اور لوٹ مار کے بعد نکلنے میں مدد کرنا انہیں اپنے ملکوں میں پناہ دینا.

    پاکستان سے لُوٹا گیا مال سب سے پہلے عرب ممالک میں جاتا ہے جہاں رائل فیملیز کے لوگ ان کرپٹ عناصر کی مدد کرکے بلیک منی کو وائیٹ منی میں تبدیل کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ کاروباری شراکت داری کرتے ہیں اس دوران یہ ممالک یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ یہ پیسے پاکستان سے نکلنے کے بعد پاکستان کے مسلمانوں یا دیگر عوام پر کون سی قیامتیں برپا ہوتی ہیں ان کی زندگی کس عذاب میں دھنستی چلی جاتی ہے .

    مطلب کہ جب آپ ریاستی سطح پر غیرمسلم کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ تو آپ کس کیریکٹر اور کس اخلاقی قدر کے ساتھ اسے یہ بات کہہ رہے ہیں؟

    میری دعا ہے کہ جنہوں نے اس موقع پر اسلام قبول کیا ہے اللہ کریم انہیں استقامت عطاء فرمائے اور مزید اہلِ خیر کو مشرف بہ اسلام ہونے کی توفیق عطاء فرمائے .

    لیکن مجموعی طور پر ہم مسلمانوں اور ہماری ریاستوں کا کیریکٹر ایسا ہے سہی کہ ہم انہیں یہ کہہ سکیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ؟ اگر ہمارے کردار درست ہو جائیں تو ہمارا دنیاوی عمل ہی تبلیغ بن جائے اس کیلئے ہمیں الگ سے کسی کو کچھ کہنا ہی نہ پڑے کیونکہ یہ ایک ایسا وقت جا رہا ہے کہ دیگر ادیان کے لوگوں کی اکثریت اپنے ادیان سے مطمئن نہیں ہے یہاں تک کہ ایتھیسٹس کی اکثریت بھی ذہنی تذبذب کا شکار ہے ان کی اکثریت کو الہامی دین کی تلاش ہے اگرچہ اظہار نہ بھی کرتے ہوں .

    اس وقت ہماری ریاستوں کا مجموعی کردار اور ہمارے عمومی اقدار بہتر ہوں گے تو لوگ ہمارے دین کو قبول کریں گے ورنہ یقین کریں کہ یہ ہمارے مسلمان ممالک کی حکومتوں کی بددیانتی پر مبنی پالیسیاں اور ہم مسلمانوں کے اعمال اور بدعنوانیاں ہی اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مثال دیتا ہوں جس طرح کی حرام توپیاں محترمہ انجلینا جولی ہمارے ملک میں آکر دو مرتبہ دیکھ کر گئی ہیں وہ ہمارے اعمال دیکھ کر یا پھر شریف خاندان کی الثانی خاندان کے ساتھ مشترکہ کرپشن دیکھنے کے وہ ان دو حکومتوں کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گی؟

    اس لیے دوستو ت بزرگو.. ٹھنڈے رہا کرو.. ہر معاملے کو مفت کی ہائیپ نہ دیا کرو.. اگر کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو انہیں مسلمان رہ لینے دو ایسا نہ ہو کہ ہمارے کرتوت انہیں پتہ چل جائیں .

    مزید یہ کہ ان کے مسلمان ہونے پر صرف اتنا شور مچاؤ کہ اگلی مرتبہ بھی کپ کی میزبانی کسی مسلمان ملک کو مل سکے.. بات سمجھ رہے ہو؟

    بیشک سب کو اپنی جانب کر لو لیکن پیچھے آنے والوں کے راستے بند مت کرو..

    رہی بات شراب پر پابندی والی.. تو بندۂ ناچیز نے 2016 میں قطر کے دوحا ایئرپورٹ کے مالز پر زندگی میں پہلی مرتبہ شراب کی بوتلیں دیکھیں اور عام مارکیٹ کے شاپنگ پلازوں میں شراب بِکتی دیکھی تھی قطر ایئر ویز میں دوران پرواز اگر کوئی شراب پینا چاہے تو اسے فراہم کی جاتی ہے..

