Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ —  ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ — ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    مرد۔۔۔

    جسں کی زندگی کچھ ایفرٹس کے گرد گھومتی رہتی۔۔۔ جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے، اس معاشرے میں سروائیو کرنے کے لیے تگ و دوو کرنا ہوتی ہے۔۔۔!!

    عمر کا ایک ہندسہ عبور ہوتے ہی گھر والے باہر والے اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنا شروع ہو جاتے کہ بھئی کما کر لا۔۔۔ گھر چلا۔۔۔ وہ جس نے ہزار شوق پالے ہوتے، اپنی زندگی کے حوالے سے وہ معاشرے کے پریشر گھر والوں کے سوالات رشتہ داروں کے طعنوں کی نذر ہوتے چلے جاتے آخر کار سب خواب دفن کر کے کسی بھی اوکھلی میں سر دے دیتا جس سے چار پیسے آنے لگیں، معاشرے کے منہ پر مارنے کے لیے۔۔۔

    اگر کوئی متوسط طبقے سے تو بھائیوں کو لڑکپن سے ہی یہ بات سمجھانا شروع کر دی جاتی کہ گھر میں بہنیں ہیں۔۔۔بھائی بھلے چھوٹے ہوں بھلے بڑے انہیں ذمہ دار ہونا ہوتا۔۔۔ وہ باپ کے ساتھ کندھا ملا کر بہنوں کو عزت سے رخصت کرنے کی تگ و دوو میں جت جاتے، محنت مزدوریاں کرتے، گرمی سردی دھوپ جھڑ کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔

    پھر جب مرد کی شادی کی بات آتی ہے تو ایک بار پھر یہ معاشرہ منہ پھاڑے کھڑا ہوتا۔۔۔

    لڑکا اچا لما ہو۔۔ کھاتا کماتا ہو۔۔ یہ تو ایک لیول۔۔ پھر ایک لیول آتا لڑکے کے پاس اپنا گھر ہو۔۔ لڑکے کے پاس اپنی گاڑی ہو۔۔۔ اپنا ایسا کاروبار ہو۔۔اتنا بینک بیلنس ہو۔۔ اتنا زیور ڈالے۔۔۔فلاں فلاں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

    وہ جو پہلے کچھ ذمہ داریوں سے کچھ توقعات سے بندھا تیسری دہائی پوری کرنے کو ہوتا یہ ڈیمانڈز اس کی زندگی کے کئی سال مزید کھا جاتیں۔۔۔

    فکر معاش سے نکلتے نہیں کہ فکر قماش آن پڑتی۔۔۔

    اور سب سے مزے کی بات ان سب ایفرٹس کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا جاتا۔۔۔آپکے رشتے آپسے متعلقہ لوگ یہ بھول جاتے کہ مرد بھی انسان ہی ہوتا، اس کی کچھ ایموشنل نیڈز بھی ہوتیں ۔۔۔

    وہ جسے اس مہنگائی کے عفریت سے بھی لڑنا،جسے گھر کا چولہا بھی گرم رکھنا، جسے بچو کا پیٹ بھی بھرنا، جسے بچیوں کے ہاتھ بھی پیلے کرنے، جس نے گدھے کی طرح جتے رہنا مسلسل کب بال سیاہ سے سفید ہوئے، کب روٹی سے نکل کر بچوں کی تعلیم اور کب تعلیم سے نکل کر بچیوں کی شادیوں کی فکر آن سر ہوئی ۔۔کچھ معلوم نہیں کسی کو پرواہ بھی نہیں۔۔۔وہ مرد جو اس مشکل ترین دور میں گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے لیے اپنا خون پسینہ ایندھن بنائے رکھتا، جو معاشرے کے جھوٹے معیاروں کو پورا کرتے کرتے کمر دوہری کروا لیتا۔۔ جو اپنے سب شوق سب خواب بھینٹ چڑھا دیتا ۔۔جو رشتہ داروں کے طنز وتشنیع سے لے کر حالات کے تھپیڑوں تک سب برداشت کرتا۔۔۔
    وہ کئی بار ساری زندگی کی کمائی لٹا کر بھی اپنا آپ بیچ کر بھی ایک بیوی تک کو خوش نہیں کر پاتا ۔۔۔

    وہ جو سارے گھر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا،وہ ماں اور بیوی(ساس اور بہو) کے درمیان کی رسہ کشی میں ادھڑتا ریشہ ریشہ ہو جاتا۔۔۔
    جو زندگی کے مختلف سٹیجز میں کبھی بہنوں تو کبھی بیٹیوں کی ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے۔۔کہیں ماں کی خواہشات کا احترام کرتے کرتے۔۔۔ کہیں بیوی کی توقعات پر پورا اترتے اترتے۔۔ قبر کنارے جا پہنچتا۔۔۔

    اس مرد کو یہ عالمی دن نہیں چاہیئے ۔۔۔

    اس کے لیے ایک احساس کافی ہے اگر کیا جائے کہ جہاں عورت کو ایک محاذ درپیش ہوتا ازدواجی۔۔۔

    وہاں مرد کو معاشی اور ازدواجی دونوں پہلووں پر بغیر کسی بھی ہمدردری کے یکساں مشقت کا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ٹارچر سہہ رہا ہوتا۔۔۔ وہ گھر اور باہر دونوں جگہ پس رہا ہوتا، اس کے پاس سر رکھ کے رونے والا کوئی کندھا بھی نہیں ہوتا۔۔اس کے پاس مورد الزام ٹھہرانے کے لیے کوئی ولن بھی نہیں ہوتا۔۔ اس کی بھی کچھ ایموشنل نیڈز ہوتی ہیں۔۔۔اسے بھی کچھ سپورٹ کی ضرورت ہوتی، انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہوتی۔۔۔بس یہ احساس کافی ہے مرد کے لیے اگر ہو تو ۔۔۔!!

  • مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو کا مطلب ہے چھوٹا اور سیفلی کا مطلب ہے سر تو اس اصطلاح کا مطلب ہوا چھوٹا سر۔ یہ ایک نیورولاجیکل کنڈیشن ہے جس میں ماں کی کوکھ میں ہی یا پیدائش کے بعد بچے کا سر ایورج سے بہت زیادہ یا قدرے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اور پنجاب میں ان بچوں کو زمانہ جاہلیت میں "شاہ دولا پیر کے چوہے” کہا اور مانا جاتا تھا۔

    ان کو درباری ملنگ بنا کر ان کے ہاتھ میں کاسہ دے کر سبز کپڑے پہنا کر بھیک منگوائی جاتی تھی۔ یہ پریکٹس اب بھی خال خال دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ ان کو شاید ولی اللہ سمجھتے ہیں اور ان کو بھیک نہ دینا ان کا دل دکھا کر خود کو کسی مشکل میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان سے دعا بھی کرواتے ہیں۔ ان کی دعا میں وہی اثر ہے جو کسی بھی اور شخص کی دعا میں۔ پلیز اس غلط فہمی سے نکالیں خود کو باہر۔

    یہ سب جاہلیت ہے۔ ان کا کسی شاہ دولے پیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بچے پوری دنیا میں پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی وجوہات میں سے چند یہ ہیں۔

    1. حاملہ ماں کو متوازن غذا کا میسر نہ ہونا بچوں کی گروتھ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جہاں اور مسائل پیدا ہوتے وہیں مائیکرو سیفلی بھی اکثریت میں ماں کو اچھی غذا نہ ملنے سے رونما ہوتا ہے۔

    2. جنیٹک یا کروموسومل وجوہات بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔ جیسے ڈاؤن سنڈروم۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کا سر بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔

    3. حمل کے دوران حاملہ لڑکی کو ہونے والے انفیکشنز جیسا کہ زیکا وائرس، rubella, toxoplasmosis, cytomegalovirus, chickenpox وغیرہ

    4. دوران حمل بچے کے سر کو آکسیجن کا پورا نہ ملنا اسکی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اپنا ریگولر سکین ہمیشہ کسی ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروایا کریں۔ گائنی ڈاکٹر ریڈیالوجسٹ نہیں ہوتیں۔ وہ الگ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو صرف ایکسرے و الٹرا ساؤنڈ ہی کرتے ہیں۔

    5. حاملہ لڑکی کو (phenylketonuria (PKU ہونا۔ اس پی کے یو پر پھر کسی دن تفصیلی مضمون لکھوں گا۔

    6. بچے کی سر کی ہڈیوں کا وقت سے پہلے آپس میں جڑ جانا جسے ہم craniosynostosis کہتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا تو اس کے سر کی ہڈیوں ابھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو بعد میں جڑتی ہیں۔ مائیکرو سیفلی میں وہ جلدی جڑ جاتی ہیں۔ اور سر بڑا ہونے سے رک جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ کچھ ماحولیاتی عوامل بھی مائیکرو سیفلی کی وجہ بنتے ہیں۔ حاملہ لڑکی کا بہت زیادہ ادویات لینا، شراب یا نشہ آور چیزیں لینا الکوحل کا استعمال بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔

    مائیکرو سیفلی کے ساتھ مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    ڈویلپمنٹ کے پانچویں ایریاز بولنا، چلنا، سوچنا سمجھنا، اپنے کام خود کرنا، اور سوشلائزیشن میں واضح ڈی لے ہوگا۔ فزیکل گروتھ بھی ایورج سے کم ہوگی۔ یہ بچے عموماً آپ کو مجموعی طور پر دبلے پتلے سے چھوٹے قد کے ہی نظر آتے ہیں۔ سر کے ساتھ قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے جسے Dwarfism کہتے ہیں۔

    لرننگ ڈس ابیلیٹیز یا ڈفی کلٹیز ہو سکتی ہیں۔
    چلنے پھرنے اور چلنے میں بیلنس قائم کرنے کے مسائل ابتدائی عمر میں کافی شدید ہوتے ہیں۔
    بچے بہت زیادہ روتے رہتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ڈس فیجیا Dysphagia بھی ہوتا ہے۔ یعنی وہ کوئی چیز نگلنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ سماعت سے جزوی یا مکمل محرومی ہو سکتی ہے۔ نظر کم ہو سکتی ہے۔ اور ہائپر ایکٹویٹی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھیں گے۔ ان کی جان کو سکون نہیں ہوگا۔

    کچھ کیسز میں جہاں علامات شدید ہوں۔ ان بچوں کی چند دن یا چند ماہ میں ہی وفات ہو جاتی ہے۔ ہر مائیکرو سیفلی اپنی وجوہات اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

    کچھ مائیکرو سیفلی تو بلکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا آئی کیو اور باقی سب کچھ نارمل ہوتا ہے۔ بس سر چھوٹا ہوتا ہے۔

    اور اکثریت میں ان بچوں کی زندگی نارمل گزر سکتی ہے۔ ان کو بس رحم اور ترس سے نکال کر تعلیم و تربیت دی جائے۔

    جیسے ہی بچہ پیدا ہو تو ہر ماہ اس کے سر کی پیمائش کریں۔ گھر پڑا انچ ٹیپ ہی استعمال کریں اور سینٹی میٹرز میں سر کو ماتھے سے پیچھے کی جانب گول ناپیں۔ اور ایک چارٹ تیار کریں جس پر 36 ماہ تک یہ پریکٹس جاری رکھیں۔ وزن اور قد بھی اس کے ساتھ لکھتے رہیں۔ جہاں کوئی ریڈ فلیگ نظر آئے کہ سر نہیں بڑھ رہا یا قد نہیں بڑھ رہا وزن نہیں بڑھ رہا تو کسی چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔

    علاج کیا ہے؟

    اس کا دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہاں ان بچوں پر سالہا سال محنت کرکے ہم ان کے معیار زندگی کو بلند اور بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کو تعلیم دے سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ہنر سکھا سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ٹریننگ دے سکتے ہیں۔ اور یہ اپنی زندگی بڑی آسانی سے مالی خود مختار ہوکر گزار سکتے ہیں۔ شادی کرکے بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے سے پاس آؤٹ دو مائیکرو سیفلی بچے بلال اور احمد الحمدللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک آلو چنے کا اپنی ہی گلی میں اسٹال لگا کر روزانہ 1 ہزار روپے تک منافع کما لیتا ہے۔ اور دوسرا لڑکا ایک فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ویٹر ہے۔ جس کی تنخواہ اور ٹپ ملا کر کوئی 20 ہزار ماہانہ کما رہا ہے۔ دونوں نوشہرہ ورکاں میں ہیں کوئی دوست جب بھی چاہے ان سے آکر میرے ساتھ خود مل سکتا ہے۔

    اگر ایک بچہ مائیکرو سیفلی پیدا ہو جائے تو دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے کم سے کم پروفیسر گائنی ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔ورنہ 25 فیصد زیادہ چانسز ہونگے دوسرا بچہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ڈاکٹرز پہلے بچے کی وجوہات کا تعین کرکے گائیڈ کرتی ہیں کہ اگلے بچے کو اس سے کیسے بچائیں مگر انتہائی قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر ہی ان معاملات میں گائیڈ کر سکتی ہیں۔

    بھیک مانگنے والے مائیکرو سیفلی کو پلیز ان حرام خور پیشہ ور بھکاریوں سے آزاد کریں۔ وہ ان کو ٹھیکے پر لے کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ آپ ترس کھا کر ان کو دس بیس دے دیتے اور یوں ہی نسل در نسل یہ بھیک کی لعنت مائیکرو سیفلی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی۔

  • جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری کائنات میں ایک اندازے کے مطابق زمین پر ریت کے ذروں سے بھی 26 گنا زیادہ ستارے ہیں یعنی یہ تعداد کھربوں میں ہے۔ کائنات اربوں نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں ہر روز ہزاروں ستارے جنم لیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر سال تقریبا 150 ارب نئے ستارے جنم لیتے مگر یہ تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود 90 فیصد ہائیڈروجن گیس اب تک ستاروں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملکی وے میں سب سے پرانے ستاروں کی عمر کا تعین کر کے ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہماری کہکشاں کو بنے کم از کم 13 ارب سال ہو چکے ہیں۔ یعنی یہ کائنات کے بننے کے تقریباً 80 کروڑ بعد بنی۔ ملکی وے میں ہر سال سورج یا سورج سے بڑے تقریباً 7 ستارے جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح اوسطاً دو ستارے جو سورج سے ماس میں کئی گنا بڑے ہوتے ہیں وہ سپرنووا بن کر پھٹتے ہیں جبکہ ایک کم ماس کا ستارہ پلینٹری نبیولا میں تبدیل ہوتا ہے۔ اب یہ پلینٹری نبیولا کیا بلا ہے؟ جب سورج یا سورج سے کچھ بڑے ستارے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں تو یہ پھیلنے لگتے ہیں۔مستقبل میں سورج بھی اپنے موجودہ سائز سے پھیلتے پھیلتے تقریباً 300 گنا بڑا ہو جائے گا اور یہ عطارد، زہرہ، اور زمین سب کو نگل لے گا۔ اسکے بعد سورج کی باہری سطح میں موجود تمام مواد جس میں گیسیں اورخلائی گرد موجود ہو گی آہستہ آہستہ باہر خارج ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یوں سورج اپنے انجام پر ایک۔پلینٹری نبیولا بن جائے گا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ سورج اور نظامِ شمسی کے دیگر سیارے بھی ایسے ہی 4.6 ارب سال پہلے ماضی کے کسی ستارے کے انجام پر بننے والے نبیولا سے بنے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر بے حد دلچسپ ہے کیونکہ یہ جمیز ویب خلائی دوربین جو اس وقت زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے، اس سے کھینچی گئی ہے۔ اس تصویر میں ایک ایسے ہی نبیولا کی گرد میں ایک ستارے کی پیدائش کو ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ستارہ جو ابھی مکمل ستارہ نہیں بنا بلکہ بننے کے قریب ہے، اسے پروٹوسٹار کہتے ہیں۔ اس تصویر میں درمیاں میں ایک چھوٹی سی لکیر نظر ا رہی ہو گی جو گرد کے اس بادل کو دو حصوں میں "ریت کی گھڑی” کی طرح تقسیم کر رہی ہے۔ یہ لکیر دراصل اتنی چھوٹی نہیں بلکی یہ نظامِ شمسی کی سائز کی ڈسک ہے اور یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ستارہ بننے کا عمل جاری ہے اور ایک جگہ گیس اکٹھی ہو رہی ہے جو مستقبل میں گریویٹی کے زیرِ اثر اس قدر درجہ حرارت حاصل کر لے گی کہ اس میں فیوژن کا عمل شروع ہو جائے گا اور یوں ایک ستارہ بنے گا۔ یہ عمل ہونے میں کئی لاکھوں سےکروڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ فی الحال اس عمل کو شروع ہوئے اندازاً ایک لاکھ سال ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح اس نبیولا میں موجود گرد میں نئے سیارے بنیں گے جن میں شاید زمین جیسا بھی کوئی سیارہ ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے لی گئی یہ تصویر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے ہم یہ جان سکیں گے کہ ماضی میں ایسے ہی کسی عمل کے تحت ہمارا سورج اور نظامِ شمسی کیسے بنے؟

    یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدود

    صلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئے

  • سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں شہابِ ثاقب!!

