Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.

  • نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    کتنی عجیب بات ہے ہر خوش فرد کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے. وہ بس خوش ہوتا ہے. لیکن ہر ناخوش مایوس فرد کی کہانی منفرد ہوتی ہے. اس کی وجوہات الگ ہوتی ہیں. امریکہ کے قدیم باشندے اپنے عقل مندوں دانشوروں کو شامان کہتے تھے. ان میں سے کسی شامان نے کچھ وجوہات اکھٹی کی تھیں . آپ اگر مایوس اور نا خوش ہیں تو اپنی وجہ اس میں تلاش کر لیں.

    شامان سے پوچھا گیا زہر کیا ہے.؟ شامان نے کہا ہر وہ چیز جو ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زیادہ ہو چاہے پھر وہ طاقت ہو مال ہو جائیداد ہو خود نمائی کی چاہت و غرور ہو.

    پوچھا خوف کیا ہے.؟ کہا خطرہ یا عدم تحفظ کو قبول نہ کرنا. کیونکہ جب ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تب یہ خوف نہیں ایڈونچر بن جاتا ہے.

    کہا حسد کیا ہے.؟ کہا دوسروں کی اچھائی تسلیم نہ کرنا. کیونکہ جب ہم دوسروں کی اچھائی مان لیتے ہیں تب وہ حسد نہیں انسپائریشن بن جاتی ہے.

    کہا غصہ کیا ہے.؟ کہا یہ تسلیم نہ کرنا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تب یہی غصہ صبر و برداشت بن جاتا ہے.

    پوچھا نفرت کیا ہے.؟ کہا یہ قبول نہ کرنا کہ لوگ منفرد ہیں. وہ جیسے ہیں ایسے ہی ہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تو نفرت محبت بن جاتی ہے.

  • سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1957 میں سویت یونین نے سپٹنیک کے نام سے پہلا انسانی سٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ یہ سٹلائیٹ ایک تجرباتی سٹلائیٹ تھا جسکا مقصد سٹلائیٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سٹلائیٹ کے ریڈیو کمیونکیشن کو چیک کرنا تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیش رفت کی۔ اس دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہوا اور بعد میں دنیا کے دیگر ترقی یاقتہ ممالک بھی۔

    سٹلائیٹ ٹیکنالوجی آج کے جدید دور کی کمیونکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جس سے آپ روز گوگل میپ کے ذریعے راستے معلوم کرتے ہیں اور دیگر کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 5500 سے زائد سٹلائیٹ زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جبکہ 2030 تک انکی تعداد 58 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان میں دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سٹلائیٹ بھی شامل ہیں اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بھی۔

    سیٹلائیٹ خلا میں مختلف طرح کے مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمیونیکیشن سٹلائیٹ جن سے ٹیلی وژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونکیشن کی جاتی ہے جیوسٹیشنری مدار میں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں۔ یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل کوریج کر سکتے ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے ریسورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔ یوں آپکے گھروں میں موجود ڈش اینٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سٹلائیٹ کے سگنل پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریبا 35 ہزار، 786 کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں۔ ان سے اوپر کے مدار میں موجود سٹلائٹس کو ہائی ارتھ آربٹ سٹلائٹ کہا جاتا ہے۔ اس مدار میں کم ہی سٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔

    اسی طرح کچھ سٹلائیٹ پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کی بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کیطرف زمین کا چکر لگاتے ہیں۔ اس طرح۔ سٹلائیٹ زمین کی محوری گردش کے باعث اسکے ہر حصے کو کور کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہونگے۔ مثال کے طور پر ایک سٹلائیٹ روزانہ 10 بج کر 15 منٹ پر لاہور کے اوپر سے گزرے گا یا شام کے 5 بجے ہر روز اسلام آباد کے اوپر سے(یہ محض مثال دے رہا ہوں). اس طرح کے سٹلائیٹ سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں با آسانی لے سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زیادہ تر موسموں کی پیشن گوئی ، طوفان اور زمین ہر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انکا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے 1000 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ پاکستانی خلائی ایجنسی سپارکو کا چائنہ میڈ سیٹلائٹ جسے 2018 میں بھیجا گیا وہ بھی ایسے ہی مدار میں گھوم رہا ہے۔

