Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملے نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑنے پر مجبورکردیا۔ ملکی سیاست میں انتشار مزید گہرا ہو رہا ہے۔پاکستان مخالف قوتیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں رہنے کی جنگ میں مصروف ہیں اس وقت ملک کہاں کھڑاہے.

    عوام کس حال میں ہیں اس سے بے خبر سیاستدان ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں پنجاب میں گورنر راج لگے یا عمران خان کو گرفتار کرنے پر پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا اگر عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے توخیبر پختونخوا میں حالات خراب تر ہو سکتے ہیں پاک افغان سرحد اور پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت انتشار مزید پھیلانے میں اپنا کردارادا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

    ملکی سلامتی اور بقا کے لئے سیاسی جماعتیں ضد ،انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں حکومت اور عمران خان اس ملک اور عوام کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، پیپلزپارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدان ، مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جومذاکرات کرے اورملک کو مزید انتشار کی سیاست سے بچانے میں کردارادا کرے۔ ملک کے وقاراور سلامتی کی خاطر یہی ایک راستہ ہے سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور ہٹلر کا راستہ ہے۔

    قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ چوراہوں جلسے ،جلوسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے خدا کی پناہ۔ اس ملک کی خاطر ضد، ہٹ دھرمی کو دفن کریں ۔ دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

    اس وطن عزیز کی خاطر اور اس عام آدمی کی خاطر جس کو دنیائے سیاست میںکیا تبدیلی ہو رہی ہے ۔ بے خبر ہو کر اپنی مشکلات سے لڑرہا ہے۔عام آدمی سبزی ، دالیں ،گوشت، بجلی ،گیس ،آٹے کی خرید سے جنگ لڑ کر ہار رہا ہے اور ہار چکا ہے عام آدمی کا سیاستدانوں پر اعتماد اٹھ رہا ہے عام آدمی بیزار ہے اس کا اعتماد بحال کرنے میں سیاستدان کردار ادا کریں اگر اس کا اعتماد بحال نہ ہوا تو ذرا سوچئے کیا ہو گا؟

  • فوٹوشاپ بڑے بڑے قد کے ڈھانچے!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    فوٹوشاپ بڑے بڑے قد کے ڈھانچے!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    انٹرنیٹ پر جابجا موجودہ انسانوں سے کئی گنا بڑے انسانی ڈھانچوں کی فوٹوشاپ اور فیک تصاویر ہیں جنکا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔۔پرانے زمانے میں انسانوں کی اوسط قد موجود انسانوں سے کم تھی۔ انسانی قد میں اوسط اضافہ جدید سائنسی طریقوں سے خوراک کی کاشت اور حصول کے ذریعے ممکن ہوا۔فی زمانہ خوراک کی فراوانی سے انسانی نشونما میں اضافہ ہوا۔

    آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اوسط مرد کی قد دنیا کے پسماندہ ممالک سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ڈنمارک میں اوسط مرد کی قد 1.82 میٹر ہے جبکہ پاکستان میں اوسط مرد کی قد 1.67 میٹر ہے۔
    مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جیسے کہ عراق، مصر، سعودی عرب وغیرہ میں اوسط قد 1.73 میٹر کے قریب ہے۔

    تاریخ میں انسانی قد میں اضافہ انیسویں اور بیسویں صدی میں صنعتی ترقی کے بعد ممکن ہوا جب کاشتکاری کے بہتر طریقے متعارف ہوئے، صنعتی طور پر کھاد بننا شروع ہوئی اور جینیاتی چناؤ کے باعث فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا۔

    کھدائی سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں، ہڈیوں اور فوسلز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطی میں آج سے دس ہزار سال پہلے یعنی آٹھویں صدی قبلِ۔مسیح سے لیکر اٹھارویں اور انیسویں صدی تک انسانوں کی اوسط قد 1.65 میٹر سے بھی کم تھی۔

    اندازہ کیجئے ایک شخص 30 میٹر کی قد کا ہو؟ اب تک کا ملنے والا سب سے بڑا ڈائناسور Sauroposeidon قسم کہلاتا ہے جو لگ بھگ 18 میٹر قد کے تھے۔ تو اگر ڈائناسورز کی قد سے دوگنے قد یعنی 30 میٹر کے انسان ہوں اور دو ٹانگوں پر چلتے ہوں تو اُنکی ہڈیاں کیا لوہے کی ہونگی کہ اتنا وزن اُٹھا سکیں اور اگر بالفرض وہ نیچے گرتے تو گویا 10 منزلہ عمارت جتنی اونچائی سے نیچے زمین پر اُنکا سر ٹکراتا تو کھوپڑی نہ اُڑ جاتی؟ یا اُنکی ہڈیاں اتنی مضبوط تھیں کہ کچھ نہ ہوتا کیونکہ وہ دودھ پیتے ہونگے اُن بھینسوں کا جو شاید اُن سے بھی بڑی ہوں؟

