Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    ان دنوں وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب لندن میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے بڑے بھائی اور قائد جناب نواز شریف صاحب کے ساتھ نومبر میں ہونے والی متوقع تعیناتی کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں وہیں وہ محترم جناب اسحاق ڈار صاحب کی پاکستان واپسی، سینٹ کا حلف اٹھانے اور اس کے بعد وزیر خزانہ تعیناتی کے بارے میں بھی مشورہ کر رہے ہیں ۔

    بظاہر اسحاق ڈار صاحب کی واپسی کی وجہ مفتاح اسماعیل صاحب کی وزیر خزانہ کے طور پر عوامی غیر مقبولیت، غم و غصہ اور ناکامی ہے لیکن پاکستانی سیاست شطرنج کے کھیل کی طرح ہے جس میں پیادے بادشاہ کو بچانے کے لئے خود کو قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس قربانی پر بادشاہ ان کا شکرگزار نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے ۔

    شہباز شریف صاحب کے سامنے حکومت سنبھالتے ہی دو چیلنج تھے ایک نواز شریف اور اسحاق ڈار کی ملک میں باعزت واپسی کی راہ ہموار کرنا اور دوسرا چیلنج خراب معاشی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے انتہائی سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے لیکن ان کے اثرات پاکستان مسلم لیگ پر نہ آنے دینا ۔

    معیشت کو قابو کرنے کے لئے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ وہ اسحاق ڈار صاحب سے معیشت کو چلانے کے حوالے سے راہنمائی لیں گے لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد یہ خبریں اڑائی گئیں کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار میں اختلافات ہو گئے ہیں اور مفتاح اسماعیل صاحب اپنی مرضی کے مطابق معاشی منصوبے بنا کر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔

    اس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور عوامی رائے مسلم لیگ کے انتہائی مخالف ہو گئی تیل بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے بےپناہ اضافے کی وجہ سے لوگ عمران خان کے دور میں ہونے والی مہنگائی کو بھول گئے اور مسلم لیگ کے موجودہ دور سے بہتر پی ٹی آئی کے دور حکومت کو کہنے لگے ۔

    ایسے عالم میں ایک مخصوص طبقے نے لوگوں کو اسحاق ڈار فارمولے کی طرف متوجہ کیا کہ وہ جیسے بھی ہو مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھتے تھے جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہتا تھا لیکن پہلے پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ساتھ ان کے فارمولے سے اختلاف کیا اور ڈالر پر سے چیک ختم کر کے اسے بے لگام کر دیا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے بھی اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں اور تجربے سے اختلاف رائے کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دوبارہ سے مہنگائی کا طوفان آ گیا ۔

    مسلم لیگ کی حکومت نے پہلے مفتاح اسماعیل کے ذریعے سخت معاشی فیصلے کئے جن کی وجہ سے وہ بطور وزیر خزانہ عوام میں غیر مقبول ہو گئے اور اب جب ان فیصلوں کے ثمرات ملنے کا وقت آ رہا ہے تو وہ بطور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو واپس لا رہے ہیں تا کہ ان ثمرات کا کریڈٹ اسحاق ڈار کو ملے اور انہیں دوبارہ عوامی مقبولیت حاصل ہو جائے اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہو جائے اس طرح مسلم لیگ کی حکومت نے معیشت کی بحالی کا اپنا ہدف بھی حاصل کر لیا اور اسحاق ڈار کی پاکستان میں باعزت واپسی کا ہدف بھی حاصل کر لیا ۔

    شہباز شریف نے پنجاب میں اپنے دور حکومت کے دوران ریکارڈ وقت میں بےشمار ترقیاتی منصوبے مکمل کر کے عوام میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی تھی اکثریت کا خیال تھا کہ 2013 میں وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت بننے کی وجہ پنجاب میں شہباز شریف کے ترقیاتی کام اور مقبولیت تھی اور ان کا خیال تھا کہ اگر شہباز شریف کو وفاق میں موقع دیا گیا تو وہ پورے ملک میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام کرائیں گے ۔

    جبکہ نواز شریف کے بارے میں رائے عامہ یہ تھی کہ وہ چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کی نہیں سنتے اور ان کی عوامی غیر مقبولیت کی وجہ ان قریبی ساتھیوں کے غلط مشورے ہیں اور اگر شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کام نہ کرتے تو پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد مسلم لیگ دوبارہ حکومت میں نہیں آ سکتی تھی اس کے علاوہ ان کی مقتدرہ سے ہمیشہ لڑائی ہوتی ہے جبکہ شہباز شریف مقتدرہ کے لئے قابل قبول ہیں ۔

    مخلوط حکومت بننے کے بعد شہباز شریف کی کارکردگی دیکھ کر لوگوں کی ان کے متعلق خوش فہمیاں دور ہو گئیں ہیں جتنی تیزی سے ان کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے لوگوں نے انہیں اللہ کا عذاب کہنا شروع کر دیا ہے جو کہ بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مسلط ہوا ہے، ابھی حالیہ بیرونی دوروں کے دوران شہباز شریف صاحب کی دوسرے ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران حواس باختگی پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ان کی حرکات دیکھ کر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی سطح کے لیڈر ہیں یا کسی گلی محلے کے ۔

    اب ان کے حامی سر عام کہتے ہیں کہ شہباز شریف صوبائی لیڈر ہیں اور نواز شریف وفاقی اور بین الاقوامی لیڈر، اس لئے اب وہ وقت دور نہیں رہا جب نواز شریف کو ملک میں واپس بلانے کے لئے آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی اور اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف کی بھی الیکشن سے پہلے وطن واپسی ہو جائے گی یعنی شہباز شریف صاحب اپنے دونوں چیلنج پورے کر لیں گے ۔

    آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کا دارومدار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے اس وقت معیشت کی بحالی کے لئے جتنے مشکل فیصلے کرنے تھے وہ مفتاح اسماعیل کے ذریعے کر لئے گئے ہیں اب اگر اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ بن کر ڈالر کی قیمت کو قابو کر لیا اور اسے انتہائی کم سے کم سطح تک لانے میں کامیاب ہو گئے تو لوگ سب بھول کر اسحاق ڈار اور مسلم لیگ کے گیت گانے لگ جائیں گے اور مہنگائی قابو کرنے کے لئے اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیاب کرانے کی ہرممکن کوشش کریں گے اور اگر اسحاق ڈار ایسا نہ کر سکے تو پھر اگلے الیکشن میں عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولے گا ۔

  • ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان آغاز سے ہی تہذیب و تمدن کا مسکن رہا ہے۔جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں وجود میں آئیں، وہیں پہ لوگوں نے بولنا سیکھا۔زبان کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار سیکھا۔ دنیا میں سب سے پہلے زبانوں کے لیے رسم الخط بھی یہیں پہ وجود میں آئے۔ ہندستان لفظ کا اطلاق دراصل جہاں دریائے سندھ کے مشرقی سمت تمام علاقوں پر ہوتا ہے وہیں پہ عربوں نے فارس اور عرب کے مشرقی سمت علاقے کو ہند کا نام دیا۔مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے زیر اثر ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں، مغل مسلمانوں کے پروقار دور میں ہندستان میں موجودہ افغانستان ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے کچھ حصے شامل رہے تو انگریز کے دور میں موجودہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش, ہندستان کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ ہندو قوم کی وجہ سے یہ سرزمین ہندستان نہیں کہلائی بلکہ ہندستان کی مناسبت سے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا گیا اور بعد از ایک مخصوص مذہب کے پیروکار ہندو کہلائے۔

    بہرحال یہ بحث الگ اور مستقل موضوع کی متقاضی ہے۔ عموما تقسیم ہند سے قبل کے ملک کو "ہندستان” جب کہ تقسیم کے بعد والے ملک بھارت کو "ہندوستان” کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اس سرزمین کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سندھو پکارا گیا مگر جب کم و بیش 600 سال قبل مسیح کے زمانے میں ایرانی شہنشاہ نے سندھو ندی اور آگے کی زمینوں پہ قبضہ کیا تو اس سرزمین کو ہند یا ہندو کہہ کر پکارا، کیونکہ ان کی زبان میں حرف "س” نہیں تھا۔بعض احادیث میں بھی اس سرزمین کا نام "ہند” کے نام سے ہی آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس پورے خطے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سکندر اعظم کے زمانے تک ایک ہی نام سے پکارا گیا پھر بعد میں آنے والے فاتحین نے اسے اپنی زبانوں کے لحاظ سے سند، ہند، انڈ کہہ کر پکارا، موجودہ لفظ انڈیا اسی سے نکلا ہے۔ س، ہ اور الف کا استعمال اپنی زبانوں کے حروف کے اعتبار سے کیا۔اور یہاں کے لوگ بھی اسی اعتبار سے سندھو، انڈو یا انڈوس اور ہندو کہلائے۔مغلوں کے دور میں جب ایرانی دربار سے رشتہ داریاں عام ہوئیں تو اس ہند کو فارسی لفظ ستان کے ساتھ ملا کر ملک کا نام ہندستان کر دیا گیا جو صدیوں تک چلتا رہا۔

    انگریزوں کے دور میں معاملات کچھ اس طرح خلط ملط ہوئے کہ ہندستان کو انجانے اور غلط فہمیوں کے ساتھ ہندوستان لکھا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سرزمین کو تاریخی کتب میں کبھی بھی ہندوستان نہیں لکھا گیا، بلکہ ہر جگہ اس کا نام ہندستان ہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت کم لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لفظ کی ہئیت کو برقرار اور قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بہت سے معاملات اس لفظ کی درستی کے ساتھ جڑے ہیں۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی بھی میدان میں تاریخی اعتبار سے کچھ بھی لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو ہندستان لفظ کا اطلاق صرف موجودہ بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر ہوتا ہے۔ جیسے کسی درخت، جانور یا جڑی بوٹیوں کے حوالے سے جب بھی کوئی بات ہندستان کے ساتھ خاص کر کے کہی جاتی تو مراد پورے خطے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف موجودہ بھارت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر چھیڑا جائے تو موہن جوداڑو اور ہڑپہ کے بنا بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب سرزمین ہندستان پر وجود میں آئی، جبکہ یہ دونوں تہذیبیں موجودہ پاکستان میں ہیں۔

    اسی طرح وہ جگہیں جو موجودہ بھارت میں موجود ہیں مگر ان پر لفظ ہندستان بول دیا جائے تو اطلاق پاکستان ، بنگلہ دیش اور موجودہ بھارت پر بھی ہو گا بلکہ بعض معاملات میں تو نیپال اور افغانستان کو بھی شامل کرنے پڑتا ہے کیونکہ بہت سے ادوار میں یہ دونوں ممالک بھی ہندستان میں شامل رہے۔گویا کسی بھی تاریخی معاملے پر حق صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے الگ رہ کر اور دشمنی نبھانے کے باوجود ہر تاریخی چیز پر مشرکہ حق رکھتے ہیں۔

    زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو تقسیم ہند کے بعد صرف لوگ اور زمینیں ہی تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن اور ثقافت بھی تقسیم ہوئی ۔جہاں کھجور اور اردو مسلمان ٹھہریں وہیں پہ ناریل اور سنسکرت ہندو بن گئیں۔ غرض یہ بٹوارہ کسی ایک چیز کا نہیں تھا ہر ہر چیز بانٹ لی گئی، راتوں رات معیار تبدیل ہوئے اور دونوں ممالک ایک ساتھ الگ الگ راہوں پر نئی دنیا کے سفر میں نکلے۔

    اب دونوں ممالک کو خود طے کرنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنا مقام کہاں بناتے ہیں۔مگر افسوس کہ پڑوسی ملک نے اس سفر میں ہمیں کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت نے اس سفر میں جہاں خود کو آگے پڑھایا وہیں ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی پیچھے دھکیلا۔ کبھی انگریز وائسرائے کے ساتھ مل کر بے ایمانی سے خطے کو اس طرح کاٹا کہ ہماری شہ رگ کشمیر ان کے پنجے میں چلی گئی اور ہم کشمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی پانی کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ کبھی تقسیم کے محض ایک سال بعد ہی ہماری ایک پوری ریاست حیدرآباد دکن کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہم سے چھین کر کاٹ ڈالا اور ہم ان سے سامنے ممنا بھی نہ سکے۔ بھارت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پاکستان کو ہر ممکن دباتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور تو اور خود بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل ہندو کے تشدد کا ہی تو رد عمل ہیں۔

    پاکستان بھر میں بھارت کی طرف سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیش بھی کسی سے ڈھکی چھپیں نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا غم آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کا درد ہے اور سقوط سرینگر ہماری نیم رضا مندی سے وجود پا رہا ہے، ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک الگ المناک باب ہے۔ ایسے تمام حالات میں ہم پر بحیثیت قوم کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر قرض ہے۔

