Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    اہم عہدوں پر فائز افسران کے بچوں کی شادیوں پر اکٹھی ہونی والی چار سے پانچ ارب کی سلامیوں کے قصے ہفتوں زبان زد عام رہے۔ اس مشہوری نے افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ اکٹھا کرنے کی نئی راہ دکھا دی۔ ایک آفیسر کی شادی کیلئے گیسٹ لسٹ بن رہی تھی تو وہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے نام لکھ رہا تھا حتیٰ کہ ان کاروباری شخصیات کے بھی جن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی صرف گڈمارننگ کے میسجز والا تعلق تھا۔ ولیمے کیلئے کراچی ٹو خیبر تمام اہم شخصیات کے نام لکھے جارہے تھے میں نے اسے کہا کہ آپ اپنے بیج میٹ کے نام کیوں نہیں لکھ رہے اس نے فوراً سے پہلے جواب دیا کہ بھوکے ہیں انہوں نے کیا دینا۔

    لاہور میں ایک (پی ایس پی) پولیس آفیسر نے اپنی شادی میں ریکارڈ یافتہ کریمینل کو اس لیے بلایا کہ اس کے بارے مشہور ہے کہ وہ سلامی میں سونے کا سیٹ دیتا ہے۔ چند دن قبل ایک اسسٹنٹ کمشنر کی شادی تھی اس کے بیج میٹ بتا رہے تھے کہ یہ اتنا مطمئن بے غیرت ہے کہ سلامی اکٹھی کرنے کیلئے پراپرٹی ڈیلرز کو پہلے صوفوں پر جبکہ بیج میٹ کو پچھلی کرسیوں پر جگہ دی۔

    یہی افسران جو اپنی ذاتی شادی پر بھی غریب اور متوسط رشتہ دار اور دوستوں کو شادی پر اس لیے انوائیٹ نہیں کرتے کہ انہوں نے معمولی سلامی دینی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہنی غریبوں کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ کوئی بھی افسر جب کسی اچھی پوسٹنگ پر ہوتا ہے تو وہ اپنے بہن بھائی حتی کہ کزن، بھتیجی اور بھانجے کی شادی پر بھی امیر افراد کو صرف لیے انوائٹ کرتا ہے کہ سلامی اکٹھی ہوجائے گی۔ وزیراعظم آفس، ایوان صدر، وزیراعلیٰ آفس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں پوسٹڈ افسران سمیت اے سی، ڈی سی، کمشنر، سیکرٹری، ایس پی ،ڈی پی او، آرپی او جیسی اہم پوسٹنگ کے دوران مذکورہ افسران بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی شادی کے دعوت نامے بھی امیر دوستوں کو ہول سیل کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ کیونکہ ان سیٹوں پر دوست اور ساتھی افسران بھی کم از کم بیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک جبکہ کاروباری شخصیات دس لاکھ سے زائد کیش کے بینک چیک، لاکھوں روپے کے قیمتی جیولری سیٹ، نئی گاڑی، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکچ گفٹ کرتے ہیں۔

    یوں شادیاں بھی پیسے اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے کی سلامی دینے والے اس انویسٹمنٹ کی ریکوری کیلئے کوئی کام لیکر جاتے ہیں تو اگر ہوجائے تو وہ ایک اور گفٹ دے آتا ہے نہ ہوتو ہر جگہ اس کی احسان فراموشی کی قصے عام کرتا ہے اس لیے افسران کو مشورہ ہے کہ آپ کے پاس کمانے کیلئے ہر روز مواقع ہوتے ہیں کم از کم شادی کے یادگار موقع کو کمائی کا اڈا بنا کر ان ذہنی غریب پراپرٹی ڈیلرز کو بلاکر ساتھی افسران اور معززین کو تو شدید رش میں خوار نہ کیا کریں۔ منشی اذہان افسر تو بن گئے لیکن اندر کی غربت کی ہاتھوں مجبور کوئی نہ کوئی ایسی چول حرکت ضرور کرتے ہیں کہ اچھی پوشاک بھی انکی اندرونی غربت کو چھپانے سے قاصر ہوتی ہے۔