    ایسے ہی کچھ سٹلائیٹ لو ارتھ آربٹ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سٹلائٹ جو زمین سے کافی قریب ہوتے ہیں۔ کتنے؟ کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ 1 ہزار کلومیٹر ۔ ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ یا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھی شامل ہیں۔ یہ جیو سٹیشنری سٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپکو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے۔

    فہرست تو طویل ہے مگر ایک اور طرح کے سٹلائیٹ جو جی پی ایس سٹلائیٹ ہوتے ہیں وہ میڈیم ارتھ آربٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سٹلائیٹ کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپکے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس اینٹنا انکے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کے تحت زمین پر آپکی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے ڈھوند سکیں۔

    اُمید ہے اگلی بار آپ یہ نہیں کہیں گے کہ انسان تو آج تک خلا میں ہی نہیں گئے۔ اگر کہیں گے تو اُمید ہے کہ اپنے موبائل فون سے ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا میں موجود سٹلائیٹ ہی یہ مسیج ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رابطہ بن رہا ہوگا۔ اور اُمید ہے کہ اگر آپکو یہ یقین نہیں کہ انسان یا انسانوں کے بنائے سٹلائیٹ کبھی خلا میں نہیں گئے تو آپ گوگل میپس کی بجائے لوگوں سے راستہ پوچھنے پر اکتفا کریں گے(ایسے میں احتیاط کیجیے گا لاہوریوں سے راستہ مت پوچھیں۔ وہ آپکو مینارِ پاکستان کی بجائے شاہ دی کھوئی بھیج دیں گے)۔

  • ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ 1923 کی بات ہے جب انسان ابھی خلاؤں میں سفر کے خواب دیکھ رہا تھا , ایسے میں جرمن سائنسدان ہیرمان اوبرتھ جنہیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا یے ، نے ایک کتاب لکھی : "The Rocket into Planetary Space”.

    اس کتاب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے خدو خال اور خلا میں اسکے استعمال سے تسخیرِ کائنات کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔ اسی کتاب میں انہوں نے ذکر کیا کہ کیسے ایک دوربین کو راکٹ کے زریعے خلا میں زمین کے گرد مدار میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے چھپنے کے 23 سال بعد یعنی 1946 میں امریکی ماہرِ فلکی طبعیات "لےمین سپٹزر ” نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں جدید خلائی دوربین اور اسکے فوائد کا ذکر کیا۔ انکا مقدمہ یہ تھا کہ خلائی دوربین زمین کی خوربینوں کے مشاہدات میں اضافہ کے لئے نہیں بلکہ ایسے نئے مشاہدات کے حصول کے لیے بنائی جائےجو ہمیں کائنات کو نئی پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد دے۔

    کئی دہائیاں گزرنے اور کئی انسانوں کے سامنے یہ مقدمہ رکھنے کے بعد بالآخر وہ وقت آ گیا جب ناسا نے پہلی جدید خلائی دوربین ہبل کے نام سے 24 اپریل 1990 کو خلا میں بھیجی۔ انسانی تاریخ کی پہلی خلائی دوربین کا نام بیسوی صدی کے مشہور ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنہوں نے طویل کائناتی مشاہدات کے بات انسانوں کو خبر دی کہ وہ ایک ایسی کائنات کا حصہ ہیں جو مسلسل پھیل رہی ہے اوریہ کائنات محض ہماری کہکشاں ملکی وے نہیں بلکہ اربوں کہکشاؤں پر محیط ہے۔

    1977 سے تعمیر کی جانے والی یہ جدید خلائی دوربین جس پر آج کے افراطِ زر کے مطابق 16 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور جسے اپنے ہدف یعنی 1983 میں لانچ کرنے کی بجائے سات سال تاخیر سے یعنی 1990 میں، جب خلا میں بھیجا گیا تو اس سے موصول ہونے والی پہلی تصاویر نے سائنسدانوں کے ارمانوں ہر پانی پھیر دیا۔

