Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • ناگ فروش — ستونت کور

    ناگ فروش — ستونت کور

    1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔

    جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
    چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔

    اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔

    لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔

    اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔

    اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔

    لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔

    اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!

  • زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    رتن ٹاٹا نے ایک انٹرویو میں کہا جب وہ ٹاٹا موٹرز شروع کر رہا تھا تو اس وقت اسکا کوئی دوست نہیں تھا. ایلون مسک سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا آپ اس نئے نوجوان کو کیا مشورہ دیں گے جو کل کا ایلون مسک بننا چاہتا ہے؟ مسک نے کہا میں اسے ایلون مسک بننے کا مشورہ کبھی نہیں دوں گا. اس زندگی میں کوئی fun نہیں ہے.

    دولت و شہرت کی دوڑ میں ایک مقام آتا ہے جب دوڑنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے میں کتنا تنہا ہوں. اسکا تجربہ اسے سمجھا دیتا ہے میرے آس پاس ہر وقت جی جی کرنے والے میری محبت میں میرے ساتھ ہیں یا اس دولت و شہرت میں اپنا حصہ لینے کیلئے.؟ کیونکہ ہماری اکثریت زندگی کی شروعات میں دوڑنے اور چلنے کا فرق نہیں سمجھ پاتی.

    ہم لوگ سمجھتے ہیں چلنے اور دوڑنے میں بس رفتار کا ہی فرق ہے. لیکن جسم کیلئے یہ دو بلکل الگ چیزیں ہیں. چلتے ہوئے ایک قدم آپ کا ہر وقت زمین پر ہوتا ہے جبکہ دوڑتے ہوئے آپ ہوا میں ہوتے ہیں. کچھ دیر زمین کو جو چھوتے بھی ہیں تو اپنے ہی جسم کا وزن تین گنا ہو کر ایک جھٹکا جسم کو دیتا ہے. ہمیں یہ جھٹکے تھکا دیتے ہیں.

    زندگی کا فن چلنے میں ہے. چلتے رہنے میں ہے. چلنا آپ کو اپنے لئے اور اپنوں کیلئے وقت دیتا ہے. زمین ہمیں تھکنے نہیں دیتی ہر قدم دوسرے قدم کیلئے حوصلہ دیتا ہے. دوڑ تھکا دیتی ہے. ہمارے پاس نہ اپنے لئے نہ اپنوں کیلئے پھر کوئی وقت ہوتا ہے. ہم بہت قیمتی لمحے کھو کر آگے نکل تو جاتے ہیں لیکن پھر ہم تنہا اور تھکن سے چور بھی ہو جاتے ہیں.

  • اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوم ورک ملتا۔ سلیبس کی کتاب سے پیج نمبر 3 سے پیج نمبر 222 تک جو لکھا ہے اُسے نئی کاپی پر نقل کرنا ہے۔ فلاں چیپٹر کو دوبارہ سے دوبارہ چھاپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گرمیوں کے کام کی کاپیوں پر محنت "اُنکی جِلد” اور ظاہری خوش خطی پر موقوف تھی۔ علم سیکھنا کیا خاک تھا؟ لکھا ہوا چھاپنا اور بولا ہوا رٹنا۔

    آٹھویں جماعت میں سائنس انگریزی میں سیکھنی اور ستم ظریفی کہ انگریزی کا الگ سے مضمون ہونا جہاں پر گرامر رٹائی جاتی۔۔ایسے میں سائنس کیا خاک سیکھی جاتی جب سائنس کی زبان ہی اسی وقت سیکھی جا رہی ہوتی جب سائنس سیکھی جا رہی ہوتی۔ لہذا شارٹ کٹ محض رٹا یا گائڈز جس میں قدرے آسان انگریزی میں سائنسی موضوعات سمیٹے جاتے۔ پرچے میں یہی شارٹ کٹ لگا کر نمبر حاصل ہوتے۔ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک سائنس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ایسے میں جدید علوم کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

    آپ کسی محفل میں چلے جائیں دو بزرگ حضرات آپس میں کونسے حکمت کے موتی پرو رہے ہونگے؟ مڈل کلاس طبقے کے بزرگوں کے پاس زندگی کے کیا تجربات ہونگے؟ نہ اُن بیچاروں نے دنیا دیکھی نہ کوئی جدید علوم پڑھے۔ بات کریں زندگی کے تجربات کی تو اُنکی زندگی تھی کب اور اّنکی دنیا تھی کتنی بڑی ؟ گھر سے کاروبار یا دفتر، وہاں سے واپس گھر۔۔۔ خاندانی مسائل میں گھرے مڈل کلاس اور نچلے طبقےکے بزرگ کونسے نئے زندگی کے تجربوں کا گیان دے سکتے ہیں؟

    اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر امیر طبقہ ایک۔یا دو نسل قبل زمیندار تھا/ہے، ۔یا مقابلے کے امتحان میں رٹے والا یا فوج میں ترقی کرتے متوسط طبقے کے کسی فرد کی اولاد ہے جو گاؤں کی primitive سوچ سے نہیں نکل سکا۔۔انکی پرانی نسلوں کی غربت کے قصے ان میں لاشعوری طور پر کُھد چکے ہیں اور ایسا خوف ڈالے ہوئے ہیں کہ امیر ہو کر بھی انکی سوچ اپنے آباؤ اجداد جیسی غریب ہے۔ Financial insecurity کا منہ بولتا ثبوت اِنکی اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں جو انکے احساسِ کمتری کو نمایاں کرتی ہیں۔کبھی مارک زکر برگ کو دیکھا کہ گاڑی روکنے پر کہے: "تو مینوں جاندا نئیں”. کبھی ایلان مسک کا سنا کہ نشے میں دھت ہو کر کسی کو کچل دے وغیرہ وغیرہ۔

    شیر کے پاس پہلے سے طاقت ہوتی ہے کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے مگر ڈرنا تو بکری سے چاہئے کہ اگر اسکے پاس طاقت آجائے تو وہ اسکا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرے گی؟ سو یہ وہ عمومی مسائل اور رویے ہیں جن سے کم سے کم ہمارے بزرگ تو اب تک نہیں نکل سکے لہذا جب یہ رٹا ہوا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بزرگوں سے سیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔

    لہذا فی زمانہ مملکتِ خدادا کے نہ ہی بزرگ، نہ ہی اپر کلاس اور نہ ہی تعلیمی نظام ہمیں اصل سوچ کی طرف لا سکتا ہے۔ اصل سوچ کیسے آتی ہے؟ ایک اچھوتا خیال ، ایک اچھوتا آئیڈیا کیسے بنتا ہے؟ میرے نزدیک بچپن کی بہتر تعلیم سے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو کم سے کم سوال کرنے کی عادت سے۔ تجسس سے، چیزوں کو گہرائی میں سوچنے سے، متابدل تعلیم کےذرائع سے وغیرہ وغیرہ ۔

    بدقسمتتی سے ہمارے ہاں ان مثبت رویوں کا فقدان ہے۔ پچھلے ستر سال کی دھول ہم ابھی تک چاٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے ذہنوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور سوچ منجمد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کم سے کم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔اگر آپکے پاس جدید علم نہیں تو اپنے بچوں کی خاطر اسے سیکھیے یا کم سے کم اسے جانیں ضرور تاکہ اپنے بچوں کو بتا سکیں۔ بچوں میں سکول کی تعلیم سے ہٹ کر دیگر ذرائع جیسے کہ انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اور سب سے بہتر یہ کہ بچوں کو سوال کرنے سے، نئے تجربات کرنےسے مت روکیے۔ آپکو جواب نہیں آتا، مجھ سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر خود ڈھونڈیں یا بچوں کو کہیں کہ سوال اچھا ہے، جواب ملکر ڈھونڈتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی بچے کے تجسس کوغلط جواب یا یہ کہہ کر مت ختم کیجئے کہ سوال کرنا غلط ہے۔

    اصل سوچ کا حصول معاشرے میں جدید تعلیم اور مثبت رویوں کے رجحان سے ہی ممکن ہے ورنہ رٹے زدہ، موکلد اور دولو شاہ کے چوہے ہی پیدا ہوتے رہیں گے حقیقی معنوں میں عقل کی معراج کوچھوتے انسان نہیں۔

  • حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین بالخصوص والدِ گرامی سے مختلف چیزوں ، کینڈیز، سنیکس اور کھلونوں کی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ کہیں پڑا کہ ایک صاحب کے بچوں نے کہا کہ ” ہمیں کاٹن کینڈی اور رائس کیک کھانے ہیں ” تو وہ صاحب کہتے ہیں ” یہ کیا چیزیں ہیں ؟ کبھی نہ دیکھیں نہ سنی نہ کھائیں۔” تو بچوں نے جب موبائل پر انہیں پکچرز دکھائیں تو وہ بولے ” اوہ اچھا انہیں کھاتے تو ہمارا پورا بچپن گزرا انہیں ہم لچھا اور مرُونڈا کہا کرتے تھے ".

    ہمارے ہاں یعنی پاک و ہند و بنگال میں حکماء کرام کی ایک صدیوں پرانی عادت ہے کہ خوامخواہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے ، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب بٹھانے اور اپنی طبی قابلیت ثابت کرنے کے لیے حکماء کرام ہمیشہ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ امراض کے نام ہوں یا ادویہ کے نام۔

    مثلاً روغنِ کنجد ، عرقِ بادیان ، آبِ گھیکوار، قہوہِ نیشکر ، کشتہِ بیضہ مرغ، معجونِ خرما ، شربتِ گلُ سرخ، معجونِ سمک بحری ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
    اب۔۔۔