    کاروباری اور عہدوں کی شادیوں کا دوسرا پہلو بھی جدید دور کا فیشن بن چکا ہے جہاں کاروباری شخصیات اپنی کاروباری ضرورت کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، کسٹم، ایف بی آر، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، ایم ایل سی اور پی ایم ایس افسران میں سے بہو اور داماد تلاش کرتے ہیں۔ سی ایس ایس کے باقی گروپس کاروباری حضرات کیلئے فائدے کا سودا نہیں ہوتا اس لیے کاروباری برادری میں انکی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بیج میٹ کے ساتھ شادیوں میں زیادہ تر محبت اور پسند کا عنصر غالب ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پہلو ہے کہ آپ اپنی ہم آہنگی والے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی میں بہت ساری شادیاں سانولی اور قبول صورت کے ساتھ بھی صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ اس کی سلیکشن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس آف پاکستان میں ہوگئی ہے۔ ایک تہائی سے زائد بیوروکریٹس کی شادیوں کی ناکامی کی وجہ عہدوں اور کاروبار کی وقتی کشش کے لیے کیے جانے والے جذباتی فیصلے تھے۔
    سیاست دانوں, کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران کی شادیوں میں قانون دان اور قانون پر عملداری کروانے والے دونوں کی موجودگی میں سر عام ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ملٹی ڈشز کے ساتھ اپنی شان و شوکت اور قانون کی اوقات بتائی جاتی ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور اس موڑ پر سب سے بڑا سوال امریکہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ دنیا اگر آج بھی یہ سمجھے کہ ٹرمپ، اوباما، کلنٹن یا جو بائیڈن کے تسلسل کا نام ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک الگ طرزِ فکر، ایک مختلف سیاسی رویہ اور ایک منفرد پالیسی کا نام ہیں۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی سفارت کاری، اخلاقی دعووں اور عالمی ذمہ داریوں سے زیادہ قومی مفاد، طاقت اور فوری فائدے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ “America First” محض انتخابی جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کے تحت دوست وہی ہے جو فائدہ دے اور معاہدہ وہی قابلِ قبول ہے جو امریکہ کو یکطرفہ برتری دے۔

    ٹرمپ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں پرانے اتحاد لمحوں میں کمزور ہو گئے، عالمی معاہدے یک قلمی فیصلوں سے ختم کر دیے گئے اور بین الاقوامی ادارے دباؤ کا شکار رہے۔ نیٹو ہو یا اقوامِ متحدہ، تجارتی معاہدے ہوں یا ماحولیاتی سمجھوتے، ٹرمپ نے ہر چیز کو سودے کی میز پر رکھ دیا۔ ان کی پالیسیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت غیر متوقع پن ہے۔ یہی عنصر عالمی منڈیوں، سفارت خانوں اور طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ کے نزدیک یہ غیر یقینی صورتحال ہی دباؤ کا مؤثر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور مسلم دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ٹرمپ کے عہد میں اصولوں کی زبان کم اور مفادات کی زبان زیادہ سنی جاتی ہے۔ یہاں ہمدردی نہیں، طاقت کا توازن بولتا ہے۔ یہاں اپیلیں نہیں، سودے ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو نہیں بلکہ ٹرمپ کو سمجھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ ٹرمپ کے امریکہ میں پالیسی مستقل نہیں، مگر مفاد مستقل ہے۔ جو اس مفاد کو پڑھ لے، وہی خود کو عالمی بساط پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جذبات سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے نبھائے جائیں۔

  • دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود کی لڑائی نہیں بلکہ یہ نظریات، بیانیوں اور قومی بقا کی جدوجہد کا نام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس اسی حقیقت کی آئینہ دار تھی، جس میں انہوں نے نہ صرف زمینی حقائق کو اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں جاری پیچیدہ حالات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا موجودہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین آج بھی دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ دوحا معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے خوارج کو اسلام سے یکسر لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر “فتنہ الہندوستان” ہیں، جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ بلوچستان اور بلوچیت سے۔ ان کا مقصد محض انتشار، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔ریاست پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح ہے کہ دہشتگردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا ہے، اور یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس جنگ کی شدت اور وسعت کو آشکار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658،بلوچستان میں 58 ہزار 778،ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔اسی عرصے میں 27 خودکش دھماکے اور 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ اعداد قربانی، صبر اور استقامت کی طویل داستان ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یاد دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجود تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر مکمل اور یکساں عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی شرح زیادہ کیوں ہے، جس کا جواب محض سیکیورٹی نہیں بلکہ پالیسی، حکمرانی اور سرحدی حقائق میں پنہاں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا، جبکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ آج دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے، اور “معرکۂ حق” میں بھارت کو مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں وقتی اضافہ ضرور ہوا، مگر ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بزورِ طاقت منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔

    پریس کانفرنس کا سب سے دوٹوک پیغام یہ تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ردِعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بروقت بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس کانفرنس قوم کیلئے ایک واضح پیغام تھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ریاست متحد ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے کسی صورت امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جنگ قربانی مانگتی ہے، مگر اس کا انجام ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار پاکستان ہے۔

  • وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے اپنی خودمختاری، وسائل یا آزاد فیصلوں پر اصرار کیا، عالمی طاقتوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وینزویلا میں حالیہ پیش آنے والے واقعات اسی سلسلے کی ایک اور کڑی محسوس ہوتے ہیں، جہاں ایک کمزور مگر خوددار ریاست کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بازگشت سنائی دی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا عالمی نظام واقعی انصاف، قانون اور برابری پر قائم ہے، یا پھر طاقت ہی سب سے بڑا اصول بن چکی ہے؟یہ منظرنامہ ہمارے لیے اجنبی نہیں۔ ماضی میں پاکستان کو بھی مختلف ادوار میں اندرونی و بیرونی سازشوں، دباؤ اور جارحانہ منصوبوں کا سامنا رہا۔ انڈیا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں، مگر قدرت کا شکر ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی بہادر، مضبوط اور پیشہ ور مسلح افواج نصیب ہوئیں جنہوں نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔ پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی یہ تینوں ادارے مل کر ہماری قومی سلامتی کی مضبوط فصیل ہیں۔اس دفاعی استحکام کے پیچھے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی عظیم ٹیم کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو نہ صرف دفاعی تحفظ فراہم کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور آزاد ریاست کے طور پر زندہ رہنے کا حق بھی دیا۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو شاید آج ہمارے حالات یکسر مختلف ہوتے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مکمل خودمختار اور خوددار ریاست بنائیں۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس عالمی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں وینزویلا میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی پر تفصیلی اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ اس اجلاس نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان نہ صرف مفادات کا ٹکراؤ ہے بلکہ عالمی قوانین کی تشریح پر بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔اجلاس کے دوران روس اور چین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو کھلے الفاظ میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔روسی نمائندے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے اندر فوجی مداخلت عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔چین نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اس اجلاس میں سب سے دلچسپ پہلو کولمبیا کا مؤقف رہا، جو خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود امریکی کارروائی پر تنقید کرتا نظر آیا۔ کولمبیا کے نمائندے نے واضح کیا کہ لاطینی امریکہ پہلے ہی سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اور کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اب خطے کے ممالک بھی طاقت کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔پاکستان نے اس اجلاس میں اپنی روایتی، سنجیدہ اور اصولی خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ براہِ راست کسی ملک کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے پاکستانی مندوب نے بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا۔پاکستان کا مؤقف واضح تھا تنازعات کا حل بندوق، میزائل یا دباؤ سے نہیں بلکہ مکالمے، تحمل اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔یہی وہ متوازن سفارت کاری ہے جو پاکستان کو عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ آج کی دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کا رجحان ہے، تو دوسری طرف قانون، اصول اور خودمختاری کی بات کرنے والی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک کھل کر امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک محتاط مگر اصولی سفارت کاری کے ذریعے عالمی قوانین کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ اگر دنیا نے واقعی امن اور استحکام کی راہ پر چلنا ہے تو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ طاقت وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ حق، اصول اور انصاف کا ساتھ دیتی ہے۔

