Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں، فلاں ابن فلاں، فلاں کے بھائی، فلاں کے والد اور فلاں کے قریبی رشتے دار کا رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا ہے نماز جنازہ بوقت… بجے صبح /دوپہر /شام فلاں جنازہ گاہ میں ادا کی جائے گی، نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ ۔

    یہ وہ اعلان ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر سنتے ہیں اور سن کر اگر وہ شخص کوئی واقف ہو تو اس کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہیں ورنہ اس اعلان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

    مشہور ہے کہ کسی نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ کسی بھی شخص کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے تھوڑی سی مہلت تو دیا کریں تاکہ وہ توبہ کر سکے تو ملک الموت نے کہا کہ کہ کیا آپ روز اپنے اردگرد ہونے والی اموات نہیں دیکھتے یہ اس بات کا اعلان ہی تو ہے کہ جو روح دنیا میں آئی اس کا کسی بھی وقت واپسی کا بلاوا آ سکتا ہے تو ہر وقت موت کو خوش آمدید کہنے کی تیاری رکھو۔

    دنیا میں ہر نظریہ کو ماننے والے لوگ ہیں ملحد حضرات بھی ہیں، ہو سکتا ہے آخری وقت میں ان کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ ہم ساری عمر خدا کے وجود کا انکار کرتے رہے، کیا ہم درست تھے؟ البتہ ایسے ملحد حضرات بھی موجود ہوں گے جنہوں نے زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کی ہو اور وہ خندہ پیشانی سے اپنے انجام کو قبول کریں ۔

    مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ بھی ہوں گے جن کے بارے میں گمان غالب ہے کہ وہ اپنے آخری وقت میں اپنے عقیدے کی صداقت کے بجائے اس بات پر متفکر ہوں گے کیا ان کے اعمال اس قابل ہیں جن کی بنیاد پر وہ بے خوف و خطر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں سکیں البتہ ان میں بھی ایسے لوگ کم تعداد میں ہی سہی لیکن موجود ہوں گے جن کو یقین ہو گا کہ ہم نے تمام زندگی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی اس لئے ہمارے ساتھ رب خیر والا معاملہ کریں گے ۔

    پاکستان میں 40 سال کی عمر کے بعد زندگی کو بونس سمجھا جاتا ہے یعنی کسی وقت بھی رب کا بلاوا آ سکتا ہے سابقہ زندگی جو غفلت میں گزر گئی اور نامہ اعمال پر جو سیاہی چڑھ گئی اس کا مداوا تو صرف رب کی بارگاہ میں سچے دل سے کی گئی توبہ اور اشک ندامت ہی ہیں لیکن جو زندگی بچ گئی اسے غفلت میں گزارنا سراسر نادانی ہے۔

    برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوں کہ میرے خیال میں تمام لوگوں کو اپنے نظریات اور عقیدوں کے ساتھ جینے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے البتہ دوسروں کو اپنے نظریات کی تبلیغ کرنے کے بجائے ہمیں خود کو ایسا بنانا چاہئے کہ لوگ ہمارے جیسا بننے کی آرزو کریں ۔

    ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
    ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے

    اس تحریر کی وجہ یہ ہے کہ 40 سال کی عمر میں جب ہماری زندگی کی عصر ہو گئی ہے اور کسی وقت بھی زندگی کی مغرب (زندگی کا سورج غروب) ہو سکتی ہے ہم ایسے کیا اعمال کریں کہ جن کی وجہ سے ہم رب سے ملاقات (بعد از موت) سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ شدت سے اس ملاقات کے متمنی ہوں ۔

    ہر مذہب میں رب کو راضی کرنے کے لئے مختلف احکامات ہیں اس تحریر میں ہم اسلامی نکتہ نظر سے رب کو راضی کرنے کے لئے لازمی احکامات یا فرائض بیان کر رہے ہیں، تحریر پڑھتے ہوئے یہ بات مدنظر رہے کہ یہ تحریر کسی عالم دین کی نہیں بلکہ ایک عام دنیا دار بندے کی ہے اس لئے آپ بندے کی تحریر سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔

    دنیا کی زندگی ہمارا امتحان ہے کہ ہم رب کے فرماں بردار ہیں یا نا فرمان، ایسا امتحان جس میں تھیوری بلوغت سے پہلے پڑھائی جاتی ہے جبکہ بلوغت کے بعد صرف پریکٹیکل (عمل) پر زور دیا جاتا ہے ۔

    بقول علامہ اقبال

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    دین ہے کیا؟

    اللہ کے بتائے گئے اعمال یا احکامات کا مجموعہ ہے ۔

    1۔کلمہ طیبہ
    2۔نماز
    3۔روزہ
    4۔حج
    5۔زکوٰۃ

    کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم دین میں داخل ہوتے ہیں، روزے سال میں ایک مہینے کے لئے فرض ہیں اس میں بھی بیمار لوگوں کو رعایت ہے ، حج زندگی میں ایک مرتبہ لازمی (صاحب استطاعت لوگوں پر) اور زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہے ۔

