Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپکی شادی کی ویڈیو بنی ہے جس میں آپ ایک کسی ہوئی شیروانی اور کُلے میں پھنسے کیمرے کو دانت دکھا رہے ہیں۔

    کھانا شروع ہوتا ہے تو اپکا کوئی رشتہ دار بوٹیوں پر ٹوٹتا ہے۔ کیمرے اس متوقع حملے کو اپنی میموری میں محفوظ کر لیتا ہے۔ دودھ پلائی کی رسم میں آپکی مونچھوں پر دودھ کی ایک لکیر لگی ہے اور کیمرا اسے بھی محفوظ کرتا ہے۔

    تین چار سال بعد آپ اس فلم کو اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے پلئیر پر چلاتے ہیں تو کیا آپ روشنی کی رفتار سے بھی تیز جا کر اپنی شادی کے سانحے تک پہنچ گئے ہیں؟ نہیں ناں۔ وجہ یہ کہ آپ ایک محفوظ شدہ شے کو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے نکال کر دیکھ رہے ہیں۔

    ایسے ہی آپکے دماغ میں بھی کئی خیالات اور میموریز روز بنتی ہیں۔ آپ سورج کو خیال میں تصور کر لیتے ہیں تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکے خیال کی "شپیڈ” روشںی کی رفتار سے زیادہ ہے؟ نہیں کیونکہ آپ اپنی میموری میں سے ایک چیز کو ویسے ہی نکال کر تصور کر رہے ہوتے ہیں جیسے شادی کے سانحے کی فلم کو کمپیوٹر پر۔

    کیا خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار سے تیز ہو سکتی ہے؟

    اس سے پہلے دو چیزیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اول کائنات میں کسی بھی انفارمیشن کی تیز سے تیز رفتار روشنی کی رفتار ہے۔ یہ کائنات کی حد رفتار ہے اس سے زیادہ رفتار پر کوئی انفارمیشن نہ بھیجی جا سکتی ہے اور نہ ہی موصول کی جا سکتی ہے۔

    دوم: انسانی دماغ نیورانز کا مرکب ہے۔ نیورانز دماغی خلیے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ برقی اور کیمیائی سگنلز دراصل چارچڈ پارٹیکلز جیسے کہ آئیز سے بنتے ہیں۔ اور سائنس یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی مادہ یا مادی ذرات روشنی کی رفتار یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کر سکتے۔

    اب جب آپکو یہ دونوں باتیں سمجھ آ گئی ہیں تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار یا اس سے تیز نہیں ہو سکتی۔ مگر خیال کی کتنی سپیڈ ہو گی؟ اسکا جواب اتنا سادہ نہیں کیونکہ یہ دماغ میں نیورانز کے کمیونکیشن پر منحصر ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خیال کی سپیڈ چند ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔

  • آؤ کچھ نیا کر جائیں —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آؤ کچھ نیا کر جائیں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے۔۔۔“وقت سے پہلے تیاری”۔۔۔۔تاہم اب تک این ڈی ایم اے، فیڈرل فلڈ کمیشن یا واپڈا سمیت کوئی بھی ادارہ بارش یا سیلابی پانی کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرکے مستقبل کی پیش بندی کے لئےکسی بھی قسم کی مفید اور فوری قابل استعمال معلومات سامنے نہیں لائے۔ محکمہ موسمیات بھی ڈیٹا بیچنے کے چکر سے نکل کر مفاد عامہ کے لئے اسے پبلک اور قابل رسائی نہیں کرسکا۔

    دوسری طرف سیلابی نظام معیشت خوب پھل پھول رہا ہے۔ نقصانات کے اعدادوشمار 30 ارب ڈالر کا ہندسہ بتا رہے ہیں۔ ساہوکار خوش نما عالمی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے روپ میں قرض دینے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ہماری پٹاری میں اس قرض کو خرچ کرنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبے نہیں۔ الماریوں میں کئی سالوں سے پڑے پی سی ون کی جھاڑ پونچھ کرکے کنکریٹ، مٹی اور پتھر سے بننے والے منصوبوں پر قرض کی رقم خرچ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔تاہم عوامی بھلائی کے لئے اہم منصوبوں کا فقدان ہے جن پر اصل توجہ ہونی چاہیے۔

    غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔

    ۱-سیلاب کا پیشگی اطلاعاتی اور فوری ردعمل کا نظام

    زلزلے یا کووڈ کے برعکس سیلاب ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کی اب جدید نظام پیمائش کے ذریعے قبل از وقت پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ بہت سے کمپیوٹر ماڈل اور سیٹیلائٹ ڈیٹا نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ خود ہمارے ہاں محکمہُ موسمیات اس سال طوفانی اور سیلابی صورت حال کی پیش گوئی دو ماہ پہلے ہی مئی کے اوائل میں کر چکا تھا۔تاہم یہ ایک بہت سطحی انداز میں کی گئی اور متعلقہ ادارے ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے مزے لینے میں مصروف تھے اور اس سے صرف نظر کر گئے۔پاکستان میں ایسا نظام دریائی سیلاب کی پیشگوئی کے لئے تو کسی حد تک کام کر رہا ہے لیکن دریائی نظام سے باہر اس کا وجود نہیں۔ اس سال کوہ سلیمان، کیرتھر رینج اور شمال مغربی بلوچستان سیلاب کا نشانہ تھے جو کہ انڈس روور سسٹم باہر ہیں۔

    ۲- محکمہ موسمیات کے نظام پیمائش کو جدید بنانا اور اس کی پہنچ کو بہتر بنانا

    محکمہ موسمیات کے پاس موجود بیش تر ریڈار اور آلات وقت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب کہ دنیا میں اس وقت سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے کئی ماہ پہلے موسمیاتی پیش گوئی کرنا ممکن ہوچکا لیکن ہمارے ہاں کوہ سلیمان اور شمالی بلوچستان کی سیلابی بارشوں کو وقت سے پہلے نہ پکڑا جاسکا۔ ژوب کے بعد محکمے کا اگلا موسمیاتی اسٹیشن ہی تین سو کلومیٹر دور کوئٹہ یا بارکھان میں ہے جب کہ سیلابی تباہی درمیان میں قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی اور ہرنائی وغیرہ میں ہوتی رہی۔لہذا موسمیاتی اسٹیشنوں کا نیٹ ورک بڑھانا ہوگا اور عوامی مفاد میں پچھلے ۷۵ سالوں کا موسمیاتی ڈیٹا پبلک اور فری اور ہر کسی کے لئے قابل رسائی کرنا ہوگا۔

    ۳- ملکی سطح پر فلڈ میپنگ ، فلڈ زوننگ اور فلڈ زون بائی لاز

    ملک کےسیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔پورے ملک کی فلڈ زوننگ ہونی چاہئے اور تمام انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے فلڈ زون بائی لاز بننے چاہئیں۔ تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔ سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔ سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں۔

    ۴۔ قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا مقامی سطح تک پھیلاؤ

    قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا نظام کم ازکم تحصیل یا ٹاون کی سطح پر فوری طور پر استوار کیا جائے۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔ مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    ۵۔آفت سے پہلے بچاو کا انتظام

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں مقامی تربیت یافتہ لوگ اور رفاہی تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    ۶-فلڈ ریسکیو اینڈ ریلیف ایپ

    آئی ٹی کی جدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی ایپ لانچ کی جائے جوکہ سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرسکے اور پانی سے بچاو کے لئے راہنمائی کرے۔ اس ایپ میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سپورٹ کریں گے۔

    ۷- سیلاب موافق عمارتیں

    سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کی سطح سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ ک جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    ۸۔ ریسکیو کاموں میں جدت اور مقامیت

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر پور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔ آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کے مستقل راستوں کی باقاعدہ نشاندہی ہو۔

    ۹۔ تربیتی پروگرام

    این ڈی ایم اے , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    ۱۰۔ مستقبل کی عارضی پناہ گاہیں

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے این ڈی ایم اے کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں اونچی اور محفوظ جگہوں پر قائم خیمہ بستیوں کی جگہوں کو باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔ حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    ۱۱۔ موبائل ہسپتال اور موبائل صاف پانی

    سیلابی پانیوں میں گھرے لوگوں تک صحت اور خوراک پہنچانا سب سے مشکل مگر اہم کام ہے اور موبائل ہسپتال اور صاف پانی کے یونٹ سب سے موثر اور وسیع الاثر ثابت ہوتے ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرز پر موٹر سائیکل بردار پیرا میڈیکل سٹاف اس معاملے میں سب سے اہم ہیں۔ اس معاملے میں الخدمت اس سال بھی کام کر رہی ہے لیکن اسے حکومتی سطح پر پھیلانا ہوگا اور بلوچستان ، چولستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے لئے تو یہ نظام سارے سال کی بنیاد پر استوار کر دینا چاہئے۔

    موسمیاتی تبدیلی کا حل اس آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے اوراپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئیں اور ریسکیو، ریلیف دیا اور اب بحالی کے کانوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اگلے سیلاب سے نپٹنے کی تیاری کون کر رہا ہے؟؟ آؤ کچھ نیا کر جائیں۔

  • اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    بے شک ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہماری جلد سے ہر منٹ ہزاروں مردہ سیل جھڑ کر گر رہے ہوتے ہیں. جسم ان کی جگہ جلد کے نئے سیلز بنا رہا ہوتا ہے. اللہ رب العزت نے ہمارے جسم میں یہ ایک خودکار نظام بنایا ہے. شُکر کریں اللہ نے روزانہ کی یہ مرمت ہمارے ذمہ نہیں لگائی ورنہ تو آج کا کام کل اور کل کا پرسوں پر چھوڑ کر ہم سب بھوت بن چکے ہوتے.