    اپنے تاریخی ورثے سے ہاتھ ہٹا لینا صدیوں تک کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی کبھی ممکن نہیں۔ نوجوان طالب علم نسل کبھی کسی جگہ یہ پڑھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ فلاں چیز یا جاندار کا مسکن انڈیا ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید بھارت کے پاس کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے پاکستانی محروم ہیں۔ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بات پاک و ہند اور بنگال کے ہر فرد کے ذہن میں راسخ ہو کہ لفظ "ہندستان” یا "انڈیا” سے مراد بھارت نہیں بلکہ 1947 سے قبل والا برصغیر ہے۔

    اقبال کے اشعار "سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا” اور داغ کے اشعار "ہندستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” پورے برصغیر کے لیے تھے۔
    اپنی اصل سے محبت اور وفا داری کا تقاضا ہے کہ اپنے درد کو سینے میں زندہ رکھتے ہوئے اپنے حق کو سب سے مقدم رکھا جائے۔

  • کیا آپ کا موکل آئین سے مبرا ہے؟ ممبر الیکشن کمیشن کا عمران خان کے وکیل سے استفسار

    کیا آپ کا موکل آئین سے مبرا ہے؟ ممبر الیکشن کمیشن کا عمران خان کے وکیل سے استفسار

    کیا آپ کا موکل آئین سے مبرا ہے؟ ممبر الیکشن کمیشن کا عمران خان کے وکیل سے استفسار
    عمران خان توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی الیکشن کمیشن کے بینچ نے کیس کی سماعت کی،تحریک انصاف کے وکیل فیصل فرید چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ میں کہتا ہوں آپ اور ہم ایک ہی جہاز میں ہیں، عدالت میں دونوں فریق چل کر اپنا موقف بتا دیتے ہیں،فیصل چودھری نے کہا کہ آپ کے نوٹسز میں قانونی سقم ہے،ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ آپ کہتے ہیں آپ کا موکل سابق وزیراعظم ہے،

    تحریکِ انصاف کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ کا حکمنامہ الیکشن کمیشن میں پیش کر دیا ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ بہتر ہے ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں .ممبر خیبر پختونخواہ نے کہا کہ آپ کے موکل کو آئین اور قانون کا احترام کرنا چاہیے،کیا آپ کا موکل آئین سے مبرا ہے؟ فیصل چودھری نے کہا کہ آپ کو اپنے بنائے رولز کے مطابق نوٹس جاری کرنا چاہیے تھے،رولز اور قانون سے آپ بھی مبرا نہیں،احترام کے ساتھ کہتا ہوں آپ بھی رولز کے پابند ہیں،

    ممبر کے پی کے نے کہا کہ کیا آپ کے موکل کو قانون اور آئین کا احترام نہیں کرنا چاہیے، فیصل چودھری نے کہا کہ آپ پر بھی آرٹیکل 5 لاگو ہو سکتا ہے، الیکشن کمیشن کے رولز کو بھی چیلنج کیا گیا ہے،میرے موکل الیکشن سمیت تمام آئینی اداروں کو تسلیم کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کے نوٹسز آئین و قانون کے مطابق نہیں ہیں،

    عمران خان کے وکیل نے ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے تک توہین الیکشن کیس ملتوی کرنے کی درخواست دے دی ،الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں 29 کو سماعت ہے ہم 30 ستمبر رکھ لیتے ہیں، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ آپ دو ہفتے بعد کی تاریخ رکھ لیں، عدالتی فیصلے کے بعد ہم حاضر ہیں،بڑا دل کریں اور تھوڑا زیادہ ٹائم رکھ لیں،،ممبر خیبرپختونخوا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بڑا دل تو بیماری ہوتی ہے الیکشن کمیشن نے 11 اکتوبر تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی،الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ گیارہ اکتوبر کو تینوں رہنما(عمران خان ،اسد عمر اورفواد چودھری) ذاتی حیثیت میں پیش ہوں

    وزیراعلیٰ پنجاب نے زرتاج گل کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان میں کیا اہم منصوبوں کا افتتاح

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    پی آئی اے کے لئے سنہری موقع،دنیا کی بڑی ایئر لائن تباہی کے دہانے پر، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، رمضان گناہوں کے ساتھ ساتھ وبا سے بھی ڈھال ،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری نے اپنی درخواستوں میں کہا تھا کہ شوکاز نوٹس آئین کی شق کے منافی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس توہین عدالت پر کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہے، سزا دینے کے اختیارات صرف اعلیٰ عدالتوں کے پاس ہیں، ماتحت قانون سازی کے ذریعے ایسے آئینی اختیارات الیکشن کمیشن کو نہیں دیے جا سکتے۔ عمران خان اور فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ ایک عدالتی عمل ہے، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن صرف انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کے ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس عدالت یا ٹریبونل کے طور پر کام کرنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے، ایکٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے تحت کسی بھی شخص کو توہین عدالت کے جرم میں سزا یا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2017 ایکٹ کا سیکشن 10 آئین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، لہٰذا توہین عدالت ایکٹ کی دفعات کے تحت ایسے نوٹس جاری نہیں کیے جا سکتے۔

  • نفیراورجبری بھرتی سے بچنے کے طریقے!!! — ستونت کور

    نفیراورجبری بھرتی سے بچنے کے طریقے!!! — ستونت کور

    گزشتہ روز روسی صدر پیوٹن کی طرف سے یوکرین میں حالیہ ہزیمت و پسپائی کے بعد کیے گئے Partial Mobilization کے اعلان نے پورے روس میں کشیدگی کا سماں پیدا کردیا ہے اور روسی نوجوان کسی بھی قیمت پر اس یقینی موت یا معذوری سے بچ کر نکلنا چاہتے ہیں پھر چاہے انہیں عجلت میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر زمینی یا فضائی راستے سے روس چھوڑنا ہی کیوں نہ پڑ جائے چنانچہ گزشتہ روز سے اب تک روس کے سب ہوائے اڈے اور سرحدی کراسنگز ان بیسیوں ہزار لوگوں سے اٹی پڑی ہیں کہ جو جبری بھرتی اور یوکر– ین جنگ میں جھونک دیے جانے سے بچنا چاہتے ہیں !!