    روزانہ کرنے والا عمل صرف نماز بالغ مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اس میں بھی رعایت ہے کہ اگر مسجد میں باجماعت ادا نہیں کر سکتے تو گھر میں یا جہاں پاک جگہ میسر ہو ادا کریں، اگر بیمار ہیں تو بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے ادا کریں اور اگر کسی وجہ سے نماز وقت پر ادا نہیں کر سکے تو بعد میں قضاء نماز ادا کریں ۔

    اس کے علاوہ ایک آخری بات کہ حقوق العباد کا خیال کریں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ کریں جس بات پر آپ کا ضمیر آپ کو لعن طعن کرے وہ عمل نہ کریں ۔

    دین مشکل نہیں مشکل ہم نے خود بنایا ہوا ہے اس لئے فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کیجئے اگر اس کے بعد گنجائش ہو تو مزید اعمال بھی کیجئے تاکہ آخری وقت میں آپ سورۃ فجر کی ان آیات کی عملی تفسیر ہوں ۔

    يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
    (ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔

    اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
    اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔

    فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
    پس میرے بندوں میں شامل ہو۔

    وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
    اور میری جنت میں داخل ہو۔

  • ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جوناگڑھ برصغیر کی پانچ سو باسٹھ ریاستوں میں سے ایک تھی جو انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط آگئیں- یہ شاہی ریاستیں اپنے اندرونی معاملات کے نظم و نسق کے حوالے سے آزاد تھیں لیکن دفاع اور خارجی معاملات برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی- برٹش انڈیا کی 562 ریاستوں میں جو نا گڑھ آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی جبکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے نمبر پہ تھی – 1947 کے تقسیمِ ہند کے قانون کے مطابق تمام ریاستوں کو تین آپشن دیئے گئے کہ پاکستان سے الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا پھر چاہیں تو آزاد حیثیت میں رہیں- اس وقت جوناگڑھ کے نواب سر مہابت خانجی نے گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاقی دستاویز Instrument of Accession پر دستخط کئے اور 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا اور سٹیٹ ہاؤس آف جوناگڑھ پہ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا – نواب آف جوناگڑھ جناب نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی کونسل،

    (جس میں مسلمان اورہندو سب شامل تھے،)

    کی رضامندی سے کیاتھا-

    جیسا کہ بھارت نے برطانوی حکومت کی ملی بھگت سے ہر جگہ سیاسی طاقت کو اپناتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیریں اور جارحانہ اقدامات کئے اِسی طرح جوناگڑھ پہ بھی عالمی قوانین کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے مختلف افواہیں پھیلاتے ہوئے جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا- جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی اور مظالم کے سبب بہت سے مسلمان ہجرت کر کے کراچی آ گئے- تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے میجر کے- ایم- اظہر کو جونا گڑھ بھیجا مگر ان کا سامنا پہلے سے موجود قابض بھارتی افواج سے ہوا- محدود وسائل کے سبب پاکستان وہاں زیادہ فوج نہیں بھیج سکتا تھا کیونکہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے باعث پہلے ہی پاک بھارت جنگ چل رہی تھی-

    یہ ایک تاریخی امر ہے کہ بھارت کا ان ریاستوں پر قبضہ پہلے سے طے شدہ تھااور اس عمل میں انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ کا کردار بھی اہم تھا جبکہ رہی سہی کسر بھارت نے پاکستان کے محدود وسائل اور انگریز جرنیل کے ماتحت فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستوں پر قبضہ کر کے نکال دی- ریاست جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ بھارتی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم (اکھنڈ بھارت) کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ثبوت ہے یہ حقیقت حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر پر بھی غیر قانونی قبضے سے واضح ہوتی ہے-مزید برآں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کردار پر بھارتی وزیر اعظم کے اعترافی بیان سے بھارت کی اینٹی پاکستان پالیسی کا تسلسل واضح ہوتا ہے-

    بد قسمتی سے ابتدا میں پاکستان نے جوناگڑھ کا مقدمہ لڑا لیکن جوں جوں وقت گزرا، یہ مسئلہ محض کتابوں تک محدود ہوتا گیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل اس مسئلہ سے آگاہ نہیں ہو رہی- عالمی نظام میں سر اٹھا کر جینے کے لئے قوموں کی خودداری بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر قیمت پر اپنے قانونی حصے جونا گڑھ اور شہ رگ جموں و کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور انہیں بھارتی غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط سے نکالنا ہے-