    قطر نے صرف دورانِ میچ اسٹیڈیم میں شراب نوشی پر پابندی عائد کی ہے.. اس کے علاوہ چلے گی اور علاطول چلے گی..

  • کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیر بظاہر ایک قلع بند وادی ہے، جس کے چاروں اطراف فلک بوس کوہسار ہیں۔ یہ دیو قامت کوہسار کشمیر کے فطری اعتبار سے حفاظتی حصار ہیں۔

    لیکن اس سب کے باوصف وادئ کشمیر ایک بوتل بند سرزمین نہیں ہے۔ جہاں قدرت نے اس کے اردگرد فلک بوس دیوار کھڑا کی ہے وہاں اس جنت نشین خطہ کو بہت سے فطری راستے بھی عطا کئے ہیں جن سے وادی کا رابطہ دنیا جہاں سے تھا۔ مثال کے طور پر شاہراہ ابریشم کی راہداری، جو کشمیر کو وسطی ایشیا، مشرقی وُسطی اور چین سے ملاتی تھی۔ اسی طرح مُغل شاہراہ، جو وادی کو ۱۹۴۷ سے قبل ہندوستان اور افغانستان سے ملاتی تھی۔ اوڑی والا راستہ جو پنجاب اور افغانستان سے ملاتا تھی۔ اور اگر کلاروس کے غاروں کے پس منظر کو صحیح تسلیم کیا جائے تو یہ فطری ٹنل کشمیر کو رُوس سے اور یورپ ملاتا تھا۔ اس کے علاوہ جموں سرینگر راستہ جو ڈوگرہ مہاراجوں نے تعمیر کیا تھا۔

    مگر اس کا کیا کیا جائے کہ 1947 کے غیر فطری تقسیم نے پوری وادیِ کشمیر کو بوتل بند کرکے رکھ دیا۔ صرف ایک راستہ بچا جو سرینگر جموں راستہ کہلاتا ہے۔ مگر اس کے متعلق ہمارے مرحوم صاحبِ انکل جی اے مانتو کہتے تھے کہ یہ "جغرافیائی راستہ نہیں ہے بلکہ سیاسی راستہ ہے”۔ مرحوم بخشی غلام محمد کے دورِ وزارت اعظمی میں مغل شاہراہ کو تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی لیکن اُس وقت کی مرکزی سرکار کو کیا محرکات نظر آئیں کہ اُس نے مغل روڈ کو تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیر تقسیم ہند کی نصف صدی کے بعد مفتی محمد سعید جب وزیر اعلی بنے تو انہوں نے کشاں کشاں مغل شاہراہ کو تعمیر کیا۔

    کشمیر کے فطری راستے بند ہونے سے کشمیری معیشت کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے؛ بلکہ کشمیر کے مسدود راستوں کی وجہ سے کشمیر کی اقتصادیات کو آج بھی بقا کے لالے پڑے ہیں۔ یہاں کی ساری آزاد تجارت بوتل بند اور محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

    راستوں کی اس نایابی کے سب انتہائی بڑے نقصانات یہاں کی میوہ صنعت اٹھانا پڑے اور تادم تحریر یہ مشکل ترین سلسلہ جاری ہے۔ بہرحال اب مغل شاہراہ اور جموں سرینگر شاہراہ وہ واحد راستے ہیں جن کے ذریعے میوہ جات وادی سے باہر جاسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی اور چہار راہ(Four way) پر تعمیر جاری ہے جس سے میوہ جات کشمیر سے باہر جانے میں انتہائی پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے۔ شروع میں مال ٹرکوں کی آمد رفت کے لئے صرف 4 گھنٹے مختص کئے گئے جو انتہائی ناکافی تھے۔ اس حوالے سے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے پورے ایک مہینے میں انہیں صرف دو بار وادی سے باہر جانے کا موقع ملتا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں میوہ ٹرک درماندہ ہو رہے تھے جس کے کارن میوہ راستے میں ہی سڑ جاتا ہے اور بعد میں باہر کی منڈیوں میں کوڑیوں کے مول بک جاتا ہے۔ اس صورتحال سے فروٹ گروورز سخت نالاں ہوئے اور سرکار سے فریادی ہوئے۔ سرکار بھی نیند سے جاگی اور بعد از خرابی بسیار حکم جاری کیا کہ میوہ ٹرکوں کو "بلا روک ٹوک” جانے دیا جائے۔