    آج سے 114 برس قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ وہاں سے کئی سو میل دور تک لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی جنگلی جانور ہلاک ہو گئے اور دو ہزار مربع کلومیٹر میں موجود 8 کروڑ درخت جل کر راکھ ہوگئے۔

    مگر زمین سے کوئی شے نہ ٹکرائی۔ عینی شاہدین نے آسمان پر سورج سے بھی روشن ایک ہلے نیلے رنگ کی آگ برساتی گیند دیکھی اور پھر اس قدر شدید دھماکہ ہوا کہ انکے پاؤں زمین سے اُکھڑ گئے۔ یہ واقعہ 1908 میں پیش آئے۔ اس واقعے کو گزرے کئی سال بیت گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قدر شدید دھماکہ کس شے کا تھا۔

    پھر 1927 میں سوویت سائنسدانوں ں کے ایک ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ چونکہ سائبریا بے حد وسیع و عریض ہے اور یہاں دور دور تک آبادی کم کم ہی ہوتی ہے لہذا اُس علاقے تک پہنچنا جہاں یہ دھماکہ ہوا بے حد مشکل تھا۔ سائنسدان اس تلاش میں تھے کہ اگر یہ دھماکا کسی شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہوا ہے تو ضرور زمین پر کوئی بہت بڑا گڑھا بنا ہو گا۔ مگر اّنکو مایوسی ہوئی۔ زمین پر اس علاقے میں کوئی گڑھا موجود نہیں تھا۔ اس سے کئی تھیوریوں نے جنم لیا مثال کے طور پر یہ کوئی ایلنز کی سپیس شپ تھی یا کوئی منی بلیک ہول جو زمین کے اوپر سے گزرا وغیرہ وغیرہ ۔

    مگر آج سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ یہ دھماکہ شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہی ہوا۔ فرق بس اتنا تھا کہ وہ زمین کے بے حد قریب آنے کے بعد ہی ہوا میں مکمل طور پر جل گیا۔

    سائنسدان ایسا کیوں مانتے ہیں؟

    دراصل اسی جیسا ایک اور واقعہ 2013 میں روس کے علاقے چیلیابنسک میں پیش آیا۔ جب ایک قدرے چھوٹا شہابِ ثاقب اسی طرح زمین کے بہت قریب آ کر فضا میں پھٹا جس سے کافی نقصان ہوا مگر زمین پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔

    اس نئے واقعے سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ شہابِ ثاقب زمین کے بالکل قریب آ کر ہوا میں بھی تحلیل ہو سکتے ہیں۔
    مزید کمپیوٹر سملولیشنز اور ماڈلز کے ذریعے اس دھماکے سے ہونے والی تباہی اور تباہ شدہ علاقے کا ڈیٹا استعمال کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ چیلیابنسک میں 2013 میں گرنے والا شہابِ ثاقب دراصل کتنا بڑا تھا اور اس کے پھٹنے سے کتنی توانائی خارج ہوئی۔

    تو یہ شہابِ ثاقب دراصل 19 میٹر کے سائز کی ایک چٹان تھی جس سے 550 کلوٹن کا دھماکہ ہوا۔یاد ریے ایک کلوٹن دراصل ایک ہزار ٹی این ٹی آتشگیر مادے سے ہونے والے دھماکے کی شدت ہوتی یے۔

    اس واقعے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ اس طرح کے واقعات زمین پر دوبارہ کب ہو سکتے ہیں تو زمین کے گرد اور نظامِ شمسی میں موجود شہابیوں کی تعداد سے یہ انکشاف ہوا کہ اوسطاً ہر دس سے سو سال کے درمیان ایسا ہی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    لہذا ناسا اب ممکنہ طور پر زمین کو کسی شہابِ ثاقب کی تباہی سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے اور ایک ابتدائی مشن بھی بھیج چکا ہے جسکا مقصد ایک شہابئے کا رخ موڑ کر اسے زمین سے دور ہٹانا ہے۔

  • فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فلموں کی طرح ہیرو ہیروئن بن کر ایکدوسرے کو گلے نہیں مل لیتے تب تک پیار کنفرم نہیں ہو سکتا، مگر زندگی ایسے نہیں چلتی۔

    پیار کے اظہار کے کئی طریقے ہوتے ہیں جن میں جسم کا ملنا اہم نہیں ہوتا بلکہ کبھی چلتے چلتے بھیڑ والی جگہ میں اپنی پارٹنر کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے آگے چلنا بھی پیار کا اظہار ہوتا ہے۔

    وہیں پر مصروفیت سے بھرے دن میں رینڈم ٹیکسٹ کرکے پوچھنا کہ تم کیسے ہو یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔ اپنی پارٹنر کے لئے دروازہ کھولنا بھی پیار کا اظہار ہے وہیں پر اپنے پارٹنر کو فیملی یا دوستوں کے سامنے دنیا کا سب سے طاقتور مرد بتانا یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔

    دن بھر تھکاوٹ سے چور ہو کر واپس آنے پر اگر پارٹنر کو خوش دیکھیں اور اس کو بجائے اپنی پریشانی بتا کر خوشی زائل کرنے کے اس کی خوشی سن کر اپنی پریشانی بھول جانا بھی پیار کا اظہار ہے۔

    رینڈم باتیں کرتے ہوئے اپنے پارٹنر کو بتانا کہ وہ بہترین ہے اس سے بہتر اظہار نہیں ہوتا۔