    قائد اعظم خود ایک قانون دان تھے اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے- نواب آف جوناگڑھ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور الحاق کی وجہ قائداعظم کا ریاستوں کے حکمرانوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کے حق دینا بھی تھا- جبکہ دوسری طرف بھارت ریاستوں کے حکمرانوں کو دھمکا کراپنے ساتھ الحاق پر مجبورکر رہاتھا- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو مختلف طریقوں سے مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں- ماؤنٹ بیٹن نے آن دی ریکارڈ یہ بات کی کہ ’’اگر میں 15 اگست کو ریاستوں کی ایک ٹوکری لے آؤں تو کانگریس ہر وہ قیمت دینے کو تیارہو گی جو میں لینا چاہوں گا ‘‘۔ اسی لیے کانگرس نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل آف انڈیا تسلیم کر لیا تھا –

    کشمیر اور جونا گڑھ کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ کشمیر کے بھارت سے نام نہاد الحاق کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کا دارلحکومت چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور عملاً ریاست پر کنٹرول کھو چکا تھا اور عوام اس کے خلاف تھی مزید یہ کہ آج تک بھارت نے کشمیر کی الحاقی دستاویز کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ جونا گڑھ کے نواب نے ریاستی کونسل کی رضا مندی کے ساتھ پاکستان کےساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اورباقاعدہ دستخط شدہ الحاقی دستاویز پاکستانی حکومت کے حوالے کی جس پہ دو خود مختار ریاستوں (پاکستان و جوناگڑھ) کے قانونی سربراہان (گورنر جنرل آف پاکستان و نواب آف جوناگڑھ) کے دستخط ہیں –

    الحاقی دستاویز ایک قانونی معاہدہ ہےجو دو ریاستوں کے مابین طے پاتا ہے اور کسی بھی علاقہ پہ کنٹرول کے لیے قانونی حیثیت رکھتا ہے-
    یہ الحاقی دستاویز بین الاقوامی قانون کے تحت ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے- اگرجونا گڑھ کی قانونی حیثیت کا بین الاقوامی قوانین کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے- ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز کے مطابق’ معاہدہ‘ سے مراد دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین طے پایا جانے والا ایسا معاہدہ ہے جو تحریری شکل میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو ۔ پھر ویانا کنونشن آن لأ آف ٹریٹیز یہ بھی کہتا ہے کہ وہ معاہدہ جو مذکورہ فریقین کے مابین ہوگا اس کی حیثیت’’عالمی‘‘ ہوگی اگرچہ وہ ایک دستاویز پہ مشتمل ہو یا متعدد ضمنی و متعلقہ دستاویزات پہ مشتمل ہو –

    جونا گڑھ کی الحاقی دستاویز:

    (۱) ایک عالمی معاہدہ ہے-

    (۲) دو ریاستوں کے مابین طے پایا گیا ہے-

    (۳) تحریری صورت میں موجود ہے-

    (۴) بین الاقوامی قانون کے مطابق طے پایا-

    ایک مستند و تاحال قابلِ عمل دستاویز کی صورت میں ہے-

    لہٰذا جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز ایک بین الاقوامی معاہدہ کی تمام شرائط پہ پورا اترتا ہے-مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے- ایک عالمی معاہدے کی قانونی حرمت ہوتی ہے جس کا احترام ہر قوم پہ واجب ہے جیسا کہ ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز 1969 میں اس بات کا اعادہ کیا گیا- آرٹیکل 26 ‘پیکٹا سنٹ سروانڈہ کے مطابق دو فریقین کے مابین معاہدہ طے پا جانے کے بعد دونوں فریقین پہ لازم ہے کے وہ اس معاہدہ پر نیک نیتی سے عمل درآمد کریں-

    بین الاقوامی قانون میں عالیجاہ نواب آف جونا گڑھ کی ایک منفرد حیثیت ہے- داخلی اور بین الاقوامی قوانین میں نواب آف جو نا گڑھ ’’جلاوطن مگر خود مختار ” کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اپنے حقوق ہیں یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی ریاست کا اقتدار کھو چکا ہو لیکن اس کے پاس اس مقصد کیلئے قانونی دستاویزات موجود ہوں اِسے عوامی اور آسان زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک اراضی کی لیگل رجسٹری تو آپ کے نام پہ ہو مگر عملاً اس پہ قبضہ کسی قابض قوت کا ہو، لہٰذا قانونی مالک اس جگہ کے آپ ہوں گے قبضہ بھلے کسی کے پاس ہوگا – اس لحاظ سے دیکھا جائےتو عالمی قوانین کے تحت نواب آف جوناگڑھ آج بھی جونا گڑھ کے قانونی حکمران ہیں -لیکن ان کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں- جو ان کے ساتھ کئے گئے قانونی معاہدہ کے تحت ہے- یہی وجہ ہے کہ جونا گڑھ کا علاقہ پھر سے پاکستان کے نقشہ میں متنازعہ علاقہ کے طور پر موجود ہے-

    جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز پاکستان کے لیے ایک بائنڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کا کیس قانونی طور پر بہت مضبوط ہے- یہ باعث افسوس ہے کہ جب جونا گڑھ پر قبضہ ہوا، ہم نے احتجاج بھی کیا اور اقوامِ متحدہ میں بھی گئے مگر بعد میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے- اسی طرح بنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نے سازشوں سے ہمارے ملک کے حصے پر قبضہ کر کے الگ ملک بنایا-ہم توجہ ہی نہیں کرتے کہ بھارت ابتداء ہی سے ہماری سرزمین کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے- بدقسمتی سے ہم جونا گڑھ کو بھول چکے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس کے لیے جگہ مختص کی گئی لیکن اس پر بھی سیاسی قابضین مسلط ہوگئے- جونا گڑھ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے ہمیں جونا گڑھ پر تفصیلی کتب شائع کرنی چاہیں- نوجوان نسل کو اس مسئلہ سے لازمی طور پر آگاہ رکھنا چاہئے جو اسی صورت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کی تاریخ ہمارے نصاب میں شامل ہو- اسی طرح جونا گڑھ کو پاکستان کے ہر نقشے میں ظاہر کرنا چاہئے- پاکستان کو اس مسئلہ کوعالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تاکہ عالمی برادری بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہو-

    جونا گڑھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اس تاریخ کو بھلاتے جارہے ہیں – ہمارے بچے اور نوجوان جونا گڑھ کے بارے میں نہیں جانتے باوجود اس کے کہ جوناگڑھ پہ پاکستان کا قانونی حق ہے- چین ، ہانگ کانگ حاصل کرنے کے لیے100 سال تک جدو جہد کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ اس مسئلہ سے متعلق آگاہی پیدا کر کے ہم تاریخ میں موجود غلطی کو درست کر سکتے ہیں بھارت نے فوجی مداخلت سے جونا گڑھ پر قبضہ کیا تھا اور اس فوجی مداخلت میں نہ صرف گاڑیاں بلکہ ٹینک بھی استعمال کئے گئے۔

  • سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے ناٹک آج کل کئے جا رہے ہیں جس سے جمہوریت، آئین، قانون، پارلیمنٹ اور بائیس کروڑ عوام اور پاکستان بطور ریاست بھی حیران ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ سائفر جو سٹیٹ ٹو سٹیٹ ایک دستاویز ہوتا ہے اور یہ وزارت خارجہ جو ریاستی ادارہ ہوتا ہے اس کے ذمہ داروں کے پاس ہوتا ہے اس کو لے کر سیاستدانوں نے تو پورے ملک کو سائفر بنا دیا ہے۔ سیاستدان اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں اعلیٰ پولیس افسران، سول بیورو کریسی، سول انتظامیہ کے افسران لینڈ مافیا اور بڑے بے پراپرٹی ٹائیکون کی پشت میں قائد کے پاکستان کی زمینوں پر قبضے میں ملوث ہیں۔

    اسلام آباد راولپنڈی کے جنگلات، زرعی زمینوں، سرکاری زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ حوس زر میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں موت بھی یاد نہیں۔ عام آدمی کے دکھوں اور ان پر جو عذاب ہیں کوئی سروکار نہیں۔ جب ہر طرف محرومی مجبوری کا راج ہو محکمومی کا راج ہو تو سیاست کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ جس آئین کو لے کر سیاستدان عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اس آئین میں عام آدمی کے حقوق کیا اس کے بارے میں بھی درج ہے کیا کبھی کسی سیاستدان نے ان آئین کی شقوں پر عمل کرنے پر زور دیا؟

    یہ سیاسی لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے۔ خودمختاری اور سالیمت کی باتیں بھی فریب ہے۔ پاکستان کا قیام تو بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا بدقسمتی سے اس انقلاب کا قائد دنیا سے رخصت ہو گیا آج قائد کے پاکستان کو صوبہ سندھ سے لے کر خیبر تک پراپرٹی ٹائیکون چلا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے اخراجات ،بڑے بڑے محل نما گھر تحفے میں دیئے جاتے ہیں سیاستدان نے سیاست کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا اعلیٰ پولیس افسران، اعلیٰ انتظامی افسران، بیورو کریسی کی تعیناتیاں، بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کی منشا پر ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں وطن عزیز کے بے چارے عوام جن کا کوئی والی وارث نہیں بڑے بڑے پیٹ والوں نے ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے رونا صرف سیاسی ابتری کا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طاقتور نے مظلوم کا خون نچوڑا ہے کسی غریب مظلوم اور درماندہ کی رسائی نہ دفتر میں نہ پولیس کے ہاں نہ دربار میں نہ سرکار میں۔ یہ مخلوق خدا ہے اس پر ظلم نہ کیجئے ورنہ خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے۔

