Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

    ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

    ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

    زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

    کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

    بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

    بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

    بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

    اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ہاں

    ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

    خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

    اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

    اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

    بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

  • پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    ویسے تو تمام آسمانی مذاہب میں زومبیز جیسا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صرف ہالی ووڈ موویز میں ڈیفائن کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں زومبیز ایسے مردہ انسان ہوتے ہیں جو کسی کو کاٹ کھائیں تو وہ بھی زومبی بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک نئی طرح کے زومبی نیس کا شکار ہوگیا ہے۔ایسے کردار جو غلط یا غیر موجود کیرئیر کونسلنگ کی وجہ سے معاشرے کے کسی خاص شعبے میں ، اپنی مرضی کے بغیر ، شامل ہوجاتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے دوسرے افراد میں بھی اپنی طرح بیزاری اور مایوسی بھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

    کیا کسی ایسے سٹوڈنٹ کو کوئی ایسا مضمون زبردستی پڑھایا جاسکتا ہے جس میں اس کی دل چسپی ہی نہ ہو؟؟

    مثلا اسلامی مدرسوں میں بچوں ان کی عدم دل چسپی کے باوجودان کو مار پیٹ کراگر ہم ان کو عالم دین یا حافظ قرآن بنا بھی دیں اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سٹوڈنٹس ہوں جو صرف اپنی ذاتی دل چسپی اور شوق کی وجہ سے حافظ قرآن یا عالم دین بنیں تو کورس مکمل ہونے کی بعد کی زندگی میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے کو زیادہ بہتر اور دل جمعی کے ساتھ خدمات مہیا کرنے میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے میں بہتری، تازگی اور برداشت پہلے والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے آئے گی یا دوسرے والے؟

    یہی کہانی باقی تمام دنیاوی مضامین میں اپلائی ہوتی ہے۔ جس بچے کو بائیو سمجھ ہی نہیں آتی، اس کو آپ ایک اچھا ڈاکٹر کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہر بچے کی دل چسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ٹیچرز کے پاس ہر کلاس میں تقریبا 90%سٹوڈنٹس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی مرضی کی بجائے کسی اور مثلا ماں باپ، ماموں، چاچو یا دوستوں کے کہنے کی وجہ یہ مضمون منتخب کرتے ہیں اور پھر اگر کسی طریقے سے رٹا لگا کے، ذہنی اذیت برداشت کرکے یہ مضمون پاس کربھی جائیں تو اول نمبر اتنے اچھے نہیں آتے، یا نمبر اچھے آجائیں تو اس مضمون میں اپنی عدم دل چسپی کی بنا پر معاشرے کو اپنا سو فیصد کنٹری بیوشن نہیں دے سکتے۔

    ایک اور مثال اپنے مضمون سے دینا چاہتا ہوں کہ ایم سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنسز کرنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو پروگرامنگ کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی طرف سے ایک لائن بھی کوڈ نہیں کرسکتے۔ اب ایک ماسٹرز ڈگری والا پروگرامنگ کی ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو کمپیوٹر سائنس پروگرام میں جو ایڈمشن دیا تھا وہ ایڈمشن غلط تھا۔اور ایسے سٹوڈنٹس جب ڈگری مکمل کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں واپس آئیں گے۔ تو اچھی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بیزاری، عدم برداشت اور تعلیم سے دوری جیسے عناصر کو فروغ دیں گے۔

    حقیقتا ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ویسے تو ایسے سٹوڈنٹس کا ڈگری میں کامیاب ہونا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں سے اکثریت علم کی دریافت اور ایجاد کی بجائے چھاپہ خانے کی سروسز مہیا کررہی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اچھی آمدن کیلئے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ۔ یہ علیحدہ قابل مباحثہ موضوعات ہیں۔

