Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟

  • خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    بنجامن فرینکلن کا ایک سیاسی حریف اسے شدید ناپسند کرتا تھا. جبکہ دوسری طرف فرینکلن چاہتا تھا وہ اسکا دوست بن جائے. فرینکلن کو پتہ چلا اس کے پاس ایک نایاب کتاب ہے. فرینکلن نے اسے پیغام بیجھا کیا آپ کچھ دن کیلئے عاریتاً یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں.؟ کتاب اسے دے دی گئی. کچھ دن بعد کتاب پڑھ کر فرینکلن نے اسے ایک شکریہ اور تشکر کے تحریری نوٹ کے ساتھ واپس کردی. اور ان کی دوستی کی ابتداء ہوگئی.

    بنجامن فرینکلن ایک ہی وقت میں بہت کچھ تھا. وہ سائنس دان بھی تھا اور سیاستدان بھی لکھاری بھی تھا پبلشر بھی سفیر بھی تھا اور فلسفی بھی لیکن اوپر اس کے تحریر اس تجربے کو بن فرینکلن ایفیکٹ کہتے ہیں. ہمارا دماغ دو انتہاؤں کے درمیان اکثر کنفیوز ہوتا ہے ہم اپنی تسلی اور اطمینان کیلئے پھر چیز کو یا تو سفید یا سیاہ کہتے ہیں. دن یا رات اچھا یا برا فرشتہ یا شیطان. دماغ درمیان میں کچھ رکھنا نہیں چاہتا تو دستیاب معلومات پر فوراً ایک انتہا پر چلا جاتا ہے.

    بنجامن فرینکلن نے اپنے اس حریف کو مجبور کیا وہ بنجامن پر احسان کرے. حریف کے دماغ کو اس احسان کیلئے اپنی انتہا سے کچھ نیچے اترنا پڑا. اور واپسی کے نوٹ نے کہا یار بندہ اتنا بھی برا نہیں اور ایک تعلق کی ابتداء ہوگئی. بقول امام راغب اصفہانی احسان ایسا عمل ہے جو ہر طرف سے خوبصورت ہو متوازن ہو.

    ایک حدیث میں ہے احسان دین کی تیسری ضرورت ہے. اور یہ درجہ بندے کو تب حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں. یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم کسی انتہا پر نہ ہوں. نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کیلئے. اگر آپ سمجھتے ہیں دوسرے آپ کیلئے انتہا پر ہیں تو فرینکلن ایفیکٹ کی سائنس سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو موقع دیں وہ آپ پر کوئی احسان کریں.

    لیکن اگر ہمارا نفس دوسرے کا احسان لینے پر بھی آمادہ نہ ہو تو پھر انتہا پر ہم خود کھڑے ہوتے ہیں. ایسے میں خود پر احسان کریں. انتہا سے نیچے اتریں. بندگی کا سارا حسن دو انتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے.

  • آر  یو  او کے؟ —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آر یو او کے؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ ایک مسافر کو ڈراپ کرکے واپس گھر جارہا تھا کہ شہر کے پوش ہوٹل کے باہرایک قطار میں لگے درجن بھر فلیگ پوسٹس پر اسے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا ۔اس کا دل دھک سے باہر آگیا کیونکہ یہ ناروے کا ایک دور دراز قصبہ تھا جس میں وہ واحد پاکستانی تھا- اسے یہاں رہتے ہوئے کئی برس بیت گئے تھے لیکن کسی اور پاکستانی سےاس شہر میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ بھی اب اس ماحول میں رچ بس گیا تھا-غیر ارادی طور پر اس نے اپنی ٹیکسی کا رخ ہوٹل کے صدر دروازے کی طرف موڑ دیا اور ٹیکسی پارکنگ میں لگا کر وہ ہوٹل کے میں گیٹ سے استقبالیہ کی طرف بڑھا –وہ حیران ہورہا تھا کہ اندر سے یہ ہوٹل کتنا بڑا اور شاندار تھا- وہ تو بس اس کے باہر سے ہی ہر دفعہ گزر جاتا تھا اور کبھی اس کے اندر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی-

    استقبالیہ پر بیٹھی سنہری رنگت کے بالوں والی نارویجئین لڑکی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ” میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟”-اس نے باہر لگے پاکستانی پرچم کا پوچھا کہ اس کو آج ہوٹل کے باہر لہرانے کی کیاخاص وجہ ہے؟ ۔ لڑکی نے بتایا ” ہمارے ہاں آج ایک پاکستانی مہمان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے یہ جھنڈا لگا دیا ہے۔”