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — سیدرا صدف

    منیجیمنٹ میں "صحیح آدمی, صحیح کام اور صحیح وقت پر” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔۔بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجیمنٹ ہمیشہ اس اہم اصول کو نظر انداز کرتی آئی ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے اہم ٹورنمنٹ سر پر ہوتا ہے اور ٹیم کمبینیشن سردرد بنا ہوتا ہے۔۔۔

    کوچنگ اسٹاف ہو یا کھلاڑیوں کی سلیکشن کوئی منطق نظر نہیں آتی ہے۔۔انٹرنیشنل لیول پر کوچز نہیں مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے جو ذہن سازی کرے معمولی خامیاں دور کرے۔۔۔کھلاڑیوں کی کوچنگ ڈومیسٹک لیول پر ہونی چاہیے۔۔اکیڈمیز میں کھلاڑیوں کے نقائص دور ہونے چاہیے۔۔قومی ٹیم میں نقائص سے بھرپور کھلاڑی آنا ڈومیسٹک سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔۔

    ایشیا کپ اور حالیہ انگلستان سیریز میں پاکستان ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں۔۔۔مڈل آرڈر کی ناکامی اس وقت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحیح مڈل آرڈر بلےباز دستیاب ہیں۔۔

    افتخار احمد اور آصف علی بطور مستند بلے باز مڈل آرڈر میں کھیلتے ہیں۔افتخار ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد قومی ٹیم میں آئے لیکن وہ انڈرپرفارم کر رہے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے ٹیم منیجیمنٹ انکو نچرل کھیل سے دور رکھے ہے۔۔۔دوسری جانب آصف علی اپنی کارکردگی سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک مستند بلے باز کی جگہ روکے محض دو اوورز کے بلے باز ہیں۔۔۔ایسا خطرہ پاکستان میں ہی لیا جاتا ہے کہ ایک مستند مڈل آرڈر بلے باز کی جگہ تین ,چار چھکوں کی آس پر دے رکھی ہے۔۔

    شاداب خان اور نواز کا بیٹنگ لائن میں کردار طے نہیں ہے۔۔دونوں باصلاحیت آلراؤنڈر ہیں جو باآسانی مڈل آرڈر میں عمدہ کردار نبھا سکتے ہیں۔۔

    ٹاپ آرڈر بیٹنگ رضوان اور بابر کی موجودگی میں مستحکم ہے۔۔البتہ ون ڈاؤن پوزیشن پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔۔شان مسعود, فخر زمان کی غیر موجودگی کو کیش کرنے میں ناکام رہے اور اطلاعات کے مطابق ٹیم منیجیمنٹ اور کوچ کی خواہش ہے کہ فخر زمان ٹیم میں کھیلیں۔۔۔فخر زمان پندرہ سے زائد ٹی ٹوئینٹی میچز میں ناکام ہونے کے بعد ڈراپ ہونے کی بجائے ون ڈاؤن آئے تھے۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر بھی انکی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔۔لیکن اگر وہ صحتیاب ہیں نیز کپتان انکو پلئینگ الیون کا حصہ چاہتے ہیں تو نیوزی لینڈ سیریز میں رضوان کے ساتھ بطور اوپنر ٹرائی کر لینے میں حرج نہیں ہے۔۔۔کسی بھی ٹورنمنٹ کے دوران کمبینیشن بدلنا درست نہیں ہوتا ہے لہذا جو حتمی تبدیلیاں کرنے ہیں وہ تین ملکی سیریز میں کر لینی چاہیے۔۔۔

    شاہین شاہ آفریدی کی غیر موجودگی میں حارث رؤف نے باؤلنگ کا بوجھ اچھا اٹھایا لیکن کرکٹ ٹیم گیم ہے۔۔ایک کھلاڑی کی اچھی یا بری کارکردگی نتائج پر اثر ڈالتی ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حسنین اور وسیم جونیئر ورلڈکپ اسکوڈ کا حصہ ہیں لیکن تینوں پریشر سچوائیشن میں باؤلنگ کرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔۔تینوں کی ناتجربہ کاری عیاں ہے۔۔۔یہ تین بالر اس وقت ہائی رسک ہیں۔۔ اگر مددگار کنڈیشنز مل گئی تو کارکردگی دیکھا سکتے ہیں۔۔۔اسپن باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ مجموعی طور پر اچھا ہے۔۔۔۔عماد وسیم کا اسکوڈ میں اسے اور مضبوط کر دیتا۔۔۔۔پاکستان پیس اٹیک شاہین, نسیم اور حارث کے ساتھ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔۔۔

