Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    اگر آپ کی بیٹی آپ کو کہتی ہے کہ وہ اپنے فون پہ اپنے کسی مرد ٹیچر سے روزانہ یا ہفتہ وار بات کر رہی ہے تو اس پر نگرانی شروع کریں اور اس مرد ٹیچر کو پہلی فرصت میں بلاک کروائیں.

    ایک استاد کے لئے کسی طالب علم کو متاثر کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اگر یہ کم عمر بچیاں ہوں تو بات بالکل حلوہ بن جاتی ہے موبائل فون آنے کے بعد سے انکے لئے نو عمر بچیاں آسان شکار بن چکی ہیں.

    یہ لوگ آسان شکار کی تلاش میں کم عمر بچیوں سے روابط بنانے سے نہیں جھجکتے حالانکہ ان کی بیٹیوں کی عمریں بھی ان بچیوں جتنی ہی ہوتی ہیں.

    اور مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی بات کر رہا ہوں لیکن،

    پاکستان میں مرد ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو اپنے لئے ایک آسان شکار سمجھ کر انہیں پھنسانے کے چکر میں رہتے ہیں. اور ایسے کئی کیسز میں اپنے سامنے دیکھ چکا ہوں اسلامیات کا ٹیچر، اخلاقیات کا ٹیچر، بائیو کا، فزکس کا غرضیکہ سبجیکٹ کا نام لیں میں کردار بتا دوں کہ فلاں جگہ فلاں ٹیچر کو اپنی فیمیل سٹوڈنٹ سے غلط تعلقات بناتے ہوئے دیکھا ہے.

    ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی حرکت پہ شرمندہ تک نہیں ہوتے ہیں اور پکڑے جانے پہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قصور بچی کا ہے انکا نہیں اور انکے کولیگ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرواتے کیونکہ بعد میں انکے پول بھی وہ شخص کھول سکتا ہے.

    بے غیرتی کی اس کیٹیگری میں عمر کا بھی کوئی پیمانہ نہیں ستر سال کے مذہبی ٹیچر سے لیکر 20-30 سال کے لبرل نوجوان ٹیچر تک سب اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں.

    اس لئے اپنی بچی کے منہ سے اگر آپ کسی مرد ٹیچر کی ضرورت سے زیادہ تعریف سن رہے ہیں، بچی ہر روز اور ہر وقت اسکی تعریف کرتی ہے اور اس کے آپکی بچی پہ احسانات بھی ہو رہے ہیں اور موبائل سے روابط بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ ٹیچر کسی شکار کی تلاش میں ہو سکتا ہے.

    ہمارے معاشرے کا یہ شرمناک پہلو جس دن دیکھا اس دن مجھے حد سے زیادہ افسوس ہوا مگر یہ ایک حقیقت ہے حتیٰ کہ کولیگ ٹیچر بھی جانتے ہیں کہ کس ٹھرکی کی آجکل کس سٹوڈنٹ پہ نظر ہے اور وہ اس کو آفس میں کب بلا رہا ہے.

    ہمارے ہاں اس ٹاپک کو ٹابو سمجھا جاتا ہے اور مائیں بچیوں کو نہیں بتاتی کہ آپ سے کیسی حرکت بیہودہ ہوسکتی ہے اور کیسے اگلے شخص کو لمٹس میں رکھنا چاہیے مگر یہ باتیں بچیوں کو سمجھانا بہت ضروری ہیں اس سے پہلے کہ وہ کسی کا شکار بنیں.

    اس تحریر کا مقصد سب ٹیچرز کو برا بھلا کہنا ہرگز نہیں، ہر مرد ٹیچر ایسا ہو ضروری نہیں، مگر میں نے چند ہی شریف مرد ٹیچر دیکھے ہیں مجارٹی کا سکینڈل ضرور دیکھ رکھا ہے اور یہ باتیں میرے ذاتی مشاہدے کی ہیں سو اس کی بنیاد پہ اپنا مؤقف بتا رہا ہوں۔ آپکا میری رائے سے یا میرا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

  • جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    ‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

    لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

    اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

    ‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

    کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

    ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

    ‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

    ‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

    البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

    سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

    جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

    انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

    اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

    اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

    تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

    پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

    چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

    ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا.

    آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

    نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

    اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

    اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

    بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

    ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

    الحمد للہ رب العالمین ۔

    تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

  • ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟

    چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
    انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔

    چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
    یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔

    چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
    یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔

    اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔

    ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔

    جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔

    اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
    "کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے”

  • پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    وکرانت گپتا اور بہت سے بھارتی یو ٹیوبرز نے محمد رضوان کے ایک بیان کو بہت پسند کیا۔۔۔رضوان نے کہا تھا کہ۔۔!

    ” اللہ محنت اور ایمانداری کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہمیں فتح دے دیں۔۔۔اگر حریف ٹیم ہم سے زیادہ محنت کرے گی تو وہ فتح پائے گی۔۔۔”

    اپنے دین کی اس سے خوبصورت خدمت نہیں ہوسکتی کہ آپ اپنے خالق کو "انصاف کرنے والا” قرار دیں۔۔۔اس ایک جملے میں دین اسلام کی روح ہے۔۔۔۔

    ایک صاحب محمد رضوان کے شدید ناقد ہیں۔ انکی تنقید مجھے ہمیشہ غیر منطقی لگی۔۔ یوں لگا جیسے رضوان سے کھیل کی بجائے کوئی ذاتی مسئلہ ہو۔۔۔پھر وہ کھل ہی گئے۔۔۔۔فرما ہی دیا کہ مسئلہ رضوان کے دین پسند ہونے سے ہے۔۔۔۔کرکٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے موصوف کو رضوان کے "مولانا پن” پر اعتراض ہے۔۔۔اور یہ صرف ایک شخص کی رائے نہیں اور بھی لوگ ایسے اعتراضات رکھتے ہیں۔۔۔

    رضوان اگر کرتا شلوار, سر پر ہیلمنٹ کی بجائے سفید ٹوپی اور ہاتھ میں بلے اور ستانے کی جگہ تسبیح تھامے کھیلنے آتے ہیں تو مسئلہ سمجھ بھی آتا۔۔۔یا میچ روک کر رضوان گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو اکھٹا کر کے صحیح احادیث سناتے تو بھی اعتراض درست ہوتا۔۔۔

    عین آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہوئے انکے دین پسند ہونے پر اعتراض ہے کہ اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں,نماز کیوں پڑھتے ہیں۔۔خواتین سے فاصلہ کیوں رکھتے ہیں۔۔۔یہ ہی اعتراضات ہیں نا اس کے علاوہ کیا ہیں۔۔؟

    اگر کوئی شخصیت عوامی مقام پر شراب نوشی یا دیگر اخلاق باختہ حرکات کرتی نظر آ جائے تو یہی طبقہ اسے ذاتی چوائس کا نام دیتا ہے۔۔معاشرے کو گھٹن زدہ قرار دیتا ہے۔۔۔۔شخصی آزادی کی بات ہوتی ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی معاملہ دین سے جڑتا ہے شخصی آزادی ہوا ہو جاتی ہے حالانکہ دینی معاملات صرف شخصی نہیں اجتماعی بھی ہیں۔۔۔

    شخصی آزادی اچھی سوچ ہے لیکن پھر سب کو بلاتفریق یہ آزادی دیں۔۔۔

  • کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .

    لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.

    مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.

    مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.

  • تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    ٹرانسجنڈرز بل پر اپنی گزشتہ گزارشات کے تسلسل میں اور اس سلسلے سیاسی نیم ملاؤں فتویٰ بازی اور سیکولر دیسی لبرلوں کے نیم حکیمانہ نظریات کے تناظر میں مزید کچھ وضاحت پیش خدمات ہے- ٹرانسجنڈرز کے معاملے کو حسب روایت ہمارے وہ نیم حکیم اور نیم خواندہ قسم کے "سیکولر ترقی پسند” پیچیدہ بنا رہے ہیں جو الحاد اور کافرانہ لادینیت کو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے سیکولر ترقی پسندی کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر اپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک ایجنڈے کہ تحت مذہب بیزاری کو انسانیت دوستی کا لبادہ پہناتے ہیں باوجودیکہ اب تو ساینسدانوں میں بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مذھب اور سانس ایک دوسرے کی زد نہیں بلکہ دو مختلف میدان ہیں- سائنس کے میدان کے صائب اہل فکر معاشرتی اقدار اور سماجی علوم کے معاملات میں سائنس کو بنیاد بنا کر فطرت کے خلاف جنگ کو کبھی ترقی پسندانہ سوچ نہیں کہتے ہیں – جو لوگ قران پر ایمان رکھتے ہیں انکےلئے تو یہ مسلہ بہت سادہ ہے کہ الله سبحانہ تعالہ فرماتے ہیں:

    وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ- (الذاريات – 49)
    اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو!

    وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۗ (الروم آية ۲۱)
    اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی نفس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی

    سیدھی سی بات ہے کہ سیکولر انسانی تاریخ اور تمام آسمانی کتابیں انسان میں صرف دو جنسوں یعنی مرد اور عورت کے وجود کی تصدیق کرتی ہے- انسانی اور مذہبی تاریخ میں تمام احکامات، اخلاقی ضابطے اور قوانین بھی دو جنسوں اور اصناف یعنی مرد اور عورت یا نراور مادہ کے تقسیم پر مبنی ہے- لہٰذا تیسری جنس اور صنف فطری قوانین کے مطابق بھی خلاف معمول معذوری یا بیماری کا مظہر ہے- اب یہ معذوری طبعی یا حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل بھی ہوسکتی ہے جس میں کسی انسان کے ایکس اور وائی کروسوم یا جنسی غدود میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے اس میں دونوں جنسوں کے اعضاء یا خصوصیات ظاہر ہوجاتی ہے اور نفسیاتی بھی جس میں کسی ایک صنف یا جینڈر میں میں پیدا ہونے والا فرد بشمول ہم جنس پرستی کے دوسرے صنف میں پیدا ہونے والے افراد کی طرح کا جنسی میلان رکھتا ہے- پہلی قسم جنکو جدید طبی اصطلاح میں ِانٹرسیکس یا بین صنفی ہجڑا اور اسلامی فق کی زبان میں خنثی کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کسی بھی معذور کی طرح انسانی اور اسلامی اخلاقیات کے تحت طبی علاج اور معاشرے کے سہارے کے مستحق ہوتے ہیں اور اس علاج میں جنسی اعضاء کی جراحی یا سرجری بھی شامل ہے- میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک بھی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی خنثی کے مردانہ اور زنانہ دونوں اعضاء موثر ہو اسلئے سرجری کے عمل سے ایسے کئی کیسز میں مریض کے موثر جنسی اعضاء رئیسہ کو بحال کرکے انکے اصلی جنس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے- دوسری قسم جنکا مسلہ نفسیاتی اور اسلام سمیت اکثر مذہب اور روایتی اقدار کے تحت اخلاقی ہے اپنے اعلانیہ جنسی رحجانات کے لحاظ سے کئی صورتوں پر مشتمل ہے جنکیلئیے ماڈرن مغربی یا سیکولر معاشروں میں ہومو سکچول (ہم جنس پرست) ، گے، لزبین اور بائیسکچول جیسے اصطلاحات ہوتے ہیں اور جنھیں اجتماعی طور پر LGBT طبقہ کہا جاتا ہے- اسلامی فقہ میں اس طبقے کو عمومی طور پر مخنث کہا جاتا ہے اور اسلامی نظام عدل صرف انکے غیر فطری احساسات یا رحجانات کو یا محض کسی کے مخنث ہونے کو جرم قرار دیکرانکےلئے کوئی سزا تو تجویز نہیں کرتا لیکن مغربی سیکولر معاشرے کے اقدار کے برعکس اس طبقے کے جنسی ذوق کیلئے معاشرتی اقدار اور قوانین کو بدلنے کی جازت نہیں دیتا- اس میں ان طبقے کے غیر فطری شادیوں کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے قدرتی غدود یا فطری جنسی اعضاء میں تبدیلی پر پابندی بھی شامل ہے-