    اس کا دل اس مہمان سے ملنے کے لئے مچل اٹھا جس کی وجہ سے آج اس دور دراز جگہ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار لڑکی سے کیا جو کہ تھوڑی بہت منت ترلے کے بعد اس کا رابطہ اس پاکستانی مہمان سے کروانے پر راضی ہوگئی تھی اور اب ملِک میرے کمرے میں بیٹھا مجھے احترماًاس طرح دیکھ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کرکے مکہ سے لوٹا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر آنے کی د دعوت دے رہا تھا تاہم میرا اگلے پورے ہفتے کا شیڈول ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے لئے بک تھا اور ویک اینڈ پر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔

    میں خود اس طرح اتنی چھوٹی سے جگہ پر ایک ہم وطن کے ملنے پر خوش تھا اور اس سے ناروے میں ملنے والے کھانوں کے بارے میں شکوہ کر رہاتھا۔ پچھلے دوتین دن سے مسلسل ابلی ہوئی لوبیا، ابلے چاول اور آلو کھا کھا کر ٹیسٹ بڈ جواب دے چکے تھے ۔نمک مرچ کے شدید کمی کے شکار اس ملک میں اگلے چند ہفتے گزارانا مشکل نظر آرہا تھا۔ملک مجھے ناروے میں اپنی سیٹنگ بنانے کے قصے سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے خالی ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پہلے ایک گوری سے شادی کی،پیپر ببنائے اور پھر جب کاغذ برابر ہوگئے تو پاکستان سے شادی کرکے بیگم کو لے آیا اور اب ماشااللہ اس کا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ اور تین ٹیکسیاں چل رہی تھی۔ دو بچے تھے جو کہ وہیں کی جم پو تھےاور اردو بمشکل ہی سمجھ سکتے تھے۔

    میں نے کہا” یہ بتاو ملک کہ ادھر تو پاکستانی نہیں ہیں تو تمھارا ریسٹورینٹ کیسے چلتا ہے”۔ کہنے لگا ” آپ بھی بڑے سادہ ہو۔ بھئی ہم گوروں کی خوراک اور مشروبات بیچتے ہیں ۔مجبوری ہے”۔ میں نے اسے کہا کہ اس کا مطلب ہے اب تم سیٹ ہوگئے ہو اور خوب مزے ہورہے ہیں۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تاہم وہ سنبھلتے ہوئے رونی صورت بنا کر بولا ” کہاں بھائی؟ مزے تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ ادھر تو پد مارنے کے لئے بھی حکومت کی اجازت لینی پڑتی ہے۔میں اپنے گھر میں ایک نیا باتھ روم بنانا چاہ رہا تھا۔ سب سے پہلے میونسپیلٹی کو درخواست دی۔ ان کے لوگوں نے فزیبیلٹی چیک کی کہ اس سے گھر بندوں کے لئے رہنے کی کم سے کم گنجائش تو متاثر نہیں ہوگی۔پھر ان کے لائسنس یافتہ نقشہ ساز سے گھر میں باتھ روم کا ترمیمی نقشی بنوایا۔ پھر ان کے منظور کردہ پلمبر سے پلمبنگ کا کام کروایا، بجلی والے سے بجلی اور پھر سینٹرل ہیٹنگ والے سے اس کا کام کیونکہ ہمیں یہاں باتھ روم ہر وقت خشک رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے تو جس طرح مرضی بنا لیتے”۔

    پھر مزیذ فرمانے لگا کہ” میں یہاں ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ادھر کے قانون کی پابندی نے میری ڈرائیوننگ ایسی خراب کر دی ہے کہ قسم سے میں اب پاکستان میں جا کر خود گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ ٹھوک دیتا ہوں- اسی لئے اب پاکستان جاتے ہی میں سب سے پہلے رینٹ پر ڈرائیور سمیت کار لیتا ہوں جو میرے پورے قیام کے دوران میرے ساتھ رہتی ہے”۔میں نے کہا "یہ تو واقعی ظلم ہے "۔

    وہ ضد کرکے زبردستی مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں سٹی سنٹر کا چکر لگوانے لے گیا۔پھر اس نے مجھے ریل اسٹیشن بھی دکھایا ہم نے ایک جگہ سے کافی پی ۔ اب رات ہورہی تھی اور نائٹ لائف انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ کلب اور بار آباد ہونے لگے تھے اور سڑک کنارے سجائی گئی کرسیوں پر نوجوان جوڑے بیٹھے پینے پلانے میں مشغول تھے-ہم نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد واپسی کی راہ لی۔ سٹی سنٹر سے نکلتے ہی ایک اشارہ سرخ تھا لیکن ملک صاحب نےبائیں طرف کے بار کی طرف جاتے ہوئے ایک جوڑے کو مسلسل دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی جو مخالف سمت سے آنیوالی کار کے ساتھ ٹھک گئی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی آواز سن کر سڑک کنارے بائیں طرف کے بار میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ داخل ہوتی لڑکی تیزی سے بھاگ کر ملک صاحب کی طرف دوڑی اور انہیں تھپتھپا کر بولی ۔۔۔”آر یو اوکے ڈیڈ”

  • جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

    وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

    استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

    کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.