    بدقسمتی سے اس وقت اسکواڈ میں زیادہ ورائیٹی موجود نہیں ہے۔۔ خوشدل شاہ سے باؤلنگ ہی نہیں کرانی تو انکو بطور آلراؤنڈر منتخب کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔۔وہ بنا باؤلنگ کسی کا متبادل نہیں ہیں۔۔عامر جمال کو بنام انگلستان سات میچز کھیلا کر چیک کیا جا سکتا تھا ٹیم کو اس وقت ایک تیز گیند باز آلراؤنڈر کی ضرورت ہے۔۔۔۔انگلستان کی سیریز ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں اہم تھی۔۔نیوزی لینڈ میں شیڈول تین ملکی سیریز میں اس الیون کو اترنا چاہیے تھا جس کے ساتھ ورلڈکپ کھیلا جائے گا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ کونسا کھلاڑی ,کب اور کدھر کھیلے گا۔۔۔۔

    اصولاً ٹی ٹوئینٹی اسکواڈ میں پانچ مستند بلے باز جو کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر کے نمبرز پورے کریں, چار آلراؤنڈر تیز و اسپنر,چار مستند تیز گیند باز ,دو وکٹ کیپر بلے باز ہونے چاہیے۔۔

    ٹیم پاکستان ہمیشہ Right Person, Right Job,Right Time کے اصول کے خلاف کھیلی ہے۔۔۔کبھی کبھار ملنی والی کامیابیوں نے اس اصول کو سمجھنے کی طرف کبھی راغب نہیں کیا ہے۔۔عین ممکن ہے کہ اسکواڈ میں موجود کچھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی کاوش سے ٹیم ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو جائے لیکن مارڈن ڈے کرکٹ کے اصولوں کو اپنائے بغیر تسلسل لانا مشکل ہے۔۔

  • پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاک انگلینڈ مقابلہ: ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے پیشن گوئی — نعمان علی ہاشم

    پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز مکمل ہوئی. آئندہ ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے یہ میچز ہماری تیاری کو ظاہر کرتے ہیں. پاکستان نے پچھلے چند برسوں سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں بہت سے گراں قدر ریکارڈ قائم کیے. فتوحات کا تناسب بھی زیادہ رہا. مگر اس سیریز کے بعد ایک سوال زبان ذد عام ہے. کیا یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے.؟ یوں تو مشہور معقولہ ہے کہ "cricket is by chance” مگر آجکل کے دور میں چانس اسی کے لیے ہے جو بہترین ٹیم اور زبردست مائنڈ سیٹ کے ساتھ میدان میں اترتا ہے. سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے نہیں.

    ٹی ٹونٹی کرکٹ ہائی رسک گیم ہے. بلے باز کو اسکور کرنے کے لیے خراب گیند کا انتظار کیے بغیر شارٹ بنانے پڑتے ہیں. اور باؤلر کو وکٹ کے حصول کے لیے ان جگہوں پر بال کرنی پڑتی ہے جہاں آؤٹ کے ساتھ ساتھ باؤنڈریز لگنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں.

    پاکستانی ٹیم کی موجودہ صورتحال پر بات کریں تو اس وقت پاکستان کے پاس دو ایسے بلے باز ہیں جو وائٹ بال کرکٹ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. دونوں نے اپنے بلے سے اتنے رنز اگل دیے ہیں کہ آنے والی کئی دہائیوں میں انہیں یاد رکھا جائے گا. یہ دونوں بلے باز اس وقت گیم کے اس فارمیٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں. جی ہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان دونوں ہی رنز مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں. لمبی پارٹنر شپس کی وجہ سے دونوں بلے بازوں نے اس طرز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا ہے. پاکستان کے زیادہ تر ریکارڈ جو پچھلے تین سالوں میں بنے انہی دو کی بدولت بنے.

    مگر کرکٹ میں ہر روز کسی کھلاڑی کا چل جانا عجائبات میں سے ہے. کھلاڑیوں کا اچھا برا دن بھی آتا ہے. ہم نے پچھلے تین سالوں سے یہ محسوس کیا ہے کہ جب بھی پاکستانی اوپنرز نے پرفارم نہ کیا پوری ٹیم دھڑم تختہ ہو گئی. پچھلے کئی سالوں سے ہماری مڈل آڈر اور لوور مڈل آرڈر کی خامیاں رضوان اور باہر کی پرفارمنس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں. بابر اور رضوان کی پرفارمنس کے بغیر ہماری ٹیم کی فتوحات کا تناسب 7 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    پاکستان کے مڈل آرڈر میں کھیلنے والے جو بلے باز پچھلے دو تین سال سے آزمائے جا چکے ان کا متبادل کیا ہے؟

    ابھی بھی پاکستان جن کھلاڑیوں کو مڈل آڈر میں مواقع فراہم کر رہا ہے ان کی گیم نیچر اوپنرز والی ہے. فخر زمان، شان مسعود اور حیدر علی کی کلاس اور گیم سینس مڈل آرڈر بیٹنگ والی نہیں ہے.
    .
    حال میں مڈل آرڈر میں کھیلنے والے بلے باز افتخار احمد، خوشدل شاہ، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی نے بہت لمبا چانس ملنے کے باوجود پرفارم نہیں کیا.