    مغربی لادین سیکولر قوانین میں اخلاقیات سے مذہبی اور فطری اقدار کی مکمل جدائی کے باعث پیدائشی صنف یا جینڈر اور اپنے ذاتی رحجان یا ذوق کے تحت اختیار کے گیے شعوری سکس یا جنس کو دو مختلف چیزیں قرار دی گئی ہے جبکہ اسلامی قوانین اور اقدار اس طرح کے کسی مصنوعی خود ساختہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے جسکا اثر کسی فرد کی ذاتی جنسی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان کا ادارہ اور معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے- پاکستان میں ٹراسنجینڈر بل کو ڈرافٹ کرنے والوں یا تو مسلے کو نوعیت کے متعلق اپنی کم علمی یا جہالت یا پھر کسی ایجنڈے کے تحت اس دونوں متنوع طبقات کو ٹرانسجنڈر کے عمومی اصطلاح کے تحت ایک ہی قانون میں خصوصی حقوق دیے ہیں جس سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے نشان دہی پر بوجوہ شدید قسم کے اعتراضات اور رد عمل آیا ہے جس میں ظاہر ہے سینیٹر صاحب کا مواقف اصولی طور پر درست ہے- مجوزہ بل پر اعتراض کی وجوہات میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کی خلافورزی کے علاوہ ایک جائز اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستانی جیسے معاشروں مذہب کے علاوہ بھی غیر مسلم اور سخت مذہبی رحجانات نہ رکھنے والے افراد اور طبقات کے بھی کچھ حساس معاشرتی روایات ہوتے ہیں- معاشرے کے عمومی اقدار کے خلاف رحجانات یا جنسی زوق رکھنے والوں کی طرف سے بل کے تحت بنے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے ایسے افراد کا اپنی خود ساختہ جنسی شناخت کے تحت معاشرتی میل جول شدید قسم کی معاشرتی پیچیدگیوں اور متشدد جرائم کا باعث سکتی ہے- اسلئے سیکولر معاشروں میں بھی عمومی معاشرتی اقدار کے خلاف ایسے متنازعہ قوانین سے اجتناب کیا جاتا ہے- جہاں تک اسلامی فقہ کی بات ہے تو نیم خواندہ دیسی لبرلوں اور سرخوں کے عمومی تاثر کے برعکس باقی پوسٹ ماڈرن معاشرتی اور قانونی مسائل کی طرح اس معاملے میں بھی اسلامی تعلیمات بانجھ نہیں ہیں- رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بھی تیسری جنس موجود تھی جنکا ذکر بخاری اور ابو داوود کے روایات میں ملتا ہے- بعض کے نام بھی ملتے تھے جیسے کہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے، پورے شہری وں انسانی حقوق رکھتے تھے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ ان کے کچھ طبقات کی سماجی اقدار کے خلاف حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ معاشرتی پابندیاں لگا دی گئی تھی- اسی طرح روایتی اسلامی اصول قانون میں مخنث، خنثی اور ہم جنس پرست کے تین مختلف صورتوں واضح فرق اور متعلقہ احکام آج کے پوسٹ ماڈرن معاشرتی جنسی مسائل میں بھی اسلامی فقۂ کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں– اس طرح اگر انسانی حقوق کے نام پر قانون الہی کو کسی طبقے کے ذوق یا نفسیاتی عوارض کی خاطر بدلنے کا اختیار معاشرے اور ریاست کو دے دیا جاے تو پھر تو بچوں کے جنسی زیادتی کرنیوالے اور جنسی یا نفسیاتی تسکین کیلئے کئی اور قسم کے "غیر روایتی” اعمال کو بھی جائز قرار دیکر قانونی تحفظ دیا جاسکے گا جن میں کئی سیکولر اور مکمل لادین معاشروں کے معیار پر بھی بدترین جرائم ہیں-

  • پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    آخری میچ پر ایک رائے ہے کہ پاکستان اچھا نہیں کھیلا لہذا اس جیت کو جیت نہ سمجھا جائے۔۔۔کل پہلی اننگز پر میری بھی یہ رائے ہے کہ بیٹنگ آرڈر کو درست استعمال نہیں کیا گیا۔۔

    پچ قدرے سلو تھی, انگلستانی بالرز نے باؤلنگ بھی بہت اچھی کی,ریورس سوئنگ کا بھی استعمال کیا۔۔لیکن اس کے باوجود ٹیم منیجمنٹ نے دو غلطیاں کیں۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر آصف علی یا محمد نواز کو استعمال کرنا چاہیے تھا۔۔۔آصف علی کا دوسرا اچھا استعمال بھی ضائع کیا جب خوشدل کی جگہ انکو بھیجا جا سکتا تھا۔۔۔۔