    لہذا ایسی فوٹوشاپ تصاویر بنا کر لگانے والے جانے کیا خدمت انجام دیتے ہیں؟ اگر آپ نے قدیم انسانوں اور انسانی تاریخ کے متعلق جاننا ہے تو مستند سائنسی جرائد میں ہزاروں مقالے موجود ہیں۔ آئے روز نئی سے نئی تحقیق ہو رہی ہے جسکے نتائج انٹرنیٹ پر عام پڑے ہیں۔ جائیں جا کر خود تردد کریں اور جانیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔

    آج کے دور میں غلط خبروں اور غلط باتوں کو بنا تحقیق کے سچ سمجھنا ایک معمول کی بات ہے جو بے حد خطرناک ہے۔ اس سے اصل علم کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور ذہن جمود کا شکار رہتے ہیں۔۔اس روش کو بدلیں۔ سنجیدہ ہو کر سائنس سیکھیں۔

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے بڑے مشورے اور منصوبے کسی فرد کو نہیں بدل سکتے. بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور کچھ عادتیں ہوتی ہیں جو ہماری سوچ بن جائے تو ہماری معیشت بدل جاتی ہے. مثلاً آپ اپنی خریداری کی مثال لیں. ہر شخص کی بنیادی ضروریات اسے بازار بھی لے کر جائیں گی اور خرچ بھی کرائیں گی.

    آپ نے جوتے لینے ہیں. ایک جوڑا دو ہزار کا ہوگا تو ایک پانچ ہزار کا وہیں ہزار گیارہ سو کا بھی ہوگا. مختلف رنگ ہوں گے فیشن ہوں گے. آپ نے یہاں معیار ڈھونڈنا ہے. ایک جوتا سستا ہے خوبصورت ہے لیکن آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ معیار ایسا ہے جو ایک بارش یا کچی زمین پر چلنا زیادہ برداشت نہیں کر سکتا. دوسرا جوڑا اتنا خوبصورت اور شوخ نہیں اور مہنگا بھی زیادہ ہے. آپ چیک کرتے ہیں تو اسکا معیار بہت اعلیٰ ہے. یہ سالوں چلنے والا جوتا ہے.

    اب کچھ لوگ وقتی خوشی اور دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے وہ سستا خوبصورت جوڑا اٹھا لیں گے تو کچھ زیادہ طویل استعمال کیلئے وہ مہنگا جوتا اٹھا لیں گے. سستے جوتے والا کچھ مہینے بعد موچی کے پاس کھڑا ہوگا تو اگلے مہینے دوبارہ جوتا خریدنے کیلئے. معیار پر مہنگا لینے والا جبکہ کئی سال کیلئے بے فکر ہوگیا.

    ہماری یہ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریاں ہوتی ہیں جو ہم معیار دیکھ کر مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ آنے والے وقت میں ہماری بچت بن جاتی ہے. ہماری یہی بچت ہمیں نئی سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے اور ہماری معیار کی تلاش اور اس معیار کیلئے زیادہ ادائیگی کا حوصلہ جمع ہوکر ہمیں سرمایہ کار بناتا ہے.

    جو لوگ اپنی چھوٹی خریداری میں سرمایہ کاری نہیں سیکھ پاتے وہی لوگ بڑے بڑے منصوبے بناتے دل کی وقتی خوشی کا ساماں کرتے رہتے ہیں.

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    سیلاب کے لگائے گئے زخم ابھی تک نہیں بھرے ۔ لیکن وطن عزیز کے درمند مرہم خوب لگا رہے ہیں ۔ کچھ احباب کی جانب سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کافی گھروں کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے لیکن کام ابھی بھی جاری ہے ۔ خاکسار کے چند سوال ہیں جو صرف درمندوں کو ہی چبھے گے اور فکر پیدا کریں گے ۔

    یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے یہی اثرات اگر اگلے سالوں میں سیلاب کی صورت رونما ہوتے ہیں تو کیا یہ گھر محفوظ رہیں گے ؟

    اگر نہیں تو یہ تخریب و تعمیر کا سلسلہ آخر کب تلک ہے ؟

    ماہرین کی جانب سے ریڈ زون میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

    اگر ماہرین کسی علاقے کو خطرناک کہہ کر تعمیری کام سے روک رہے ہیں تو کیا وہاں پر تعمیر کرنا سمجھداری ہے ؟

    لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ مجھ سے بھی counter سوال پوچھے جاسکتے ہیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