    پاکستان کے ڈومیسٹک اور لیگ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا نیا بلے باز نظر نہیں آتا جس میں مڈل آرڈر کو سنبھالے کی صلاحیت موجود ہو. جتنے بھی نئے ٹیلنٹڈ کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں تقریباً سبھی اوپنرز ہیں. البتہ سسٹم میں دو تین پرانے کھلاڑی ایسے موجود ہیں جو ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھال سکتے ہیں. شعیب ملک جو ابھی تک اپنی فارم اور فٹنس سے سب کو حیران رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے بورڈ کی آنکھ کے تارے نہیں بن پا رہے. بورڈ محض نئے ٹیلنٹ کو کھلانے کی خاطر ان کی خدمات لینے سے انکاری ہے. اور نیا ٹیلنٹ ہمارے ساتھ جو کر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

    دوسرا نام بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل کا ہے. جن کی فارم اور کلاس میں کسی قسم کا شبہ نہیں. مگر انہیں ہمیشہ سے فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ پی سی بی اب انہیں کنسیڈر کرنے سے اعراض برت رہی ہے.

    تیسرا نام ڈومیسٹک میں بے شمار رنز کرنے والے کامران غلام کا ہے. جنہیں ٹیم کے ساتھ تو رکھا گیا مگر انہیں کھلانے سے جانے کس چیز نے روکے رکھا.

    یہ تینوں نام مڈل آرڈر کے لیے بہترین ہیں. اگر ورلڈ کپ کے لیے وننگ کمبینیشن بنانا ہے تو بیٹنگ آڈر میں ان تینوں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے.
    .
    پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کی کلی بھی شاہین شاہ کی انجری کے بعد مکمل طور پر کھل چکی ہے. نسیم شاہ ینگ ہونے کے باوجود فٹنس اور ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں. حارث روف نئے بال کے ساتھ ناکام ہیں. اور محمد حسنین پیس کے علاوہ اپنی باؤلنگ میں کوئی مہارت نہیں رکھتے. اگر شاہین شاہ فٹ نہیں ہوتے تو پاکستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن انتہائی مشکل ہو جائے گی.

    سپن باؤلنگ کی بات کریں تو محمد نواز اور شاداب نے اس شعبے کو مکمل طور پر سنبھالا ہوا ہے. اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا جاتا.

    البتہ ان دونوں کے متبادل کے طور پر جو کھلاڑی لائے جا رہے ہیں ان کی بابت کوئی رائے دینا مشکل ہے.

    پاکستان کی ٹیم دو شعبوں میں مکمل اور دو شعبوں میں ادھوری ہے. مڈل آرڈر اور لوور مڈل آرڈر کے مسائل کے حل کے بغیر ورلڈ کپ کی جیت کا خواب محض دیوانے کا خواب ہے. اوپر سے فاسٹ باؤلرز کے فٹنس مسائل کی تلوار الگ سے لٹک رہی ہے.

  • کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

    پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

    پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

    آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

    پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

    میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

    کیوں بھئی؟

    کشمیر ہی کیوں؟

    یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

    ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

    1. وادی نیلم

    سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

    2. راولاکوٹ

    آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

    3. بنجوسا جھیل

    اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

    آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

    4. وادی جہلم

    آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

    گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

    5. رام کوٹ قلعہ

    یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

    6. تولی پیر

    ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

    موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

    7. پیر چناسی

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

    اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

    8. وادی لیپا

    اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

    وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

    9. لال قلعہ

    یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

    آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

    10. شونٹر جھیل

    ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

    اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے ینگسٹر جانتے ہونگے کہ اکثر شارٹس میں استعمال ہونے والے گانے بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم اوریجنل مکمل گانا سنتے ہیں تو دل گالیاں دینے کو کرتا ہے۔

    بالکل یہی حساب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بڑے پیج کا ایڈمن ایک شارٹ میچ دیکھ لیتا ہے جس میں کوئی پلئیر اچھا کھیل رہا ہے اور پھر کمپین شروع ہو جاتی ہے کہ اس کو کھلاؤ۔

    اور یوں اس کھلاڑی کی بکواس گیم دیکھ کر ہم جیسے شائقین کڑھتے رہتے ہیں۔

    خوشدل شاہ برا کھلاڑی نہیں مگر اس کو ڈومیسٹک اور لیگ میچز کھلانے چاہیں۔ اس غریب نے ایک میچ میں اچھی سینچری بنائی تھی اور شائد ایک ٹورنامنٹ اچھا کھیلا تھا کمپین چلی کہ خوشدل شاہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر یوٹیوبر کرکٹر نے زور دیا ٹیم میں آیا تو پرچی بن گیا۔