    ہمیں میٹرک کے بعد سے ہی اس مسئلے پر توجہ دینی پڑی گی۔ کیرئیر کونسلنگ کے شعبے کی کالج لیول پر اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے بارے میں پوچھا جائے، جو اس کو سمجھنے میں آسان لگتا ہے۔ یا بالفرض اس کو کسی ایسے پروگرام میں ایڈمشن مل بھی جاتا ہے جو وہ فالو نہیں کرسکتا تو ایک یا دو ماہ کے اندر اپنا پروگرام تبدیل کرلے اور کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے لے، جس میں اس کو دل چسپی ہے۔

    ہمیں مزید پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے، جس میں ٹیکنیکل پروگرامز کی کثیر تعداد شامل ہو۔ کیوں کہ سٹوڈنٹس کی اکثریت روایتی تعلیمی پروگرامز میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں میرٹ بیسڈ ایڈمشنز کو فروغ دینا ہوگا۔ کمپیوٹر سائنس پروگرام میں اس کو ایڈمشن دیں، جس کی ریاضی اچھی ہو۔ جو کوڈنگ کرسکتا ہےورنہ اس کے کمپیوٹر سائنس پڑھنے سے نہ اس کو کوئی فائدہ اور نہ ہی ملک کو کوئی فائدہ۔ بلکہ اس کے پروگرام کو جوائن کرنے سے الٹا ریسورسز کا ضیاع ہی ہوگا۔

    کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے تعلیمی پروگرام میں دل چسپی نہیں لیتے ۔ ان کیلئے سپورٹس پروگرام اور انٹرن شپ بیسڈ پروگرامز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ جس میں مارکیٹ میں ہونے والے بہت سارے کاروبار میں ان کی مہارت ڈیویلپ کی جاسکتی ہے۔

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔

  • چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    یہ وقت ہمیں کہاں لے آیا کہ بارود پھٹے تو تکبیر کا نعرہ لگے۔ مساجد و امام بارگاہوں کی صفیں لہو رنگ ہوں تو ہمارا عشق نکھرتا ۔ مندر اور کلیسا میں آگ جلے تو ہمارے ایمان کو جلا ملتی۔ اقلیتوں کی جان خطرے میں ڈالتے تو ہمارا اسلام خطرے سے نکلتا۔ ہم بھٹے میں جلتی لاشوں کی راکھ بنتی ہڈیوں پہ تقدیس رسالت کا قصر تعمیر کرتے۔ غیرمسلم بچی کے ننگے سر پہ چادر ڈالنے کی بجائے جبری نکاح کرنے میں ہمارا من تسکین پاتا۔ جلتے لاشے کے ساتھ تصاویر ہمارے عشق رسول کی سند ہوتیں۔

    رسول اللہ ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں۔

    اہل کلیسا نے آپ کے نہیں, ہمارے کردار کے خاکے بنائے۔

    ہمارے خطیبوں کی شعلہ نوائیوں اور جعلی محدثین کی فسانہ طرازیوں کے کارٹون بنے۔ ان میں عکس تمہاری بےداغ سیرت کا نہیں, ہمارے اعمال بد کا ہے۔ تمہیں تو دشمن نے صادق و امیں کہا, ہمِیں ننگ نکلے کہ کوئی اعتبار کو تیار نہیں۔

    ہم تو بھول گئے کہ تو رحمة اللعالمین ہے۔ تو منبع جود و سخا ہے۔ تو مصدر عطا ہے۔ ہم نے مرنے مارنے اور گلے اتارنے سے کم پہ بات نہیں کی۔ سہیل بن عمرو تیرے نام سے رسول اللہ مٹاتا ہے۔ دریدہ دہنی کرتا ہے۔ جب وہ گرفتار ہوتا ہے تو عمر بن خطاب اس کے دانت توڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے مگر یہ کیا ! ارشاد ہوتا ہے کہ میرے رب نے چہرے بگاڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ وہ نبی تو نہیں جس سے ہمیں اپاہج خطیبوں نے روشناس کروایا۔