    سننے یا پڑھنے والوں کو یہ بھاری بھرکم عربی و فارسی اصلاحات سننے پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ ” صدیوں پرانے قیمتی و نایاب نسخے ” دارصل ہمالے کی برفیلی چوٹیوں پر اگنے والی کسی نایاب جڑی بوٹی۔۔۔۔ بارش کے بعد صحرائے صحارا کے ٹیلوں پر پھوٹنے والے کسی مشروم ۔۔۔۔ ایمازون کے جنگلات میں پائے جانے والے کسی پھل۔۔۔۔رانگاماٹی کی بلندیوں پر اگنے والے کسی پھول ۔۔۔۔ یا اوقیانوس کی گہرائیوں سے نکالے جانے والے کسی مونگے سے بنائی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فی الحقیقت یہ سب نام اور ان جیسے درجنوں دیگر بھی جو آپ نے پڑھے ، سنے ہوں گے کسی محلے کی کریانہ شاپ سے ملنے والے عام آئٹمز کے نام ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے بتایا :

    روغنِ کنجد(تِل کا تیل) ، عرقِ بادیان (سونف کا عرق ) ، آبِ گھیکوار (کوار گندل/ایلوویرا کا Gel)، قہوہِ نیشکر (گنے کی چائے) ، کشتہِ بیضہ مرغ (مرغی کے انڈے کا کشتہ) ، معجونِ خرما (کجھور کا پیسٹ ) ، آب گلُ سرخ (عرق گلاب)، معجونِ سمک بحری( سمندری مچھلی سے بنی کوئی دوا ).

    بھئی ، سیدھا سیدھا پھوٹ دینے میں کیا حرج ہے ؟ ان کو لگتا ہے کہ عام روزمرہ کا نام بول دیا تو ان کی دکانداری کو گرہن لگ جائے گا ۔۔۔ یوں تو میڈیکل ادویات کے بھی فارمولوں کے طویل اور پیچیدہ نام ہوتے ہیں لیکن فارما والے عام طور پر ان ناموں کی مختصر شکل یا پھر الگ سے مناسب سا نام استعمال کرتے ہیں مثلاً Soluble Aspirin کا نام "ڈسپرین ” وغیرہ ۔

    اور پھر ادویات ہے نہیں یہ حضرات امراض کے نام بھی عجیب و غریب قسم کے رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی سہی !!

  • پرویز رشید کی  وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پرویز رشید کی وفاداری قابل رشک،تجزیہ :شہزاد قریشی
    ووٹ کو عزت کے نعرے اور تحریک سے لے کر لندن روانگی تک مریم نواز کی جدوجہد میں پرویز رشید کی وفاداری اور استواری شریف خاندان مدتوں یاد رکھے گی۔ پرویز رشید ڈان لیکس کی پاداش میں اپنے عہدے سے سبکدوش تو ہوگئے تھے لیکن انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے ہمقدم رہ کر استحکام پاکستان کا بیانیہ زندہ و تابندہ رکھا اور نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد مریم نواز کو سیاسی تنہائی کا احساس تک نہ ہونے دیا اور نواز شریف کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔

    بلاشبہ آج کے دور میں پرویز رشید وفا کا پیکر ثابت قدمی کا مجسم اور بے لوث خدمت اور غیر متزلزل نظریاتی عقیدت کی زندہ مثال ہیں جو اندیشہء سودو زیاں سے پاک سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آج سیاسی گلیاروں میں سیاسی بحرانوں اور عدم استحکام کی بڑی وجہ نام نہاد سیاستدانوں کی لوٹا کریسی ، مفادات پرستی کا رحجان ہے جو اقتدار اورعہدوں کی لالچ میں اپنے ضمیر اور قومی مفادات کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتے پرویز رشید کی ثابت قدمی اور نواز شریف سے وفاداری بقوول مرزا غالب وفاداری بشرط استواری اصل ایمان مومن ہے ۔

    ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہنگامہ برپا ہے جس امریکہ کا نام لے کر سیاست کی جا رہی ہے ۔ امریکہ کی سیاست میں بھی الزامات کی بھرمار ہے جو بائیڈن اور ٹرمپ کی ایک دوسرے پر الزامات بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بائیڈن کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے ٹرمپ امریکی سیاست میں ثابت کررہے ہیں کہ وہ آج بھی مقبول ترین لیڈر ہین۔ ٹرمپ کا نگریس کی موجودہ دوڑ میں اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں بھی عمران خان اپنا سیاسی مینڈیٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہین تاہم پی ڈی ایم ان کے راستے کی دیوار ہے لیکن یہ دیوار اُسی وقت مضبوط ہوگی جب نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے ۔ عمران خان کی مقبولیت کا اسی وقت پتہ چلے گا جب اُن کے مقابلے میں نواز شریف جلسوں سے خطاب کررہے ہوں گے۔

  • موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    سعودی عرب پلاسٹک ویسٹ زیرو کرنے کے لئے شہریوں سے پرانے فونز لے رہا ہے اور ان کو ری فربش کرکے کم آمدنی والی جگہوں میں بچوں کو تعلیمی مقاصد کے لئے دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    اومان 2040 تک مکمل طور پہ ڈیجیٹل ملک بننے جا رہا ہے وہیں امارات اور قطر وغیرہ اس بات کا اعادہ رکھتے ہیں کہ اپنے ملک کو ٹورازم اور تیل کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی سپورٹ کریں۔