    گاڑی بھی جب سڑک پر چلتی ہے تو اسے ڈینٹ بھی پڑتے ہیں خراشیں بھی آتی ہیں اور بدقسمتی ہو تو ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں. شکر ہے ہم میں کچھ لوگ ڈینٹر پینٹر بن گئے یہ کاریگر ایسے ہیں کہ گاڑی کو دوبارہ وہی شکل دے دیتے ہیں جیسے نئی گاڑی ہو. ورنہ سڑکوں پر کباڑ دوڑ رہا ہوتا.

    کسی بھی ڈینٹر پینٹر استاد سے پوچھیں آپ کے اوزار میں سے اہم اوزار کیا ہے تو وہ آپ کو جو چند اوزار دکھائے گا اس میں ریگمال ضرور ہوگا. یہی ریگمال ہماری شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے. تکلیف تو ہوتی ہے لیکن اپنی مرمت کیلئے پہلے ہمیں اپنی سطح صاف کرنی ہوتے ہے ہموار کرنی ہوتی ہے. تب ہی اس پر وہ نیا رنگ چڑھتا ہے جو بے جوڑ نہ ہو.

    کچھ کام اللہ نے ہمارے ذمہ نہیں لگائے. ہم اپنے سیلز کی مرمت خود ہر منٹ نہیں کر سکتے. لیکن کچھ ہمارے ذمہ لگائے ہیں جو ہمارے اعمال کا حساب بناتے ہیں. ان اعمال کو اپنی عادت بنانے کیلئے شخصیت میں پڑے ڈینٹ اور خراشیں صاف کرنی ہوتی ہے. بری عادت کو کھرچ کھرچ کر نکالنا ہوتا ہے. اسی پر نئی اچھی عادات کا رنگ بھرا جاتا ہے.

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں . دیکھتے ہیں مجھے اور آپ کو کونسے نمبر کا ریگمال لگے گا.؟

  • ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ٹین ایج میں جب آیا تو ایک چیز ہر طرف نوٹس کی کہ میرے تمام دوست بڑی داڑھی رکھنے کا شوق رکھنے لگ پڑے ہیں۔ یہ کبیر سنگھ جیسی داڑھی، اوپر بڑے سے بال اور انکلز والا لباس، لیکن جب انکی داڑھی نہیں آ رہی تھی تو وہ پریشان ہونے لگ پڑے جیسے ایک بہت ہی خاص چیز ان کو نہیں مل رہی ہے۔

    ایسے ہی اپنی ہم عمر لڑکیوں کو دیکھا تو وہ ایک ایسے جسم کی مالک لڑکی بننے کی طرف چلنے لگی جس کی جلد دو کلومیٹر دور سے بھی چمکتی نظر آئے۔ جس کے جسمانی خدوخال ایسے ہوں کہ ہر دوسرا شخص ان کو نوٹس کرے اور انکی طرف جانے کی خواہش رکھے۔

    ان دو پیراگرافس کا تعلق بائیولوجیکل فینامینا سے ہے جس کا تعلق ہمارے ہارمونز سے ہے۔ پہلا خاصہ جو لڑکے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اس کو ہم مسکولینیٹی یا پھر مردانہ وجاہت کہتے ہیں دوسرا خاصہ زنانہ خوبصورتی کے انڈر آتا ہے۔

    مگر یہ دونوں چیزیں وقت کے ایک خاص دورانیے میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔

    لیکن یہاں ایک گڑبڑ پیدا ہوگئی ہے۔

    ٹی وی چینلز میں جو چیز بطور ٹین ایجر متعارف کروائی جاتی ہے وہ ٹین ایجرز میں ہو ہی نہیں سکتی۔ اس وقت آپ نیٹ فلکس سے لیکر کسی لوکل پروڈکشن تک، کسی بھی ٹین ایج ڈرامہ سیریز کو دیکھ لیں سب میں ایک پچیس سے تیس سال کے شخص کو ٹین ایجر جبکہ چالیس سال کے شخص کو ایک جوان شخص بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

    اب جبکہ وہ بائیولوجیکل سٹیج جو کہ ایک شخص تیس سال کی عمر میں پا رہا ہے وہ سٹیج ڈرامہ دیکھ کر ایک پندرہ سولہ سال کا بچہ یا بچی پانے کی کوشش کرتی ہے ایسے ہی پینتیس سال کے شخص کے روپ کو وہ لڑکا یا لڑکی بیس پچیس سال کی سٹیج میں اپنانے کی طرف چلی جاتی ہے۔

    اس بات کا ہماری فزیکل اپیئرنس کو حد سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