    شان مسعود، عزم خان، حیدر علی ان کے بارے میں باقاعدہ کمپینز چلی ہیں کہ یہ مہا توپ کھلاڑی ہیں ان کو کھلائیں مگر ہر بار انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کو کیوں نہیں کھلانا چاہیے ہے۔

    آجکل خیر سے شرجیل خان کا چرچا کسی نے چلوا دیا ہے ساتھ ساتھ عماد وسیم اور شعیب ملک کا بھی کارڈ کھیلا جا رہا ہے حالانکہ یہ پہلے ورلڈکپس میں کیا کر چکے ہیں سب کو معلوم ہے۔ اب اگر ایک ایک ٹورنامنٹ انکا اچھا گزر گیا ہے تو پھر سے ان کو ہم پر لوگ عذاب بنوا کر نازل کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف انڈیا کا سوریا کمار یادو ہے۔ سکائی کو بارہ سال لگے انڈین نیشنل ٹیم میں آنے کے لئے، اس دوران اس نے بہترین فرسٹ کلاس کھیلی، تین سال آئی پی ایل میں پانی پلایا اور پھر موقعہ ملا اور اب جاکر قومی ٹیم کا حصہ بنا ہے اور شروع سے اب تک اس کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔

    یہی حساب حارث رؤف کا ہے حارث نے دو سال باہر بیٹھ کر میچ دیکھے پھر دوبئی لیگ اور پھر لاہور قلندر سے پرفارمنس شروع کی اور اب تک چلتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں باقی ایک ایک ٹورنامنٹ والے کھلاڑی جن میں مجارٹی مڈل آرڈر میں ہے وہ ہمیں ہر میچ میں مایوس اور ذلیل کرتے ہیں جس پر ہر میچ میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ان کے ٹیم میں لانے کے قصوروار وہی ہیں جو آج ان کو پرچی پرچی کہہ رہے ہیں۔

    ابھی ورلڈکپ میں یہی ٹیم ہوگی لیکن میری امید فقط بابر، رضوان، فخر، افتخار، حارث، شاہین اور شاداب سے جڑی ہے باقی پرچیوں کو دیکھنے کا بھی دل نہیں کرے گا نا کرتا ہے۔ وہیں ایک ٹورنامنٹ کے کھلاڑی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والوں کو اتنا ہی کہونگا کہ

    Don’t make one match sensation a super star.

  • ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘ — فرقان قریشی

    ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘ — فرقان قریشی

    آج یعنی 3 اکتوبر کو کوریا میں صدیوں سے ایک تہوار منایا جاتا رہا ہے gaecheonjeol ، اس تہوار کا نام بہت دلچسپ ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہے

    ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘

    اور اس تہوار کے مطابق ایک ایسی ہستی ، جو آسمانوں میں ہے ، جو سب سے بلند اور طاقتور ہے ، جو بادلوں ، بارش اور ہواؤں پر قدرت رکھتی ہے ، اس نے hwanung کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ زمین والوں کو قانون اور اخلاق کی باتیں سکھائے ۔

    وہ شخص زمین پر آیا اور صندل کے ایک درخت کے قریب اس نے اپنی عبادت گاہ بنائی جہاں وہ عبادت کیا کرتا تھا ، جہاں اس نے hongikingan نام کے دور کا آغاز کیا یعنی انسانیت کی بھلائی ، اور وہیں اس نے ایک شہر sinsi آباد کیا ، یعنی خدا کا شہر ، جس میں تین ہزار لوگ رہتے تھے ۔

    یہ شہر sinsi اب بابل اور نینویٰ کی طرح معدوم ہو چکا ہے لیکن اگر آپ sinsi کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو دو نام اور بھی ملیں گے جو hwanung کی طرح آسمان سے بھیجے گئے تھے اور لوگوں کو قوانین اور نیک باتوں کا درس دیتے تھے ۔ بلکہ سچ کہوں تو کورینز اپنا اوریجن بھی اسی دور سے ہی ٹریس کرتے ہیں یہاں تک کہ آج کے دن کو وہ کورین قوم کے بننے کا دن مانتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    وہ hwanung کون تھا ؟ یہ بات شاید ہم کبھی بھی نہ جان سکیں لیکن اس داستان کو سن کر آپ کو کیا اندازہ ہو رہا ہے ؟

    آپ اس دنیا کے کسی بھی کلچر کو سٹڈی کریں ، اس کی ڈیٹیلز میں جائیں ، ان کے تہوار دیکھیں ، ان کی تاریخ کو گہرائی میں جا کر سٹڈی کریں ، بالآخر آپ سورۃ فاطر کی چوبیسویں آیت پر ضرور پہنچیں گے ، کہ …

    کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے ڈرانے والا نہ بھیجا ہو (فاطر 35:24)