    لیکن ایک تو راستے کی رکاوٹیں اور دوسرے بمپر کراپ کی وجہ سے کشمیر کا شاندار اور لذیذ سیب اپنی افادیت کھو بیٹھا اور کوڑیوں کے مول ہر جگہ بکنے لگا۔ راجستھان میں پچاس روپے میں تین کلو، ممبئی میں تین سو روپے فی پیٹی اور دہلی میں تین سو سے چھ سو اور یہاں دو سو سے پانچ سو کی گراوٹ تک پہنچ گیا۔

    ایک گروور نے مجھے ۴ سال پہلے پنجورہ نامی "میوہ گاؤں” میں بتایا تھا کہ میوہ اگانے والے کو خود ایک پیٹی سیب 400 روپے میں بغیر پیٹی کے حاصل ہوتی ہے۔ یعنی درختوں پر ہی۔ اب 500 روپے تک اس کی درختوں پر ہی لاگت آتی ہے۔ اور آج اس کو یہاں دو یا چار سو ملتے ہیں۔ یہ تو اس انڈسٹری کا زوال ہے۔ امسال یہ صنعت انتہائی زوال کا شکار ہے۔ بلکہ اگر کہا جائے تو اپنی موت کے قریب ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پلوامہ ضلع میں کئی باغ مالکان کو اپنے باغات میں سیب کے درخت کاٹنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہو رہے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ اگر مختلف ریاستوں سے بمپر پیداوار ہوتی ہے تو مرکزی حکومت دوسرے ملکوں سے کیوں سیب بڑی تعداد میں برآمد کرتی ہے؟۔ موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت یہاں سے ہی سیب کو ایکسپورٹ کرے۔ باہر سے سیب کی برآمد پر فوری طور مکمل پابندی لگائے۔

    حال ہی میں ترکی سے خبر ملی ہے کہ تُرکیہ حکومت نے 24 بلین ڈالر کے میوے مشرقی وسطی اور خلیج کے ملکوں کو ایکسپورٹ کئے۔ یہ 2 ٹرلین اور 95 ارب ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے گروورز بوتل بند ہیں۔ ان کی باقی دنیا کے ساتھ رسائی ایک حسرت، تمنا ہی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب ہے!

  • وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    تحریک آزادی ہند میں کلیدی اور قائدانہ کردار دینی قیادت کا تھا جو بدقسمتی سے پاکستان میں ایک خاص متعصب گروہ کے سبب پس منظر میں چلا گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دراندازوں نے ہندستان پر قبضہ کیا تو مزاحمت کار افراد کی قیادت دینی پس منظر کے حاملین نے کی ، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان مزاحمت کاروں میں ہر مذہب و طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے ، یعنی مسلمان اور غیر مسلم ۔

    اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے جلد بعد عسکری مزاحمت اپنے اختتام کو پہنچی اور ہندستان پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا ، حتیٰ کہ ہندستان میں انگریز کسی حد تک پرسکون طور پر حکومت کرنے لگے ۔

    لیکن آزادی کی تڑپ قلب و اذہان میں زندہ تھی ، سو یہ عسکری جدوجہد سیاسی تگ و تاز میں بدل گئی جس کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انگریزی حکومت میں رہتے ہوئے ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کیے جائیں ۔ ابتداء میں کانگرس کے مقاصد بھی محض نئے حاکموں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا تھا ، جو بعد میں آئینی طور پر شہری حقوق کے حصول میں بدل گئے اور جب انگریز پہلی جنگ عظیم میں الجھ کر کچھ کمزور ہوئے تو اہداف آزادی کی تحریک میں بدل گئے ۔۔

    حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم میں باوجود فتح کے انگریزوں کی معاشی حالت کی خرابی اور عسکری کمزوری نے مکمل آزادی کی لگن مقامی سیاسی جماعتوں میں پیدا کر دی ۔۔۔یعنی یہ ان کو اب ممکن نظر آنے لگا ۔

    مسلم لیگ کا قیام ابتدائی طور پر صرف اسی نظام میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا تحفظ تھا اور ابتدا میں کانگرس سے الگ کوئی سیاسی اہداف بھی نہ تھے اور اس کو چیلنج بھی نہیں کر رہے تھے لیکن جلد ہی وہ متحارب جماعت بن گئی ۔۔۔۔بدقسمتی سے تحریک پاکستان سے پہلے محض تحریک آزادی کو فوکس کیا جائے تو مسلم لیگ کا کوئی نمایاں کردار دکھائی نہیں دیتا ، یہی وجہ تھی کہ آزادی کی لگن اور تڑپ کے حاملین مذہبی رہنما لیگ سے دور ہی دور تھے ۔۔۔۔۔اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے پاکستان میں تحریک آزادی جیسا کوئی بھولا ہوا باب ہو جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    یہ چند لائنیں ہرگز اس تاریخ کا احاطہ نہیں کر سکتیں لیکن اختصار مطلوب ہے ۔۔۔۔

    مسلم لیگ کی سیاست تو۔ انیس سو چھے میں شروع ہو گئی تھی ، لیکن اس کا فوکس بہت محدود تھا جس میں صرف مسلم حقوق کی بات تھی ہندوستان کی آزادی سے زیادہ اس کی سیاست کانگرس کا مقابلہ بن کر رہ گئی تھی ، جو بعد میں مطالبہ پاکستان کے بعد مزید ہی یک نکاتی ہو گئی ۔۔۔۔اب مسلم لیگ کا اول و آخر مقصد ہندوستان سے دو علاقوں کو الگ کر کے پاکستان بنانا تھا جبکہ اس کے مقابل کانگرس پورے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔

    یہاں درست نادرست کی بحث نہیں کر رہا صرف دونوں جماعتوں کی سوچ و فکر اور اہداف کا احاطہ کرنا مقصود ہے ۔

    حقوق کی جنگ جب الگ وطن کے حصول میں بدل گئی تو بھی مذہبی افراد کی اکثریت متحدہ ہندوستان کی حامی تھی ، لیکن حالات جوں جوں کشیدہ ہو رہے تھے ، مسلم لیگ کی مقبولیت اور تعداد بڑھ رہی تھی ۔اور یہ تقسیم ، توڑ پھوڑ و آمد سارے مسالک میں تھی ۔

    اب اہم ترین بات یاد رکھیئے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام ، ملک اور قوم کے ساتھ مخلص تھے اور انتہائی دیانتداری سے اپنے نظریات پر ڈٹے ہوئے تھے ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک اجتہادی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اخلاص پر قائم تھے ۔

    اس لیے کسی جماعت کے ساتھ رشتہ ہرگز باعثِ فخر نہیں ہے ۔ہاں جب کبھی ہندستان کی پچھلی نصف صدی سے جاری توڑ پھوڑ کا عمل ختم ہو جائے گا اور ٹوٹی کشتی پار لگے گی تو تاریخ کا طالب علم دو ٹوک فیصلہ کر سکے گا کہ کون سا فریق حق پر تھا اور کامیاب رہا ؟
    ابھی تو سفر جاری ہے ، اور بحث کے نکات و دلائل موجود ۔۔۔۔ہاں میری نظر میں متحدہ قومیت والوں کے دلائل کا پلڑا بھاری ہے ۔

    کل سے ہمارے اہل حدیث احباب میں بعض شخصیات کے حوالے سے بھی ایک بحث جاری ہے کہ کون کون سا بزرگ کس جماعت کا حامی تھا اور کون مخالف ۔