    اہل مکہ خون کے پیاسے ہیں۔ غلہ کی کمی ہے۔ مگر ثمامہ بن اثال کو حکم ملتا ہے کہ کسی صورت غلہ نہ روکو۔ ہم تو بھوکے ننگے ہو کر بھی بائکاٹ سے کم پہ راضی نہیں۔ اب یہ کیا ! ابو سفیان آیا ہے۔ مکہ میں قحط ہے۔ مدینہ کیوں آیا بھلا, نبی سے دعا کروانے ۔ کہتا ہے, اے محمد! تیری قوم ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی دعا بھی کرتا ہے۔ تحفے اور اجناس سے بھی نوازتا ہے ۔
    ہائے کیا کیا سبق بھلا بیٹھے ہم ۔

    عیسائی آئے ہیں ۔ عبادت کا وقت ہے۔ وہ جگہ ڈھونڈنے لگتے تو مسجد نبوی کا صحن حاضر ملتا ہے۔ ہمارے زعماء نے مسجد کو مسلک بنا دیا۔ ارے وہ بدو کدھر ہے! جسے کل مارنے دوڑے تھے صحابہ ۔ کہ گستاخ ہے۔ آ گیا۔ اس کو اونٹ بھی عطا کرو۔ مال مویشی بھی دو۔

    وارفتگی میں تیری شان بلند کرتا ہے اور تو اس بات پہ خوش, کہ جہنم سے بچ گیا۔ مگر تیرے فقیہ تو توبہ کا موقع دینے کے سزاوار بھی نہیں۔

    کچرا پھینکنے والی بڑھیا کی روایت ہمارے خطباء کے نزدیک ضعیف سہی, مگر طائف کے پتھروں والی تو قوی روایت ہو گی۔ اے اللہ کے نبی, انہیں تباہ کر دیا جائے۔ نہیں ۔ یہ تو جانتے نہیں میں کون ہوں۔ احد میں پتھر لگتے۔ چہرہ لہولہان۔ زبان پہ دعا, اے اللہ یہ لوگ مجھے جانتے ہی نہیں۔ ہدایت دے انہیں۔

    خامہ بشکستیم و لب بستیم از تعریف دوست

    کیا کیا سناؤں, کیا کیا لکھوں۔ تیرے حلم پہ, تیرے کرم پہ, تیری عطا پہ, تیرے عفو پہ, تیری رحمت پہ, تیری شان کریمی پہ ۔ تیری محبت پہ, تیری بندہ نوازی پہ, تیرے تبسم کی عادت پہ, تیرے معاف کر دینے کی خصلت پہ, تیرے نور بصیرت پہ ۔

    یا رسول اللہ! طائف والوں بھی تجھے نہ پہچانا۔ پتھر مارنے والے بھی تجھے نہ پہچانتے تھے۔ خاکے بنانے والے بھی تجھ سے ناواقف ہیں۔ مگر اے اللہ کے رسول, پہچانتے تو ہم بھی نہیں تجھے ۔ ہم بھی تیری شان رحیمی سے ناواقف ہیں۔ ہم تیرے نام پہ بےگناہوں کی جانیں لے سکتے ہیں ۔ تیرے دیے عفو و حلم کا سبق بھول چکے۔

    مسلماں آں فقیرے کج کلاہے
    رمید از سینہء او سوز و آہے
    دلش نالد, چرا نالد, نداند
    نگاہے یارسول اللہ, نگاہے

  • آر یا پار—عمر یوسف

    آر یا پار—عمر یوسف

    سیاست میں استحکام نہ آنے کا دکھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے قیام کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن سیاسی استحکام میں ترقی کی بجائے تنزلی کا رجحان تیز سے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز دیگر بہت سے ممالک کی نسبت وسائل کی بہتات کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جس کا یہ مستحق تھا جبکہ دیگر کم وسائل کے حامل ممالک آج کسی نہ کسی مقام پر کھڑے ہیں ۔