    آپ اپنے گرد جتنے بھی لوگ دیکھیں گے اگر وہ لڑکا ہیں تو وہ بیس سال کی عمر میں ہی ایک میچور مرد کی طرح داڑھی رکھ کر اپنی شکل کسی سنجیدہ فلم کے کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرے گا وہیں پہ ایک لڑکی اپنے جسمانی خدوخال کو بیس سال کی عمر میں ہی ایسا کرنے کی طرف لے جائے گی جو اس کو دو بچے ہونے کے بعد ملنا تھی۔

    اب چونکہ ایک شخص خود سے دو دہائیاں بڑے شخص کی فزیکل اپیئرنس کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں بہت سی بائیولوجیکل تبدیلیاں آتی ہیں۔یہ تبدیلیاں اس کے ظاہری خدوخال کو بڑھانے کی طرف لے جاتی ہیں مطلب اس شخص کی aging کی رفتار تیز کر دیتی ہیں۔ اور ہمارا کلچر ایسا ہے کہ یہاں پہ زندگی میں پہلے پچیس سال مکمل سکون ہوتا ہے اور اگلے پانچ سالوں میں اتنا سٹریس ملتا ہے کہ وہ شخص جوانی میں ہی ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ سو جہاں وہ شخص 15-25 سال کی عمر کے دوران ایک 25-40 سال کے شخص کے روپ کو آئیڈیلائز کرکے خود کو بڑا دیکھنے کی خاطر ویسی فزیکل اپئیرنس اپناتا ہے تو وہیں پہ 25 کے بعد جب اس کو مشکلات والی زندگی ملتی ہے تو وہ آٹو میٹیکلی ایک بوڑھا شخص بن جاتا ہے۔

    حتی کہ آپ دیکھیں گے کہ لڑکے 25-26 سال کی عمر میں ایسے لگتے ہیں جیسے تین پندرہ سالہ بچوں کے باپ ہوں یا پھر لڑکیاں ایسی بن جاتی ہیں جیسے کوئی خالہ ہو۔ اور ان باتوں کے پیچھے ان لوگوں کا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔

    مگر اکیلا مائنڈ سیٹ ایسی تبدیلی کر سکتا ہے؟

    اس کا جواب نہیں ہے۔ مگر اس کی وجہ سے ہمارا کھانے پینے کا پیٹرن بدلتا ہے۔ اب پندرہ سال کی عمر میں 25 والا روپ اپنانے کی خاطر ایک skinny جسم کی بجائے موٹا جسم چاہیے سو اسکی تلاش میں بچے reactive oxygen species والی خوراک کھاتے ہیں جسے عرف عام میں ہم high fat یا پھر high carbohydrates والی خوراک کہہ سکتے ہیں یا زیادہ عام الفاظ بولیں تو زیادہ چربی اور میٹھے کو کھانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایجنگ کا پراسس تیز ہو جاتا ہے اور وہ اپنی عمر سے پہلے ہی بوڑھا لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے ایسی خوراک ہماری جلد کی چمک کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

    اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی خوراک کا پیٹرن بدلیں جس کو بدلنے کے لئے آپ کو اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے اور وہ تب ہی بدل سکتا ہے جب آپ ماڈلز کو آئیڈیلائز کرنا چھوڑ دیں گے۔

    یاد رہے آپ کا جسم جس حالت میں ہے پیارا ہے آپ عمر کیساتھ ساتھ بڑے بھی ہونگے اور موٹے بھی، نوعمری میں انکل بننا اور جوانی میں خود کو بڑھاپے والے روپ کی طرف لیجانا آپ کی اوسط عمر کے لئے خطرناک ہے سو ایسی تمام کوششوں سے بچیں۔ بیس بائیس سال کی عمر میں گھنی داڑھی رکھ کر ایک میچور شکل والا مرد یا سڈول جسم والی عورت بننے کی بجائے عمر کا یہ فیز انجوائے کریں میچور شکل خود بخود تیس کے بعد مل جائے گی۔

    وہیں سکن چمکنے والی خاصیت اگر آپ کی خوراک اچھی ہو تو خود ہی آپ کے ہارمونز کی وجہ سے بیس سال کے بعد آنا شروع ہو جاتی ہے آپ کو کسی کریم کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ وہیں ایک بات یاد رکھیں جس نے آپ کو قبول کرنا ہے وہ آپ کی داڑھی یا سڈول جسم سے متاثر ہوئے بغیر بھی قبول کر لے گا اور جس نے قبول نہیں کرنا اسکے سامنے آپ کچھ بھی بن جائیں وہ نہیں کرے گا سو یہ ‘خوبصورتی ‘ بڑھانے کی سوچ کو چھوڑ کر ٹینشن فری جینا شروع کریں جس میں آپ کا کوئی بھی آئیڈیل نا ہو۔