    میں کہوں گا کہ حکومت وقت ڈیم بنائے اور تخریبی پانی کو تعمیری پانی میں بدلے ۔۔۔۔

    آپ مجھ پر ہنسے گے کہ حکومت ؟؟؟؟۔

    یقینا اس نکتے پر میں بھی لاجواب ہوجاوں گا کہ وطن عزیز کو آج تلک جو بھی حکومت میسر آئی وہ تو بانجھ ہی رہی اور ہے ۔۔۔۔ کتنے ہی ماہرین ہیں جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں جن سے ان آفات کی تباہیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو ۔

    بیرون ممالک سے آئی ہوئی امداد کا کچھ پتہ نہیں ۔ حاکم وقت ان کو ظاہر کرکے معاملات واضح کیوں نہیں کرتا ۔؟

    کیا مخمصہ ہے ۔۔۔ کیا بے بسی ہے ۔۔۔ وطن عزیز کو خدا اپنی رحمت کے حصار میں لے ۔۔۔ کیونکہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے ۔

  • احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے تاخت و تاراج اور تہس نہس کر دیتا ہے۔ہر طرف تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے۔

    شہر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد وہ اپنا دربار منعقد کرتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ عروج پر ہے۔کیوں نہ ہو ؟ اسلئے کہ وہ فاتح ہے۔وقت کا حاکم ہے اور حاکم بھی وہ جو سفاکیت اور بربریت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ایسے میں اس کے سامنے مسلمانوں کے خلیفہ "معتصم” کو لایا جاتا ہے جو سر تا پا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔محکوم خلیفہ اپنے حاکم کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بن کر موجود ہے۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ہلاکو کے سامنے سادہ کھانا رکھا جاتا ہے اور معتصم کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرے ہوۓ طشت رکھ دئیے جاتے ہیں۔ہلاکو زنجیروں میں جکڑے معزول خلیفہ کو کھانا شروع کرنے کیلئے کہتا ہے۔معتصم حیران ہو کر ہلاکو کی طرف دیکھتا ہے۔ہلاکو کڑک دار آواز میں اسے کہتا ہے:-

    ” کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "بغداد کا خلیفہ اور مسلمانوں کا تاجدار بے بسی و بےچارگی کی تصویر بنا کھڑا ہے اور کہتا ہے ” میں یہ کیسے کھاؤں یہ کوئی کھانے کی چیز ہے” ہلاکو فورا” کہتا ہے کہ اگر یہ کھانے کی چیز نہیں ہے تو تو نے یہ سونا اور چاندی ہیرے اور جواہرات جمع کیوں کئے۔افسوس اس بات پر کہ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے گھوڑے پالنے اور جہاد کی تیاری کا حکم دیتا ہے ان کا خلیفہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ہلاکو کے سوال ایک تازیانہ بن کر اس پہ برس رہے تھے لیکن معتصم بس ایک ہی جواب دے سکا اور وہ یہ کہ ” اللہ کی یہی مرضی تھی” ہلاکو اسے کہتا ہے کہ "اب تمہارے ساتھ جو گا یہ بھی اسی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔
    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کا حکم دیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ظلم و بربریت کے دلدادہ اس شخص نے بغداد کو مسلمانوں کیلئے قبرستان بنا دیا ۔ہلاکو نے کہا ” آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکے گی اور ایسا ہی ہوا۔سقوط بغداد سے لیکر آج تک اس شہر کو وہ پہلے جیسی حیثیت دوبارا نہ مل سکی لیکن مسلمان قوم نے اس پر بھی کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان اندوہناک گھڑیوں میں بھی اس وقت کے مسلمان علماء اور وارثان محراب و منبر پورے کروفر اور جبہ و دستار کے ساتھ بغداد کی مسجدوں اور گلیوں میں اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ "کوا حلال ہے یا حرام ہے”

    ہم اہنے برصغیر کی بات کریں تو ذرا تصور کریں کہ جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں کا ایک بادشاہ شاہجہاں اپنی دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں دنیا کا عجوبہ تاج محل تعمیر کروا رہا تھا لیکن دوسری طرف اس کے مقابلے میں برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے ڈلیوری کی حالت میں وفات پا جانے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول کی بنیادیں رکھ رہا تھا اس دور میں ہمارے یہاں بادشاہوں کے درباروں میں گوئیے اور بھانڈ قبضہ کئے ہوۓ تھے۔ خوبصورت اور نازک اندام رقاصاؤں سے دل بہلاۓ جا رہے تھے اور مسخرے بادشاہ سلامت کی دلجوئی و تفنن طبع کیلئے ہمہ وقت موجود تھے تو اس وقت یورپ میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں بنائی جارہی تھیں۔ادھر ہمارے ارباب بست و کشاد شراب و کباب و شراب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ادھر یورپ میں بحری بیڑے تیار کئے جا رہے تھے۔

