Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.

    پہلا واقعہ؛

    یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.

    ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
    پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.

    دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.

    صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.

    دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.

    ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.

    پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.

    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.

  • ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف

    انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔

    اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
    یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔

    اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔

    باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔

    سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔

    ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔

    تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔

    اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔

  • "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.

    اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.

    اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.

    کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.

    اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

  • آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    سابق کھلاڑیوں نے بھی میدان پر برا دن گزارا ہے۔۔۔ وسیم, وقار,شعیب, انضمام اور حفیظ وغیرہ کی پرفارمنسزز بھی پاکستان کی شکست کا باعث بنتی رہی ہیں۔۔۔

    ریٹائرڈ ہونے کے بعد کھلاڑی بھول جاتا ہے کہ میدان میں برا دن اس پر بھی آیا تھا۔۔۔۔۔تنقید کوئی عام انسان کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن کچھ سابق کھلاڑیوں کی اپنے خراب دن بھلا کر موجودہ کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید افسوسناک ہے۔۔۔۔

    چند میچز یاد کریں تو پاک بھارت ٹی ٹوئینٹی میچ 2012 اور 2014 میں محمد حفیظ نے بطور کپتان بالترتیب 53 اور 68 کے اسٹرائیک ریٹ سے دونوں مقابلوں میں 15 اسکور کیا تھا۔۔۔۔دونوں میچز میں ٹیم پاکستان کو انتہائی شرمناک یکطرفہ شکست ہوئی تھی۔۔۔

    1996 اور 1999 ورلڈکپ میں سپر اسٹار کھلاڑیوں سے بھری ٹیم ناک آؤٹ مقابلے ہار گئی تھی۔۔بھارت سے شکست ہوئی تھی۔۔۔ورلڈکپ 2003 میں ٹورنمنٹ کا بہترین باؤلنگ یونٹ خراب باؤلنگ اور فیلڈنگ سے بھارت کے خلاف 273 کا دفاع نہ کر سکا تھا۔۔۔بہترین پاکستان ٹیم ورلڈکپ مقابلوں میں بنگلہ دیش اور ائرلینڈ سے ہاری ہے۔۔

    پاکستان بھارت سے پچاس اوور ورلڈکپ کے سات جبکہ 20 اوورز ورلڈکپ کے ایک ٹائی سمیت چار مقابلے ہارا ہے۔۔ورلڈکپ مقابلوں کی مجموعی پرفارمنس دیکھیں تو پاکستان ایک بار چمپیئن جبکہ سات بار ناک آؤٹ مقابلے میں باہر ہوا۔۔۔۔

    ایشیا کپ ٹورنمنٹ میں صرف 2010 سے 2018 تک پاکستان بھارت سے پانچ مقابلے ہارا جبکہ ایک فتح آفریدی کے یادگار چھکوں نے ہماری جھولی میں ڈالی۔۔ ایشیا کپ ہم صرف دو بار ہی جیت سکے جبکہ ہمارے ٹیم میں نامی گرامی کھلاڑی ہوتے تھے۔۔۔

    موجودی کھلاڑیوں نے ایک سال میں بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تین مقابلے کیے اور دو جیتے ہیں۔۔۔بابراعظم وہ پہلے پاکستانی کپتان جنکی قیادت میں ٹیم نے بھارت کو ٹی ٹوئینٹی ورلڈکپ مقابلے میں شکست دی۔۔۔۔۔ایشیا کپ کے دونوں میچز لڑ کر کھیلے۔۔۔۔۔

    پاکستان نے 2017 میں بھارت کو ہرا کر چمپئنز ٹرافی ضرور جیتی تھی لیکن اسکے بعد پاکستان بھارت سے ایشیا اور ورلڈکپ کے تین مقابلے یکطرفہ ہار گیا تھا۔۔۔فائیٹ ہی نظر نہیں آئی۔۔۔

    بابر اور اس ٹیم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔۔۔غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہے۔۔۔۔ٹیم سلیکشن میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنی ہے۔۔۔
    لیکن ہم تجربہ کار کھلاڑیوں اور کپتانوں کے ہوتے بھی شکست دیکھ چکے ہیں۔۔حالانکہ تب شکست کی وجوہات زیادہ سنگین تھیں۔۔۔میچ فکسنگ, گروپنگ, کپتانی کے جھگڑے وغیرہ۔۔۔یہ ٹیم خراب کھیل کر ہاری ہے۔۔۔۔غلط سلیکشن کا نتیجہ بھگتا ہے۔۔۔کپتان,کوچ اور کھلاڑیوں کو بھی پتہ ہے۔۔۔تھوڑا وقت دینا چاہیے۔۔۔اگر غلطیاں دہرائی جاتی ہیں تو تنقید جائز ہو گی۔۔۔باقی پسندیدگی پر مبنی سلیکشن بھی سابق کھلاڑیوں کا دیا ہوا کلچر ہے۔۔مجھے امید ہے جلد ختم ہو جائے گا۔۔۔