  • نامعلوم انجمن —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نامعلوم انجمن — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تاریخ کا نہایت ہی اہم میچ شروع ہوا ہی چاہتا ہے ،ٹاس ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کھیلنے ٹیم کا اعلان ہی نہیں ہوا ۔ یہ میچ اس لئے بھی اہم ہے کہ تمام دنیا پاکستان کو سننے کے لئے آرہی ہے۔ آپ کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔

    نومبر پاکستان میں COP کی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ایک اور سرخ نومبر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ بدقسمتی سی بد قسمتی ہے کہ وہ ساری توجہ جو COP27 پر مرکوز ہونی چاہیے تھی وہ 29 نومبر پر ہے۔ تمام بڑے اپنی اپنی سودا بازی میں مصروف ہیں جب کہ دنیا شرم الشیخ مصر میں آپ کو سننے کے لئے آرہی ہے۔

    کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن پر نظر رکھنے کے لئے قائم کی گئی جسے 1992 میں دنیا کے 154 ممالک نے دستخط کیا۔دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے تمام ممالک اس معاہدے کے تحت ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے کے پابند ہیں جب کہ اس سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے قابل عمل منصوبوں کے لئے امداد دی جاتی ہے۔

    ‏COP کی 27 ویں سالانہ میٹنگ 6 نومبر کو شروع ہونے جارہی ہے لیکن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا اور پاکستان کون کون سے قابل عمل منصوبے اس میں فنڈنگ کے کئے لے کر جا رہا ہے۔کس طرح لابنگ اور مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہے اور حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ہمیں سننے کو بے تاب ہے۔ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔

    چند دن پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اس بارے اجلاس بھی بھی ہوا لیکن اس میں انہیں COP پر بریفنگ دی گئی مگر پاکستانی وفد کے ناموں پر تاحال خاموشی ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار شرم الشیخ مصر جانے کا ہما کس کس کے سر پر بیٹھتا ہے کیونکہ کانفرنس 6 نومبر سے شروع ہورہی ہے ۔ ٹاس ہو چکا ہے میچ شروع ہونے جارہا ہے لیکن پلئیرز کو ابھی تک پتہ نہیں کہ کس نے کھیلنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک نوجوان ، متحرک اور پڑھے لکھے وزیر خارجہ ہیں۔وہ پالیسی لیول پر تو اچھا بول لیتے ہیں لیکن نچلی کمیٹیوں کی سطح پر ان کے ساتھ اس کانفرنس میں اچھی ، سمجھدار اور کام کرنے والی ٹیم ہونی چاہئے۔ یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ امید ہے وہ اس دفعہ ایک مستعد ٹیم کا انتخاب کریں گے جو پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے۔

  • انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    بادشاہ وقت کو بھیانک خواب نے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایسے برے خواب نے بادشاہ کے دل کا چین وسکون برباد کردیا ۔ وقت کے اعلی معبرین تعبیر بتانے والے بلائے گئے ۔

    بادشاہ وقت نے بتایا کہ رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے سارے دانت ٹوٹ رہے ہیں اور پھر سارے ہی جھڑ گئے ۔

    معبرین سوچ میں پڑگئے حساب کتاب لگائے اور پھر تعبیر بادشاہ کے سامنے تھی ۔

    بتایا گیا ۔۔۔۔ حضور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے سارے بیٹے فوت ہوجائیں گے ۔

    بادشاہ کو اس تعبیر نے اتنا پریشان کیا کہ مارے بوکھلاہٹ کے حقائق سمجھ کی بجائے معبرین کو پھانسی دیکر غصے کی آگ بجھائی ۔

    جو معبر آتا ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر بتاتا ۔

    بادشاہ پھانسی دیے جاتا ۔

    پھر ایک معبر کو بلایا گیا وہ ساری صورت حال سن چکا تھا ۔

    پھر جان کی خلاصی پانے کا سوچنے لگا ۔

    جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو تعبیر یوں بیان کی ۔

    کہ حضور آپ کی خواب بہت ہی خوبصورت ہے اور عمدہ حالات پیشین گوئی کرتی ہے ۔

    حضور اللہ نے آپ کو سارے خاندان میں لمبی عمر دینی ہیں۔ لوگ بہت لمبے عرصے آپ کے زیر سایہ محکوم رہیں گے ۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی لمبی عمر کی وجہ سے بہت عرصہ تک قائم رہے گی ۔

    فرسٹریشن کا مارا بادشاہ یہ سن کر انتہائی مسرور ہوا ۔

    پہلی بھی ایک حقیقت تھی یہ بھی حقیقت ہے ۔ فرق دونوں میں نہ تھا بتانے کے انداز نے پریشان کیا اور بتانے کے ہی انداز نے انتہائی مسرور کر دیا ۔