    لیکن،

    ہمارے لٹریچر میں پڑھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کو میسر آئیں گے تو وہ قدر کم کرنا شروع کر دے گا جبکہ حقیقت میں قدر وہیں کم ہوتی ہے جہاں کبھی تھی ہی نہیں۔ جو آپ کے لئے بنا ہے وہ ہر وقت آپ کے میسر ہونے کے لئے بے چین رہے گا۔

    سو اپنے پارٹنر کیساتھ انجوائے کرنا سیکھیں۔ ایٹی ٹوڈز میں زندگی گزارنے والے لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہیں۔

    اسی طرح،

    مجھے دو طرح کے لوگ ایک برابر ناپسند ہیں ایک وہ جو اپنے ریلیشن شپس کی بری باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں دوسرے جو اچھی باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں۔

    مطلب مجھے اپنے پرسنل ریلیشن شپس ڈسکس کرنیوالے لوگ نا پسند ہیں۔

    بہت سے لوگ جو اپنے پارٹنر کیساتھ کسی اچھی جگہ کو وزٹ کر لیں کسی خوبصورت لمحے کو انجوائے کر لیں اس کو ہر کسی کے سامنے بیان کرنا فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

    وہیں پر،

    بہت سے لوگ اپنے پارٹنر کیساتھ ہلکے سے جھگڑے کے بعد اس کی برائیاں بیان کرنیوالے قصے سنانا بہت بڑی اچیومنٹ سمجھتے ہیں۔

    اور ان باتوں کو سوشل میڈیا نے مزید آسان بنا دیا ہے لڑائی ہوئی نہیں جھٹ سے سٹیٹس، پارٹنر کو جوک سنایا نہیں چیٹ کا سکرین شارٹ سٹیٹس پر، لیکن میرے نزدیک ایسی چیزیں دراصل آپکے پارٹنر کی توہین ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پہ پارٹنر سے لڑائی کے بعد دکھی روگ لگانا پسند کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کا پارٹنر انتہائی لو آئی کیو شخص ہے جسے آپکے احساسات کی پرواہ نہیں ہے اور آپ بھی شرم نہیں رکھتے کہ اپنے پارٹنر کی برائیاں پوری دنیا کو بتا رہے ہیں۔

    دنیا کا کوئی بھی رشتہ ہو بات چیت سے حل ہو جاتا ہے بس بات شروع کرنے والے بنیں۔ وہیں پر اپنے پارٹنر سے فلمی توقعات کی بجائے رئیلسٹک توقعات رکھیں۔ انسان کے موڈز خراب ہونا نارمل بات ہے۔ جھگڑے ہونا بھی، ان کو بنیاد بنا کر اپنے پرسنل ریلیشنز کی سوشل میڈیا پہ تشہیر مت کریں۔

    وہیں پر،

    اپنے پارٹنر کو بغیر کسی قصور کے بھی سوری کہنا سیکھیں، ریلیشن شپ میں سوری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کمزور ہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی اناء سے زیادہ رشتہ عزیر ہے سو اس کو عزیز جانیں۔ اگر آپ آج کی لڑائی آج حل نہیں کرتے تو کل کو یہ آپ کے رشتے کے لئے کینسر بن جائے گی اور پھر اس کو حل کرنا ناممکن ہوگا۔

    میری حلقہ اھباب میں بہت سے ایسے ہم عمر ہیں جنہیں یہ سادہ سی باتیں یاد رکھنی چاہیں انکے کام آنے والی ہیں۔ زندگی پیار بھرے احساس کا نام ہے مگر یہ ایک ہائی وے کا سفر نہیں بلکہ کچے راستے کا سفر ہے اس کو انجوائے کرنا سیکھیں۔

    بڑے بڑے کاموں میں پیار ڈھونڈنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پیار ڈھونڈنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی حقیقی پیار ہے۔

  • آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    علیزے فرام لَمز کہتی ہے کہ آرٹ کو بَین کرنا انتہائی بری بات ہے اور آزادی اظہار کی نفی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی لوگوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کے عقائد یا اقدار ایک آرٹ فلم سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ علیزے فرام لَمز یہ بھی کہتی ہے کہ جس نے آرٹ کا جو نمونہ دیکھنا ہو وہ اس کی مرضی ہونی چاہیے، کسی فرد یا ریاست کو پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔

    اب مسئلہ یہ ہے کہ لَمز والی علیزے کی یہ روشن خیالی سے بھرپور باتیں جناب بارُود خان نے سوشل میڈیا پر سُن لی ہیں۔ اتفاق سے وہ ایک ریاست مخالف اور عسکریت پسند گروہ کے میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ ان کی پراپیگنڈا ویڈیوز گروہ کے لیے نئے رنگرُوٹ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن حکومت سے وہ نالاں ہیں کہ سوشل میڈیا پر اُن کی خواہ مخواہ سرکوبی کرتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائر ہو کے اپنی بارودی ویڈیوز کو دوبارہ ریلیز کرنے کا سوچا ہے اور اس بار وہ اسے “آرٹ” کہہ کر مارکیٹ میں لائیں گے تاکہ علیزے اور اس کے تمام فرینڈز ممکنہ پابندیاں لگنے پر میدان میں بارود خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آخر پراپیگنڈا “آرٹ” سے کسی کے عقائد یا اقدار خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ ریاست کو کیا لگے، جس نے بھی “آرٹ” کا جو نمونہ دیکھنا ہے وہ دیکھے!