  • "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر:  قمرشہزاد مغل

    "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر: قمرشہزاد مغل

    شعر!
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    دنیا بدل گئی، ہتھیار بدل گئے، مگر طاقتور کی انا اور بدمعاشی کا انداز نہیں بدلا۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں گولی سے زیادہ خطرناک بیانیہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ لفظوں کے مفاہیم بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے راگ الاپے جاتے ہیں، وہاں میڈیا کی ایک باریک واردات کے ذریعے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جسے دنیا بھر کا میڈیا گرفتاری پکار رہا ہے، وہ درحقیقت ایک آزاد ریاست کے سربراہ کا مبینہ اغوا ہے۔ چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی عدالت نے، خواہ وہ ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) ہو یا عالمی فوجداری عدالت (ICC)، مادورو کے خلاف نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ کارروائی کسی عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایک عالمی بدمعاش کی اپنی عدالتوں میں طے شدہ ایجنڈے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ کیا اب طاقتور ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک کا چاہیں دروازہ توڑیں اور وہاں کے منتخب سربراہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ اگر یہی قانون ہے، تو پھر عالمی اداروں اور عدالتوں کی حیثیت ایک رسمی تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لفظوں کا یہ ہیر پھیر دراصل انسانی ضمیروں کو تھپکیاں دے کر سُلانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب خبر رساں ادارے اغوا کو گرفتاری کا نام دیتے ہیں، تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس غیر قانونی فعل کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے جب تک ہم اس ننگی جارحیت کو اس کے اصل نام اغوا سے نہیں پکاریں گے، ہم اپنی ذہنی غلامی کے طوق کو قانون کی حکمرانی کا زیور سمجھتے رہیں گے۔ آج وینزویلا کے صدر کی باری ہے، کل کسی اور ریاست کی خودمختاری کا جنازہ نکلے گا۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ہم میڈیا کے اس خود ساختہ بیانیے کو رَد کر کے ظالم کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی ہمت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقت کو بے نقاب کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ قانون کی بالادستی نہیں، بلکہ جنگل کا وہ قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی مرضی ہی انصاف کہلاتی ہے۔ اگر آج انسانیت خاموش رہی، تو تاریخ اس گرفتاری کو نہیں بلکہ اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دے گی۔ اپنے شعور کو بیدار کیجیے، خبر نہیں، خبر کے پیچھے چھپی سازش کو پڑھیے، اگر ہم نے آج اس باریک واردات کو بے نقاب نہ کیا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے باسی لکھے گی جنہوں نے زنجیروں کو زیور اور قاتلوں کو مسیحا تسلیم کر لیا تھا۔

    بقول شاعر!
    ظلم کو ظلم، اغوا کو اغوا نہ کہنا بھی جرم ہے
    خاموشی اگر طوق بنے، تو پھر زندگی وبال ہے

  • وینزویلا کی عبرت اور پاکستان کی عظمت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    وینزویلا کی عبرت اور پاکستان کی عظمت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    بقول شاعر
    "تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
    ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات”

    تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ قومیں صرف زمین سے نکلنے والے سونے یا تیل کے ذخائر سے محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی بقا کا ضامن وہ فولادی دفاع ہوتا ہے جس کے سامنے دشمن کے ارادے پاش پاش ہو جائیں۔ وینزویلا کی مثال آج کی دنیا کے لیے وہ نوحہ ہے جسے ہر خود مختار ریاست کو غور سے سننا چاہیے۔ 300 ارب بیرل تیل، وسیع رقبہ اور سنہری ساحل رکھنے والا یہ ملک نقشے پر قدرت کا شاہکار تھا، مگر اس کی بنیادیں کھوکھلی تھیں۔ وہاں بلند و بانگ نعرے تو تھے، مگر دفاع کی وہ ڈھال مفقود تھی جو کسی بھی قوم کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ جب وقت نے کروٹ لی تو دنیا نے دیکھا کہ تیل کے کنویں ٹینکوں کا راستہ نہیں روک سکے اور نہ ہی بلند و بالا سڑکیں میزائلوں کے سامنے دیوار بن سکیں۔ جس ملک کے صدر کو اس کے بیڈروم سے اٹھا لیا گیا، اس نے ثابت کر دیا کہ اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو معیشت محض ایک عارضی سراب اور خود مختاری ایک خوشنما فریب ہے۔ مگر اسی عالمی نقشے پر ایک اور ریاست بھی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ ہمارے پاس شاید وینزویلا جتنا تیل نہیں، ہم شاید دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی نہیں، مگر ہمارے پاس وہ اثاثہ ہے جس کی ہیبت سے عالمی ایوانوں میں لرزہ طاری رہتا ہے۔