    انداز بدلنے والے معبر کو درہم و دینا اور اشرفیوں سے مالا مال کر کے بھیج دیا گیا ۔

    آپ بھی دیکھیے کو نسا انداز آپ کو نقصان دے رہا ہے ۔

    پھر انداز بدل کر نقصان کو نفع میں تبدیل کردو ۔

    بہترین انداز کا پتہ چلانا ہو تو تمہارے سامنے ایک اسوہ حسنہ ہے وہ اسوہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس اسوے میں سارے نفع مند انداز مل جائیں گے ۔

  • ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے
    آن لائن تجربات تمام عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن نو عمر افراد کے لیے اِس کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے خطرات کا بآسانی ہدف بن سکتے ہیں۔یہ بات حیران کن نہیں ہے والدین اگرانٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اپنے بچوں کی نگرانی کرنا چاہتیں ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رابطے میں ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کسے تلاش کر رہے ہیں اور اپنا وقت کس طرح گزار رہے ہیں۔انٹر نیٹ پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے مقبول پلیٹ فارم، ٹک ٹاک (TikTok) نے’فیملی پیئرنگ‘ فیچر متعارف کراکے والدین کی زندگی آسان بنا دی ہے۔

    فیملی پیئرنگ (Family Pairing) فیچر کیا ہے؟
    یہ فیچر والدین کو اِس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کر سکیں اور مختصر دروانیے کی ویڈیو پلیٹ فارم پر اْن کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکیں۔بچوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے جو تمام وقت ڈیجیٹل سیفٹی یقینی بناتا ہے۔ یہاں پر اس فیچر کے چھ پہلو ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے:

    اسکرین ٹائم(Screen Time): اگر بچوں کا اسکرین پر صرف ہونے والا وقت آپ کو پریشان کررہا ہے تو خاطر جمع رکھیں کیوں کہ اب آپ ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے ذریعے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک والدین کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ،اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے،بچوں کے لیے اسکرین ٹائم مقرر کر سکیں۔ اگر آپ کا بچہ ایک سے زیادہ ڈیوائسز سے استعمال کرتا ہے تب یہ سیٹنگ تمام ڈیوائسز پر لاگو ہوجاتی ہے۔

    ریسٹریکٹڈ موڈ(Restricted Mode): والدین کو مزید بااختیار بنانے کی غرض سے، ٹک ٹاک اْنھیں اِس بات کے انتخاب کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اْن کے بچے ایپ میں کیا دیکھیں اور کیا نہیں۔آسان لفظوں میں، اگر والدین محسوس کرتے ہیں کہ کوئی مواد اْن کے بچوں کے لیے غیر موزوں ہے تو وہ اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کی اْس مواد تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔

    سرچ (Search): والدین اِس بات کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اْن کے بچے کس قسم کی ویڈیوز، ہیش ٹیگس(hashtags)، ساؤنڈز، لوگ یا مواد سرچ کر سکتے ہیں۔اس طرح اْنھیں اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر مزید بہتر نگرانی حاصل ہوتی ہے۔

    ڈائریکٹ میسیجز(Messages Direct): ڈائریکٹ میسیجز جہاں 13 سے 15سال کی عمر کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے پہلے سے ہی غیر فعال ہوتاہے، والدین اْسے 16 سال یا اْس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے بھی مکمل طور پر آف کر سکتے ہیں یا اْس تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔یہ فیچر یقینی بناتا ہے کہ آپ کے والدین اجنبی افراد کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں اور اِس طرح اُنھیں محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

    لائیکڈ ویڈیوز اور کمنٹس(Liked Videos & Comments): والدین اِس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ اْن کے نو عمر افرادکے اکاؤنٹ پر موجود ویڈیوز کون لوگ دیکھ سکتے ہیں یا لائیک کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ کون لوگ ان کے نوعمر افراد کی ویڈیوز پر کمنٹ کر سکتے ہیں۔یہ فیچر نہ صرف نو عمر افراد کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ والدین کو سکون کا احساس دیتا ہے ورنہ وہ پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ اْن کے بچے انٹرنیٹ پر کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    قابل دریافت ہونا (Discoverability) اور دوسروں کو اکاؤنٹ تجویز کرنا (Suggestions)
    نوعمر افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر آپ کوکنٹرول دینے اور اْن کے آن لائن تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے ٹک ٹاک آپ کو اس بات کے انتخاب کا بھی موقع دیتا ہے کہ آپ کے نوعمر ا فراد کے اکاؤنٹس ’پبلک‘ یا’پرائیویٹ‘ سیٹ ہے یا نہیں۔آپ کے پاس یہ آپشن ہوتا ہے کہ آپ بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس دوسرے لوگوں کو تجویز (Suggest)کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
    مختصر اً یہ کہ ٹک ٹاک ڈیجیٹل سیفٹی کے اہمیت کو سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ والدین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے اکاؤنٹس کے ساتھ مربوط کر سکیں اور اْنھیں محفوظ رکھنے کے ساتھ پلیٹ فارم پر ان کا تجربہ مزید بہتر بنا سکیں۔

