Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    جس طرح تم نے اپنے براؤزر میں کچھ مخصوص ٹیب چھپا رکھے ہیں
    اسی طرح ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    کل دن کی ہی بات ہے، عجب ہوئی اک واردات یے
    میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک ماسک پوش نے میری کنپٹی پر رکھ دی بندوق کی نالی، اور زور زور سے کہنے لگا آج چل جائیو سالی
    کہنے لگا کہ نکالو جو کچھ جیب میں ہے
    میں نے کہا نکال لو جو کچھ جیب میں ہے.
    اس نے میری جیبوں کو ٹٹولا، پھر منہ بنا کر بولا
    تم تو خاطر خواہ امیر لگتے ہو، جیب میں صرف دو والے سکے رکھتے ہو.
    میں نے کہا دل سے امیر ہوں، شکل سے غربت جھلکتی ہے
    ماسک جیسی چیز میرے عیبوں کو ڈھکتی ہے.
    مایوس ہو کر اس ٹریگر جو دبایا، پانی کا اک فوارہ سا باہر نکل آیا
    یعنی اس کمینے نے مجھے پاگل بنایا.
    جی میں آئی کہ ڈاکو کو پہچانا جائے، اس کی ڈکیتیوں کو لگام ڈالا جائے
    یہ سوچ کر میں اسکے پیچھے ہو لیا، من ہی من اپنی بے عزتی پر رو لیا
    تھوڑا آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں
    پانچ چھ لڑکے ماسک پہن کر کھڑے ہیں، سبھی کے ہاتھوں میں پستول اور چھڑے ہیں.
    انہی چھڑوں کے ذریعے وہ دیہاڑی لگاتے ہیں
    اور ماسک پہن کر اپنے عیب چھپاتے ہیں.

    جناب منصف!
    ایک سیاسی جلسی میں ہوا شرکت کا احتمال، پڑھے لکھے افراد تھے وہاں خال خال
    جلسی کے اختتام پر کہا گیا دعا کرائی جائے، دعا کے بعد ایک کپ چائے پلائی جائے
    دعا کیلئے مگر کوئی آگے نہ آسکا، مارے شرم کے ہاتھ اٹھا نہ سکا
    اتنے میں ایک ماسک پوش کھڑا ہوا اور ہوا میں ہاتھ بلند کرکے انتہائی نامناسب انداز میں کہا
    "یا الٰہی! تیری… بارگاہ میں التجا کرتے ہیں.”
    میں نے سوچا یہ کس کی دعا کا اثر اتنا دلخراش ہے
    ماسک اترا تو معلوم پڑا، یہ تو ایک بدمعاش ہے
    وہ بدمعاش جس نے اپنے اثاثے فرام نیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    ماسک کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ نوجوان نسل کو یوں ہوا ہے کہ اب ہالی ووڈ کی فلموں میں اداکاروں نے ماسک پہن رکھے ہیں.
    ماسک پہن کر وہ اپنی ثقافت کا سرعام اظہار کر نہیں سکتے
    اور ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے سے ڈر نہیں سکتے.

    جناب منصف!
    اک روز میں اور میرا دوست کررہے تھے کچھ مردانہ باتیں…
    باتوں باتوں میں ہماری آواز ہوگئی اس قدر بلند
    کمرے سے باہر تک جانے لگا ہماری باتوں کا گند

    اتنے میں ایک صاحب اندر جھانکنے آگئے، کہنے لگے نوجوان تم تو چھاگئے
    اس عمر میں جب سب کرتے ہیں بچگانہ باتیں، تم کررہے ہو سرعام مردانہ باتیں
    ذرا اپنی پیاری سی صورت تو دکھاؤ، ذرا اپنا یہ ماسک تو اٹھاؤ
    میں ان کی سازش کو سمجھ گیا اور ماسک اتارے بغیر کہا…

    یہ سب راز قدرت نے غیب میں چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    اک روز ہمارا امتحاں ہوا، امتحاں نہیں بلکہ طعنۂ جاں ہوا
    اس روز بھی ماسک نے ہماری کم علمی کو چھپایا، پہلے کا A دوسرے کا D ہر کوئی چلایا
    آج بھی ہمارے کارنامے اس لیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    زمانہ بہت خطرناک ہے. ہر کوئی شاطر ہے، ہر کوئی مکار ہے.
    آج کے انساں نے اپنے اندر کیا کیا مکر و فریب چھپا رکھے ہیں
    یہ تو خدائی ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں…!

  • قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    فضائی آلودگی؛نقصانات اور حل:

    آب و ہوا ہر جاندار کی زندگی کی ضمانت ہے آلودہ فضائی ماحول انسانوں کے لیے مضرِ صحت ہے ہوا کی آلودگی یعنی گندگی بعض اوقات تو پاک صاف علاقوں میں بھی واقع ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی ہوتی ہے عام طور پر ہر شخص کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی کہ موسم کی تبدیلی خرابئ صحت کا باعث بنتی ہے تبدیلی کے اس مختصر عرصہ میں عموماً نزلہ زکام بخار اور گلا خراب جیسی شکایات ہر دوسرے فرد کو رہتی ہیں، فضائی آلودگی کی دیگر وجوہات میں ٹریفک کا دھواں، بھٹیوں کا دھواں، کارخانوں اور مِلوں کے زہریلے گیس وغیرہ شامل ہیں جو پلاسٹک، کچرا، ربڑ کے ٹائر اور دیگر ضائع مواد جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

    یہ زہریلے گیس قدرتی ہوا میں شامل ہو کر فضاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بس میں ہو تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکس تو مِل مالکان عوام پر لگا ہی چکے ہیں جس میں حکومت برابر کی شریک ہے۔

    ہم ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یہاں مریضوں کی کُل تعداد کا نصف سے زائد حصہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ان شفا خانوں کا مستقل گاہک ہے۔ اصل میں یہ کم علم غریب عوام حسبِ استطاعت اپنی سانس کا ٹیکس ادا کرنے قطاروں میں کھڑے، ویل چیئرز پر بیٹھے یا بے بس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

    فضائی آلودگی کے نقصانات سے حکومتی ادارے اور کارخانے دار لا علم تو نہیں مگر بے پرواہ ضرور ہیں۔ لیکن یاد دہانی عرض کیے دیتا ہوں کہ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق مبینہ طور پر تمام بیماریوں کی بڑی وجہ فضا میں موجود زہریلے ذرات ہوتے ہیں کہ جن سے پھیپھڑوں کے کینسر اور دمے جیسے بڑے امراض سمیت اعصاب کی کمزوری دماغ پر برے اثرات جگر کے فیل ہونے اور چند چھوٹے امراض الٹی آنا، چکر آنا گلا خراب اور خشک کھانسی وغیرہ شامل ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے میری معلومات کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے فضائی آلودگی والے شہروں میں ماہِ اکتوبر اور نومبر میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ان مہینوں میں موسمی تبدیلی تو خرابئ صحت کی بڑی وجہ بنتی ہی ہے مگر فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ان سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں صحت مند افراد کے لیے بھی مضر ثابت ہوتی ہیں اور شہر بھر کے اسپتالوں اور نجی کلینکس پر شہریوں کا جمِ غفیر موجود رہتا ہے ایسے حالات میں بے بس انتظامیہ روز اخبارات میں چند آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کی فوٹو لگا کر عوام الناس کے جذبات کو تسکین پہنچانے کی نیم کامیاب کوشش کرتی ہے مگر کارخانے دار چند روپیوں کے عوض غریب کے سانس پر ٹیکس لگانے کا اجازت نامہ دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر پورا سال آزادی سے انتظامیہ کی سرپرستی میں آلودگی پھیلانے کا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔

    یاد رہے یہ ایسے ملک کی حالت ہے کہ جنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ان کا ملک دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں اول یا دوم رہا ہے، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور بہاولپور وغیرہ پاکستان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو جاتے ہیں کیا خوب ہو کہ قبل از وقت ان معاملات پر ایمرجنسی بنیادوں پر ان مشکلات کے حل کے لیے کام کر لیا جائے .

    چند سرکاری افسر جو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لیے حکومتی حکم ناموں کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے لوگ آج بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اچھے آفیسرز اپنے فرائض پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے وہ مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر جاتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس بھی اگر ایمانداری کے ساتھ پورا سال لوگوں کو ذہریلے دھوئیں کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب جرمانہ کرے اسی طرح دیگر ایسے عوامل جو ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں حکومتی سطح پر اس کی آگاہی مہم پورا سال چلائی جائے اور عوام الناس کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، درخت لگانے کے لیے جا بجا سہولتیں دی جائیں اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو فضائی آلودگی کے شدید ترین نقصانات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے جس میں بہر صورت عوام الناس کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔

  • بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”

    "صاحب نوکری دلوا دو!!”

    اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

    بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔

    معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔

    پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔

    1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
    ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔

    بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔

    ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔

  • مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔

    تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔

    حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔

    بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔

    سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔

    کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔

    بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔

    سلام عرض ہے۔

    ایک ہماری جنریشن ہے۔

    رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔

    اور

    پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔

    افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔

  • سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔

    بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔

    فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔

    لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔

    سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔

    اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔

    لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔

    یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔

    ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔

    اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔

    اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔

    گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔

  • چھٹی حس — عبداللہ سیال

    چھٹی حس — عبداللہ سیال

    اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.

    ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
    عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)

    انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”

    عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…

    "جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”

    بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.

    "چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.

    ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”

    بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
    "جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.

    اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”

    محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”

    "چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..

    "ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.

    ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.

    ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.

    خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.

    میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.

    ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”

    سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.

    کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!