    لیکن۔۔۔۔۔

    ہر شخص نہ تو فضائی راستے سے ملک چھوڑ سکتا ہے نہ ہر شخص زمینی راستے سے روس نامی زندان سے نکل سکتا ہے ۔

    چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ نفیر سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل ایک انگلش تحریر لکھ چند یوکرینی دوستوں کو بھیج دوں اس ہدایت کے ساتھ کہ اسے روسی زبان میں ترجمہ کرکے ٹیلی گرام، ویکے ، کوب یا دیگر سوشل میڈیا کے زریعے روسی صارفین تک میں وائرل کرنے کا بندوبست کر لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روسی عوام کو بھرتی ہونے اور یوکرین جنگ میں حصہ لینے سے بچایا جاسکے اور یوکرینی عوام کو ان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

    یہ ایک دلچسپ تحریر ہے چنانچہ سوچا اسے معلومات افزاء تحریر کے طور پر اردو میں بھی پوسٹ کردوں ۔۔۔ یاد رہے اس پوسٹ میں مخاطب بس روسی عوام ہیں ۔

    تو بات کرتے ہیں نفیر اور جبری بھرتی سے بچنے کے طریقوں کی :

    ✓ روس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تاہم اس کی آبادی رقبے کے تناسب سے بہت کم ہے ۔۔ روسی مشرق بعید ، قفقاز، سائبریا اور کوہِ یورال کا اکثر علاقہ انتہائی کم آباد ہے جہاں کئی کئی سو مربع کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں ہزاروں چھوٹے بڑے گاؤں اور بستیاں موجود ہیں ۔۔۔ بھرتی سے بچنے کے لیے روپوشی ایک بہتر راستہ ہے ۔ قفقاز میں روپوش ہونے کا ایک فایدہ یہ بھی ہے کہ اس راستے انسان جارجیاء، آرمینیا یا آذربائیجان بھی فرار ہو سکتا ہے ۔
    تاہم۔۔۔۔ یہ سب علاقے سخت سرد ہیں اور یہاں روپوش ہونے کے لیے انسان کا سخت جان ہونا ضروری ہے۔۔۔ تاہم یہ ناممکن بھی نہیں لاکھوں لوگ ان خطوں میں آباد ہیں۔

    ✓ روسی فوج میں بےپناہ کرپشن ہے ۔ لیفٹیننٹ سے لے کر جنرلز تک 99٪ افسران کرپٹ ہیں ۔۔۔ چنانچہ ڈرافٹنگ کے وقت متعلقہ افسر کو بھاری رشوت کھلا کر خود کو کانسکرپشن کے لیے ‘ناٹ ریکمنڈڈ’ یعنی غیر موزوں قرار دلایا جا سکتا ہے۔۔۔ اس مقصد کے لیے اگر رقم نہ ہو تو بائیک ، موبائل کچھ بھی فروخت کرکے رقم کا انتظام کرنا چاہیے۔

    ✓ اگر بوجوہ کسی افسر کو دام میں لانا ممکن نہ ہو تو پھر میڈیکلی خود کو Unfit قرار دلوائے جانے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں ۔۔۔ مثلاً اگر بازو یا ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو ڈرافٹنگ سے بچا جاسکتا ہے ۔ تاہم قصداً ایسا کر پانا اکثر لوگوں کے لیے بہت مشکل ، تکلیف دہ اور مہنگا سودا ثابت ہوسکتا ہے ۔

    ✓ کورونا وائرس یا ملیریا بھی ایک بہتر آپشن ہے ۔ جس کے لیے خود کو مچھروں یا پھر کورونا کسی مریض سے اتنے کانٹیکٹ میں لانا ہوگا کہ مرض منتقل ہوجائے ۔۔۔ ہیضہ اور ٹائیفائڈ سمیت دیگر چند آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ✓ یا پھر اگر اداکاری کے ماہر ہوں تو خود پر جنون ، شدید ڈیپریشن ، توڑ پھوڑ اور اینزائٹی کی سخت علامات طاری کر لیں ۔۔۔ اتنی کہ کوئی سائیکیٹرسٹ بھی آپ کو متعلقہ مرض یا امراض میں مبتلا قرار دے دے اور اس کی میڈیسنز تجویز کردے ۔۔۔ سائیکٹرسٹ کی پرسکرپشن اور ادویات امید ہے جبری بھرتی سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکیں گی ۔

    ✓ یا پھر ڈرافٹنگ کے وقت کیے جانے والے طبی ٹیسٹوں کو ٹیمپر کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ مثلاً
    یورن ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے کے لیے واش روم جائیں تو کسی پِن وغیرہ سے بازو میں چھوٹا سا زخم لگا کر خون کے ایک دو قطرے اس سیمپل میں شامل کر دیں ۔۔ ٹیسٹ میں جب یورن سیمپل کے اندر خون کی نشاندہی ہوگئی تو آپ کو بھرتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
    یا پھر ۔۔۔۔
    منشیات کا استعمال نہ بھی کرتے ہوں تو عارضی طور پر حیش، اوپیم سمیت کوئی بھی ایسی ڈرگ کا استعمال شروع کر دیں کے جو خون کے ٹیسٹ یا بریتھلائزر میں واضح طور پر آجائے ۔۔۔ کوئی بھی فوج کسی عادی چرسی موالی کو ایک حساس ترین جنگ میں نہیں جھونکا چاہے گی ۔

    ✓ یاد رہے کہ کوئی جرم کرنے اور جیل میں جانے سے آپ بھرتی سے نہیں بچ سکتے کیونکہ روس میں سب سے پہلے جیلوں میں بند قیدیوں کو ہی سب سے پہلے جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے ۔

    ✓ ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈرافٹنگ پر تعینات متعلقہ افسر کو بلیک میل کیا جائے مثلاً اگر اس کا اتا پتا معلوم ہو تو یہ دھمکی دی جا سکتی ہے کہ تم بھی ڈیوٹی پر ہوگے اور میں بھی بھرتی ہو جاوں گا مگر پیچھے اپنے خاندان کی خیر منا کے رکھنا پھر۔ کیونکہ میں کسی کی ڈیوٹی لگا کر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔ اگر افسر کا حدود اربعہ معلوم نہ ہو تو پھر یہ طریقہ کریں کہ چند ساتھیوں سے مل کر ایک ساتھی اسے رشوت دے کر اپنی بھرتی روکے اور اس کا ویڈیو یا تصویری ثبوت لے کر باقی ساتھی اسے بلیک میل کریں کہ ” عین حالت جنگ میں تم رشوت لے کر بھرتی رکواتے پکڑے گئے ہو اب یہ ثبوت افسران بالا کو پہنچ گئے تو کورٹ مارشل الگ ہوگا اور طویل قید الگ۔۔۔ اس لیے شرافت اسی میں ہے کہ ہم سب کی بھی بھرتی رکواؤ۔”.