    یہاں بہت سے دانشور متعدد وجویات کی تفصیلی گفتگو کرسکتے ہیں لیکن یہ گفتگو ظاہری نوعیت کی ہوگی ۔ جبکہ ان ظواہر کے پیچھے بھی اسباب کار فرما ہیں جو ان ظواہر کے وقوع کا سبب بنے ہیں ۔

    ان خفیہ اور پوشیدہ اسباب کو ایک منطقی اور فلسفی سوچ و فکر کا حامل شخص مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر ہی پہچان سکتا ہے ۔ کہ وہ اسباب خدائی اصولوں پر مبنی ہیں ۔

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے بزرگ و برتر نے اس چیز کا فیصلہ فرما دیا کہ دو گروہ ہونگے جن میں سے ایک کو خدائی اور دوسرے کو غیر خدائی گروہ سے منقسم کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کے بارے اصول و ضوابط طے کردیے گئے ہیں کہ کامیابی و کامرانی یا حصول سہولت و آسائش کا معیار کیا ہوگا ۔

    خدا نے غیر خدائی گروہ کو دنیوی زیب و زیبائش اور آسانیوں سے نواز کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ اپنی سرکشی میں بڑھتے رہیں اور مہلت کا وقت گزارتے رہیں لیکن اگر اسی حالت میں روح قفس عنصری کے سپرد کرتے ہیں تو ان کا انجام بھیانک و خوفناک ہوگا ۔

    اس کے برعکس خدائی گروہ کو خدا کی فوج میں مجبور کرکے شامل نہیں کیا جاتا ۔ جو شامل ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن اس گروہ میں شامل ہونے کے بعد اس اصول و ضوابط کا کاربند ہونا پڑے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نئی نکلتا اور وائے ناکامی کی صدائیں لگاتا انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔

    یہاں ایک ہی صورت کامیابی ہے اور وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے میں ہے ۔

    اس حقیقت کو تاریخ کے حادثات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔

    وطن عزیز کو بھی اس معیار پر حاصل کیا گیا کہ یہ ایک خدائی مملکت ہوگی جس میں نظام حیات خدائی اصولوں پر مبنی ہوگا اور نظام سیاست شرعی اصولوں کے کاربند ہوگا ۔

    خدائی گروہ میں شمولیت کے دعوی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدائی اصول اپنائے جائیں لیکن اس کے برعکس نظام حیات و سیاست کی بنیاد غیر اسلامی قوانین پر استوار ہوئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

    انسان بحیثیت مجموعی و انفرادی یہ کرسکتا ہے کہ یا تو وہ کامیابیوں کے حصول کے لیے خدائی اصولوں کا کاربند ہوکر آر ہوجائے یا پھر ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے پار ہوجائے اور آخرت کو برباد کرلے ۔

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟

    Convention for Elimination of Discrimination Against Women

    یہ اقوام متحدہ کا، عورتوں کے حقوق سے متعلق چارٹر ہے جس پر پاکستان نے دسمبر، 1996 میں دستخط کر کے انہیں تسلیم کیا تھا۔
    اب یا تو ہمارے مقتدر حلقے اسلام سے بالکل جاہل ہیں، یا بیرونی سازشوں کے دست و پا۔۔۔۔ کیونکہ اسی کنوینشن کو جن بنیادوں پر سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر رد کر دیا تھا، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

    1۔۔ اس کنونشن میں کہا گیا ہے کہ عورت بھی مرد جیسی ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مرد عورت جیسا نہیں ہوتا۔

    2۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا جبکہ اسلام 4 شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے۔

    3۔۔ اس کنونشن کے مطابق بچوں کو انکی ماؤں کے نام سے پکارنا چاہیے (مثلاً نومولود بچے جنکا اپنا نام ابھی نہیں رکھا گیا ہوتا) جبکہ اسلام میں اولاد کو اسکے باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    4۔۔ اس کنونشن کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ جب چاہے نکاح کر لے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کو عدت کے دوران نکاح سے سختی سے روکتا ہے۔

    5۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد، عورت اور اپنی بالغ بیٹیوں کا سرپرست نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام نے مرد کو قوام اور خاندان کا سربراہ قرار دیا ہے۔