    دہلی میں اس سال سے آپ ب فارم سے لیکر ڈومیسائل تک ایپلی کیشن پہ ایک کلک کیساتھ گھر بیٹھے انہیں بنوانے کی سروسز لے سکتے ہیں۔ دہلی کے تمام سکول اس وقت ڈیجٹلائز کئے جا چکے ہیں یا جا رہے ہیں۔ وہیں دہلی میں آپ 200 یونٹ سے کم بجلی بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    کینیا کی سپیس ایجنسی 2017 میں بنی اور اس سال وہ چین کیساتھ خلائی اسٹیشن پہ جائے گی جہاں وہ مختلف طرح کی تحقیقات میں حصہ لے گی۔ یاد رہے یہ پروگرام 2008 میں لانچ کردہ کینیا وژن 2030 کا حصہ ہے۔ اس کے تحت کینیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھنے کا قدم شامل رکھتا تھا اور اب واقعی آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ دنیا کے کچھ ان ممالک کے پیرا میٹر ہیں جنہیں ہم چنگڑ، چوڑہا یا پھر جاہل سمجھتے ہیں اور یہ سب بہت کچھ اچیو کر رہے ہیں۔

    جبکہ ہمارے ہاں ایک خاندان تیس سال حکمرانی کرنے کے بعد دل کے مرض کے علاج کے لئے لندن جاتا ہے سرجریوں کے لئے لندن جاتا ہے سرکاری تفریحات کے لئے لندن جاتا ہے وہیں دوسرا خاندان جو آزادی سے لیکر اب تک سندھ پر قابض ہے اس کا سربراہ بیمار ہو کر پرائیوٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اسکے لئے ائیر ایمبولینس تیار کھڑی رہتی ہے کہ کہہں باہر علاج کے لئے نا جانا پڑ جائے وہیں اسی کے ایک شہر میں ایک عورت اپنا بچہ لئے رو رہی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ڈاکٹر نہیں مل رہا ہے۔

    مہنگی بجلی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے ملازم بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد پچاس لاکھ بتائی جا رہی ہے اور ان کو بے روزگار کرنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے روزگار نہیں پیدا کئے تھے۔ شائد عمران خان ان پچاس لاکھ ٹیکسٹائل کے ملازموں کو سرکاری دفاتر میں پٹواری یا چپڑاسی بھرتی کرتا تب ہی یہ روزگار کہلواتے۔ روز کا ملک میں ایک ہی رونا ہے کہ ہمیں دو خاندان اور ایک ادارہ کھا گیا اور یہ اگلے سو سال تک جاری رہے گا۔

  • چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل کی کوئی اتنی قدر نہیں کرتا لیکن بہت مہنگے والا موبائل فون کوئی خرید لے تو اس کی قیمت مجبور کرتی ہے کہ اب اس کی قدر بھی کی جائے. موبائل فون استعمال کرنے والے یہ قدر مند پھر اس کی تین باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.

    اول اس کے سوفٹویر اپڈیٹ کا کہ اتنی مہنگی چیز اپڈیٹ نہ ہو تو فائدہ کیا. دوسرا اس کی بیٹری ہر وقت فل چارج رہے اور تیسرا اس کی صفائی چاہے اندرونی ہو جیسے اینٹی وائرس فضول لنکس اور میموری صاف رکھنا یا بیرونی جیسے سکریچز سے بچانے کیلئے کور پروٹیکٹر وغیرہ.

    کیا آپ خود کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہی تینوں چیزیں آپ کی بھی ضرورت ہیں. کتابیں علم اور تجربات آپ کو اپڈیٹ رکھتے ہیں. اچھی نیند اور اچھی صحت آپ کی توانائی کی بیٹریاں چارج رکھتی ہیں. آپ وہ فضول عادات ختم کرتے ہیں جو آپ کی توانائی ضائع کریں. اور اندرونی بیرونی صفائی آپ کیلئے بھی لازم ہے. آپ اپنی زندگی اپنی سوچ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں.

    اللہ رب العزت نے انسان کو بہت قیمتی بنایا ہے. یہ ہم پر ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر اس نعمت زندگی کی قدر کریں یا خود کو چائنا موبائل سمجھ کر بے قدر زندگی گزار لیں. کام دونوں ہی کرتے ہیں لیکن کلاس بہت الگ ہے. جیسے ایک ہی ٹرین کی فرسٹ کلاس اور تھرڈ کلاس کا سفر ہو.

  • مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    اے ایمان والو ! بے شک تم پہ اتوار کو بریانی اسی طرح فرض کی گئی ہے جیسے رمضان میں پکوڑے۔

    مسلمانوں اور بریانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ فرق بس مسالوں کا ہے ۔ کچھ میں تیکھا پن زیادہ ، کچھ کے بنانے کا طریقہ الگ ۔ کچھ نرے ویجیٹیرین ٹائپ ۔ سادہ ۔ رنگ برنگے ۔ کچھ تہہ در تہہ ۔ پھر برتنوں کے فرق سے ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ۔ ہر فرقے کے نائی اور ہر پکوان سینٹر کے مولانے کا طریقہ بھی جدا ۔ اور دونوں کے نزدیک انہی کی ریسیپی مستند ، سینہ بہ سینہ اور الہامی ہوتی۔ اگر کسی اور فرنچائز سے بریانی یا عقیدہ لیا جائے تو یہ برا مان جاتے ۔ ہر اک نے بڑا سا بورڈ لگایا ہوا جس پہ جلی حروف سے بریانی یا اسلام لکھا ہوا ہے اور کاؤنٹر پہ موٹا سا سیٹھ خشمگیں نظروں سے رہگیروں کو تکتا ہے۔

    جعلساز بھلا کب پیچھے رہتے ؟ جیسے لاہور میں گندے مندے پلاؤ میں ذرا سا بریانی مسالا ڈال کے دم لگاتے وقت زردہ رنگ ڈال دیا جاتا اور اسے بریانی کہا جاتا۔ ویسے ہی دو چار نعرے ایجاد کر کے بعض قاتل، دہشت گرد اور ڈاکو بھی خود کو خالص مسلمان کہتے۔ دونوں میں سے کسی پہ اعتراض کیا جائےتو لاہوریے آستینیں چڑھا کے اور ڈاکو جتھے بنا کے لڑنے مرنے کو آ جاتے۔ غریب مسافر ہو یا مسلمان۔ ہاں میں ہاں ملا کے ، پیسے دے کے جان بخشوانی پڑتی۔ چاہے ہزار ہزار میں ہی سہی۔

    ابتدا میں جب اسلام اور بریانی نازل ہوئے تو اجزائے ترکیبی بڑے واضح اور سادہ تھے۔ دونوں زود ہضم تھے۔ عمل کرنا اور بنانا آسان ۔ جیسے جیسے اسلام کا نور اور بریانی کی خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے۔ قبول عام ہوا ۔ چند ہی سالوں میں اک بڑا فرقہ الگ ہوا اور اپنی شناخت ہی الگ بنا لی۔ گوشت اور چاول وہی تھے مگر نام ” پلاؤ” تھا۔ اس کے معتقدین بھی کثیر بن گئے ۔ ( فرقے کا نام آپ کی سوجھ بوجھ پہ چھوڑ دیتے ) ۔

    جب دیگر بلاد و امصار میں بریانی اور اسلام پہنچے تو وہاں کے باسیوں نے ان دونوں پہ نت نئے تجربات کیے اپنے اپنے ٹیسٹ کے مطابق۔ پہلے یہ صرف بریانی اور اسلام تھے ۔ اب بریانی صرف بریانی نہ رہی بلکہ بمبئی بریانی ، کراچی بریانی ، وائٹ ویجیٹیبل بریانی ،انڈہ بریانی ، بیف بریانی ، مٹن بریانی ، تکہ بریانی ،قیمہ بریانی ،صفوی بریانی ،تہاری بریانی ، کلیانی بریانی ، کوفتہ بریانی ، فِش بریانی ، حیدرآبادی بریانی ، کچے گوشت کی بریانی ، جھینگا بریانی کے نام سے جانی جانے لگی۔ اسی طرح اسلام اب شیعہ ، اثنا عشری ،نصیری ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ،مقلد ،غیر مقلد ، وہابی ، حیاتی ،مماتی ، رضوی ، درودی ، بارودی ، ناصبی ، تفضیلی ، غامدی وغیرہ کے ٹیگ سے جانا جاتا ہے۔

    البتہ پاک و ہند میں جب بریانی اور اسلام پہنچے تو دونوں میں مسالا جات اتنے تیز کر دیے گئے کہ اب اوپر نیچے سے دھواں نہ نکلے تو سواد نہیں آتا۔ عربوں کے بقول تو برصغیرے کلمہ پڑھ کے نرے باؤلے ہی ہو گئے ۔( دروغ بر گردن ِ یوسفی ) ۔ خود عرب میں ان دنوں اسلام اور بریانی "مندی” کا شکار ہیں۔ باقی پسماندہ جگہوں پہ آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہے۔

    باقی اب ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم سے بریانی کھائیں یا اسلام سیکھیں۔ دونوں معدے پہ گراں نہ گزریں گے۔ نہ ہی پیٹ میں باؤ گولا یا دماغ میں آتش گولا بننے کے امکانات ہیں۔ تاہم ریسیپی سینہ بہ سینہ چلے گی اور پلیٹ حسینہ بہ حسینہ ۔

  • ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ندی میں سرخی مائل پانی بہہ رہا تھا جس کی گہرائی نامعلوم تھی۔ندی کے پیندے میں پانی کے متعدد راستے تھے جن کے ساتھ ساتھ کوندر اور سر کے پودے تھے۔ ہمارے پانچ عدد ڈالے چیونٹیوں کی طرح قطار بنائے کچے راستے پر ندی کو پار کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن سرخ رنگ پانی کی دہشت سے ڈرتے تھے۔