    اور آخری لیکن سب سے خطرناک طریقہ یہ ہے کہ بھرتی ہو جائیں۔۔ اب اگر تو آپکی ڈیوٹی اندرونِ روس ہی ہے یعنی آپکو یوکرین روانہ کردیے گئے فوجیوں کی ریپیلسمنٹ میں تعینات کیا جا رہا ہے تو روس کے اندر ہونے کی وجہ سے آپ کے زندہ بچے رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔۔۔تاہم۔۔۔اگر آپ کو یوکرین بھیج دیا جاتا ہے تو :

    پہلی فرست میں سرنڈر کر دیں۔

    سرنڈر کرنے کے بعد یوکرینی فوج کے ” رشین لیجن” کو جوائن کر لیں ۔۔ یہ لیجن ان رووسی فوجیوں پر مشتمل ہے جو یوکرین کے حامی ہیں اور اس جنگ میں یوکرین کی طرف سے متحارب ہیں ۔۔۔رشین لیجن میں شمولیت کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو فی الفور یوکرین کی شہریت مل جائے گی اور آپ کو قیدیوں کے تبادلے میں واپس روس نہیں بھیجا جائے گا اور اس طرح آپ سرنڈر کے جرم کی سزا بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے۔۔۔ مزید یہ کہ رشین لیجن کے سپاہیوں کو فرنٹ لائن پر لڑنا نہیں پڑتا بلکہ ان کا کام دیگر والنٹیئرز کو ٹریننگ دینا ہے ۔

  • آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ!!! — سیدرا صدف

    آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی بالرز رینکنگ دیکھیں تو دس میں سے شاید سات پوزیشنز اسپنرز کے پاس ہیں۔۔۔وہ وقت کب کا ختم ہو چکا جب اسپنرز ٹی ٹوئینٹی میں غیر موثر سمجھے جاتے تھے۔۔۔اسپنرز کی اہمیت تسلیم ہوئی اور اب وہ وقت ہے کہ اچھا اسپنرز کسی بھی کپتان کے لیے اہم ترین ہتھیار ہے۔۔۔پاور پلے میں اسپنرز رنز روک رہے ہیں, وکٹس لے رہے ہیں۔۔۔

    پاکستان نے ہمیشہ بہترین اسپنرز اور اسپنرز کو کھیلنے والے بہترین بلے باز پیدا کیے ہیں لیکن مڈل آرڈر کا اسپنرز کے سامنے لگاتار ایکسپوز ہونا تشویشناک ہے۔۔

    شاید اسکی وجہ مڈل آرڈر میں ٹیلینٹ کا فقدان ہے۔۔۔مڈل آرڈر میں بہت زیادہ چوائسز نہیں ہیں۔۔۔کئی اسپنرز باؤلنگ کا آغاز بھی کرتے ہیں لیکن پرانے بال کے ساتھ پچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنا مڈل آرڈر میں ہی بہتر آتا ہے۔۔۔اور ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں بھی اب دیکھا جاتا ہے کہ سلو پچز پر دس اوور بعد ہی بال رک کر بلے پر آتا ہے۔۔

    ڈومیسٹک اور پی ایس ایل میں ٹاپ بلے باز پہلی دو پوزیشنز پر ہی سامنے آ رہے ہیں۔۔ایسا لگ ریا ہے کہ سب کو ہی اوپنر بننا ہے۔۔۔۔مڈل آرڈر میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔۔۔جو چند اچھے بلے باز ہیں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔۔

    سبھی اوپنرز بیک وقت اوپننگ نہیں کر سکتے ہیں پھر پوزیشن ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے جیسے شان مسعود اور حیدر علی کی ہوئی ہے۔۔۔۔ اب انکو اتنے میچز ضرور دینے ہوں گے جس کے بعد پرفارمنس کا جائزہ لیا جا سکے۔۔۔امید اور دعا ہے کہ دونوں ہی حل ثابت ہوں۔۔۔

    اچھا بلے باز ٹی ٹوئینٹی میں کسی بھی نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن وہ اچھا بلے باز ہر کوئی نہیں ہوتا ہے۔۔۔نمبر تین, چار اہم پوزیشن ہے۔۔

    لوئر آرڈر میں ہٹر بھی چاہیے لیکن یہ شرط نہیں ہونی چاہیے کہ ان ہٹرز کو دو اوورز سے پہلے نہ آنے دیا جائے۔۔۔ایسی شرطیں گلی محلے کے کھیل میں اچھی لگتی ہیں۔۔۔اچھے لوئر آرڈر بلے باز کا کام ہے کہ میچ کو بنائے اگر بنا ہوا ملا ہے تو فنش کرے۔۔۔۔

    دو سال پہلے اوپننگ پوزیشن سر درد تھی تو اب مڈل آرڈر ہے۔۔کیا اس وقت ایک کامیاب جوڑی کو ڈسٹرب کرنے کا رسک لینا چاہیے۔۔۔؟؟

    یعنی بابر یا رضوان میں سے ایک ون ڈاؤن آئے۔۔۔میرے خیال سے کامیاب اوپننگ جوڑی کو ڈسٹرب کیے بنا مڈل آرڈر کا حل نکالنا چاہیے تاکہ اگر ٹاپ آرڈر فیل ہو تو میچ سنبھالا جا سکے۔۔۔۔۔شعیب ملک, سرفراز احمد اور حارث سہیل کو مڈل آرڈر میں کردار دیے جا سکتے تھے۔۔۔حارث سہیل کی واپسی کے بابت غیر مصدقہ اطلاعات تو ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔۔۔

  • مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمانوں میں اُڑنے کی خواہش انسانوں میں ہمیشہ سے رہی۔ انسان جب اپنے ارگرد پرندوں کو اُڑتے دیکھتے تو اُن میں ایک تجسس سا جاگتا کہ اگر وہ ہوا میں اُڑیں گے تو کتنی خوشی، کتنی آزادی محسوس کریں گے۔ انسان ارتقائی طور پر دو ٹانگوں پر چلنے والا جانور بنا۔ قدرت نے انسان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ اُڑ سکے بلکہ چل سکے یا دوڑ سکے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کی یہ صلاحیت دیگر جانوروں میں بھی کسی نہ کسی درجے تک پائی جاتی ہے مگر انسانوں کی یہ خاصیت ہے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کے ارتقاء میں ابتدائی فوائد انسان کو یہ حاصل ہوئے کہ وہ اونچا ہو کر درختوں سے پھل توڑ لیتا، اسکے ہاتھ اب چلنے سے آزاد ہو گئے تو یہ اوزار بناسکتا تھا، ہاتھوں سے اشارے کر کے بات سمجھا سکتا تھا۔

    مگر دو ٹانگوں پر چلنے کے نقصانات بھی تھے۔ آج کتنے ہی لوگ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنوں اور کمر کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان کے پورے وجود کا وزن گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے۔چار ٹانگوں پر چلنے والے جانوردوں کی ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ زور نہیں آتا۔ مگر خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔

    اُڑنے کی صلاحیت نہ ہونے مگر اُڑنے کی خواہش ہونے نے انسان کے اُڑنے کے خواب کو صدیوں زندہ رکھا۔ماضی میں کئی افراد نے پرندوں کی طرح مصنوعی پر لگا کر اُڑنے کی کوشش کی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ بالآخر اٹھارویں صدی میں انجن کی ایجاد اور اُڑنے کی سائنس کو سمجھ کر انسانوں نے جہاز بنانے کی کوشش کی۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے دو بھائیوں ولبر رائٹ اور اورویل رائٹ نے پہلے انجن والے جہاز کی اُڑان بھری اور انسانوں کے صدیوں کے اُڑ نے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ اس اُڑان نے انسانوں کو بُلندیوں پر جانے کا حوصلہ دیا۔

    اتنا کہ وہ زمین کی قید سے نکل کر خلاؤں میں جانے کا سوچنے لگا۔ یہ خواب بھی حضرتِ انساں نے اپنی جرات اور عقل سے پورا کیا۔ بڑے بڑے راکٹ بنا کہ خلاؤں کا رخ کیا۔ دوسری دنیاؤں پر جھنڈے گاڑے اور وہاں رہنے کے خواب دیکھنے لگا۔

    آج انسان عظمتوں کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے۔ کائنات کے راز کھولنا چاہتا ہے اور زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بسنا چاہتا ہے۔اسی کوشش میں وہ مریخ تک اپنے بیسیوں روبوٹ بھیج چکا ہے۔ مگر کامیابیوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ایک دن اس سرپھرے انسان نے سوچا کہ کیا مریخ پر بھی اُڑا جا سکتا ہے؟؟؟کیونکہ مریخ پر زمین کیطرح کی کثیف فضا نہیں۔ مریخ کی فضا بےحد باریک ہے اور اس میں محض کاربن ڈائی آکسائڈ ہے ۔ یہ زمین کی سطح سمندر کی فضا کے 1 فیصد جتنی باریک ہے ۔اور وہ جانتا تھا کہ ہوا میں اُڑنے کے لیے ہوا کا ہونا شرط ہے۔

    مگر سائنس نے اسے بتایا کہ گو ہوا کم ہے پر ہے تو صحیح۔ سو حضرتِ انساں کی نسل کے کچھ ذہن لوگ اس کام میں جُت گئے۔ عقل استعمال کی گئی اور بالآخر ایک ایسا چھوٹا سا ہیلی کاپٹر بنایا گیا جسکا وزن محض 1.8 کلو گرام تھا۔ یہ سولر پینلز سے چلتا تھا اور اسکے پر اتنے بڑے اور اتنے تیزی سے گھومتے کہ یہ باریک فضا میں بھی اُڑ سکتا۔ اسے زمین پر مریخ کی فضا کے سے حالات پیدا کر کے ٹیسٹ کیا گیا۔ اسے نام دیا گیا Ingenuity. بالآخر اسے 30 جولائی 2020کو ناسا کی بھیجی جانی والی ربوٹک روور Preservernce کے "پیٹ” سے باندھ کر سفرِ مریخ پر بھیج دیا گیا۔

    تقریباً 6 ماہ کی مسافت طے کرتا یہ ہیلی کاپٹر Ingenuity جب روور کیساتھ مریخ کی سطح پر اُترا تو اسکے بنانے والوں کو بے تابی سے انتظار تھا کہ یہ کب اُڑے گا۔

    پھر ایک دن ہیلی کاپٹر کو روور سے الگ کیا گیا اور اسکی زمین پر بیٹھی ناسا کی ٹیم نے مکمل جانچ پڑتا کی۔ اسکا سافٹ وئیر چیک کیا۔ اسکی بیٹری کا لیول دیکھا اور پھر طے ہوا کہ 19 اپریل کو اسے مریخ پر اُڑایا جائے گا۔

    19 اپریل کا دن، اس ہیلی کاپٹر کو زمین سے اُڑنے کی کمانڈ بھیجی جا چکی تھی۔رووور میں لگے کیمرے اور ہیلی کاپٹر کے اندر موجود کیمرے اس منظر کو محفوظ کرنے کو مکمل تیار تھے۔
    1,2,3..

    ہیلی کاپٹر کے اسکی ننھی جسامت کے مقابلے کئی گنا بڑے پر تیزی سے ہلتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مریخ کی فضا کو چیرتا ہوا اوپر اُٹھنے لگتا ہے۔تقریباً 10 فٹ کی بلندی تک پہنچ کر یہ مڑتا ہے اور واپس مریخ کی سطح پر اُتر جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ٹھیک 39.1 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہچھوٹی فلائٹ ایک حضرتِ انساں کا ایک بڑا قدم تھی جس نے ایک نئے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ دواری دنیاؤں پر اُڑ ے کا باب۔ آج انسان پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر اُڑنے کے قابل ہوا!!.

    وہ جو اس لمحے کی اہمیت سے واقف تھے، اُنکی آنکھیں خوشی سے نم تھیں۔انسان نے آج اُڑنے کے خواب سے بھی بڑھ کر حقیقت کو پا لیا تھا۔

    عقل اپنی رفعتوں کو پہنچ چکی تھی۔

    کائنات حیران تھی!!

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکوں.

    دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. بعض کجیاں واضح ہوتی ہیں اور بعض غیر واضح. بعض ہمارے معاشرے میں بآسانی تسلیم کر لی جاتی ہیں. جیسے اپنی مثال دیتی ہوں. میری نظر آٹھ سال کی عمر میں ہی کمزور ہوگئی تھی. امی نے فوراً ہی میری آئی سائٹ چیک کروائی. ڈاکٹر سے پوچھ کر ہر وہ خوراک کھلائی جس سے نظر تیز ہو. یہ زیادہ تر گھروں میں عام رویہ ہوتا ہے. اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جنس مخالف کی طرح حرکتیں کرتا/ کرتی ہے، تو گھر والوں کو اس، کا سدباب کرنا چاہیے. یہاں پہ لڑکے کی مثال اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ مثالیں ہمارے اردگرد زیادہ ہیں. اگر کسی گھر میں بہنیں زیادہ ہیں تو اکلوتا لڑکا ہر وقت ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر لڑکیوں کی عادات و حرکات نادانستگی میں اپنا لیتا ہے اور اگر شروع میں ہی اس کا سدباب نہ کیا جائے تو عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں. پھر ایسے لڑکے جانِ محلہ کہلاتے ہیں. ان کو ایکسپلائٹ کرنے میں خاندان اور محلے کے اوباش اور بدفطرت لوگوں کا بہت بڑا، ہاتھ ہوتا ہے.