    6۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد اور عورت کی وراثت برابر ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں بہنوں کا حصہ بھائیوں سے آدھا ہے۔

    7۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو عورت سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ شریعت میں اسکا تصور بھی محال ہے۔

    8۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو اسقاط حمل کا حق ہونا چاہیے جو صریحاً غیر اسلامی ہے۔

    9۔۔ اس کنونشن کے مطابق کنواری عورت کے، باہمی رضامندی کے ساتھ منعقدہ جنسی تعلقات(زنا) پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں یہ قابل سزا جرم ہے۔

    10۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت بھی جب چاہے مرد کو طلاق دے سکتی ہے، جب چاہے کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے جو کہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔

    11۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت 18 سال سے پہلے شادی نہیں کر سکتی جبکہ اسلام میں بلوغت کے وقت نکاح کی اجازت ہے۔

    اب اس بات پر ذہن دوڑائیں کہ اسلام اور فیمن ازم کس طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

    یہ ناممکن کام کیسے ہو سکتا ہے؟

    چوکور مثلث کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

    "اسلامی فیمنسٹ” ۔۔۔۔ یہ اصطلاح محض oxymoron ہی نہیں، بلکہ یہ کہلوانے والے لوگ دنیا کے سب سے بڑے "مورون”( یعنی بیوقوف) ہیں۔۔۔۔!!!

  • ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    صالح اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،والدین کی اولاد پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے!اے ایمان والوں اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
    (سورۃ التحریم آیت نمبر ۶)

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں ہر کوئی نگراں ہے اور ہرکوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی:۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

    اولاد والدین کے لئے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اپنی اولاد کے متعلق جواب دہ ہونگے۔اگر انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہوگی تووہ والدین کے لئے دنیا و آخرت میں باعث راحت ہوگی۔

    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں (۱)صدقہ جاریہ(۲)ایساعلم کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں(۳)

    صالح اولاد جو ان کے لئے دعا کرتی رہے۔‘‘

    یہ اولاد کی تربیت کا ثمرہ ہے جب ان کی صالح تربیت کی جائیگی تو وہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔

    والدین اس دنیا میں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتی ہیں۔ والدین کا مثبت رویہ اولاد کو بنا بھی سکتا ہے اور منفی رویہ تباہ بھی کر سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں اکثر والدین over possessive ہو جاتے ہیں جو بچے کی شخصيت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ مطلب بچوں کی حد سے ذیادہ فکر کرنا, ہر وقت ساتھ رکھنا, اور بچوں کا ہر فیصلہ خود کرنا اور یہ کہنا کہ "ہم بہتر سمجھتے ہیں بچے کبھی خود صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے”۔ یہ رویہ بچوں میں قوت فیصلہ, اچھائی و برائی کا فرق, اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کو ختم کر دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سب اتنے پیار اور محبت سے کرتے ہیں کہ بچے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں ہمیشہ والدین درست لگتے ہیں۔ اور اگر ذرا بھی یہ بچے بڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو مان اور بھروسہ ان کے قدموں کی زنجیریں ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر اچانک کوئی مصیبت آجائے تو یہ بچے بلکل سنبھل نہیں پاتے اور نا ہی کوئی حکمت عملی طے کر سکتے ہیں۔