    قافلے کی سب سے پہلی گاڑی ہماری تھی۔ میرے ڈرائیور قمر شاہ نے بسم اللہ پڑھ کر اللہ توکل پر گاڑی پانی میں ڈال دی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے کھاڑی کے دوسرے کنارے پر لے آیا۔ اس کے بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی پچھلی چاروں چیونٹیوں نے اس کے بنائے گئے راستے پر ندی پار کی اور پھر ہم ندی کی دوسری کھاڑی کو پار کرنے لگے جس کے بعد ندی میں ریت سے بنا ایک بہت بڑا بیلہ آگیا جس کے بالکل درمیان ندی کے اندر زندہ پیر موجود تھا۔

    بیلے کے وسط میں دس سے پندرہ فٹ کی قدرتی اونچائی تھی جس کے اوپر ایک مزار تھا۔ یہاں پر کوئی قبر نہ تھی بس مزار تھا۔ ایک مسجد بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ایک برآمدہ۔ اس درگاہ کے اطراف میں تین چار فٹ اونچا اینٹوں کا چبوترہ بنا ہوا تھا اور درگاہ کو اونچے گھنے پرانے درختوں نے اپنے نیچے چھپایا ہوا تھا جس سے ماحول اور پراسرار نظر آتا تھا۔ ان درختوں پر کثیر تعداد میں رنگ برنگے کپڑے لٹکے ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں دلھا کے پہننے والے کلاہ بھی لٹکتے نظر آئے۔

    ہماری چیونٹیاں اس درگاہ کے اطراف بیلے پر پارک ہو چکی تھیں۔ اندر برآمدے میں چار بندے بیٹھے کسی ذکر میں مشغول تھے ان میں سے ایک چبوترے سے اتر کر ہمارے پاس آیا اور خاموشی سے ہمیں دیکھنے لگا۔ ہم نے یوں اچانک وارد ہو کر شائد ان کے مراقبے کو خراب کر دیا تھا۔

    درگاہ کے باہر لگے نلکے سے ہماری ٹیم کے لوگ پانی پینے لگے۔ندی کے پانی کی پیمائش کرنے اور پانی کی کوالٹی کی جانچ کرنے والی ٹیم کو یہ جگہ پسند آئی تھی۔ لہذا انہوں نے اپنا اسٹیشن یہاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بوٹ اتار کر ندی کے پانی میں اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

    ٹیم کے باقی لوگوں کو میں نے ایک گاڑی ادھر چھوڑ کر دوسری گاڑیوں میں اگلی کھاڑی پار کرکے دوسرے کنارے پر موجود گاوں کی طرف جانے کا کہا۔ گاوں ایک پہاڑ کے دامن میں آباد تھا اور میرا پروگرام اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر سروے اسٹیشن لگوانے کا تھا۔

    مزار کے چبوترے سے اترنے والا شخص ہماری بھاگ دوڑ دیکھ کر مسکرایا تھا اور میری نظر اس کی مسکراہٹ پر رک گئی تھی۔ میں نے اپنی پانی پیمائش ٹیم کے ایک بندے کو بلایا اور اس کے کان میں آہستگی سے سرگوشی کی کہ اس شخص سے گپ شپ لگا کر مزار کے متعلق معلومات ضرور لینا۔

    ہم گاوں کے پاس پہنچ گئے تھے جہاں پر میں نے اپنی سوشل اور ماحولیاتی ٹیم کے ممبران کو کہا کہ آپ لوگ گاوں میں پھیل جائیں اور یہاں کے سماج اور لوگوں کی خواہشات کو ٹٹو لیں۔ مسائل کی جانچ کریں اور پانی کی ضروریات کا اندازہ لگائیں۔

    میں پتھروں کی جانچ کرنے والی ٹیم، سروے ٹیم اور ڈیم کے ماہر انجنئیرز کو لے کر سڑک کے اس بلند ترین مقام کی طرف لپکا جہاں گاڑیاں چھوڑ کر ہمیں کو پیمائی شروع کرنی تھی ۔ گاڑی سے اتر کر جب چوٹی کی طرف اوپر دیکھا تو یہ خاردار گھنی جھاڑیوں سے پر تھی جن کے لامتناہی کانٹے ہمارے جسموں پر کٹ لگا کر ہمارے خون سے لاہوری چٹخاروں کا مزہ لینے کو بے تاب تھے۔ ہم پچھلی آتھ دنوں سے پوٹھوہار میں گھوم رہے تھے لیکن یہ چوٹی ہمیں سب سے بلند اور دشوار لگ رہی تھی۔

    ہم اللہ کا نام لے کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگے۔یہ چڑھائی توقع سے زیادہ دشوار ثابت ہورہی تھی کیونکہ جھاڑیوں نے اس کے عمودی پن کو چھپا رکھا تھا۔ احسن رشید سب سے آگے جیالوجیکل ہتھوڑے سے جھاڑیوں میں راستہ بناتا جارہا تھا لیکن یہ اتنی زیادہ تھیں کہ ان میں سے بمشکل گزرا جاسکتا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ اپنے سروئیر اظہر کا خیال آرہا تھا جو کہ کئی کلو وزنی ایکو پمنٹ کندھے پر اٹھائے اوپر چڑھ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا اسسٹنٹ سروئیر ظہیر تھا جس نے راڈ اور باقی سامان پکڑا ہوا تھا۔ سخت گرمی اور حبس تھا اور دوپہر کا وقت۔ سب کی پانی کو بوتلیں خالی ہورہی تھیں اور واحد سہارہ سروئیر کے پاس موجود کولر نظر آرہا تھا جو کہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ چڑھائی چڑھ رہا تھا۔