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

  • اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    کچھ دن پہلے ہمارے شہر منچن آباد کے ایک مشہور و معروف عالم دین اور معلم سے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایک تبلیغی اور اصلاحی محفل میں تبدیل ہو گئی۔اس محفل کا لب لباب اور حاصل یہ تھا کہ فی زمانہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجاۓ مسلکی اعتبار سے اپنی پہچان کروانا اور اسی لحاظ سے اپنے آپ کو پروموٹ کروانا زیادہ اچھا خیال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ رویہ اتحاد امت اور قومی یکجہتی کے بلکل منافی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارا اسلامی تشخص اب پارا پارا ہونے کو ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ہم ان حقوق کو بھی اپنے مسلکی نکتہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جو بطور مسلمان ہم پہ فرض ہیں۔حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ "ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ اگر کوئی

    (1)-سلام کرے تو اس کا جواب دیا جاۓ

    (2)- کوئی بیمار ہے تو اس کی عیادت کی جاۓ

    (3)-کوئی فوت ہو جاۓ تو اس کے جنازے میں شرکت کی جاۓ

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ان فرائض کی ادائیگی کو بھی اہنے مسلک کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ہم سلام اسی شخص سے لینا زیادہ پسند کرتے ہیں جو ہمارا ہم مسلک ہے۔بیمار کی عیادت اسی کی کرتے ہیں جو یمارے اپنے مسلک کا ہے اور نماز جنازہ بھی اسی کی پڑھی جاتی ہے جو مسلکا” ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ساتھ ہی نماز جنازہ کی ادائیگی بھی اپنے مسلک کے مدرسے میں رکھنی ہے۔ہمیں کسی غیر مسلک کی وفات پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا اپنے ہم مسلک شخص کی وفات پر ہوتا ہے ۔

    ایک مسلمان اور حضور کا امتی یہ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جا رہا ہے لیکن ہم اسے بھی اپنے مسلک کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

    حالانکہ آقاۓ دو جہاں کی تعلیمات یہ نہیں ہیں۔آپ نے تو یہاں تک کیا کہ ایک یہودی بچے کے بیمار ہونے پہ اسکی عیادت اس کے گھر جا کر کی جو حضور کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھا کرتا تھا اور ایک کافر عورت جوکہ حضور کے گلی سے گزرتے ہوۓ سر مبارک پہ کوڑا پھینکا کرتی تھی اس کی بھی بیمار پرسی کی۔ہمارا یہ رویہ بطور مسلمان ہمارے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔

    اس پہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ہمارے اس روئیے کی بناء پر یہ امت انتشار کا شکار ہو جاۓ۔ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں اس قسم کے رویوں کا شکار ہو رہے ہیں؟۔ہمیں اتحاد امت کو فروغ دینا چاہئے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں” اللہ پاک ہمیں ہدائت دے۔

  • تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنے بیمار بلے(بلی کا مذکر) کی تصویر لگاتا ہے اور اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹا سا تھا تب سے میرے پاس ہے اور میں خود اس کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اب یہ بیمار ہے اور اس کی بیماری نے مجھے غمزدہ کردیا ہے ۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لے گیا چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے انجیکشن اور دوائیاں دیں ۔ جس کے بعد اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے ۔ سب دوست دعا کریں کہ یہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

    اس منظر کے بعد اگلا منظر کچھ یوں ہے کہ لوگ اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جانوروں کا اتنا خیال رکھتا ہے تو انسانوں کا کتنا رکھتا ہوگا ۔ اور اس جذبہ شفقت پر تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ بلکل اس کے برعکس جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا خیال کتے کا رکھتے ہو کبھی اپنے ماں باپ کا کبھی رکھا ہے ؟

    انسان کو اس دنیا میں رنگ برنگے لوگ ملیں گے جن کے نظریات و افکار بلکل جدا ہونگے ۔ اور کوئی اپنی خاص فکر کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے ۔

    اس دنیا میں رہنے کا راز یہ ہے کہ انسان اس اختلاف کو ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رہنا شروع کردے ۔

    انسان کو اگر کسی کا نکتہ نظر اچھا نہیں لگتا تو وہ اسے اپنے مطابق کرنے کی بجائے اس سے رواداری کرنا شروع کردے ۔

    اگر کوئی اس کے نکتہ نظر کو پسند نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف سے نفرت بھی نہ کرے اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند رہے ۔

    اس کے علاوہ تیسری راہ سراسر فساد کی راہ ہے جس پر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