    کچھ والدین اپنی اولاد کے ساتھ بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وقت دینا, ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات ہے وہ ہمیشہ سخت رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بچوں کو ڈرا کر ہی قابو کیا جا سکتا ہے نہیں تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کا اعتماد, کچھ کرنے کی لگن, اور شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ بچوں کا ڈر انھیں صرف ” جی ٹھیک ہے” کہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ مطلب وہ اس احکامات ماننے والے بن جاتے ہیں۔ بوقت مصیبت یہ بچے بھی اکثر حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ کبھی اکثر وہ چھوڑ دیتے جو یہ چاہتے ہیں چاہے وہ کھلونے ہوں, کیریر ہو یا شادی کا فیصلہ یہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑے چاہتے ہیں۔ ان کا ڈر کبھی ان کی چھپی صلاحيتوں کو نکھرنے نہیں دیتا۔ یہ بچے اپنی کامیابی بھی اپنی والدین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    تیسرے نمبر پر وہ والدین آتے ہیں جو بہت لاپروہ ہوتے ہیں یعنی "Ignorant ” ۔ یہ والدین بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا ہونا نا ہونا برابر ہوتا ہے۔ وہ نا تو کبھی پیار سے پیش آتے ہیں اور نا ہی غصے سے۔ یہ والدین بھی بچوں کو ڈیمج کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصيت سازی میں والدین کا بہت قلیدی کردار ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ان کی نمایاں صفات بن جاتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے بچپن میں ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضروریات زندگی اور تربیت اپنے سر لے کر وہ اپنی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہوتے بہت کم ہیں۔

    چوتھے نمبر وہ والدین آتے ہیں جو آئیڈیل ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں سے پیار بھی کرتے ہیں اور حالات کے مطابق سختی بھی۔ یہ والدین اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جو ان شخصيت کو نکھار دیتی ہے۔ یہ بچے با اعتماد, با ہمت, اور بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کیریر اور زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی راہیں اور منزلوں کا تعین خود کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی تعمير و ترقی میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی, منصوبہ بندی, لیڈرشپ اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے میں یہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔

  • فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    ماہرین کے مطابق ڈپریشن دماغی صحت کے سب سے عام عوارض کی فہرست میں شامل ہے۔ اگر آپ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ صرف امریکہ میں ہی 7% سے زیادہ امریکی سالانہ بنیادوں پر ڈپریشن ڈس آرڈر کا شکار رہتے ہیں۔

    اگرچہ اس خرابی کی بہت سی پیچیدہ وجوہات ہیں، لیکن محققین ابھی تک اس پہلو کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک، ہم یہ جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی اور افسردگی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس خرابی کا تعلق آلودگی سے ہوسکتا ہے۔ آئیے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرتے ہیں۔

    محققین نے بیجنگ میں صحت مند رضاکاروں کے ایک گروپ کی مدد سے ایک مطالعہ کیا۔ اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ یہ چین کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک شہر ہے جو چین کا دارلحکومت بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس شہر میں آلودگی کی سطح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ چونکہ اس شہر میں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، اس لیے محققین نے اس تجربے کے لیے اسی شہر کا انتخاب کیا۔

    ماہرین نے ہوا کا معیار جاننے کے مانیٹر کا استعمال کیا تاکہ رضاکاروں تنفس اور دماغی صحت پر اس ہوا کے اثرات کا اندازہ ہوسکے۔ اس کے بعد، تمام شرکاء کا ڈپریشن کی مختلف علامات کے لیے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان کی علمی کارکردگی کا بھی تجربہ کیا گیا۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہوا کی خراب کوالٹی میں سانس لینے سے ان کی علمی کارکردگی میں کوئی کمی آئی ہے؟

    انہوں نے پایا کہ ہوا کے خراب معیار کا لوگوں کے مزاج اور علمی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، محققین کو اس طرح ایک ایسے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلوم ہوا جو فضائی آلودگی سے متاثرہ لوگوں میں ڈپریشن کی علامات تلاش کرسکتا ہے اور جان سکتا ہے کہ واقعی فضائی آلودگی ڈپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے کہ نہیں۔ وہ یہ تجربہ کر کے زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے کہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن آخر کس طرح مربوط ہیں اور اس سے کتنے فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں؟