    نیچے زندہ پیر پر دھونی جما دی گئی تھی۔ندی کے عین وسط میں موجود اس مقبرے کو ندی میں آنے والا کوئی بڑے سے بڑا سیلاب بھی نقصان نہیں پہنچا سکا۔ پچھلے پچاس سال سے کئی ٹیمیں اس علاقے کا دورہ کرچکی تھیں لیکن وہ اس مقبرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھیں ۔“اس ٹیم نے بھی خوار ہو کر واپس جانا ہے۔ ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں” مسکرانے والے بندے نے نیچے ہماری پانی پیمائش ٹیم کے ممبر کو بتایا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا تھا “بابا اپنے آپ کو خود بچا لے گا”۔

    گاوں میں جانے والی سماجیات کی ٹیم ممبران کو میں نے لوگوں سے ڈھکے چھپے الفاظ میں بات چیت کرنے کا کہا تھا۔ کیوں کہ ہم ابھی ابتدائی جانچ کرنے آئے تھے۔ پتہ نہیں اس مقام کی موزونیت کے بارے کیا فیصلہ ہونا تھا لیکن کسی نے گاوں میں افواہ اڑا دی تھی کہ یہ گاوں ڈیم میں ڈوب جائے گا۔ میں نے اپنے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ پریشانی سروے ٹیم کے حوالے سے تھی کیوں کہ انہوں نے گاوں اور ندی میں جاکر پیمائشیں لینا تھیں جہاں کوئی بھی ان کے ساتھ الجھ سکتا تھا۔

    تاہم یہ گاوں ابھی تک خاموش تھا۔ لوگ ہمیں ندی میں پھرتا اور پہاڑوں پر چڑھتا دیکھ کر چپ تھے۔وہ ہم سے لاتعلق تھے اور یہی بات مجھے اور زیادہ پریشان کئے جارہی تھی ۔۔۔۔

    خدا خدا کرکے چڑھائی کا سفر طے ہوا جس کے دوران ہم پسینے سے بدحال ہوگئے۔ میرے سینے میں آکسیجن کی کمی سے درد ہو رہا تھا اور طرح طرح کے خیالات آنا شروع ہو چکے تھے۔ آخر وہ بندہ ہمیں پہاڑ کی طرف جاتا دیکھ کر ہنس کیوں رہا تھا؟۔۔۔۔

    چوٹی تک پہنچ کر ہم سب ہانپنے لگے تھے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر کافی دیر تک سانس بحال کرتے رہے۔ چوٹی سے ایک بہت پیارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ سرسبز چوٹیاں، ان کے درمیان سرخ رنگ بہتا پانی، پہاڑی ڈھلان پر تیزی سے اوپر آتا گاوں اور اس کے پیچھے تا حد نگاہ وسیع وعریض دریائی میدان۔

    سروے اسٹیشن لگ چکا تھا اور ہم نے پتھروں کی جانچ شروع کردی تھی۔ ڈیم انجنئیرز اور اس کے ساتھی اسٹرکچر کی مناسب جگہ دیکھنے پہاڑی پر آگے نکل گئے تھے جب کہ میں نیچے گاوں میں پارک اپنی چیونٹیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    سروئیر نے ایک گاڑی پر اپنا بندہ بٹھا کر وسیع وعریض دریائی میدان میں ادھر ادھر بھگانا شروع کیا ہوا تھا۔ میں نے اسے ندی کے عین وسط میں موجود مزار کی بلندی پڑھنے کا بطور خاص کہا تھا جس سے فارغ ہونے کے بعد اب وہ پانی میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ہماری ٹیم کو وہاں کام کرتے بہت وقت گزر چکا تھا لیکن ابھی تک کسی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تھی اور یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔ تاہم چوٹی سے نظارہ کرنے کے بعد اندازہ ہوگیا تھا کہ آبادی کے پھیلاؤ اور مزہبی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں شائد ڈیم سائٹ شفٹ کرنا پڑے۔

    میں نے وقت کا حساب کتاب لگایا تا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کوئی متبادل جگہ دیکھ لی جائے اور سروئیر کو وہاں چھوڑ کر باقی ٹیم کے ساتھ نیچے اترنا شروع کیا۔ پونے گھنٹے کی اتر ائی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر گاڑیوں میں بیٹھ کر مزار کے پاس سے دریائی بیلے میں اتر چکے تھے۔

    مزار پر دھونی جم چکی تھی۔اس بندے کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ جاری تھی۔ وہ ہمارے سروئیر کی پانی میں مست گھوڑی کی طرح بھاگتی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو چند سیکنڈ کے لئے کہیں رکتی اور دوبارہ بھاگ پڑتی۔اس دوران سروئیر ریڈنگ لے لیتا۔