    سلو پچ پر بال کو ٹائم کرنے والے بلے باز مشکلات کا شکار رہتے ہیں لہذا دوسرے اینڈ سے پاور کا استعمال کرنے والے بلے بازوں سے لگاتار چانس لیا جاتا تاکہ چار پانچ وکٹس گر بھی جاتی تو شاید بیس سے تیس رنز زیادہ بن جاتے۔۔۔
    نوجوان بالرز کا لائن لینتھ سے زیادہ رفتار پر فوکس, آخری اوورز میں ورائیٹی سے بال نہ کرانا نیز ہر میچ میں ایک اہم ڈراپ کیچ بھی ٹیم پاکستان کا سر درد ہے۔۔۔

    لیکن ان غلطیوں کے باوجود کچھ مثبت فیکٹر بھی سامنے آئے۔۔ورلڈکپ سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کونسا کھلاڑی کتنا موثر ہے۔۔۔یہ سیریز کبینیشن طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ہمیں اچھا ٹیم کمبینیشن مل گیا تو یہ ہی اس سیریز کا نتیجہ ہو گا۔۔۔ نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز اور ورلڈکپ پریکٹس میچز کمبینیشن کو کنڈیشن سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کریں گے۔۔۔۔

    افتخار احمد نے پریشر صورتحال میں اچھی باؤلنگ کرا کر ثابت کیا کہ افتخار ایک سمارٹ بالر ہے ۔۔ایشیا کپ فائنل میں بھی افتخار نے اچھی باؤلنگ کی تھی۔۔۔محمد نواز کو استعمال نہ کرنا بہرحال غلط فیصلہ تھا۔۔۔دونوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔اور کل یہ ایک اچھا آپشن ملا ہے۔۔۔۔

    حارث رؤف نے ثابت کیا کہ ایک دلیر بالر خراب بال یا اچھی بال پر باؤنڈی کھا کر ہتھیار نہیں پھینکتا ہے۔۔۔بیشک دو رنز رہ جائیں فائیٹ ضرور کرنی چاہیے۔۔بلے باز چڑھائی کرے تو ذہانت سے ہرایا جا سکتا ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی اور محمد حسنین کے سیکھنے کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے۔۔۔نسیم شاہ کو بھی جہاں سوئنگ نہ ملے مشکلات شکار رہتے ہیں۔۔ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں ایک اچھے بالر کو ہر طرح کی ورائیٹی درکار ہے تاکہ اسکی کمزوری حریف کی طاقت نہ بن سکے۔۔۔

    بابر اعظم کے لیے یہ سبق ہے کہ کرکٹ کو ناک سیدھ میں چلانے کی بجائے بعض دفعہ دلیری سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔۔۔پہلی اننگز میں بیٹنگ آرڈر کی جو غلطی کی فیلڈ میں وہ نہیں دہرائی۔۔۔افتخار اور نواز نے اچھی باؤلنگ کی تو عثمان قادر کی بجائے دونوں کے ساتھ کنٹینیو کیا۔۔

    ماضی میں پاکستانی بالرز فلیٹ پچز پر رنز روکتے رہے ہیں۔۔۔کرکٹ کا حسن اسی میں ہے کہ مقابلے کا توازن جاری رہے۔۔۔فلیٹ پچز پر ٹاس جیتو میچ جیتو تھیوری ناکام ہونی چاہیے۔۔۔فیلڈنگ ٹیم کو کم رنز پر بھی جان لڑانی چاہیے اور کل کی فتح اس حوالے سے مورال بلند کرے گی۔۔۔

  • مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.

    دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.

    پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.

    کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.

    کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.

    پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.

    پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.

    ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.

    ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.

    اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.

    اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.

    بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.

    زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.

    ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.

    زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.

    آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.

    کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.

    (مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)

  • ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔

    پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔

    ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔

    ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-

    ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔

    اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔

    میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔

  • اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کسی بھی معاشرے کے لیے ہمہ وقت ایک مفکر، ایک مصلح، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، مخلص دوست، روحانی باپ اور پیشوا ہوتا ہے. اُستاد اپنا تن، من، دھن اپنے شاگردوں کی زندگیوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں لگا دیتا ہے اور وہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتا ہے. ایک اچھا اور بہترین اُستاد ایک مکمل معاشرے کو سنوارنے میں اور اس کے مستقبل کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. پڑھانا نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ وحدہ لم یزل کی طرف سے اُستاد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے. اُستاد چنیدہ ہوتا ہے اور چنیدہ لوگوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہوتی ہیں.