    اس کے علاوہ، محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد میں کسی طرح کے جینیاتی رجحانات ہوتے ہیں ان میں طویل مدت تک آلودہ ہوا میں رہنے پر دماغی صحت میں خرابی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورک پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک بار جب اس عصبی نیٹ ورک سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو فرد کو پریشانی شروع ہو سکتی ہے۔ لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی آپ کی دماغی صحت کے لیے بہت بری ہو سکتی ہے۔ ایک بار جب آپ کی دماغی صحت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو آپ کو اپنے جسم کے دیگر حصوں میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی ڈپریشن کا سبب بننے والے بنیادی عوامل میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ انتہائی آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ شہر کے لوگ طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی عارضوں اور افرا تفری میں مبتلا رہتے ہیں۔

    اگرچہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے اپنی سطح پر پوری کوشش کریں۔ اس مقصد کے لیے، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر یا دفتر کے لیے ایک اچھا ایئر پیوریفائر خریدنے پر غور کریں۔ ان سادہ لیکن طاقتور آلات کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کے گھر اور دفتر میں ارد گرد کی ہوا کو موثر طریقے سے صاف کر سکتے ہیں۔

    لہذا، آپ کو اپنا بجٹ سیٹ کرنا چاہیے اور ایک ایئر پیوریفائر یونٹ خریدنا چاہیے جو آپ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ آخرکار، آپ فضائی آلودگی پر تو کنٹرول نہیں کرسکتے لیکن کیا آپ اپنی زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہونا چاہتے ہیں؟

  • آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جسے عام فہم میں آسمان کہتے ہیں دراصل یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو زمین سے ہم دیکھتے ہیں۔ زمین بھی کائنات کے باقی تمام ستاروں, کہکشاؤں وغیرہ کی طرح خلا میں ہے۔

    قدیم تہذیبوں جیسے کہ بابل و نینوا میں سات آسمانوں کا تصور زمین سے دکھنے والے سات اجرامِ فلکی سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کی وجہ سے بنا۔ اور ہر ایک سے ایک آسمان منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں یہ تصور دیگر تہذیبوں میں آیا ۔ یہ تصور اتنا مستقل ہے کہ آج بھی ہم نے ہفتے کے دنوں کے نام انہی سات اجرام کی مناسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اسکا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

    زمین گو کہ خلا میں ہے مگراس کی اپنی فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان کا تناسب فضا میں کچھ یوں ہے۔ نائٹروجن 78 فیصد ، آکسیجن 21 فیصد جبکہ دیگر کئی گیسیز اور بخارات کل ملا کر 1 فیصد ۔ دن کے وقت یہ ہمیں فضا نیلی کیوں دکھائی دیتی ہے جبکہ رات میں کالی یا تاریک ۔

    غیر سائنسی الفاظ میں سمجھایا جائے تو سورج کی روشنی میں ہر طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ہم جب قوسِ قزح دیکھتے ہیں تو ہمیں سات رنگ نظر آتے ہیں۔ روشنی دراصل برقناطیسی لہروں کی صورت میں ہے۔ لہر کی ایک ویولینتھ ہوتی ہے۔ کسی مسلسل لہر میں کئی اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ ایک لہر کے دو قریبی اُتار یا قریبی چڑھاؤکے بیچ کے فاصلے کو ویوولینتھ کہتے ہیں۔ روشنی کے مخلتف رنگ دراصل اس لئے ہوتے ہیں کہ ہر رنگ کی ویوولینتھ مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویوولینتھ زیادہ ہے بنسبت نیلے رنگ کے۔ یعنی سرخ روشنی کی لہروں کے دو قریبی اُتار میں فاصلہ زیادہ ہو گا بنسبت نیلے رنگ کی روشنی کے دو قریبی اُتار کے۔

    سورج کی سفید روشنی جب ہماری زمین کی فضا سے ٹکراتی ہے تو ہماری فضا میں موجود گیس کے مالیکول مختلف ویویلنتھ کی روشنی کو مختلف طرح سے بکھیرتے ہیں۔