    ہم نے دریا میں پہاڑی کے ساتھ ساتھ دائیں جانب جانے کا قصد کیا اور روانگی پکڑی ہی تھی کہ سروئیر کی سفید گھوڑی دلدلی پانی میں پھنس چکی تھی۔ وہ دلدل سے نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اتنا ہی نیچے بیٹھتی اور بالآخر اس کے پہئے سارے کے سارے زمین میں دھنس گئے۔ اسے ریسکیو کرنے کے لئے ایک اور گاڑی کو بھیج کر ہم آگے روانہ ہوگئے تاکہ مغرب سے پہلے دوسری سائٹ دیکھ لیں۔

    ہماری راہنمائی ایک مقامی ٹیچر کر رہے تھے جوکہ انتہائی کم گو آدمی تھی۔وہ ہمیں دریا کے ساتھ ساتھ ایک ایسے دوراہے پر لے گئے کہ جہاں سے آگے صرف پیدل کا پہاڑی راستہ تھا اور ادھر سے سورج غروب ہوچکا تھا۔ موبائل سگنل ندارد تھے اور بالآخر میں نے پیدل ٹیم کو واپسی کا حکم دے دیا۔ ہمارے دن کا اختتام ایک تنگ پتھریلے درے پر ناکامی سے ہورہا تھا۔ یہ ایک سخت دن تھا۔

    ندی کے اندر واپسی کا سفر اندھیرے میں شروع ہوا اور چند کلومیٹر واپس آنے بعد جیسے ہی موبائل سگنل آنا شروع ہوئے تو پتہ چلا کہ سفید گھوڑی کو بچاتے ہوئے ہماری کالی چیونٹی بھی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ میں نے گاڑیاں تیز واپس بھگانے کا کہا جو کہ اندھیرے اور پتھریلے دریائی میدان پر ایک مشکل کام تھا۔ چشم تصور میں مجھے پورا گاوں ہماری گاڑیوں کا تماشا دیکھتے ہوئے نظر آنے لگا۔

    کالی چیونٹی باہر آچکی تھی لیکن سفید گھوڑی ابھی بھی دلدل میں گھڑی تھی۔ رات کے آتھ بج چکے تھے۔ مزار پر ایک دیا روشن تھا۔ ایک سایہ وہاں نظر آرہا تھا۔ ہم نے گاڑیاں پارک کرکے لائنیں جلائے رکھیں۔ بیلچے سے کافی کھدائی کرنے کے باوجود بھی گاڑی پھنسی ہوئی تھی۔ اس کی روشنیوں میں اردگرد کی دلدلی جھاڑیوں کے سائے بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔ ندی کے پانی کے اندر سے مینڈک بولنا شروع ہوگئے تھے۔ندی کا سرخ پانی بے رنگ ہوچکا تھا اور گاوں سے منگوایا گیا ٹریکٹر بھی گاڑی کو باہر گھینچ کر نہ نکال سکا تھا۔

    اس اندھیرے میں اب گاوں کے لوگ بھی آہستہ آہستہ ندی میں اتر کر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔کچھ نوجوان موٹر سائیکل پر پڑوس کے گاوں بھیج دئے گئے تاکہ ہل چلانے والا بھاری ٹریکٹر منگوایا جا سکے جو گاڑی کے اگلے ٹائر اٹھا کر دلدل سے باہر کھینچ سکے۔ عجیب لوگ تھے یہ گاوں والے بھی جو ہمیں خوار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ وہ جلد از جلد ہماری وہاں سے روانگی چاہتے تھے۔ وہ اپنا سکون واپس چاہتے تھے۔ان کے لبوں پر کوئی شکوہ، کوئی طعنہ نہیں تھا۔

    آدھے گھنٹے کی مزیذ تگ و دو کے بعد سفید گھوڑی کو بڑا ٹریکٹر ایک ہیرو کی طرح نکال لایا تھا۔ ٹریکٹر والا ہم سے اس مدد کرنے کا کوئی معاوضہ لینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ڈیزل کے پیسے بھی نہیں لے رہا تھا۔ چیونٹیاں رات کے اندھیرے میں واپسی کو تیار تھیں۔ مزار کے درختوں سے دھواں نکلنا کم ہو گیا تھا۔ چبوترے پر ہلنے والا سایہ نیچے اتر کر روشنی میں آگیا تھا ۔ وہ ہمیں جاتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو “یہ ٹیم بھی خوار ہو کر جارہی ہے”۔

    میں وہاں اگلے چند دنوں میں واپس آنے کا سوچ رہا تھا۔ گاڑی میں خاموشی تھی۔گاڑی انتہائی ناہموار سڑک پر واپس جارہی تھی۔پہاڑی ڈھلوان پر اوپر نیچے بنے گاوں کے گھروں میں سکون تھا ۔۔۔ڈھوک سکون سونے کی تیاری کرہا تھا۔مزار سے دھواں اٹھنا بند ہوچکا تھا۔۔۔