    ادھر رقص و سرود کی محفلیں برپا تھیں جہاں تان سین اور دوسرے گلوکار اپنی تانیں بکھیر رہے تھے تو ادھر یورپ میں علوم و فنون کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ادھر عیاشی و فحاشی کا دور دورہ تھا تو ادھر صلیب کے رکھوالے پوری دنیا کو زیر دام لانے کے لئے منصوبے بنا رہے تھے۔سلطنت برطانیہ میں سورج کا غروب نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عیاشیوں کے ضمن میں صرف ایک مثال محمد شاہ رنگیلا کی دینا چاہوں گا۔ محمد شاہ رنگیلا کے شب و روز کا معمول یہ تھا کہ صبح کے وقت وہ درشن کیلئے جھروکے میں جا کر بیٹھ جاتا ۔ کوئی سوالی آ جاتا تو اس کی داد و فریاد سن لیتا نہ آتا تو بٹیروں اور ہاتھیوں کی لڑائیوں سے دل بہلاتا رہتا ۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے لطف اندوز ہوتا جبکہ اس کی شامیں رقص و موسیقی کی محفلوں میں گزرتیں اور راتیں حسین و جمیل دوشیزاؤں اور حرم میں موجود لونڈیوں سے داد عیش دیتے ہوۓ بیت جاتیں۔بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔”محمد شاہ رنگیلا کتنا رنگیلا” نامی کتاب اس کی ان داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے غصے میں آکر اپنی پسندیدہ گائیکہ کو اپنا پہنا ہوا جوتا دے مارا اور وہ جوتا اس سے واپس نہیں لیا۔یہ جوتا اپنی قیمت کے اعتبار سے اس عورت کی سات نسلوں کیلئے کافی تھا۔

    قارئین دوسری طرف یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔اسے اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے پاس دولت تھی یا نہیں تھی۔اس کے دربار میں خوشامدی مراثی طبلہ نواز بھانڈ اور جی حضورئیے موجود تھے یا نہیں تھے بلکہ تاریخ صرف اور صرف اس کی حاصل کی گئی کامیابیاں دیکھتی ہے وہ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں دیکھتی اور نہ ہی کوئی اور عذر قبول کرتی ہے۔ لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم وہی پریکٹس اب بھی جاری رکھے ہوۓ ہیں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اصل میں علم و ہنر سے دوری ہی ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ آج ہم علم و ہنر سے محرومی ہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں ۔ کل جب قدرت نے عروج اور ترقی کا تاج ہمارے سروں پر رکھا تھا تو ہم اسے مضبوطی سے تھام نہ سکے ۔ ہم علم و ہنر کے فروغ سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تھے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں رکھ سکے تھے، جس کے بل بوتے پر ہم اپنے لیے دوبارہ ترقی کی عمارت تعمیر کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم آخری مرتبہ گرے ہیں تو اب تک نہیں سنبھل سکے۔اقبال نے کیاخوب کہا تھا :-

    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب اخلاقی برائیوں میں گھر جاتی ہے اور حرام کاری، زنا کاری، اور برے کاموں کی حدوں کو پار کرلیتی ہے تو اللہ رب العالمین اس پہ اسی جیسے حکمران مقرر کر دیتا ہے اور  دوسری اقوام کو ان پر مسلط کردیتا ہے، اگر وہ ایک سلجھی ہوئی اور سمجھدار قوم ہے تو ڈوبنے کے بعد دوبارہ ابھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر اپنا محاسبہ کرنے خود کو سدھارنے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو پھر وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہوجاتی ہے اور ایک قصہ پارینہ بن کے رہ جاتی ہے۔ہمیں اب اس بات پہ غور کرنا ہے کہ اگرہم بطور مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ خیر امت ہی رہیں تو انہیں اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا خوگر بنانا ہوگا، انہیں صحیح غلط کا فرق سمجھانا ہوگا،انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھانا ہوگی۔ انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھانی ہو گی، انہیں اخلاق کی اعلی قدروں پہ فائز کرنا ہوگا، تبھی جا کے حقیقی کامیابی نصیب ہو پائے گی، ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پہ گھیرا تنگ ہوتا جائے گا اور اخیر میں سر پٹک پٹک کے دعائیں مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہم یونہی دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔کبھی بے ایمانی کی بنیاد ہر۔کبھی بد عنوانی کی بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر اور پھر سانحہ بغداد جیسا کوئی ہمارے تعاقب میں ہوگا۔