    یہاں بات مکمل مرد اور عورت کی ہو رہی ہے خواجہ سراؤں کی نہیں خواجہ سراؤں کی اس وقت جو حالت ہے اس کے زمہ دار ہم سب ہیں. ہم نے انہیں تفریح طبع کا سامان بنا کر رکھ دیا. ان کا پورا حق ہے کہ انہیں بھی ہر طرح کے مواقع ملیں جو کسی بھی مرد یا عورت کو ہمارے معاشرے میں حاصل ہیں. اس کے لیے ہر قسم کی قانون سازی ضروری ہے لیکن ان کی آڑ میں جو مزموم سازش رچائی جا رہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی اہم ہے.

    اس قانون سے وہ لوگ فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں جو مکمل مرد اور عورت ہیں لیکن اپنی جنس سے خوش نہیں. صاف لفظوں میں بیان کیا جائے تو ان کو ہم جنس پرستی کی آزادی چاہیے. میں یہ نہیں کہتی کہ یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کیا جو گناہ اور جرم ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کو قانونی جواز اور اجازت دے دیں.

    جس فعل کے بارے میں قرآن پاک میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے. آپ اس کو شخصی آزادی اور ترجیح کے نام پر حلال نہیں کر سکتے. ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں دین کی معمولی شد بدھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ حرام ہے. جو کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں.. اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے. اگر اس کو قانونی استحکام مل گیا تو سوچییے کیا حشر ہوگا. یہ لمحہ فکریہ ہے. اس پہ آواز اٹھانی ہے. یہ ہماری نسلوں کی بقا اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے.

  • پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    پاکستان میں بننے والے ٹرانس جینڈر ایکٹ پر تفصیلی تحریر — شہیر احمد

    خواجہ سرا یا مخنث ایک قابلِ رحم اور قابلِ توجہ جنس ہے، ظاہر ہے کہ ان کی تخلیق میں ان کا اپنا کوئی کردار یا اپنی کوئی خامی نہیں، وہ بھی اللّٰہ کی مخلوق ہیں اور اس لحاظ سے بد قسمت ہیں کہ ان پر گھر والوں کی محبتوں اور توجہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، بہن بھائیوں میں وہ اچھوت بن جاتے ہیں، باپ اور دیگر رشتہ دار ان کی وجہ سے شرمندہ سے رہتے ہیں، ایسے بچے کسی حد تک ماں کا پیار تو سمیٹتے ہیں، لیکن وہ تعلیمی اداروں میں جا سکتے ہیں نہ اپنی خاندانی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں، گھروں میں ان کو علیحدہ رکھا جاتا ہے، بڑے ہوں تو ان پر صرف ناچ گانے یا بھیک مانگنے کا ہی راستہ کھلا رکھا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں ان کے انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے

    2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں پاکستان قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوا، سپیکر ایاز صادق اور صدر ممنون حسین کی منظوری سے پاس ہوا، ڈرائیونگ لائسنس بنانے اور ہراسانی سے تحفظ کی سہولت ملی اور ان سے بھیک منگوانے والے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی متعین کی گئی

    چونکہ ایسے قوانین کے پیچھے بیرونی عطیات پر چلنے والی این جی اوز ہوتی ہیں اور وہ غیر ملکی ایجنڈے لے کر چل رہی ہوتی ہیں، اس لئے بظاہر خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے اس ایکٹ کی آڑ میں دو ایسی کلاز رکھی گئیں جس سے اس قانون کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے گئے اور خواجہ سراؤں کے بجائے یہ قانون ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بن گیا

    ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے، اس تہذیب کا نام ہے +LGBTQ یعنی لزبین، گے، بائی سیکسوئیلی اور ٹرانس جینڈر۔ یہ ایک کمیونٹی ہے، ایک منفی کلچر ہے، ایک بد تہذیبی ہے۔ مکمل جنسی آوارگی اور بے راہ روی کے شکار اور دلدادہ اس کلچر کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ انہیں بھی ایک سیکس گروپ کے طور پر لیتے ہیں

    چنانچہ 2018ء کے ایکٹ کی ایک شق میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ہے، اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں، یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کروا سکتا ہے اور کوئی سی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے، ہم جنس پرستی اور ایک ہی جنس کے افراد کی باہمی شادی کا قانونی راستہ کھول دیا گیا ہے، اب قانون کوئی گرفت نہیں کر سکتا، کوئی بھی مرد عورت کا قومی شناختی کارڈ بنوا کر عورتوں کی سیٹ پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے، خواتین کے تعلیمی اداروں میں ٹیچر لگ سکتا ہے، لیڈیز واش روم استعمال کر سکتا ہے، خواتین کی مجالس میں جا سکتا ہے، اور کوئی بھی عورت مرد بن کر وراثت میں اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کے برابر لے سکتی ہے

    اب یہ پارلیمنٹ کی دیگر مذہبی جماعتوں کے ممبران، مذہبی تنظیموں، سماجی و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، وارثانِ منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ایکٹ میں ترمیم کو منظور کرنے اور نادرا کے ڈیٹا میں خواجہ سرا کی جنس لکھنے سے پہلے طبی معائنے کو لازمی کرنے کیلئے حکومت، ممبرانِ پارلیمینٹ اور سیاسی جماعتوں پر زور دیں کہ اس تہذیبی شب خون کا راستہ روکیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ پہلے مرحلے میں اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کرے کہ وہ بہرحال ایک آئینی ادارہ ہے

    اور یہ محض خدشات نہیں ہیں بلکہ 2018ء کے بعد سے تین سال میں نادرا کو جنس تبدیلی کی تقریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جبکہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی، خواجہ سراؤں کی کل 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے پیش کئے گئے ترمیمی بل میں مطالبہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی جنس کے تعین کو میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ یعنی مرد سرجن، لیڈی سرجن اور ماہرِ نفسیات پر مشتمل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ یہ مخنث ہے اور اس کا اندراج کس طرف ہونا چاہیے۔ خنثی مرد، خنثی عورت اور خنثی مشکل فقہی اصطلاحات ہیں اور اس کے باقاعدہ شرعی اصول و ضوابط ہیں

    خود برطانیہ میں 2004ء کے جنسی تعین کے ایکٹ میں طبی معائنے اور طبی سرٹیفکیٹ کو لازم قرار دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018ء کے لحاظ سے کسی میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر اپنی صوابدید پر مرد سے عورت یا عورت سے مرد بننے اور تبدیلی جنس کا آپریشن کروانے کی کھلی چھٹی ہے اور اس کے نقصانات واضح ہیں

    (یہ تحریر لائرز آف پاکستان کی مدد اور نادرا کی تصدیق کے ساتھ لکھی گئی ہے)

  • برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ میں ہندو مسلم فسادات — سیدرا صدف