    آج پاکستان جس پُراعتماد لہجے میں عالمی سطح پر اپنا موقف پیش کرتا ہے، اس کے پیچھے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (فیلڈ مارشل کے بلند پایہ عزم کے حامل سپہ سالار) کی بصیرت اور قیادت کھڑی ہے۔ دشمن جب پاکستان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے صرف ایک جغرافیہ نظر نہیں آتا، بلکہ اسے وہ جذبہِ ایمانی اور عسکری قوت نظر آتی ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنا رکھا ہے۔جنرل سید عاصم منیر کا یہ تاریخی اور دلیرانہ اعلان کہ ہم کو لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایٹمی پاکستان کی اس طاقت کا اظہار ہے جو دشمن کو اس کی حد میں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ پیغام اس بات کی سند ہے کہ پاکستان کوئی آسان شکار نہیں جسے چند گھنٹوں کے آپریشن سے مفلوج کیا جا سکے۔ یہاں کی فضائیں بیدار ہیں، یہاں کے ریڈار دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور یہاں کے کمانڈ سینٹرز کبھی اندھیرے میں نہیں ڈوبتے۔ افواجِ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ قوموں کی زندگی وسائل سے زیادہ ان کی دفاعی صلاحیت اور سپہ سالار کے پختہ عزم سے وابستہ ہوتی ہے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں کے اندر محفوظ ہیں، تو یہ اس آہنی حصار کا کرشمہ ہے جسے ہمارے شہداء کے لہو اور غازیوں کی ہمت نے سینچا ہے۔

    دشمن جانتا ہے کہ پاکستان کا دفاع وہ چٹان ہے جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے گا۔ وینزویلا کی بربادی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معیشت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر محافظ کمزور ہوں تو سب کچھ ایک بٹن دبانے سے صفر ہو سکتا ہے۔ لیکن الحمدللہ پاکستان کا دفاع فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں آج اس مقام پر ہے جہاں ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کسی غیر کی دھمکی پر نہیں، بلکہ اپنی قومی غیرت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے اور رہے گی کہ وسائل قوموں کو چمک دیتے ہیں، مگر افواج قوموں کو زندگی دیتی ہیں۔ پاک فوج زندہ باد، قائدِ اعظم کا پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

  • امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ اور وینزویلہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت، مفاد اور وسائل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی دعوے اکثر ثانوی بن کر رہ جاتے ہیں۔ وینزویلہ کے معاملے نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا کے لیے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وینزویلہ کے وسیع تیل ذخائر، اندرونی سیاسی انتشار اور معاشی کمزوری نے بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ جب ریاستیں داخلی طور پر کمزور ہو جائیں تو بیرونی طاقتیں جمہوریت، انسانی حقوق یا سلامتی کے نام پر فیصلے مسلط کرنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی خودمختاری محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے لیے اس بحران میں واضح سبق ہے کہ خودمختاری کا تحفظ صرف عسکری طاقتیں ہی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور مؤثر سفارت کاری بھی ضروری ہے۔ قدرتی وسائل اگر شفاف نظام اور قومی اتفاق کے بغیر ہوں تو وہ نعمت کے بجائے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، ایسے مواقع پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ دنیا ایک ایسے نیو ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ چکی ہے جہاں اصول کم اور طاقت کا توازن زیادہ اہم ہے۔ یک قطبی نظام بتدریج ختم ہو رہا ہے اور عالمی سیاست اب معیشت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے گرد گھوم رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا وینزویلہ جیسا ماڈل مستقبل میں کسی اور ملک پر آزمایا جا سکتا ہے؟ زمینی حقائق اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ جہاں سیاسی انتشار، معاشی کمزوری اور اسٹریٹیجک اہمیت اکٹھی ہو، وہاں بیرونی دباؤ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اس بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھیں، داخلی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور علاقائی و عالمی سطح پر خوددار اور متوازن پالیسی اپنائیں۔ بصورت دیگر تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں، وقت ان کے بارے میں فیصلے خود کر لیتا ہے۔

  • اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    دو روز پہلے آسمان روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہر آتش بازی کی بارش میں نہائے ہوئے تھے، پٹاخوں کی گونج، مسکراتے چہرے اور مبارک بادوں کے شور میں ایک اور سال رخصت ہوا اور ہم نئے سال میں داخل ہو گئے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جیسے قوم واقعی خوشحالی کے سنگِ میل پر کھڑی ہو، تمام دکھ پیچھے رہ گئے ہوں اور آگے صرف امید ہی امید ہو۔ دعوے بھی پورے اعتماد سے کیے جا رہے تھے کہ تاریخی آتش بازی میں ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر جب بارہ بجنے کا شور تھما، فضا ساکت ہوئی اور یکم جنوری کا سورج طلوع ہوا تو دل نے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب کسی تقریر، کسی دعوے اور کسی آتش بازی میں موجود نہیں تھا: کیا واقعی ہم نئے سال میں داخل ہوئے ہیں یا صرف پرانی محرومیوں پر نیا کیلنڈر ٹانگ دیا گیا ہے؟

    یہ سوال کسی ماضی کی کہانی نہیں بلکہ اسی لمحے کی تصویر ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں سے آج بھی یہی آواز آ رہی ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر سب کچھ واقعی درست سمت میں ہے تو پھر عام آدمی کی آنکھ میں سکون کیوں نہیں؟ اگر خوشحالی دستک دے چکی ہے تو گھروں کے چولھے اب بھی ٹھنڈے کیوں ہیں؟ اور اگر ترقی ہو رہی ہے تو اس کی آواز صرف پٹاخوں اور تشہیری نعروں میں ہی کیوں سنائی دیتی ہے؟

    پورا سال عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، حالات نازک ہیں، قربانی ناگزیر ہے اور کمر کسنا وقت کی ضرورت ہے مگر جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا ہے، قربانی کا بوجھ وہیں کا وہیں رہتا ہے اور مراعات کا پلڑا اچانک بھاری ہو جاتا ہے۔ کفایت شعاری عوام کے لیے اور فیاضی اختیار کے ایوانوں میں،اسی ترتیب کو اب نظم و ضبط اور معاشی حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف قصے آتے ہیں، وہ قصے جن میں ہر روز ایک نئی ہوش ربا داستان شامل ہو جاتی ہے، گویا ہم جدید دور کی ’الف لیلیٰ‘ کا حصہ بن چکے ہوں۔دنیا نے ہماری آتش بازی کے رنگ نہیں دیکھنے، اسے وہی نظر آتا ہے جو عالمی اداروں کی رپورٹیں دکھا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کی بدعنوانیوں میں اضافہ ہوا ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم گہری ہو رہی ہے اور غربت مزید پھیل رہی ہے۔ جس معاشی استحکام کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وقتی ہے اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ یوں بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف عالمی اداروں کی وارننگ۔ آئینہ کچھ اور دکھا رہا ہے اور زبان کچھ اور بول رہی ہے، اور اس تضاد کی شدت عوام کی روزمرہ زندگی میں پوری طرح عیاں ہے۔

    اسی تضاد کی سب سے نمایاں مثال قومی اثاثوں کی نجکاری ہے اور اس ضمن میں سب سے حساس اور دل دہلا دینے والا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ہے۔ پی آئی اے محض ایک ادارہ نہیں بلکہ قومی تاریخ، وقار اور شناخت کی علامت رہی ہے۔ برسوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ناقص فیصلوں کے ذریعے اسے دانستہ کمزور کیا گیا اور اب اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ اس کا واحد حل نجکاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو علاج سے محروم رکھا جائے اور پھر اسے فروخت کے لیے پیش کر دیا جائے تو کیا اسے اصلاحات کہا جا سکتا ہے؟پی آئی اے کے پاس آج بھی قیمتی زمینیں، اسٹریٹجک روٹس، تربیت یافتہ عملہ اور خطے میں ایک پہچان موجود ہے مگر نجکاری کے بیانیے میں یہ سب ثانوی بنا دیا گیا ہے۔ بولیوں کی شفافیت پر سوالات، کم قیمت لگنے کا تاثر اور قومی مفاد کی مبہم تشریح اس خدشے کو بڑھاتی ہے کہ یہ قومی اثاثہ بھی اونے پونے داموں منتقل کر دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہوا اور فائدہ چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔

    اسی معاشی فضا میں یہ سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر ہے تو کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس کیوں جا رہی ہیں؟ غیر ملکی سرمایہ کاری سکڑ کیوں رہی ہے؟ اور کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے؟ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں استحکام اور اعتماد ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن نوجوانوں نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا انھیں بھی اب روکا جا رہا ہے۔ نہ یہاں روزگار میسر ہے اور نہ باہر جانے کی راہ آسان۔ ایک پوری نسل درمیان میں لٹک چکی ہے۔دوسری طرف سڑکوں پر غریب لوگوں کو ہیلمٹ اور ٹریفک چالانوں کے ہزاروں روپے کے بوجھ نے
    نچوڑ کر رکھ دیا ہے مگر کسی کو ترس نہیں آتا۔ ناجائز ٹیکسوں کے دباؤ میں پہلے ہی پسے عوام پر اب کوڑا ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے، مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کو دیوار سے لگا چکی ہے، اور آٹا، دال، دوائیں اور ایندھن آج بھی خواب بنتے جا رہے ہیں۔

    ایسے میں کروڑوں روپے کی آتش بازی اور نمائشی تقریبات خوشی کا تاثر نہیں دیتیں بلکہ بے حسی کا اعلان محسوس ہوتی ہیں۔ یہ سب کسی قدرتی آفت یا ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ کا حاصل ہے ،وہ سوچ جس میں ریاست وسائل سے نہیں بلکہ نیت سے خالی دکھائی دیتی ہے۔

    تشہیری منصوبوں پر ساری توانائیاں صرف کر رہی ہے تاکہ ایک بہتر تصویر پیش کی جا سکے، یقینا منصوبے اچھے ہیں مگر تب جب عوام خوشحال ہوںجبکہ یہاں توگزشتہ برس یہ حال رہاکہ فیصل آبادکی کپڑا مارکیٹوںمیں شدید مندی رہی اور یہی حال ہر جگہ رہا بلکہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اسی بنیاد پر اب تعلیمی نجکاری کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔مسئلہ صرف نجکاری نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو ہر چیز کو محض منافع کے ترازو میں تولتی ہے اور مسائل کا حل نہیں بلکہ جان چھڑاؤ اور وقت ٹپاؤ جیسی حکمت عملیوںپر عمل پیرا ہونا فخر سمجھتی ہے۔

    پٹاخوں کی روشنی میں سب سے واضح منظر یہ ہے کہ ریاستی وسائل خاموشی سے نیلام ہو رہے ہیں اور عوام کو تماشائی بنا کر مصروف رکھا گیا ہے۔’تجھے ہونا تھا فرشتوں سے بھی افضل،مگر ہائے انسان! تو درندوں سے بھی بدتر نکلا‘مرگِ احساس واقعی بدترین مرگ ہے، اور ہم اسی عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں جو سوال پیدا ہوئے تھے، وہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جو نہ سوچتا ہو، نہ خواب دیکھتا ہو، نہ حق اور باطل میں فرق کرتا ہو، اور خاموشی اختیار کر کے نہ صرف اپنے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دے۔اگر ملک کو واقعی آگے بڑھنا ہے تو یہ سفر نعروں، چراغاں اور آتش بازی سے نہیں بلکہ شعور، سوال اور جواب دہی سے طے ہو گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم صرف کرنے والوں سے نہیں بلکہ برداشت کرنے والوں سے بھی طاقت پاتا ہے۔ اور آخرکار یہی حقیقت بچ رہتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے اور اب بھی اپنے حقوق نہیں پہچانو گے تو کب پہچانو گے ؟

  • ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں شور بہت ہے، مگر سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زبانیں متحرک ہیں لیکن ضمیر خاموش، انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں مگر خود احتسابی کا آئینہ گرد آلود پڑا ہے۔ یہ سوال اب محض فلسفیانہ نہیں رہا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ سوال ہماری اجتماعی بقا سے جڑ چکا ہے۔

    آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا مگر شعور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین پر لمحہ بھر میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، بغیر یہ سمجھے کہ ہر سچ آدھا نہیں ہوتا اور ہر جھوٹ مکمل نہیں۔ ہم نے سوچنے کی محنت چھوڑ دی ہے اور مان لینے کو عقل مندی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی پہلی سیڑھی اترتی ہیں۔

    ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ مہنگائی، ناانصافی، تعصب، بے روزگاری،یہ سب اب خبروں کا حصہ نہیں بلکہ معمول کی گفتگو بن چکے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ظلم پر چونکنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں ظلم مضبوط ہو چکا ہے۔ہم اکثر قیادت کو کوستے ہیں، نظام کو گالیاں دیتے ہیں، مگر یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ کیا ہم خود اس نظام کا حصہ نہیں؟ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرا خاموش رہتا ہے؛ ایک جھوٹ بولتا ہے، دوسرا اسے شیئر کر دیتا ہے۔ یوں برائی اکیلی نہیں رہتی، اسے اجتماعی تحفظ مل جاتا ہے۔

    تعلیم کا حال یہ ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر دانش کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے تعلیم کو روزگار کا زینہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہنر مند تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر دیانت دار انسان ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں اور کردار نصاب سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے۔مذہب، جو ہمیں جوڑنے آیا تھا، ہم نے اسے تقسیم کا ہتھیار بنا لیا۔ ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت خود کو حق کا ٹھیکیدار سمجھنے لگی ہے۔ ہم نے خدا کو بھی اپنی انا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اصل دینداری تو عاجزی سکھاتی ہے، نفرت نہیں۔

    سنجیدہ قلم کار بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ وہ جنگ جو انسان اپنے ضمیر سے لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ ہار جائے تو بڑے سے بڑا انقلاب بھی کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تبدیلی نعروں سے نہیں، نیت سے آتی ہے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اصلاح کا آغاز اوپر سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد سچ بولنے کا حوصلہ کرے، انصاف پر سمجھوتہ نہ کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے تو وہی فرد معاشرے میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے کا نہیں، خود کو بدلنے کی جرات کا ہے۔ اگر ہم نے آج سوچنا نہ سیکھا تو کل سوچنے کا حق بھی کھو دیں گے۔

    آخر میں سوال وہی ہے:
    ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
    ہم کہاں کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟

    فیصلہ ہمیں کرنا ہے،بطور فرد، اور بطور قوم۔

  • یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی اور یوٹیوب کی سیاست یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی سیاست کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے کی روایت پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت اور اس کے ہم نوا چند یوٹیوبرز نے ایک کالم کو بنیاد بنا کر وہ بحث چھیڑ دی ہے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں قومی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر افسوس، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے مائیک نے ہر اس شخص کو دانشور بنا دیا ہے جس کے پاس کیمرہ، انٹرنیٹ اور کچھ منٹ کی جذباتی تقریر موجود ہو۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ملک میں قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح سرِبازار موضوعِ تماشا نہیں بنایا جاتا۔ امریکہ ہو یا یورپ، ترکی ہو یا چین وہاں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو ریاست بھی کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہی حلقے انہی اداروں کو سلام پیش کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی وہی ادارے تنقید کا آسان ہدف بن گئے۔ یہ تضاد محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کسی کالم یا تجزیے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، پھر اس پر یوٹیوب عدالتیں لگانا، دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سوال اٹھائے جائیں یا نہیں،

    سوال یہ ہے کہ کس نیت، کس فورم اور کس حد تک؟ قومی سلامتی کے معاملات جذبات نہیں، ہوش مانگتے ہیں۔ یہ لائکس، سبسکرائبرز اور ویوز کا ایندھن نہیں ہوتے۔ جو لوگ آج غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایسے بیانیے دشمن قوتیں کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست اور سیاست میں فرق نہ کرنا ہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست حکومت کے لیے ہوتی ہے، مگر سلامتی ریاست کے لیے۔ جو قوم اس فرق کو مٹا دیتی ہے، تاریخ اس کے ساتھ نرمی نہیں برتتی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے میں رکھا جائے اور قومی اداروں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر رکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی اداروں کی تضحیک جمہوریت نہیں، خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن کندھوں پر اس ملک کی سلامتی کا بوجھ ہے، انہیں کمزور کرنے کا مطلب اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
    بقول شاعر
    یہ خاک و خوں کا سفر یوں ہی رائیگاں نہ گیا
    وطن کی آن پر جب بھی آنچ آئی، ہم نے جان دی