    بارود خان کے ساتھ قصور کے رہائشی مونی بَٹ نے بھی علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائریشن پکڑ لی ہے۔ وہ بچوں کے پورن کے دھندے میں ہے اور حکومت کی سینسر شپ سے پریشان ہے۔ اب اس نے سوچا ہے کہ اپنی فوٹیج کو اینیمیٹ کروا کے اسے “آرٹ” کہہ کے مارکیٹ میں پھینکنے کی تیاری کرے۔

    جس طرح فیمنسٹ بہنوں نے ٹرانس حقوق کی وکالت کرتے کرتے معاملات یہاں تک پہنچا دیے ہیں کہ اب ناکام مرد اتھلیٹ آپریشن سے عورت بن کے عورتوں کو ہی گیمز میں ہرانے کی بنیاد ڈال چکے ہیں، اسی برح بارود خان اور مونی بٹ بھی علیزے فرام لَمز اور اس کے لبرل دوستوں کو انہی کی گیم میں گُھس کر بِیٹ کرنے والے ہیں۔

    پس تحریر: دنیا کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ تحریر و تصویر سے لے کر آڈیو ویڈیو تک کوئی بھی میڈیئم ہو، وہ سماج پر اثر انداز ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر زندہ سماج میڈیا پر اپنے اقدار کے حساب سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جیسے دہشت گردی یا چائلڈ پورن معاشرے کا ناسور ہیں ویسے ہی یہ ل-ج-ب-ٹ بھی سماج کے لیے تباہی ہے۔ اور اس کی تشہیر و حوصلہ افزائی کرتے مواد پر پابندی لگانا اسلامی نہیں بلکہ بنیادی منطق کا تقاضا ہے کیونکہ اسلام سے بڑھ کر یہ انسانیت کی بقاء کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے حامی بس یہ فرض کر لیں کہ اگر ان کی والدہ یا والد اس عادت کا شکار ہوتے تو وہ اس آزادی کا پرچار کرتے آج دنیا میں موجود ہی نہ ہوتے۔

  • دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں میں دمدار ستاروں کا زمین سے دِکھنا، نحوست یا زمین پر کسی بڑی آفت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ قدیم ایرانی دمدار ستارے دیکھ کر اُس ملک پر جنگ کر دیتے جس طرف اس ستارے کی دم ہوتی۔

    رومی دُمدار ستارے دیکھ کر ڈر جاتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ غرض دم دار ستاروں کا نظر آنا کسی طور اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    صدیاں ان بوسیدہ تصوارت میں گزر گئیں۔۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ آسمان میں اچانک نظر آتے یہ دم لگے روشن اجسام کیا ہیں؟ پھر ستروییں صدی میں دوربین ایجاد ہوئی۔ آسمانوں کی جانب دیکھا جانے لگا۔ کائنات کے راز کھلتے گئے۔

    یہ 14 نومبر 1680 کی ایک سرد رات تھی۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کوبُرگ میں بیٹھا جرمن ماہرِ فلکیات گوٹفرائڈ کیرخ ایک روشن دمدار ستارے کو خلا میں زمیں کی جانب بڑھتا دیکھتا ہے۔ یہ ابھی زمین سے نظر نہیں آیا تھا کہ گوٹفرائڈ نے اسے دیکھ لیا۔ بعد میں یہ دمدار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے پر نظر آیا۔ یہ اتنا روشن تھا کہ دن کے وقت بھی نظر آتا۔ اس دمدار ستارے کو نام دیا گیا "دی گریٹ کومٹ آف 1680” یعنی 1680 کا عظیم دمدار ستارہ۔

    اس دریافت کے بعد دمدار ستاروں کے متعلق علم بہتر ہوتا گیا۔ اور آج سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ ہم جسے دمدار ستارہ کہتے ہیں یہ دراصل ستارہ نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں سورج کے گرد گھومتے چھوٹے چھوٹے جمی گیس ،برف، چٹانوں یا گرد کے بنے سیارچے ہیں جو سورج کے گرد ایک طویل اور بیضوی مدار میں گھومتے ہیں۔ یہ چمکتے اس لیے ہیں کہ ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ جب یہ اپنے مدار میں سورج اور زمین کے بیچ آتے ہیں تو سورج کے قریب آنے سے اُسکی روشنی اِنکو گرم کرتی ہے اور ان میں جمی گیسیں باہر کو نکلتی ہیں جو دم کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہیں اور یوں ان اجسام کی دم سی نظر آتی ہے۔
    تو دراصل عرفِ عام میں یہ دمدار ستارے بیچارے ستارے نہیں بلکہ سورج کی روشنی سے گرم ہوتے سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے دم کی صورت گیسوں کی لکیر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے ہوا میں اڑتے جہاز کا دھواں سورج کی روشنی میں نمایاں دکھتا ہے۔

    ان دمدار ستاروں کا مدار سورج کے گرد کئی سو سال تک کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر دمدار ستارے کئی صدیوں یا دہائیوں بعد نظر آتے ہیں۔ ہمارے نظامِ شمسی میں اب تک ڈھونڈے گئے دمدار ستاروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے اوپر ہے۔ مگر انکی کل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    سائنس کی دنیا میں ایک اہم دمدار ستارہ 1P/Halley یا عرف عام میں ہیلی کومٹ ہے جسے آخری بار 1986 میں زمین سے دیکھا گیا۔ یہ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلی بار ماہرین ِ فلکیات کو علم ہوا کہ دمدار ستارے محض ایک بار نہیں بلکہ سالوں کے وقفے سے بار بار بھی نظر آ سکتے ہیں۔ ہیلی دوبارہ 2061 میں زمین سے نظر آئے گا کیونکہ یہ تقریباً ہر 75 سے 79 سال بعد زمین سے نظر آتا ہے۔

    سو دمدار ستارے نہ ہی ستارے ہوتے ہیں اور نہ ہی منحوس!!