    یہی اصول و ضوابط مذہبی ، سیاسی سماجی فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اکسیر ہیں ۔

  • تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    سال دوہزار چودہ وہ سال ہے جب پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ اور لاک ڈاؤنز کی سیاست کا باقاعدہ آغاز ہوا اور تب سےآج کے دن تک ہم اس منحوس طرز سیاست سے نبردآزما ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں کو پکڑ کر جلا دوں گا, مار دوں گا, بھگادوں گا وغیرہ وغیرہ کا شورو غل بلند کرکے حکومتوں اور ریاستوں کے کیے کی سزا عوام کو دینا کہاں کی سیاست اور جمہوریت ہے؟

    خان صاحب کے اچھے اورکرزمیٹک فیصلوں اور کاموں کی سراہنا کرنا اچھی بات ہےلیکن یاد رہے خان صاحب بھی ایک عوامی لیڈر ہیں جنہیں اپنے برے فیصلوں اور کاموں کا جواب دینے کے لیے عوام کی عدا لت میں آنا ہی پڑے گا۔

    سال دوہزار چودہ کا دھرنا ہمیں 547 ارب میں پڑا تھا اور ملا کیا۔۔۔ گھنٹا؟

    ایک بڑا قومی سانحہ دیکھا اور تب اس دھرنے کا اختتام ہوا لیکن دھرنا اور لانگ مارچ سیاست نے جو پنجے تب سے اس ملک پر گاڑے ہیں اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تب سےآج تک ناصرف تحریک انصاف بلکہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دھرنا اور لانگ مارچ سیاست کو ایک طلسماتی منتر سمجھ لیا ہے کہ جب جب حکومت اور ریاست کو انڈر پریشر لانا ہے تو عوام کا جینا دوبھرکردو اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردو۔

    اب کل توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے موجودہ مدت کےلیے نااہل قرار دے دیا تو آدھے گھنٹے کے اندر اندر پورے ملک کی عام شاہراؤں اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر تحریک انصاف کے عام سپورٹرز نےاحتجاج کے نام پر جو ہلڑ باز اور طوفان بدتمیزی برپاکیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

    اور اگر تحریک انصاف نے یہی سلسلہ آگے بھی جاری رکھا تو یقینا اس بار ملک 547 ارب کو بھول جائے گا کیونکہ اس دفعہ بات ملک کے ڈیفالٹ پر ہی ختم ہوگی کیونکہ ہماری حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ہم اب ہلکا سا بھی جھٹکا برداشت نہیں کرسکتے۔

    دھرنا اور لانگ مارچ کی سیاست سے آج تک کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟

    سوائے توڑ پھوڑ, گالم گلوچ, تصادم اور ملکی معشیت کو نقصان پہنچانے کے اس لغو انداز سیاست نےکیا دیا ہے؟

    اور کل ہی ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے کارکنان نے ریڈلائن لائن کراس کی اور فوج کے چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی بیہودہ نعرےبازی کی اور ملک کا تماشہ بنانے کا بھارتی میڈیا کو ایک اور سنہری موقع دیا۔

    بھارت جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے اس کے پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف تین بنیادی مشن یا ایجنڈے تھے جو کہ اب تقریباً پورے ہوچکے بیشک ملک ایف اےٹی ایف کی گرےلسٹ سےنکل چکا ہے۔

    1-پاکستانی معشیت کا بیڑا غرق کرنا۔
    2-افواج پاکستان اور عوام کی محبت ختم کرنا۔
    3-دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا۔

    کیا بھارت کے یہ تین مشن مکمل نہیں ہوگئے؟

    اس کا سہرا بالترتیب آصف ذرداری, نواز شریف, مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے سربندھنا چاہیے کہ ان چار نفوس نے عرصہ بیس بائیس سال میں پاکستان اور اس کی عوام کو بھارت اور اقوام عالم کے سامنےپلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا کہ لو بھئی جو کرنا ہے کرلو۔

    خیر ملک اس طرح کی سیاست کا متحمل نہیں لیکن ہماری مقتدرہ و سیاسی اشرافیہ کو یہ بات اب بھی سمجھ نہیں آرہی۔ اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے ورنہ ہم نےتو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    ایک ایسے وقت میں جب ملکی معیشت تنزلی کی جانب گامزن ہے، سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں قیامت خیز تباہی ہوئی، لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے، پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کی قدر اتنی بڑھا دی کہ غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا محال ہو چکا ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ، احتجاج کی کال ملکی معیشت کو مزید زمین بوس کرے گی، یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ میثاق معیشت کا ہے،پاکستان کوبچانے کا ہے، پاکستان کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو گی تو معیشت بھی مستحکم ہو گی لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان کا ایجنڈہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دو چار کیا جائے