    برطانیہ کے شہر Leicester میں ہندو مسلم فسادات کی لہر چل رہی ہے۔۔۔مبینہ طور پر فسادات کا آغاز 28 اگست کو ہونے والے پاک بھارت مقابلے سے ہوا۔۔۔۔برطانوی حکومت بھی شاید پوری طرح انجوائے کر کے حالات قابو کرے گی۔۔۔

    میں بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی اس وحشیانہ سوچ کی مخالف ہوں جس کے تحت پاک بھارت مقابلوں کو بزنس اور میڈیا جنگ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔۔۔۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کھلاڑی اس گھٹیا سوچ سے تنگ باہمی محبت کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔

    سادہ اصول ہے۔۔بھارت کو اگر پاک بھارت مقابلوں سے پیسہ کمانا ہے تو باہمی سیریز کرائے۔۔پاک بھات میچز رکھنے کے لیے ٹورنمنٹس کا فارمیٹ خراب کرتے ہیں۔۔غیر منصافانہ گروپس بنائے جاتے ہیں۔۔۔یہ تو وہ زیادتی ہے جو کھیل کے ساتھ کی جا رہی ہے۔۔۔

    دوسری زیادتی پاک بھارت میچ کو جنگ کی صورت پیش کرکے ہائپ کریٹ کرنا ہے۔۔اور اس خباثت میں 100 فیصد ہاتھ بھارتی حکومت اور میڈیا کا ہے۔۔۔پھر اگر ایک جانب سے لگاتار اشتعال ہو تو ردعمل فطری ہے۔۔۔مودی حکومت ہندو مسلم خلیج کو بہت بڑھا چکی ہے۔۔۔مودی حکومت میں "مذہب” اہم ترین فیکٹر بن چکا ہے۔۔۔یہ ہی وجہ ہے پاک بھارت مقابلوں میں مذہب بھی ٹرولنگ کا موضوع بن گیا ہے۔۔۔

    پاک بھارت ورلڈکپ 2021 میچ کے بعد شیخ رشید نے جو بیان دیا اسکو کسی نے سپورٹ نہیں کیا تھا۔۔لیکن کیا شیخ رشید کا بیان نکال دیں تو سب امن ہے۔۔؟آغاز کہاں سے ہوا ہے اور اسے لگاتار ہوا کون دے رہا ہے۔۔؟

    سوشل میڈیا پر پاک بھارت میچ سے پہلے اور بعد میں انتہا پسند بھارتیوں کا لب و لہجہ انتہائی گستاخانہ ہوتا ہے۔۔۔باقاعدہ گینگ کی صورت تبصرے کرتے ہیں۔۔ٹرینڈز بناتے ہیں۔۔۔۔مذہب کو ملوث کرنا انکے نزدیک عام بات ہے۔۔۔اِس قسم کے تبصرے ہوتے ہیں کہ خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔

    جینٹلمین گیم اب باقاعدہ فساد کا باعث ہے۔۔۔دونوں ملکوں کی سمجھدار عوام کو چاہیے طاقتوروں کے ہاتھوں میں دوبارہ نہ کھیلیں۔۔۔تقسیم برصغیر سے بھی اگر سبق نہیں لیا تو کیا فائدہ۔۔۔۔

  • بات سے بات — عمر یوسف

    بات سے بات — عمر یوسف

    میرے ایک دوست نے کہا کہ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے متحدہ ہندوستان کو آفر کی کہ تمہارا نگران میں ہی رہتا ہوں اندرونی معاملات میں تم آزاد ہو جیسے چاہو انجام دو ۔

    اگر متحدہ ہندوستان یہ آفر قبول کرلیتا تو آج ہم دیگر اقوام کی طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے اور دولت کی مساوی تقسیم ہوتی ۔

    کیونکہ آج بھی کچھ ممالک برطانیہ کے ماتحت ہیں لیکن ان کی معاشی حالت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ بڑے احسن انداز سے ان ممالک کے وسائل کی کمی کے باوجود معاملات انجام دے رہا ہے ۔

    شاید یہ سوچ بھی ذہن میں آئے کہ نگرانی کے بدلے وہ ہم سے مال و زر بھی لیتا ۔

    تو اس شبہ کا ازالہ یوں ہوگا کہ اگر وہ کچھ لے بھی لیتا تو بدلے میں نظام تو بہتر رکھتا ۔ جب کہ جتنا اس نے لینا تھا اس سے سو گنا زیادہ ہمارے کرپٹ سیاستدان ہم سے لے چکے ہیں ۔

    معاشی حالات کی بات کی جائے تو یہ بات دل کو لگتی ہے ۔

    دوسری طرف مذہب پسند علماء و عقلاء کا یہ خیال ہے کہ ایسا اگر ہوجاتا تو اسلام کو پنپنے کا موقع نہ ملتا یعنی اسلامی غلبہ و قوت انگریز کی ماتحتی میں ممکن نہ ہوتے اور اسلام مغلوب ہی رہتا ۔

    مذہبی علماء کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ انگریز سامراج کی تاریخ تو اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہی مشتمل ہے ۔

    لیکن یہ نکتہ نظر بھی قابل تردید نہیں کہ موجودہ مغربی افکار سیکولر سوچ پر مبنی ہیں اور ہر ایک کو اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینے پر زور دیتے ہیں لہذا آج کا دور میں ایسا نہ ہوتا ۔

    دونوں طرح کے موقف سامنے آنے کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کسی بھی چیز کے بارے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ مخصوص حالات کے زیر تاثر دیتا ہے ۔ مثلا معاشی حالات ٹھیک نہیں تو اس صورت حال میں ایسے نظام کو سپورٹ کیا جائے گا جس میں معیشت کے استحکام کی یقینی کیفیت سامنے آرہی ہو لیکن لاشعوری طور پر حالات کے دیگر کئی پہلو تلف ہوجائیں گے ۔

    اب علماء بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں وہ اس طرح کہ افراد تو افراد اقوام بھی تعصب کے جراثیموں سے پاک نہیں ہوسکتی ۔ وقتی مصلحت کی خاطر شاید کہ جاذب قلب پالیسیاں بنائی جاتی ہوں لیکن اگر حالات غیر موافق ہوجائیں تو یہ ساری پالیسیاں ڈھیر ہوجائیں گی ۔

    لہذا پاکستان کو نعمت گردانتے ہوئے شکر گزاری اس انداز سے کی جائے کہ ملک تمام پہلووں سے ترقی کی جانب گامزن ہو ۔

    اس کے برعکس ماضی کی دلفریب مگر بوگس باتوں کو یاد کرنا شکوہ و شکایت کے سوا کچھ نہیں ۔