    ہبل کی تصاویر دھندلی تھیں!! اسکے 2.4 میٹر بڑے مِرر میں معمولی سا خلل تھا جو اس پر پڑنے والی روشنی کو ایک جگہ جمع نہیں کر پا رہا تھا جس سے تصاویر دھندلی ہو رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے ہبل ٹیلکسکوپ زمین سے 547 کلومیٹر اوپر خلا میں تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اسکی مرمت کے لئے مشن بھیجا جائے۔ ہبل کی مرمت کے لئے پہلا مشن دسمبر 1993 میں بھیجا گیا۔ ڈیڑھ ہفتے سے زائد یہ مشن جاری رہا۔ اس مشن کے دوران خلا میں ناسا کی سپیس شٹل کے ذریعے خلاباز ہبل ٹیلکسکوپ کی مرمت کرتے رہے۔اسکےساتھ ساتھ زمین پر ناسا کے انجینئرز دن رات اس مرمت کا جائزہ لیتے رہے اور اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ہبل سے آنے والی تصاویر بہتر سے بہتر ہو جائیں۔ بالآخر یہ مشن کامیاب رہا۔ ہبل صحیح سے کام کرنے لگی۔

    اس مرمت کے 4 سال بعد یعنی 1997 میں ایک دوسرے مشن کے ذریعے ہبل کے مشاہدہ کرنے کے آلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اب تک ہبل کی مرمت اور اسکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کل پانچ مشنز بھیجے جا چکے ہیں جن میں آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا۔

    ہبل ٹیلی سکوپ خلا میں انسان کی پہلی آنکھ تھی۔ اس ٹیلی سکوپ نے ہمیں بتایا کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ کائنات انسان کی سوچ سے بھی وسیع ہے۔

    ہبل نے ہمیں بتایا کہ یہاں ستاروں کو کھا جانے والے بلیک ہولز بھی ہیں اور ایسے ستارے بھی جو سورج سے ہزاروں گنا بڑے۔ یہاں ہر روز نئے ستارے بنتے بھی ہیں اور اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔
    یہاں ہمارے نظامِ شمسی کے علاوہ اربوں نظامِ شمسی ہیں اور زمین کیطرح کے لاتعداد سیارے بھی۔ یہاں مشتری کے چاند بھی ہیں جن میں بانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور اسی سرد دنیائیں بھی جنکی برفیلی تہوں میں گرم پانیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔ یہاں ایسے سیارے بھی ہیں جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے اور ایسے بھی جنکے آسمانوں سے آگ برستی ہے۔
    یہاں ایسی کہکشائیں بھی ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں اتنی دور کہ ہماری آنے والی نسلیں اّنہیں دیکھ بھی نہ پائیں گی۔ ممکن ہے اُن کہکشاؤں میں بھی کہیں انسان بستے ہوں جن سے ہم کبھی رابطہ نہ کر سکیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہ ہبل پر اتنا پیسہ لگا کر انسانیت نے کیا حاصل کیا؟
    میں کہتا ہوں کہ ہبل ٹیلیسکوپ نے انسانوں کو کائنات کی وسعتوں میں اپنے مقام سے آگاہ کیا ہے۔کیا اس سے بڑی بات کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟

    ہبل دراصل خلا میں ہماری ظاہری آنکھ نہیں باطن کی آنکھ ہے جس سے ہم ادراک پاتے ہیں کہ کائنات میں ہماری حیثیت ایک چھوٹے سے سیارے پر گھومتی مخلوق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم جو آئے روز ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، نظریات کے نام پر نفرتوں کے بیچ بوتے ہیں، اپنی انا کے جھوٹے دائروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں انسانیت کا قتل کرتے ہیں۔ ہم اس وسیع کائنات میں کس قدر اکیلے ہیں۔ ہبل کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اگر آپکی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں آتے تو آپ اندر سے مر چکے ہیں۔ کائنات میں زندہ رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھا جائے۔

    30 سال سے خلا میں کام کرتی یہ دوربین ہبل شاید 2040 تک ہمیں مزید فلکی نظارے دکھائے گی۔ جسکے بعد یہ اپنے مدار سے نکل کر تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہو گی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ جس سے خلا میں انسانی تسخیر کے ایک عہد ساز باب کا اختتام ہو گا۔

    مگر جب تک ہبل خلا میں کام کر رہی ہے، تب تک: ” ہبل تو جیے سالہا سال!!!”

  • ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

    جی ہاں…

    وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

    اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

    یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

    ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

    ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

    اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..

  • ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی سے کھلواڑ کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی )پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے بارے میں چہ مگوئیوں سے بلند و بانگ پیشگوئیوں سے خدارا اجتناب برتنا اشد ضروری ہے۔ کسی بھی جماعت سیاستدانوں ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبرز کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں اعلیٰ فوجی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور پیشگوئیوں پر سے پرہیز کرنا چاہئے اور پیمرا کو ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرز صحافت پر یکسر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا تقرر پاکستان کے وسیع تر مفاد اور دوررس پالیسیوں کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے جس پر قیاس آرائیوں اور ذاتی پسند نا پسند سیاسی وابستگیوں اور تجزیاتی پوائنٹ سکورنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

    میرا پٹواری میرا اے سی میرا ڈی سی میرا ایس ایچ او کا راگ الاپنے والے نام نہاد رہنمائوں ۔نام نہاد صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی حساس تقرریوں پر بیان بازیوں اور زبان درازیوں کے ذریعے ملکی سلامتی کو تماشہ بنائیں۔مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں کو چاہیے کہ ایسی اوچھی حرکات اور خلاف ورزی کے مرتکب ٹی وی چینل اور شخصیات کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو ملکی سلامتی اور قومی ساکھ کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو جرآت نہ ہو۔

    مزید برآں وال سٹریٹ جرنل میں آشکار کیے گئے خدشات پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی جرآت کسی کو نہ ہو۔

  • پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    حملے کے بعد کیوں عمران خان کسی بھی انکوائری کمیٹی کو اپنے الزامات کے ثبوت نہیں دینا چاہتے؟

    عمران خان کیوں میڈیکو لیگل رپورٹ بنوانے سے کترا رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں تو پہلے 4 گولیوں کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟

    عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں انہیں استعفے کا کہہ رہے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں خود پر لگنے والے الزامات پر کیوں استعفیٰ نہیں دیتے تھے؟

    اپنے دور حکومت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف تقریریں کرتے تھے تو اب لوگوں کو کیوں اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو 24 ستمبر سے ہی پتہ تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے تو کیوں انہوں نے اپنی اور سپورٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں؟

    عمران خان نے DW کو انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کے پاس circumstantial evidence ہے۔ کیا صرف ایسے ثبوت سے وہ الزام پر الزام دھر رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کی مرضی کی بنی انکوائری کمیٹی نے بھی الزامات کو غلط قرار دے دیا تو کیا عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ترک کریں گے؟

    عمران خان کیوں فوج سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرل ہونے کی بجائے وہ انہیں دوبارہ حکومت کی کرسی پر بٹھائے؟

    کیا پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ نافذ ہے؟ اگر نہیں تو عمران خان سے معمولی اختلاف کرنے والے کو پارٹی سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟

    کیا عمران خان کو اپنی پارٹی میں صرف "یس مین” چاہئیں؟ اگر نہیں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی کارکن کی رکنیت کیوں منسوخ کی جا رہی ہوتی ہے؟

    کیا پی ٹی آئی میں کسی کو اتنا بھی حق نہیں کہ عمران خان کی بات سے اختلاف کرے یا مختلف نقطہ نظر پیش کرے؟

    کیا پی ٹی آئی اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کر کے جمہوری اقتدار کے برعکس عمل پیرا ہے؟

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)