  • W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    پاکستان کے آسمان میں رات کے وقت ستاروں کا ایک بہت خاص جھرمٹ نظر آتا ہے ، شمال کی طرف ایک بڑے سے W کی شیپ میں بنا جھرمٹ ۔

    آج سے 450 سال پہلے اس جھرمٹ میں ایک بڑا واقعہ ہوا تھا ، اب تک صرف آٹھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انسان نے ننگی آنکھ سے دیکھا ہے ، اس واقعے کے متعلق میں آپ کو اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے چیپٹر میں اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو دیا ایک بہت بڑا تحفہ ڈسکس ہونا ہے ، زبان کا تحفہ ، اسی تحفے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا پیغام دیا تھا یعنی قرآن پاک کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وہ بھی ایک ایسی عربی زبان جس کی چار مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے ۔

    لیکن الشعراء (26:195) میں اس تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا ہے ’’عربی مبین‘‘

    میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے اس لفظ مبین کا کیا ترجمہ پڑھا ہے ؟

    موسٹلی اس کا ترجمہ …

    ’’صاف اور واضح عربی زبان‘‘

    لکھا ہوا ہے ، جو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک ترجمہ میں آپ کو بتاؤں ؟

    ’’ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ lead کرے‘‘

    اور اب میں آپ کو ستاروں کے اس جھرمٹ میں ہونے والے واقعے کے متعلق بتاتا ہوں ، W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں … 11 نومبر 1572ء کی رات یعنی آج کی رات ، اس جھرمٹ میں ایک ستارہ پھٹا تھا جس نے ارسطو کے بتائے ہوئے آسمانوں کی صدیوں پرانی انڈرسٹینگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    اسے سینکڑوں لوگوں نے پھٹتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ سترہ مہینے تک آسمان میں ایک خوبصورت سے سرخ اور گلابی دائرے کی شکل میں نظر آتا رہا تھا ۔

    اسی ستارے کو دیکھ کر ملکہ الزبتھ ii نے اپنے دربار والوں سے رائے طلب کی تھی کہ ایک نیا خوبصورت ستارہ پیدا ہوا ہے ، تاج برطانیہ کو کیا کرنا چاہیئے ؟

    اسی ستارے کو دیکھ کر چائنہ میں ming dynasty کے دو شہزادوں کے درمیان ڑائی چھڑ گئی تھی کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا کیوں کہ ان کے مطابق ایک خوبصورت نیا ستارہ اگلے بادشاہ کے لیے بہت مبارک ثابت ہونا ہے ۔

    لیکن اس وقت ڈنمارک میں ایک سائنسدان tycho brahe بھی رہا کرتا تھا جس نے اس ستارے پر اپنی سائنٹیفک آبزرویشنز اپنی لاطین ڈائری میں لکھی تھیں جس کا اردو زبان میں مطلب ہے …

    ’’ایک ایسا خوبصورت ستارہ ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا‘‘

    اس ٹیکسٹ میں لکھا ہے کہ …

    ’’آسمان میں ایک نیا ستارہ پیدا ہوا ہے جو اپنے گلابی اور سرخ رنگ کی وجہ سے آسمان کی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتا ہے ، یہ سب سے الگ تھلگ ہے اور ہم اسے orf کہتے ہیں‘‘

    آج ہم اس ستارے کو SN-1572 کہتے ہیں یعنی 1572ء میں نظر آنے والا سوپرنووا (یعنی ایک پھٹتا ہوا ستارہ)

    یہاں تک پہنچ کر لوگ پھر سوپرنووا کی سائینس بیان کرنے لگ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ پندرہویں صدی ڈنمارک والوں نے اس ستارے کا نام orf کیوں رکھا ۔

    اسکا جواب میں آپ کو دیتا ہوں !

    کیوں کہ پندرہویں صدی ڈنمارک کے اس orf کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اٹھارہویں صدی کے ایک امیرکن شاعر edgar allan poe نے اپنی سب سے لمبی نظم لکھی تھی ۔

    اس نظم میں وہ ایک بہت اونچی اور خوبصورت جگہ کی بات کرتا ہے جو آسمانوں میں سب سے الگ ہے ، جنت اور جہنم دونوں سے الگ ، لیکن ایڈگر کی امیرکن انگلش میں ایسی جگہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور نہ ہی ٹائکو کی لاطین زبان میں ایسا لفظ تھا جو ایک خوبصورت بلند جگہ کو ڈیفائن کر سکے ۔

    لہٰذا ٹائکو نے اس ستارے کو orf کا نام دیا اور ایڈگر نے اپنی نظم کو aaraf کا نام دیا اور دونوں کے الفاظ orf اور aaraf کی انسپائریشن … القرآن کی ساتویں سورۃ … ’’الاعراف‘‘ تھی جس کا مطلب ہی ’’بلندیوں کی بھی بلندیاں‘‘ ہے ۔

    ایک ایسی flawless لینگوئج ، جس نے ڈنمارک اور امیرکہ میں بھی کسی نہ کسی صورت lead کیا ہے ، اپنا ’’عربی مبین‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔

    عربی مبین ، ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ باقی سب کو lead کر جائے ، سٹینڈرڈز سیٹ کر جائے ۔

    آپ نے کبھی سورۃ نجم پڑھی ہے ؟

    کبھی سورۃ نجم کی لینگوئج پر غور کیجیئے گا ، اس سورۃ کی لینگوئج اس قدر پاورفل ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں اسکا نزول ہوا تو اس پر آپ ﷺ نے بھی سجدۃ کیا ، آپؐ کے ساتھ جتنے لوگ تھے ان سب نے سجدۃ کیا ، آپؐ کے قرب میں جو بھی جن و انس تھے وہ سب سجدے میں گر پڑے حتیٰ کہ …

    اس سورۃ کی طاقت نے وہاں موجود کفار کو بھی سجدے میں گرا دیا تھا ، اور اس وقت وہاں جو بدترین کافر بوڑھا (امیۃ بن خلف) تھا وہ بھی resist نہ کر سکا اور یہاں تک مجبور ہو گیا کہ جھک کر مٹی اٹھائی اور اپنے ماتھے پر مل لی اور کہنے لگا ، میرے لیے بس یہی کافی ہے (مسلم 1297 ، مشکوٰۃ 1023).

  • نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    نواز تو میرا میچ ونر ایں — سیدرا صدف

    "نواز تو میرا میچ ونر ایں مینوں ہمیشہ تیرے سے بھروسہ رئے گا۔۔۔”

    بابر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن اس ورلڈکپ میں جتنا نواز کا اعتماد تباہ کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ہے۔۔۔ نشان دہی ہوتی رہی کہ نواز کا مورال بہت ڈاؤن ہے۔غائب دماغ ہیں۔۔۔بھارت کے خلاف دو بہترین اوورز کے بعد ایک تیز گیند باز کا اوور بنتا تھا۔۔۔لیکن یہ بھی عدم اعتماد ہے کہ بالر کو مار پڑ جائے تو اسے دوبارہ اوور نہ دیا جائے۔۔ بالر کو بیک کرنا چاہیے۔۔۔چوتھا فاسٹ بالر دستیاب نہیں تھا لہذا نواز کو درمیان میں دوبارہ لانا چاہیے تھا۔۔

    پھر آخری اوور میں نواز سے لیفٹ آرام اسپن کی بجائے تیز باؤلنگ کرانے کی کوشش نے لائن اور لینتھ سے ہٹا دیا۔۔یوں چوتھا فاسٹ بالر نہ کھیلانے کا خمیازہ نواز نے بھگتا۔۔

    ۔زمبابوے والا میچ نواز کو فنش کرنا چاہیے تھا لیکن بھارت والے میچ نے انکا اعتماد خراب کیا اور زمبابوے والے میچ کے بعد وہ بالکل تباہ ہو گیا۔۔۔
    شاداب خان نے ناصر حسین کے ساتھ گفتگو میں واضح طور پر بتایا کہ نواز ان دو میچز سے ڈسٹرب ہے۔۔۔۔

    بابر اعظم کی کپتانی پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔۔۔ میں نے بابر کی ہمیشہ سپورٹ کی ہے کہ بابر کو بطور کپتان مزید وقت دینا چاہیے کیونکہ ماضی میں ہم نے کپتان بدلنے سے بھی نتائج حاصل نہیں کیے۔۔۔۔۔

    لیکن بابراعظم کو بھی اب نئے جواز تلاشنے ہوں گے۔۔۔ ورلڈکپ اور ایشیا کپ ٹورنمنٹ کے ایک سیمی فائنل اور دو فائنل ہارنے کے بعد "ہم سیکھیں گے” کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔۔۔

    روایتی کپتانی کو چھوڑ کر پروایکٹیو ہونا پڑے گا۔۔۔یہ دیکھے بنا کہ لیفٹ آرام کو مارنے میں جو اینگل استعمال ہوں گے اس طرف باؤنڈی بڑی ہے کی بجائے دفاعی اپروچ کہ دو کھبے بلے باز ہیں تو لیفٹ آرام کو باؤلنگ نہیں دی جائے گی باوجود اس کے کہ آف اسپنر کو جہاں ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے وہ باؤنڈی چھوٹی ہے۔۔۔۔بھارت کے خلاف نواز پر چارج کرنے والے دو "دائیں ہاتھ” کے بلے باز تھے۔۔۔

    بیٹنگ میں نواز کا رول طے نہیں ہے۔۔۔ایک اوور مار پڑ جائے تو مڈل اوورز میں دوبارہ اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آخری اوور جہاں اسپنر رسک ہوتا ہے آواز دی جاتی ہے۔۔۔کھبے بیٹنگ کر رہے ہیں تو بیشک 100 کی پارٹنرشپ لگ جائے ایک اوور نہیں دیا جاتا ہے۔۔

    دھونی بطور کپتان ایک رول ماڈل کی حثیت رکھتے ہیں۔۔رکی پوئنٹگ بہترین کپتان رہے ہیں۔۔۔۔اس کی وجہ دونوں کے آئی سی سی ٹورنمنٹس جیتنا ہے۔۔۔ویرات کوہلی میچز جیتنے کی بہترین شرح رکھنے کے باوجود بڑے کپتانوں کی فہرست سے اسی لیے باہر ہیں کہ کریڈٹ پر کوئی ٹرافی نہیں ہے۔۔۔

  • کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    ایک کامیاب زندگی سے ایک مطمئن زندگی ہزار درجہ بہتر ہے. آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ ہمیشہ آپ کو یا تو دوسرے بتائیں گے یا آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑے گا لیکن اطمینان روح سے نکلتا ہے. آپ کو پوچھنا نہیں پڑتا.

    مکمل سچ آپ کے منہ پر اس دنیا میں سنا ہے تین قسم کے لوگ ہی بول سکتے ہیں. ایک جو نشے میں دھت ہو دوسرا جو سخت غصے کی کیفیت میں ہو اور تیسرے بچے جو من کے ہی سچے ہوتے ہیں. آپ ان تینوں سے پوچھ سکتے ہیں آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ دنیا روز اپنے ہیرو بدلتی ہے کل کا ہیرو آج زیرو ہوگا. یہاں روز فیشن بدلتا ہے. لوگوں کی خواہشات اور توقعات روز بدلتی ہیں. آپ تھک جائیں گے ان کی نظر میں کامیاب کہلاتے کہلاتے.

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

    روح اپنے سفر آخرت پر ہے. یہ راستہ مخلوق خدا کے درمیان سے گزرتا ہے. اپنے لئے اور آس پاس چلتی اللہ کی مخلوق کیلئے یہ سفر آسان بنانے میں روح کو خوشی ملتی ہے. اپنی اور دوسروں کی زندگی اگر ہم پیچیدہ نہ کریں تو یہ آج کا اطمینان اور کل کی کامیابی ہے.