    لمبا موضوع ہے ، لیکن مختصراً بتاتا چلوں کہ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی تو مسلم لیگ کے اتنے شدید حامی تھے کہ مولانا ابوالقاسم فاروقی لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو جیسے مسلمان سمجھنے میں بھی مشکل کا شکار ہوتے تھے کہ مسلم لیگ میں شامل نہ ہوں ۔۔۔۔یہاں مبالغہ ان کے مزاج کی شدت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے ۔

    جبکہ مولانا اسماعیل سلفی تو آخر دم تک کانگرسی سوچ یعنی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔

    مولانا داؤد غزنوی البتہ پاکستان بننے سے قریب سال بھر پہلے مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کی تفصیل کا محل نہیں ہے ۔

    مولانا ثناء اللہ امرتسری پہلے کانگریس کے حامی تھے اور ساتھ ہی ساتھ جمیتہ علمائے ہند کے نائب صدر تھے ، اور جمیعت علمائے ہند کا سیاسی موقف واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں نہ قابلِ بحث ۔۔۔۔۔البتہ امرتسر میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے آل انڈیا اجلاس کی میزبانی اور صدارت بھی آپ نے کی تھی جو تقسیمِ وطن ہندوستان سے صرف سال بھر پہلے ہوا ، جبکہ انیس سو پینتالیس میں تو مولانا جمیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے ۔۔۔۔یعنی یہ اکھاڑ پچھاڑ سب آخری سو برسوں میں ہوئی کہ جب تقسیم ہند ہونا صاف دکھائی دینے لگا اور سلامتی کا راستہ کچھ اور نظر نہ آ رہا تھا ۔

    چلتے چلتے یاد آیا کہ مولانا کا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا جو فسادات میں شہید ہوئے ، مولانا کا پریس لٹ گیا ، قیمتی لائبریری کو آگ لگا دی گئی ۔۔۔لٹے پٹے پاکستان آئے ، آ کر مسجد چینیاں والی میں قیام کیا ، مولانا میر سیالکوٹی ، مولانا داؤد غزنوی اور غالباً مولانا عطاء اللہ سب آپ کے گرد بیٹھے ان کے دکھ میں غم زدہ تھے۔ ۔۔۔۔۔محفل پر غم کے بادل تھے مولانا کی حالت کے سبب کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔مولانا ہی بولے "ابراہیم یہ تھا تمہارا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔”

    یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل حدیث جماعت کے اس دور میں اور بھی بڑے بزرگ تھے جو اس وقت اساطین علم و فضل تھے اور ان کی اکثریت کو مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں تھا.

    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر مسلک کی یہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔اور جبر یہ ہے کہ ہندستان میں ہر گروہ کے حاملین اپنے اکابرین کو متحدہ ہندوستان کا حامی اور پاکستان میں تحریک پاکستان کا مرکزی کردار ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔۔

    برادران ، یہ وہی حالات کا جبر ہے کہ جس کا سامنا ہمارے بزرگ ستر برس پہلے کر رہے تھے اور ہم آج بھی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    البتہ برادرم فیصل افضل شیخ صاحب کے حوالے سے جو بحث جاری ہے اس میں ان سے تسامح ہوا ، اس مسلم لیگ کو موجودہ مسلم لیگ سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ہے ۔بطور مثال اگر آج تحریک انصاف اپنا نام مسلم لیگ رکھ لے تو کیا اسے بھی جناح کی مسلم لیگ کا تسلسل سمجھا جائے گا ؟

    یا مسلم لیگ کے اور بھی گروپ ہیں ، ان کو تو یہ حق دینا چاہیئے …

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہی وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

  • نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    پاکستان کی بطور ریاست اور عام آدمی کی جو حالت آج ہے جو عام آدمی پر بیت رہی ہے اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان اعلیٰ عہدوں پرفائز تعینات افسران، امارات اور خوشحالی کی انتہا پر ہیں۔ عوام کو فیک آڈیور اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ سیاسی معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ موجود ہے پارلیمنٹ کی بالادستی غائب ہو چکی ہے۔ قانون موجود ہے قانون کی حکمرانی نہیں۔ آئین موجود ہے آئین پر عمل نہیں۔ سیاست نظریہ ضرورت کی تابع ہو چکی ہے۔

    سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے اور اقتدار کے تابع ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے لینڈ مافیا کا سیاسی جماعتوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ لینڈ مافیا ٹی وی چینلز کے مالکان بن چکے ہیں۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے اسلامی مملکت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک میں نفسا نفسی کا عالم ہے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر نامہ نظر آ رہا ہے۔ فوج نے اگر سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا تمام سیاستدانوں کو خیر مقدم کرنا چاہئے نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ کیسا؟ آئین کے مطابق تعیناتی میں حرج ہی کیا ہے وہ تو ملکی سلامتی کا محافظ ہوتا ہے۔ اس تعیناتی کو لے کر سیاستدان ، سوشل میڈیا، وی لاگرز کا تبصرہ حیران کن ہے۔ ملکی بقا ، ملکی سلامتی ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرےکا احترام کرنا چاہئے۔ ملکی سیاسی رہنمائوں جو ایک طرف جمہوریت، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کا نعرہ ملکی فضائوں میں بلند کرتی ہیں دوسری طرف اس تعیناتی پر ان کی پینترے بازیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیاستدانوں کو پرامن، مستحکم، مضبوط پاکستان اور خوشحال عوام کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ سیاستدانوں ، مذہبی رہنمائوں اوردیگر مذہبی حلقوں کو اخلاقی بحران کا پھیلائو ملک کے طول و عرض میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا مظاہرہ کھلے عام سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے یہ قومی زوال کا سبب بن رہا ہے جس کا سدباب ہونا لازمی امر ہے۔

  • غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    قرآن شریف میں کچھ آیات بندے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں. جیسے سورۃ القمر آیت نمبر 48 میں قرآن کہتا ہے.

    يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِى النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ۞
    ترجمہ: جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔

    کچھ باتیں ہمیں اپنی عادات کی وجہ سے سمجھ نہیں آتیں. جیسے اپنے قدموں پر کھڑے زمین کی کشش ثقل آپ کو کہاں محسوس ہوگی؟ لیکن آپ الٹے سر کے بل کھڑے ہوجائیں آپ کو کچھ ہی دیر میں ثقل یعنی gravity اپنی پوری تفصیل اور ترتیب سے سمجھ آجاتی ہے. بدن کا خون جب سر کی طرف آتا محسوس ہوتا ہے تب آپ حیرت سے سوچتے ہیں قدموں کی طرف بہتا تو یہ کبھی محسوس نہیں ہوا.؟

    پھر ہم سیدھے ہو جاتے ہیں اور اپنے قدموں پر واپس جب کھڑے ہوتے ہی جسم ایک سکون کی کیفیت میں جا کر بتاتا ہے اب تم انسان بن گئے ہو. اللہ رب العزت نے اس دنیا کو ہمارا امتحان بنایا ہے. اپنی روزمرہ زندگی میں مگن ہماری کچھ عادتیں ہمیں دھوکے میں رکھتی ہیں. جیسے غرور و تکبر ہو. یہ بندے کو سجتا ہی نہیں کیونکہ بندگی انکساری میں ہے یعنی زمین سے نظریں اور قدم جوڑ کر رکھنے میں ہے. جبکہ تکبر آپ کو سر کے بل کھڑا کرا دیتا ہے.

    اس لئے بڑے بزرگ کہتے ہیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے. کامیاب پھر وہی ہے جو جانے سے پہلے جیتے جی بندگی کا راز جان لے. بندگی ان سجدوں میں ہے جو زمین پر چلنے کا سلیقہ اور انکساری دے کر جائے. سر کے بل کھڑے لوگ پھر منہ کے بل گھسیٹے جاتے ہیں.