    زیادہ ویویولینتھ کی روشنی کم بکھرے گی جبکہ کم ویویلنتھ کی روشنی زیادہ۔

    یعنی سرخ روشنی کم بکھرے گی اور نیلی روشنی زیادہ بکھرے گی۔ نیلی روشنی کے زیادہ بکھرنے سے فضا دن کے وقت ہمیں نیلی نظر آتی ہے۔

    غروبِ آفتاب کے وقت البتہ آسمان سرخ یا نارنجی دکھائی دیتا ہے جسکی وجہ یہ کہ اُفق سے نیچے سورج کی روشنی کو زیادہ فضا سے گزرنا پڑتا ہے بنسبت دن کے وقت۔
    سو نیلی روشنی جو پہلے ہی زیادہ بکھرتی ہے، اب اور بکھر کر نظر نہیں آتی جبکہ سرخ روشنی کم بکھرتی ہے سو نیلی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

    روشنی کے اس طرح سے بکھرنے کے عمل کو Rayleigh Scattering کہا جاتا ہے۔جسکے بارے میں 1871 میں برطانوی سائنسدان Lord Rayleigh نے بتایا کہ کیسے روشنی کی ویویلنتھ سے چھوٹے سائز کے ذرات روشنی کو مختلف زاویوں پر بکھیرتے ہیں۔

    تو اب اگر آپکا بچہ آپ سے پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے
    تو پہلے اُسکی آسمان کی غلط فہمی دور کیجئے گا اور پھر یہ بتائیے گا کہ فضا دن کو نیلی کیوں دکھتی ہے.

  • ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    قرآن مجید کے 30 پارے کی79 ویں سورت جس میں 46 آیات، الفاظ 179 اور حروف 762 ہیں۔

    دور نزول: مکی

    نام
    پہلے ہی لفظ النٰزعٰت سے ماخوذ ہے۔

    زمانہ نزول
    حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ سورہ نباء (عم یتسآءلون) کے بعد نازل ہوئی ہے۔
    یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

    اس کا موضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر خبردار بھی کیا گیا ہے کہ خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوگا۔

    آغاز کلام اللہ میں موت کے وقت جان نکالنے والے اور اللہ کے احکام کو بلا تاخیر بجانے والے اور حکم الٰہی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آ کر رہے گی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، انہی کے ہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جا سکتی ہے اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کر سکتے ہیں

    اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یہ کام، جسے تم بالکل ناممکن سمجھتے ہو، اللہ تعالٰی کیلئے سرے سے کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کیلئے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کر دے گا اور دوسرا جھٹکا اس کیلئے بالکل کافی ہوگا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہوں گے جس کو وہ اپنے نزدیک ناممکن سمجھتے تھے۔ پھر حضرت موسٰی اور فرعون کا قصہ مختصراً بیان کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کر کے اس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔

    اس کے بعد آیت 27 سے 33 تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کر دینا زیادہ سخت کام ہے یا اس عظیم کائنات کو پیدا کرنا جو عالم بالا میں اپنے بے حد و حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بارِ گرد تخلیق آخر کیوں مشکل ہوگی؟ صرف ایک فقرے میں امکانِ آخرت کی یہ مسکِت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین اور اس سروسامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کرے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اس کا محاسبہ کرنا زیادہ مقتضائے حکمت نظر آتا ہے یا یہ کہ وہ زمین ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ ان اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا؟ اس سوال پر بحث کرنے کی بجائے آیات 34 – 41 میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت برپا ہوگی تو انسان کے دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حدِ بندگی سے تجاوز کر کے اپنے حدا سے سرکشی کی اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذتوں کو مقصود بنا لیا اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے خود کو بچایا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جواب ہر اس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اس پر غور کرے گا۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اسی بنیاد پر آخر کار اس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔

    آخر میں کفار مکہ کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب؟ یہ سوال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبردار کر دینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے اپنا رویہ درست کر لے اور جس کا جی چاہے بے خوف ہو کر شترِ بے مہار کی طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی پر مر مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لئے اپنا مستقبل برباد کر لیا۔