    نبی آخر الزماں خاتم النبیین جنابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس بات پر فخر کیا تھا کہ انھیں معلم بنا کر بھیجا گیا اور آپ ص نے جس طرح اصحابِ صفہ کی تربیت کی اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی. بات یہ ہے کہ معلم اور متعلم کا رشتہ بہت منفرد اور بے غرض ہوتا ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا اُستاد یہ کام کر رہا ہے؟ کیا آج کا اُستاد بچوں کی اخلاقی تربیت کر رہا ہے؟ عصرِ حاضر کا معلم بچوں کو وہ دے رہا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے؟ کیا ہماری موجودہ نوجوان نسل مستقبل کے لئے کارآمد ثابت ہو گی؟ کیا معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات میں اُستاد کا ہاتھ بھی ہے؟ اور کیا بچوں کی اخلاقیات میں خامیاں اساتذہ کی وجہ سے ہیں؟

    یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوال ہمارے ذہن میں اُبھرتے ہیں اور ہم اُن کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اُس کبوتر کی طرح لا پروا ہوئیے بیٹھے ہیں جو بلی کے آنے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے. موجود حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی یہی بات کہہ رہا ہے کہ بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی. گھر والے دھیان نہیں دیتے. اُستاد اب پہلے جیسے نہیں رہے. بچوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں اور وہ ہاتھوں سے نکل رہے ہیں. والدین کی نہیں مانتے، بڑوں کا احترام نہیں کرتے. جو بات کرے اسے آگے سے غیر مہذب انداز سے پیش آتے ہیں. بچے روحانی طور پر کمزور ہو رہے ہیں.
    جس کو دیکھو وہ اُستاد سے بچوں کے متعلق شکایت کر رہا ہے. لوگوں کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا عصرِ حاضر میں اُستاد کو وہ مقام و مرتبہ مل رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟

    بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے کہ اسے ماں سے ہی تربیت نہیں مل رہی. ماں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے موبائل پر لگی ہوتی ہے. بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس پر انفرادی توجہ کرنے کی بجائے اسے موبائل تھما دیا جاتا ہے یا ٹی وی پر عجیب و غریب (poems) نظمیں اور کارٹون لگا دیے جاتے ہیں. وہ توجہ چاہتا ہے اور گھر سے اسے موبائل مل جاتا ہے. باپ کام کاج سے واپس آتا ہے تو بچے کو وقت دینے کی بجائے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بچہ موبائل اور اس کے متعلقات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے اور یوں اُس کو سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ اُستاد توجہ نہیں دیتے. بچے کی عادات پہلے ہی بگڑ چکی ہوتی ہیں اور سکول میں آ کر اسے ہر رنگ کے بچے مل جاتے ہیں اور یوں اس کی اچھی بری عادات کو ہوا ملتی ہے. اُستاد کو تدریس کے علاوہ اور بہت ساری پیچیدہ ذمہ داریوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی نوکری کو بچانے کے پے در پے ہی رہتا ہے. اُستاد صرف ایک کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے تدریس. جب معاشرہ معلم سے وہ کام ہی نہیں لے رہا جس کے لیے وہ آیا ہے تو پھر معلم معاشرے کو وہ کیوں کر دے سکتا ہے معاشرہ جس کا متمنی ہے؟

    سزا و جزا کا تصور ختم کر کے بچوں کو دلیر اور استاد کو کمزور بنا دیا گیا ہے. بچہ گھر سے نکل کر جہاں مرضی جائے، قصور استاد کا ہے. اس کی پڑھائی اچھی نہیں، قصور استاد کا، اس کا نتیجہ اچھا نہیں، قصور استاد کا، وہ غیر حاضر ہے، قصور استاد کا، وہ بدتمیر ہے قصور استاد کا،وہ بد اخلاق ہے قصور استاد کا.

    تو بات یہ کہ ہم اگر یونہی چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے تو ہماری آنے والی نسل نا صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ جسمانی و روحانی لحاظ سے بھی لاغر و ضعیف ہو جائے گی اور ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہیں گے. اچانک ہی یہ سب نہیں ہو جاتا بگاڑ اور سنوار میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے.

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    پرانے زخم مندمل ہوتے وقت لگتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام ایمانداری سے کرے اور ہر ایک کو وہی کام کرنے دیا جائے جو کام وہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ہم اپنے معاشرے کو تمام طرح کی غیر اخلاقی روایات سے محفوظ بنا سکیں